کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۷)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

روایات رجم میں جمع و تطبیق کے بعدباہم کوئی تعارض نہیں رہتا

روایات رجم کے اس تبصرۂ نا مر ضیہ میں البتہ دو چیزوں نہایت قابل غور ہیں جو ان فی ذلک لعبرۃ لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شھید کی مصداق ہیں:

ایک یہ کہ رجم کی کئی حدیثوں میں اس حد کو اللہ کا فیصلہ یا اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ قرار دیا گیا ہے حتیٰ کہ جس ایک روایت (حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی)سے غامدی صاحب نے بھی استدلال کیا ہے، اگرچہ اسے اپنی روایتی چالاکی کے مطابق غلط رنگ پیں پیش کیا ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حد کو اللہ ہی کی طرف منسوب کیا ہے: قد جعل اللہ لھن سبیلا۔ لیکن ان روایات میں بیان کردہ اس حقیقت ثابتہ کو شیر مادر کی طرح ہضم کر گئے ہیں اور اس پر کچھ خامہ فرسائی نہیں فرمائی؛ صرف روایات کو کنڈم کرنے ہی کو کافی سمجھ لیا کہ جب یہ روایات ہی (نعوذ باللہ ) بے ہودہ یا ’منافق کی گھڑی ہوئی ‘ ہیں۔ (برہان، ص 62۔61) تو پھر ان کے ایک ایک جز پر بحث کی ضرورت ہی کیا ہے؟

دوسری بات؛ جس ایک روایت سے موصوف نے’استدلال ‘ کیا ہے ، اس میں بھی ایک تضاد موجود ہے لیکن اس تضاد کو نہایت آسانی سے ایک توجیہ کر کے خود ہی دور یا حل کردیا ہے ؛ فرماتے ہیں:

’’رجم کے ساتھ اس روایت میں سو کوڑے کی سزا بھی بیان ہوئی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ محض قانون کی وضاحت کے لیے ہے۔ روایات سے ثابت ہے کہ نبی نے رجم کے ساتھ زنا کے جرم میں کسی شخص کو تازیانے کی سزا نہیں دی ؛اس کی وجہ یہ ہے کہ موت کی سزا کے ساتھ کسی اور سزا کا جمع کرنا حکمتِ قانون کے خلاف ہے ؛قانون کی یہ حکمت اسلامی شریعت ہی نہیں ، دنیا کے مہذب قانون میں ملحوظ رکھی گئی ہے۔ حبس، تازیانہ ، جرمانہ ، ان سب سزاؤں میں دو باتیں پیش نظر ہوتی ہیں : ایک معاشرے کی عبرت، دوسرے آیندہ کے لیے مجرم کی تادیب و تنبیہ ؛ موت کی صورت میں ظاہر ہے کہ تادیب و تنبیہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ اس وجہ سے جب مختلف جرائم میں کسی شخص کو سزا دینا ہو اور ان میں سے کسی جرم کی سزا موت بھی ہو تو باقی سب سزائیں کالعدم ہو جا تی ہیں۔‘‘ (برہان ، ص 127)

حضرت عبادہ بن صامتؓ کی یہ روایت ہے جو اہل اسلام کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ واضح دلیل ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شادی شدہ زانیوں کے لیے رجم اور غیر شادی شدہ کے لیے کوڑے ہیں لیکن اس روایت میں سو کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کی اور رجم کے ساتھ کوڑوں کی سزا کا بھی ذکر ہے ؛ اس ظاہری تضاد کو بعض دوسری روایات اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل نے دور کردیا کہ رجم کے ساتھ آپ نے عملاًکوڑوں کی سزا نہیں دی۔اس طرح کنوارے کے لیے کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کی سزا کوبھی دوسری روایات کی روشنی میں تعزیر کے زمرے میں رکھ کر حالات وضروریات کے مطابق حاکم وقت کے لیے گنجایش رکھی ہے کہ وہ چاہے تو دے دے ؛ ورنہ کوڑوں کی سزا ہی کافی ہوگی۔ اس طرح نہایت آسانی سے روایات میں سزاؤں میں کمی بیشی کا جو مسئلہ ہے جس کو غامدی صاحب تناقض باور کرا کے سب کو نا قابل اعتبار قرار دے رہے ہیں، آسانی سے حل ہوجاتا ہے اور تعارض اور تناقض باقی نہیں رہتا؛ اس کو محدثین کی اصطلاح میں’جمع وتطبیق ‘ کہا جاتا ہے۔اس طرح اور بھی بعض مسائل کی روایات میں اس طرح کے ظاہری تعارض کو بلکہ قرآن کریم کی بعض آیات کے ظاہری تعارض کو دور کیا گیا ہے لیکن ائمہ سلف اور فقہا و محدثین نے کبھی یہ روش اختیار کر کے یہ نہیں کہا کہ یہ روایات باہم متناقض ہیں؛ ان پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر غامدی صاحب اپنے اس دعوے میں سچے ہوتے کہ ’’میرے اور ائمہ سلف کے موقف میں بال برابر فرق نہیں ہے‘‘تو وہ بھی ان روایات رجم کو اپنی سخن سازیوں کے ذریعے سے ان میں بے معنی اشکالات پیدا کرکے اور ان کو الگ الگ دے کر نہایت بھونڈے انداز میں پیش کر کے ساقط الاعتبار قرار نہ دیتے بل کہ احادیث رسول کا احترام کرتے ہوئے ان کے مابین معمولی سے ظاہری تعارض کو ائمہ سلف کی طرح آسانی سے دور کر سکتے تھے جیسا کہ محدثین اور فقہا نے کیا ہے۔

اس میں دلچسپ لطیفہ یہی ہے کہ موصوف نے ایک روایت رجم کو اپنے مطلب کی سمجھ کر اس سے اپنے مفہوم تو اخذ کر لیا اور اس سے اوباشی کی سزا بھی ’ مستنبط ‘ فرمائی جب کہ اس میں قطعاً اس سزا کااشارہ تک بھی نہیں ہے تاہم انھوں نے جیسا کچھ استدلال کیا ، اس سے قطع نظر، استدلال تو کیا لیکن اس میں بھی تعارض موجود تھا جس کا حل آپ نے ان کے اقتباس میں ملاحظہ کرلیا ہے؛ یہی حل اور جمع و تطبیق کی اسی قسم کی صورتیں ائمہ سلف اور محدثین نے بھی پیش کی ہیں،وہ کیوں ناقابل قبول ہیں؟ اسی لیے ناقابل قبول ہیں کہ اصل مقصود احادیث کا ردّ اور ان کا انکار ہے اور یہ انکار کیوں ہے ؟ کہ اس کے بغیر ان کا خانہ ساز نظریہ رجم ع ’پاے چوبیں سخت بے تمکین بود‘ کامصداق ثابت ہوجاتا ہے۔

اپنے بلند بانگ دعوے کی خود ہی تردید

ذرا دیکھیے غامدی صاحب کتنی بلند آہنگی کے ساتھ احادیث رجم کو ناکارہ ثابت کرنے کے بعد دعویٰ کرتے ہیں:

’’رجم کے بارے میں یہی روایات ہیں جو احادیث کی کتابوں میں مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہیں؛ ان کا ذرا تدبر کی نگاہ سے مطالعہ کیجیے۔ پہلی بات جو ان روایات پر غور کرنے سے سامنے آتی ہے، وہ ان کا باہمی تناقض ہے جسے نہ ان پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص کبھی دور کرنے میں کام یاب ہوا ہے اور نہ اب ہوسکتا ہے۔‘‘ (برہان، ص 60)

غامدی صاحب کا انصاف بھی ملاحظہ ہو اور عقل و دانش کی مقدار بھی (جس کی وہ مدارس دینیہ سے نفی کرتے ہیں) (برہان ، ص 75) کہ جن روایات کو ہدف تنقید بنا کر ان کو ردّ کیا ہے،ان میں سب سے پہلی روایت وہی ہے جس کو خود اپنے استدلال میں انھوں نے پیش کیاہے ؛ اگر ان میں عقل و دانش کی تھوڑی سی بھی مقدار ہوتی تو وہ ان ’مجروح اور مطعون‘ روایا ت میں کم از کم اس روایت کو تو شامل نہ کرتے جس کو خود انھوں نے بناے استدلال بنایا ہے۔

اور ان کا انصاف بھی دیکھیے کہ ایک طرف فرما رہے ہیں کہ ’’ان روایات کا باہمی تناقض پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص کبھی دور کرنے میں کام یاب ہوا ہے اور نہ اب ہوسکتا ہے۔‘‘ لیکن پھر خود ہی عبادہ بن صامت کی ’مجروح و مطعون ‘ روایت کا تضاد بھی ایک توجیہ پیش کر کے دور کر دیا ہے ؛ چہ خوب؟

محترم! آپ تیرہ صدیوں کے ائمہ ، فقہا اور محدثین کی بابت نہایت بلند آہنگی سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ان کا باہمی تناقض دور نہیں کر سکے ؛ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس دعوے کو آپ ہی کی ’زبان مبارک ‘ سے غلط ثابت کر دیا۔ آپ نے جو ایک روایت کی توجیہ کر کے اس کا تناقض دور کیا ہے؛یہ حل آپ کا نہیں ہے، ائمہ سلف ہی کا ہے ؛ اسی لیے توتمام روایات رجم تیرہ صدیوں ہی سے نہیں،چودہ صدیوں سے مسلم چلی آرہی ہیں؛کسی امام،فقیہ ، محدث نے نہیں کہا کہ روایات رجم باہم متناقض ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہیں ؛ اس لیے کہ جن باہم متعارض روایات کا توجیہ یا جمع و تطبیق کے ذریعے سے محمل تلاش کرلیا جاتا ہے، اس کے بعد نہ ان کے تعارض کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور نہ ان کا ردّ کیا جاتا ہے۔

غامدی صاحب کی ایک اور زیرکی و فن کاری

ایک اور نہایت دلچسپ لطیفہ یا غامدی صاحب کی زیر کی یا ہاتھ کی صفائی ملاحظہ ہو کہ پندرھویں صدی ہجری ہے لیکن غامدی صاحب حوالہ دے رہے ہیں’پچھلی تیرہ صدیوں ‘ کا؛ ایک صدی یا سواصدی کا زمانہ درمیان سے ہی خارج کر دیا ہے ؛ یہ کیا ہے ؟ یہ کو ئی ذہول یا نسیان ہے ؟ نہیں ‘ہر گز نہیں، بلکہ یہ ان کے ہا تھوں کی وہ صفائی ہے جس میں وہ بڑے مشاق ہیں ؛ اس عبارت میں بھی انھوں نے اسی فن کاری کا مظاہری کیا ہے ؛ وہ کس طرح ؟ ملاحظہ فرمائیں :

آپ ان کے پچھلے اقتباسات میں پڑھ آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پوری امت مسلمہ کو رجم کی سزا کا تو علم تھا اور نبی اور خلفاے راشدین نے یہ سزا دی بھی لیکن یہ کسی کو علم نہیں تھا کہ یہ سزا ہے کس جرم کی ؟ اس عقدے کو ’ تیرہ صدیوں ‘ کے بعد امام فراہی نے حل کیا کہ یہ سزا درا صل اوباشی اور آوارہ منشی کی تھی۔

فراہی صاحب کی تاریخ ولادت 1280ھ مطابق 1863ء اور تاریخ وفات 1349ھ ہے؛ گویا ان کا زمانہ آج سے ایک صدی یا اس سے کچھ زیادہ ‘ قبل کا ہے؛ اب یہ پندرھویں صدی ہے ؛ اس پندرھویں صدی سے ایک صدی نکال دیں تو چودھویں صدی نکل جا تی ہے اور تیرھویں اور چودھویں صدی فراہی صاحب کا عرصہ حیات ہے اور جب مسئلہ رجم کی عقد کشائی فراہی صاحب سے پہلے نہیں ہو ئی تو امت مسلمہ کی تاریکی کا دور جس میں وہ اپنے پیغمبر سمیت ڈوبی رہی ، تیرہ صدیوں تک ہی محیط بنتا ہے ؛ اس تاریکی سے صاحبِ وحی و رسالت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور ان کی امت کو بھی تیرہ صدیوں کے بعد چودھویں صدی میں امام فراہی نے نکالا؛ یو ں غامدی صاحب کے اس فرمان سے کہ ’’روایات کے تناقض کو پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص دور کرنے میں کام یاب ہو اہے اور نہ اب ہو سکتا ہے‘‘ اس تناقض کو دور کرنے کا کریڈیٹ اپنے امام کو دینا مقصود ہے؛ اس لیے انھوں نے چودہ صدی کے بجاے تیرہ صدی کے الفاظ استعمال کرکے نہایت چابک دستی اور فن کاری کا مظاہرہ کیا ہے : ع

بے خودی بے سبب نہیں غالب 
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

’پچھلی تیرہ صدی ‘ کے الفاظ میں یہی پردہ داری تھی جس کی پردہ دری اللہ کی توفیق سے ہم نے کردی ہے ؛ دلوں کے بھید تو یقیناًاللہ ہی جانتا ہے لیکن لفظوں کا ہیر پھیر بھی بسا اوقات باطن کی غمازی کر دیتا اور دلوں کے راز اگل دیتاہے۔

لیکن ہم غامدی صاحب اور ان کے ہم نواؤں سے عرض کریں گے کہ امت کے اس دور ظلمت کو تیرہ صدیوں تک ہی نہ رکھیں بلکہ اس کو از عہد رسالت تا ایں دم ہی رہنے دیں؛ امت مسلمہ کو اپنی اسی تاریکی میں رہنا پسند ہے جس میں اس کے رسول، اس کے خلفاے راشدین اور امت کے تمام ائمہ و فقہا اور محدثین رہے ہیں؛ ان کو اپنی اس تاریکی پر فخر ہے کیوں کہ اس کے پس منظر ، پیش منظر اور تہ منظر میں160رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور خلفاے راشدین سمیت تمام صحابہ ہیں اور پوری امت کے ائمہ حدیث و فقہ اور اساطین علم ہیں اور ہمارے فخر کے لیے یہی کافی اور بس ہے۔ ہمیں ایسی ’روشنی ‘ نہیں چاہیے جس سے ہمارا سر رشتہ احادیث رسول سے کٹ جا ئے ؛ سنت خلفاے راشدین سے کٹ جائے اور ہماری راہ امت مسلمہ کے جادہ مستقیم سے ہٹ جائے۔ 

مغالطات ، تضادات اور بلادلیل دعوے 

الحمد للہ گذشتہ مباحث سے واضح ہو گیا کہ حدیث و سنت کے معاملے میں مفہوم ومطلب سے لے کر اس کی حجیت تک، فراہی نظریہ ائمہ سلف سے یک سر مختلف ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک حدیث و سنت ہم معنی الفاظ ہیں؛ حدیث کہو یا سنت، دونوں سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، اعمال اور تقریرات ہیں۔یہ دین میں حجت ہیں ؛ ان سے قرآن کے عموم کی تخصیص جا ئز ہے ؛ یہ قرآن کی وہ تبیین ہے جس کا حکم اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت: وَانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ( الخل 16: 44)میں دیا اور اس کے مطابق آپ نے ایسے کئی احکام بیان فرمائے جو قرآن میں نہیں ہیں؛ صحابہ کرام نے ان کو تسلیم کیا اور آج تک وہ مسلم چلے آرہے ہیں۔

یہ مباحث علمی دلائل کے ساتھ پچھلے صفحات میں گزرچکے ہیں؛ ان میں بعض جگہ قارئین تکرار بھی محسوس کریں گے لیکن تشریح160و توضیح اور غامدی صاحب کے رنگ بدل بدل کریا پینتر ا بدل بدل کر سخن سازی کی نوعیت و حقیقت واضح کرنے کے لیے نا گزیر تھی۔اب ہم اگلے صفحات میں ان کے دام ہم رنگ زمین کا شکار ہونے والے خام ذہن کے لوگوں کے لیے ان کے چند تضادات، مغالطات اور بلا دلیل دعووں کی وضاحت کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ اگر ان کو سو چنے سمجھنے کی توفیق دے تو وہ ان صاحب کی اصل شخصیت اور روپ بہروپ کو اصل شکل میں دیکھ سکیں؛ ان شاء اللہ اس میں ان کے لیے ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار کا سامان ہو گا۔

مغالطہ انگیزی 

موصوف کی ایک صفت یا مجبوری، دیگر اہل باطل کی طرح، مغالطہ انگیزی ہے جس کے نمونے پچھلے صفحات میں گزرے ہیں؛ اس لیے کہ ان کا سارا موقف یا نظریہ ہی مغالطات پر مبنی ہے؛ مثلاً :

1۔ دیکھے! ان کا یہ دعویٰ کتنا بڑا مغالطہ ہے کہ میرے مو قف اور ائمہ سلف کے موقف میں سرمو ( بال برابر) فرق نہیں ہے ؛ کیا یہ حقیقت ہے یا جھوٹ؟ یقیناًجھوٹ بلکہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے ؛ پھر یہ مغالطہ انگیزی، فریب کاری اور دجل و تلبیس کے سوا کیا ہے ؟

موصوف لکھتے ہیں:

’’تنقید سے بالا تر اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف کتاب و سنت ہیں اور ان کی تعبیر و تشریحکا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو اپنے اندر اس کی اہلیت پیداکر لے۔‘‘ (برہا ن، ص 37)

یہاں ’کتاب و سنت ‘ کے الفاظ کا استعمال بھی سراسر فریب کاری اور یہ تاثر دینا ہے کہ وہ بھی اہل اسلام کی طرح کتاب و سنت کو تنقید سے بالا تر سمجھتے اور ان کی حقانیت کے قائل ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ہر گز نہیں ؛ ان کے نزدیک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں محفوظ ہی نہیں ہیں۔ احادیث کے مجموعوں160میں سنتیں ہی درج ہیں ؛ اس لیے محدثین نے اپنے مجموعہ احادیث کے ناموں ہی میں ’سنن‘ کا لفظ ساتھ رکھا ہے : سنن ابی داود ، سنن ابن ماجہ،سنن نسائی ، سنن ترمذی وغیرہ اور ان سب میں160احادیث رسول فقہی ابواب کے مطابق جمع ہیں۔ موصوف نے پہلے حدیث اور سنت دونوں کو الگ الگ کردیا ؛ احادیث کو ویسے ہی مشکوک یا غیرمحفوظ یا (نعوذ باللہ) قرآن کے خلاف اور قرآن میں تغیر و تبدل قرار دے دیا۔ جس کو وہ سنت کہتے ہیں،اس کا کہیں کسی کتابی شکل میں وجودیا ریکارڈہی نہیں ہے؛ ان کا وجود اگر کہیں ہے تو صرف غامدی صاحب کے نہاں160خانہ قلب میں ہے یا وہ ان کے لوح حافظہ پر ثبت ہیں اور دونوں جگہیں ایسی ہیں کہ جہاں ان کے علاوہ ان کو کوئی اور ملاحظہ کرہی نہیں سکتا ؛اگر کہا جا ئے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ان سنتوں کی بنیاد عملی تواترہے تو عملی تواتر کی اصلاح تو یک سر مبہم ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک تو تمام احادیث صحیحہ عملی تو اتر سے ثابت ہیں؛ اس معنی میں کہ ان احادیث کو اپنی کتابوں میں درج کرنے والوں نے اپنے سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ اسناد کا اتصال ثابت کیا ہے ؛ اسی لیے صحیح حدیث کہا ہی اس کو جا تا ہے جو مرفوع و متصل ہو اور سلسلہ روات عادل ، ضابط اور ثقہ افراد پر مبنی ہو ؛ یہ قولی اور عملی تواتر کا ایسا بے مثال نمونہ ہے جس کی کوئی دوسری نظیر تاریخ انسانیت میں نہیں ہے۔

علاوہ ازیں انھوں نے ان سنتوں کی بھی تحدید کردی ہے کہ وہ 27 ہیں؛ اگر کہا جا ئے کہ ان کے عملی تواتر کی بنیاد یا ثبوت کیا ہے؟ ظاہر بات ہے کہ اس کا آغاز صحابہ ہی سے کیا جائے گا؛ سوال یہ ہے کہ صحابہ نے صرف ان 27سنتوں ہی پر عمل کیا تھایاتمام سنتوں( احادیث)پر عمل کیاتھا؟ اس لیے سب سے پہلے تو اس سوال کاجواب اوراس کا ثبوت دیا جائے کہ صحابہ نے صرف ان 27 اعمال ہی کو سنت سمجھ کر عمل کیا اور دوسرے تمام اعمال کو غیر سنت سمجھ کر عمل نہیں کیا۔ اگر صحابہ نے بغیر تحدید (حد بندی) کے ہر سنت و حدیث پر عمل کیا ہے اور یقیناًانھوں نے ایسا ہی کیا ہے اور اس کا ثبوت کتابوں میں محفوظ احادیث نبویہ ہیں اور صحابہ کو دیکھ کر تابعین و تبع تابعین نے کیا؛ وَھَلُمَّ جْرّا۔اسی طرح تمام احادیث رسول پر تمام صحیح العقیدہ و العمل مسلمان عمل کرتے آرہے ہیں؛ اس اعتبار سے تمام احادیث عملی تواتر کا نمونہ ہیں۔ اب یہ غامدی گروپ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس ذخیرہ احادیث سے ماورا اپنی 27سنتوں کا تحریری ثبوت نسل در نسل کے حساب سے پیش کریں جیسے الحمدللہ ہمارے پاس تمام سنتوں (حدیثوں ) کا نسلاً بعد نسلٍ تحریری ثبوت موجود ہے۔

غامدی صاحب کے نزدیک ’سنت‘ کیا ہے؟

اس کی وضاحت غامدی صاحب نے اپنی مایہ ناز کتاب ’میزان ‘ میں پوری تفصیل سے کی ہے ؛ اقتباس اگرچہ طویل ہے لیکن انھی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں تو بہتر ہے تاکہ دنیا دیکھ لے کر ان کے موقف اورائمہ سلف کے موقف میں کتنا بعد المشرقین ہے اور ان کے درمیان اتنی وسیع خلیج حائل ہے کہ جسے لفاظی اور سخن سازی سے پاٹنا ناممکن ہے؛ موصوف اپنی نو دریافت 27سنتوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ قرآن سے پہلے ہی(عرب معاشرے میں) یہ سب چیزیں پہلے سے رائج ، معلوم ومتعین اور نسلاً بعد نسلٍ جاری ایک روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھیں ؛ چناں چہ اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن ان کی تفصیل کرتا؛لغت عرب میں جو الفاظ ان کے لیے مستعمل تھے، ان کا مصداق لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ قرآن نے انھیں نمازقائم کرنے یازکاۃ ادا کرنے یا روزہ رکھنے یاحج و عمرہ کے لیے آنے کا حکم دیا تو وہ جانتے تھے کہ نماز، روزہ،زکات اورحج و عمرہ کن چیزوں کے نام ہیں؛ قرآن نے ان میں سے کسی چیز کی ابتدانہیں کی، ان کی تجدید واصلاح کی ہے اور وہ ان سے متعلق کسی بات کی وضاحت بھی اسی حد تک کرتا ہے جس حد تک تجدید واصلاح کی اس ضرورت کے پیش نظر اس کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔

اس کے بعد موصوف فرماتے ہیں:

’’دین ابراہیمی کی روایت کا یہ حصہ جسے اصطلاح میں سنت سے تعبیر کیا جاتاہے؛ قرآن کے نزیک خداکادین ہے۔ ‘‘(میزان، ص46)

سمجھے آپ؟ آپ غامدی صاحب کی نودریافت سنتوں کی فہرست پر جو ہم پہلے نقل کر آئے ہیں، ایک نظر ڈال لیں؛ ان کی بابت ان کا کہنا یہ ہے کہ عربوں میں یہ پہلے ہی متعارف تھیں ؛ لغت عرب کی رو سے بھی یہ چیزیں ان کامصداق تھیں؛ جب قرآن نے بھی ان کے کرنے کا حکم دیا تو ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف قرآن کا حکم ہے،اس نے ان کی ابتدا کی ہے بلکہ ان کو پہلے ہی معلوم تھا کہ نماز ، روزہ،زکات اور حج و عمرہ کن چیزوں کے نام ہیں؟اس ساری دراز نفسی کا مقصد کیا ہے؟ صرف یہ ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ قرآن میں کہ نماز ، روزہ،زکاۃ وغیرہ کے جواحکام ہیں، ان کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہے جو احادیث میں محفوظ ہے؛اس اقتباس میں غامدی صاحب نے کمال ہشیاری اور نہایت فن کاری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شرح و تفصیل کے منصب سے بھی فارغ کر دیا ہے۔ جب اس شرح وتفصیل کی ضرورت ہی نہیں ہے؛ عربوں کو معلوم تھا کی اللہ نے نماز پڑھنے کا،زکاۃ ادا کرنے کا،حج وعمرہ کرنے کا حکم دیاہے وغیر ہ وغیرہ تو وہ چوں کہ پہلے ہی ان پر عمل پیرا تھے؛ وہ ان سے متعارف تھے، انھوں نے اس پر عمل شروع کردیا؛ ان کو ان کا طریقہ یا ان کی تفصیل پیغمبر سے معلوم کرنے کی نہ ضرورت تھی اور نہ یہ آپ کا منصب ہی تھا ؛ زیادہ سے زیادہ آپ نے جو کام کیا، وہ صرف ان کی اصلاح وتجدید تھی۔

لیکن اصلاح و تجدید بھی نہایت مبہم اصطلاح ہے اور مقطع میں سخن گسترانہ انداز کی بات ہے۔۔۔۔۔ورنہ اصلاح و تجدیدکا مفہوم تو اس وقت تک واضح نہیں حوسکتا جب تک یہ واضح نہ کیا جائے کہ قرآن کے حکم یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرح وتفصیل سے پہلے عرب معاشرے کے لوگ نما ز کس طرح پڑھتے تھے؛ زکاۃ کس طرح ادا کرتے تھے ؛ قربانی کس طرح کرتے تھے وغیرہ وغیرہ؛ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ یہ تجدید اور یہ یہ اصلاح کی۔اگر ان تمام احکامات کا طریقہ وہی تھا جس پر صحابہ کرام نے نزول قرآن کے وقت یا بعد میں عمل کیا،پھر تو واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرح و تفصیل یعنی احادیث کی ضرورت نہیں رہتی اور غامدی گروپ جو رسول اللہ کو قرآن کے شارح اور مبین کی حیثیت سے فارغ کرنا چاہتا ہے، اس کی ایک معقول وجہ سمجھ میں آسکتی ہے۔ لیکن اگر غامدی گروپ کی طرف سے یہ وضاحت نہیں کی جاتی تو اس بے بنیاد سخن سازی کا مقصد اس کے سوا کیا ہے کہ دراصل یہ گروہ احادیث رسول کو یک سر بے فائدہ اور ایک دفتر بے معنی باور کرانا چاہتا ہے کہ ان تمام احکامات کو عرب پہلے ہی جانتے تھے؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی توضیح وتفصیل نہیں کی ہے؛اگر کی بھی ہے توان کی کوئی حیثیت نہیں؛اصل سنت تو دین ابراہیمی کی روایت ہے جسے اصطلاح میں سنت سے تعبیر کیا جاتاہے۔

اس سیاق میں دیکھ لیجیے، سنت سے مراد سنت نبوی ہے جو اہل اسلام میں متعارف ہے یااہل جاہلیت کی سنت ہے جسے دین ابراہیمی کی روایت کا خوش نماعنوان دیاگیاہے؟موصوف نے دین ابراہیمی کی روایت کی جس طرح توضیح کی ہے،وہ تو اس وقت تک اہل جاہلیت ہی کی سنت سمجھی جائے گی جب تک وہ عربوں کے طریقہ نماز و زکاۃ کی تفصیل بھی بیان نہیں کریں گے کیوں کہ قرآن نے مجمل طور پر تو بعض چیزوں کی بابت یقیناًوضاحت کی ہے کہ پچھلی شریعتوں میں بھی ان کا سلسلہ تھا جیسے قربانی کا تصور حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے ہی سے ملتا ہے ؛ نماز،زکاۃ، روزہ،حج ،عمرہ کا بھی ذکر ملتا ہے مگر محض ان چند چیزوں کے ناموں کے ذکر سے کیا معلوم ہوتاہے یاہوسکتا ہے کہ وہ نماز کس طرح پڑھتے تھے ؟ زکاۃ کی ادائیگی کی کیا صورت تھی ؟حج ، عمرہ کس طرح کرتے تھے؟روزہ کس طرح رکھتے تھے؟وغیرہ وغیرہ۔ ان کا طریقہ اور ان کی تفصیلات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے بیان فرمائی ہیں جس سے جان چھڑانے کے لیے یہ سارے پاپڑ بیلے جا رہے ہیں لیکن ان بے معنی سخن سازیوں اور یک سرے بے بنیاد دعووں اور باتوں سے تو احادیث کی تشریعی حیثیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا : ع پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جا ئے گا۔

غامدی صاحب چاہتے ہیں،سانپ بھی مر جائے اور لا ٹھی بھی نہ ٹوٹے ؛حدیث رسول کی تشریعی حیثیت بھی ایک سوالیہ نشان بن جائے اور اس کا الزام بھی ان کے سر نہ آئے ؛ اس لیے وہ بار بار سنت کا نام بھی لیتے ہیں اور اس کے سینے میں چھرا گھونپنے سے باز بھی نہیں آتے : ع

کیا خوب پردہ ہے چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں

مزید سنیے، سنت کے اسی جاہلی تصور کی بابت لکھتے ہیں :

’’سنت قرآن کے بعد نہیں بلکہ قرآن سے مقدم ہے ؛ اس لیے وہ لازماً اس کے حاملین کے اجماع و تواتر ہی سے اخذکی جائے گی ؛قرآن میں جن احکام کا ذکر ہوا ہے ، ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع و تواتر پر مبنی روایت سے متعین ہوں گی ؛ انھیں قرآن سے بہ راہ راست اخذکی کوشش نہیں کی جائے گی جس طرح کہ قرآن کے بہ زعم خود بعض مفکرین نے اس زمانے میں کی ہے اور اس طرح قرآن کا مدعا بالکل الٹ کر رکھ دیاہے۔‘‘ (میزان،ص47)

قرآن سنت سے مقدم ہے،پڑھ کر اس خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیے کہ غامدی صاحب نے سنت کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے بلکہ یہاں سنت سے مراد وہی اہل جاہلیت کی سنت ہے جو یقیناًقرآن کے نزول سے پہلے تھی ؛ اس لیے کہ پچھلے اقتباس میں وہ وضاحت کر چکے ہیں کہ عرب نزول قرآن سے پہلے نماز، زکاۃ، روزہ وغیرہ سے متعارف تھے، اس لیے قرآن میں ان کی تفصیلات کاذکر ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شر ح و تفصیل بیان کرنے کی ضرورت تھی۔ اس لحاظ سے ظاہر بات ہے کہ یہ سنت جاہلیہ اور بہ قول غامدی صاحب دین ابراہیمی کی روایت قرآن سے پہلے یعنی قرآن پر مقدم ہے یعنی قرآن میں نازل ہوا ہے اور عرب ان سنتوں پر پہلے ہی سے عمل پیرا تھے ؛ اسی لیے وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ سنت لازماً اس کے حاملین کے اجماع و تواتر ہی سے اخذ کی جا ئے گی؛ قرآنی احکام کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواتر پر مبنی روایت سے متعین ہوں گی ؛انھیں قرآن سے بہ راہ راست اخذکی کوشش نہیں کی جائے گی۔

جب سنّت وہ ہے جس پر اہل عرب قرآن سے پہلے عمل کرتے تھے تو اس سنت کے حاملین کون ہوئے؟ اہل جاہلیت ہی، اس لیے سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل یا صحابہ کے قول سے نہیں، کیوں کہ یہ تو سب نزول قرآن کے بعد کی باتیں ہیں بلکہ اہل جاہلیت کے اجماع و تواتر سے لی جائے گی ؛ اس لیے کہ وہی قرآن سے پہلے دین ابراہیمی کی روایت کے حاملین تھے اور انھی حاملین سنت جاہلیہ کے اجماع و تواتر پر مبنی روایت ہی سے قرآنی احکام کی تفصیلات بھی متعین ہوں گی ؛انھیں قرآن سے بہ راہ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔

لو! پہلے تو حدیث بھی کی عدم محفوظیت کا دعویٰ تھا؛ اب قرآن بھی ان کی ترک تازیوں کا نشانہ بن گیا ہے اور اس پر بھی سنت جاہلیہ کے حاملین اور ان کے اجماع و تواترکی حکومت قائم ہوگئی ہے؛ سنت نبویہ سے جان چھڑاتے چھڑاتے قرآن سے بھی جان چھوٹ گئی ؛ پہل یتو ان کے خود ساختہ نظریات میں سنت و حدیث رکاوٹ تھی ؛اب قرآن کا سنگ گراں بھی راستے سے ہٹادیاگیاہے۔ 

لیکن ٹھہریے ! قرآنی احکام کی تفصیلات بہ راہ راست قرآن سے اخذ نہیں کی جائیں گی کیوں کہ اہل جاہلیت کا عمل ہی کافی ہے البتہ فراہی گروہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا خود ساختہ اور بے بنیاد نظریہ بہ راہ راست قرآن سے اخذ کریں اور پھر اس پر فخر کریں کہ تیرہ سو سال بعد ہم نے قرآن سے او باشی کی سزا ڈھونڈ نکالی ہے جو آج تک کسی کو نظر نہیں آئی حالاں کہ وہ نصوص قرآنی پر مبنی ہے ؛ یہ کا م ماشاء اللہ !چشم بد دور جو ہم نے کیا ہے ، کسی رستم سے بھی نہ ہوا ہو گا۔

اس تفصیل کی روشنی میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا یہ فرمان مغالطے کے سوا کیا ہے کہ’’ تنقید سے بالا تر اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف کتاب و سنت ہیں۔ ‘‘(برہان، ص 37)

اس لیے کہ اہل اسلام میں سنت کا جو متعارف معنی اور اصطلاحی مفہوم ہے؛ موصوف اس کو مانتے ہی نہیں ہیں تو پھر ان کا یہ نعرہ مستانہ آنکھوں میں دھول جھونکنا نہیں ہے توکیا ہے؟ 

تشریح و تعبیر کا حق کس کو حاصل ہے؟

پھر یہ بات بھی خوب ہے کہ ’’ان کی تشریح و تعبیر کا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو اپنے اندر اس کی اہلیت پیداکر لے۔‘‘ (برہان، ص 37)

اس طرح وہ اپنا تو یہ حق سمجھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی جس طرح چاہیں ، تشریح و تعبیر کریں ؛چاہے وہ تشریح و تعبیرائمہ سلف سے کتنی ہی مختلف اور اقبال کے ان اشعار کی مصداق ہو : ع

قرآن کو بازیچہ تاویل بنا کر
چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقہیان حرم بے توفیق
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر 
تاویل سے قرآن کو کر سکتے ہیں پازند
ولے تاویل شاں در حیرت انداخت
خدا و جبریل مصطفےٰ را

لیکن دوسرے مفکرین حدیث کو وہ یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں ؛ چناں چہ لکھتے ہیں:

’’انھیں قرآن سے بہ راہ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی جس طرح کہ قرآن کے بہ زعم خود بعض مفکرین نے اس زمانے میں کی ہے اور اس طرح قرآن کا مدعا بالکل الٹ کر رکھ دیاہے۔‘‘

ہو سکتا ہے اس سے ان کا اشارہ ان منکرین حدیث کی طرف ہو جو انھی کی طرح ا حادیث کوغیر معتبر اور ماخذشرعی نہیں مانتے؛ جب آپ اور وہ ایک ہی کشتی کے سوار،ایک ہی منہج کے حامل،ایک ہی فکر اور نظریے کے داعی،ایک ہی منزل کے راہی اور سلف کی تفسیر وتشریح دین کے یک ساں دشمن ہیں؛اس مغایرت کے اظہار کے کیامعنی؟اور ان پر نشترزنی کیوں؟ اگر آپ کے اندر یہ اہلیت ہے کہ تمام ائمہ اعلام اور اساطین علم کے موقف کے برعکس سنت رسول کا تیا پانچا کر دیں؛ قرآن میں تحریف معنوی کا ارتکاب کر کے اپنے من گھڑت نظریے کو قرآن کے سر منڈھ دیں تو دوسرا منکر حدیث بھی آپ جیسی اہلیت کا مدعی ہو کر قرآن کے صلاۃ وزکاۃ کے مفہوم کو بدل ڈالے تواس کو اس کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ بنا بریں دوسرے منکرین حدیث اور بہ زعم خود مفکر بننے والوں سے اپنے آپ کو مختلف باور کرانا بھی ایک مغالطہ انگیزی اور سراسر دھوکہ اور فریب ہے جب کہ اصل ہیں دونوں ایک ہیں: ع

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہو گی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی 

تاہم غامدی صاحب کے اس قول سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ قرآن وحدیث کی تشریح و تعبیر کا حق صرف اسی کو حاصل ہے جوائمہ سلف کی تشریح و تعبیر کا پابند ہو؛ اس کی تشریح و تعبیر بھی سلف کے منہج صحیح کی آئینہ دار ہو ؛ گو خود ان کی تشریح و تعبیربھی اس کے بالکل برعکس ہے۔

(جاری)

آراء و افکار

(اگست ۲۰۱۵ء)

Flag Counter