اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۸) القاء کا ترجمہ

القاء کا مطلب ڈالنا اور رکھنا ہوتا ہے، پھینکنا اس لفظ کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا ہے، بعض لوگوں نے جگہ جگہ اس لفظ کا ترجمہ پھینکنا کیا ہے، کہیں کہیں اس سے مفہوم میں فرق نہیں پڑتا، لیکن کہیں تو اس ترجمہ سے مفہوم میں واضح طور پر خرابی آجاتی ہے۔

ہم پہلے وہ آیتیں ذکر کرتے ہیں جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا ہوہی نہیں سکتا ہے، اس لئے کسی نے یہ ترجمہ نہیں کیا ہے، خاص طور سے سید مودودی نے بھی نہیں، جو کہ اکثر جگہ القاء کا ترجمہ پھینکنا کرتے ہیں:

(۱) وَأَلْقَی فِی الأَرْضِ رَوَاسِیَ۔ (النحل:۱۵)

’’اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں‘‘ (سید مودودی)

’’اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے ‘‘(احمد رضا خان)

(۲) وَأَلْقَی فِی الْأَرْضِ رَوَاسِیَ۔ (لقمان: ۱۰)

’’اس نے زمین میں پہاڑ جمادئے ‘‘(سید مودودی)

(۳) فَلَوْلَا أُلْقِیَ عَلَیْْہِ أَسْوِرَۃٌ مِّن ذَہَبٍ۔ (الزخرف: ۵۳)

’’کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے‘‘ (سید مودودی)

اس کے بعد ہم وہ آیتیں ذکر کرتے ہیں، جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا کرنے سے مفہوم میں بظاہر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی، گوکہ لفظ کی رعایت سے یہاں بھی پھینکنے کے بجائے ڈالنا ترجمہ کرنا زیادہ بہتر ہے:

(۱) فَأَلْقَی عَصَاہُ فَإِذَا ہِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْن۔ (الاعراف: ۱۰۷)

’’موسی نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اڑدہا تھا‘‘ (سید مودودی)

’’موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اڑدھا (ہوگیا) ‘‘(فتح محمد جالندھری)

(۲) قَالُوا یَا مُوسَی إِمَّا أَن تُلْقِیَ وَإِمَّا أَن نَّکُونَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ۔ قَالَ أَلْقُوْا فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوہُمْ وَجَاءُ وا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ۔ وَأَوْحَیْْنَا إِلَی مُوسَی أَنْ أَلْقِ عَصَاکَ فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُون۔ (الاعراف:۱۱۵۔ ۱۱۷)

’’پھر انہوں نے موسی سے کہا ’’تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟ موسی نے جواب دیا تم ہی پھینکو۔ انہوں نے جو اپنے انچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کردیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنالائے۔ ہم نے موسی کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا عصا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا‘‘ (سید مودودی)

’’(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں. (موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا. (اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی‘‘(فتح محمدجالندھری)

دوسرے ترجمہ سے لگتا ہے کہ فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُون اس جملے کا جزء ہے جو حضرت موسی سے کہا گیا، جب کہ یہ ایک مستقل جملہ ہے ، جیسا کہ پہلے ترجمہ میں ہے، کہ ’’اس کا عصا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا‘‘ البتہ اس دوسرے ترجمہ کی خامی یہ ہے کہ تلقف جو کہ فعل مضارع ہے اس کا ترجمہ ماضی سے کیا گیا، اس کے بجائے اس کا ترجمہ حال یہ ماضی مستمر سے ہوگا، یعنی نگلتا جارہا ہے، یا نگلتا جارہا تھا۔ نہ کہ مستقبل سے کیا جائے گا جیسا کہ پہلے ترجمہ میں کیا گیا)

(۳) فَلَمَّا جَاء السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُم مُّوسَی أَلْقُوا مَا أَنتُم مُّلْقُونَ۔ فَلَمَّا أَلْقَوا قَالَ مُوسَی مَا جِءْتُم بِہِ السِّحْر۔ (یونس: ۸۰،۸۱)

’’جب جادو گر آگئے تو موسی نے ان سے کہا جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو۔ پھر جب انہوں نے اپنے انچھر پھینک دیے، تو موسی نے کہا یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادو ہے‘‘ (سید مودودی)

’’پھر جب آئے جادوگرکہا ان کو موسی نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو پھر جب انہوں نے ڈالا موسی بولا کہ جو تم لائے ہو سو جادو ہے‘‘ (شاہ عبدالقادر)

(۴) وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یَا مُوسَی۔ قَالَ ہِیَ عَصَایَ أَتَوَکَّأُ عَلَیْْہَا وَأَہُشُّ بِہَا عَلَی غَنَمِیْ وَلِیَ فِیْہَا مَآرِبُ أُخْرَی۔ قَالَ أَلْقِہَا یَا مُوسَی۔ فَأَلْقَاہَا فَإِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسْعَی۔ (طہ: ۱۷ ۔۲۰)

’’اور اے موسی یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟ موسی نے جواب دیا یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگاکر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں ۔ فرمایا پھینک دے اس کو موسی۔ اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دوڑرہا تھا۔ (سید مودودی، اس پر ٹیک لگاکر چلتا ہوں ‘‘ کے بجائے کہنا چاہئے ’’اس کا سہارا لیتا ہوں‘‘ کیونکہ الفاظ میں صرف ٹیکنے کی بات ہے چلنے کی بات نہیں ہے، سہارا لینے کی ضرورت کھڑے رہنے کے لئے بھی ہوسکتی ہے، اور بھی کام ہوسکتے ہیں، جیسا کہ بعد میں ذکر ہے)

’’اور یہ کیا ہے تیرے داہنے ہاتھ میں اے موسی ۔ بولایہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیکتا ہوں اور پتے جھاڑتا ہوں اس سے اپنی بکریوں پر اور میرے اس میں کتے کام ہیں۔ اور فرمایا ڈال دے اس کو اے موسی۔ تو اس کو ڈال دیا پھر تب ہی وہ سانپ ہے دوڑتا ۔ (شاہ عبدالقادر، دونوں ترجموں میں ایک توجہ طلب بات یہ ہے کہ غَنَمِی کا ترجمہ بکریوں کے بجائے بھیڑ بکریوں کرنا چاہئے)

(۵) قَالُوا یَا مُوسَی إِمَّا أَن تُلْقِیَ وَإِمَّا أَن نَّکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَی۔ قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُہُمْ وَعِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ إِلَیْْہِ مِن سِحْرِہِمْ أَنَّہَا تَسْعَی۔ فَأَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہِ خِیْفَۃً مُّوسَی۔ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّکَ أَنتَ الْأَعْلَی۔ وَأَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ۔ (طہ:۶۵ ۔۶۹)

’’جادوگر بولے موسی تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟۔ موسی نے کہا نہیں تم ہی پھینکو۔ یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسی کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں، اور موسی اپنے دل میں ڈر گیا۔ ہم نے کہا مت ڈرو، تو ہی غالب رہے گا۔ پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے‘‘ (سید مودودی)

’’بولے اے موسی یا تو ڈال اور یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے۔ کہا نہیں تم ڈالو۔ پھر تب ہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں اس کے خیال میں آئیں ان کے جادو سے کہ دوڑتے ہیں۔ پھر پانے لگا اپنے جی میں ڈر موسی۔ ہم نے کہا تو نہ ڈر ، مقرر توہی رہے گا اوپر۔ اور ڈال جو تیرے داہنے میں ہے‘‘ (شاہ عبدالقادر)

(۶) قَالَ لَہُم مُّوسَی أَلْقُوا مَا أَنتُم مُّلْقُون۔ فَأَلْقَوْا حِبَالَہُمْ وَعِصِیَّہُمْ وَقَالُوا بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ۔ فَأَلْقَی مُوسَی عَصَاہُ فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُون۔ (الشعراء: ۴۳ ۔۴۵)

’’موسی نے کہا پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے۔ انہوں نے فورا اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔ پھر موسی نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جارہا تھا‘‘ (سید مودودی)

’’کہا ان کو موسی نے ڈالو جو تم ڈالنے آئے ہو۔ پھر ڈالیں انہوں نے اپنی رسیاں اوراپنی لاٹھیاں اور بولے فرعون کے اقبال سے ہم ہی زبر رہے۔ پھر ڈالا موسی نے اپنا عصا پھر تبھی وہ نگلنے لگا جو سانگ انہوں نے بنایا تھا‘‘(شاہ عبدالقادر)

(۷) إِذَا أُلْقُوا فِیْہَا سَمِعُوا لَہَا شَہِیْقاً وَہِیَ تَفُورُ۔ تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْْظِ کُلَّمَا أُلْقِیَ فِیْہَا فَوْجٌ سَأَلَہُمْ خَزَنَتُہَا أَلَمْ یَأْتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ (الملک: ۷،۸)

’’جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے۔ اور وہ جوش کھارہی ہوگی، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا‘‘ (سید مودودی)

’’جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے اس کا دہاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔ معلوم ہوگا کہ غصہ سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کیا تمھارے پاس (اس دن سے) کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟‘‘ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا مقامات وہ ہیں جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا کرنے سے مفہوم میں کوئی واضح خرابی پیدا نہیں ہوتی ہے، گو کہ لفظ کی رعایت نہیں ہوپاتی ہے۔

اب آخر میں ہم وہ مقامات ذکر کریں گے، جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا کرنے سے مفہوم میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ جبکہ ڈالنا ترجمہ کرنے سے کسی طرح کی خرابی پیدا نہیں ہوتی ہے، اور مفہوم اچھی طرح اور اچھے پیرائے میں واضح ہوجاتا ہے:

(۱) وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَی إِلَی قَوْمِہِ غَضْبَانَ أَسِفاً قَالَ بِءْسَمَا خَلَفْتُمُونِیْ مِن بَعْدِیَ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّکُمْ وَأَلْقَی الألْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِیْہِ یَجُرُّہُ إِلَیْْہِ۔ (الاعراف: ۱۵۰)

’’اور جب موسی رنج اور غصہ سے بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف لوٹا، بولا تم نے میرے پیچھے میری بہت بری جانشینی کی۔ کیا تم نے خدا کے حکم سے پہلے ہی جلد بازی کردی؟ اور اس نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اس کو اپنی طرف گھسیٹنے لگا‘‘(امین احسن اصلاحی) 

ألْـقَی الألْوَاح کے کچھ اور ترجمے بھی ذکر کئے جاتے ہیں:

’’اور تختیاں پھینک دیں‘‘ (سید مودودی)

’’اور ڈال دیں وہ تختیاں ‘‘(شاہ رفیع الدین)

’’اور ڈال دیں وہ تختیاں‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’اور (جلدی سے) تختیاں ایک طرف رکھیں ‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں ‘‘(محمد جوناگڑھی)

’’اور تختیاں ڈال دیں ‘‘(احمد رضا خان)

یہاں تختیاں پھینک دینے کا ترجمہ بالکل درست نہیں ہے، کسی کی حرکت پر غصہ آجانے پر بھی ایک نبی تختیاں ایک طرف رکھ کر اپنے غصہ کا اظہار کرے یہ تو درست ہے، لیکن تختیاں پھینک دینے کا کوئی جواز نہیں نکلتا ہے، یہ ترجمہ بے محل بھی ہے، اور نامناسب بھی ہے۔ تختیاں رکھ دیں یا ڈال دیں کہیں تو یہ قباحت دور ہوجاتی ہے۔

(۲) أَنِ اقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَأْخُذْہُ عَدُوٌّ لِّیْ وَعَدُوٌّ لَّہُ وَأَلْقَیْْتُ عَلَیْْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ۔ (طہ:۳۹)

’’کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے، دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھالے گا۔ میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی‘‘ (سید مودودی، القاء پھینکنے کے لئے نہیں آتا ہے، اور نہ ہی طاری کرنے کے لئے آتا ہے، تجھ پر محبت طاری کرنے کا مفہوم ہوگا کہ تو محبت کرے، نہ کہ تجھ سے محبت کی جانے لگے، اور یہاں یہ مراد نہیں ہے، بلکہ یہ مراد ہے کہ تجھ سے محبت کی جانے لگے، ترجمہ ہوگا: اور اپنی طرف سے تیری محبت ڈال دی)

’’کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی ‘‘(احمد رضا خان)

’’کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی‘‘(محمد جوناگڑھی)

’’(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے ‘‘(فتح محمد جالندھری)

اس آیت میں اس کا محل نہیں ہے کہ سمندر صندوق کو ساحل پر پھینک دے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت اختیار کرنا مراد نہیں ہے جس سے بچے کو اذیت پہنچ سکتی ہو، یا اس سے بے اعتنائی کا اظہار ہوتا ہو۔ اس آیت میں رکھنا اور ڈالنا ہی مراد ہے نہ کہ پھینک دینا۔ آخری جملے وَأَلْقَیْْتُ عَلَیْْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّی کا مفہوم یہ نہیں ہے آپ اللہ کے محبوب بن گئے، وہ تو آپ تھے ہی، اور نہ یہ ہے کہ آپ لوگوں سے محبت کرنے لگے، بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنی طرف سے لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ آپ اللہ کے محبوب تو تھے ہی، اللہ نے آپ کو لوگوں کا محبوب بھی بنادیا۔اور اس وقت فرعون کے دربار میں اور ملک کے اس ماحول میں بحفاظت نشوونما کے لئے یہ بہت ضروری انتظام تھا۔

(۳) اذْہَب بِّکِتَابِیْ ہَذَا فَأَلْقِہْ إِلَیْْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانظُرْ مَاذَا یَرْجِعُونَ۔ (النمل:۲۸)

’’میرے اس خط کو لے جاکر انہیں دے دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آ، اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں‘‘ (محمد جونا گڑھی)

’’یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ‘‘(فتح محمدجالندھری)

’’میرا یہ خط لے اور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں‘‘ (سید مودودی)

(۴) قَالَتْ یَا أَیُّہَا المَلَأُ إِنِّیْ أُلْقِیَ إِلَیَّ کِتَابٌ کَرِیْمٌ۔ (النمل: ۲۹)

’’ملکہ بولی اے اہل دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے‘‘ (سید مودودی)

’’وہ کہنے لگی اے سردارو میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

’’ملکہ نے کہا کہ دربار والو! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے‘‘ (فتح محمدجالندھری)

مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں پھینکنے کا ترجمہ کسی طرح مناسب حال نہیں ہے، نہ تو پرندہ خط پھینکتا ہے، اور نہ باوقعت اور کریم خط کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ میری طرف پھینکا گیا۔

(۵) قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا وَلَکِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَاراً مِّن زِیْنَۃِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاہَا فَکَذَلِکَ أَلْقَی السَّامِرِی۔ (طہ:۸۷)

’’انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ سے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی اپنی مرضی سے نہیں کی۔ بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ جو ہمارے حوالہ کیا گیا تھا ہم نے اس کو پھینک دیا اور اس طرح سامری نے ڈھال کر پیش کردیا‘‘ (امین احسن اصلاحی، یہاں لفظ ’’موعد‘‘ وعدہ وعہد کے لئے نہیں ہے، بلکہ طے کردہ وقت اور جگہ کے لئے ہے، کہ جس وقت جس جگہ پہونچنے کے لئے کہا گیا تھا وہاں نہیں پہونچے )

’’بولے ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے ولیکن اٹھالئے ہم نے بوجھ گہنے سے اس قوم کے گہنے کے سو ہم نے وہ پھینک دئیے پھر یہ نقشہ ڈالا سامری نے‘‘ (شاہ عبد القادر)

’’وہ کہنے لگے ہم نے جو آپ سے وعدہ کیا تھا اس کو اپنے اختیار سے خلاف نہیں کیا ولیکن قوم (قبط) کے زیور میں سے ہم پر بوجھ لد رہا تھا سو ہم نے اس کو (سامری کے کہنے سے آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی) ڈال دیا‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’انہوں نے جواب دیا ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا تھا۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا‘‘ (سید مودودی)

’’وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا‘‘ (فتح محمد جالندھری)

اس آیت میں فَکَذَلِکَ أَلْقَی السَّامِرِیُّ کے مختلف مطلب لئے گئے ہیں، مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ سامری نے کچھ نہیں ڈالا، اور یہاں اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ کیا وہ سامری کے سجھانے پر کیا، وہ ترجمہ کرتے ہیں:

’’انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کے مقرر کئے ہوئے وقت کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی۔ بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ جو ہمارے حوالہ کیا گیا تھا ہم نے اس کو ڈال دیا اور اس طرح سامری نے سجھایا ‘‘(امانت اللہ اصلاحی)

(۱۰۹) ألقی ساجدا کا ترجمہ

قرآن مجید میں جادوگروں کے سجدے میں جانے کا تذکرہ تین مقامات پر ہے، تینوں جگہ اس مفہوم کے لیے ألقي فعل مجہول کے صیغے میں استعمال ہوا ہے۔ مفسرین کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جادوگر تو اپنی مرضی سے سجدے میں گئے تھے، پھر یہ فعل اور یہ صیغہ کیوں استعمال ہوا؟ اس کی مختلف توجیہیں بھی ملتی ہیں، ترجمہ کرنے والوں میں سے بعض لوگوں نے سب جگہ ڈالے گئے ترجمہ کیا، بعض لوگوں نے تینوں جگہ گرگئے ترجمہ کیا، جبکہ بعض لوگوں نے کہیں یہ ترجمہ کیا اور کہیں وہ ترجمہ کیا۔

(۱) وَأُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سَاجِدِیْنَ۔ (الاعراف: ۱۲۰)

’’اور ڈالے گئے جادو گر سجدے میں‘‘ (شاہ رفیع الدین)

’’اور ڈالے گئے ساحر سجدے میں ‘‘(شاہ عبد القادر)

’’اور جادوگر سجدے میں گرادئے گئے ‘‘(احمد رضا خان)

’’اور وہ جو ساحر تھے سجدہ میں گرگئے ‘‘(اشرف علی تھانوی)

’’اور وہ جو ساحر تھے سجدہ میں گرگئے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

’’اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرادیا‘‘ (سید مودودی)

’’اور ساحر سجدے میں گرپڑے ‘‘(امین احسن اصلاحی)

’’(یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے‘‘ (فتح محمدجالندھری)

(۲) فَأُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّداً۔ (طہ:۷۰)

’’پس ڈالے گئے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے‘‘(شاہ رفیع الدین)

’’پھر گرپڑے جادوگر سجدہ میں ‘‘(شاہ عبدالقادر)

’’تو سب جادوگر سجدے میں گرادئے گئے ‘‘(احمد رضا خان)

’’سو جادوگر سجدہ میں گرگئے‘‘ (اشرف علی تھانوی)

’’اب تو تمام جادوگر سجدے میں گرپڑے‘‘(محمد جوناگڑھی)

’’تو جادوگر سجدے میں گرپڑے ‘‘(امین احسن اصلاحی)

’’آخر کو یہی ہوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرادئے گئے ‘‘(سید مودودی)

’’(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے ‘‘(فتح محمدجالندھری)

(۳) فَأُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سَاجِدِیْن۔ (الشعراء: ۴۶)

’’پس ڈالے گئے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے‘‘ (شاہ رفیع الدین)

’’پھر اوندھے گرے جادوگر سجدے میں‘‘(شاہ عبدالقادر)

’’اب سجدے میں گرے جادوگر ‘‘(احمد رضا خان)

’’یہ دیکھتے ہی جادوگر بے اختیار سجدے میں گرگئے ‘‘(محمد جوناگڑھی)

’’تو ساحر بے تحاشا سجدے میں گرپڑے‘‘ (امین احسن اصلاحی، بے تحاشا کا محل نہیں ہے)

’’اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گرپڑے‘‘ (سید مودودی)

’’تب جادوگر سجدے میں گر پڑے‘‘(فتح محمدجالندھری)

عربی زبان کے لحاظ سے مناسب اور اردو محاورے کے لحاظ سے فصیح ترجمہ گرادئے جانے کا نہیں بلکہ گرپڑنے کا ہوگا۔ صورت واقعہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہے، جن لوگوں نے گرادئے جانے کا ترجمہ کیا ہے، انہوں نے یہ دیکھا کہ فعل مجہول استعمال ہوا ہے، لیکن یہ ایک اسلوب ہے، اس کا ترجمہ معروف لازم ہی کا ہوگا، دراصل ألقي یہاں ویسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح توفي مجہول استعمال ہوتا ہے، تاج العروس میں ہے تُوفِّیَ فلانٌ: اِذا ماتَ.توفي کا ترجمہ یہ نہیں کیا جاتا کہ اس کو وفات دی گئی، بلکہ یہ ہوتا کہ اس نے وفات پائی۔ تینوں آیتوں کا مناسب ترجمہ ہے جادوگر سجدے میں گرپڑے۔ اس اسلوب کی اور بھی مثالیں مل سکتی ہیں۔

علامہ ابن عاشور نے توجیہ یہ کی ہے کہ یہ تعبیر بے اختیارتیزی سے گرپڑنے کے لئے استعمال ہوتی ہے، اور چونکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو سجدے میں گرایا تھا، اس لیے ألقي مجہول استعمال ہوا۔ 

والاِلْقاءُ: مستعملٌ فی سُرعۃِ الھُویِّ الی الأرضِ، أی: لمْ یتمالکوا أن سجدوا بدون تریث ولا ترددٍ۔ وبُنِیَ فعلُ الالقاءِ للمجھولِ لظھور الفاعلِ، وھو أنفسُھم، والتقدیرُ: وألقوا أنفسھم علی الأرض۔ (التحریر والتنویر: ۹؍۵۲)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

(مارچ ۲۰۱۷ء)

Flag Counter