اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۸۱)    انذار کا ترجمہ

قرآن مجید میں نذر کے مادے سے انذار منذر اور نذیر کا کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ انذار تبشیر کے ساتھ اور منذر مبشر کے ساتھ کئی مقامات پر آیا ہے۔ جب کہ نذیر کا ذکر کئی جگہ بشیر کے ساتھ ہوا ہے۔ انذار اور تبشیر میں قدر مشترک خبر دینا ہے، جس طرح تبشیر کا مطلب ایسی خبر دینا ہے جس میں خوشی موجود ہو، اسی طرح انذار کا مطلب بھی خبر دینا ہے، لیکن ایسی خبر جس میں ڈراوا موجود ہو۔ گویا دونوں الفاظ اصل میں خبر دینے کے لیے آتے ہیں، البتہ دونوں خبروں کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے۔

عربی لغت کی مستند ترین کتابوں کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

ونَذَر القومُ بالعَدُوِّ ای عَلِموا بمسیرہم. (العین)

الاِنذَارُ: الاِبلَاغُ ; وَلَا یَکَادُ یَکُونُ اِلَّا فِی التَّخوِیفِ. (مقاییس اللغة)

وَالانذارُ: اخبار فیہ تخویف، کما انّ التّبشیر اخبار فیہ سرور. (المفردات فی غریب القرآن)

الانذار: الابلاغ، ولایکون الا فی التخویف. (الصحاح تاج اللغة وصحاح العربیة)

وانذَرَہُ بالاَمر اِنذاراً ونَذراً، ویُضَمُّ وبضمتینِ ونَذِیراً: اعلَمَہُ، وحَذَّرَہُ، وخَوَّفَہُ فی بلاغِہِ. (القاموس المحیط)

بہت سے اردو تراجم میں انذار کا ترجمہ ڈرانا کیا گیا ہے، انذار میں ڈرانے کا مفہوم موجود ہے، لیکن صرف ڈرانا نہیں، بلکہ ڈرانے والی خبر دینا ہے۔

ڈرانے اور خبردار کرنے میں فرق ہے، جس طرح خوش خبری دینے اور خوش کرنے میں فرق ہے۔ برے انجام سے خبردار کرنے کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، جس میں برے انجام کے اسباب اور اس سے بچنے کے طریقوں کی خبر دینا بھی شامل ہوتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں کہیں بھی تخویف کے لفظ کو (جس کا مطلب ڈرانا ہوتا ہے) رسولوں کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ہے، خلاصہ یہ کہ انذار کا صحیح ترجمہ ڈرانا نہیں بلکہ خبردار کرنا ہے۔ ذیل میں قرآن مجید کی کچھ آیتوں کے ترجمے پیش کیے جائیں گے، جہاں انذار، منذر اور نذیر جیسے الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔

(۱) إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَی قَوْمِہ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَھُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ۔ (نوح:1،2)

”تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف قوم اس کی کے یہ کہ ڈرا قوم اپنی کو پہلے اس سے کہ آوے ان کو عذاب درد دینے والا۔ کہا اے قوم میری تحقیق میں واسطے تمہارے ڈرانے والا ہوں ظاہر“۔ (شاہ رفیع الدین)

”ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف کہ ڈرا اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ پہنچے ان پر دکھ والی آفت، بولا اے قوم میری میں تم کو ڈر سنانے والا ہوں کھول کر“۔ (شاہ عبدالقادر)

”ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ) کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کر دے قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے، ا س نے کہا ''اے میری قوم کے لوگو، میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں“۔ (سید مودودی)

(۲) فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاہٗ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِہ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِہ قَوْمًا لُدًّا۔ (مریم:97)

”پس سوا اس کے نہیں کہ آسان کیا ہے ہم نے اس قرآن کو ساتھ زبان تیری کے تو کہ بشارت دے ساتھ اس کے پرہیزگاروں کواور ڈراوے ساتھ اس کے قوم جھگڑنے والوں کو“۔(شاہ رفیع الدین)

”سو ہم نے آسان کیا یہ قرآن تیری زبان میں اسی واسطے کہ خوشی سنادے تو ڈر والوں کو اور ڈرادے جھگڑالو لوگوں کو“۔ (شاہ عبدالقادر)

”تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناو“۔ (احمد رضا خان)

”پس ہم نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں اس لیے سہل وسازگار بنایا کہ تم خدا ترسوں کو بشارت پہنچادو اور جھگڑالو قوم کو آگاہی سنادو“۔ (امین احسن اصلاحی)

(۳) رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ۔ (النساء: 165)

”بھیجے ہم نے پیغمبر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والے “۔(شاہ رفیع الدین)

”کتنے رسول خوشی اور ڈر سنانے والے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے “۔(سید مودودی)

”اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ہوشیار کرنے والے بناکر بھیجا “۔(امین احسن اصلاحی)

(۴) فَبَعَثَ اللَّہُ النَّبِیِّینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ۔ (البقرة: 213)

”پس بھیجا اللہ نے پیغمبروں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”پھر بھیجے اللہ نے نبی خوشی اور ڈر سناتے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے“۔ (سید مودودی)

”تو اللہ نے اپنے انبیاءبھیجے جو خوش خبری سناتے اور خبردار کرتے ہوئے آئے تھے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں حال کا ترجمہ اس طرح ہوگا: ”جنھوں نے آکر خوش خبری سنائی اور خبردار کیا“۔ امانت اللہ اصلاحی)

(۵) قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّہ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ (الاعراف: 188)

”میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں“۔ (سید مودودی)

”میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں “۔(محمد جوناگڑھی)

(۶) وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْہ آَيَاتٌ مِنْ رَبِّہ قُلْ إِنَّمَا الْآَيَاتُ عِنْدَ اللَّہ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ۔ (العنکبوت: 50)

”اور میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”میں تو صرف کھلم کھلا آگاہ کر دینے والا ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر“۔ (سید مودودی)

(۷) لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا أَتَاھمْ مِنْ نَذِيرٍ مِنْ قَبْلِكَ لَعَلَّھمْ يَھتَدُونَ۔ (السجدة: 3)

”تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا “۔(سید مودودی)

”تاکہ تم ان لوگوں کو ہوشیار کردو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہوشیار کرنے والا نہیں آیا “۔(امین احسن اصلاحی)

(۸) وَأَنْذِرْھمْ يَوْمَ الْآَزِفَۃ۔ (غافر: 18)

”اور ڈرا ان کو دن قیامت سے“۔(شاہ رفیع الدین)

”اور خبر سنادے ان کو اس نزدیک آنے والے دن کی“۔ (شاہ عبدالقادر)

(۹) وَأَنْذِرْھمْ يَوْمَ الْحَسْرَۃ۔ (مریم: 39)

”اور ڈرا ان کو دن پچتانے کے سے “۔(شاہ رفیع الدین)

”اور ڈر سنادے ان کو اس پچتاوے کے دن کا“ ۔(شاہ عبدالقادر)

(۱٠) إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّھمْ بِالْغَيْبِ۔ (فاطر: 18)

”تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بے دیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو صرف ان ہی کو آگاہ کرسکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں“ ۔(محمد جوناگڑھی)

(۱۱) إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ (الاعراف: 188)

”میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں “۔(محمد جوناگڑھی)

”میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں“۔ (سید مودودی)

”میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲۱) ھذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَی۔ (النجم: 56)

”یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے“۔(سید مودودی)

”یہ (نبی) ڈرانے والے ہیں پہلے ڈرانے والوں میں سے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا ترجموں کو دیکھنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شاہ رفیع الدین ایسی ہر جگہ ڈرانا ترجمہ کرتے ہیں، جب کہ ان کے علاوہ کسی بھی مترجم نے مختلف مقامات پر انذار اور اس کے مشتقات کا ترجمہ کرتے ہوئے ایک موقف نہیں اختیار کیا ہے۔ کہیں ڈرانا کیا ہے تو کہیں ڈر سنانا، آگاہ کرنا، خبردار کرنا، متنبہ کرنا،ہوشیار کرنا کیا ہے۔ جب وہ ڈر سنانا ترجمہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ لفظ کی رعایت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ڈر سنانا اگر کبھی اردو محاورہ رہا ہو تو اب نہیں رہا۔

لفظ کی مکمل رعایت کریں تو سب سے مناسب ترجمہ خبردار کرنا لگتا ہے۔

(۱۸۲)    جزی عنہ کا ترجمہ

جزاہ کا مطلب ہوتا ہے بدلہ دینا، اور جزی عنہ کا مطلب ہوتا ہے کسی کے کام آنا، اس کی ضرورت پوری کردینا، یا اس کا بدل بن جانا یعنی سزا وغیرہ کے لیے دوسرے کی جگہ خود کو پیش کردینا۔ قرآن مجید میں یہ تعبیر تین مقامات پر آئی ہے، پہلے دو مقامات پر تو سب نے لفظ کی رعایت کرتے ہوئے مناسب ترجمہ کیا ہے۔البتہ تیسری آیت کے ترجمے میں کچھ لوگوں نے بدلہ دینا ترجمہ کردیا ہے۔ لگتا ہے کہ انہیں صرف اس مقام پر جزاہ اور  جزی عنہ کے درمیان اشتباہ ہوگیا۔

(۱) وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا۔ (البقرة: 48)

”اور بچو اس دن سے کہ نہ کام آوے کوئی شخص کسی کے ایک ذرہ بھر“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا “۔(سید مودودی)

”اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی “۔(احمد رضا خان)

 (۲) وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا۔ (البقرة: 123)

”اور بچو اس دن سے کہ نا کام آوے کوئی شخص کسی شخص کے ایک ذرہ “۔(شاہ عبدالقادر)

”اور ڈرو اُس دن سے، جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا“۔ (سید مودودی)

”اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی“۔ (احمد رضا خان)

(۳) وَاخْشَوْا يَوْمًا لَا يَجْزِي وَالِدٌ عَنْ وَلَدِہ وَلَا مَوْلُودٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِہ شَيْئًا۔ (لقمان: 33)

”اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آوے کوئی باپ اپنے بیٹے کے بدلے، اور نہ کوئی بیٹا ہو جو کام آوے اپنے باپ کی جگہ کچھ “۔(شاہ عبدالقادر)

”اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والا ہوگا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ بچہ کے کام نہ آئے گا، اور نہ کوئی کامی (کاروباری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے“۔ (احمد رضا خان، مولود کا عجیب ترجمہ کیا ہے)

”اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا “۔(سید مودودی)

”اور اس روز سے ڈرو جب نہ کوئی باپ اپنی اولاد کی طرف سے بدلہ دے گا، اور نہ کوئی اولاد ہی اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والی ہوگی“۔ (محمد فاروق خان)

اس تیسری آیت کے آخری دونوں ترجموں میں مذکورہ غلطی دیکھی جاسکتی ہے، جب کہ پہلی دونوں آیتوں کے ترجموں میں ان دونوںحضرات کے یہاں یہ غلطی نہیں ہے۔

تیسری آیت کے سلسلے میں اس وضاحت کا اعادہ مناسب ہوگا کہ والد کا صحیح ترجمہ صرف باپ نہیں بلکہ ماں باپ، اور مولود کا صحیح ترجمہ صرف بیٹا نہیں بلکہ اولاد ہے، جس میں بیٹا بیٹی دونوں شامل ہیں۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن