اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۰)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(342) بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ

درج ذیل آیت میں بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ کا مندرجہ ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ کَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ۔ (الانبیاء: 5)

”وہ کہتے ہیں:  بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اِس کی مَن گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے“۔ (سید مودودی)

"They say: Nay, these are confused dreams; nay, he has forged it; nay, he is a poet. So let him bring us a sign, even as the Messengers of the past were sent with signs." (Maududi)

اس ترجمے میں غلطی یہ ہے کہ بل کو قالوا کے بعد میں فرض کرکے ترجمہ کیا ہے، حالانکہ بل، قالوا سے پہلے آیا ہے۔ ”بلکہ وہ یہ کہتے ہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ سابقہ بات کے علاوہ یہ بھی کہتے ہیں، جب کہ ”وہ کہتے ہیں بلکہ“ ایک گنجلک جملہ بن جاتا ہے اور بلکہ کا مطلب سمجھنا دشوار ہوجاتا ہے۔

دراصل پہلا بل گذشتہ مقولے یعنی ہَلْ ہَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ سے متعلق ہے، اور پھر بعد کے دونوں بل یعنی بَلِ افْتَرَاہُ اور بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ ان سے ماقبل مقولے یعنی أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ سے متعلق ہے۔

اس پہلو سے درج ذیل ترجمے درست ہیں:

”بلکہ کہا انھوں نے پریشان خیال ہیں بلکہ باندھ لیا ہے اس کو بلکہ وہ شاعر ہے، پس لے آؤ ہمارے پاس کوئی نشانی جیسے بھیجے گئے تھے پہلے پیغمبر“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگندہ خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی لاتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

آیت کا درج ذیل انگریزی ترجمہ عجیب ہے، اس آیت میں مذکور تینوں بل کا ترجمہ بعض کیا گیا ہے، جس کی لغت میں گنجائش نہیں ہے:

"Some say, "These are his confused dreams." Others say, "He has invented it himself," and yet others say, "He is a poet. Let him bring us a sign as previous messengers did." (Waheeduddin Khan)

حالاں کہ مترجم موصوف نے اردو میں درست ترجمہ کیا ہے:

”بلکہ وہ کہتے ہیں، یہ پراگندہ خواب ہیں۔ بلکہ اس کو انھوں نے گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ ایک شاعر ہیں۔ ان کو چاہیے کہ ہمارے پاس اس طرح کی کوئی نشانی لائیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ پچھلے رسول بھیجے گئے تھے“۔ (وحید الدین خان)

(343) فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم

قرآن مجید میں ایک جیسی دو آیتیں آئی ہیں، دونوں میں فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم کا ترجمہ کرنے کے تین طریقے اختیار کیے گئے ہیں:

ایک یہ کہ منھم کو الذین سے متعلق مانا گیا اور ترجمہ کیا گیا:”ان لوگوں میں سے جو مذاق اڑاتے تھے انھیں گھیر لیا“ اس ترجمے پر اشکال یہ ہے کہ وہ لوگ کون ہیں جن میں سے مذاق اڑانے والوں کو عذاب نے گھیر لیا۔ سیاق کلام میں ایسے کسی گروہ کا ذکر تو ہے نہیں۔

دوسرا یہ کہ منھم کا ترجمہ ہی نہیں کیا گیا، ”مذاق اڑانے والوں کو گھیر لیا“ منھم  کو نظر انداز کرکے عبارت کا پورا حق ادا نہیں کیا گیا، یہ اس ترجمے کی خامی ہے، گرچہ پوری آیت  کو سامنے رکھ کر اس جملے کا مطلب سمجھ میں آرہا ہے۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ منھم کو سخروا سے متعلق مانا گیا اور ترجمہ کیا گیا: ”جو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے انھیں گھیر لیا“ یعنی رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کو گھیر لیا گیا۔ یہ درست ترجمہ ہے، گو کہ بہت کم لوگوں نے اس طرح ترجمہ کیا ہے۔

سَخِرَ مِنْہُ کا مطلب ہوتا ہے کسی کا مذاق اڑانا، درج ذیل آیت میں یہ تین بار اسی معنی میں آیا ہے:

وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَأٌ مِنْ قَوْمِہِ سَخِرُوا مِنْہُ قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُونَ۔ (ہود: 38)

”تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

اس وضاحت کی روشنی میں آپ نیچے دونوں آیتوں کے ترجمے دیکھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ایک ہی مترجم نے دو یکساں مقامات پر الگ الگ طریقہ بھی اختیار کیا ہے۔

(1) وَلَقَدِ اسْتُہْزِیئََ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم مَّا کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِءُونَ۔ (الانعام: 10)

”اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا ساتھ پیغمبروں کے پہلے تجھ سے پس گھیر لیا ان لوگوں کو کہ ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے اس چیز نے کہ تھے ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اور ہنسی کرتے رہے ہیں رسولوں سے تیرے پہلے پھر الٹ پڑے ان سے ہنسنے والوں پر جس بات پر ہنسا کرتے تھے“۔ (شاہ عبدالقادر، یہ درست ترجمہ ہے)

”اور واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا ہے، پھر جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا تھا ان کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے“۔ (اشرف علی تھانوی، یہ درست ترجمہ ہے)

”اے محمدؐ! تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے“۔ (سید مودودی)

”اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی“۔ (احمد رضا خان،، یہ درست ترجمہ ہے)

”اور واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا ہے۔ پھر جن لوگوں نے ان سے مذاق کیا تھا ان کو اس عذاب نے آ گھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی، یہ درست ترجمہ ہے)

”پیغمبر آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کا مذاق اُڑایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں مذاق اُڑانے والوں کے لیے ان کا مذاق ہی ان کے گلے پڑ گیا اور وہ اس میں گھر گئے“۔ (ذیشان جوادی)

(2) وَلَقَدِ اسْتُہْزِیئَ  بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم مَّا کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِءُونَ۔  (الانبیاء: 41)

”اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا تھا ساتھ پیغمبروں کے پہلے تجھ سے پس گھیر لیا ٹھٹھا کرنے والوں پر ان میں سے جس چیز کا ٹھٹھا کرتے تھے“۔ (شاہ رفیع الدین، کیا تھا کے بجائے کیا گیا درست ہے، جیسا کہ اول الذکر آیت کے ترجمے میں کیا ہے)

”اور ٹھٹھے ہوچکے ہیں کِتے رسولوں سے تجھ سے پہلے پھر الٹ پڑے ٹھٹھا کرنے والوں پر ان میں سے جس چیز کا ٹھٹھا کرتے تھے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا“۔(فتح محمد جالندھری)

”اور تجھ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کیا گیا پس ہنسی کرنے والوں کو ہی اس چیز نے گھیر لیا جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انہیں کو لے بیٹھا“۔ (احمد رضا خان)

”اور پیغمبر آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے جس کے بعد ان کفاّر کو اس عذاب نے گھیر لیا جس کا یہ مذاق اُڑارہے تھے“۔ (ذیشان جوادی)

اس آخری ترجمے میں الفاظ کی رعایت بھی نہیں کی گئی ہے، کیوں کہ یہاں کفار کا لفظ تو آیا ہی نہیں ہے، بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْہُم کا ترجمہ کفار تو نہیں کیا جائے گا۔

”اور آپ سے پہلے جو پیغمبر گزرے ہیں ان کے ساتھ یہی (کفار کی طرف سے) تمسخر کیا گیا تھا سو جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا تھا ان پر وہ عذاب واقع ہوگیا جس کے ساتھ وہ استہزا کرتے تھے“۔ (اشرف علی تھانوی، یہ درست ترجمہ ہے)

”مذاق تم سے پہلے بھی رسُولوں کا اڑایا جا چکا ہے، مگر اُن کا مذاق اڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آ کر رہے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے“۔ (سید مودودی، یہ درست ترجمہ ہے)

(344) وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُون

أَمْ لَہُمْ آلِہَةٌ تَمْنَعُہُم مِّن دُونِنَا لَا یَسْتَطِیعُونَ نَصْرَ أَنفُسِہِمْ وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُونَ۔ (الانبیاء: 43)

”کیا ان کے لیے ہمارے سوا کچھ اور معبود ہیں جو ان کو بچالیں گے؟ نہ وہ خود اپنی مدد کرسکیں گے اور نہ ہمارے مقابل میں ان کی کوئی حمایت کی جاسکے گی“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں کئی خامیاں ہیں، پہلی خامی یہ ہے کہ من دوننا کو أَمْ لَہُمْ آلِہَةٌ سے متعلق ماننے کا تکلف کیا گیا ہے، حالاں کہ وہ تَمْنَعُہُم کے بعد ہے اور بلا تکلف اسی سے متعلق ہونا چاہیے۔ ”کیا ان کے لیے ہمارے سوا کچھ اور معبود ہیں جو ان کو بچالیں گے؟“ کے بجائے ”کیا ان کے لیے کچھ اور معبود ہیں جو ان کو ہم سے بچالیں گے؟“ ترجمہ ہونا چاہیے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ قرآن میں کہیں آلِہَةٌ مِّن دُونِنَا جمع کے صیغے میں نہیں آیا ہے۔ وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّہِ آلِہَةً‌ (مریم: 81) اور أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ آلِہَةً‌ (الانبیاء: 24) جیسی تعبیریں آئی ہیں۔

دوسری خامی یہ ہے کہ لَا یَسْتَطِیعُونَ نَصْرَ أَنفُسِہِمْ وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُونَ کا ترجمہ مستقبل کا کیا ہے، جب کہ حال کا ترجمہ زیادہ بے تکلف اور معنی خیز ہے۔ کیوں کہ یہ تو آنکھوں دیکھا حال ہے اور ان کے خلاف ایک کھلی دلیل ہے۔

تیسری خامی یہ ہے کہ وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُونَ کا ترجمہ کیا ہے: ”اور نہ ہمارے مقابل میں ان کی کوئی حمایت کی جاسکے گی“ یہاں مِنَّا مقابل کے مفہوم میں نہیں ہے، بلکہ طرف کے مفہوم میں ہے، یعنی ہماری طرف سے انھیں صحبت عطا نہیں کی جائے گی۔ یصحبون میں حفاظت کا مفہوم تو ہے، کیوں کہ جس کی معیت حاصل ہوتی ہے اس کی حفاظت بھی حاصل ہوتی ہے، لیکن جس طرح سے حفظ کے ساتھ من آتا ہے اس طرح صحب کے ساتھ من نہیں آتا ہے۔ یہاں جو من آیا ہے وہ دراصل ”ہماری طرف سے“ کے مفہوم میں ہے۔

ایک اور ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

”کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں جو انہیں مصیبتوں سے بچا لیں۔ کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے رفاقت دیا جاتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

اس ترجمے میں أَمْ لَہُمْ آلِہةٌ تَمْنَعُہُم مِّن دُونِنَا کے ترجمہ میں مذکورہ بالا کم زوری موجود ہے، اس کے علاوہ لَا یَسْتَطِیعُونَ نَصْرَ أَنفُسِہِمْ وَلَا ہُم مِّنَّا یُصْحَبُونَ کا ترجمہ ”کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے رفاقت دیا جاتا ہے“ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ یہاں متعین طور پر ان کے مزعومہ معبودوں کی بات ہورہی ہے، ضمیر کا مرجع بھی وہی ہیں۔ اس لیے کوئی بھی کہنا درست نہ ہوگا۔ ظاہر ہے اللہ کی طرف سے اس کے نیک بندوں کو معیت عطا کی جائے گی۔  

درج ذیل ترجمے درست ہیں:

”کیا یہ کچھ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں؟ وہ نہ تو خود اپنی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید اُن کو حاصل ہے“۔ (سید مودودی، تائید سے زیادہ معیت لفظ سے قریب تر ہے، تائید اس کا نتیجہ ہے)

”کیا واسطے ان کے معبود ہیں کہ منع کرتے ہیں ان کو درے ہم سے، نہیں کرسکتے مدد جانوں اپنی کو اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے“۔ (شاہ رفیع الدین)

(345) آلِہَةً مِّنَ الْأَرْضِ

أَمِ اتَّخَذُوا آلِہَةً مِّنَ الْأَرْضِ ہُمْ یُنشِرُونَ۔ (الانبیاء: 21)

”کیا انھوں نے زمین کے الگ معبود ٹھہرالیے ہیں، وہ زمین کو شاداب کرتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمہ میں کمزوری یہ ہے کہ ’زمین کے معبودوں‘ کے لیے آلِہَةً مِّنَ الْأَرْضِ نہیں کہا جائے گا، بلکہ آلِہَةً للْأَرْضِ کہا جائے گا۔ اسی طرح أنشر کا معروف اور وسیع معنی زندگی عطا کرنا ہے۔ زمین کو شاداب کرنا أنشر کا محدود مفہوم ہے اور زندگی عطا کرنے میں وہ بھی شامل ہے۔

”کیا مقرر کیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ پیدا کرتے ہیں“۔(شاہ رفیع الدین)

”کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

مذکورہ بالا دونوں ترجموں میں ینشرون کا ترجمہ ’پیدا کرتے ہیں‘ کیا ہے۔ أنشر کا معنی پیدا کرنا نہیں بلکہ بے جان چیز کو زندگی دینا ہے۔

”کیا ان لوگوں نے زمین (کی مخلوقات میں) سے جنہیں معبود بنا رکھا ہے وہ زندہ کردیتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی، عبارت کی رو سے جنھیں کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔)

”کیا ٹھہرائے انھوں نے اور صاحب زمین میں کے وہ اٹھا کھڑا کریں گے“۔ (شاہ عبدالقادر)

”کیا انھوں نے زمین پر بسنے والوں میں سے معبود ٹھہرالیے ہیں، جو زندگی دیتے ہیں“۔ (امانت اللہ اصلاحی)


قرآن / علوم قرآن

(جولائی ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter