اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۷۵) سعر کا مطلب

قرآن مجید میں جہنم کے عذاب کے لیے لفظ سعیر متعدد مقامات پر آیا ہے، البتہ سورہ قمر میں دو جگہ لفظ سعر آیا ہے، اور دونوں ہی جگہ یہ لفظ ضلال کے ساتھ آیا ہے۔ مترجمین ومفسرین میں اس پر اختلاف ہوگیا کہ ان دونوں مقامات پر سعر کا کیا مطلب لیا جائے، کیونکہ لغت کے لحاظ سے سعر سعیر کی جمع بھی ہوسکتا ہے، اور واحد کے صیغے میں بطور مصدر جنون کا ہم معنی بھی ہوتا ہے ہم ذیل کی سطور میں دونوں آیتوں کے مختلف ترجمے پیش کریں گے۔ 

(۱) کَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ۔ فَقَالُوا أَبَشَراً مِّنَّا وَاحِداً نَّتَّبِعُہُ إِنَّا إِذاً لَّفِیْ ضَلَالٍ وَسُعُرٍ۔ (القمر: ۲۳،۲۴)

’’ثمود نے بھی انذار کی تکذیب کی، سو انھوں نے کہا کیا ہم اپنے ہی اندر کے ایک بشر کی پیروی کریں گے؟ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم کھلی گمراہی اور جہنم میں پڑے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

یہ تو پوری آیت کا ترجمہ ہے، صرف (إِنَّا إِذاً لَّفِیْ ضَلَالٍ وَسُعُرٍ) کے مزید کچھ ترجمے بھی ملاحظہ ہوں:

’’تحقیق ہم اس وقت البتہ بیچ گمراہی کے ہیں اور جنون کے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)

تو تو ہم غلطی میں پڑے اور سودا میں ‘‘(شاہ عبدالقادر)

’’تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور (بلکہ) جنون میں پڑجاویں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

(۲) إِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلَالٍ وَسُعُرٍ۔ (القمر: ۴۷،۴۸)

’’بے شک مجرمین گمراہی میں ہیں اور دوزخ میں پڑیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

’’تحقیق گناہ گار بیچ گمراہی کے اور جلنے کے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)

’’جو لوگ گناہ گار ہیں غلطی میں ہیں اور سودا میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’یہ مجرمین بڑی غلطی اور بے عقلی میں ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

توجہ طلب بات یہ ہے کہ شاہ رفیع الدین نے پہلے مقام پر جنون اور دوسرے مقام پر جلنا ترجمہ کیا ہے، اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تفسیر جلالین میں بھی پہلے مقام پر سُعُرٍ کا مطلب الجنون اور دوسرے مقام پرالنار بتایا گیا ہے۔ تاہم خود تفسیر جلالین میں یہ فرق کیوں کیا گیا اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، اسلوب کی مکمل یکسانیت کا تقاضا ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی مفہوم مراد ہو، اور اتنا بڑا فرق نہ ہو۔

سیاق کو دیکھیں تو ضَلَال کے ساتھ سُعُرٍ کے تذکرے سے معلوم ہوتا ہے کہ سُعُرٍ سے مراد دنیا میں پیش آنے والی کوئی حالت ہے، اورمعنوی لحاظ سے بھی ضَلَال کی مناسبت سے جنون کا مفہوم لینا ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، سورہ قمر کے مذکورہ دونوں مقاموں میں سے پہلے مقام پر سُعُرٍ سے مراد جہنم اس لیے نہیں لے سکتے کیونکہ رسول کی تکذیب کرنے والی قوم ثمود کا آخرت اور جنت وجہنم پر ایمان ہی ثابت نہیں ہے، پھر وہ کیسے کہیں گے کہ ایسا کرکے ہم جہنم میں جائیں گے؟ اسی طرح دوسری آیت میں جہنم کا تذکرہ جس طرح اس کے بعد والی آیت میں آرہا ہے اس سے بھی قرین قیاس یہی لگتا ہے کہ اس سُعُرٍ سے مراد دنیا کی کوئی حالت ہے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جہنم کے لیے جتنے بھی نام قرآن مجید میں آئے ہیں، وہ سب واحد کے صیغے سے آئے ہیں، کوئی جمع کے صیغے میں کہیں نہیں آیا، جبکہ جنت کا ذکر زیادہ تر جمع کے صیغے کے ساتھ آیا ہے۔ خود لفظ سعیر جہاں بھی آیا ہے، واحد کے صیغے میں آیا ہے، اس لیے ان دونوں جگہوں پر سُعُرٍ کو سعیر کی جمع ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے، جبکہ دوسرے قرائن بھی اس لفظ کو جنون کے معنی میں لینے کے حق میں ہوں۔

(۷۶) باء برائے سبب اور باء بطور صلہ میں اشتباہ

لفظ (بما) کبھی سبب کو بیان کرتا ہے تو کبھی محض صلہ کے طور پر آتا ہے، قرآن مجید میں دونوں اسلوب کثرت سے آئے ہیں، جیسے صلہ کی مثال ہے:

والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ۔ (البقرۃ: ۴)

اور سبب کی مثال ہے:

وَلَہُم عَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ۔ (البقرۃ: ۱۰)

پہلی آیت میں (ب) یؤمنون کا صلہ ہے اور( ما) موصولہ ہے، جبکہ دوسری آیت میں (ب) عذاب کا سبب بیان کرنے کے لیے ہے اور( ما) مصدریہ ہے۔

لیکن بعض مقامات پر مترجمین کو اشتباہ ہوجاتا ہے اور (بما) سے ان کا ذہن سبب کی طرف چلاجاتا ہے حالانکہ وہاں صلہ کا محل ہوتا ہے۔ ذیل کی دونوں آیتوں کے ترجموں میں یہی ہوا، ذیل کی دونوں آیتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ مترجمین نے دونوں طرح سے ترجمہ کیا ہے، حالانکہ ترجمہ(ب) کوصلہ مان کر ہونا چاہئے تھا۔:

(۱) فَمَا کَانُواْ لِیُؤْمِنُواْ بِمَا کَذَّبُواْ مِن قَبْلُ۔ (الاعراف:۱۰۱)

’’پس نہ بودند کہ ایمان آرند بآنچہ بہ دروغ شمردند پیش ازیں‘‘۔(شیرازی)

’’پھر ہرگز نہ ہوا کہ یقین لاویں اس بات پر جو پہلے جھٹلاچکے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

but they could not believe because they had before denied. (Pickthal)

(۲) فَمَا کَانُواْ لِیُؤْمِنُواْ بِمَا کَذَّبُواْ بِہِ مِن قَبْلُ۔ (یونس: ۷۴)

’’پس نبود قوم کہ ایمان آرند بہ سبب آنچہ بدروغ داشتند اورا پیش ازیں‘‘۔ (شیرازی)

’’سو ہرگز نہ ہوئے کہ یقین لاویں جو بات جھٹلاچکے پہلے سے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’لیکن وہ اس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو پہلے جھٹلاچکے تھے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

But they were not ready to believe in that which they before denied. (Pickthal)

غور طلب بات یہ ہے کہ شیرازی نے فارسی ترجمہ میں دوسرے مقام پر سبب کا ترجمہ کیا، اور پہلے مقام پر صلے کا ترجمہ کیا، جبکہ صاحب تدبر قرآن نے اس کے برعکس پہلے مقام پر سبب اور دوسرے مقام پر صلے کا ترجمہ کیا ہے۔ درست طریقہ شاہ عبدالقادر کا ہے، انہوں نے دونوں مقامات پر صلے کا ترجمہ کیا ہے۔ اسلوب میں یکسانیت کے باوجود دونوں مقامات کے ترجموں میں فرق کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، ایسا لگتا ہے کہ دونوں سے سبب کا ترجمہ غلطی سے ہوا ہے۔

(۷۷) افعل صرف صفت کے مفہوم میں

یوں تو افعل کا صیغہ عام طور سے تفضیل کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم کبھی کبھی وہ تفضیل کے مفہوم کے بجائے مبالغے کا یا صرف صفت کا مفہوم دیتا ہے، جس میں تفاضل نہیں بلکہ تقابل کا مفہوم ہوتا ہے، یعنی یہ نہیں بتانا ہوتا ہے کہ فلاں کے اندر یہ صفت فلاں کے مقابلے میں زیادہ پائی جاتی ہے، بلکہ یہ بتانا ہوتا ہے کہ جو دو فریق سامنے ہیں، ان میں سے صرف ایک میں یہ صفت پائی جاتی ہے اور اس کے بالمقابل دوسرے میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے۔ بعض ترجموں میں اس کا لحاظ نہیں نظر آتا، اور جہاں موقع ومحل صفت کے ترجمہ کا تقاضا کرے وہاں بھی تفضیل کا ترجمہ کردیا جاتا ہے۔ ذیل کی مثالوں سے اسے سمجھا جاسکتا ہے:

وَإِذَا رَأَوْکَ إِن یَتَّخِذُونَکَ إِلَّا ہُزُواً أَہَذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُولاً۔ إِن کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ آلِہَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَیْْہَا وَسَوْفَ یَعْلَمُونَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِیْلاً۔ (الفرقان: ۴۱،۴۲)

’’اور جب بھی یہ تمھیں دیکھتے ہیں بس تمہیں مذاق بنالیتے ہیں، اچھا یہی ہیں جن کو اللہ نے رسول بناکر بھیجا ہے؟ اس شخص نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے۔ اور عنقریب جب یہ عذاب دیکھیں گے، جان لیں گے کہ سب سے زیادہ بے راہ کون ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

’’کہ کون زیادہ گمراہ تھا‘‘ (طاہر القادری)

سیاق کلام سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ کون زیادہ بے راہ ہے، بلکہ یہ بتایا جارہا ہے کہ کون گمراہ ہے اور کون گمراہ نہیں ہے۔

(مَنْ أَضَلُّ سَبِیْلاً) کے بعض درست ترجمے حسب ذیل ہیں:

’’کون شخص بہت گمراہ ہوا ہے راہ سے‘‘۔(شاہ رفیع الدین)

’’کون بہت بچلا ہے راہ سے‘‘۔(شاہ عبدالقادر)

’’کہ کون شخص گمراہ ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’کہ کون گمراہ تھا‘‘۔ (احمد رضا خان)

قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَی شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَی سَبِیْلاً۔ (الاسراء :۸۴)

’’کہہ دو کہ ہر ایک اپنی کاوش پر کام کرے گا تو تمہارا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح تر راستے پر ہیں۔‘‘ (اصلاحی)

آیت کے زیر گفتگو حصے (بِمَنْ ہُوَ أَہْدَی سَبِیْلاً) کے بعض ترجمے حسب ذیل ہیں:

’’جو زیادہ ٹھیک رستہ پر ہوا‘‘۔(اشرف علی تھانوی)

’’کون زیادہ راہ پر ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اس شخص کو کہ وہ بہت پانیوالا ہے راہ کو‘‘۔(شاہ رفیع الدین)

’’کون خوب سوجھا ہے راہ‘‘۔(شاہ عبدالقادر)

’’جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)

یہاں بھی محل موازنے اور تفضیل کا نہیں ہے، کیونکہ کوئی یا تو ہدایت پر ہوگا اور یا نہیں ہوگا، اول الذکر تینوں ترجموں میں موازنے اور تفضیل کا مفہوم لیا گیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ سید مودودی نے یہاں تفضیل کے بجائے موازنے کے طور پر صفت کا ترجمہ کیا ہے، اور یہ ترجمہ درست ہے: ’’سیدھی راہ پر کون ہے"(سید مودودی)

(۷۸) أَفَمَن یَمْشِیْ مُکِبّاً عَلَی وَجْہِہِ کا مفہوم

أَفَمَن یَمْشِیْ مُکِبّاً عَلَی وَجْہِہِ أَہْدَی أَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیّاً عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ (الملک: ۲۲)

اس آیت کے مختلف ترجمے کئے گئے ہیں، اور وہ سب محل نظر ہیں،

’’کیا وہ جو اوندھے منہ چل رہا ہے راہ یاب ہونے والا بنے گا یا وہ جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے؟‘‘ (امین احسن اصلاحی)

’’بھلا ایک جو چلے اوندھا اپنے منہ پر وہ سیدھی راہ پاوے یا وہ جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر‘‘۔(شاہ عبدالقادر)

’’سو کیا جو شخص منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہووہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہوگا، یا وہ شخص جو سیدھا ایک ہموار سڑک پر چلا جارہا ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

’’تو کیا وہ جو اپنے منھ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی راہ پر‘‘۔ (احمد رضا خان)

’’اچھا وہ شخص ہدایت والا ہے جو اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وہ جو سیدھا (پیروں کے بل) راہ راست پر چلے‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)

’’بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟‘‘(فتح محمد جالندھری)

ان تمام ترجموں میں اس امر پر اتفاق نظر آتا ہے کہ آیت میں دو طرح سے چلنے کے طریقوں میں موازنہ ذکر کیا گیا ہے، ایک منہ کے بل اوندھا ہوکر چلنا اور دوسرا پیروں کے بل سیدھا ہوکر چلنا۔

اوندھے ہوکر منہ کے بل چلنے کا مفہوم لوگوں کے ذہن میں غالبا اس وجہ سے آیا کیونکہ انہوں نے(علی وجھہ) کو (مکبا) سے متعلق سمجھ لیا، اور اس سے منہ کے بل اوندھا ہونے اور اسی حال میں چلنے کا مفہوم پیدا ہوا جسے تصور کرنا اپنے آپ میں ایک مشکل امر ہے۔یہاں یہ بات یاد رہنا چاہئے کہ دو فریقوں میں اس پہلو سے تقابل نہیں ہے کہ کون سا فریق اس پوزیشن میں ہے کہ چل سکے اور کون سا فریق ایسی پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہے کہ اس پوزیشن میں رہ کر ٹھیک سے نہیں چل سکے یا چل ہی نہیں سکے، بلکہ تقابل اس میں ہے کہ کون سا فریق چلنے کی ایسی پوزیشن میں ہے کہ منزل پر پہونچ سکتا ہے، اور کون فریق چلنے کی ایسی پوزیشن میں ہے کہ منزل پر پہونچ ہی نہیں سکتا ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ(علی وجھہ) کا تعلق (مکبا) سے نہیں ہے بلکہ (یمشی) سے ہے، (یمشی علی وجھہ) کا مطلب ہوتا ہے جدھر رخ ہوجائے چلتا چلا جائے، اور صرف (مکبا) کا مطلب ہوتا ہے سر جھکائے ہوئے، لسان العرب میں (رجل مکب) کا مطلب بتایا گیا ہے: کَثِیرُ النَّظَرِ الی الأَرض۔ زمین کی طرف زیادہ دیکھنے والا۔ مزید برآں (مکبا) کے مقابلے میں (سوی)  کا مطلب ہوتا ہے سر اٹھائے ہوئے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ (علی وجھہ) دراصل (علی صراط مستقیم) کے مقابلے میں ذکر کیا گیا ہے، ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی پوری آیت کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:

’’کیا وہ جو سر جھکائے جدھر رخ ہوجائے چل پڑے راہ یاب ہونے والا بنے گا یا وہ جو سر اٹھاکر ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے‘‘۔

سید مودودی کے ذیل کے ترجمے میں (سویا) کا مفہوم درست بتایا گیا ہے، لیکن (مکبا)، (علی وجھہ) اور (أھدی) کا ترجمہ درست نہیں ہے۔

’’بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟‘‘(سید مودودی)

آیت زیر بحث میں (أھدی) کا ترجمہ بھی توجہ طلب ہے، جن لوگوں نے زیادہ کہہ کر تفضیل کا مفہوم ادا کیا ہے وہ درست نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ (أھدی) یہاں بطور صفت تقابل کے مفہوم کے ساتھ استعمال ہوا ہے، یعنی یہ سوال زیر غور نہیں ہے کہ کون زیادہ ہدایت پر ہے اور کون کم ہدایت پر ہے، بلکہ تقابل اس پہلو سے ہے کہ کون ہدایت پر ہے اور کون ہدایت پر نہیں ہے۔

(۷۹) اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ کا مفہوم

لفظ (وکیل) قرآن مجید میں مختلف معنوں میں آیا ہے، تاہم اس کا اول ترین معنی ہے، وہ ذات جس پر بھروسہ کیا جائے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا مطلب ہے ’’اللہ ہمیں کافی ہے اور وہ بھروسہ کرنے کے لیے کیا ہی بہترین ہستی ہے‘‘۔

قرآن مجید میں دو مقامات پر اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ آیا ہے، اس کے مختلف ترجمے کیے گئے ہیں، لیکن ان دونوں مقامات پر اس لفظ کے اصل مفہوم کی طرف کم لوگوں کا ذہن گیا ہے، عام طور سے گواہ اور نگہبان کا مفہوم اختیار کیا گیا ہے، جبکہ مناسب ترین مفہوم وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا یعنی وہ ذات جس پر بھروسہ کیا جائے۔

(۱) قَالَ لَنْ أُرْسِلَہُ مَعَکُمْ حَتَّی تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِّنَ اللّٰہِ لَتَأْتُنَّنِیْ بِہِ إِلاَّ أَن یُحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّا آتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ۔ (یوسف: ۶۶)

’’اس نے جواب دیا کہ میں اس کو تمہارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھ سے خدا کے نام پر یہ عہد نہ کرو کہ تم اس کو میرے پاس ضرور واپس لاؤگے الا آنکہ تم کہیں گھر ہی جاؤ۔ تو جب انھوں نے اس کو اپنا پکا قول دے دیا، اس نے کہا جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس کا نگہبان ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

متعلقہ ٹکڑے کے کچھ اور ترجمے حسب ذیل ہیں:

’’کہا اللہ اوپر اس چیز کے کہ کہتے ہیں ہم کارساز ہے‘‘۔(شاہ رفیع الدین)

’’بولا ذمہ اللہ کا ہے جو باتیں ہم کہتے ہیں‘‘۔(شاہ عبدالقادر)

’’تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ جو کچھ بات چیت کررہے ہیں یہ سب اللہ ہی کے حوالے‘‘۔(اشرف علی تھانوی)

’’دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے‘‘۔(سید مودودی)

’’کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:

’’جو ہم کہہ رہے ہیں اللہ کے بھروسے پر کہہ رہے ہیں‘‘۔

(۲) قَالَ ذَلِکَ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکَ أَیَّمَا الْأَجَلَیْْنِ قَضَیْْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ وَاللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ ۔ (القصص: ۲۸)

’’اس نے جواب دیا کہ یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہے۔ دونوں میں سے جو مدت بھی پوری کردوں تو اس معاملے میں مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا اور اللہ ہمارے اس قول وقرار پر جو ہم کررہے ہیں گواہ ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

متعلقہ ٹکڑے کے کچھ اور ترجمے حسب ذیل ہیں:

’’اور اللہ اوپر اس چیز کے کہ کہتے ہیں کارساز ہے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)

’’اور اللہ پر بھروسا اس کا جو ہم کہتے ہیں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

’’اور ہم جو (معاملہ) کی بات چیت کررہے ہیں اللہ تعالی اس کا گواہ (کافی) ہے‘‘۔(اشرف علی تھانوی)

’’اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے‘‘۔(سید مودودی)

’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:

’’اللہ پر بھروسہ ہے ہمیں اس قول وقرار میں جو ہم کررہے ہیں‘‘۔

گویا جس طرح ہم توکلنا علی اللہ کہتے ہیں، اسی طرح اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ بھی توکل کے اظہار کی ایک خوب صورت قرآنی تعبیر ہے، اور جب دو فریق کسی کام کو کرنے کا باہم معاہدہ کرتے ہیں تو اس تعبیر کی ادائیگی اس معاہدے میں اللہ کے توکل کی ایک کیفیت کا اضافہ کردیتی ہے۔ امام زمخشری لکھتے ہیں: الوکیل: الذی وکل الیہ الأمر۔ 

(جاری)

قرآن / علوم قرآن