’’سوچا سمجھا جنون‘‘؟ سانحۂ پشاور کے فقہی تجزیے کی ضرورت

محمد مشتاق احمد

کیا جو کچھ پشاور میں ہوا یہ بعض جنونیوں کی کارروائی تھی جو بھلے برے کی تمیز کھو بیٹھے تھے ؟ کیا یہ کسی اور کارروائی کا رد عمل تھا ؟ کیا یہ بدلے کی کارروائی تھی ؟ کیا یہ یہود و نصاری کی سازش تھی تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو مزید بدنام کردیں ؟ کیا واقعتاً اسلامی قانون میں کچھ ایسے اصول و ضوابط ہیں جن کی رو سے یہ کارروائی مستحسن ، یا کم سے کم جائز ، تھی ؟ یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات اس وقت سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں اور اب اہلِ علم ان کے جواب سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔ 

قانونی حیثیت کا تعین : مجرم ، باغی یا خارجی؟

قانونی تجزیے کے لیے سب سے پہلے اس بات کا تعین کرنا پڑتا ہے کہ ان لوگوں پر اسلامی قانون کے کس حصے کا اطلاق ہوتا ہے ؟ کیا یہ دیگر مفسدین اور مجرموں کی طرح ہیں جن پر فوجداری قانون کے تحت مقدمہ چلایا جاتا ہے اور پھر جرم ثابت ہونے پر ان کو سزا دی جاتی ہے ؟ یا یہ باغی ہیں جن پر جنگ کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے ؟ ڈاکووں کے گروہ کے پاس بھی طاقت ہوتی ہے ، ایک مضبوط جتھا ہوتا ہے اور مقابلے کی صلاحیت ہوتی ہے ؛ یہی کچھ باغیوں کے پاس بھی ہوتا ہے ۔ تاہم عام مفسدین اور باغیوں میں فقہاے احناف اس طرح فرق کرتے ہیں کہ باغیوں کے پاس ’’تاویل‘‘ بھی ہوتی ہے ، یعنی وہ خود کر برسرحق اور حکمران کو ناجائز سمجھتے ہیں اور اپنے تئیں باطل کو حق کے ذریعے تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ قانونی اصطلاح میں بات اس طرح کی جاتی ہے کہ ڈاکووں کے پاس صرف ’’منعۃ‘‘ ہوتا ہے ، جبکہ باغیوں کے پاس ’’منعۃ‘‘ کے علاوہ ’’تاویل‘‘ بھی ہوتی ہے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی تاویل صحیح ہو ۔ کیا حکمران مسلمانوں پر حکمرانی کا حق کھو بیٹھا ہے یا نہیں ؟ اس معاملے میں اختلافِ راے ممکن ہے اور اسی وجہ سے بعض کے نزدیک باغیوں کی تاویل صحیح اور بعض کے نزدیک فاسد ہوگی لیکن بہرصورت ان پر بغاوت کے قانون کا اطلاق ہی ہوگا ۔ 

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ بغاوت کی صورت میں باغی اور حکمران دونوں ’’مومن‘‘ ہی رہتے ہیں اور اسی لیے فریقین پر ’’کفار‘‘ سے لڑنے کے دوران میں عائد ہونے والی پابندیوں کے علاوہ بعض مزید پابندیاں بھی عائد ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر مسلمان کا مال ’’غنیمت‘‘ نہیں قرار دیا جاسکتا ، نہ ہی مسلمان عورت پر ’’ملکِ یمین ‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر باغیوں کا موقف یہ ہو کہ ان کے مخالفین کا خون بہانا ان کے لیے ویسے ہی حلال ہے جیسے کفار کا ہے ، یا وہ ان کے مخالفین پر غنیمت یا ملکِ یمین کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے ، تو ایسی صورت میں وہ محض باغی نہیں ، بلکہ ’’خارجی‘‘ کہلاتے ہیں ۔ 

پس قانون توڑنے والے کسی گروہ کے پاس محض ’’منعۃ‘‘ ہو تو وہ ڈاکو ہیں اور ان پر فوجداری قانون کا اطلاق ہوتا ہے ؛ اگر اس ’’منعۃ‘‘ کے علاوہ ان کے پاس تاویل بھی ہو تو وہ باغی ہیں اور ان پر جنگ کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے ؛ اور اگر ’’منعۃ‘‘ اور تاویل رکھنے کے علاوہ یہ گروہ اپنے مخالفین کی تکفیر بھی کرتے ہوں تو پھر یہ خارجی ہیں ۔ خوارج پر بھی جنگ کے قانون کے اطلاق ہوتا ہے لیکن ان کا مسئلہ صرف ’’عملی‘‘ نہیں بلکہ ’’اعتقادی‘‘ بھی ہوتا ہے ۔ 

حملہ آورجس گروہ کا حصہ تھے اس کے پاس ’’منعۃ‘‘ ہے ، یہ حقیقت تو سالہاسال سے تسلیم شدہ ہے ۔ اس گروہ نے اپنے برسرحق ہونے کے لیے تاویل کا سہارا لیا ہے ، یہ بات بھی کافی عرصے سے ، کم از کم اہلِ علم کے لیے ، ایک معلوم حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس لیے اس گروہ کی حیثیت باغیوں کی ہے ، یہ بات اہلِ علم کے لیے واضح تھی ۔ سانحۂ پشاور نے ایک اور حقیقت واشگاف کردی ہے جس سے کئی لوگ اب تک نظریں چرارہے تھے ۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ اس گروہ کے نزدیک ان کے مخالفین ، بلکہ وہ سبھی لوگ جو اس گروہ میں شامل نہیں ہیں خواہ وہ اس گروہ کی مخالفت بھی نہ کریں ، ’’کافر‘‘ ہیں ۔ جیسا کہ آگے واضح کیا جائے گا ، اس گروہ کا طرزِ عمل اور اس طرزِ عمل کے جواز کے لیے ان کا استدلال دونوں ہی یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کردیتے ہیں کہ اس گروہ سے باہر کے افراد اس گروہ کے نزدیک مسلمان نہیں رہے ۔ پس اس گروہ کی حیثیت صرف باغیوں کی نہیں رہی ، بلکہ ان پر خوارج کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے ۔ 

کفار کے ساتھ جنگ کے حدود و قیود 

یہ سوال کہ اپنے گروہ سے باہر کے افراد کی تکفیر کے بارے میں اس گروہ کا موقف کس حد تک صحیح ہے ، ہم علمِ کلام کے ماہرین کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور بحث کو صرف اس فقہی سوال تک محدود کرلیتے ہیں کہ کیا کفار کے ساتھ جنگ میں ’’سب کچھ ‘‘ جائز ہوجاتا ہے ؟ یا اس میں جائز و ناجائز کے کچھ پیمانے مقرر کیے گئے ہیں ؟ 

اصولی طور پر تو یہ گروہ بھی ’’سب کچھ ‘‘ کے جواز کا قائل نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہماری فقہ کی رو سے ناجائز ہے کیا وہ ان کی فقہ کی رو سے بھی ناجائز ہے ؟ اہلِ علم کے لیے یہی اصل سوال ہے ۔ اسی سوال کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کی اپنی ایک مخصوص فقہ ہے جو کم سے کم فقہِ حنفی سے یکسر مختلف ہے ۔ 

مثال کے طور پر فقہِ حنفی کی رو سے عین حالتِ جنگ میں بھی کفار کے بچوں کا قتل ناجائز ہے ، الا یہ کہ بچہ حملہ کرے اور دفاع کے لیے سواے اس کے قتل کے اور کوئی راستہ نہ ہو ۔ امام محمد بن الحسن الشیبانی نے السیر الصغیر کی ابتدا اس مشہور روایت سے کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ صحابۂ کرام کو جنگ پر روانہ ہونے سے قبل ہدایات دیتے ہیں اور جسے فقہائے احناف جنگ کے قانون کے لیے گویا اصلِ اصول کے طور پر مانتے ہیں ۔ اس روایت میں ایک ہدایت یہ مذکور ہوئی ہے : و لا تقتلوا ولیداً  ( اور کسی بھی بچے کو قتل نہ کرو ) ۔ فقہاے احناف کا اصول ہے کہ نفی کے سیاق میں نکرہ آئے تو وہ عموم کے لیے ہے ۔ اس کے ساتھ فقہاے احناف کا دوسرا اصول ملائیے کہ عام اپنی دلالت پر قطعی ہوتا ہے اور اس کی تخصیص کے لیے قطعی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ 

تاہم اس گروہ کے نزدیک جنگ میں کفار کے بچوں کا قتل جائز ہے اور استدلال اس روایت سے کرتے ہیں جس میں آیا ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے جنگ میں کفار کے بچوں کے قتل ہونے کے بارے میں فرمایا : ھم منھم  (وہ ان میں سے ہیں) ۔اب حنفی فقہا کے نزدیک پہلی روایت اصلِ اصول کی حیثیت رکھتی ہے اور نیز وہ دیگر آیات ، احادیث اور اسلامی قانون کے قواعدِ عامہ کی رعایت ضروری سمجھتے ہیں ، اس لیے وہ اس حدیث کا مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ اس میں بچوں کو نشانہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ ان تک پہنچنے والے غیر ارادی نقصان کو اضطراراً برداشت کیا گیا ہے ۔ تاہم اس گروہ کی فقہ یہ نہیں کہتی ، بلکہ وہ ھم منھم کا مفہوم کچھ اور متعین کرتی ہے اور اسی کو اصلِ اصول مانتی ہے۔ 

اسی طرح فقہِ حنفی کی رو سے بدلے کی کارروائی میں ، یا معاملۃ بالمثل  کے نام پر، بھی بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانا قطعاً ناجائز ہے ۔ امام شیبانی نے یہ جزئیہ کفار کے ساتھ معاہدات کے ضمن میں بھی ذکر کیا ہے اور باغیوں کے ساتھ معاہدات کے باب میں بھی کہ اگر ان کے ساتھ معاہدے میں طے پایا کہ فریقین ایک دوسرے کو اپنے بعض افراد ضامن کے طور پر دے دیں گے اور اگر ایک فریق نے دوسرے کے ضامنوں کو قتل کیا تو دوسرا فریق بھی جواباً اس کے ضامنوں کو قتل کرسکے گا ، تب بھی ہمارے لیے یہ ناجائز ہوگا ۔ امام سرخسی نے عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے ایک اسی طرح کے معاہدے کا ذکر بھی کیا ہے جس کے بعد دوسرے فریق نے مسلمانوں کے ضامنوں کو قتل کردیا تھا اور منصور نے اس فریق کے ضامنوں کے قتل کے جواز کے بارے میں فقہا سے رہنمائی طلب کی ۔ امام ابو حنیفہ نے واضح کیا کہ یہ شرط ہی شریعت کے خلاف تھی اوریہ کہ ایک شخص کے جرم کی سزا دوسرے شخص کو نہیں دی جاسکتی ۔ تاہم اس گروہ کی فقہ کی رو سے اگر ایک فریق دوسرے کے بچوں کو نشانہ بنائے تو دوسرے فریق کو بھی پہلے فریق کے بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت مل جاتی ہے اور اس نوعیت کی کارروائی کو یہ گروہ برابر کا بدلہ ، قصاص اور معاملہ بالمثل قرار دیتا ہے۔ 

پھر فقہِ حنفی کی رو سے تو کفار میں بھی وہ تمام لوگ ، بشمول بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں ، معذوروں ، کسانوں اور تاجروں کے ، جو جنگ میں ’’براہِ راست حصہ نہیں لیتے ‘‘، غیر مقاتلین ہیں اور ان کو جنگ میں عمداً نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح فقہِ حنفی مباشر اور متسبب کے حکم میں فرق کرتی ہے اور فعل کو مباشر کی طرف ہی منسوب کرتی ہے ، الا یہ کہ مباشر کی حیثیت متسبب کے ہاتھ میں محض ایک آلے کی سی ہو ۔ نیز فقہِ حنفی فعل کو قریب ترین اور قوی ترین سبب کی طرف منسوب کرتی ہے ۔ ان قواعد کا لازمی نتیجہ ہے کہ فقہِ حنفی کی رو سے کفار کا ہر ’’عام شہری‘‘ اور ’’ٹیکس ادا کرنے والا‘‘ مقاتل نہیں ہوسکتا بلکہ صرف وہی لوگ مقاتل ٹھہرتے ہیں جو جنگ میں براہِ راست حصہ لیں ۔ تاہم اس گروہ کی فقہ کی رو سے ہر شہری، یہاں تک کہ سکول میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیاں بھی محض اس بنا پر مقاتل قرار دیے جاتے ہیں کہ وہ طبعی بلوغت کی عمر تک پہنچ چکے تھے! 

اس گروہ کی فقہ کی رو سے جنگ میں ہر وہ کام جائز ، بلکہ مستحسن اور باعثِ ثواب ، ہے جس سے دشمن کو تکلیف پہنچتی ہو ، جو نکایۃً للعدو  کیا جائے ،اور اس کے جواز کے لیے مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ چنانچہ اس گروہ کے نزدیک عام طور پر بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانے سے گریز بہتر ہے لیکن اگر اس طرح دشمن کو دلی اذیت ملتی ہو تو یہ کام باعثِ ثواب بن جاتا ہے ۔ اس کے برعکس فقہِ حنفی کی رو سے شریعت کے حرام کردہ بعض کام جنگ میں بھی ، اور اضطرار اور اکراہِ تام کی صورت میں بھی ، بدستور حرام ہی رہتے ہیں ۔ 

چنانچہ حنفی فقہا کا موقف یہ ہے کہ خودکشی اضطرار کی صورت میں بھی ناجائز ہی ہوتی ہے اور یہ کہ شہید صرف اسی شخص کوکہا جائے گا جس کی موت دشمن کے فعل سے واقع ہو یہاں تک کہ اگر کسی مسلمان کے سینے میں دشمن نے نیزہ گھونپ دیا ہو اس پر اس وقت بھی یہ سوچنا لازم ہے کہ آگے بڑھنے کی صورت میں کہیں وہ خودکشی کا مرتکب تو نہیں ہوجائے گا ، جبکہ اس گروہ کی فقہ کی رو سے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے ، یا خود کو گرفتاری سے بچانے کے لیے ، خود کشی نہ صرف جائز بلکہ شہادت کی اعلی قسم ہے ۔ 

اس گروہ کی فقہ کی رو سے دشمن کو اذیت دینے کے لیے عورتوں کو زندہ جلانے کی سزا دی جاسکتی ہے ، جبکہ حنفی فقہا کے نزدیک آگ کے ذریعے جلانے کی سزا صرف آگ کا پروردگار ہی دے سکتا ہے ۔ 

اس گروہ کی فقہ کی رو سے اگر کسی شخص کی جان کی حرمت اور حلت میں شبہ ہو تو حلت کو ترجیح حاصل ہے ، جبکہ فقہِ حنفی کی رو سے ایسی صورت میں حرمت کو ترجیح حاصل ہے ۔ 

کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا؟ 

یہ جملہ میڈیا پر کچھ زیادہ ہی چل پڑا ہے اور حقیقت پسندی پر نہیں بلکہ رومانویت پر مبنی ہے ۔ جس قدر جلد ہم اس رومانس سے نکل کر حقیقت سے آنکھیں ملائیں اس قدر ہی اس قوم کے حق میں بہتر ہوگا ۔ بعض دوستوں سے سنا کہ اس واقعے کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہے ! میں نے عرض کی کہ اگر انڈیا کا ہاتھ نہ ہو تو حیرت کی بات ہوگی ۔ ظاہر ہے کہ تنور گرم ہو تو ہر کوئی اس میں روٹی لگانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس لیے اگر اس واقعے کے پیچھے انڈیا ، امریکا یا اسرائیل کا ہاتھ ہو تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ جو لوگ ان بچوں کا نشانہ بنارہے تھے اور پھر خود بھی نشانہ بنے ، یا انھوں نے خودکشی کرلی ، کیا وہ انڈیا کی خوشنودی یا امریکا کا ویزا چاہتے تھے ؟ یا جنت میں جانا چاہ رہے تھے ؟ پس اصل سوال یہی ہے کہ کس بنیاد پر ان لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ بچوں کو ذبح کرکے ، یا قتل کرکے ، یا عورتوں کو زندہ جلا کر ، وہ جنت جاسکیں گے ؟ یہ بات سمجھ میں آجائے تو بہت سی غلط فہمیوں ، اور خوش فہمیوں ، کا ازالہ ہوجائے گا ۔ 

جنونی رد عمل یا ’’سوچا سمجھا جنون‘‘؟ 

ایک رائے جو اس وحشت اور بربریت کو جواز عطا کرنے ، یا اس کی سنگینی کم کرنے ، کے لیے پیش کی جاتی ہے ، یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا دراصل اس ظلم اور سفاکی کا رد عمل ہے جس کا مظاہرہ ان لوگوں کے خلاف پاکستانی افواج نے کیا ہے۔ اس بحث میں جائے بغیر کہ افواج کے خلاف اس الزام میں کتنی صداقت ہے ، یا یہ کہ اس کے جواب میں افواج کی اخلاقی ذمہ داری کیا بنتی ہے ، اس وقت جو سوال مجھے پریشان کررہا ہے یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ’’جنونی رد عمل ‘‘ تھا ؟ رد عمل تو فوری ہوتا ہے ، اور بغیر سوچے سمجھے ہوتا ہے ، جسے قانون ’’سنگین اور فوری اشتعال‘‘ کا عنون دیتا ہے ۔ سنگین اور فوری اشتعال کے نتیجے میں بعض اوقات انسان کوئی بہت ہی ناجائز کام کربیٹھتا ہے جسے جواز تو نہیں دیا جاسکتا لیکن کم از کم سمجھ میں تو آجاتا ہے کہ یہ اس وجہ سے ہوا ۔ یہاں تو جو کچھ ہوا ہے وہ پوری منصوبہ بندی اور تیاری کے بعد کیا گیا ہے اور ، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ، اس کے جواز بلکہ استحباب کے لیے فقہی و قانونی استدلال کا ایک پورا نظامِ فکر ہے ۔ اس لیے اگر یہ جنون ہے بھی تو بہت ہی ’’سوچا سمجھا جنون‘‘ ہے! اس جنون کی فکری بنیادیں درج ذیل ہیں: 

  • اس گروہ نے جن لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں، وہ مرتد ہیں ؛ 
  • اس گروہ کے مخالفین کی حمایت کرنے والے سبھی لوگ ، خواہ وہ فوج میں ہوں ، پولیس میں ہوں ، یا عام شہری ہوں ، مرتد ہیں ؛ 
  • اس گروہ کے مخالفین اور ان مخالفین کے حامیوں میں عاقل بالغ سبھی انسان مقاتلین ہیں ، خواہ انھوں نے زندگی میں ایک بار بھی ہتھیار نہ اٹھایا ہو ، یہاں تک کہ محض ٹیکس ادا کرنے سے بھی وہ مقاتلین بن جاتے ہیں ، اور ٹیکس تو ٹافی خریدتے ہوئے بھی ادا کیا جاتا ہے، اس لیے میٹرک کا وہ طالب علم جو طبعی بلوغت کی عمر تک پہنچ چکا ہو، مقاتل ہے ؛ 
  • جب مخالفین اور ان کے لیے ٹیکس ادا کرنے والے سبھی عاقل بالغ انسان مرتد اور مقاتل ہیں تو اس کے بعد حملے کو صرف ’’فوجی ہدف‘‘ تک محدود رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ کسی بھی جگہ ان ’’نام نہاد شہریوں‘‘ پر ، جو دراصل ’’مقاتلین‘‘ ہیں ، حملہ کیا جاسکتا ہے ؛ 
  • کبھی ’’جنگی مصلحت ‘‘ کی بنیاد پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے اجتناب بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اصلاً ان کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا ؛( چنانچہ اگر ’’آرمی پبلک سکول ‘‘ کی جگہ ’’گورنمنٹ ہائی سکول‘‘ کے طالب علموں کو نشانہ نہیں بنایا گیا تو کسی بہت بڑی خوش فہمی میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔)
  • پس ہدف کے انتخاب میں صرف اور صرف ’’جنگی مصلحت‘‘ کو دیکھا جاتا ہے ؛ کس ہدف پر کم سے کم وقت اور توانائی کے استعمال سے زیادہ سے زیادہ ’’جنگی فائدہ‘‘ اٹھایا جاسکتا ہے ؟ فوجی کیمپ ؟ چیک پوسٹ ؟ سکول ؟ 
  • مخالفین ، یا ان کے حامیوں ، میں اگرچہ بعض ’’غیر مقاتلین‘‘ بھی ہیں ، جیسے نابالغ بچے ، لیکن ان کے والدین ، یا مخالفین کے دیگر ’’عاقل بالغ مقاتلین ‘‘کو اذیت دینے ، یا ان کا حوصلہ پست کرنے ، کے لیے ان نابالغ بچوں کو بھی عمداً نشانہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ ’’یہ انھی میں سے ہیں ‘‘! 
  • مخالفین نے اگر اس گروہ کے بچوں کو نشانہ بنایا ہے تو پھر مخالفین ، یا ان کے حامیوں ، کے ان غیر مقاتلین بچوں کو نشانہ بنانے کے جواز کے لیے صرف ’’برابر کے بدلے‘‘ کا اصول ہی کافی ہے ؛ ان کے ساتھ وہی کچھ ، اور ویسا ہی کچھ کرو جو انھوں نے تمھارے ساتھ ، جس طرح ، کیا ہے ! 
  • باقی رہیں مخالفین ، یا ان کے حامیوں ، کی عاقل بالغ عورتیں تو چونکہ وہ عاقل بالغ ہیں اور ٹیکس بھی ادا کرتی ہیں ، نیز بعض دیگر کام بھی کرتی ہیں جن سے مخالفین کو کسی طور مدد ملتی ہے ، اس لیے وہ بھی مقاتلین ہی ہیں اور ان کے ساتھ وہی کچھ کیا جاسکتا ہے جو مقاتلین کے ساتھ کیاجاتا ہے ؛ 
  • جنگ میں ہر وہ کام باعث اجر و ثواب ہے جس سے مخالفین ، یا ان کے حامیوں ، کو اذیت ملتی ہے ، یا ان کا حوصلہ پست ہوتا ہے ، خواہ یہ کسی مقاتل عورت کو زندہ جلانا ، یا کسی غیر مقاتل بچے کو ذبح کرنا ، ہو ؛ 
  • خود کش حملہ کمزور فریق کا بہترین ہتھیار ہے ؛ خود کش حملے کے خوف سے مخالفین تمھارے قریب نہیں آئیں گے اور تم زیادہ سے زیادہ آگے بڑھ کر ان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچاسکتے ہو ؛ پھر چونکہ تم موت کے خوف سے نہیں ، بلکہ اپنے لوگوں کے رازوں کی حفاظت ، یا دشمن کو نقصان پہنچانے کی خاطر ، اپنی جان کی قربانی دوگے ، اس لیے یہ شہادت کی اعلی و ارفع قسم ہوگی ؛ پس یہ سب کچھ کرنے کے بعد یہ آخری کام بھی کرگزرو تو جنت تمھاری ہے ! 

یہ ہے وہ سوچا سمجھا استدلال جو اس جنون اور وحشت کے پیچھے کارفرما ہے ۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام اس طرح کے حملوں کو ناجائز قرار دیتا ہے ، ان پر لازم ہے کہ وہ اس استدلال کے ہر جز کا عدم جواز ثابت کریں ، ورنہ محض جذباتی نعروں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ 

آراء و افکار