اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۶)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(306) فَإِذْ لَمْ یَأْتُوا بِالشُّہَدَاءِ

درج ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

لَّوْلَا جَاءُ وا عَلَیْهِ بِأَرْبَعةِ شُہَدَاءَ فَإِذْ لَمْ یَأْتُوا بِالشُّہَدَاءِ فَأُولَٰئِکَ عِندَ اللَّہِ ہُمُ الْکَاذِبُونَ۔ (النور: 13)

”آخر یہ لوگ اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہ کیوں نہ لائے؟ تو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو لازما اللہ کے نزدیک یہی لوگ جھوٹے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

ان ترجموں سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کے جھوٹے ہونے کی وجہ ان کا چار گواہ پیش نہ کرنا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ تو ہر حال میں اللہ کے نزدیک جھوٹے تھے، خواہ وہ چار گواہ پیش کردیتے۔

اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی فَإِذْ کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں ’تو جب کہ‘، ایسی صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ چار گواہ پیش کرکے دنیا کے سامنے سچے بن سکتے تھے، لیکن جب کہ وہ چار گواہ نہیں پیش کرسکے ہیں تو دنیا کے سامنے سچے ثابت نہیں ہوسکے اور اللہ کے یہاں تو وہ جھوٹے ہیں ہی۔

ترجمہ ہوگا: ”آخر یہ لوگ اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہ کیوں نہ لائے؟ تو جب کہ یہ لوگ گواہ نہیں لائے ہیں، تو اللہ کے نزدیک بھی یہ لوگ جھوٹے ہی ہیں۔“

(307) الْحَقُّ الْمُبِینُ

درج ذیل آیتوں میں الْحَقُّ الْمُبِینُ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

یَوْمَئِذٍ یُوَفِّیہِمُ اللَّہُ دِینَہُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّہَ ہُوَ الْحَقُّ الْمُبِینُ۔ (النور: 25)

”اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھرپور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا“۔ (سید مودودی)

”اس دن اللہ ان کا واجبی بدلہ پورا کردے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق اور واضح کردینے والا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

ان ترجموں میں مبین کا ترجمہ واضح کرنے والا کیا گیا ہے۔ عربی لغت کے مطابق مبین عام طور سے لازم یعنی خود واضح ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ لسان العرب میں ہے:  وَقَالَ الزَّجَّاجُ: بانَ الشیءُ وأَبانَ بِمَعْنًی وَاحِدٍ، خاص طور سے اگر وہ مفعول کی ضمیر کے بغیر آئے۔

قرآن مجید میں المبین بہت سے مقامات پر آیا ہے، اکثر مقامات پر اس کا معنی متعین طور پر واضح اور صریح کے معنی میں ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں بھی یہی معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، اس لحاظ سے درج ذیل ترجمہ بہتر ہے:

”اس دن اللہ انہیں ان کی سچی سزا پوری دے گا اور جان لیں گے کہ اللہ ہی صریح حق ہے“۔(احمد رضا خان)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں الحق المبین کا ترجمہ عام طور سے صریح حق کیا گیا ہے۔

فَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ إِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِینِ۔ (النمل: 79)

”پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقینا تم صریح حق پر ہو“۔ (سید مودودی)

”تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

(308) تَسْتَأْنِسُوا

درج ذیل آیت میں تَسْتَأْنِسُوا کا ترجمہ عام طور سے اجازت لینا کیا گیا ہے۔ لیکن لغت میں اس لفظ کے استعمالات سے اجازت لینے کا مفہوم کہیں نہیں ملتا۔ بعض لوگوں نے رضا لینا اور تعارف پیدا کرنا بھی ترجمہ کیا ہے، لیکن وہ بھی اس لفظ کا صحیح مفہوم نہیں ہے۔

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتَّیٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَیٰ أَہْلِہَا۔ (النور: 27)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو“۔ (سید مودودی)

”اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تعارف نہ پیدا کرلو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہوا کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو“۔(محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ تجویز کیا ہے:

”اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک گھر والوں کو احساس نہ دلا دو (انھیں تمہاری آہٹ نہ مل جائے) اور انھیں سلام نہ کرلو۔“

گویا استیناس کا مطلب ہے اپنی موجودگی کا احساس دلانا۔ اس قول کو طبری نے ذکر کیا ہے:

وقال آخرون: معنی ذلک: حتی تؤنسوا أہل البیت بالتنحنح والتنخم وما أشبہہ، حتی یعلموا أنکم تریدون الدخول علیہم. (تفسیر طبری)۔ یہ مفہوم اس لفظ کے لغوی مفہوم کے مطابق ہے۔

(309) یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ

غض البصر کا مطلب نگاہیں نیچی رکھنا ہے۔ بعض لوگوں نے یہاں ابصار کا ترجمہ آنکھیں کیا ہے، نگاہیں زیادہ مناسب ہے۔ اسی طرح بعض نے غض کا ترجمہ بند کرنا کیا ہے، جب کہ نیچی رکھنا زیادہ مناسب ہے، غَضَّ طرفہ، أی خَفضه وغض من صوته۔ (الصحاح للجوھری)

قُل لِّلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ۔ (النور: 30)

”کہہ واسطے مسلمان مردوں کے کہ بند کریں آنکھیں اپنی“۔ (شاہ رفیع الدین)

”کہہ دے ایمان والوں کو نیچی رکھیں ٹک اپنی آنکھیں“۔(شاہ عبدالقادر)

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”مومنوں کو ہدایت کرو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

(310) یَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ

وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ (النور: 30)

آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ عام طور سے شرم گاہوں کی حفاظت کرنا کیا گیا ہے۔ جیسے:

”اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں“۔ (سید مودودی)

لیکن بعض لوگوں نے شرم گاہوں کو چھپانا ترجمہ کیا ہے، جیسے:

”اور تھامتے رہیں اپنے ستر“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اور اپنی شرم گاہوں کی پردہ پوشی کریں“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہ ترجمہ آیت کے مفہوم کو محدود کردیتا ہے۔ قرآن میں دو مقامات (المومنون: 5 اور المعارج: 29) پر وَالَّذِینَ هُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ آیا ہے، ظاہر ہے کہ وہ محض ستر کا خیال رکھنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ شرم گاہ کی حفاظت کے وسیع تر مفہوم میں ہے۔

(311) وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ

درج ذیل آیت میں وَلَا یُبْدِینَ کا ترجمہ بعض لوگوں نے ’نہ دکھائیں‘ کیا ہے۔ ظاہر نہ کرنا یا ظاہر نہ ہونے دینا زیادہ مناسب ہے۔ ایک تو لفظ ابداء کا یہی تقاضا ہے دوسرے یہ کہ زینت کو چھپانے اور ظاہر کرنے کے سلسلے میں ہدایات دی جارہی ہیں، سیاق کلام کے لحاظ سے دکھانے کا یہاں محل نہیں ہے۔

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا۔ (النور: 31)

”اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے“۔ (سید مودودی، بچاکر رکھنے کے بجائے نیچی رکھنا زیادہ موزوں ہے)

”اور کہہ دے ایمان والیوں کو نیچے رکھیں ٹک اپنی آنکھیں اور تھامتے رہیں اپنے ستر اور نہ دکھاویں اپنا سنگار مگر جو کھلی چیز ہے اس میں سے“۔ (شاہ عبدالقادر، یہاں بھی ستر کا خیال رکھنا مراد نہیں ہے۔)

”اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اوپر ’نہ دکھائیں‘ ترجمہ کیا ہے، انھوں نے اسی آیت میں اسی طرح کے دوبارہ آنے والے جملے کا ترجمہ ’نہ ظاہر کریں‘  کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

وَلَا یُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ

”اور نہ کھولیں اپنا سنگار“۔ (شاہ عبدالقادر)

”وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں“۔ (سید مودودی)

”اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں“۔ (احمد رضا خان)

(312) وَتُوبُوا إِلَی اللَّہِ جَمِیعًا

جمیعا کا لفظ قرآن مجید میں عام طور سے ’سب‘ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، صرف سورۃ الحشر آیت نمبر 14 میں دو مرتبہ ’مجتمع ہو کر‘ کے معنی میں آیا ہے۔ درج ذیل آیت میں دو طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، ’سب مل کر‘ اور ’سب‘۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی طرف مجتمع ہو کر رجوع کرنے کا حکم نہیں دیا جارہا ہے، بلکہ اس کا حکم دیا جارہا ہے کہ تمام مومن اللہ کی طرف رجوع کریں۔ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَتُوبُوا إِلَی اللَّہِ جَمِیعًا أَیُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔ (النور: 31)

”اور توبہ کرو اللہ کے آگے سب مل کر اے ایمان والو شاید تم بھلائی پاؤ“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے“۔ (سید مودودی)

”اور اے ایمان والو! سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج  بالا ترجموں میں ’سب مل کر‘  اور درج ذیل ترجموں میں ’سب‘  یعنی جمع کی تاکیدہے، اور یہی اس آیت میں موزوں ہے:

”اور توبہ کرو طرف اللہ کے سب اے مسلمانو تاکہ تم فلاح پاؤ“۔ (شاہ رفیع الدین)

”اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ“۔ (محمد جوناگڑھی،  تُفْلِحُون کا ترجمہ نجات پانانہیں،فوز و کامرانی پانا ہے، جس میں نجات کا مفہوم بھی شامل ہے)

”اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

(313) وَمَثَلًا مِّنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِن قَبْلِکُمْ

درج ذیل آیت کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ آیَاتٍ مُّبَیِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِّنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِن قَبْلِکُمْ وَمَوْعِظةً لِّلْمُتَّقِینَ۔ (النور: 34)

”ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمہارے پاس بھیج دی ہیں، اور ان قوموں کی عبر ت ناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کر چکے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں، اور وہ نصیحتیں ہم نے کر دی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں“۔  (سید مودودی، قوموں تک محدود کرنا مناسب نہیں ہے، الذین میں افراد اور قومیں سب شامل ہیں۔ عبرت ناک مثالوں تک محدود رکھنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔)

”اور ان لوگوں کی تمثیل بھی سنادی ہے جو تم سے پہلے گزرے“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں تمثیل کی بات نہیں ہے، ان لوگوں کے سبق آموز تذکروں کی بات ہے)

”اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی، کہاوتوں کی بات نہیں ہے)

درج ذیل ترجمہ زیادہ موزوں ہے:

”اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(314) نُّورٌ عَلَیٰ نُورٍ

نُّورٌ عَلَیٰ نُورٍ (النور: 35)

عام طور سے اس کا لفظی ترجمہ کیا گیا ہے، جیسے:

”نور پر نور ہے“۔ (احمد رضا خان)

”روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے)“۔ (فتح محمد جالندھری)

”روشنی کے اوپر روشنی“۔ (امین احسن اصلاحی)

نور علی نور‘ عربی کا محاورہ ہے جس کا مطلب بہت زیادہ روشنی ہے۔ اردو محاورے کی رعایت کرتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

”روشنی در روشنی“۔

(315)  ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ

ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ (النور: 40)

اس جملے کا عام طور سے لفظی ترجمہ کیا گیا، جیسے:

”غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا)“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اندھیرے ہیں ایک پر ایک“۔ (احمد رضا خان)

”تاریکیوں پر تاریکیاں چھائی ہوئی ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

نور علی نور‘ کی طرح ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ بھی تاریکیوں کی شدت بتانے کے لیے ہے، اردو محاورے کی رعایت کرتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ تجویز کرتے ہیں:

”تاریکی در تاریکی“۔

(316) یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ

فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیبَہُمْ فِتْنةٌ أَوْ یُصِیبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ۔ (النور: 63)

”پس وہ لوگ جو اس کے حکم سے گریز کرتے رہے ہیں اس بات سے ڈریں کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو ایک دردناک عذاب آ پکڑے“۔ (امین احسن اصلاحی)

یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ کا ترجمہ ’گریز کرتے رہے ہیں‘ کرنا درست نہیں ہے۔ خلاف ورزی کرنا درست مفہوم ہے، جیسا کہ دیگر لوگوں نے ترجمہ کیا ہے:

”رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے“۔ (سید مودودی)

”پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ کہ جو مخالفت کرتے ہیں حکم اس کے سے“۔ (شاہ رفیع الدین)

”سو ڈرتے ہیں جو لوگ خلاف کرتے ہیں اس کے حکم کا“۔ (شاہ عبدالقادر، فلیحذر تو امر کا صیغہ ہے، اس کا ترجمہ ’ڈرتے ہیں‘ درست نہیں ہے۔)

(317)    سورۃ النور، آیت (43)  کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے ترجمے میں مختلف لوگوں سے الگ الگ تسامح ہوا ہے۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یُزْجِی سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهُ ثُمَّ یَجْعَلُهُ رُکَامًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِیہَا مِن بَرَدٍ۔ (النور: 43)

”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے“۔ (سید مودودی)

اس میں مِنْ خِلَالِہِ کا ترجمہ ’اس کے خول میں سے‘ کیا ہے۔ خلال کا لفظ خول کے لیے نہیں آتا ہے۔ یہ خلل کی جمع ہے، جس کے معنی کسی چیز  یا کچھ چیزوں کے درمیان کی جگہ کے بھی ہوتے ہیں اور کسی چیز میں موجود  رخنوں کے بھی ہوتے ہیں۔ دوسری  قابل توجہ بات یہ ہے کہ من جبال میں من کو سبب کا مانا گیا ہے، اور ’پہاڑوں کی بدولت‘ ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ من جبال دراصل من السماء کا بدل ہے۔جس کا مطلب ہے آسمان سے یعنی اس میں موجود پہاڑوں سے نازل کرتا ہے۔

 ”پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برستا ہے۔ وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

’پہاڑوں میں سے اولے برساتا ہے‘، نہ کہ ’اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے‘۔

”تو تُو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو برف کے پہاڑ ہیں ان میں سے کچھ اولے“۔ (احمد رضا خان)

’برف کے پہاڑ‘ کہنا درست نہیں ہے، پہاڑوں سے مراد بڑے بڑے پہاڑ نما بادل ہیں۔ اسی طرح ’کچھ اولے‘ بھی کم زور ترجمہ ہے، ’اولے‘ کہنا کافی ہے۔ من کو تبعیض کا مان کر بھی ’کچھ‘ کہنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ہے۔

”پس دیکھتا ہے تو مینہ کو نکلتا ہے درمیان اس کے سے اور اتارتا ہے آسمان کی طرف سے پہاڑوں سے کہ بیچ ان کے ہے سردی اولوں کی“۔ (شاہ رفیع الدین)

’کہ بیچ ان کے ہے سردی اولوں کی‘ یہ ترجمہ عجیب سا ہے۔ برد کا ترجمہ اولے ہوگا نہ کہ اولوں کی سردی۔ مزید یہ کہ اگر من برد کو ینزل کا مفعول نہیں بنائیں گے تو مفعول کسے بنائیں گے!

”پھر تو دیکھے مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے“۔ (شاہ عبدالقادر)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اولوں کے پہاڑ نازل کرتا ہے، حالاں کہ نازل تو اولے کرتا ہے۔

”پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ میں سے نکلتی ہے اور اسی بادل سے یعنی اس کے بڑے بڑے حصوں میں سے اولے برساتا ہے“۔ (اشرف علی تھانوی)

السماء کا ترجمہ بادل کیا ہے، جبال کا ترجمہ بڑے بڑے حصے کیا ہے۔ یہ دونوں باتیں محل نظر ہیں۔

درج ذیل ترجمہ مناسب ہے:

”پھر دیکھتے ہو کہ ان کے بیچ سے مینہ نکلتا ہے اور آسمان سے -اس کے اندر کے پہاڑوں سے- اولے برساتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

(مارچ ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter