اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۱)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(221)    علا یعلو کے مختلف صیغوں کا ترجمہ

علا یعلو کا مطلب ہے اوپر اٹھنا بلند ہونا، اس کا مصدر علو ہے اور اسم فاعل عال ہے۔ اس لفظ سے قابل تعریف مفہوم بھی نکلتا ہے اور قابل مذمت مفہوم بھی نکلتا ہے۔ خلیل فراہیدی کے مطابق: والعُلُوُّ العظمۃ والتجبّر. یقال: علا مَلِک فی الارض ای: طغَی وتعظّم۔ (العین)۔

اس لفظ کے استعمالات بتاتے ہیں کہ اس کا اطلاق دل کی کیفیت پر نہیں ہوتا ہے، بلکہ واقعی عمل اور حالت پر ہوتا ہے۔ یعنی کسی کے دل میں یہ احساس ہو کہ وہ سب سے اونچا ہے تو اس کے لیے علو نہیں استعمال ہوگا، اور اگر کوئی اونچا ہو، یا اونچا بننے کی کوشش کررہا ہو تو اس کے لیے علو استعمال ہوگا۔ اسی طرح غرور وتکبر پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا، غلبہ وسرکشی پر اس کا اطلاق ہوگا۔

قرآنی استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ عال جس کی جمع عالون ہے وہ قابل تعریف معنی میں استعمال نہیں ہوتا ہے، جبکہ اعلی قابل تعریف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اہل ایمان کے لیے عالون کا لفظ نہیں آیا بلکہ اعلون کا لفظ آیا۔ جیسے:

وَاَنتُمُ الاعلَونَ اِن کُنتُم مُومِنِینَ۔ (آل عمران: 139)اور

فَلَا تَہِنُوا وَتَدعُوا اِلَی السَّلمِ وَانتُمُ الاعلَونَ۔ (محمد: 35)

اسی طرح قرآن مجید میں اس لفظ کے فعل یعنی علا اور یعلو کا استعمال بھی اچھے لوگوں کے لیے نہیں ملتا۔

تراجم قرآن کا جائزہ بتاتا ہے کہ مترجمین نے اس لفظ کے ترجمے کے لیے کوئی متعین موقف طے نہیں کیا اور الگ الگ مقامات پر مختلف ترجمے کیے۔ ذیل کی سطور میں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

(1) وَان لَا تَعلُوا عَلَی اللَّہِ۔ (الدخان: 19)

”اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو“۔(محمد جونا گڑھی)

”اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو“۔ (سید مودودی)

”اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور خدا کے سامنے سرکشی نہ کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

اس آیت میں تعلوا کا ترجمہ سب لوگوں نے سرکشی کیا ہے، سرکشی کی تعبیر اس لفظ کی صحیح ترجمانی کرتی ہے، اور وہ تقریباً ان تمام مقامات پر موزوں ہوجاتی ہے جہاں یہ لفظ مذمت کے سیاق میں آیا ہے، تاہم اگلی آیتوں میں ہم دیکھیں گے کہ اس لفظ کے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے کیے گئے ہیں۔

(2) اِنَّ فِرعَونَ عَلَا فِی الارضِ۔ (القصص: 4)

”واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی“۔ (سید مودودی)

”کہ فرعون نے ملک میں سر اُٹھا رکھا تھا“۔(فتح محمد جالندھری)

”یقینا فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی“۔ (محمد جونا گڑھی)

”بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا“۔ (احمد رضا خان)

گزشتہ آیت میں فرعون اور اس کے درباریوں سے کہا گیا تھا: لا تعلوا جس کا ترجمہ کیا گیا سرکشی نہ کرو، تو اس آیت میں فرعون کے بارے میں علا فی الارض کہا گیا تو اس سے مراد سرکشی ہی ہونی چاہیے، اس کا ترجمہ غلبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور اس کی خاص معنویت بھی نہیں ہے، ظاہر ہے غلبہ پانا کوئی جرم تو ہے نہیں، جبکہ بیان اس کے جرائم کا ہے۔

(3) قَالَ یا ابلِیسُ مَا مَنَعَکَ ان تَسجُدَ لِمَا خَلَقتُ بِیَدَیَّ اَستَکبَرتَ ام کُنتَ مِنَ العَالِینَ۔ (ص: 75)

”(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

 ”کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے؟“۔ (سید مودودی)

”تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں“۔ (احمد رضا خان)

آخری ترجمے میں مغرور ترجمہ کیا گیا ہے، اور استکبار اور علو کو ہم معنی سمجھا گیا ہے جو درست نہیں ہے، غرور کے لیے آیت میں استکبار آیا ہے، استکبار یعنی غرور ایک باطنی کیفیت ہے، جبکہ علو ظاہری کیفیت اور حالت ہے۔ اگر کوئی شخص بظاہر لوگوں کے اوپر سوار نہیں ہے مگر اس کے اندر گھمنڈ ہے تو اسے استکبار تو کہا جائے گا مگر علو نہیں کہا جائے گا۔ مزید یہ کہ جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ تکلف سے پر معلوم ہوتا ہے، یہاں یہ پوچھنے کا آخر کیا محل ہے کہ غرور ابھی ہوا ہے یا پہلے سے ہے؟

بقیہ ترجموں میں عالین کا ترجمہ اونچے درجے اور بڑے درجے کا کیا گیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، ایک تو اونچے درجے کا ہونا اللہ کے حکم کی نافرمانی کی وجہ نہیں بن سکتا ہے، دوسرے یہ کہ عالین کا لفظ اونچے درجے والوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا ہے، ان کے لیے اعلون استعمال ہوتا ہے۔ صحیح ترجمہ اس طرح ہے:

”تو تکبر کر رہا ہے یا تو سرکشی کرنے والوں میں سے ہے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

اس ترجمہ میں معنویت یہ ہے کہ حکم سے سرتابی کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں، یا تو غرور یا پھر سرکشی۔ غرور کا تعلق احساس کبر سے ہوتا ہے، اور سرکشی کا محرک بغاوت ونافرمانی کا جذبہ ہوتا ہے، اس میں غرور کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے۔ درج ذیل مثال سے یہ بات اور واضح ہوجاتی ہے۔

(4) اِلَی فِرعَونَ وَمَلَئِہِ فَاستَکبَرُوا وَکَانُوا قَومًا عَالِینَ۔ (المومنون: 46)

” (یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وہ سرکش لوگ“۔ (محمد جوناگڑھی)

”فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس رسول بناکر بھیجا تو انھوں نے تکبر کیا اور وہ نہایت مغرور لوگ تھے“۔ (امین احسن اصلاحی)

” فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے غرور کیا اور وہ لوگ غلبہ پائے ہوئے تھے“۔(احمد رضا خان)

یہاں بتایا گیا کہ فرعون اور اس کے درباریوں میں دو برائیاں جمع ہوگئی تھیں، استکبار اور علو۔ پہلی آیت میں جن لوگوں نے اونچے اور بڑے درجے ترجمہ کیا تھا انھوں نے یہاں نہیں کیا، کیونکہ یہ بات یہاں زیادہ واضح ہے کہ یہاں اونچے اور بڑے درجے کا کوئی محل نہیں ہے، قوما عالین کا یہاں درست ترجمہ سرکش لوگ ہے، مغرور لوگ اس لیے درست نہیں ہے کہ علو غرور سے مختلف چیز ہے، دوسرے یہ کہ استکبار کا ذکر تو ہوہی چکا ہے، جس کے معنی غرور کے ہیں۔ غلبہ پائے ہوئے لوگ بھی موزوں ترجمہ نہیں ہے، گو کہ علو میں غلبہ پانے کا مفہوم پایا جاتا ہے، لیکن استکبار کے ساتھ سرکشی کا جوڑ ہے، غلبہ پانا کوئی برائی نہیں ہے جس کا یہاں ذکر کیا جائے، دوسری بات یہ ہے کہ اس لفظ کی دوسری نظیروں میں یہ ترجمہ موزوں نہیں ہوتا ہے، جبکہ سرکش کا لفظ تقریبا ہرجگہ موزوں بیٹھتا ہے۔

(5) وَاِنَّ فِرعَونَ لَعَالٍ فِی الاَرضِ وَاِنَّہُ لَمِنَ المُسرِفِینَ۔ (یونس: 83)

”واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں“۔ (سید مودودی)

” اور بیشک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا، اور بیشک وہ حد سے گزر گیا“۔ (احمد رضا خان)

”اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا، اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد سے باہر ہو جاتا تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور بے شک فرعون ملک میں نہایت سرکش اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں بھی عال کا ترجمہ سرکش سب سے موزوں ہے، زمین میں غلبہ رکھنا یا زور رکھنا کوئی برائی نہیں ہے جسے ذکر کیا جائے۔

(6) مِن فِرعَونَ اِنَّہُ کَانَ عَالِیًا مِنَ المُسرِفِینَ۔ (الدخان: 31)

”فرعون سے نجات دی جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اونچے درجے کا آدمی تھا“۔ (سید مودودی)

”فرعون سے، بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں سے“۔ (احمد رضا خان)

” (جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فی الواقع وہ سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”(یعنی) فرعون سے۔ بےشک وہ سرکش (اور) حد سے نکلا ہوا تھا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”بے شک وہ بڑا ہی سرکش، حدود سے نکل جانے والا تھا“۔ (امین احسن اصلاحی)

عالیا کا ترجمہ بڑے اونچے درجے کا آدمی درست نہیں ہے، ”حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اونچے درجے کا آدمی ہونا“ عجیب سی بات ہے۔ متکبر بھی موزوں ترجمہ نہیں ہے۔ درست ترجمہ سرکش ہی ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں یہ لفظ مختلف صیغوں سے زیادہ تر فرعون اور اس کے درباریوں کے لیے آیا ہے، اور اگر وہ تمام مقامات ایک ساتھ سامنے رکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا بڑا جرم سرکشی تھا جس کا مختلف پیرایوں میں بار بار ذکر کیا گیا۔

(7) تِلکَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجعَلُہَا لِلَّذِینَ لَا یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الارضِ وَلَا فَسَادًا۔ (القصص: 83)

”وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد“۔(احمد رضا خان)

”وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لیے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں“۔(محمد جوناگڑھی)

”جو زمین میں غرور اور فساد کے چاہنے والے نہیں ہیں“ (امین احسن اصلاحی)

اس آیت میں علو کے لیے سرکشی ہی مناسب لفظ ہے۔

(8) وَقَضَینَا اِلَی بَنِی اِسرَائِیلَ فِی الکِتَابِ لَتُفسِدُنَّ فِی الارضِ مَرَّتَینِ وَلَتَعلُنَّ عُلُوًّا کَبِیرًا۔ (الاسراء: 4)

”تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاو گے“۔ (سید مودودی)

”زمین میں دو دفعہ فساد مچاوگے اور بڑی سرکشی کرو گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دوبار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”ضرور تم زمین میں دوبارہ فساد مچاو گے اور ضرور بڑا غرور کرو گے“۔ (احمد رضا خان)

سرکشی موزوں ہے، زیادتیاں اور غرور اس لفظ کے دائرے میں نہیں آتے، اس کے علاوہ غرور کا محل بھی نہیں معلوم ہوتا ہے۔

(9) مَا اتَّخَذَ اللَّہُ مِن وَلَدٍ وَمَا کَانَ مَعَہُ مِن الَہٍ اِذًا لَذَہَبَ کُلُّ اِلَہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعضُہُم عَلَی بَعضٍ۔  (المومنون: 91)

”اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے“۔ (سید مودودی)

”اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا“۔ (فتح محمد جالندھری)

غالب آجانا یہاں درست ترجمہ نہیں ہے، بعض خداوں کا بعض خداوں پر غالب آجانے کا کیا مطلب ہے؟ کوئی خدا مغلوب کیسے ہوسکتا ہے؟ اور اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟! ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنا مناسب ترجمہ ہے جو سرکشی سے قریب مفہوم رکھتا ہے۔

قرآن / علوم قرآن

(دسمبر ۲۰۲۰ء)

Flag Counter