دورۂ تفسیر کے طلبہ کا دورۂ مری

مولانا وقار احمد

گزشتہ شعبان رمضان کے دوران میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پانچواں سالانہ دورہ تفسیر منعقد ہوا۔ اس سال مری میں قائم مدرسہ فاروق اعظم کے مہتمم قاری سیف اللہ صاحب اور ان کے رفقاء کار کی دعوت پر دورہ کے آخری چار دن مری میں گزارنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ مورخہ 26 جون 2015 بروز جمعہ کو الشریعہ اکادمی کے دورہ تفسیر کے طلبہ اور اساتذہ ، استاذ گرامی علامہ زاہد الراشدی کی قیادت میں رات گیارہ بجے مری مدرسہ فارق اعظم میں پہنچے۔ چار دن وہاں قیام رہا۔ منگل کو مری میں ہی دورہ تفسیر کی اختتامی نشست منعقد ہو ئی جس میں مولانا فداء الرحمن درخواستی تشریف لائے۔ 

جمعہ کے روز پورے قافلے کی افطاری کا انتظام مولانا علی محی الدین کے ہاں ماڈل ٹاون، ہمک، راولپنڈی میں تھا جہاں بھر پور افطاری کی گئی اور تقریباً رات گیارہ بجے مری پہنچے۔ سارا سفر طلبہ سے بصورت اشعار ان کے دل کے داغ اور علامہ زاہد الراشدی و استاد مولانا ظفر فیاض کے لطیفے اور طلبہ کے درد بھرے اشعار پر تبصرے سنتے ہوئے بہت ہی اچھا گزرا۔ گوجرانوالہ اور راولپنڈی کے درمیان سفر کرتے ہوئے پندرہ سال کا عرصہ ہوا چاہتا ہے، مگر یہ سفر بڑا منفرد تھا، استاذ گرامی نے جس طرح طلبہ کو کھل کر بولنے کی اجازت دی، یہ انہی کا ظرف ہے، اللہ ان کو صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔ 

مدرسہ فاروق اعظم کے ذمہ داران نے ترتیب کچھ اس طرح بنارکھی تھی کہ نماز فجر کے بعد استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم کا مسجد میں مختصر عمومی درس قرآن ہوتا، پھر استاد گرامی اور طلبہ آرام کرتے ۔30: 7پر طلبہ کو جگایا جاتا اور00 : 8 بجے دورہ تفسیر کی کلاس کا آغاز ہوتا۔ ایک گھنٹہ مولانا حافظ محمد رشید پڑھاتے ، پھر00 : 9 بجے سے 00:12 بجے تک استاد گرامی کا سبق ہوتا۔ ظہر کی نماز کے بعد مقامی علماء کرام کے ساتھ نشست رکھی گئی تھی جس کے تین دن کے موضوعات طے تھے جو کہ حسب ذیل ہیں:

۱۔ قرآن کا فلسفہ انسانی حقوق

۲۔ فہم قرآن کے تقاضے 

۳۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذوق و مزاج کا فرق اور امت پر اس کے اثرات

اسی ترتیب کے مطابق صبح 27 جون کو مدرسہ فاروق اعظم میں پر تکلف سحری کے بعد مسجد میں باجماعت نماز فجر ادا کی۔ نماز فجر کے بعد استاد گرامی علامہ زاہد الراشدی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مال خرچ کرنے کے قرآنی اصول وہدایات بیان کیں۔ استاذ گرامی نے درج ذیل چار اصولوں پر چند منٹ میں جامع اور پرمغز گفتگو کی۔ 

۱۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ [البقرۃ: 3] 

کہ جو کچھ دیا اللہ نے ہی دیا اور خرچ کوئی بھی انسان اپنی ملکیت سے نہیں کرے گا بلکہ اللہ کا دیاہوا ہی خرچ کرے گا۔

۲۔ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃ [البقرۃ: 245] 

اللہ کے دئیے سے جو کچھ تم دو گے اس کے بارے میں یہ نہ سمجھو کہ بس یہ دے دیا تو گیا ، نہیں اللہ تعالیٰ اس کو قرض قرار دے رہا ہے اور دنیا میں کوئی عام شریف آدمی قرض لے لے تو وہ واپس کرتا ہے تو اللہ کیوں واپس نہیں کرے گا ، وہ واپس بھی دے گا اور اپنی شان کے مطابق کئی گنا زیادہ بڑھا کر واپس کرے گا۔

۳۔ فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً [البقرۃ: 245] 

واپسی بھی اصل رقم نہیں بلکہ کئی گنا سود کے ساتھ واپسی ہو گئی۔ 

۴۔  ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی [البقرۃ: 264] 

اللہ کے دیے سے جو تم نے دیا ہے وہ اللہ کو دیا ہے ، جس کو بظاہر تم دے رہے ہو اس کا تو کوئی معاملہ ہی نہیں رہا ، تمہارا اور اللہ کا معاملہ ہے ، اس لئے اس آدمی پر کوئی احسان جتلانا یا کسی اذیت میں اس کو مبتلا کرنا کسی صورت بھی روا نہیں ہے ، اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اپنا صدقہ ضائع کر بیٹھے گا۔

درس کے بعد طلبہ اور اساتذہ نے آرام کیا۔ آٹھ بجے مولانا محمد رشید صاحب کا درس تفسیر شروع ہو گیا۔ مولانا نے نو بجے تک پڑھایا۔ نو بج کر پانچ منٹ پر استاد گرامی علامہ زاہد الراشدی صاحب کا درس شروع ہوا، جو کہ دن بارہ بجے تک جاری رہا۔ استاد گرامی نے سورۃ محمد اور سورۃ فتح مکمل پڑھائی۔ سورۃ فتح کی ابتدائی آیت مبارکہ لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَمنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا کی تفسیر میں اس بات پر بڑی عمدہ بحث فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا کیوں حکم فرمایا۔ ایک تو عام جواب ہے کہ تعلیم امت کے لیے ، لیکن استاد گرامی نے ایک اور جواب یہ ارشاد فرمایا کہ یہ حکم استغفار کے ثمرات سمیٹنے کے لیے بھی تھا۔ پھر انہوں نے قرآن کریم کی مختلف آیات کی رو سے استغفار کے نو ثمرات گنوائے۔ 

اس کے بعد نماز ظہر تک وقفہ تھا۔ پونے دو بجے نماز ظہر پڑھی گئی۔ نماز کے بعدمقامی علماء کرام کے لیے مسجد کے ہال میں ہی خصوصی نشست کا اہتمام تھا۔ استاذ گرامی نے قرآن کے فلسفہ انسانی حقوق پر تفصیلی گفتگو فرمائی جو کہ ساڑھے تین بجے تک جاری رہی۔ اس نشست میں مقامی علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس کے بعد تقریبا چار بجے طلبہ سیر کے لیے نکل گئے۔ مولانا ظفر فیاض، مولانا محمد رشید اور راقم الحروف بھی سیر کے لیے نکلے اور گھنٹہ بھر مری شہر میں گھوم پھر کر واپس آگئے۔ نماز عصر میں مولانا فضل الہادی بھی مانسہرہ سے پہنچ گئے۔ نماز کے بعد استاد گرامی علامہ راشدی کے ساتھ نشست ہوئی۔ اس نشست میں مولانا ظفر فیاض، مولانا فضل الہادی، مولانا محمد رشید، مولانا محمد قاسم ، اور راقم الحروف شریک تھے۔ استاد گرامی نے بڑے خوش گوار موڈ میں اپنی زندگی کے چند یادگار واقعات سنائے جو بڑے دلچسپ تھے۔ 

یہ نشست افطاری سے 10 منٹ پہلے تک جاری رہی۔ افطاری کا انتظام طلبہ و اساتذہ کے لیے مشترک تھا۔ افطاری سے قبل استاد گرامی نے رقت آمیز دعا کرائی، افطاری کے بعد نماز اور پھر کھانا کھایا۔ اللہ جزائے خیر عطا کرے مولانا قاری سیف اللہ سیفی اور ان کے فرزند ارجمند مولانا ظفر الاسلام سیفی کو کہ انہوں نے کھانے کا انتہائی عمدہ اور پرتکلف انتظام کیا۔ کھانے کے بعد راقم الحروف ، مولانا ظفر فیاض، حافظ محمد طاہر، مولانا محمد رشید چائے پینے اور چہل قدمی کرنے باہر چلے گئے۔ واپسی آ ئے تو استاذ گرامی کو طلبہ کے جھرمٹ میں بیٹھے ہوئے پایا ، چنانچہ ہم بھی اس مجلس میں شریک ہو گئے، جو کہ نماز عشاء تک جاری رہی۔ طلبہ بے تکلفانہ استاذ گرامی سے سوالات پوچھتے اور استاذ جی اپنے مخصوص انداز میں چٹکلوں کی شکل میں ان کے سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے جاتے۔ انتہائی پر لطف محفل رہی۔ عشاء کے فرض مسجد میں بڑی جماعت کے ساتھ پڑھے، جب کہ تراویح اور وتر کی جماعت کا طلبہ نے الگ انتظام کیا۔ نماز سے جلدی فارغ ہو کر مولانا فضل الہادی نے پارۂ عم کا پہلا پاؤ پڑھایا۔ مولانا کا درس ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوا، اس کے بعد طلباء سو گئے اور راقم الحروف طلباء کو سحری کے لیے جگانے کے انتظار میں کمپیوٹر پر کام کرتا رہا۔

اگلے دن 28 جون کو نماز فجر کے بعد استاد گرامی نے رمضان اور قرآن کے تعلق پر گفتگو کی، اور آیت کریمہ : وَقَالَ الرَّسُوْلُ ٰیرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًا [الفرقان: 30] کی روشنی میں امام ابن قیم کے حوالے سے بڑے مؤثر انداز میں قرآن حکیم کے پانچ حقوق بیان کیے ہیں۔مقامی نمازیوں کی بڑی تعداد نے اس درس سے استفادہ کیا۔ آٹھ بجے صبح مولانا حافظ محمد رشید صاحب کا ترجمہ وتفسیر کا سبق شروع ہوا جو کہ ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ نو بجے استاد گرامی نے درس تفسیر شروع فرمایا جو کہ دن بارہ بجے تک جاری رہا۔ استاذ گرامی نے سورۃ الحجرات اور سورۃ ق مکمل پڑھائی۔ سورۃ الحجرات کے ضمن میں اسلامی نظام معاشرت پر بڑی عمدہ بحث فرمائی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے آداب، آداب مجلس ، آپس میں عزت نفس کا احترام اور گھریلو معاملات کے بارے میں بڑی مفید باتیں سبق میں آ گئیں۔ سورۃ الحجرات کا ماقبل سے ربط بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ماقبل دونوں سورتوں سورۃ محمد اور سورۃ فتح میں کفار ، منافقین اور اعراب کے ساتھ معاملات ومعاشرت کے اصول وآداب بیان ہوئے ہیں، جب کہ سورۃ حجرات میں مسلم سوسائٹی کے اندر مسلمانوں کے آپس کے معاملات کے بارے راہنمائی دی گئی ہے، اور ضمناً اعرابیوں کے ساتھ معاملات کا تذکرہ بھی آگیا ہے۔ ‘‘

نماز ظہر کے بعد استاد گرامی نے ’’فہم قرآن کے تقاضے‘‘ کے عنوان پر تقریباً ایک گھنٹہ گفتگو فرمائی جس میں دو چیزوں پر بطور خاص زور دیا گیا۔ 

ایک، فہم قرآن کے لیے عربی سیکھنا اور اس معیار کی عربی سیکھنا جو کہ قرآن کریم کا معیار ہے ، لیکن ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم نماز میں جو کچھ پڑھ رہے ہوتے ہیں، اس تک کو سمجھنے پر قادر نہیں ہوتے۔ 

دوسرے، قرآن فہمی میں اگر کوئی الجھن آ جائے تو اس کو کیسے دور کیا جائے؟ اس ضمن میں حدیث کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ 

اس کے بعد علماء علاقہ سے نشست ہوئی۔ آج مقامی علماء کافی تعداد میں تشریف لائے تھے۔ اسی طرح پنڈی سے مولانا علی محی الدین اور ان کے رفقاء، جبکہ مانگا سے مولانا عمران عباسی بھی تشریف لائے۔ پھر استاذ گرامی، مولانا علی محی الدین اور ان کے ساتھ راولپنڈی سے آنے والے مہمانان گرامی کے ہمراہ موہڑہ کے قریبی گاؤں ملوٹ میں مولانا راشد صاحب کے ہاں افطاری کے لیے تشریف لے گئے۔ طلبہ کرام تقریبا ساڑھے تین بجے پتریاٹہ چلے گئے، جبکہ راقم الحروف ، استاذ مولانا ظفر فیاض صاحب اور مولانا محمد رشید موہڑہ شریف میں پیر ہارون الرشید صاحب کی زیارت وملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ موہڑہ شریف میں اچھی خاصی چہل پہل تھی، مگر یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ دربار میں پٹھان اور پنجابی مریدین تو موجود تھے، مگر مقامی لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ پیر ہارون الرشید صاحب سے ملاقات ہوئی جو بڑے طمطراق سے ایک شاہانہ نشست گاہ پر جلوہ افروز تھے اور ان کے دائیں طرف بڑے پیر صاحب پیر نظیر احمد صاحب کی مسند شریف بھی رکھی تھی جس کو ریشمی منقش چادروں سے ڈھانپا گیا تھا ۔ البتہ پیر قاسم صاحب کی مسند شریف کہیں نظر نہیں آئی۔ مریدین میں سے چند خواص باآدب بیٹھے تھے، اور کچھ ہاتھ باندھے دو مختلف قطاروں میں کھڑے تھے۔ہم سے پہلے جو لوگ پیر صاحب سے ملاقات کے لئے بیٹھے تھے وہ کچھ دیر بعد اٹھے اور انتہائی ادب سے الٹے پاؤں چلتے ہوئے باہر نکلے تو ہمیں اندر جانے کی اجازت ملی۔ بندہ دوران ملاقات تمام وقت حضرت پیر صاحب کے انداز تقدس اور مریدین کے انداز ادب پر سوچتا رہا۔

دوران ملاقات پیر صاحب نے تعارف پوچھا تو ہم نے تعارف میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا بھی تذکرہ کیا۔ مجلس میں بیٹھے ایک شخص نے پوچھا کہ وہ مولوی سرفراز گکھڑوی صاحب والا مدرسہ؟ ان کے لہجہ سے تحقیر جھلک رہی تھی تو پیر صاحب نے ان صاحب کو بطریق احسن خاموش کرا دیا۔ ہم نے پیر صاحب کو جب مولانا ظفر فیاض صاحب کے بارے بتایا کہ یہ ہمارے استاذ ہیں تو پیر صاحب نے ان سے چند غیر معروف سوالات کیے، مثلاً ابو طالب کا نام کیا تھا؟ عبد المطلب کا نام کیا تھا؟ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم کب ہوا اور کیوں ہوا؟ مولانا ظفر فیاض صاحب نے بطریق احسن پیر صاحب کے سوالوں سے جان چھڑاتے ہوئے عرض کی، حضرت! ہم تو محض آپ سے استفادہ اور زیارت کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں۔ اس پر انہوں نے علماء اور علم سے تعلق رکھنے والوں کی تعریف میں دو ایک جملے فرمائے اور ہمیں روزہ اپنے ہاں افطار کرنے کی دعوت دی ۔ ہماری معذرت پر پیر صاحب نے فرمایا، اچھا دعا کریں۔ دعا کے بعد پیر صاحب سے اجازت لے کر وہاں ہی مسجد میں نماز عصر جماعت سے پڑھی۔ نماز کے بعد پیر نظیر احمد اور پیر قاسم صاحب کے مزارات کی زیارت کی۔ مولانا رشید صاحب کے جوتے مسجد سے گم ہوگئے تھے، انہوں نے وہاں سے ایک عام سی چپل پہن لی جس کے دونوں پاؤں میں باوجود کوشش کے بھی کوئی مماثلت پیدا نہ کی جا سکی۔ انہوں نے نقصان کے وقت پڑھی جانے والی دعا پڑھ لی۔ اس کی برکت سے ایسا ہوا کہ جب مزارات کی زیارت سے فارغ ہو کر ٹیکسی میں سوار ہونے کے لیے پہنچے تو پتہ چلا کہ ڈرائیور صاحب کا جوتا بھی گم ہو چکا تھا اور وہ ’’نقصان پورا ‘‘ کرنے کے لیے کسی دوسرے کا جوتا پہن آئے تھے۔ جب ان سے جوتا دکھانے کی گزارش کی گئی تو وہ مولانا رشید صاحب کا جوتا پہنے خوشی سے اترا رہے تھے ۔ ہم نے ان سے جوتا واپس لیا اور دعا کی تاثیر پر حیران بھی ہوئے۔ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کے مصداق دربار پر جاتے ہوئے مولانا رشید نے میرے اور مولانا ظفر فیاض صاحب کے جوتے اٹھا کر دربار کے احاطہ کے اندر رکھ دیے تو دربار کے خادم نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ تم دربار کی گستاخی کرنا چاہتے ہو؟ اور ہمارے جوتے اٹھا کر باہر پھینک دیے۔ ہمارے معذرت کرنے پر ان کا غصہ کچھ کم ہوا۔ وہاں سے واپسی آ کر راستے میں ایک چشمے پر چند منٹ رکے اور پھر افطاری کے لیے اپنی قیام گاہ مدرسہ فاروق اعظم میں پہنچ گئے۔ نماز عشاء کے بعد مولانا فضل الہادی کا سبق ہوا، جو کہ رات ساڑھے گیارہ پر ختم ہوا۔

مقامی علماء کرام جس طرح استاذ گرامی کے درس اور سبق میں شرکت کے لئے تشریف لاتے تھے، اسی طرح کافی علماء کرام کی خواہش تھی کہ حضرت کچھ وقت نکال کر ہماری مسجد میں درس کے لئے تشریف لے چلیں ۔ اس غرض سے آنے والوں میں ایک قسم کی کھینچا تانی بھی دیکھنے کو ملی جس کا علاج استاذ گرامی نے یہ کیا کہ ان حضرات کو کہا کہ میں مہمان ہوں قاری سیف اللہ صاحب کا۔ یہ میری جو ترتیب طے کریں گے، میں اس کا پابند ہوں ، اس لیے آپ حضرات ان سے اور دورہ تفسیر کے امیر (راقم الحروف)سے مل کر کوئی ترتیب طے کر لیں، میں حاضر ہوں۔ اس سلسلے میں کافی علماء کرام کے اصرار اور قاری سیف اللہ صاحب کی رائے کی روشنی میں 29 جون کو صبح سحری کے بعد استاذ گرامی درس قرآن کے لیے مفتی خالد صاحب کے ہاں مرکزی جامع مسجد حنفیہ تشریف لے گئے۔ وہاں سے ان کی واپسی پانچ بجے ہوئی۔ حسب معمول صبح آٹھ بجے سے نو بجے تک مولانا رشید صاحب نے سبق پڑھایا، جب کہ نو سے بارہ بجے تک استاذ گرامی علامہ راشدی صاحب نے سبق پڑھایا۔ استاذ محترم نے سورۃ فجر سے زلزال تک کے حصے کی تفسیر پڑھائی ، اور ساتھ خلافت عثمانیہ کاتفصیلی تعارف کرایا۔ بارہ بجے سے ظہر تک استاد گرامی کی نجی محفل رہی جس میں مختلف احباب شریک تھے اور مختلف موضوعات پر ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو ہوتی رہی۔

بعد از ظہر ایک گھنٹہ ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذوق و مزاج کا فرق اور امت پر اس کے اثرات‘‘ پر گفتگو فرمائی، اس میں خصوصاً حضرت ابی ابن کعب، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت حذیفہ بن الیمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذوق اور ان کے امت پر اثرات پر بڑے پر لطف اور معلومات افزا انداز میں تفصیلی گفتگو فرمائی۔ تین سے ساڑھے چار تک پھر نجی محفل تھی جس میں احباب کے سوالات اور ان کے جوابات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد نماز عصر تک استاذ گرامی نے آرام فرمایا۔ نماز عصر کے بعد افطاری سے چند منٹ پہلے تک استاد گرامی کے ساتھ مدارس کے نظام ونصاب تعلیم اور اساتذہ کے منہج ومزاج پر احباب کی گفتگو ہوتی رہی۔ اسی محفل میں مولانا تحمید جان آف چارسدہ نے چارسدہ کے بعض علماء کی طرف سے کام میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور گھریلو جھگڑے پر گمراہی کے فتوے کا تذکرہ کیا جو کہ کچھ دن پہلے وہاں کے متعدد اہل علم کی تقریظ کے ساتھ تحمید جان صاحب کے خلاف شائع ہوا ہے، تو استاد گرامی نے جواباً ان سے فرمایا، ’’اللہ سے معاملہ درست رکھو اور کسی کی پروا کی ضرورت نہیں۔ کام اخلاص اور دیانت سے کرو، اللہ تعالی وہ وہ اسباب اور آسانیاں پیدا کرے گا جو تمہارے گمان میں بھی نہیں ہوں گی۔‘‘ استاد گرامی نے محفل میں کئی اکابر اہل علم کے واقعات سنائے، مدارس کے نصاب تعلیم کے حوالے سے حضرت نانوتوی، مولانا تھانوی، مولانا مدنی، مولانا گیلانی وغیرہ کے ملفوظات سنائے۔ احباب کی طرف سے جب ملک میں رائج مختلف نظام ہائے تعلیم کے حوالے سے بات ہوئی تو حضرت نے ایک بات زور دے کر فرمائی کہ ’’نصاب و نظام کی یہ تبدیلی خود اہل مدارس کی طرف سے ہی ہوگی تو درست سمت میں رہے گی، بصورت دیگر پھر جو لوگ تبدیلی کے نقیب ہوں گئے، ان کی بات ہی چلے گی۔‘‘ اسی طرح جدید نظام تعلیم کے بارے میں فرمایا ’’ یہ نظام قومی اور سماجی ضرورت ہے، قومی اور سماجی ضرورتوں کو کبھی نہیں روکا جاسکتا، البتہ اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے، ہمیں اصلاح کرنی چاہیے، جدید نصاب اپنے ماحول میں پڑھانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔‘‘

افطاری کے لیے اساتذہ دورہ تفسیر استاد گرامی کی معیت میں مفتی ندیم صاحب مدرس جامعہ امدادیہ اور مولانا فرحان عباسی صاحب کی دعوت پر ان کے گھر تشریف لے گئے۔ افطاری کے بعد استاد گرامی مفتی ندیم صاحب کے ختم قرآن پر تشریف لے گئے اور وہاں بیان فرمایا۔ مفتی صاحب ہر سال تراویح میں دس دن میں تین تین پارے سنا کر ختم کرتے ہیں۔ مولانا فرحان عباسی ایک مسجد میں تراویح پڑھاتے ہیں، اس لیے انہوں نے جاتے ہوئے استاد گرامی سے دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست کی تو استاد محترم نے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ’’یہ کہنے کی ضرورت ہے؟‘‘

دیگر اساتذہ افطاری کے بعد واپس اپنی قیام گاہ مدرسہ فاروق اعظم میں آگئے۔ یہاں تراویح پڑھنے کے بعد طلبہ کرام کے ساتھ ایک طویل نشست ہوئی جس میں استاد گرامی مولانا ظفر فیاض، مولانا فضل الہادی، مولانا محمد رشید، راقم الحروف اور تمام طلبہ تفسیر شریک تھے۔ اس محفل میں طلبہ کے شکوے شکایتیں اور تجاویز سنی، طلبہ نے کھل کر اس مجلس میں اپنی آراء کا اظہار کیا اور وہ تمام باتیں کہہ ڈالیں جو دورہ کے درمیان وہ کہنا چاہتے تھے لیکن جھجک کی وجہ سے کہہ نہیں پائے تھے۔ یہ نشست رات ایک بجے تک جاری رہی، اس نشست میں ہمارے لیے سب سے خوشی کی بات یہ تھی کہ شرکاء ے دورہ تفسیر نے لگی لپٹی رکھے بغیر جو ان کے دل میں تھا، اس کا اظہار کر دیا۔ میرے سخت لہجے کی شکایت بھی کی گئی اور مولانا محمد رشید کے حد سے زیادہ نرم ہونے کا بھی تذکرہ ہوا۔ اسی طرح نظام میں دیگر جو کمیاں ہیں، ان پر بھی بات ہوئی۔ یوں بہت سے وہ امور جو انتظامیہ کی نظر میں نہیں تھے یا کم اہمیت کے حامل تھے، وہ نکھر کر سامنے آگئے، جن کو ان شاء اللہ آئندہ دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ 

30 جون کو دورہ تفسیر کی اختتامی نشست تھی۔ استاذ گرامی مولانا راشدی مولانا ندیم صاحب کے ختم قرآن میں شرکت کے بعد حاجی شعیب صاحب کے گھر ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور رات کا قیام بھی وہیں ہوا اور نماز فجر کے بعدقاری سعید صاحب کے ہاں سنی بینک کی مسجدعلی المرتضیٰ میں درس قرآن دیا۔

گزشتہ برسوں میں ہماری یہ ترتیب رہی ہے کہ دورہ کے اختتام پر طلبہ کے ساتھ استاد جی کا ایک مذاکرہ رکھتے ہیں ، موضوع طے کیا جاتا ہے ،استاد گرامی شروع میں تمہیدی سی گفتگو فرماتے ہیں اور پھر اس پر طلبہ کو کھل کر اظہار خیال کا موقع دیا جاتا ہے ، گزشتہ سالوں میں اس مجلس مذاکرہ کے عنوانات کچھ یوں تھے:

۱۔ مدارس سے فارغ التحصیل علماء کرام کی مشکلات اور ان پر قابو پانے کے طریقے۔ اس مجلس میں گوجرانوالہ کے مقامی ان علماء کرام کو بھی دعوت دی گئی تھی جو چار سے پانچ سال پہلے فارغ ہوئے تھے ، انہوں نے اپنے تجربات بتائے کہ ان کو فراغت کے فوری بعد کیا مشکلات پیش آئیں اور انہوں نے کیسے ان پر قابو پایا یا کیسے ان کو بھگت رہے ہیں۔

۲۔ گزشتہ صدی کی دینی تحریکات اور ان کے تناظر میں پاکستان میں جاری تحریکات اور جماعتیں، کامیابی و ناکامی کے تناظر میں۔ اس میں طلبہ نے موجودہ دینی تحریکات اور جماعتوں کی پالیسی اور کامیابی و ناکامی کے اسباب پر اظہار خیال کیا۔ طلبہ کی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ ہمارا طالب علم سوچتا بھی ہے اور ان تحریکات کے بارے میں درد دل بھی رکھتا ہے۔ صرف مناسب پلیٹ فارم اور تربیت کی ضرورت ہے۔

۳۔ پاکستان میں دینی مدارس کا کردار اور نظام ونصاب تعلیم ، اس میں مدارس کے کردار ، نظام ونصاب تعلیم پر بحث ہوئی۔ اس مذاکرہ سے طلبہ میں جہاں اس نظام میں مزید بہتری پیدا کرنے کا جذبہ وشعور اجاگر ہوا، وہاں مخالفین کے اعتراض اور اس کی نوعیت کو سمجھ کر مناسب جواب دینے کا طریقہ بھی سمجھ میں آیا۔

اس سال گوجرانوالہ میں نہ ہونے کی وجہ سے اس مجلس مذاکرہ کا اہتما م نہ ہو سکا تاہم متبادل کے طور پر استاذ گرامی سے طلبہ کی ایک نشست رکھی گئی جس میں وہ اپنے مشائخ عظام کے واقعات و نصائح سے طلبہ کو آگاہ فرمائیں۔ نو بجے طلباء تفسیر کے ساتھ یہ تفصیلی نشست ہوئی جس میں استاذ گرامی نے اپنے مشائخ کی طرف سے خود کو کی گئی نصیحتیں طلبہ کو سنائیں۔ اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں درجہ ثالثہ کا طالب علم تھا۔ اس زمانہ میں ہم نے ایک ’’انجمن اتحاد طلبہ‘‘ بنائی تھی، اس کے تحت ہفتہ وار پروگرام ہوتے تھے۔ اس انجمن کا میں جنرل سیکرٹری تھا ۔ ایک موقع پر حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب مدرسہ میں تشریف لائے ہوئے تھے ۔ ہم نے ان کو صدارت کی دعوت دی۔ اس مجلس میں میں نے حضرت شیخ الہند اور ان کی تحریک کے تعارف پر تقریر کی۔ وہ زمانہ میری ’’صاحبزادگی‘‘ کا زمانہ تھا اور خوش لباسی کا عالم یہ ہوتا تھا کہ ایک مخصوص درزی سے میرے کپڑے سل کر آتے تھے جو عام درزیوں سے زیادہ اجرت لیتا تھا۔ قاضی صاحب کی خدمت کی ڈیوٹی اکثر میری ہوتی تھی۔ صبح صوفی صاحب کے گھر سے ناشتہ لے کر میں قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا ’’برخوردار ! تقریر تم نے بہت اچھی کی لیکن حضرت شیخ الہند ایسے نہیں ہوتے تھے‘‘ اور میرے لباس کی طرف اشارہ کیا۔ ان کی اس انداز سے کی ہوئی نصیحت اس طرح دل میں پیوست ہوئی کہ اس کے بعد لباس وغیرہ میں تکلف کی وہ کیفیت یکسر جاتی رہی اور سادہ لباس میری زندگی کا حصہ بن گیا۔ 

ایک واقعہ یہ سنایا کہ ایک دفعہ میں حضرت والد صاحب کے ساتھ ایک جلسے میں شرکت کے لیے گیا۔ والدصاحب کی تقریر سے پہلے مجھے بھی کچھ دیر کے لیے تقریر کو کہا گیا۔ میں نے ایک واقعہ بڑے مزے لے کر بیان کیا ۔ والد صاحب کی یہ عادت ہوتی تھی کہ جب کوئی اہم بات ارشاد فرمانی ہوتی تو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا کرتے اور کھانے کے دوران وہ بات کیا کرتے۔ واپسی پر مجھے پیغام ملا ’’شام دی روٹی میرے نال کھانی اے‘‘۔ میں کھانے پر پہنچا تو دوران طعام فرمایا " او زاہد ! ایہہ واقعہ کدھرے پڑھیا سی یا کسی مستند بزرگ کولوں سنیا سی یا اینج ای لڑھکا دتا سی؟‘‘ (یہ واقعہ کہیں پڑھا تھا یا کسی مستند بزرگ سے سنا تھا یا ایسے ہی چلا دیا تھا؟) میں نے کہا کہ جی، یاد نہیں۔ تو انہوں نے نصیحت کی کہ کوئی بھی بات اس وقت تک زبان سے نہ نکالو جب تک خود پڑھ نہ لو ، یا پھر کسی ایسے مستند بزرگ سے سن نہ لو کہ جو بات تحقیق سے کرتے ہوں۔ وہ دن اور آج کا دن، میں نے ہمیشہ اس بات کا اہتمام کیا کہ اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکالوں جو خود پڑھ نہ رکھی ہو یا کسی ایسے بزرگ سے سن نہ رکھی ہو۔ 

یہ نشست ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ اس کے بعد مولانا فضل الہادی نے تیسویں پارے کا آخری پاؤ پڑھایا۔ تقریباً 30 11:پر اختتامی نشست شروع ہوئی، جس میں طلبہ کو اسناد وانعامات تقسیم کیے گئے، اور مولانا قاری سیف اللہ سیفی، مولانا فداء الرحمن درخواستی نے بیان کیا۔ مولانا درخواستی نے انتہائی رقت آمیز انداز میں آخری تین سورتیں پڑھائیں جس میں مولانا عبد اللہ درخواستی کے اسلوب پر سورتوں کا آپس میں ربط، سورتوں کا ابتدائے قرآن سے ربط اور ماقبل حصہ سے ربط بیان کیا، جب کہ مولانا راشدی نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ اس محفل میں صاحبزادہ شہاب الدین موسیٰ زئی شریف والے بھی تشریف لائے تھے۔ طلبہ کو مولانا فداء الرحمان درخوستی دامت برکاتہم کے دست مبارک سے اسناد اور کتابیں دی گئیں۔ اس نشست کے بعد طلبہ اور اساتذہ اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہو گئے۔ مولانا ظفر فیاض، مولانا محمد رشید اور راقم الحروف طلبہ کو رخصت کرنے کے بعد مفتی محمد سعید خان صاحب کی قائم کردہ الندوہ لائبریری گئے اور وہاں سے مولانا عمران عباسی کے ہاں حاضر ہوئے۔ رات وہیں گزاری اور اگلا دن عمران عباسی صاحب کی رہنمائی میں جنگل میں گھومنے اور چشمے پر نہاتے ہوئے گزارا۔ شام کو ان سے رخصت ہو کر ہم رات کو گوجرانوالہ پہنچ گئے۔ 

اس سفر کے معزز میزبانوں کا اگر شکریہ ادا نہ کیا جائے تو انتہائی ناسپاسی ہو گی۔ قاری سیف اللہ سیفی صاحب نے جس محبت سے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی، اسی محبت و شفقت سے پیش آتے رہے۔ ان کی شخصیت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ سب سے زیادہ جس چیز سے ہم سب ہی متاثر ہوئے، وہ ان کا بااخلاق اور نستعلیق لب و لہجہ تھا اور دوسرا اس عمر میں بھی تراویح میں خود قرآن کریم اس طرح سنانا کہ تلاوت و خشوع و خضوع کا حق ادا ہو جائے۔ انتہائی خوبصورت انداز و آواز میں تلاوت فرماتے ہیں۔ انہوں نے حقیقی معنوں میں میزبانی کا حق ادا کر دیا جس کے لیے ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبزادے اور دست راست مولانا ظفر الاسلام کے بھی انتہائی سپاس گزار ہیں جنہوں نے طلبہ کی آسانی ، اساتذہ کی سہولت اور جملہ سہولیات کی فراہمی میں دن رات ایک کیے رکھا ، خصوصاً سحری کے انتظام میں وہ اور ان کی پوری ٹیم جس طرح نصف شب سے پہلے ہی انتظام میں مشغول ہو جاتے اور ہر چیز ہمیں وقت پر فراہم فرماتے، اس کو دیکھ کر ہمیں شرمندگی کا احساس ہونے لگتا۔ اللہ ان حضرات کو دین و دنیا کی تمام نعمتوں اور رحمتوں سے نوازیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت کے مواقع اور توفیق مرحمت فرمائیں۔ اٰمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔


الشریعہ اکادمی