دعوتِ دین اور ہمارے معاشرتی رویے

محمد اظہار الحق

مولانا طارق جمیل کو احسن الخالقین نے حسن بیان کی قابل رشک نعمت سے نوازا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس وقت مقبول ترین واعظ ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔ ان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کے دیگر اکابر کی طرح آہنی پردے کے پیچھے نہیں رہے بلکہ مخصوص دائرے سے باہر نکلے ہیں۔ ان کے ارشادات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچتے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے لا تعداد مداح ان کی تقاریر التزام اور اہتمام سے لاکھوں لوگوں کو سنوا رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کی قابل تحسین پالیسی پر عمل پیرا ہوتے مولانا طارق جمیل فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان مناظرانہ، مجادلانہ اور معاندانہ ماحول جس طرح ہر وقت گرم رہتا ہے اور آتشیں حدوں تک جا پہنچتا ہے اس کے پیش نظر مثبت لہجے میں کام کرنے والی جماعتیں اور علماء قابل قدر ہیں۔ 

مولانا نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن پر تفصیلی انٹرویو دیا ہے جس کی خبر نما تلخیص پرنٹ میڈیا پر بھی عوام تک پہنچی ہے۔ حضرت مولانا کی عوام تک رسائی کی خوشگوار پالیسی سے حوصلہ پا کر ہم بھی کچھ طالب علمانہ اشکال پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ اشکال ہیں جو بے شمار ذہنوں میں موجود ہیں اور رہنمائی کے طلب گار ہیں۔ ہمارا مقصد حاشا و کلاّ اعتراض برائے اعتراض نہیں، ایسے رویے سے ہم خدا کی پناہ مانگے ہیں۔ ہمارا مقصد پوری دلسوزی اور عجز کے ساتھ محض رہنمائی کی طلب ہے اور عاجزانہ طلب ہے۔ 

مولانا نے بجا ارشاد فرمایا کہ عبادات اور معاملات کو الگ کرنے سے معاشرے میں شر پھیل رہا ہے۔ دین کو مسجد اور عبادت تک محدود کر دیا گیا ہے، حج، نماز، عمرہ، اور زکوٰۃ کو دین سمجھ لیا گیا ہے اور دنیاوی معاملات، اخلاق اور معاشرت کو دین سے خارج کر دیا گیا ہے۔ یہ تشخیص سو فی صد درست ہے۔ نبض دیکھتے ہوئے مولانا نے اپنا دست سلیم بالکل صحیح رگ پر رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نقصان دہ تفریق کس کے رویے کا نتیجہ ہے اور صورت حال کی اصلاح کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ دین کا طالب علم جب دیکھتا ہے کہ تعداد اور تنظیم کے اعتبار سے عالم اسلام کی سب سے بڑی اور مؤثر ترین حزب، تبلیغی جماعت اپنے لاکھوں نہیں کروڑوں وابستگان کو رات دن فضائل نماز، فضائل حج، فضائل قرآن، فضائل رمضان اور فضائل ذکر کا درس دیتی ہے اور اس ’’تعلیم‘‘ میں معاملات، حقوق العباد بشمول حقوق والدین اور حقوق اقربا، معاشرتی فرائض اور سماج کے دیگر پہلو جو دینی حوالے سے حد درجہ اہم ہیں، شامل نہیں تو حیران ہوتا ہے اور پریشان بھی۔ یہ کہنا کہ جب فضائل قرآن پڑھا دیے تو اس میں سب کچھ شامل ہوگیا، اس لیے اپیل نہیں کرتا کہ قرآن پاک میں تو رمضان، نماز، ذکر، تبلیغ، تمام امور کے فضائل شامل ہیں، پھر ان کے لیے الگ الگ نصاب کیوں؟ 

مولانا نے جو فرمایا ہے کہ دین کو عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے، ہمارے مسائل کی جڑ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے علماء، صلحاء، واعظین اور مبلغین کی روش بدستور وہی ہے جو تھی۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیکھیے کہ ایک ہفتہ پہلے ٹیلی ویژن کے ایک مشہور مذہبی پروگرام میں کسی نے دعاؤں کی قبولیت کے ضمن میں رہنمائی چاہی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عدم احتیاط کے اس پر آشوب عہد میں ہماری دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی بڑی وجہ اکل حلال سے محرومی ہے۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جواب دینے والے صاحب کو، جو مولانا طارق جمیل کے شاگرد اور معروف شخصیت ہیں، اکل حلال کی اہمیت واضح کرنی چاہیے تھی، مگر انہوں نے محض اتنا بتایا کہ فلاں وظیفہ اتنی بار پڑھ لیا کریں۔ مقصود اس مثال سے یہ ہے کہ امر بالمعروف پر زور ہے اور نہی عن المنکر سے اجتناب۔ پھر ’’معروف‘‘ میں بھی وہ پہلو شامل کیے جاتے ہیں جو صرف حقوق اللہ سے متعلق ہیں۔ 

ایک اشکال یہ بھی ہے کہ ہمارے کاروباری حضرات کی کثیر تعداد مذہبی تنظیموں میں بالعموم اور تبلیغی جماعت میں بالخصوص شامل ہے۔ مولانا فرماتے ہیں، مدارس اور تبلیغ دین کا جو نظام پاکستان میں ہے پوری دنیا میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بجا ارشاد فرمایا، افسوسناک Paradox یہ ہے کہ دینی مزاج رکھنے والے لاکھوں متشرع تاجروں اور دکانداروں کی موجودگی کے باوجود ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، وعدہ خلافی اور ٹیکس چوری اس طبقے میں از حد نمایاں ہے۔ خوراک تو خوراک ہے، ادویات اور معصوم بچوں کا دودھ بھی ملاوٹ سے پاک نہیں ہے۔ 

اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ملک کا جو حصہ اغوا برائے تاوان اور کار چوری کا مرکز سمجھا جاتا ہے، تبلیغی جماعت کے وابستگان کی تعداد بھی وہیں زیادہ ہے۔ اور سالانہ اجتماع میں آنے والی بسوں کے زیادہ قافلے ادھر ہی سے آتے ہیں۔ اگر ایک خصوصی کتابچہ ان سماجی برائیوں بالخصوص ناجائز تجاوزات کے بارے میں نصاب میں رکھا جاتا تو معاشرے میں خاموش انقلاب آسکتا تھا۔ ناجائز تجاوزات نے پورے ملک کو بدصورت اور تکلیف دہ بنا رکھا ہے۔ عبادات کے پابند تاجر اور دکاندار اس حقیقت سے یکسر غافل ہیں کہ وہ اس فٹ پاتھ یا اس جگہ کو استعمال کر کے جو ان کی ملکیت نہیں، وہ اپنی آمدنی کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ مگر اکثریت الا ما شاء اللہ اس زعم میں ہے کہ وہ عبادات جو حقوق اللہ سے متعلق ہیں، کافی ہیں۔ 

ایک سوال طالب علموں کے ذہن میں یہ بھی اٹھتا ہے کہ دین کا اصل امتحان دفتر، بازار، کارخانے، کھیت اور اہل و عیال کے درمیان ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ روایت ہے کہ ایک صحابی کو ماں کی خدمت کے لیے جہاد میں نہیں لے جایا گیا تھا۔ مگر زندگی کے اصل کارزار سے کاٹ کر چالیس دن یا چار ماہ کے لیے جو دینی ماحول میسر کیا جاتا ہے اس میں عملی زندگی کا کوئی پہلو نہیں ہوتا۔ اور پھر شعوری یا غیر شعوری طور پر عملی زندگی یا تو دفتر، بازار، کارخانے، کھیت اور اہل و عیال سے کٹ کر رہ جاتی ہے یا اس ضمن میں دینی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے یا نہیں کیے جا سکتے۔ مولانا کا یہ فرمان قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں جس کی وجہ سے ان کی تربیت نہیں ہو پاتی۔ تاہم دینی تربیت کے لیے جو بھرپور نظام الاوقات ہمیں دیا جاتا ہے اس میں بھی بچوں کے لیے اور گھر بار کے لیے وقت نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اگر ہفتے میں ایک بار شب جمعہ کے لیے، مہینے میں تین دن سہ روزے کے لیے، سال میں چالیس دن تربیت کے لیے اور جب بھی کچھ تعطیلات ہوں ان میں دس دن کے لیے تشکیل پر جانا ہو تو بچوں پر توجہ دینا ناممکن نہہیں تو از حد مشکل ضرور ہے۔ عملی نتیجہ یہ ہے کہ اس کار خیر میں جو لوگ رات دن مصروف ہیں اور ’’جوڑ‘‘ کے لیے الگ جاتے ہیں، ان کے اہل و عیال ان کی توجہ سے بالعموم محروم ہی رہتے ہیں۔ 

آخری گزارش، بہ احترام فراواں، یہ ہے کہ قوم کا سنجیدہ طبقہ اس سلوک سے جو الیکٹرانک میڈیا رمضان المبارک کے ساتھ کچھ عرصہ سے روا رکھے ہوئے ہے، از حد پراگندہ خاطر ہے۔ اشتہارات، نیلامی، انعامات اور اس قبیل کی دیگر سرگرمیوں کو رمضان کی مقدس شاموں اور راتوں کے ساتھ خلط ملط کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ’’اسلامی شوبزنس‘‘ باقاعدہ ایک الگ اکائی بنا دی گئی ہے۔ جو کچھ پردہ سیمیں پر اس سلسلے میں دکھایا اور کیا جاتا ہے، ناظرین کی اکثریت دیکھ تو لیتی ہے مگر دل کے نہاں خانے میں اسے ناپسند کرتی ہے۔ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر، کہ وہی ان کی رسائی میں ہے، اس سے کھلی بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا انتہائی منطقی اور خوبصورت بات کی ہے کہ ان پروگراموں کا تعلق کمائی سے ہے نہ کہ خدمت دین سے۔ ہم دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ کم از کم جنید جمشید صاحب کو اس ’’گرم بازاری‘‘ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے مگر عوام کو معلوم ہے کہ جنید جمشید صاحب حضرت مولانا کے فیض رسیدگان میں سر فہرست ہیں۔ ایک اوسط ناظر اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ایسی سرگرمی، جو کمائی کے لیے ہے، دین کے لیے نہیں، تبلیغی جماعت اور حضرت مولانا کی نظر میں قابل قبول ہے اور یوں جائز ہے۔ یوں اس کا رخ فرد سے جماعت کی طرف مڑ جاتا ہے۔ 

ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک ہے نہ خوف لومۃ لائم کہ مولانا کی اوپن ڈور پالیسی دین کی بہت بڑی خدمت ہے۔ اپنے خوبصورت بیان کے بعد اگر وہ سوالات کی اجازت مرحمت فرمایا کریں تو ایسے بے شمار اشکال دور ہو سکتے ہیں۔ دین کی تفہیم کے لیے وعظ ضروری ہے مگر مکالمہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ زبور عجم سے اقبال کے دو اشعار ان کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرنے کرنے کی جسارت کرتے ہیں:

ہمہ افکارِ من از تست چہ در دل چہ بلب
گہر از بحر بر آری نہ بر آری از تست
من ہماں مشتِ غبارم کہ بجائی نہ رسد
لالہ از تست و نمِ ابر بہاری از تست

مولانا کا پنجابی کا ذوق بہت عمدہ ہے، انہوں نے یہ ماہیا سن رکھا ہوگا:

مینہ وس گیا ٹیناں تے
اللہ تینوں حسن دتا
ورتا مسکیناں تے

ظاہر ہے یہاں حسن سے مراد حسن بیان ہے کہ بقول احمد ندیم قاسمی:

فقط اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
کہ ترا حسن، ترے حسن بیاں تک دیکھوں 

(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)

دین اور معاشرہ