ملا محمد عمرؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کے دوران افغان طالبان کی طرف سے اس خبر کی تصدیق کر دی گئی کہ ان کے امیر ملا محمد عمر مجاہد کا انتقال ہوگیا ہے ( انا للہ وانا الیہ راجعون) اور طالبان شوریٰ نے ان کے نائب ملا اختر منصور کو ان کی جگہ نیا امیر چن لیا ہے۔

ملا محمد عمرؒ روسی استعمار کے خلاف افغان جہاد میں شریک رہے ہیں، اس میں زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کی ایک آنکھ متاثر ہوگئی تھی۔ لیکن وہ گمنامی کے اندھیروں میں اس وقت ایک چمکدار ستارے کی مانند نمودار ہوئے جب سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان بین الاقوامی طاقتوں کی طے شدہ پالیسی کے مطابق ایک نئی اور وسیع تر خانہ جنگی کا شکار ہو چکا تھا۔ کابل پر قبضے کی بڑی جنگ کے ساتھ ساتھ افغان مجاہدین اور تحلیل شدہ سابقہ سرکاری افغان فوج کے مختلف گروپ افغانستان کے بہت سے علاقوں میں باہم برسر پیکار تھے ۔ پورا افغانستان افراتفری کا شکار تھا، سرداروں کی اس جنگ (لارڈز وار) نے افغانستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا اور شاید بہت سی بڑی طاقتیں بھی یہی چاہتی تھیں۔ مگر قندھار کے ایک گمنام طالب علم نے اپنے طالب علم ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور افغان عوام کو لارڈز وار کی نحوست سے نجات دلانے اور جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل یعنی نفاذ شریعت کو اپنا مقصد قرار دے کر یہ بے سروسامان طلبہ میدان میں نکل آئے۔ ان کا ابتدائی ہدف یہ تھا کہ کوئٹہ سے قندھار اور پھر مزار شریف تک کے تجارتی راستے پر علاقائی سرداروں نے جگہ جگہ ناکے لگا کر جبری ٹیکس وصول کرنے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا اسے ختم کر کے تجارتی گزرگاہ کو محفوظ بنایا جائے۔ چونکہ ابتدائی لشکر کے زیادہ تر شرکاء دینی مدارس کے طلبہ تھے جو جہاد افغانستان میں حصہ لینے والے مختلف جہادی گروپوں سے تعلق رکھتے تھے اس لیے یہ لشکر طالبان کے نام سے معروف ہوا۔ اور پھر چند سو افراد سے شروع ہونے والا یہ لشکر رفتہ رفتہ ایک منظم فوج کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ انہوں نے نہ صرف تجارتی راستہ صاف کیا بلکہ جو علاقے ان کے کنٹرول میں آتے گئے وہاں شریعت اسلامیہ کے مطابق امارتی نظام قائم کر کے افغان عوام کو اسلامی قوانین کی برکات سے فیض یاب کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جس کا مشاہدہ و اعتراف ملا محمد عمرؒ کے پانچ سالہ دور حکومت میں عالمی سطح پر بھی کیا جاتا رہا۔ انہوں نے اپنی حکومت کو ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کا نام دیا اور دھیرے دھیرے کابل سمیت بیشتر افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ 

ملا محمد عمرؒ کی حکومت کے تین کارناموں کا آج بھی بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔ 

  • لارڈز وار کا خاتمہ یعنی سرداروں کی ان علاقائی حکومتوں اور باہمی جنگوں کا خاتمہ جس کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ 
  • انہوں نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں عام افغان آبادی کو غیر مسلح کر دیا، یعنی ہر شخص سے اسلحہ واپس لے کر افغانستان جیسے ملک میں ’’ویپن لیس سوسائٹی‘‘ کا عملی نمونہ پیش کیا۔ 
  • ہیروئن بنانے والے پوست کی کاشت جو طالبان کے دور سے پہلے کبھی کنٹرول ہوئی اور نہ ہی ان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے اب تک ممکن ہو سکی ہے، بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ملا محمد عمرؒ کے ایک حکم سے ایسے ختم ہوئی کہ ان کے حکومتی دائرہ میں شامل علاقوں میں ایک پودا بھی کاشت نہ ہونے کا محاورہ بولا جانے لگا۔ 

یہ تو وہ باتیں ہیں جو بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کا حصہ ہیں اور ان کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک ان کے ساتھ ان امور کو شامل کرنا بھی ضروری ہے۔ 

  • شرعی احکام و قوانین کا عملی نفاذ اور عوام کو شریعت اسلامیہ کے مطابق انصاف کی فراہمی۔
  • گڈ گورننس اور سادہ و فطری انداز حکمرانی کا ایسا نمونہ کہ بلا شبہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی یاد تازہ ہوگئی۔ 
  • امن عامہ اور لوگوں کی جان و مال اور آبرو کا اس درجہ میں تحفظ کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے کابل کے بازاروں میں دکانداروں کو دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز کے لیے مسجد میں جاتے دیکھا ہے۔ مجھے اس سلسلہ میں ایک ذاتی واقعہ کبھی نہ بھولے گا کہ ایک بار میں چند روز کے لیے کابل گیا ہوا تھا۔ پل خشتی کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد بازار کی طرف نکلا تو چند سکھوں کی دکانیں دکھائی دیں۔ میں ایک دکان میں بلا تکلف گھس گیا اور ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جب دکاندار کا حال احوال دریافت کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ کچھ دیر ہمارے درمیان گفتگو رہی، میں نے اس سے پوچھا کہ سردار جی ! یہ مولوی جب سے آئے ہیں آپ کیا تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟ اس نے بے تکلفی سے کہا کہ جب سے یہ مولوی آئے ہیں ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔ میں نے تفصیل پوچھی تو اس نے بتایا کہ پہلے ہر وقت خوف و ہراس کی کیفیت رہتی تھی، میرے دو بیٹے جوان ہیں، ہم تینوں باری باری آٹھ آٹھ گھنٹے پہرہ دیتے تھے، اور باقی گھر والے سوتے تھے۔ جب سے ان مولویوں کی حکومت آئی ہے ’’ایہہ مولبی پہرہ دیندے آ، تے اسی سکھ دی نیند سوندے ہاں‘‘۔ یہ مولوی پہرہ دیتے ہیں اور ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔ 

مجھے کابل اور قندھار دونوں جگہ ملا محمد عمرؒ سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا ہے اور طالبان حکومت کے متعدد راہ نماؤں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئی ہیں جن کے کچھ تاثرات اپنے بیسیوں کالموں میں وقتاً فوقتاً قارئین کی خدمت میں پیش کر چکا ہوں، جبکہ اکثر حصہ ابھی ’’در بطن شاعر‘‘ کی کیفیت میں ہے۔

’’الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ‘‘ نے اس سال پندرہ روزہ فکری نشستوں میں میری گفتگو کا عنوان ’’میری یادداشتیں‘‘ طے کیا ہے جس کے تحت سال کے دوران ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مجالس میں اپنی جماعتی، مسلکی اور تحریکی سرگرمیوں کی یادداشتیں بشرط صحت و توفیق بیان کروں گا، اور انہیں ریکارڈ کرنے کے بعد قلمبند کرنے کا بھی پروگرام ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ میں نے اس میں ’’جہاد افغانستان‘‘ سے متعلقہ یادداشتوں کو ترجیحاً پہلے بیان کرنے کا ارادہ کیا ہے، اس لیے کہ روس کے خلاف جہاد افغانستان کے آغاز سے طالبان حکومت کے خاتمہ تک بحمد اللہ تعالیٰ کم و بیش ہر مرحلہ میں شریک رہا ہوں، جس کے مشاہدات و تاثرات بلاشبہ قوم اور تاریخ کی امانت ہیں۔ قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ رب العزت مجھے یہ امانت پوری دیانت اور شرح صدر کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ 

ان گزارشات کے بعد امیر المومنین حضرت ملا محمد عمر مجاہدؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے رفقاء اور اہل خانہ کے ساتھ اس غم میں شریک ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے رفقاء و متوسلین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ 


اخبار و آثار

(ستمبر ۲۰۱۵ء)

تلاش

Flag Counter