خاطرات

محمد عمار خان ناصر

کوئی بھی نیا ترجمہ یا تفسیری کاوش دیکھنے کا موقع ملے (اور ظاہر ہے کہ جستہ جستہ) تو میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ قرآن کے ان مقامات پر نظر ڈالی جائے تو تفسیری اعتبار سے مشکل ہیں۔ میری طالب علمانہ رائے کے مطابق یہ کوئی ڈیڑھ درجن کے قریب مقام ہیں۔ سو ’مشکل کشائی‘ کی جہاں سے بھی امید ہو، جستجو جاری رہتی ہے۔ میری نظر میں حالیہ سالوں میں تین ایسی کاوشیں کی گئی ہیں جن میں قرآن کے مشکل مقامات پر خاصا غور وخوض کیا گیا اور محض رسمی تفسیر پر اکتفا کرنے کے بجائے باقاعدہ تدبر کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کے ہر طالب علم کا حق ہے کہ وہ ان کاوشوں سے استفادہ کرے۔ پیش کردہ حل پر اطمینان ہونا یا نہ ہونا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن کسی بڑے دماغ نے علمی بنیاد پر کسی پہلو کو ترجیح دی ہو تو بہرحال اس پر غور کرنے سے بہت سی نئی راہیں کھلتی ہیں اور ایک سچے طالب علم کو درحقیقت یہی چیز مطلوب ہوتی ہے۔ 

۱۔ جناب جاوید احمد غامدی کا ترجمہ وتفسیر ’’البیان‘‘

۲۔ جناب مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب کا تفسیری سلسلہ بعنوان ’’محفل قرآن‘‘

۳۔ جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا ترجمہ ’’توضیح القرآن‘‘

مختصر حواشی کے ساتھ ترجمہ قرآن کے سلسلے کی اگر چند نمائندہ اور معیاری کاوشوں کا انتخاب کیا جائے تو حسب ذیل تراجم کا اضافہ کیا جا سکتا ہے:

۱۔ تسہیل بیان القرآن از قلم مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب

۲۔ تفسیر عثمانی از مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب

۳۔ تفسیری حواشی از مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب

میرے خیال میں قرآن مجید کی حل مشکلات کے لیے براہ راست غور وتدبر کے بعد ثانوی اور معاون ذرائع کے طور پر کم سے کم یہ پانچ تراجم ہر طالب علم کی میز پر لازماً ہونے چاہییں۔ 

قدیم تفسیری ذخیرے کے حوالے سے، عرب دنیا میں ایک اچھا کام یہ کیا گیا ہے کہ اہم مطولات کی تلخیصات تیار کر دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل کاوشیں بہت مفید اور مددگار ثابت ہوں گی:

۱۔ تفسیر طبری کی تلخیص

۲۔ تفسیر ابن کثیر کی تلخیص

۳۔ تفسیر بغوی کی تلخیص

اگر اسی نہج پر دیگر امہات کی تلخیصات بھی میسر ہو جائیں تو مراجعت واستفادہ میں کافی آسانی پیدا ہو جائے گی۔

جہاں تک کسی مقام کے باعث اشکال ہونے یا نہ ہونے کا تعلق ہے تو یہ ہر طالب علم یا صاحب علم کے لحاظ سے شاید ایک اضافی یعنی relative چیز ہے۔ ایک کو جو مقام مشکل محسوس ہوتا ہے، ہو سکتا ہے دوسرے کو نہ ہوتا ہے۔ 

ذیل میں ان مقامات کی ایک فہرست درج کی جا رہی ہے جو میرے لیے اپنی طالب علمانہ سطح کے لحاظ سے کافی غور طلب ہیں اور بعض مقامات پر کسی ایک تاویل کی طرف رجحان ہونے کے باوجود قرائن اتنے لطیف ہیں کہ بار بار غور کرنا پڑتا ہے۔ واللہ اعلم

(۱) سورۃ البقرۃ، آیات ۷ تا ۱۶ (ومن الناس من یقول آمنا باللہ ........ )

محل اشکال: مذکورہ گروہ کی تعیین اور ذکر شدہ بعض اوصاف کا مفہوم۔

(۲) سورۃ البقرۃ، آیات ۱۴۹، ۱۵۰ (ومن حیث خرجت ............)

محل اشکال: مذکورہ جملے کے تکرار کی معنویت۔

(۳) سورۃ البقرۃ، آیت ۱۸۴ (وعلی الذین یطیقونہ .........)

محل اشکال: کن لوگوں کو کس نوعیت کی رخصت دی گئی؟

(۴) سورۃ النساء، آیت ۳ (وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحو ا .......)

محل اشکال: شرط اور جزا کا باہمی تعلق۔ کن خواتین سے نکاح کی ترغیب دی گئی ہے؟

(۵) سورۃ النساء، آیت ۱۱ (فان کان لہ اخوۃ فلامہ السدس)

محل اشکال: بھائی ، حصہ دار نہ ہونے کے باوجود ماں کا حصہ کم کرنے کا باعث کیوں؟

(۶) سورۃ النساء، آیت ۱۱ (وان کان رجل یور ث کلالۃ ...........)

محل اشکال: رجل سے مراد وارث ہے یا مورث؟ 

(۷) سورۃ النساء، آیت ۱۵، ۱۶ (واللاتی یاتین الفاحشۃ ......... والذان یاتیانھا ......)

محل اشکال: والذان یاتیانھا سے مراد؟

(۸) سورۃ النساء، آیت ۱۵۹ (وان من اہل الکتاب ..........)

محل اشکال: اہل کتاب کس کی موت سے پہلے کس پر ایمان لائیں گے؟

(۹) سورۃ الانفال، آیت ۶۷ (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری .........)

محل اشکال: اتنی سخت وعید کی وجہ اور پس منظر۔

(۱۰) سورۃ التوبہ، آیات ۱ تا ۵ (براءۃ من اللہ ورسولہ ........)

محل اشکال: اربعۃ اشہر اور فاذا انسلخ الاشہر الحرم کا باہمی تعلق؟ نیز آیات کے زمانہ نزول کی تعیین۔

(۱۱) سورۃ التوبہ، آیت ۶۰ (انما الصدقات للفقراء والمساکین ........)

محل اشکال: الصدقات سے جملہ اصناف صدقہ مراد ہیں یا بطور خاص زکوٰۃ؟ نیز حصر حقیقی ہے یا اضافی؟

(۱۲) سورۃ الرعد، آیت ۴۱ (ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا)

محل اشکال: ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا کا مفہوم ۔

(۱۳) سورۃ الحجر، آیت ۸۷ (سبعا من المثانی)

محل اشکال: سبعا من المثانی کا مفہوم ومصداق۔

(۱۴) سورۃ الصافات، آیت ۷۸ (وترکنا علیہ فی الآخرین)

محل اشکال: اس جملے کا مفہوم اور تاویل نحوی۔

(۱۵) سورۃ ص، آیت ۳۴ (والقینا علی کرسیہ جسدا)

محل اشکال: اس جملے کا مفہوم۔

(۱۶) سورۃ الزخرف، آیت ۸۸ (وقیلہ یا رب ............)

محل اشکال: اس جملے کا عطف۔

(۱۷) سورۃ محمد، آیت ۳ (فاما منا بعد واما فداء )

محل اشکال: حصر کا مفہوم اور عملی نتیجہ۔


خیر النکاح ایسرہ۔ نکاح کا آسان اور سہل ہونا یقیناًمقاصد شریعت میں سے اہم ترین مقصد ہے۔ اس کا تعلق نہ صرف ’’ضروریات‘‘ (شاطبی کی اصطلاح میں) کی تکمیل سے ہے، بلکہ عفت وعصمت کی حفاظت بھی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ 

ہمارے معاشرے میں نکاح کے ساتھ جڑ جانے والی بری عادات ورسوم میں سے ایک، بے پناہ مالی اخراجات ہیں جنھوں نے اب تو ایک وبال جان کی صورت اختیار کر لی ہے۔ نوجوانوں کے لیے مناسب عمر میں شادی کرنا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ 

برصغیر کے سوشل اسٹرکچر میں اس کا سب سے بنیادی سبب یہ ہے کہ دو افراد کی شادی کا معاملہ دراصل دونوں طرف کے پورے کے پورے خاندانوں کا معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ کسی رشتے پر اگر خاندان کے سارے بڑے راضی نہیں تو ہنسی خوشی اور اتفاق سے شادی نہیں ہو سکتی اور ہو جائے تو بعد میں چل نہیں سکتی۔ خاندانوں کے مابین پھر مالی منافست کی نفسیات ظاہر ہوتی ہے اور لمبی چوڑی تقریبات، پورے کے پورے خاندان کے لیے تحائف کا بندوبست اور اس طرح کی دیگر خرافات کا شامل ہوتے جانا ایک ناگزیر امر بن جاتا ہے۔

اس صورت حال کی اصلاح صرف اخلاقی وعظ سے نہیں ہو سکتی، نہ ہی کچھ اچھی مثالیں بڑے پیمانے پر اس میں کوئی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ سماجی علوم کے مطالعے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک سوشل اسٹرکچر سے پیدا ہونے والی رسوم وعادات دراصل اس اسٹرکچر میں تبدیلی سے ہی بدل سکتی ہیں۔ اس وجہ سے میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ ہمیں شادی کے معاملے کو اصلاً اور بنیادی طور پر دو افراد کا فیصلہ قرار دینے اور نئی نسل میں اس رجحان کی حوصلہ افزائی کرنے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے تعلیم اور معاش کے مواقع پیدا ہونے سے بھی وہ زندگی کے اس اہم فیصلے میں زیادہ با اختیار ہوں گی۔ خاندان اور برادری کی اہمیت بھی ہونی چاہیے، لیکن ضمنی اور ثانوی تاکہ وہ اس درجے میں stake holder نہ بن جائیں کہ افراد کی مصلحت اس کی ترجیحات کی بھینٹ چڑھا دی جائے۔ 

البتہ اس حوالے سے دو باتوں کا اہتمام ہونا چاہیے:

ایک، نئی نسل کی ذہنی تربیت کرنی ہوگی کہ اگر وہ مناسب عمر میں شادی کی نعمت سے بہرہ ور ہونا اور اس حوالے سے باختیار ہونا چاہتی ہے تو اس کی ایک قیمت بھی ہوگی اور وہ یہ کہ وہ مادی سہولیات کے حوالے سے ’’قناعت‘‘ کا رویہ اختیار کریں اور توقعات کی سطح اتنی ہی رکھیں جتنی عملی حقائق اور وسائل اجازت دیتے ہیں۔ یہ ایک trade-off ہے۔ اگر آپ کو وہ ساری سہولیات چاہییں جو موجودہ اسٹرکچر میں ملتی ہیں تو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی، یعنی دس بارہ سال تک شادی میں تاخیر۔ 

دوسری بات یہ کہ حکومتوں کو اس طرح متوجہ کرنا چاہیے کہ وہ مناسب عمر میں شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے subsidized rates پر رہائش گاہوں اور شادی الاؤنسز کا انتظام کرے تاکہ جو جوڑے اس رکاوٹ کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتے، ان کی کچھ نہ کچھ معاونت کی جا سکے۔ 


’’جدیدیت‘‘ چند سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری تبدیلیوں کا ایک جامع عنوان ہے جو مغربی تہذیب کے زیر اثر دنیا میں رونما ہوئیں۔ اس کے جواب میں مسلمان اہل فکر نے جو حکمت عملی اختیار کی، کئی پہلووں سے اس کی افادیت تسلیم کرتے ہوئے دو سوال بہرحال اٹھائے جا سکتے ہیں :

ایک،مزاحمت کے لیے اہداف اور ترجیحات کا غیر حقیقت پسندانہ تعین یا دوسرے لفظوں میں میدان جنگ میں محاذ کا غلط انتخاب۔ جب سرحد پر دشمن کی یلغار شروع ہوتی ہے تو دفاع میں سمجھ دار جرنیل کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ حملہ آور طاقت کا کہاں تک آگے بڑھ آنا ناگزیر ہے اور کہاں اس کے خلاف موثر مزاحمت کی جا سکتی ہے۔ اگر اس کے بجائے ایک ایک انچ کے دفاع کی حکمت عملی اپنائی جائے گی تو وہ محاذ بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے جہاں مناسب تیاری سے مزاحمت کامیاب ہو سکتی تھی۔ 

اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے دریا کے کنارے واقع بستی سیلاب کے خطرے سے دوچار ہو اور سارے اندازے بتا رہے ہوں کہ پانی کا بستی میں داخل ہونا اور ایک خاص سطح تک پہنچ کر رہنا طے ہے۔ اس کے باوجود بستی والے اپنے گھروں کے سامان اور مواشی وغیرہ کو کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے کے بجائے پانی کو روکنے کے لیے دریا کے کنارے پر کچی اینٹیں چننا شروع کر دیں۔

دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی سماجی اسٹرکچر میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو کئی مراحل سے گزر کر آتی ہے اور پہلے ہی دن حتمی طور پر یہ طے نہیں ہوتا کہ وہ مآل کار فلاں اور فلاں شکل اختیار کرے گی۔ اس تشکیلی مرحلے میں کئی عوامل مل کر اسے کوئی خاص رخ دیتے ہیں اور اس میں ان لوگوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے جو ہاتھ بڑھا کر جام ومینا اٹھا لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اس کے برخلاف اس مرحلے میں اس سے الگ تھلگ ہو کر یا کلی طور پر اس کے مزاحم بن کر کھڑے رہنے والے مثبت طور پر اس سارے عمل میں کوئی حصہ نہیں ڈال پاتے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئے اسٹرکچر میں ان کا شمار پچھڑے ہووں اور پس ماندہ رہ جانے والوں میں ہو اور نئے ماحول سے شکایت اور گریز مستقل طو رپر ان کی نفسیات کا حصہ بن جائے۔ 

ان دونوں غلطیوں کا باعث لمحہ موجود کی اسیری ہے، جو ایک طرف تو یہ صلاحیت سلب کر لیتی ہے کہ حالات کے رخ سے اس حقیقت کا پیشگی ادراک کیا جائے کہ کچھ تبدیلیوں کا عملاً رونما ہو کر رہنا سلسلہ اسباب وعلل کی رو سے طے ہے اور دوسری طرف نئی آنے والی تبدیلیوں کے ناپسندیدہ نتائج سے خوف زدہ کر کے ان مواقع اور امکانات سے بھی توجہ ہٹا دیتی ہے جن سے ممکنہ حد تک تبدیلی کا رخ کسی بہتر سمت میں موڑا جا سکتا تھا۔

مسلم معاشروں میں جدیدیت کی penetration کا عمل ابھی جاری ہے۔ بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور بہت سی آنے والی ہیں۔ اگرہمارے اہل فکر سابقہ حکمت عملی کے مذکورہ پہلووں سے کچھ سیکھ کر آئندہ کی حکمت عملی وضع کریں تو شاید ہم بحیثیت مجموعی کچھ بہتر نتائج حاصل کر سکیں۔

(یہ واضح رہے کہ میں جدیدیت کو بالجملہ منفی انداز سے نہیں دیکھتا۔ اس کے بہت سے پہلو مثبت اور قابل استفادہ بھی ہیں۔ یہ ساری گفتگو ’’جدیدیت‘‘ کے ان پہلووں کے حوالے سے ہے جن کا منفی اور ضرر رساں ہونا مسلم ہے۔ )

آراء و افکار