ادب میں مذہبی روایت کی تجدید

مولانا محمد انس حسان

انسان نے آج تک صدیوں کا سفر طے کیا ہے اور پتھر کے زمانے سے نکل کر وہ خلاء کے عہد تک پہنچ چکا ہے۔ اس دور میں اس کی ترقی سائنس اور ٹیکنالوجی میں نمایاں ہے۔ یہ صنعتی انقلاب تمام دنیا میں پھیل چکا ہے۔ ہم جو کھانا کھاتے ہیں، جو کپڑے پہنتے ہیں اور وہ گھر جس میں ہم رہتے ہیں، وہ الفاظ جو ہم استعمال کرتے ہیں اور وہ ذرائع جن سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں یہ سب صنعت و حرفت اور اجتماعی اختراعات کی پیدا کردہ ہیں۔ ان سب نے مل کر انسانی زندگی کو ایک مقام بخشا ہے اور اس کی آسائش و آرائش کا سامان مہیا کیا ہے لیکن اسی کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ زندگی اس قدر عجیب و غریب دور سے گزر رہی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ایک نئے شعور سے ہم دو چار ہوئے ہیں لیکن انسان کا مستقبل کیا ہو گا اس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ اس لیے کہ ایک طرف تو یہ ٹوٹا ہوا تارا ’’مہ کامل‘‘ بننے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف اس کی زندگی کی الجھنیں اس کی ہر نئی صبح ہی سے شروع ہو جاتی ہیں۔ زندگی کا کوئی دن کسی ایسے واقعہ کے بغیر نہیں گزرتا جو حیرت انگیز نہ ہو۔ ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کچھ دیر میں وہ سب کچھ بتا دیتے ہیں جو پہلے ممکن نہ تھا۔ میڈیا چینلز اور اخبارات انتشار کی خبروں سے ہمیں دہشت زدہ اور ہمارے خیالوں کو پراگندہ کر دیتے ہیں جو ذہن انسانی پر نا امیدی اور مایوسی کے نقوش بٹھا دیتے ہیں۔ اخبار کی صرف سرخیاں ہی دیکھ کر ہم اپنے آپ کو بے بس، لاچار اور مجبور، پانی کے بہاؤ میں ایک تنکے کے مانند محسوس کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کا بھی پتہ نہیں چلتا کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے عہد کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے وسائل سے بھی ہم واقف نہیں ہوتے اور ہماری شخصیت ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ انسانی شخصیت کے اس بکھراؤ کو سمیٹنے کے لئے ہمارے پاس کوئی علاج بھی نہیں اور اب ایسا لگتا ہے جیسے ہماری ذات کی افسوس ناک الجھنیں مکمل ہو چکی ہیں۔ سائنس دان اپنی لیبارٹریز میں بند ہیں۔ سیاست دان اپنی کرسیوں پر جمے ہوئے ہیں۔ مورخین اپنی کھلی آنکھوں سے صدیوں کی تاریخیں مکمل کر رہے ہیں۔ ماہرین عمرانیات اعداد و شمار میں گم ہیں۔ یہ سب انسانیت کے بہی خواہ اپنی آراء ہمیں پیش کرتے ہیں اور اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ان کی یہ پیش کردہ آراء اور حقائق میں کم و بیش سچائی بھی ہے لیکن جب ہم ان آوازوں کو بیک وقت سنتے ہیں تو ان میں اس قدر اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے کہ انسانی ذہن اور منتشر ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہمارے عہد کے تاریک مسائل اتنے آسان بھی نہیں جنھیں یہ لوگ مل جل کر حل کر سکیں اور انسانی شخصیتوں کو اپنی نیک خواہشات کی روشنی دکھا سکیں۔ جہاں ذہنی انتشار کی وجوہات اور اسباب پر چند ذہن صاف ہیں وہیں بیشتر اذہان ان کی رہنمائی سے اور گمراہ ہو جاتے ہیں اور ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آخر سچائی کی جستجو میں کس سمت اور راستے کو اختیار کیا جائے۔

نہ جدید تہذیب پر اب ان کا ایمان ہے اور نہ مستقبل میں کوئی امید۔ ان حالات میں جدید انسان اپنی خواہشوں اور امیدوں کی پیدائش اور موت کا نظارہ کرتا ہے۔ وہ ہمدردی اور سہارے کے لئے دیکھتا ہے لیکن کہیں اسے کوئی چمک نظر نہیں آتی۔ اس کا دل و دماغ نا امیدی اور مایوسی کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں اور یہ سوال اس کے سامنے بار بار آتا ہے کہ کیا ہماری زندگی کے مقصد کی یہی انتہائی منزل ہے جس کی طرف جدید دور نے رہنمائی کی ہے؟

آج سماج جس قدر پست، خود غرض اور بے حس ہو گیا ہے شاید اس سے قبل کبھی ایسا نہ رہا ہو۔ آج غربت اور مفلسی کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اخلاقی گراوٹ اور لا مذہبیت نے بھی سماج میں وہ برائیاں پیدا کر دی ہیں جن سے عقائد اور خیر و برکت کو ایک زوال سا آ گیا ہے۔ ہمارے سماج کا ایک بڑا حصہ برائیوں میں پہلے سے زیادہ مبتلا ہے اور پہلے سے زیادہ مادہ پرست ہو گیا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو ابتداء میں مذہب سے دور تھے آج بھی ویسے ہی ہیں اور بہت سے مذہبی تعلیم اور مذہبی امور میں پڑنا عمل بے لذت تصور کرتے ہیں اور اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ان کے پاس اس کے لئے وقت ہی نہیں ہے۔ جب مذہب و اخلاق کو کمزور کر دیا جائے تو اس کے نتائج برے ثابت ہوتے ہیں۔ جب مذہب کی اندرونی روح ہی غائب ہو جائے اور جب ماضی کا صحت مند ورثہ اور عقائد قدیم نسل کے ساتھ چلے جائیں اور نئی نسل کے لئے بے معنی ہو جائیں تو یہ بات ظاہر ہے کہ سماج کا بیرونی ڈھانچہ انتشار اور جرائم میں مبتلا ہو جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہو گاکہ انسان انفرادی طور پر اپنے ساتھیوں سے بدظن ہو جائے گا۔

اگر ہم اپنے ماضی کے ورثے پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے علماء، صوفیاء اور مفکرین نے ہمارے لئے اپنی زندگی کے بیش بہا تجربات کو اپنی تحریروں میں منتقل کر دیا ہے، کیا آج واقعی یہ اثاثہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہے؟ کیا انسانی روح یوں ہی آوارہ سرگرداں گھومتی اور بھٹکتی رہے گی؟ دنیا صدیوں کے تجربات سے آشنا ہے لیکن کیا ہمارے عہد کے مسائل کو حل کرنے میں ان سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی؟ کل تک اس بات پر یقین تھا کہ انسانی ذہن قدرت کی جانب رواں دواں ہے لیکن آج بعضوں کا یہ خیال ہے کہ یہ برائیوں اور تخریب کاری کی طرف مائل ہے، تو کیا ان کے اس بیان کو جھٹلایا جا سکتا ہے اور خاص طور پر اس وقت جبکہ جدید عہد کے تباہ کن اور مہلک اثرات نے ہمارے ان عقائد کی بیخ کنی کر دی ہے جن کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جس شخص نے اپنے عہد میں غیر متوازن رفتار زندگی، مہلک آلاتِ جنگ اور انسانوں کی بد اعمالیاں دیکھی ہوں اس کے لئے یہ کچھ بعید بھی نہیں کہ وہ قدرت اور اس کے نظام کائنات سے اپنا عقیدہ اٹھا لے جبکہ سچائی کا چہرہ مسخ کر دیا گیا ہو۔ نیک افراد کو نا امیدی کے تاریک گڑھوں میں دھکیل دیا گیا ہو اور جب کہ جھوٹ ظلم اور خباثت جیسی برائیاں طاقتور ہو گئی ہوں، تو ان حالات میں انسان کا تشکیک میں مبتلا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر انسان ذہنی طور پر زندگی کے متعلق غلط رویہ یا رجحان رکھتا ہو تو اس کی ظاہری شخصیت، سیاسی، سماجی اور عمرانی تعلقات بھی بے راہ روی کا شکار ہوں گے۔ جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان مجموعی طور پر اپنی معاشرتی زندگی کو کیوں کر کامیاب نہیں بنا سکتا۔ اس لیے بھی کہ آفاقی قوتوں کی کار فرمائی کے بجائے اس کا ایمان تخریبی عناصر پر زیادہ رہتاہے۔

اس مادی ترقی کی دوڑ میں کچھ کرنے اور بنانے کے شوق نے بھی انسانی اعصاب میں ایک قسم کا تناؤ، ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں کو پیدا کر دیا ہے، جس سے چھٹکارا پانے کے لئے انسان نے مصنوعی نشاط انگیز دوائیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ انجام کار اس سے انسانی شخصیت اور اس کے کردار پر ایک ایسی ضرب پڑی کہ اس کے اخلاق اور کردار کی بنیادیں ہل گئیں۔ جدید صنعت و حرفت سے نئی مشینوں کی ایجاد تو ہوئی جن کے باعث مزدوروں کو روٹی نصیب ہو گئی لیکن ان مشینوں نے فرد کی طمانیت قلب اور اس کی انفرادی آزادی اور انسانی قدر کو بالکل کم کر دیااور اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ وہ بھی مشین کی طرح صبح سے شام تک روزانہ ایک ہی قسم کی حرکت کرتا رہے۔ کام کی اسی یکسانیت نے اسے بھی مشین کا ایک پرزہ بنا دیا، جس نے انسانی اعصاب پر برا اثرکیا اور انسان خود ایک ایسی شے بن گیا جس کی اس کے سوا اور کوئی اہمیت نہیں کہ وہ مشینوں سے اشیاء پیدا کرتا رہے۔ جس کے پاس نہ انسانی جذبہ و احساس ہے نہ فہم و ادراک۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان نے ظاہری زندگی کو سنوارا ہے اور اپنے ذہنی توازن کو برقرار نہیں رکھا ہے تو اسے اپنی عزیز ترین شئے کی قربانی دینی پڑی ہے۔ زندگی کی آسائشوں کو حد سے زیادہ حاصل کرنے کی قیمت روحانی اقدار سے ادا کرنی پڑی ہے۔ سائنس اور صنعت و حرفت کی ترقی سے انسان کا گھر بھرا جا رہاہے لیکن اس کا دل اطمینان اور سکون سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ چونکہ ہم گاڑی، جہاز اور دیگر جدید اختراعات کے حامل ہیں اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے آباؤ اجداد سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور اس میں شک بھی نہیں لیکن ہم صرف اشیاء کے بارے میں زیادہ باخبر ہیں اور اپنی ذات سے بے خبر اور نا آشنا ہیں۔ زندگی کے مقصد اور اندرونی حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ ہم نے اپنے اسلاف کے کارناموں اور ان کے فلسفوں کو محدود تو کر دیا ہے لیکن خود ہمارے فلسفوں میں گہرائی نہیں ہے۔

جدید معاشرے میں یہ نظریہ عام ہو گیا ہے کہ اگر زندگی کو عیش و عشرت کے اسباب، دوستوں اور مسرتوں سے بھر دیا جائے تو زندگی کا مقصد خود بخود حل ہو جائے گا اور وہ زندگی کی مسرتوں سے ہم کنار ہو جائیں گے لیکن یہ ایک ایسی صریح غلطی ہے جس کا ارتکاب خود مغرب بھی کر چکا ہے۔ بعض لوگ انفرادی طور پر اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ مغربی تہذیب اپنی روز افزوں ترقی کے باوجود ذہنی سکون نہیں دے سکی۔ اگرچہ اس کے امکانات نئی تہذیب کے لوازمات سے پر ہیں۔ بہترین لباس اور قوی غذاؤں کی ان کے یہاں کمی نہیں لیکن وہ اس بات کو محسوس کرنے لگے ہیں کہ وہ صرف دنیاوی اسباب میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے ہاں داخلی زندگی میں روحانیت کے فقدان کا اعتراف اب نمایاں طور پر سامنے آنے لگا ہے۔ ادھرہم سائنس اور صنعت و حرفت کی ترقی کے باوجود عدم تحفظ کا شکار ہیں اور زندگی ہمیں بے معنی نظر آنے لگی ہے۔ آج ہمیں پھر ایک ایسے اعتقاد کی ضرورت ہے جو جدید انسان کے اس ذہنی خلفشار کو ختم کرنے میں مدد گار و معاون ثابت ہو سکے۔ اس کے لئے جدید انسان نے مذہب و اخلاق کے دروازوں پر دستک دینے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا ہے اور یہ اس لئے بھی کہ مذہب ماضی میں بھی انسانی تہذیب کے لئے ایک طاقتور آلہ کار رہا ہے اور حال میں بھی اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ آج انحطاط پذیر سوسائٹی کی اخلاقی گراوٹ سے متاثر ہو کر مذہب و اخلاق کی باتیں موضوع بحث بن رہی ہیں۔

ان حالات میں ادب بے اعتقاد اور منکر مذہب و اخلاق کیسے رہ سکتا تھا۔ ادب میں کئی مذہبی تصورات ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہونے لگے۔ خاص طور پر شاعری سب سے زیادہ متاثر ہوئی اور ہمارے شاعر مذہبی تجربے کی قدر و قیمت کو تسلیم کرنے لگے۔ جدیدیت کے آغاز میں خدا اور مذہب سے بیزاری ایک نمایاں رجحان کی شکل میں ظاہر ہو رہی تھی لیکن جدید ادیب روحانی اور مذہبی تجربے سے بالکل بے گانہ بھی نہیں تھے۔ ایک طرف تو ان کے ذہن پر سائنس کی صداقت چھائی ہوئی تھی دوسری طرف ان کا دل مذہبی عقیدت کے جذبے سے بھی مملو تھا۔ وہ ایک ایسی ذہنی کش مکش سے گزر رہے تھے کہ ان کے خیالات و افکار میں توازن برقرار نہ رہ سکا۔ علوم جدید سے متاثر ہو کر محسوسات کو سب کچھ مان لیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس سے عقائد کا شیشہ پاش پاش ہو جاتا ہے اور مذہب ایک جنون خام کے سوا کچھ نہیں رہتا لیکن بعد کے تجربات نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ صرف مادہ پرستی ہی میں انسانی عظمت کا راز پوشیدہ نہیں ہے بلکہ اس کے لئے روحانی آزادی بھی ضروری ہے۔ اس لئے کہ انسان صرف نفسیاتی وجود ہی نہیں رکھتا بلکہ اس کا مابعد الطبیعاتی وجود بھی ہے جو اپنا حق مانگتا ہے۔ اپنی ذات کو بے پردہ دیکھنے اور مادے کی دلدل سے نکل کر روح کا دست نگر ہونے کا یہ عمل ماضی کی دریافتِ نو ٹھہرا۔ ذاتِ واجب کی طرف یہ مراجعت بحیثیت ایک مذہبی شخص کے نہیں بلکہ مذہبی اور روحانی قدروں کی روشنی میں عرفان ذات و کائنات حاصل کرنا تھا اور جہاں پھیلنے کے بجائے سمٹ جانے کا رجحان پیدا ہو جائے وہاں خواہشوں اور آرزوؤں کی دنیا بھی محدود ہو جاتی ہے اور انسانی ذہنی طور پر پُر سکون اور مطمئن ہو جاتا ہے۔ جدید اردو ادیبوں اور شعراء کے فلسفیانہ افکار میں جو مذہبی رجحان ظاہر ہوا وہ اسی بات کی غمازی کرتا ہے لیکن اظہار و بیان میں ایک ایسا انداز اختیار کیا گیا جو قاری کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ایک تجسس پیدا کر کے اپنی ہم سفری کے لئے آمادہ کر لیتا ہے۔ اب ادیب اور شاعر کے لہجے میں وہ واعظ اور معلم کا آہنگ بھی نہیں سنائی دیتا جو قدیم لوگوں کا مخصوص رنگ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی نسل مذہب کو ایک رسمی شے تصور نہیں کرتی بلکہ اس میں زندگی کا اصلی سرچشمہ تلاش کرتی ہے۔ مذہب اس کے لئے ایک ذاتی شئے ہے، خدا اور اپنے درمیان اب وہ کسی واسطے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ فرد اور خدا کے درمیان ایک نا ختم ہونے والے روحانی سلسلے کی اسے تلاش ہے۔ پرانے پنڈتوں، ملاؤں، زاہدوں کے پند و نصائح سے چھٹکارا پانے کے بعد جدید انسان خدا کے وجود کا تجربہ ذاتی طور پر کرنا چاہتا ہے تاکہ خود اپنے طور پر عرفانِ خداوندی سے سکون و اطمینان کی زندگی حاصل کر سکے۔

اسی رجحان کے زیر اثر اب اردو ادب میں انسان کا ذات باری کے وجود پر پورا یقین نظر آتا ہے اور مذہبی فکر ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہوتی ہے جسے پیش کرنے کے لئے ادبی اظہار و بیان میں اسلامی روایات اور ہندومائیتھولاجی سے کافی استفادہ کیا گیا ہے۔ قرآنی آیات کے ترجمے، قرآنی تلمیحات، ارشادات باری کی تفسیر و تشریح اور ان کا شاعرانہ استعمال نئی نظموں میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے بعض نظمیں دیو مالا کو بنیاد بنا کر لکھی گئی ہیں۔ اساطیر و صحائف کے اسلوب کر برتنے کا یہ میلان عام نظر آتا ہے۔ مولانا شبلی نے بہت پہلے تحریر فرمایا تھا:

’’جب سائنس اور مشاہدات کی ممارست ہم کو سخت دل اور کٹر بنا دیتی ہے اور تمام معتقدات اور مسلمات عامہ کی دل میں حقارت پیدا ہو جاتی ہے، کسی بات پر اعتبار نہیں آتا، کسی چیز کا اثر نہیں رہتا، مادے کے سوا تمام چیزوں کی حکومت دل سے اٹھ جاتی ہے اس وقت شاعری ہمارے دل کو رفیق اور نرم کرتی ہے جس سے تسلیم، اثر پذیری اور اعتقاد پیدا ہوتا ہے۔ مادیت کے بجائے روحانیت قائم ہوتی ہے۔ وہ ہم کو عام تخیل میں لے جاتی ہے جہاں تھوڑی دیر کے لئے مشاہدات کی بے رحم حکومت سے ہم کو نجات مل جاتی ہے۔‘‘ (شعر العجم، ج۴، ص ۸۲)

جدید فن کار کے اندر نجات، نیکی اور صداقت کی یہی سچی خواہش جنم لے چکی ہے اور وہ عالم انفس و آفاق کی رمز شناسی سے زندگی کا توازن تلاش کر رہا ہے۔ سائنس کے ’’خالص افادی نقطہ نظر‘‘ کے خلاف آواز اٹھانے والے بہت سے ادیب اور شعراء ہیں، جن کے تصورات کو ہم اظہار دعا یا عبودیت کا نام دے سکتے ہیں۔ جن کا نصب العین حیوانی اور مادی زندگی نہیں بلکہ ذہنی زندگی کا پہلو ہے جس کا مقصد حق اور صداقت کی تلاش و جستجو ہے۔ یہ لوگ ذہنی آزادی اور مذہبی و اخلاقی قدروں پر زور دیتے ہیں۔ ان کے یہاں قدروں کا مسئلہ ایک عظیم مسئلہ ہے اور انسانی زندگی کی بعض بنیادی حقیقتوں کا شعور ایک اہم ضرورت ہے۔ حیات و کائنات کے اسرار و رموز کو انھوں نے اپنی نگارشات کا موضوع بنایا ہے اور ان کے مختلف پہلوؤں کی نقاب کشائی کی ہے۔ ان کی نظر میں انسان ایک اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو پہچانے اور اپنی ذات کا عرفان حاصل کرے۔ یہی عرفان اس کو عرفان الٰہی و عرفان حیات کی منزلوں تک لے جاتا ہے انسان جس حسن کی تلاش اور جس نور کی جستجو میں ہے وہ خود اس کی ذات میں موجود ہے۔ اگر وہ اس حقیقت کو نہ سمجھے تو اس میں خود اس کا قصور ہے۔ اس طرح ان ادیبوں اور شعراء کے فلسفیانہ افکار کا رشتہ تصوف سے جا ملتا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ جب ادب عرفان کے موڑ پر پہنچتا ہے تو اس کی مڈ بھیڑ تصوف اور مذہب سے ہوتی ہے۔ لیکن تصوف و مذہب کی دنیا میں جتنی باتیں ہوتی ہیں ان سب کی مکمل تفصیل ان کے یہاں موجود نہیں ہے۔ وہ تصوف کے تمام اصول و نظریات کو کھل کر پیش نہیں کرتے۔ وہ بات جو ایک ڈوبے ہوئے صوفی شاعر میں ہونی چاہئے ان کے ہاں نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ادیبوں کی طبیعت کا میلان تصوف و مذہب کی طرف مائل ہے اور ان کے یہاں انسانی روح کا عمل، انسانی ذہن کی کرشمہ سازیوں کا انکشاف، کائنات اور معاشرہ، خیر و شر، زندگی کی عالمگیر صداقت، انسانی عظمت کا تصور، انسان کا نفسیاتی اور مابعد الطبیعاتی وجود، عرفانِ ذات، عرفانِ خداوندی، عرفانِ کائنات، انسان اور انسانیت کی حقیقت، نئے آفاق کی تلاش اور ادب کو نئی توانائی دینے کا شعور نمایاں ہے۔ اپنی ذات سے ماورا ہونے کے لئے وہ اپنا مقصود و منشا ذاتِ واجب کو ٹھہراتے ہیں جو تمام قدروں کا سرچشمہ ہے۔ اردو ادب میں اس رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیا ادب مذہبی تجربے سے نفسی الجھنوں اور نفسی انتشار کو دور کرنا اور انسان کی شخصیت کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ اس کے یہ تجربے اعلیٰ قدروں کی تخلیق بھی کرتے ہیں اور انسان کو حقیقی قدروں سے آشنا بھی اور انھیں میں زندگی کی روشنی اور گہرائی مضمر ہے۔

آراء و افکار

(اگست ۲۰۱۵ء)

Flag Counter