زوالِ امت میں غزالی کا کردار ۔ تاریخی حقائق کیا ہیں؟ (۲)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

زوالِ امت میں غزالی کاکردار اور اصل حقائق

(تاریخِ اندلس کے چند دلچسپ اوراق)

ہم نے لکھا ہے کہ اندلس میں خلافتِ امویہ کے سقوط کے بعد جو دور شروع ہوا وہ طوائف الملوکی کا دور کہلاتا ہے، اس دور میں ریاست سات حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ضعف وافتراق اس حد تک پہنچا ہوا تھا کہ اس دور میں اندلس صلیبیوں کا باج گذار بنا ہوا تھا،  ڈیڑھ ڈیڑھ انچی ریاستوں کے امراء اہلِ صلیب کو باقاعدہ جزیہ دیتے تھے، پھر اسی پہ بس نہیں، مذکورہ  حصوں میں سے دو حصے یکے بعد دیگرے عیسائی ہتھیا کر لے گئے۔  اس وقت جس طرح مسلمان بے سمت، تفرق وتشتت کا شکار اور آپس میں گتھم گتھ تھے، اس کی بناء پر اندیشہ ہوچلا تھا کہ بقایا حصہ پر بھی عیسائی جلد قابض ہوجائیں گے، مگر صلیبیوں کی  پھرتیوں کو مزید تقریبا تین سو سال تک کے لیے بریک لگ گئی، جس کے ظاہری اسباب کچھ یوں تھے۔

تفرق، انحطاط اور اہلِ صلیب سے مغلوبیت کے اس زمانہ میں اندلس کے مسلمان اہلِ حل وعقد سر جوڑ کر بیٹھے۔ اس وقت اندلس کے پڑوس میں مراکش کے اندر امیر یوسف بن تاشفین کی حکومت تھی، یہ بغداد کی مرکزی خلافت کا ما تحت اور نہایت بارعب حکم ران تھا۔ اندلس کے علماء اور شرفاء نے قاضی قرطبہ عبد اللہ بن محمد بن ادہم کے ساتھ مل  بیٹھ کر اس سے متعلق مشاورت کی اور اس تجویز پر سب کا اتفاق ہوا کہ مراکش کے بوڑھے برگد امیر المسلمین یوسف بن تاشفین  کو خط لکھ کر اپنے احوال کی اطلاع کی جائے اور  اس سے اپنے لیے سہارا طلب کیا جائے۔ اہلِ فکر اور اہلِ دل کا یہ اجتماع قرطبہ میں ہوا جو اس وقت بنو عباد کی قلم رو میں تھا، طوائف الملوکی کے دور میں اندلس کی مختلف حکومتوں میں سے سب سے مضبوط اور بڑی حکومت بنوعباد کی تھی۔ لیکن صلیبیوں کے مقابلہ میں اس حکومت کی بھی نقاہت اور بے بسی کا یہ عالم تھا کہ جس وقت قرطبہ میں اہلِ درد کا اجتماع ہورہا تھا، اس وقت بنو عباد کا وارث المعتمد علی اللہ اس علاقہ کا تخت نشین تھا، لیکن وہ نصاری کا باج گذار تھا،  خود کو نصاری کے مقابلہ میں بے بس پاتا تھا اور جب صلیبیوں کی طرف سے اشبیلیہ کا محاصرہ کیا گیا تو اس کے پاس ان کے مقابلہ کی قوت نہیں تھی، خود اس کی اپنی ذاتی سیرت یہ تھی کہ شراب کا رسیا تھا، بعض چھوٹی چھوٹی اسلامی ریاستوں کے خلاف اس نے زور آزمائی میں صلیبیوں کا ساتھ دیا تھا، لیکن بہرحال مسلمان تھا اور اشبیلیہ کے محاصرہ کے بعد اس کی آنکھ قدرے کھل گئی تھی۔ یہ خود بھی یوسف بن تاشفین کو مدد کے لیے بلانا چاہتا تھا۔ چنانچہ جب قاضی عبداللہ نے شہر کے شرفاء کی رائے معتمد تک پہنچائی تو معتمد نے اس کی تصویب کی۔ بعض مشیروں نے اشارہ کیا کہ ممکن ہے، یوسف بن تاشفین یہاں آنے کےبعد واپس جانے کا نام نہ لے، اس پر معتمد کی رگِ اسلامی پھڑکی اور اس نے ایک تاریخ ساز جملہ کہا کہ رعی الغنم خیر من رعی الخنازیر یعنی امیر یوسف کا قیدی بن کر ریوڑ چرانا ہمارے لیےصلیبیوں کا قیدی بن کر خنزیر چرانے سے بہتر ہے۔  چنانچہ معتمد کی تصویب کےبعد پہلی بار امیر یوسف کے پاس سرکاری وفد گیا، امیر یوسف اس سے قبل بعض نجی وفود کے ذریعہ بھی اندلس کے حالات سنتے رہے تھے۔

امیر یوسف بن تاشفین مراکش کی اس اصلاحی تحریک کے ایک کارکن تھے جس کےبانی ایک نہایت خدا رسیدہ بزرگ شیخ عبد اللہ بن یسین تھے اور جن کی تحریک مرابطین کی تحریک کہلاتی تھی۔ امیر یوسف کی امارت کا قصہ یہ ہے کہ ان کے پیش رو شیخ ابو بکر بن عمر اللمتونی جو خود بھی مذکورہ اصلاحی اور دعوتی تحریک ہی کے ایک بزرگ کارکن تھے،  خدا نے ان کو دعوت وعبادت کا ایک خاص ذوق عطا فرمایا تھا، انہوں نے اپنے ماتحت علاقہ کی قلم رو یہ کہہ کر امیر یوسف بن تاشفین کے حوالہ کر دی تھی کہ امورِ ریاست کی نگہبانی میرے ذوق کے خلاف ہے، اس کو میری جگہ تم سنبھالو اور میں اپنی بقیہ زندگی اپنے ذوق کے میدان میں صرف کرنا چاہتا ہوں۔  امیر یوسف نے اپنے پیش رو کی امانت کو نہایت حسنِ تدبیر کے ساتھ سنبھالا۔ اندلس کے مسلمانوں نے جب ان کو پکارا تو انہوں نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور اندلس میں پہنچ کر صلیبیوں کے ساتھ ایک زبردست معرکہ لڑا جو معرکہء زلاقہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معرکہ میں نہایت گھمسان کا رن پڑا جس کی وجہ سے بعض مصنفین نے اسے حضرت عمر کے دور میں ہونے والے قادسیہ اور یرموک کے معرکوں پر قیاس کیا جاتا ہے۔ اس معرکہ میں   مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور بڑی تعداد میں غنیمتیں حاصل ہوئیں، مگر امیر یوسف نے ان غنیمتوں میں سے کوئی حصہ لینے کی بجائے وہ سب اہلِ اندلس کے حوالہ کیا، انہیں افتراق سے بچنے اور اور اتحاد سے رہنے کی تعلیم دی اور خود واپس مراکش چلے گئے۔

تاہم اندلس کےمسلمانوں میں زوال کے جو اسباب پیدا ہوچکے تھے، ان کے ہوتے ہوئے ممکن نہ تھا کہ وہ اس قدر تعلیم وتلقین سے سنبھل جاتے۔ چنانچہ امیر یوسف کی واپسی کے بعد اندلس دوبارہ اپنی پرانی روش پر آگیا،  طوائف الملوکی ویسے کی ویسے رہی،  نصاری کی چھیڑ چھاڑ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی،  بلنسیہ پر ان کا قبضہ ہوگیا جو اب تک کی ان کی کامیابیوں میں سے ایک بڑی کامیابی تھی اور چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں کے امراء آپس ہی میں لڑتے رہے، امیر یوسف کی نصیحت کسی کو یاد نہ رہی۔ امیر یوسف کی طرف سے مختلف موقعوں پر بہرحال ان کے پاس امداد آتی رہی۔  ان میں سےبعض موقعوں پر امیر یوسف کو ان امراء کی اقتدار پرستی،  صلیبیوں سے در پردہ دوستی اور مسلمانوں کی اجتماعیت میں عین موقع پر چھرا گھونپنے کے بعض ایسے شدید تجربات ہوئے کہ  انہیں ان امراء سے خیر کی توقع نہ رہی۔ انہیں صاف نظر آرہا تھا کہ اندلس کو اگر ایک حکومت پر جمع نہ کیا گیا تو اس کا مستقبل تاریک ہے۔ ان کے پاس اس کی قوت موجود تھی کہ وہ چھوٹے چھوٹے امراء  کو بزور وجبر ایک طرف کرکے اندلس میں اجتماعیت پیدا کردیتے، مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں مسلم آبادیوں کے اندر خون خرابہ ہوتا اور امیر یوسف اس کی شرعی پوزیشن کے حوالہ سے اپنے اضطراب کو دور کرنے کے لیے کسی مستند علمی وفقہی حوالہ کے خواہش مند تھے،  نیز امیر یوسف اپنی تمام تر قوت کے باوجود خود کو خود مختار سمجھنے کی بجائے بغداد کی مرکزی خلافت کے ماتحت سمجھتے تھے،  اس لیے وہ اس اقدام سے قبل مرکز سے اجازت لینا بھی ضروری سمجھتے تھے۔

ان کی ان دونوں ضرورتوں کو ایک مالکی فقیہ ابو محمد العربی اور ان کے بیٹے ابو بکر (جو امام غزالی کے شاگرد تھے) نے پورا کیا۔ وہ بغداد گئے، وہاں ان دنوں امام غزالی رونق افروز تھے، ان سے ملاقات کی، اندلس کے احوال سنائے، وہاں کے حکم رانوں کی بے تدبیری، بد اندیشی اور نصرانیت نوازی  کو بے نقاب کیا اور امیر یوسف بن تاشفین کے لیے ان سے شرعی سند اور حوالہ کی استدعا کی۔ امام غزالی نے  بد اندیش حکم رانوں کےخلاف راست اقدام کے حق میں فتوی لکھ کر ان باپ بیٹے کو دیا، نیز یوسف بن تاشفین کے نام از خود ایک خط لکھ کر روانہ کیا جس میں ساری تفصیلات لکھیں کہ مجھے اندلس کے کیا کیا احوال پہنچے ہیں، نیز یہ کہ میں نے یوسف بن تاشفین کے لیے ایک فتوی لکھ کر  اپنے شاگردوں کے حوالہ کر دیا ہے،  نیز یہ کہ وہ کس طرح عالمِ اسلامی میں یوسف بن تاشفین کے حق میں فضا ہم وار کرنے کے لیے سر گرم ہیں اور یہ کہ وہ جلد ہی خلافت بغداد کے سرکاری اجازت نامہ کے ساتھ آپ کے پاس آپہنچیں گے۔  بعد ازاں فقیہ ابن العربی سال 493ھ  میں وفات پاگئے اور ان کے فرزند ابو بکر امام غزالی کا فتوی اور خلافتِ بغداد کا اجازت نامہ لے کر اسی سال اندلس میں  یوسف بن تاشفین کے پاس پہنچ گئے۔ تو یہ ہے زوالِ امت میں غزالی کے کردار کی حقیقت اور اندلس کی تاریخ کا ایک رشن ورق، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح امام غزالی اندلس کو صلیبیوں کی جھولی میں گرنے سے بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ 

امیر یوسف بن تاشفین کو اگر بروقت صحیح سمت راہ نمائی نہ دی جاتی اور انہیں راست اقدام کے لیے تیار نہ کیا جاتا  تو اندلس کا کلی سقوط ظاہری اسباب کے مطابق اپنے اصل وقت سے گویا تین سو سال قبل ہی ہوجاتا، جیساکہ ہاتھ سے نکلتے ہوئے اس کے مختلف علاقےاس کے  اشارے دے رہے تھے۔ تاہم امیر یوسف کے راست اقدام نے اندلس میں ایک مضبوط اور یک سو حکومت کی بنیاد رکھی جو خلافتِ امویہ کے سقوط کے بعد اندلس کی پہلی با معنی حکومت تھی۔ اس عہد میں وہ بہت سے علاقے صلیبیوں سے واپس لے لیے گئے جو ان کے قبضہ میں جاچکے تھے۔  لیکن ایک بڑا شہر طلیطلہ بدستور ان کے پاس رہا اور باوجود کوشش کے واپس نہ لیا جاسکا۔ (۱)

امیر یوسف کی وفات کے بعد ان کا بیٹا علی بن یوسف بن تاشفین تخت نشین ہوا اور ان دونوں باپ بیٹا کا دور حکومت اندلس میں مرابطین کا دورِ حکومت کہلاتا ہے۔ علی بن یوسف میں بہت سی اچھی صفات موجود تھیں، جہاد بھی ہوتا رہا اور علماء کا احترام بھی کیا جاتا تھا، مگر دوسری طرف ریاست میں  شرعی احکام کے حوالہ سے کافی کچھ تساہل بھی پایا جاتا تھا۔  شراب کی خرید وفروخت عام ہوتی تھی، سرکاری فوجی علانیہ لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے، شہریوں کی عزت وناموس کو تارتار کرتے، اور  علی بن یوسف کے خاندان میں ایک اور قبیح روایت یہ چلی آتی تھی کہ مرد نقاب پہنتے تھے، جبکہ عورتیں کھلے منہ پھرتی تھیں۔ اسی دور میں غزالی کی احیاء علوم الدین کو بھی اندلس میں جلایا گیا۔  مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کا اول وآخر ان کا دین ہے، انہوں نے جب اپنے دین سے بے وفائی کی تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زوال سے نہ روک پائی اور  اسباب ووسائل کے باوجود یہ ناکام ہوکر رہے، جبکہ جب انہوں نے اپنے دین سے وفا کی، اس کے احکام کو نظروں کے سامنے رکھا اور  ظاہری اسباب ووسائل کی بجائے خدا کی ذات پر اعتماد کیا تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زوال کا شکار نہیں کرسکی، بلکہ یہ آگے سے آگے بڑھتے رہے۔  علی بن یوسف کی بعض نیک خصلتوں کے باوجود جس طرح منکرات وبدعات اس دور میں پھل پھول رہے تھے، اگر اس  خرابی کے سامنے بند نہ باندھا جاتا تو ظاہر تھا کہ اندلس میں مسلمانوں کی قوت کو ایک بار پھر زوال کا شکار ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ 

اس دور میں اندلس کے اندر محمد بن تومرت کی سربراہی میں ایک اور اصلاحی تحریک چلی، اس کا ابتدائی مقصد ریاست میں منکرات کی روک تھام ہی تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس کے نتیجہ میں اندلس کے اندر ایک اور خاندان کی حکومت کی داغ بیل پڑی جو موحدین کی حکومت کہلائی۔ محمد بن تومرت کے بارہ میں مشہور یہ ہے کہ حکومت کے خلاف اپنی تحریک سے قبل  وہ بھی امام غزالی سے ملے تھے، ان سے اپنی تحریک کے حق میں مشاورت لی اور  انہی کی تائید سے اپنا کام شروع کیا تھا۔ علامہ ابنِ خلدون نے اس ملاقات اور مشاورت کی روایت نقل کی ہے اور اردو لٹریچر میں شبلی، سید ابو الحسن علی ندوی اور سید قاسم محمود وغیرہ کے ہاں اسی روایت کے اتباع میں اس کو غزالی کا شاگرد تسلیم کرتے ہوئے اس کی تحریکِ موحدین کو نہ صرف غزالی ہی کی ایماء کا نتیجہ کہا گیا ہے، بلکہ اس انقلاب کو ایک بروقت اور صحیح اسلامی انقلاب بتایا گیا ہے اور شبلی نے لکھا ہے کہ موحدین کی ریاست امام غزالی کی منشاء اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق تھی۔ (۲)

تاہم علامہ ابنِ اثیر کی رائے میں محمد بن تومرت کی امام غزالی سے ملاقات نہیں ہوئی اور ماضی قریب کے بعض عرب محققین نے باقاعدہ اس موضوع پر داد تحقیق دی ہے کہ محمد بن تومرت کی امام غزالی سے تلمذ اور ملاقات کی بات غلط ہے۔ نیز عرب محققین میں بالعموم خود محمد بن تومرت کےحوالہ سے  بھی عموما کوئی مثبت رائے نہیں ملتی اور یہ سچ ہے کہ تاریخ میں اس کی تحریکِ اصلاح وجہاد کے بعض پہلو ایسے بیان ہوئے ہیں جو سخت ناگوار ہیں اور جن کے ہوتے ہوئے اس کی تحریک کی مجموعی تحسین کی گنجائش کم ہی نکلتی ہے۔ ابنِ تیمیہ کی بعض عبارات، ذہبی کی سیر اعلام النبلاء اور ابنِ حجر عسقلانی کی الدرر الکامنۃ کے مطابق وہ خود کو مہدی اور معصوم کہتا تھا، اپنے اس دعوی کی سچائی لوگوں کے دلوں میں مستحکم کرنے کے لیے اس نے کچھ عجیب وغریب حرکتیں بھی کی تھیں، نیز شیخ ابنِ تیمیہ کے مطابق وہ اعتزال کی طرف مائل تھا اور صفات سے متعلقہ مشہور اعتزالی موقف ہی کی بناء پر اس نے اپنی تحریک کا نام موحد رکھا ہوا تھا۔ تاہم بعض محققین کے مطابق ابنِ تومرت کے حوالہ سےمشرق کےمؤرخین نے انصاف سے کام نہیں لیا، وہ اتنا برا نہ تھا جتنا کہ کہا جاتا ہے۔ نیز سبکی نے طبقات الشافعیہ میں اس کا جو ذکر کیا ہے، اس سے اس کے کردار کا کوئی منفی پہلو سامنے نہیں آتا، ہاں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ اشعری تھا اور محض اشعری ہونا شاید کوئی اتنا بڑا "عیب" نہیں۔  مولانا ابو الحسن علی ندوی نے بھی اس کے بارہ میں سبکی کے کلمات بلانکیر نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے اور شبلی وابنِ خلدون کی عبارات سے اس کی توثیق مزید کی ہے۔ (۳)

یہاں ہمیں اس بحث میں نہیں جانا کہ محمد بن تومرت درحقیقت کیا تھا اور کیا نہیں؟ اور کیا امام غزالی سے فی الواقع اس کی ملاقات ہوئی تھی یا نہیں؟ نیز ہمیں یہاں اس بحث میں بھی اپنا کوئی محاکمہ پیش نہیں کرنا کہ محمد بن تومرت کتنا صحیح تھا اور کتنا غلط اور نہ ہی غزالی اور ابنِ تیمیہ کی سلفی اور اشعری فکر کا کوئی تقابل پیش کرنا ہے۔ ہمیں تو یہاں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ امام غزالی پر زوالِ امت کا الزام کتنا غلط ہے اور امت کے زوال وانحطاط کے حوالہ سے ان کا کوئی کردار اگر تاریخ میں ملتا بھی ہے تو وہ مثبت ہے، نہ کہ منفی۔ ابن تومرت کے بارہ میں یہ پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ بعض محققین  سرے سے غزالی کے ساتھ اس کی ملاقات سے انکاری ہیں، جبکہ جو مصنفین اس ملاقات کا ذکر کرتے ہیں تو یہ وہی ہیں  جو ابنِ تومرت کے انقلاب کو ایک صحیح اسلامی انقلاب کہتے ہیں اور اسے امام غزالی  کے کارناموں میں سے ایک کارنامہ شمار کرتے ہیں۔  اب ان دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے، اس  کے بارہ میں کوئی ٹھوس رائے دینا ممکن نہیں ہے۔

اگر محمد بن تومرت کے بارہ میں شبلی وغیرہ کی یہ رائے درست تسلیم کرلی جائے کہ وہ صحیح الفکر آدمی تھا، اس کی تحریک اندلس کے لیے مقتضائے حال کے مطابق تھی اور موحدین کی قائم کردہ حکومت بھی اسلامی اصولوں کے عین مطابق تھی تو انہی کے نزدیک ابنِ تومرت کی اس ساری کاوش کی بنیاد امام غزالی سے اس کی مشاورت تھی۔ پس اگر اس انقلاب کو  صحیح فرض کر لیا جائے جو تحریکِ موحدین نے برپا کیا تھا تو جو اس انقلاب کو صحیح کہتے ہیں، انہی کے بقول اس انقلاب کے خمیر میں غزالی کی مشاورت شامل تھی۔ تاہم ہمیں ذاتی طور پر اس کا ہرگز اصرار نہیں کہ ابنِ تومرت صحیح الفکر تھا اور اس کا انقلاب بھی صحیح بنیادوں پر قائم تھا، بلکہ  صورتِ حال ا س کے برعکس بھی ہوسکتی ہے، مگر اس صورت میں امام غزالی سے اس کی ملاقات کو تاریخی اعتبار سے ثابت کرنا بھی ایک مشکل کام ہوگا۔ کیونکہ جو مؤرخین ابنِ تومرت کے کردار سے متفق نہیں، انہیں اس کی امام غزالی کے ساتھ ملاقات سے بھی اتفاق نہیں، بلکہ ابنِ اثیر سے لے کر دکتور راغب السرجانی تک یہ تمام مؤرخین اور محققین  جو ابن تومرت کو بھٹکا ہوا سمجھتے ہیں، غزالی سے اس کی ملاقات  سے بھی سخت انکاری ہیں۔ (۴)

ہماری ذاتی رائے میں  ابنِ تومرت کے ہاتھوں تشکیل پانے والی موحدین کی حکومت میں یا ابنِ تومرت کی ذات میں خواہ کچھ عیب رہے ہوں، مگر موحدین کی حکومت سے بظاہر ایک بڑی خیر بھی برآمد ہوئی۔ مرابطین کے ہاتھوں مراکش اور اندلس کے باقی ماندہ علاقے جو ایک بار پھر ضعف کا شکار ہورہے تھے اور ان کے بارہ میں اندیشہ تھا کہ عیسائی اس کم زوری سے شہ پا کر کہیں ان پر بھی حملہ آور نہ ہوجائیں،  موحدین کی وجہ سے ایک بار پھر مضبوط ہاتھوں میں چلے گئےاور اس حکومت کی تشکیل میں کسی نہ کسی درجہ کے اندر غزالی کے بالواسطہ کردار کو بہرحال مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ امام غزالی کے شاگرد ابو بکر ابن العربی (جنہوں نے اپنے والد کے ساتھ اس سے قبل یوسف بن تاشفین کا اقتدار استوار کرنے میں کردار ادا کیا تھا) نے آگے بڑھ کر اس وقت عبد المومن کا اندلس کی طرف سے استقبال کیا تھا جب وہ اندلس پر حملہ آور تھا۔ عبد المومن موحدین کی حکومت کا پہلا تاج دار  اور ابنِ تومرت کا نہایت قریبی ساتھی تھا، اس کے مزاج میں اپنے پیش رو ابنِ تومرت کی طرح کچھ سختی تھی، مگر تاریخ سے ایسا کوئی حوالہ نہیں ملتا کہ اس نے اپنی حکومت کی بنیاد ابنِ تومرت کی معصومیت کے عقیدہ پر، توحید کے مخصوص اعتزالی تصور پر  یا اس طرح کی اور گم راہیوں پر رکھی ہو، بلکہ اس کے برعکس یہ نظر آتا ہے کہ اس حوالہ سے سکوت کی پالیسی اختیار کرکے گویا اس نے ابنِ تومرت کے اثرات کومٹنے کا موقع دیا اور ان علماء کو عزت دی جو کسی بھی لحاظ سے ابنِ تومرت کی گم راہیوں سے متفق نہیں کہلائے جاسکتے، جبکہ اسی خاندان کے تیسرے یا چوتھے حکم ران تک  باقاعدہ ریاستی سطح پر ابنِ تومرت کی گم راہیوں سے براءت کا اعلانِ عام کردیا گیاv لیکن عرفِ عام میں ان کے لیے موحدین کا نام استعمال ہوتا رہا۔

سید قاسم محمود کے الفاظ میں صلاح الدین ایوبی کے ہم عصر عبد المومن نے جتنی بڑی حکومت قائم کی، اتنی بڑی حکومت شمالی افریقہ کے کسی مسلمان نے اب تک قائم نہیں کی تھی اور نہ اس کے بعد پھر اتنی بڑی حکومت قائم ہوئی۔ نیز عہدِ موحدین کا  تیسرا حکم ران یعقوب المنصور  سب سے زیادہ مشہور ہے، اس کو ارک کے میدان میں  عیسائی حکم ران الفانسو پر فتح حاصل ہوئی، وہ نہایت علم دوست تھا اور اس کے دور میں بے شمار رفاہی کام ہوئے۔ (۵) سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ یہ نہایت مضبوط حکومت تھی، اس سے اندلس میں مسلمانوں کے قدموں کو مزید ثبات اور استحکام نصیب ہوا۔ اندلس پر اس خاندان کی حکومت تقریبا سوا صدی قائم رہی۔ بعد ازاں ایک بار پھر انحطاط شروع ہوا جو 1492ء میں مکمل سقوط پر منتج ہوا۔ یوں اندلس کا جو سقوط گیارہویں صدی میں اموی خلافت کے سقوط کے بعد شروع ہوا تھا  اور اندلس مسلسل صلیبیوں کی لپیٹ میں آتا جارہا تھا، ابن تاشفین، غزالی اور مرابطین وموحدین وغیرہ کی بر وقت مداخلت سے مکمل سقوط تک پہنچنے میں اسے تقریبا ساڑھے تین سو سال تک کی بریک لگ گئی۔

ان تاریخی حقائق کی روشنی میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ غزالی پر اس اعتراض کی قطعا کوئی حقیقت نہیں ہے کہ فلسفہ پر ان کی تنقید سے عالمِ اسلام اولا علمی اور بعد ازاں سیاسی زوال کا شکار ہوگیا جس کا یہ تسلسل ہے کہ آج عالمِ اسلام کو ذلت کے یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ تاریخی حقائق یہ ہیں کہ غزالی نے اگر علمی وفکری سطح سے ہٹ کر عملی میدان میں کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ کردار ادا کیا بھی تو وہ مسلمانوں کے وقار پر منتج ہوا، نہ کہ زوال پر۔ تاریخ میں اس کے برعکس اگر کوئی اور تصویر ملتی ہے، تو ہوائی باتیں کرنے کی بجائے اس کا ثبوت فراہم کیا جائے۔ 

غزالی اور ابنِ رشد کا تقابل؛ کیا کوئی جواز ہے؟

نیز کیا کوئی بتا سکتا ہے  کہ غزالی کے مقابلہ میں جس ابنِ رشد کو اپنا راہ نما بنانے کی تلقین دن رات مسلمانوں کو کی جاتی ہے، امت کے عروج وزوال کی کہانی میں اس نے کب اور کون سا تاریخ ساز مثبت کردار ادا کیا تھا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ابن رشد موحدین ہی کا ایک درباری تھا، بلکہ عبد الواحد المراکشی (مصنف المعجب) کے بقول یہیں سے اس کی شہرت ہوئی اور جو کچھ ملا، یہیں سے ملا۔ ابنِ رشد سے قبل اندلس کے ایک اور مشہور فلسفی اابنِ طفیل کا عبد المومن کے دربار میں آنا جانا تھا، وہی ابنِ رشد کو دربار میں لایا،  عبدالمومن کے بعد خلیفہ ابو یعقوب کے دربار میں اسے بہت عزت ملی، وہ خلیفہ کا مشیرِ خاص بنا،  شاہی طبیب اور قرطبہ کا قاضی بنا،  بعد ازاں تیسرے خلیفہ یعقوب المنصورکے زمانہ میں اس کی عزت وتوقیر میں مزید اضافہ ہوا،  اس کے بعد عتابِ شاہی کا شکار ہوا۔ اب اس بارہ میں کچھ کہنا ممکن نہیں کہ اس کا سبب کیا تھا۔ بعض کے بقول خلیفہ کے بعض ہم نشینوں نے خلیفہ کو اس کے خلاف ورغلایا تھا،  جبکہ بعض کے بقول اس کا سبب اس کے دینی انحرافات تھے۔ خیر، ہمیں اس بحث میں نہیں جانا کہ ان میں سے کون سی بات درست ہے، لیکن اگر وہ واقعتا ان "اعلی خیالات" کا حامل تھا جو خود ملحدین یا متفلسفین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں  اور وہ واقعتا مسلمانوں کے لیے فکری انتشار اور خلفشار کا باعث بھی بن رہا تھا تو اس صورت میں اس پر نازل ہونے والے شاہی عتاب پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

ابنِ رشد  (الحفید) خصوصا فقہ میں وسعتِ نگاہ کے حوالہ سے اپنے ہم نام دادااحمد بن رشد القرطبی (الجد)  کا صحیح جانشین تھا اور اس کے علم سے انکار نہیں، اس کی کتاب "بدایۃ المجتہد" سے علمی حلقے شروع سے استفادہ کرتے آرہے ہیں، لیکن اپنے الہیاتی نظریات میں وہ فلسفہ ہی کے ایک منحرف دبستان کا پیروکار بھی تھا۔  اس لیے اس سے دینی انحرافات کی توقع کچھ غلط نہیں۔  اگر دعوی یہ ہے کہ ابنِ رشد کے موردِ عتاب بننے سے عالمِ اسلام کا زوال اور مسیحیت کی علمی اٹھان شروع  ہوئی تو ریکارڈ کی درستگی کے لیے عرض ہے کہ ابنِ رشد کی تکفیر خود اس کی زندگی میں مسیحیوں کی طرف سے بھی ہوئی تھی اور اندلس پر اپنے حملہ کے بعد صلیبیوں نے اس کی کتابوں کو بھی جلادیا تھا۔ ہاں البتہ ملحدین کے ہاں اسے قبولِ عام حاصل ہوا ہے تو کیا ہمیں ابنِ رشد کو راہ نما بنانے کا جو مشورہ دیا جاتا ہے، اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم مذہب کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکیں؟ کسی ایک فلسفی کے اپنے الہیاتی نظریات کی وجہ سے زیرِ عتاب آجانے سے کوئی ریاست یا معاشرہ علمی یا سیاسی زوال کا شکار نہیں ہوسکتے، نہ ہی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اہلِ فکر جینوئن اور مفید سائنسی علوم کے حوالہ سے بھی غور وفکر کرنا چھوڑ دیں۔ چنانچہ  کتاب پروری اور اور علمی ترقی موحدین کے دور میں بھی برابر جاری رہی۔ عبد المومن نے مراکش میں ایک بڑا کتب خانہ قائم کیا تھا جس میں چار لاکھ کتابیں تھیں۔ یعقوب کا دور ہر لحاظ سے ایک زبردست دور تھا، اس دور میں مسلمانوں کو صلیبیوں کے خلاف نہایت  اہم فتوحات  حاصل ہوئیں،  سڑکیں ، ہسپتال، سرائیں اور درس گاہیں تعمیر ہوئیں اور سید قاسم محمود کے بقول اس زمانہ میں اندلس میں بڑی زبردست سائنسی ترقی ہوئی اور ایسے ایسے مصنف اور سائنس دان پیدا ہوئے کہ جو بغداد اور نیشاپور  وغیرہ کے بڑے علماء سے کسی طرح کم نہ تھے۔ (۶) 

ابنِ رشد کی بعض علمی صلاحیتیں اپنی جگہ،  مگر اس تاریخ کو سامنے رکھیں اور ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ  کیا عروج وزوال کی کہانی میں غزالی اور ابنِ رشد کا تقابل کرنے اور دن رات اس کی مالا جپنے کا کوئی جواز ہے؟ کہاں تو غزالی جو حکومتوں پر اثر انداز ہوکر مسلمانوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہورہے ہیں اور کہاں ابنِ رشد جن کی کہانی درباری نوازشات سے فیض یاب ہوکر درباری عتاب پر ختم ہوتی ہے اور جن کی شخصیت اتنی الجھی ہوئی ہے کہ آج تک ان کی فکر کے اجزاء کے تعین پر ہی کوئی اتفاق نہ ہوسکا۔ ہمارا مقصود یہاں پر نہ تو ابنِ رشد کی تکفیر وتفسیق ہے اور نہ ہی اشعری فکر کا سلفی فکر کے ساتھ کوئی محاکمہ مقصود ہے، بلکہ ہمارا مقصود صرف یہ عرض کرنا ہے کہ امت کے عروج وزوال کی کہانی میں غزالی اور ابنِ رشد کا تقابل کسی بھی حوالہ سے معقول نہیں ہے۔

اگر مغرب کی ترقی اور امتِ مسلمہ کے زوال کا راز یہی ہے کہ مغرب نے ابنِ رشد کی تقلید کی ہے تو ذرا بتائیے ناں کہ ابنِ رشد کی وہ کون سی روشن فکر ہے جس نے مغرب کی نشاتِ ثانیہ میں کردار ادا کیا ہے اور اسے وقت کی "سپر پاور" پنا دیا ہے۔ لوگوں کو دینی انحرافات کی طرف مائل کرنے کے لیے ابنِ رشد کا نام بطور حوالہ مت استعمال کیجئے۔ اگر مغرب کی ترقی کاراز اس کا الحاد اور مذہبی تقدسات سے دستکش ہوجانا ہے تو ایسی ترقی ہمیں ہر گز نہیں چاہئے اور یہ سچ ہے کہ ہم اپنے دین کے ساتھ جیسے تیسے منسلک رہنے کی وجہ سے ہزار خرابیوں کے باوجود ترقی یافتہ مغرب سے کہیں بہتر اور کہیں اچھے حال میں ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی اپنے دین کی جیسی تیسی اتباع کی برکت سے اتنا کچھ ہے کہ دنیا کی کوئی قوم الحاد کے راستہ سے سپر پاور یا بین الاقوامی چودھری بن کر بھی کبھی وہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتی۔ یہ سچ ہے کہ خواہ ہم مغلوب ہی کہلاتے ہیں، مگر ہم نے ایٹم بم جیسے ہتھیار بنانے میں مجرمانہ پہل نہ کرکے کوئی غلطی نہیں کی، ہم نے عام شہری آبادیوں پہ وہ بم گراکر اگر خود کو سپر پاور نہیں کہلوایا تو ہم اس پر آج بھی خوش ہیں، ہم نے جنگہائے عظیم  میں کوئی مؤثر کردار ادا نہ کرکے اور کروڑوں انسانوں کے جان ومال کے ساتھ کھلواڑ کرکے اچھا ہی کیا ہے، ہم نے آزادی نسواں کے نام پر صنفِ نازک کو نہیں ورغلایا تو اس پر اللہ کے حضور شکر بجا لاتے ہیں، ہم نے دنیا کو خاندانی نظام کی بربادی کا تحفہ نہیں دیا، اخلاق اور انسانیت کے نام پر ہم نے دنیا سے کوئی مکاری نہیں کی، خود کشی کے ریکارڈ قائم نہیں کیے اور نہ ہی ہم نے انسانیت کو ملحدانہ عقلیت کے نام پر ذہنی امراض کا شکار بنایا ہے۔ شکر ہے کہ ایسی ترقی کسی اور ہی کے حصہ میں آئی ہے اور ہم اپنی ہزار خرابیوں کے باوجود "ترقی یافتہ اقوام" سے آج بھی کہیں بہتر ہیں۔ الحمد للہ!

مشرقی اسلامی دنیا میں غزالی کا کردار

ہم نے گذشتہ سطور میں اندلس کے حوالہ سےغزالی کے کردار کے چند گوشوں پر روشنی ڈالی ہے، مگر غزالی خود مشرق میں  تھے جہاں اس زمانہ میں سلجوقیوں کی حکومت تھی۔ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مشرق میں غزالی کا جو کردار تھا، اس کے چند روشن اور مثبت پہلوؤں پر بھی یہاںروشنی ڈالیں۔

ایک بات جو نہایت اہم اور قابلِ توجہ ہے، وہ یہ  کہ امام غزالی نے اپنی علمی وجاہت کے زمانہ میں شاہانِ سلجوقی کو کئی تربیتی اور تنبیہی خطوط لکھے جن میں شاہ سنجر سلجوقی کے نام ان کے خطوط خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں جو ان کے دور میں نائب امیر کے عہدے پر فائز تھا۔ شاہ سنجر سلجوقی نے چالیس سال حکومت کی، وہ اپنی کم زوریوں کے باوجود بہرحال ایک نہایت علم دوست اور ہنر پرور آدمی تھا۔ مسلم علم وفن اور حرفت وصنعت کے بلند پایہ مؤرخ سید قاسم محمود نے اس کے لیے نہایت غیر معمولی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ان کے الفاظ میں

"اس کے دربار میں ادب، شاعری اور سائنس وفلسفہ کا ویسا ہی چرچا رہتا تھا جیسا ہارون الرشید، مامون الرشید اور محمود غزنوی کے درباروں میں رہتا تھا۔ اس کے زمانہ میں خراسان دار العلم بن گیا تھا اور وہاں کے بڑے بڑے شہر مدرسوں، کتب خانوں، علماء اور اربابِ کمال سے بھر گئے ۔۔۔۔۔ سلجوقی دور میں علوم وفنون کی خوب سرپرستی کی گئی اور اسلامی دنیا علمی حیثیت سے اس عہد میں اپنے عروج پر پہنچ گئی۔" (۷)

ان سلجوقی حکم رانوں کے نام لکھے گئے اپنے مکاتیب میں غزالی نے ان کو کئی حوالوں سے تنبیہات فرمائیں، خصوصا بیت المال کےحوالہ سے بدعنوانیاں برتنے پر انہیں ٹوکا، لیکن اپنے ان خطوط میں انہوں نے ان کی علمی وفنی سرگرمیوں پر کوئی ایک بھی تنقیدی کلمہ نہیں کہا۔  اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ غزالی کو  علمی وفنی ترقی کا دشمن گرداننا ان پر کتنا بڑا اتہام ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انہیں اس پر کوئی اعتراض ہوتا تو جب وہ اپنے مکاتیب میں ان پر نکیر کی ہمت کر ہی رہے تھے تو اس حوالہ سے ان کا قلم اور ان کے لب خاموش کیوں رہتے؟

تاہم جیساکہ ہم نے لکھا، مملکت کا محض تعلیمی وصنعتی سرگرمیوں سے آباد ہونا اس کی وجاہت اور استحکام کی ضمانت نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے بعض اور لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ سلجوقی حکم رانوں میں اپنی تمام تر علم پروریوں کے باوجود جب ان لوازمات کی کمی آئی تو ریاست غیر مستحکم ہوئی۔ غزالی کے دور میں اندلس کی طرح مشرق میں بھی اسلامی دنیاکی سرحدوں پر صلیبی حملہ آور تھے۔ ان کی زندگی میں بیت المقدس پر صلیبیوں کا قبضہ ہوچکا تھا۔  تاہم اس حوالہ سےمحض چند جذباتی کلمات لکھ دینے کی بجائے انہوں نے اپنے منصب کے مطابق نہایت حکیمانہ انداز میں مسلم معاشرہ کے داخلی امراض کی تشخیص وعلاج میں اپنی زندگی صرف کی اور اس حوالہ سے خود کو ایک دیرپا علاج کے لیے وقف کیا۔ وہ غالبا مشرق میں کسی ایسی پرجلال شخصیت کو نہیں دیکھ رہے تھے جو اس وقت صحیح معنوں میں  صلیبیوں کے مد مقابل آسکتی۔ مسلم معاشرہ میں اس وقت  وہ دینی روح نہایت کم زور ہوچکی تھی جو مسلمانوں کو  یک سوئی کے ساتھ صلیبیوں کے مقابلہ کے لیے کھڑا کرتی۔  عالمِ اسلام کے ایک بڑے حصہ پر باطنیوں کی خود مختار حکومت قائم تھی اور وہ اپنے بارہ میں کئی سو سال سے مستقل خلافت کے دعوے دار تھے جس کا مرکز مصر تھا۔  بغداد کی عباسی خلافت برائے نام باقی رہ گئی تھی اور در اصل وہ محکومی کے دور سے گذر رہی تھی۔ سلجوقیوں کی طاقت اور حکومت  ملک شاہ کے تین بیٹوں محمد، محمود اور برکیارق (سنجر اسی کا نائب تھا) میں منقسم ہوچکی تھی، خانہ جنگی کی وجہ سے  کئی علاقے خود ان کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے۔  ملک شاہ کے وزیر نظام الملک اور اس کے بیٹے فخر الملک نے جو تعلیمی نظام مملکت کے اطراف میں قائم کر رکھا تھا، اس میں روحانیت سے زیادہ مادیت کا غلبہ تھا، علم کا حصول عہدہ، عزت اور دولت کے لیے ہوتا تھا، اخلاص کی روح نہایت کم زور تھی۔ غزالی نے اسی خلاء سے اثر لے کر اس نظام سے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔ جبکہ فلسفہ کے نام پر منحرف معقولی جو ظلمتیں پھیلارہے تھے، وہ ان سب پر مستزاد تھیں۔

غزالی کو خدا نے ایک سیال اور مؤثر قلم عطا کیا تھا۔  اپنی اصلاح کے لیے مجاہدے کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لیے نہایت وقیع اور عمدہ  تصنیفات تیار کیں، جن سے ایک بڑی مخلوق نے استفادہ کیا۔ وہ باوجود متکلم اور صوفی ہونے کے خود اہلِ تصوف اور اہلِ کلام پر نہایت ماہرانہ تنقید کرتے ہیں، ان کی وفاداری کا تمام تر محور دینِ اسلام ہے، وہ سلاطین پر تنقید کرتے ہیں، علماء کو فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے اکساتے ہیں، علم اور عمل کے حوالہ سے اہلِ اسلام کی حسیات کو بے دار کرتے ہیں، انہیں اللہ کے رنگ میں پھر سے نہا جانے کی دعوت دیتے ہیں، فلسفہ اور باطنیت پر نہایت نکتہ رس تنقیدات کرتے ہیں۔ ان کے اخلاص اور قلم کی برکت سے ایک بڑی مخلوق کو فائدہ ہوا۔ ان کی تنقید سے فلسفہ کا وہ دبستان جو کندی سے شروع ہوکر بنِ رشد اندلسی پر ختم ہوتا ہے اور جس کا مقصد دینِ اسلام کو فلسفہ کے چوکھٹے میں فٹ کرنا تھا، مشرق میں ایسا نیم جان ہوا کہ پھر سر نہ اٹھا سکا۔

نیز انہوں نے نظامی مدارس کے بالمقابل اپنے گھر کے ساتھ ایک خود انحصار خانقاہ اور مدرسہ کی بنیاد رکھی جس میں وہ کم زوریاں نہیں تھیں جو انہیں مملکت کے عمومی مدارس کی فضا میں محسوس ہوئی تھیں۔ محققین کے ایک طبقہ کے بقول یہ ایک مثال تھی جو غزالی نے قائم کی تھی، اس سے علم وعمل کے چراغ جلنا شروع ہوئے اور اصلاحی مدارس کی ایک نئی طرح قائم ہوئی۔ بقول ان محققین کے کچھ عرصہ بعد صلیبیوں کے سیلاب کے بالمقابل اتابک عماد الدین زنگی، نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی کی جو نسل تیار ہوئی اورجس کے ذریعہ سے بیت المقدس کی کی بازیافت ہوئی، وہ غزالی جیسے بزرگوں کی اصلاحی مساعی کا نتیجہ تھی۔ اس سلسلہ میں دکتور ماجد عرسان الکیلانی کی کتاب "ھکذا ظہر جیل صلاح الدین وھکذا عادت القدس" مذکورہ موضوع کا متخصصانہ احاطہ کرتی ہے اور یہ بعض لوگوں کے اس سوال کا جواب ہے کہ مشرقی اسلامی دنیا جو غزالی کے زمانہ میں صلیبی حملوں کی زد میں تھی، غزالی نے اپنی کتابوں میں اس پہ کوئی تبصرہ کیوں نہیں کیا یا اس کے خلاف عملا جہاد میں حصہ کیوں نہیں لیا؟ ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر مشرق میں بھی اس وقت یوسف بن تاشفین جیسا کوئی ذی حشمت اور طاقت ور آدمی دستیاب ہوتا تو غزالی ضرور اس کی پشت پناہی کرتے، غالباً‌ ایسا کوئی آدمی سامنے نہ ہونے کی وجہ سے ہی غزالی کی نباضی اور حکیمانہ تشخیص نے انہیں وہ اصلاحی منہج اختیار کرنے پر اکسایا جس کے نتیجہ میں چند سال بعد زنگی اور ایوبی کی نسل منظر پر آئی۔ (۸)

بعض عرب محققین کی طرح ہمارا بھی خیال ہے کہ مذکورہ کتاب میں صلاح الدین کے ظہور کا جوڑ جس طرح کلی طور پر غزالی کی اصلاحی مساعی سے قائم کیا گیا ہے، اس میں کچھ مبالغہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ زنگی اور ایوبی صوفیاء کے قدردان تھے اور اس حوالہ سے تاریخ میں ایک سے زیادہ ثبوت موجود ہیں، لہذا اگر ان صف شکن مجاہدین کی تشکیل میں دکتور ماجد عرسان کیلانی کے بقول امام غزالی اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمہما اللہ جیسے اس دور کے چوٹی کے صوفیاء کی برکات شامل رہی ہوں تو اس میں کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ امام غزالی اور شیخ جیلانی جیسے بزرگوں نے جس زمانہ میں مسلم معاشرہ کے اندر رجوع الی اللہ کا صور پھونکا تھا، اس زمانہ میں واقعی امت کو اس صور کی ضرورت تھی اور اسی وجہ سے ان دونوں بزرگوں کی اصلاحی مساعی امت کی تاریخ دعوت وعزیمت کا ایک عظیم باب سمجھی جاتی ہیں۔ نیز غزالی کے ظہور کے کچھ ہی عرصہ بعد زنگی اور ایوبی مجاہدین نے جس طرح مصر میں باطنیوں کی تقریبا تین سو سال سے قائم حکومت کا خاتمہ کیا تھا، وہ مسلم معاشرہ کے اس حوالہ سے تحرک اور بے داری کا پتہ دیتا ہے جس کا ایک بڑا سبب اس دور میں غزالی کی طرف سے باطنیوں پر کی گئی علمی تنقید رہی ہو تو اس میں بھی ہرگز کوئی عجیب بات نہیں۔ لہذا زنگی اور ایوبی جیسے مجاہدین کی تشکیل میں غزالی کا اگر براہِ راست کوئی کردار نہ بھی رہا ہو تو بالواسطہ اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔  

اگر عملی میدان میں بھی دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ غزالی کی نظر اس زمانہ میں مغرب کے یوسف بن تاشفین پر تھی اور اس سے انہیں نیک توقعات تھیں۔ ابنِ خلکان اور سبکی کی روایت کےمطابق انہوں نے اسکندریہ سےبراستہ سمندر بذاتِ خود اس کی طرف جانے کے لیے تیاری بھی کر رکھی تھی، مگر ابھی وہ اسکندریہ کے اندر ہی تھے کہ انہیں ابنِ تاشفین کی وفات کی خبر پہنچی جس کی وجہ سے انہوں نے جانے کا ارادہ موقوف کردیا۔ (۹) روایات کے مطابق ابنِ تاشفین نے 500ھ میں وفات پائی۔ یوں جب اندلس سے ان کی وفات کی خبر اسکندریہ میں غزالی کے پاس پہنچی تو یقینا یہ بھی 500ھ یا 501ھ کا سال ہوگا۔ بیت المقدس پر صلیببیوں کا قبضہ تقریبا 492ھ میں ہوا تھا اور یہ وہی سال ہے جب غزالی کی طرف سے ان کے شاگرد ابوبکر ابن العربی یوسف بن تاشفین کے نام ان کا خط لے کر جارہے تھےجس میں انہیں اندلس کو ایک یک سو حکومت پر جمع کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔ اس وقت ممکن نہ تھا کہ ابنِ تاشفین کو مشرق آکر یہاں کے حالات سنبھالنے کی دعوت دی جاتی۔ 

اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ 500ھ کے پس وپیش زمانہ تک جب اندلس اور مغرب میں ابنِ تاشفین کے استحکام کی خبر غزالی کو پہنچی ہوگی تو یقنا مشرق میں ان کی قوت سے استفادہ کی غرض سے ہی وہ خود ان کے پاس بنفسِ نفیس چل کر جانے کا ارادہ رکھتے ہوں گے، مگر ابنِ تاشفین کو اجل نے آلیا اور یہ ارادہ پورا نہ ہوسکا۔یوں غزالی نے نہ صرف مشرق میں صلیبی حملوں کے زمانہ میں مسلمانوں کی عمومی اصلاح کے گراں قدر خدمات انجام دیں، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ 500ھ کے پس وپیش زمانہ میں ابنِ تاشفین کے پاس جانے کا ان کا ارادہ مشرق کے حکم رانوں سے کسی ہنگامی درست اقدام کی توقع نہ ہونے کی بناء پر  اور ابنِ تاشفین کو عملی جہاد کے لیے تیار کرنے کی غرض سے ہی ہوگا جو ابنِ تاشفین کے پاس نہ پہنچ پانے کی وجہ سے پورا نہ ہوپایا اور اس ارادہ کے تفصیلی نقوش بھی تاریخ میں مذکور ہونے رہ گئے۔

آخری بات

ہمارا مقصود یہاں قاری کو محض غزالی کی شخصیت کی طرف دعوت دینا نہیں ہے۔ اس قضیہ کے اندر ہماری دعوت اور ہمارا موقف دراصل یہ ہے کہ امت کا ماضی، حال اور مستقبل اسلام کے ساتھ وابستہ ہے، نہ کہ دینی انحرافات کے ساتھ۔ انہیں  اگر پھر سے اپنی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھنا ہےتو اس کے لیے انہیں اسلام کے ساتھ اپنے رشتہ کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا چاہئے اور اپنے پیکر کو اسلامی پیکر بنانا چاہئے۔دینی انحراف میں کامیابی کا کوئی راستہ نہیں۔ ہماری اصل تنقید دینی انحراف پر ہے، نہ کہ علم دوستی اورکتاب پروری کے رویہ پر۔ بلکہ ہم کہہ چکے ہیں کہ اپنے دفاع کے حوالہ سے چوکنا رہنا  اور ضروری لوازمات کا انتظام کرنا تو خود ان کے دینی فرائض میں شامل ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو کچھ بھی عزت ملی تھی، وہ انہیں اپنے دین کے ساتھ عہدِ وفا نباہنے کی وجہ سے ملی تھی۔ وہ اسلام کے داعی تھے، قرآن ان کا دعوی اور قرآن ہی ان کی دلیل تھا، ان کے دلوں میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کےلیے مرعوبیت وعقیدت کے ایسے جذبات تھے کہ ان کے لعابِ دہن کو اپنے چہروں پر ملنا وہ سعادت سمجھتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے انہی صفاتی خدوخال اور اسی ایمانی پیکر کے ساتھ دنیا میں بلند ہوئے تھے۔  روم وفارس اور یونان کے فلسفے، ان کی بھری ہوئی لائبریریاں اور ان کا علمی رعب ودبدبہ مدینہ کے خاک نشین مسلمانوں کے سامنے شکست کھا گیا تھا اور روم وفارس صرف سیاسی طور پر ہی ان کے ہاتھوںمغلوب نہ ہوئے تھے، بلکہ علمی، تہذیبی اور مذہبی اعتبار سے بھی وہ اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے تھے۔ یہ ان کے فلسفوں کی، ان کے مذہب کی اور ان کے تہذیب وتمدن کی شکست تھی۔   حق یہ تھا کہ مسلمان سلاطین اپنے اس شان دار ماضی سےرشتہ نباہتے، جن آباء کے ہاتھوں یہ فتوحات حاصل ہوئی تھیں، ان آباء کے اسوہ کو سامنے رکھتے اور ان مفتوحہ علاقوں کے حوالہ سے ان کا جو اسوہ تھا، اسے اپنے لیے آئین ودستور کی حیثیت سے پیشِ نظر رکھتے۔ مگر ان سلاطین کی سرگرمیوں کے حوالہ سے مسلمانوں کے روایتی علمی ورثہ کا شروع سے عدمِ تحسین کا رویہ ہی اس بات کی کافی وافی شہادت ہے کہ یہ سرگرمیاں اسلامی آداب اور تقاضوں کی رعایت کے حوالہ سے کس سطح کی تھیں۔

ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مفید انسانی علوم سے اسلام کو ، اہلِ اسلام کو اور علماءِ اسلام کو کبھی کوئی پرخاش نہیں رہی اور نہ ہی ان سے استفادہ کرنا کسی بھی درجہ میں ان کے ہاں کوئی قابلِ اشکال چیز تھا۔ عہدِ ملوکیت  میں علمی وعقلی سرگرمیوں کے نام پر جو کچھ ہوا، اگر وہ بھی اسی دائرہ میں رہتا یا زیادہ سے زیادہ کچھ مباح تفریحی مشاغل کی حد تک ہوتا تو حرج نہ تھا اور نہ ہی کسی کو اس پر اعتراض ہونا تھا، ہوا یہ کہ یہاں پر حلال وحرام کی تمیز تک مٹا دی گئی، انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے  مسلمانوں کو لغویات میں لگا دیا گیا، ان کے آپس کے درمیان اختلافات پھوٹ پڑے، نئے نئے فتنے اور فرقے وجود میں آئے اور اسلام کے مقتدایان کی تمام تر دہائیوں کے باوجود یہ سلسلہ پادشاہانِ اسلام کی سرپرستی میں روز افزوں رہا اور  خود اختلاف کرنے والے علماء کو بھی زبردستی ان معاملات میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔ ظاہر ہے کہ اِس ساری صورتِ حال کو کوئی بھی واقفِ حال مسلمان نہ تو ماضی میں اور نہ ہی آج، بنظرِ تحسین دیکھ سکتا ہے۔

اسلامی اندلس جسے اموی خلافت کے سقوط کے بعد ہی اپنے وجود اور بقاء کے لالے پڑ گئے تھے اور طوائف الملوکی سے فائدہ اٹھاکر صلیبی اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے لپیٹتے جارہے تھے، پہلے مرابطین اور پھر موحدین کی حکومت کی وجہ سے اس کو سہارا ملا اورتقریبا تین سو سال تک یہ علاقہ مسلمانوں کے پاس باقی رہا۔ جبکہ موحدین کی حکومت کے خاتمہ کے بعد ایک بار پھر سابقہ کیفیت پیدا ہوئی، اسلامی اندلس کی حدود سمٹتی چلی گئیں  اور بالآخر کہانی اندلس کے مکمل سقوط پر ختم ہوئی۔آپ جان چکے ہیں کہ تقریبا ساڑھے تین سوسال کا وہ سہارا جو اسلامی اندلس کو ملا ، اس میں غزالی کا کس قدر کلیدی حصہ شامل تھا۔ نیز خود مشرق میں دینی روح کی کم زوری کی وجہ سے اسلامی سرحدات پر جس طرح صلیبی حملہ آور تھے، اس کے تدارک کے لیے غزالی جیسے بزرگوں نے اسلامی بے داری کا جو صور پھونکا، اس کے کتنے خاطر خواہ نتائج نکلے۔ 


حواشی

۱۔ الغزالی، علامہ شبلی نعمانی، صفحہ 225، ط: اسلامی کتب خانہ لاہور

 ۲۔ تاریخ دعوت وعزیمت، جلد اول، صفحہ 191 – 193۔ ط: ۔ مجلس نشریاتِ اسلام، کراچی

۳۔  تفصیل کے لیے دیکھئے: قصۃ الاندلس، راغب السرجانی، صفحہ 537، 538۔

۴۔  دیکھئے: قصۃ الاندلس، راغب السرجانی، ص:581،

۵۔ مسلم سائنس، سید قاسم محمود، صفحہ 118، 119۔ ط: الفیصل لاہور

۶۔ مسلم سائنس، سید قاسم محمود، صفحہ 118، 119۔ ط: الفیصل لاہور

۷۔ مسلم سائنس، سید قاسم محمود، صفحہ 118، 119،

۸۔  مسلم سائنس، سید قاسم محمود، صفحہ 100،

۹۔  تفصیل کے لیے دیکھئے: ھکذا ظھر جیل صلاح الدین، دکتور ماجد عرسان الکیلانی، الباب الثالث، الفصل العاشر: دور مدرسۃ ابی حامد الغزالی فی الاصلاح والتجدید، ط: المعہد العالمی للفکر الاسلامی


شخصیات