ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے بنیادی افکار

ڈاکٹر فضل الرحمٰن 21 ستمبر 1919ء کو پاکستان میں پیدا ہوئے۔ حفظ قرآن اور دیگر ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور مقامی سکول سے حاصل کی۔ 1942ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی ادب میں امتیازی نمبروں کے ساتھ ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفرڈ یونیورسٹی میں Avecena's Psychology پر شاندار مقالہ لکھا جس پر انہیں 1949ء میں ڈی فل کی ڈگری سے نوازا گیا۔ وہ 1950ء-1958ء تک ڈرہم یونیورسٹی میں فارسی زبان اور اسلامی فلسفہ کے استاذ رہے۔ 1958ء میں وہ مونٹریال کی میک گل یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر ہوئے، جہاں وہ 1961ء تک علمی خدمات انجام دیتے رہے۔

1962ء میں انہیں پاکستان میں سنٹرل انسٹیٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ (موجودہ ادارہ تحقیقات اسلامی) کا ڈائریکٹر جنرل نامزد کیا گیا جہاں انہوں نے 1968ء تک اسلام کو اس کے بنیادی اصولوں کے لحاظ سے عقلی اور لبرل انداز میں بیان کرنے، عالمگیر بھائی چارے، برداشت اور سماجی انصاف جیسے اسلامی اصولوں پر زور دینے، جدید دنیا کی فکری و سائنسی ترقی میں اسلام کے متحرک کردار کو سامنے لانے، سائنس، ثقافت اور فکر و نظر کے شعبوں میں اسلام کی خدمات پر تحقیق کو فروغ دینے اور اسلامی تاریخ، فلسفہ، قانون اور فقہ میں تحقیق کا دائرہ بڑھانے جیسے اہم امور کے حوالے سے خدمات انجام دیں۔ 1969ء میں انہیں شکاگو یونیورسٹی میں اسلامی فکر کا پروفیسر مقرر کیا گیا اور 1987ء میں شکاگو یونیورسٹی نے پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کو ان کی شاندار علمی شراکت کے اعتراف میں ہیرالڈ ایچ سوئفٹ کے اعزاز سے نوازا۔ 26 جولائی 1988ء کو پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن دل کی سرجری کی پیچیدگیوں کے باعث 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا کام چار دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے دس کتابیں لکھیں، درجنوں جرائد کے لیے مقالات لکھے، بہت سارے انسائیکلوپیڈیا کے لیے مضامین اور کئی کتابوں کے جائزے (Book reviews) لیے۔ اس سارے کام کو دیکھتے ہوئے ان کے فکری فریم ورک کو چار چیزوں میں تقسیم کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔

  1. قرآن کریم کی آفاقیت،
  2. تصور سنت اور تصور اجماع،
  3. روایتی تعبیرات سے اختلاف، اور
  4. حدیث سے متعلق موقف۔

ہم ذیل میں انہی چار عنوانات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

قرآن کریم کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا بنیادی تھیسز یہ ہے کہ اس کتاب کو ایک اکائی کے طور پر کبھی پڑھا گیا نہ سمجھا گیا ہے۔ اکثر یہی ہوتا آیا ہے کہ اس کی آیات کو الگ الگ کر کے ان کا ترجمہ و تشریح کی گئی ہے جس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مختلف موضوعات مثلاً خدا، انسان، معاشرے اور یوم آخرت وغیرہ کے بارے میں قرآن کا مجموعی نقطہ نظر کیا ہے اور اس ضمن میں اس کی ہدایات اور تعلیمات کا باہمی ربط کیسے بنتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ اس طرح کے امتزاجی ((Synthetic مطالعے کے بغیر کوئی بھی شخص اپنے اندر قرآن کا صحیح ذوق پیدا نہیں کر سکتا۔

ڈاکٹر صاحب کے خیال میں قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے قرآن کے مضامین و مندرجات کا گہرا مطالعہ کر کے انہیں آج کی صورت حال میں اس طرح پیش کیا جانا چاہیے کہ قرآن کا اصل مقصد پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آجائے۔ یہودی اور عیسائیوں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کہ وہ ہمیشہ یہ کام کرتے ہوئے قرآن کو یہودیت یا عیسائیت کی بازگشت قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کہ انہیں یہ کام کرتے ہوئے روایتی تفسیری ادب سے ہٹ کر بات کرنا پڑتی ہے، یوں کوئی یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا خیال یہ ہے کہ اب یہ خطرہ مول لینے کا وقت ہے اس لیے کہ اس کے بغیر قرآن کو آج کی زندگی سے موزوں، برمحل اور Relevent ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ قرآن کا مرکزی مطمح نظر اس زمین پر ایک ایسا معاشرتی نظام قائم کرنا ہے، جس کی بنیاد عدل اور اخلاق پر ہو۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک فرد اور معاشرہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

قرآن جب نازل ہوا تو مکے کی سوسائٹی میں دو بنیادی خرابیاں بہت نمایاں تھیں اور ان کے اثرات بہت گہرے تھے۔ ایک متعدد بتوں کی پرستش جس نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم پیدا کر رکھی تھی۔ دوسرا انسانوں کے درمیان معاشرتی اور اقتصادی تفاوت جس میں ایک طبقہ تاجر پیشہ لوگوں اور امیروں کا تھا جبکہ دوسری طرف بہت غریب اور نادار لوگ تھے جنہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں تھی۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے کہ مکی آیات میں جہاں قرآن نے عربوں کو بہت سے خداؤں کی بجائے ایک خدا کا تصور دیا جو اس دنیا کا خالق، مالک اور ہر شئے پر قادر ہے، وہیں قرآن معاشرے کے کھاتے پیتے لوگوں اور تاجر پیشہ افراد کی شدید مذمت بھی کرتا ہے کہ وہ اپنا مال سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں اور اسے مستحقین پر خرچ نہیں کرتے۔ قرآن ایسے لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اور وعید سناتا ہے۔

جب تک حضور نبی کریم ﷺ مکے میں تھے دولت کی درست تقسیم اور غریبوں پر خرچ کرنے کی نصیحت اور تلقین کی جاتی رہی۔ لیکن مدینہ میں ہجرت کے بعد جب وہاں اسلامی مملکت کی داغ بیل ڈالی گئی تو ایک طرف ربا کو حرام قرار دیا گیا اور دوسری طرف زکوٰۃ کا نظام قائم کیا گیا۔ اس نظام کی بدولت اللہ کا رزق جو پہلے چند لوگوں کے ہاتھوں میں تھا اب غریب اور بے کس لوگوں تک پہنچنے لگا۔ اس کے ساتھ قرآن نے شوریٰ کا نظام متعارف کروایا تاکہ معاشرتی اور انتظامی معاملات کو ٹھیک طرح سے ادا کیا جا سکے۔ پھر قرآن نے باہمی اختلاف اور ایک دوسرے کے خلاف سازش کرنے کی مذمت کی اور مساوات کو معاشرے کا بنیادی پتھر قرار دیا۔ بعد میں اسلامی قانون کے ماہرین نے قرآن کے حکم مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان کے لیے چار طرح کے بنیادی حقوق پر زور دیا: 

  1. زندگی کا حق،
  2. مذہب اختیار کرنے کا حق،
  3. روزگار اور جائیداد کی ملکیت کا حق، اور 
  4. شخصی عزت و آبرو کا حق۔

یہ وہ حقوق ہیں جن کی حفاظت کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ قانونی مطالبات اور اخلاقی ہدایات کے درمیان موجود فرق کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم یہ فرق قائم نہ کر پائے تو قرآنی اصلاحات کو سمجھنے میں ایک بنیادی غلطی کے مرتکب ہوں گے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ یہ فرق ملحوظ نہ رکھتے ہوئے مسلم فقہی روایت صحیح راستے سے ہٹ چکی ہے۔ اس پر وہ متعدد مثالیں پیش کرتے ہیں۔

ایک زیادہ شادیوں کا مسئلہ ہے کہ قرآن کا حکم ہے کہ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ یتیم بچیوں کی میراث کا انتظام کرنے میں انصاف نہیں کر سکتے تو ان میں سے جو پسند ہوں، بے شک دو دو، تین تین یا چار چار سے نکاح کر لو، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ایک سے زیادہ بیویوں سے انصاف نہیں کر پاؤ گے تو پھر ایک ہی کافی ہے تاکہ تم بے انصافی سے بچ سکو۔ قرآن آگے جا کے مزید کہتا ہے کہ تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں انصاف ہرگز نہیں کر سکو گے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا یہ ہے کہ اب یہاں فقہاء و مفکرین نے یہ قانونی اجازت تو لے لی ہے کہ دو دو، تین تین یا چار چار سے شادی کر لو مگر اس کے ساتھ موجود اخلاقی شرط کو خاوند کے ضمیر کے سپرد کر دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا ماننا یہ ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت کچھ خاص حالات اور خاص مقاصد کے پیش نظر دی گئی تھی، بلکہ انہوں نے لکھا ہے کہ سچ یہ ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی روایت کو بیک قلم موقوف کرنا ممکن نہیں، اس لیے ایک اخلاقی شرط عائد کر دی گئی تاکہ معاشرہ اخلاقی منزل کی طرف بڑھ سکے۔ یہاں پر ڈاکٹر صاحب غلامی کی مثال پیش کرتے ہیں کہ اس کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا، قرآن نے اس روایت کو یکلخت ختم نہیں کیا مگر اس کے ساتھ شرائط عائد کر دیں اور غلام نہ رکھنے، انہیں آزاد کرنے کی ترغیب دی۔

ڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں جتنے بھی قانونی یا نیم قانونی احکام وضع کیے جاتے ہیں، ان کے ساتھ ہمیشہ ایک قانونی بنائے منطقی ہوتی ہے جو سارے معاملے کی روح ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک قرآن کے یہ قانونی بنائے منطقی آفاقی اور ابدی ہیں۔ ان قانونی بنائے منطقی کی بنیاد پر سامنے آنے والے احکام و قوانین ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک تغیر و تبدل کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قوانین و احکام کو حالات کے مطابق اور حالات کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہونا چاہیے اور یہ کام قرآن کے ماتحت تبھی ممکن ہے جب قرآن کے ظاہری احکام یا الفاظ کی نہیں بلکہ نصوص کی علت اور قانونی بنائے منطقی کی تعمیل کی جائے۔

ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک قرآن کریم کے احکام کا بڑی گیرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے اور ان کے تاریخی و سماجی پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ قرآنی احکام کے قانونی بنائے منطقی اور علل کا استخراج پوری ذمہ داری کے ساتھ کیا جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی ایک عمل مسلمانوں کا ایک نیا مستقبل تعمیر کر سکتا ہے۔

یہ ایک بنیادی فریم ورک ہے جو ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے قرآنی نصوص سے بنایا ہے۔ اس فریم ورک کو عملی طور پر استعمال میں لانے کے لیے ڈاکٹر فضل الرحمٰن جو منہج اور میتھڈ استعمال کرتے ہیں، اس میں ڈبل موومنٹ تھیوری کا تصور سامنے آتا ہے، معروضیت اور تاریخیت کی بحث سامنے آتی ہے، اسی میتھڈ کے استعمال سے سنت، حدیث، اجتہاد اور اجماع سے متعلق روایت پسندوں سے مختلف افکار سامنے آتے ہیں۔ انہیں تفصیل سے سمجھنے کے لیے ڈاکٹر صاحب کی کتاب اسلام، قرآن کے بنیادی موضوعات اور اسلامی منہج فکر کا تاریخی تناظر کا مطالعہ مفید رہے گا۔ ہمارے پیش نظر یہاں پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا تصور سنت اور تصور اجماع ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مقالات سے جو ان کا تصور سنت سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ دعوت اسلام کو عملی شکل دینے کے لیے حضور نبی کریم ﷺ کی کی گئی جدوجہد کا نام سنت ہے۔ ان کے مطابق سنت کے بغیر قرآن مجید کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن اور سنت میں تشابک و تلازم کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال، دعوت اور جدوجہد کے تمام پہلو سنت رسول کے زمرے میں آتے ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے کسی قول و فعل کو ان کی دعوت اور اس کی عمومی روح سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے نزدیک سنت کو سمجھنے کے لیے پوری پیغمبرانہ زندگی کو ایک ناقابل تقسیم وحدت کے طور پر پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ سنت میں چونکہ عمل کا تصور مضمر ہے، اس لیے سنت کی تطبیق مختلف احوال میں مختلف طریقوں پر ہوتی رہے گی۔ مختلف احوال میں مختلف طریقوں پر اس کی عملی تطبیق کا ہوتے رہنا، سنت کی ماہیت میں داخل ہے۔ اس لیے اس سے سنت کی ناقابل تقسیم وحدت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر فضل الرحمٰن احادیث کے تمام مشمولات کو تاریخی طور پر غیر صحیح قرار نہیں دیتے بلکہ انہیں سنت رسول سے ماخوذ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسری صدی ہجری کے اندر بتدریج ایک مرحلہ ایسا آیا کہ یہ تمام ماخوذات جو سنت رسول سے مستنبط تھے، سلسلہ روایات کے ذریعے خود سنت رسول کے دائرے میں شمار ہونے لگے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن روایات میں اختلاف اور تضاد کی بنا پر انہیں رسول اللہ ﷺ کے اقوال تو تسلیم نہیں کرتے مگر انہیں دینی حجیت سے خالی بھی نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں نے یہ روایات خود سے نہیں گھڑیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے اپنی فہم و دانش کے مطابق انہیں اخذ کیا ہے اور اسی کو وہ ”سنت جاریہ“ قرار دیتے ہیں۔ مذکورہ بالا تصور سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سنت ایک متحرک اور مسلسل متغیر رہنے والا عمل ہے کیونکہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک عہد رسالت کے بعد سنت کا صحیح مفہوم صرف یہی نہیں تھا کہ اس سے مراد خود آنحضرت ﷺ کی سنت ہی ہو بلکہ سنت نبوی ﷺ کی جو توضیح کی جاتی تھی وہ بھی سنت سمجھی جاتی تھی۔ قرآن کے اخلاقی اصولوں کو معاصر حالات سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے ان کی عملی تطبیق کرنا سنت ہے اور یہ سنت کسی متعین حکم کا نام نہیں بلکہ سنت کا مطلب سنت جاریہ ہے۔

اب اس آخری مفہوم میں سنت اجماع امت کے ہم پلہ نظر آتی ہے جو لازمی طور پر ہر دور میں ایک وسعت پذیر طریقہ رہا ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا خیال ہے کہ جب حدیث کی تحریک نہایت شدت کے ساتھ چل رہی تھی تو سنت، اجتہاد اور اجماع کے درمیان جو ایک فطری تعلق تھا وہ ختم ہو گیا تھا۔ اجماع بھی کسی حکم کی متعین شکل کو ہمیشہ کے لیے طے نہیں کرتا، بلکہ سنت کی طرح متغیر اور ارتقا پذیر رہتا ہے۔ اسی سے قرآن کے اخلاقی اصول ہر دور کے لیے بامعنی اور متعلق رہتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن جیسے سنت اور اجماع کے تصورات میں اہل روایت سے مختلف ہیں، اسی طرح تصور حدیث پر بھی ان کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ ان کے نزدیک حدیث و سنت کے مابین گہرا ربط پایا جاتا ہے اور وہ حدیث کو سنت جاریہ کی تحریری شکل قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ احادیث کا بیشتر حصہ در حقیقت قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی سنت جاریہ ہے، جس کی نسبت انہوں نے اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب کے نزدیک اس اجتہاد کا نقطہ آغاز فقہا کی اپنی شخصی اور انفرادی رائے تھی لیکن مرور زمانہ کے ساتھ الحاد و بے دینی کے رجحانات، نیز غلات کے خلاف ایک زبردست کشمکش کے بعد اسے اجماع کی سند حاصل ہو گئی یعنی امت کے سواد اعظم نے اسے تسلیم کر کے اس کی پابندی قبول کر لی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہیے کہ قرون اولیٰ کی زندہ اور جاری سنت، حدیث کے آئینہ میں عکس پذیر ہوئی مگر اس فرق کے ساتھ کہ اس میں راویوں کے سلسلہ اسناد کا اضافہ ہوگیا لیکن اس جزوی فرق کے علاوہ ایک اہم اور بنیادی فرق یہ پیدا ہوا کہ جہاں سنت بڑی حد تک اور بنیادی طور پر عمل سے متعلق تھی، کیوں کہ وہ مسلمانوں کے کردار اور عملی طور و طریق کے معیاروں کا تعین کرتی تھی، وہاں حدیث نہ صرف فقہی اور قانونی معیاروں کے قیام کا ذریعہ بن گئی بلکہ عقائد اور اصول دین پر بھی موثر ہونے لگی۔

ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے نزدیک احادیث سے تاریخ سازی کا کام لیا جانے لگا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حدیث کی شکل میں معاصرانہ واقعات کو ماضی کی طرف پھیر دیا جانے لگا تاکہ اس کے ذریعہ امت مسلمہ کی زندگی کو ایک مخصوص روحانی، سیاسی، اور معاشرتی نمونہ پر ڈھالا جا سکے۔ احادیث کے باب میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے امام شافعی کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان سے روایت کردہ احادیث میں سے بعض کو بیان کر کے اس پر اپنی تنقید لکھی ہے، بالخصوص پیش گوئیوں والی احادیث پر وہ بہت معترض نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی اس تنقید پر جوابی تنقید بھی لکھی گئی جس میں بڑا کام مولانا محمد یوسف بنوری اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا ہے۔ ان تنقیدوں کے جواب میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اپنے نقطہ نظر کو مزید واضح کیا کہ وہ احادیث کا کلیتاً انکار نہیں کر رہے بلکہ وہ احادیث کی جانچ پرکھ میں ”تاریخی تنقید“ اور ”داخلی شہادت“ کا تصور پیش کر رہے ہیں جس کی مدد سے وہ کسی بھی حدیث کو فرمان نبوی ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ”تاریخی تنقید“ اور ”داخلی شہادت“ کا مطلب حدیث کا شان نزول تلاش کرنا ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن ان طریقوں کے نتیجہ میں اجماع سے متعلق اور بعض دیگر روایات کو رسول اللہ کی طرف منسوب کرنے سے گریز ضرور کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کی دینی حجیت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور انہیں بنیادی دینی صداقت کی حامل روایات قرار دیتے ہیں۔

معترضین نے ڈاکٹر صاحب کے تصور حدیث کو جوزف شاخت کے تصور حدیث کا چربہ قرار دیا ہے مگر ڈاکٹر صاحب اور جوزف شاخت میں ایک بڑا فرق موجود ہے، جس کے نتیجہ میں اگرچہ وہ دونوں ایک ہی جگہ کھڑے نظر آتے ہیں مگر فرق ضرور ہے اور وہ یہ ہے کہ جوزف شاخت کلیتاً احادیث کو رسول اللہ ﷺ کے فرامین نہیں مانتے مگر پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن احادیث کا کلیتاً انکار کرنے کی بجائے ان کے رد و قبول کے لیے ایک معیار مقرر کر دیتے ہیں۔

شخصیات

(اکتوبر ۲۰۲۲ء)

تلاش

شماریات