اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

سورة الاحزاب کے کچھ مقامات

(۱۹۷) صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ عام طور لوگوں نے ”عہد کو سچا کردکھایا ہے“ کیا ہے، اور اس کے بعد قَضَی نَحبَہُ کا ترجمہ بھی ”عہد یا نذر کو پورا کردیا“ کیا ہے۔ اس سے عبارت میں اشکال پیدا ہوجاتا ہے، کہ ایک ہی بات کو دو بار کیوں کہا گیا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ کرتے ہیں ”جنھوں نے سچا عہد کیا“ اس طرح مفہوم یہ بنتا ہے کہ اہل ایمان نے جب عہد کیا تو سچے دل سے عہد کیا، اور پھر کچھ نے موقع آنے پر عہد پورا کردکھایا اور کچھ موقع کے منتظر ہیں، اور ان کے عہد کی سچی کیفیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجموں پر غور کریں:

مِنَ المُمِنِینَ رِجَال صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیہِ فَمِنہُم مَن قَضَی نَحبَہُ وَمِنہُم مَن یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبدِیلاً۔ (الاحزاب: 23)

”ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی“۔ (سید مودودی)

”مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اہل ایمان میں وہ جانباز بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کردکھایا۔ سو ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے ہیں اور بعض منتظر ہیں۔ اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اہل ایمان میں وہ جانباز بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے سچا عہد کیا۔ سو ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے ہیں اور بعض منتظر ہیں۔ اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۱۹۸)  وَارضًا لَم تَطَئُوہَا کا ترجمہ

وَاورَثَکُم ارضَہُم وَدِیَارَہُم وَاموَالَہُم وَارضًا لَم تَطَئُوہَا۔ (الاحزاب: 27)

درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:

”اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا“۔ (سید مودودی)

”اور اُن کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنا دیا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور اس نے تمہیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھر بار کا اور ان کے مال کا وارث کر دیا اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

پہلے دونوں ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت جو علاقے مل گئے تھے ان کا ذکر ہورہا ہے، لیکن پھر لَم تَطَئُوہَا کی معنویت سامنے نہیں آپاتی ہے۔ کیوں کہ اس وقت تک تو اسلامی ریاست کے حدود مدینہ اور اس کے نواح تک ہی تھے۔

جب کہ بعد کے دونوں ترجموں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دور دراز علاقوں کو دینے کی بشارت ہے جن تک ابھی اہل اسلام کے قدم بھی نہیں پہنچے ہیں۔ اس مفہوم میں بڑی وسعت ہے اور اس سے لَم تَطَئُوہَا کی معنویت بڑی خوبی کے ساتھ کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

(۱۹۹)    المُحسِنَات کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں المُحسِنَات کا ترجمہ عام طور سے ”نیکو کار“ کیا گیا ہے، لیکن صاحب تدبر نے ”خوبی سے نباہ کرنے والیوں“ کیا ہے، یہ ترجمہ المُحسِنَات کے مفہوم کو بہت محدود کردیتا ہے، اور سیاق کلام سے مطابقت بھی نہیں رکھتا ہے۔ سیاق تو اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو دنیا کی زندگی اور اس کی آرائشوں پر ترجیح دینے کا ہے، اس میں خوبی سے نباہ کی بات ہی نہیں بلکہ پوری زندگی کی بات ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی المُحسِنَات کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں: ”بہترین عمل کرنے والیوں“۔

درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:

وَاِن کُنتُنَّ تُرِدنَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَاِنَّ اللَّہَ اَعَدَّ لِلمُحسِنَاتِ مِنکُنَّ اَجرًا عَظِیمًا۔ (الاحزاب: 29)

”اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہو، تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے تم میں سے خوبی سے نباہ کرنے والیوں کے لیے ایک اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے“۔ (سید مودودی)

”اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کے لیے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲٠٠) فَمَا لَکُم عَلَیہِنَّ مِن عِدَّةٍ تَعتَدُّونَہَا کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے مذکور حصے کے ترجمے ملاحظہ کریں:

فَمَا لَکُم عَلَیہِنَّ مِن عِدَّةٍ تَعتَدُّونَہَا۔ (الاحزاب: 49)

”تو ان کے بارے میں تم پر کوئی عدت واجب نہیں ہے، جس کا تمھیں لحاظ کرنا ہو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو“۔ (سید مودودی)

”تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو“۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”تمہارے لیے ان پر کوئی عدت واجب نہیں ہے جسے تم شمار کرو“۔

بعض ترجموں سے لگتا ہے کہ عدت مرد پر واجب ہوتی ہے، بعض سے لگتا ہے کہ عدت مرد کا کوئی حق یا اختیار ہے، بعض سے لگتا ہے کہ عورت پر عدت مرد کی طرف سے واجب ہوتی ہے۔

حقیقت میں عدت گزارنا عورت پر واجب ہوتا ہے، اور اس کا مقصد مرد سے وابستہ ہوتا ہے، کہ طلاق دینے والا عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے، اور نکاح کرنے والا عدت کے بعد ہی کسی مطلقہ خاتون سے نکاح کرسکتا ہے۔ یہ آیت اسی سلسلے میں رہنمائی دیتی ہے۔

(۲٠۱) مَا مَلَکَت اَیمَانُہُنَّ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں مَا مَلَکَت اَیمَانُہُنَّ کا ترجمہ متعدد مترجمین نے لونڈیوں یا کنیزوں کیا ہے، یہاں آیت کے الفاظ عام ہیں، اور سیاق پردے کا ہے۔ یوں تو اہل تفسیر اور اہل فقہ میں اس پر اختلاف ہے کہ یہاں صرف عورت مملوک یعنی کنیزیں اور لونڈیاں مراد ہیں یا عام مملوک مراد ہیں جن میں مرد عورتیں دونوں شامل ہیں۔ لیکن اگر ہم اسی مضمون کی آیت جو سورة نور میں آئی ہے اس کے ترجموں کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ تفسیری اختلاف کا نہیں بلکہ ترجمے میں تساہل ہوجانے کا بھی ہے، کیوں کہ بعض مترجمین نے اس مقام پر تو ترجمہ کنیزوں اور لونڈیوں کا کیا، مگر سورہ نور والی آیت کے ترجمہ میں کنیزوں اور غلاموں دونوں کو شامل کرلیا۔ دونوں مقامات کے درج ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

لَا جُنَاحَ عَلَیہِنَّ فِی آبَائِہِنَّ وَلَا اَبنَائِہِنَّ وَلَا اِخوَانِہِنَّ وَلَا اَبنَاء اِخوَانِہِنَّ وَلَا اَبنَاء اَخَوَاتِہِنَّ وَلَا نِسَائِہِنَّ وَلَا مَا مَلَکَت اَیمَانُہُنَّ۔ (الاحزاب: 55)

”ان پر مضائقہ نہیں ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں اور اپنی کنیزوں میں اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور نہ لونڈیوں سے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ان کی مملوکہ کنیزیں“۔ (محمد حسین نجفی)

”اور اپنی کنیزوں کے سامنے آئیں“۔ (جوادی)

”اور ملکیت کے ماتحتوں (لونڈی، غلام) کے سامنے ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ان کے مملوک گھروں میں آئیں“۔ (سید مودودی)

وَقُل لِلمُومِنَاتِ یَغضُضنَ مِن اَبصَارِہِنَّ وَیَحفَظنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَا یُبدِینَ زِینَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنہَا وَلیَضرِبنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوبِہِنَّ وَلَا یُبدِینَ زِینَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُولَتِہِنَّ اَو آبَائِہِنَّ اَو آبَاء بُعُولَتِہِنَّ اَو اَبنَائِہِنَّ اَو ابنَاء بُعُولَتِہِنَّ او اِخوَانِہِنَّ اَو بَنِی اِخوَانِہِنَّ اَو بَنِی اَخَوَاتِہِنَّ اَو نِسَائِہِنَّ اَو مَا مَلَکَت اَیمَانُہُنَّ۔ (النور: 31)

”اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں“۔ (احمد رضا خان)

” یا غلاموں کے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”یا اپنے غلاموں یا لونڈیوں کے“۔ (محمد حسین نجفی)

”اور اپنے غلام اور کنیزوں“۔ (جوادی)

”یا اپنے مملوکوں کے سامنے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”ا پنے مملوک“۔ (سید مودودی)

(۲۰۲)   لَقَد  کَانَ لَکُم کا ترجمہ

قد کان عام طور سے تو ماضی کے لیے آتا ہے، اور اس کی قرآن مجید میں مثالیں بھی موجود ہیں جیسے:

قَد کَانَت آیَاتِی تُتلَی عَلَیکُم فَکُنتُم عَلَی اَعقَابِکُم تَنکِصُونَ۔ (المومنون: 66)

”میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھر جاتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

البتہ کبھی یہ ماضی کے لیے خاص نہ ہوکر عام ہوکر آتا ہے، ایسے ہی بعض مقامات کے سلسلے میں مترجمین کا موقف متعین نہیں ہوسکا، ایک ہی اسلوب کا وہ ایک جگہ ماضی سے ترجمہ کرتے ہیں اور دوسری جگہ حال کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ذیل کی مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے:

لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللَّہِ اُسوَۃ حَسَنَۃ لِمَن کَانَ یَرجُو اللَّہَ وَالیَومَ الآخِرَ۔ (الاحزاب: 21)

”در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو“۔ (سید مودودی)

”یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو“۔ (احمد رضا خان)

قَد کَانَت لَکُم اسوَۃ حَسَنَۃ فِی اِبرَاہِیمَ وَالَّذِینَ مَعَہُ۔ (الممتحنۃ: 4)

”تم لوگوں کے لیے ابراہیم ؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے“۔ (سید مودودی)

”بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں“۔ (احمد رضا خان)

لَقَد کَانَ لَکُم فِیہِم اُسوَۃ حَسَنَۃ لِمَن کَانَ یَرجُو اللَّہَ وَالیَومَ الآخِرَ۔ (الممتحنۃ: 6)

”اِنہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر اُس شخص کے لیے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو“۔(سید مودودی)

”بیشک تمہارے لیے ان میں اچھی پیروی تھی اسے جو اللہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو“۔ (احمد رضا خان)

مذکورہ بالا تینوں آیتوں کا اسلوب ایک سا ہے، لیکن ترجموں کا معاملہ مختلف ہوگیا ہے، زیادہ مناسب یہی ہے کہ ان تینوں مقامات پر ماضی کے بجائے حال کا ترجمہ کیا جائے تاکہ اسوے کا عموم سب کے لیے باقی رہے۔ اور وہ ماضی کی کوئی خبر بن کر نہ رہ جائے۔ اسی طرح درج ذیل مقام پر بھی عام طور سے لوگوں نے ماضی کا ترجمہ کیا ہے، اس کا بھی حال والا ترجمہ زیادہ مناسب ہے، نشانی صرف ان کے لیے نہیں تھی جو اس وقت موجود تھے، بلکہ ان سب کے لیے نشانی ہے جن تک اس واقعہ کی خبر پہنچے۔

قَد کَانَ لَکُم آیَۃ فِی فِئَتَینِ التَقَتَا فِئَۃ تُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَاخرَی کَافِرَۃ یَرَونَہُم مِثلَیہِم رَایَ العَینِ وَاللَّہُ یُویِّدُ بِنَصرِہِ مَن یَشَاءُ انَّ فِی ذَلِکَ لَعِبرَۃً لِاولِی الابصَارِ۔ (آل عمران: 13)

”تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے۔ دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے“۔ (سید مودودی)

”بیشک تمہارے لیے نشانی تھی دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے“۔ (احمد رضا خان)

”تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی“۔ (فتح محمد جالندھری)

”یقینا تمہارے لیے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”جن دو گروہوں میں مڈ بھیڑ ہوئی، ان کی سرگزشت میں تمہارے لیے نشانی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(جاری)


قرآن / علوم قرآن