ستمبر ۲۰۱۶ء

جمہوریت اور حاکمیت عوام ۔ چند منطقی مغالطے / غیر مسلم معاشروں میں رہنے کے انسانی واخلاقی اصول / آسمانی شرائع میں جہاد کا صحیح تصور

― محمد عمار خان ناصر

جمہوریت کو ’’حاکمیت عوام‘‘ کے نظریے کی بنیاد پر کفریہ نظام قرار دینے اور حاکمیت عوام کو اس کا جزو لاینفک قرار دینے والے گروہ کی طرف سے ایک عامۃ الورود اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ جمہوریت میں اگر دستوری طور پر قرآن وسنت کی پابندی قبول کی جاتی ہے تو اس لیے نہیں کی جاتی کہ وہ خدا کا حکم ہے جس کی اطاعت لازم ہے، بلکہ اس اصول پر کی جاتی ہے کہ یہ اکثریت نے خود اپنے اوپر عائد کی ہے اور وہ جب چاہے، اس پابندی کو ختم کر سکتی ہے۔ اس لیے دستور میں اس کی تصریح کے باوجود جمہوریت درحقیقت ’’حاکمیت عوام‘‘ ہی کے فلسفے پر مبنی نظام ہے۔ اس استدلال کے دو نکتے ہیں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۲)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۹۸) مدّہ اور مدّ لہ میں فرق۔ قرآن مجید میں فعل مد یمد براہ راست مفعول بہ کے ساتھ بھی آیا ہے اور حرف جر لام کے ساتھ بھی آیا ہے۔ ان دونوں اسلوبوں میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں عام طور سے علماء لغت اور مفسرین کے یہاں کوئی صراحت نہیں ملتی، بلکہ ان کے بیانات سے لگتا ہے کہ دونوں اسلوب ہم معنی ہیں، البتہ علامہ زمخشری نے اس فرق کوصراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے، ان کے نزدیک مد اگر مفعول بہ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی بڑھانے اور اضافہ کرنے کے ہیں، اور اگر حرف جر لام کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ڈھیل دینے اور مہلت دینے کے ہیں۔ سورہ بقرۃ آیت نمبر ۱۵؍ کی تفسیر میں...

ہم عصر الحاد پر ایک نظر

― محمد دین جوہر

دنیا کے ہر مذہب میں خدا کے تعارف، اس کے اقرار، اس سے انسان کے تعلق اور اس تعلق کے حامل انسان کی خصوصیات کو مرکزیت حاصل ہے۔ مختصراً، مذہب خدا کا تعارف اور بندگی کا سانچہ ہے۔ جدید عہد مذہب پر فکری یورش اور اس سے عملی روگردانی کا دور ہے۔ لیکن اگر مذہب سے حاصل ہونے والے تعارفِ خدا اور تصورِ خدا سے انکار بھی کر دیا جائے، تو فکری اور فلسفیانہ علوم میں ’’خدا‘‘ ایک عقلی مسئلے کے طور پر پھر بھی موجود رہتا ہے۔ خدا کے مذہبی تصور اور اس سے تعلق کے مسئلے کو ’’حل‘‘ کرنے کے لیے جدیدیت نے اپنی ابتدائی تشکیل ہی میں ایک ’’مجہول الٰہ‘‘ (deity) کا تصور دیا تھا...

دینی مدارس میں یوم آزادی کی تقریبات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس سال 14 اگست کی تقریبات میں دینی مدارس کی پیش رفت اور جوش و خروش کا مختلف مضامین اور کالموں میں بطور خاص تذکرہ کیا جا رہا ہے اور یہ واقعہ بھی ہے کہ اس بار دینی مدارس میں یوم آزادی اور قیام پاکستان کے حوالہ سے زیادہ تقریبات منعقد کی گئی ہیں اور جوش و خروش کا پہلے سے زیادہ اظہار ہوا ہے جس کے اسباب پر مختلف پہلوؤں سے گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ میرا ایک عرصہ سے معمول ہے کہ قومی سطح پر منائے جانے والے دنوں کی تقریبات میں کسی نہ کسی حوالے سے ضرور شریک ہوتا ہوں اور عنوان کی مناسبت سے اپنے خیالات و تاثرات بھی پیش کرتا رہتا ہوں۔ لیکن اس سال اس کا تناسب بہت...

قرآن مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث ۔ حافظ محمد زبیر صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

― ڈاکٹر عرفان شہزاد

...

مباح الدم اور "جہادیوں" کا بیانیہ

― ڈاکٹر محمد شہباز منج

مدینے پر حملے کے تناظر میں اہل علم میں ایک دفعہ پھر" جہادی ذہنیت" اور اس کے بیانیے کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ محترم جناب ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب نے اپنی ایک تحریر میں اسے "سوچا سمجھا جنون" قرار دیتے ہوئے، "جنونی گروہ" کی" فقہ" کے اہم نکات بیان کیے ہیں۔ جناب ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اس گروہ کے بیانیے کے جو نکات پیش فرمائے ہیں، وہ بالکل مبنی برِ حقیقت ہیں۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے راقم نے اس پر جناب زاہد صدیق مغل کا یہ تبصرہ دیکھا کہ:" اس تفصیل کے ساتھ یہ مقدمہ کس نے پیش کیا؟"تو دل چاہا کہ اپنی وہ تحریر پیش کی جائے جو ممتاز قادری کیس پر بحث کے دوران میں نے تحریر...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مکرم و محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جناب محمد ظفر اقبال صاحب کی تصنیفات کو اللہ تعالیٰ نے کافی پذیرائی عطا فرمائی ہے۔ خصوصاً ان کی تازہ تصنیف ’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘بہت زیادہ قابل توجہ بنی ۔ گذشتہ سال ایکسپو سینٹر میں ’’انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز‘‘ کے اسٹال پر رکھے گئے تمام نسخے ہاتھوں ہاتھ لیے گئے ۔ مختلف جرائد اور اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں اس پر جاندار تبصرے شائع کیے جو مذکورہ تصنیف کی اہمیت کا ثبوت ہیں۔ گذشتہ قریبا ایک صدی سے مسلم مفکرین کا مغرب کے ساتھ تعامل اس اصول کی بنیاد...

’’مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکرِ ولی اللہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ‘‘

― مولانا سید متین احمد شاہ

2014ء میں مولانا عبیداللہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللہی کے حوالے سے ’’مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکرِ ولی اللہی کا نظریات کا تحقیقی جائزہ‘‘ نامی کتاب شائع ہوئی جس کے مؤلف جناب مفتی محمد رضوان ہیں۔ یہ کتاب اصل میں مولانا سندھی کے بارے میں مختلف اہل علم کی ناقدانہ آرا اور تنظیم فکر ولی اللہی کے نظریات پر علما کے فتووں کا ایک تالیفی مجموعہ ہے۔اس کتاب کا حال ہی میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا ہے جس کے تقریباً تمام مندرجات پہلے ایڈیشن والے ہیں، البتہ اس میں پہلے ایڈیشن پر ہونے والے بعض تبصرے شامل کیے گئے ہیں جن میں سب سے مبسوط تبصرہ...

قاری ملک عبد الواحد کی رحلت

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیرانوالہ لاہور کی مجالس میں شریک ہونے والے حضرات کو قاری ملک عبد الواحد ضرور یاد ہوں گے جو ایک دور میں ان محفلوں کا لازمی حصہ اور رونق ہوا کرتے تھے، ان کا گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں ابھی قبرستان کلاں میں ان کا جنازہ پڑھا کر آیا ہوں اور آتے ہی قلم و قرطاس نے ماضی کی بہت سی یادوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ وہ گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے، میرے حفظ قرآن کریم کے دور کے ساتھیوں میں سے تھے، میں نے چند پارے مدرسہ نصرۃ العلوم میں 1958ء اور 1959ء کے دوران استاذ محترم قاری محمد یاسینؒ صاحب سے پڑھے تھے، اس وقت ملک صاحب مرحوم بھی ان...

مولانا گلزار احمد آزاد کے سفر جاپان کے مشاہدات

― حافظ محمد رشید

۱۴ اگست کو الشریعہ اکادمی میں گوجرانوالہ کی معروف دینی شخصیت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے ساتھ ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ حافظ صاحب حال ہی میں جاپان کا دورہ کر کے واپس تشریف لائے ہیں۔ ان کا یہ سفر جاپان کے درد دل رکھنے والے حضرات کی درخواست پر ہوا جو وہاں قادیانی حضرات کی سرگرمیوں کی وجہ سے فکر مند تھے ۔ حافظ صاحب نے اس نشست میں جاپانی قوم کی چند نمایاں خصوصیات اور وہاں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا ۔ ان کے خیالات کا خلاصہ حسب ذیل ہے: آج پاکستان میں سارے لوگ جشن آزادی منا رہے ہیں۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے ۔ پاکستان...

مولانا عمار خان ناصر کے سفر امریکا کے تاثرات

― ادارہ

۱۴ اگست کو ہی بعد از نماز عصر اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا عمار خان ناصر نے اپنے حالیہ سفر امریکہ کے تاثرات بیان کیے۔ مولانا عمار خان ناصر نے ڈریو یونیورسٹی (نیو جرسی، امریکہ) میں قائم سنٹر فار ریلیجن، کلچر اور کانفلکٹ ریزولوشن (CRCC) کی دعوت پر ۱۰ تا ۲۸ جولائی، تین ہفتے کے ایک سمر انسٹی ٹیوٹ میں شرکت کی جس کا عنوان ’’مذہب اور حل تنازعات‘ ‘ تھا۔ مولانا عمار خان ناصر کے تاثرات کا خلاصہ حسب ذیل ہے: آج کی دنیا میں مذہب کے مطالعہ کا ایک بڑا نمایاں زاویہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں بھی ایک سے زیادہ مذاہب کے ماننے والے موجود ہیں اور ان کے درمیان تنازعات...

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

― ادارہ

16 جولائی 2016 بروز ہفتہ بعد نماز مغرب شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بیان فرمایا اور دعا سے نئے تعلیمی سال کے اسباق کا باقاعدہ آغاز فرمایا۔ 25 جولائی 2016 کو اس سال کی پہلی پندرہ روزہ فکری نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا زاہدالراشدی مدظلہ نے حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ کے حوالے سے اپنی یادداشتیں بیان کیں۔ 11 اگست جمعرات 2016 کو بعد از نماز مغرب خانقاہ سراجیہ، کندیاں شریف کے سجادہ نشین مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور اساتذہ و انتظامیہ سے ملاقات کی ۔ نماز عشاء کے بعد اکادمی کی طرف سے عشائیہ میں...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter