کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۸)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

ایک اور مغالطہ انگیزی اور علماپر طعنہ زنی 

غامدی صاحب فرماتے ہیں:

’’الائمۃ من قریش مشہور روایت ہے؛ (مسند احمد،رقم 11898 ) اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے ہمارے علما اس غلط فہمی میں مبتلاہو گئے کہ مسلما نوں کے حکم ران صرف قریش میں سے ہوں گے، دراں حالے کہ یہ بات مان لی جائے تو اسلام اور برہمنیت میں کم سے کم سیاسی نظام کی حد تک کوئی فر ق باقی نہیں رہ جاتا؛ اس مغالطے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ ایک بات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا ت کے فوراً بعد کی سیاسی صورت حال کے لحاظ سے کہی گئی تھی؛ اسے دین کا مستقل حکم سمجھ لیا گیا۔‘‘ (میزان، ص64)

یہ محض علما پر طعنہ زنی ہے ؛ علما نے اس سے وہی کچھ سمجھا ہے جس کی وضاحت خود انھوں نے کی ہے ؛ علما نے اسے دین کا مستقل حکم نہیں سمجھا؛ اس کی جووضاحت شیخ محمدابو زہرہ نے علمائے اسلام کے موقف کی اور تمام احادیث وآثار کی روشنی میں کی ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں :

نظر بریں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان اخبار وآثار سے قطعی و حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ امامت قریش میں مقصور و محدود ہے اور اگر کوئی اور خلیفہ ہو گا تواس کی خلافت، خلافت نبوت نہیں ہوگی ؛اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ امت کو مامور فرمارہے ہیں کہ خلافت صرف قریش تک محدود ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا فرمان طلب وجوب کے لیے ہے بلکہ آپ کا مقصد صر ف یہ ظاہر کرناہے کہ قریش کی امامت افضل ہے نہ یہ کہ کسی اور کی اما مت صحیح نہیں ؛ اس کی وجہ بخاری ومسلم کی یہ روایات ہیں : 

۱۔ ابو ذرغفاریؓ روایت کرتے ہیں کہ مجھے میرے دوست (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے وصیت فرمائی کہ اگر تم پر ایک نکٹے حبشی کوبھی امام بنا دیا جائے تواس کی اطاعت کرتے رہنا۔

۲۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پر ایک حبشی کو امام بنا دیا جائے جس کا سر منقیٰ ایساہوتو اس کی بات سننااور اس کے اطاعت شعار رہنا۔

ایک تیسری روایت اسی مفہوم کی صحیح مسلم سے نقل کر کے شیخ ابوزہرہ لکھتے ہیں :

’’اگر مذکورۃ الصدر روایات کو حدیث ’ان ھذا الامر فی قریش‘ کے ساتھ یک جا کرکے دیکھا جا ئے تو یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ نصوص بہ حیثیت مجموعی یہ تاثر پیدا نہیں کر تیں کہ امامت قریش میں محدود ہے اور کسی اور کی خلافت صحیح نہیں؛بہ خلاف ازیں ا حادیث کا بہ بحیثیت مجموعی یہ مفہوم ہو گا کہ غیر قریش کی امامت درست ہے اور آپ نے حدیث ’الامر فی قریش‘ میں اخبار بالغیب کے طور پر ایک ہونے والے واقعے سے آگاہ فرمایا تھا یا آپ کا مقصد یہ ہو گا کہ قریش کی خلافت دوسروں سے افضل ہے ؛ یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے کسی اور کی خلافت درست نہیں۔‘‘

حضرت ابو بکر صدیق کے قول کا محمل اور مطلب بیان کر کے لکھتے ہیں :

’’جب امامت کا ا نحصار وقوت و شوکت پر رکھا گیا ہے تو جہاں یہ اوصاف پائے جائیں گے، وہیں خلافت و امامت پائی جائے گی؛ یہ ہے امامت کے قریش میں ہونے کی اصل وجہ! اور یہ ہے ان آثار صحیحہ اور اس مناط ومدار کی حقیقت و ماہیت جس پر حضرت ابو بکر کے خلیفہ منتخب ہونے کے بارے میں اجماع منعقد ہوا تھا۔‘‘ (المذاہب الاسلامیہ، اردو،ص112۔113)

گرگٹ کی طرح حالات و ضرورت کے مطابق رنگ اور بھیس بدلنا

علماے اسلام کا رویہ اور طرزاستدلال آپ نے دیکھ لیا کہ وہ تمام احادیث کو دیکھتے اور ان سے بہ حیثیت مجموعی جو بات ثابت ہوتی ہے، اس کو اختیار کرتے ہیں؛ اس کو جمع وتطبیق کہا جاتا ہے ؛ اس سے راویات کا ظاہری تعارض کابھی دور ہوجاتا ہے اور مسئلے کے سارے پہلو بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ علمائے اسلام اس طرح کے ظاہری تعارض کو باہم متناقض ثابت کر کے احادیث کو رد نہیں کرتے بلکہ ان کا معقول حل اور محمل تلاش کر لیتے ہیں۔

اس کے برعکس منکرین حدیث اس قسم کے ظاہری تعارض کو دیکھ کر بڑے خوش ہوتے ہیں اور ان کو باہم متناقض قرار دے کر یا تو ساری متعلقہ احادیث کو رد کردیتے ہیں جیسے رجم کی مستند اور متفق علیہ روایات کو رد کر دیا گیا یا پھران سے کوئی غلط مسئلہ نکال لیتے ہیں دراں حالے کہ ان سے وہ مسئلہ نہیں نکلتا ؛ اس کی مثال خود غامدی صاحب کی ’میزان ‘ سے ملاحظہ فرمائیں :

’’چوتھی چیز یہ ہے کہ کسی حدیث کا مدعا متعین کرتے وقت اس باب کی تمام روایات پیش نظر رکھی جائیں؛ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی حدیث کا ایک مفہوم سمجھتاہے لیکن اسی باب کی تمام روایتوں کا مطالعہ کیاجائے تو وہ مفہوم بالکل دوسر ی صورت نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال تصویر سے متعلق روایتیں ہیں ؛ ان میں سے بعض کو دیکھیے تو بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی تصاویر ممنوع قرار دی گئی ہیں لیکن تمام روایتیں جمع کیجیے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ممانعت کاحکم صرف ان تصویروں کے بارے میں ہیجو پرستش کے لیے بنائی گئی ہوں۔حدیث کے ذخیرہ سے اس طرح کی بیسیوں مثالیں ملتی ہیں لہٰذا یہ ضروری ہے کہ کسی حدیث کی مفہوم میں تردد ہو تو احادیث باب کو جمع کیے بغیر اس کے بارے میں کوئی حتمی راے قائم نہ کی جائے۔‘‘ (میزان، ص64۔65)

اس اقتباس کو پڑھ کر یقین ہو جا تا ہے کہ غامدی صاحب کی شخصیت گرگٹ کی طرح ہے جو رنگ بدلتی رہتی ہے اور موصوف حالات وضرورت کے تحت بھیس بدلتے رہتے ہیں؛اس کی وجہ فکر ونظر میں پختگی کی کمی ہی نہیں بلکہ ابن الوقتی اور اسلام کے روئے آب دار کو مسخ کرنا ہے ؛یہ مقصد جس طرح بھی حاصل ہو ،اس کے لیے اس طریقے کے اختیار کرنے میں انھیں کوئی تامل نہیں ہوتا اور جو بھی ہتھکنڈا انھیں اپنانا پڑے ، اس کے لیے وہ تیار رہتے ہیں۔

انھیں اپنے یا ان کے ’امام ‘ کے خود ساختہ نظریہ رجم کے اثبات میں رجم کی صحیح، متواتر اور متفق علیہ روایات حائل نظر آئیں توان کو باہم متناقض باورکراکے یاقرآن کے خلاف قرار دے کر رد کر دیا۔ 

اب اس تازہ اقتباس میں انھوں نے اس کے بالکل برعکس رویہ اختیار کیاہے ؛یہاں وہ تلقین فرمارہے ہیں کہ ایک مسئلے سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھنا چاہیے ؛اس سے ان کا ظاہری تعارض بھی دور ہو جاتا ہے اور مسئلے کے سارے پہلو بھی واضح ہوجاتے ہیں۔یہاں ان کی یہ بات درست ہے اور یہ وہی موقف ہے جو احادیث کی تشریعی حیثیت کے قائلین کا ہے؛اگر یہی موقف احادیث رجم میں بھی اختیار کرلیاجاتاتوان کاظاہری تناقض بھی دور ہو جاتااور رجم کے حد شرعی ہونے کا پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آجاتا لیکن وہاں چوں کہ ان کی ضرورت کچھ اور تھی،وہاں جمع وتطبیق کی یہ صورت جو علماومحدثین بیان کرتے اور اختیار کرتے ہیں اور یہاں خود غامدی صاحب نے بھی اسے اختیار کر کے بیان کیاہے، وہاں اسے اختیار نہیں کیا۔لیکن یہاں اس کو اختیار کر لیاکیوں کہ یہاں ان کی ضرورت کچھ اور ہے اور وہ ہے تصویر سازی کا جوازواثبات۔

لیکن چوں کہ ان کی نیت اور مقصد میں فساد ہے ،اس لیے طریقہ تویقیناًمحدثین والااختیارکیاہے تاہم نتیجہ محدثین کے نتائج سے یک سرسے مختلف اخذ کیاہے؛اس باب کی یہی تمام حد یثیں محدثین اور علماے اسلام کے سامنے بھی ہیں اور آج ہی نہیں، صدیوں سے ہیں لیکن ان کو کسی حدیث سے بھی تصویر کا جواز معلوم نہیں ہوا اور وہ آج بھی احادیث کی وجہ سے تصویر کی حرمت ہی کے قائل ہیں نہ کہ جواز کے۔

اس گروہ سے پوچھا جائے کہ کون سی حدیث کے کون سے الفاظ سے ثابت ہوتاہے کہ ممانعت کا حکم صرف ان تصویروں کے بارے میں ہے جو پرستش کے لیے بنائی گئی ہوں کیوں کہ حدیث میں تو وجہ ممانعت ،اللہ تعالی کی صنعت خالقیت میں مشابہت ہے۔

علاوہ ازیں اگر ممانعت کی یہی علت ( پرستش سے بچانا)تسلیم کر لی جائے ،تب بھی اس کا جواز ثابت نہیں ہوتا ؛ اس لیے کہ یہ علت آج بھی موجود ہے؛ آپ ان قبروں پر جا کر دیکھ لیں جوپرستش گاہیں بنی ہوئی ہیں اور مرجع خلائق ہیں ؛ وہاں ننگ دھڑنگ ملنگوں اور صدیوں پہلے فوت شدہ بزرگوں کی جعلی تصویریں خوب فروخت ہوتی ہیں؛ لوگ ان کو لے جا کر فریم کرواکے گھروں اور دکانوں میں تبرک کے طور پر لٹکاتے ہیں ؛ کیایہ پرستش کی صورت نہیں ہے؟گو یا غامدی صاحب کامذکورہ اقتباس ان کے تضادکا بھی مظہر ہے اور بلادلیل دعوے کا بھی۔

جھوٹ اور بلادلیل دعوے 

اور بھی انھوں نے بلادلیل دعوے کیے ہیں جن کی کچھ تفصیل گذشتہ صفحات میں بھی گزری ؛ مثلاً:

رجم کی تعزیری سزا کامبنیٰ، آیت محاربہ ہے اور یہ بات وحیِ خفی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی گئی۔ اول تو موصوف وحی خفی سے کسی حکم کے اثبات کے قائل ہی نہیں ہیں اور پھر یہ سراسر جھوٹ اور دلیل دعویٰ ہے ؛ اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو کوئی حدیث پیش کریں۔

ان کایہ دعویٰ بھی بلادلیل بھی ہے اور جھوٹ بھی کہ ائمہ سلف اور ان کے موقف میں سر مو فرق نہیں ہے۔

ان کا دعویٰ ’’صرف کتاب وسنت تنقید سے بالا ہے‘‘سراسر جھوٹ ،فریب اور بلادلیل ہے؛سنت نبوی کوتو وہ مانتے ہی نہیں ہے ؛ہاں، سنت جاہلیہ کو وہ مانتے ہیں؛اگر یہ سنت جاہلیہ جو ان کے نزدیک کے قرآن سے بھی مقدم ہے، ان کے نزدیک تنقید سے بالا ہے تو یہ غامدی گروہ ہی کو مبارک ہو ؛ اہل اسلام تو اس بات کو ماننے سے رہے۔

’’امام فراہی کی تحقیق قرآنی نصوص پر مبنی ہے‘‘ سراسر جھوٹ،فریب اور بلادلیل دعویٰ ہے؛یہ تو قرآن میں تحریف معنوی ہے؛ اسے قرآنی نصوص کس طرح باور کیا جاسکتا ہے ؟

حضرت ماعز بن مالک اور غامدی قبیلے کی صحابیہ،ان کی بابت دعویٰ کہ’’ وہ غنڈے، بد معاش اور او باش وآوارہ منش تھے؛ وہ عورت پیشہ وبد کار (قحبہ)تھی‘‘بلادلیل اور جھوٹ ہے۔

ان کا یہ دعوی جھوٹ اور بلادلیل ہے کہ ’’قرآن نے اپنے متعلق یہ بات پوری صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے کہ وہ قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔‘‘ (میزان، ص31)

قرآن میں یہ صراحت کہاں ہے ؟

کلام عرب یعنی زمانہ جاہلیت کے عرب شعرا کا کلام ،جو فراہی گروہ کے نزدیک قرآن فہمی میں احادیث سے بھی زیادہ مستند اور مفید ہے،اس کی بابت دعویٰ ہے کہ 

’’لغت وادب کے ائمہ اس بات پر ہمیشہ متفق رہے ہیں کہ قرآن کے بعد یہی کلام ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے اور جو صحت نقل اور روایت باللفظ کی بنا پر زبان کی تحقیق میں سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ (میزان، ص19)

کتنا بڑا دعویٰ ہے لیکن بلا دلیل اور پھر اس کی صحت نقل کا دعویٰ اس سے بھی عجیب تر ہے ؛نقد حدیث کے تو اصول وضوابط منضبط ہیں، اس کے باوجود وہ غیر محفوظ اور کلام عرب جس کی نہ کوئی سند ہے اور نہ پرکھنے کے اصول وضوابط، پھر بھی ان کی صحت نقل کا دعویٰ! ان ھذا الاشیء عجاب.

اور ستم ظریفی کی انتہا،یہ کلام عرب اس کے باوجود کہ اس میں کچھ منحول کلام بھی شامل ہے (یعنی جعلی) (میزان، ص19) پھر بھی سب سے زیادہ با اعتماد ہے۔ 

پھر یہ دعویٰ دیکھیے :

’’جس طرح نقد حدیث کے علمااس کی صحیح و سقیم روایتوں میں امتیاز کر سکتے ہیں ؛اسی طرح اس کلام کے نقاد بھی روایت و حدیث کے نہایت واضح معیارات کی بنا پر اس کے خالص اور منحول کو ایک دوسرے سے الگ کر سکتے ہیں۔‘‘ (میزان، ص19)

نقد حدیث کے ذریعے سے صحیح سقیم روایتوں میں امتیاز کیا جاسکتا ہے؛ علماے اسلام تو اس با ت کو ما نتے ہیں لیکن آپ تو اس با ت کو ما ننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں ؛پھر اس کا حوالہ کیوں؟ 

پھر کلام عرب میں اصل اور جعلی کے پہچاننے کے نہایت واضح معیارات کیا ہیں؟ اور کہاں ہیں ؟ کیا اس کی نشان دہی کی جا سکتی ہے ؟

حدیث باسند کلام نبوی ہے ؛ علاوہ ازیں اس کے پر کھنے کے اصول وضوابط بھی موجو د ہیں ؛ پھر بھی وہ غیر مستند اور کلام عرب ، جس میں منحول (یعنی الحاقی اور جعلی )بھی ہے اور نقد و تحقیق کے کوئی اصو ل و ضوابط بھی نہیں؛ وہ سب سے زیادہ مستند اور قابل اعتماد ؟ تلک اذاً قسمۃ ضیزیٰ۔ 

بے انصافی اور تحقیق کا ایک اور نمونہ 

ان مغالطات،تضادات ، بلا دلیل دعووں کے ساتھ اب ان کی بے انصافی کا ایک اور نمونہ اور تحقیق کا ایک اورانداز بھی دیکھ لیں۔

محدثین نے حدیث کی سند کی تحقیق کے لیے جو اصول و ضوابط مقرر اور وضع کیے ہیں، ان کی تعریف کرتے ہوئے غامدی صاحب فرماتے ہیں :

’’سند کی تحقیق کے لیے یہ معیا ر محدثین نے قائم کیا ہے اور ایسا قطعی ہے کہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی۔‘‘ (میزان، ص61)

لیکن اس کے باوجود احادیث غیر معتبر اور غیر محفوظ لیکن کلام عرب جس کی بابت وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس میں جعلی اور الحاقی (منحول) کلام بھی ہے یعنی عرب شعرا کے اصلی کلام میں جعلی کلام بھی شامل کر دیا گیا ہے اور اس کے اصلی اور جعلی کلام کو متمیز کرنے کا کوئی اصول وضابطہ بھی نہیں ہے ، نیز وہ باسند بھی نہیں ہے؛ پھر بھی وہ سب سے زیادہ مستند اور قابل ا عتماد ہے۔ 

اپنی اس بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے حضر ت عمر ? کا ایک بے سند قول نقل کیا ہے؛ حضر ت عمر نے فرمایا :

علیکم بدیو انکم لا تضلوا؛ قا لوا ما دیو اننا؟ قا ل: شعر الجاھلیۃ، فان فیہ تفسیر کتابکم و معانی کلامکم۔ 
’’تم لوگ اپنے دیوان کی حفاظت کرتے رہو، گم راہی سے بچے رہو گے؛لوگوں نے پوچھا : ہمارا دیوان کیا ہے؟فرمایا : اہل جاہلیت کے اشعار ، اس لیے کہ ان میں تمھاری کتا ب کی تفسیر بھی ہے اور کلام کے معانی بھی۔‘‘

غامدی صاحب نے اس قول کا انتسا ب حضر ت عمر کی طرف کیا ہے؛ جب ہم نے اصل کتا ب تفسیر بیضاوی میں یہ قول دیکھا تو اس میں ’ رْوِیَ‘ کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے (انوار التنزیل، بیضاوی 1/459)، اور جو بات ’رْوِیَ‘ یا ’قِیلَ‘ سے بیان کی جاتی ہے، وہ بے سرو پا سمجھی جاتی ہے کیو ں کہ اس کا راوی ہی مجہول یعنی نا معلوم ہو تا ہے ؛ خود غامدی صا حب کا موقف بھی ان الفاظ کے بارے میں یہی ہے جو ہم پہلے نقل کر آئے ہیں۔(برہان، ص 284)

جب وہ خود ’رْوِیَ‘ یا ’قیل‘ سے مروی با ت کو مردوداور نا قابل اعتبار سمجھتے ہیں تو یہاں ایسے قول کو نقل کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ غامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ، کوئی اصول اور ضابطہ نہیں؛ان کے نظریے اور زعم باطل کے خلاف بخاری ومسلم کی روایت بھی ہو تو وہ بھی ان کو (نعوذباللہ ) بے ہودہ روایت یا منافق کی گھڑی ہوئی نظر آتی ہے اور جس قول سے ان کی مطلب بر آری ہوتی ہو تو وہ چاہے کیسا بھی گرا پڑا اور نا قابل ا عتبار ہو، وہ ان کے نزدیک وحیِ الٰہی کی طرح معتبر ہے۔

ذرا غور کیجیے ! یہ قو ل، قول عمرہو سکتا ہے؟ جس میں قرآن کے بجاے اشعار جا ہلیت کو گم راہی سے بچاؤ کا ذریعہ بتلایا گیا ہے اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجاے ان اشعار جاہلیہ کو قرآن کریم کی تفسیر اور اس کے معانی کے دریچے کھولنے والے باور کرایا گیا ہے؟ کیا واقعی حضرت عمر کے نزدیک قرآن و حدیث کے مقابلے میں اشعار جا ہلیت کی اتنی اہمیت ہو سکتی ہے؟ یقیناًنہیں ہو سکتی؛ہر گز نہیں ہو سکتی۔ یہ فراہی گروہ جیسے باطل نظریات کا ڈسا ہوا کوئی شیطان صفت شخص ہی ہے جس نے یہ بات گھڑ کر حضرت عمر کی طرف منسوب کر دی ہے۔

اس کے مقابلے میں حد رجم کے قرآنی حکم ہونے کے بارے میں ان کا خطبہ صحیح بخاری میں صحیح ترین سندوں کے ساتھ بیان ہواہے ؛ اس کی بابت غامدی صاحب نے کہا ہے کہ یہ روایت کسی منافق نے وضع کی (گھڑی)ہے۔ (برہان، ص61) اور اپنے استاذامام کی رائے نقل کی ہے کہ یہ بے ہودہ روایت ہے۔ (برہان، ص62) حضرت عمر کا یہ خطبہ ان شاء اللہ آگے ان کے استاذامام کے نظریہ رجم کی بحث میں ہم بیان کریں گے؛ یہ خطبہ صحیح بخاری کی کتاب الحدود، حدیث نمبر 283 میں اور موطا امام مالک میں ہے۔

یہ دونوں کتابیں احادیث کے صحیح ترین مجموعے ہیں ؛ موطاامام مالک کی صحت کے تو فراہی گروہ کے امام اول مولانا حمیدالدین فراہی بھی احادیث میں اپنے ذہنی تحفظات یا تضادات کے باوجودقائل تھے ؛چنانچہ ان کا ایک مکالمہ جو حدیث کی حجیت وعدم حجیت کے موضوع پر مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے درمیان ہوا، قابل ملاحظہ ہے؛ مولانا عبیداللہ سندھی لکھتے ہیں:

’’مولانا حمیدالدین مرحوم میرے بہت پرانے دوست تھے؛ قرآن شریف کے تناسق آیات میں ہمارا مذاق متحد تھا، اگرچہ طریقے اور پروگرام میں کسی قدر اختلاف رہا؛وہ بائبل مجھ سے بہ درجہا اعلیٰ جانتے تھے اور میں حدیث ان سے زیادہ جانتا تھا۔جب تک میں ہندوستان میں ان سے ملتا رہا، حدیث شریف کے ما ننے کا جھگڑا کبھی ختم نہیں ہوا ؛ اتفاقاً جس سال میں مکہ معظمہ پہنچا ہوں، اسی سال وہ بھی حج کے لیے آئے؛ ہماری باہمی مفصل ملاقاتیں رہیں؛ افکار میں بے حد توافق پیدا ہو گیا مگر وہاں بھی حدیث کے ماننے نہ ماننے پر بحث شروع ہو گئی۔ ہم نے سختی سے ان پر انکار کیا اور کہا کہ حدیث کو ضروری ماننا پڑے گا ؛ تنگ آکر فرمانے لگے : آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا : موطا مالک !فرمایا : ہم اس کو مانتے ہیں ؛ میں نے کہا : بس آج سے ہمارا نزاع ختم ہے،ہم آپ کو صحیح ماننے کے لیے مجبور نہیں کرتے۔ ‘‘ (ماہ نامہ الفرقان(بریلی )شاہ ولی اللہ نمبر ،ص287،مطبوعہ1359ھ)

غامدی صاحب کے گم راہ نظریات کے جو متضاد دلائل،بے بنیاد دعوے اور تعلیات تھیں،الحمد للہ، اللہ کے فضل اور اس کی توفیق سے ہم نے ان کی اصل حقیقت واضح کر دی ہے جو اس شعر کی مصداق ہیں : ع

بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا 
اگر اس طرۂ پر پیچ وخم کا پیچ وخم نکلے 

جو بھی فریب خوردہ شخص اس مضمون کو طلب حق کی نیت صادق سے اور غیر جانب دارانہ انداز سے پڑھے گا،ان شاء اللہ اس پر ان افکار باطلہ کے پیچ و خم کی تہ در تہ تہیں کھلتی چلی جائیں گی اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حجیت واہمیت شرعی پر جو دبیز پردیڈالنے کی مذموم سعی اس گروہ کی طرف سے کی گئی ہے اور مسلسل کی جا رہی ہے، وہ بے نقاب ہو جائے گی؛ گم راہی کی وضاحت اور حق و صواب کی نشان دہی کی کوشش سے ہمارا مقصد اتمام حجت ائمہ سلف کے موقف کو نمایاں کرنے اور گم گشتگان راہ ہدایت کو روشنی مہیا کرنے کے سوا کوئی اور نہیں، واللہ علیٰ ما نقول شھید، تا کہ اس کے بعد!!

لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحیی من حی عن بینۃ (الانفال 42:8)
’’جو ہلاکت کو پسند کرے تو دلیل واضح کے بعد ایسا کرے اور جو زندہ رہے، وہ دلیل واضح پر زندہ رہے۔‘‘

مسئلہ شہادتِ نسواں میں اِدعاآت اور مسلمات کا انکار

اس مضمون کی تکمیل کے بعد ہمیں خیا ل آیا کہ آج سے 23سا ل قبل 1989ء میں وفاقی شرعی عدالت میں مسئلہ شہادت نسواں پر بحث چلی تھی جس میں راقم نے بھی ایک مفصل مقالہ پیش کر کے حصہ لیا تھا۔ اس وقت عدالت کے چیف جسٹس گل محمد پرویزی ذہن کے حامل تھے؛ اس لیے انھوں نے غامدی صاحب کو بھی بلا کر ان کا موقف سنا تھا؛ راقم کو چیف جسٹس نے پابند کیا تھا کہ وہ ان کی بحث کو مکمل سنے، چناں چہ راقم نے اپنا بیان پیش کرنے کے بعد غامدی صاحب کے پیش کردہ دلائل بھی اپنے کانوں سے سنے۔ راقم کا خیال تھا کہ شاید چیف صاحب بعد میں راقم کو غامدی دلائل کا تجزیہ و محاکمہ پیش کرنے کا موقع دیں گے لیکن جب یہ مرحلہ آیا اور راقم نے اس امر کی کوشش کی تو چیف صاحب نے فرمایا: آپ دونوں اخبار (اشراق،الاعتصام) کے اڈیٹر ہیں،وہاں ا س مباحثے کو جاری رکھیں ؛ عدالتی فورم اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔

بہ ہر حال مسئلہ شہادت نسواں میں بھی اپنے عدالتی بیان میں غامدی صاحب نے مسلمات اسلامیہ کا انکار کرنے میں جس طرح کا ادعائی انداز اور تنہا روی کا مظاہرہ کیا، وہ دیدنی ہے ؛ راقم نے ان کے دلائل کا یہ تجزیہ تحریری طور پر ۔ اصل مقالہ کے علاوہ ۔ عدالت میں پیش کردیا تھا اور ماہ نا مہ محدث ،لاہور میں بھی شائع ہوا تھا ؛ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے احباب وہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

آراء و افکار

(ستمبر ۲۰۱۵ء)

Flag Counter