مولانا مفتی تقی عثمانی کی “اسلام اینڈ پالیٹکس’’ کی تقریب رونمائی

عظیم الرحمن عثمانی

۱۷۔ اپریل ۲۰۱۸ء کو 'سو ایس یونیورسٹی آف لندن' میں ایک پروقار علمی نشست کا اہتمام ہوا جو اپنی حقیقت میں دو انگریزی کتابوں کی تقریب رونمائی تھی۔ پہلی کتاب اردن کے شہزادے اور پی ایچ ڈی اسکالر پرنس غازی بن محمد کی تصنیف تھی جو تدبر قرآن سے متعلق ہے اور دوسری کتاب "اسلام اینڈ پولیٹکس" (اسلام اور سیاست) محترم مفتی محمد تقی عثمانی کی تحریر کردہ تھی جو اسلام کے سیاسی نظام اور اس کے نفاذ کی بات کرتی ہے۔ یہ تقریب بہترین نظم کے ساتھ ایک خوبصورت یونیورسٹی کے کشادہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ سامعین میں غیر مسلم طالب علم بھی اچھی تعداد میں موجود تھے۔ 

کئی مراحل سے گزر کر مائیک مفتی تقی عثمانی صاحب کی جانب آیا اور انہوں نے بلیغ انداز میں اپنی کتاب کو بیان کیا۔ مفتی صاحب کی گفتگو کا مختصر خلاصہ حسب ذیل ہے:

سب سے پہلے انہوں نے بیان کیا کہ آج کس طرح ساری دنیا پر سیکولرزم کا غلبہ ہے۔ انہوں نے سیکولرزم کو تھیوکریسی کا ردعمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تھیوکریسی اپنی اصل میں غلط نہیں مگر اس کی عملی شکل جو دنیا کو دکھائی گئی، وہ غلط تھی۔ عیسائیت سمیت دیگر غیر اسلامی مذاہب میں سیاست کے لیے اسلام کی طرح واضح احکامات نہیں موجود ہیں، لہذا ان مذاہب نے خدا کی حکومت یعنی تھیوروکریسی کے نام پر مذہبی رہنماوں کی حکومت قائم کردی جنہوں نے حرام کو حلال بناکر اپنی طاقت قائم رکھنا چاہی۔ اس مسلسل ظلم سے بددل ہوکر مغربی عوام نے تھیوکریسی کا تختہ الٹا اور سیکولرزم کو مقابل پیش کیا جس کے تحت الہامی ہدایات کا ملکی قوانین سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اسلام اس نظریے کو مسترد کرتا ہے اور یہ اصول دیتا ہے کہ زمین اللہ کی ہے تو اس پر قانون بھی اللہ ہی کا نافذ ہوگا۔ مسلمانوں میں وہی شخص حکمران ہوسکتا ہے جو اس اصول کو تسلیم کرتا ہو۔ خلافت راشدہ اور اس کے بعد بھی کچھ صالح خلفاء کی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے کتاب و سنت کا بہترین حکومتی اطلاق کرکے دکھایا۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی بہت سے خلیفہ ایسے گزرے جنہوں نے اس نفاز میں ذاتی مفاد کو محبوب رکھا۔ خلیفہ کو خلیفہ کہتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ اپنی مرضی نہیں چلاتا بلکہ وہ 'سب آرڈینیٹ'ہوتا ہے، 'وائسرائے' ہوتا ہے جو پوری صلاحیت سے خدائی نظم کے نفاز کا قیام کرتا ہے۔ البتہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ اسے خلیفہ کا ہی نام دیں۔ یہ آپ کی مرضی ہے کہ آج کے دور میں آپ اسے ملک کہیں، امیر کہیں یا پریذیڈینٹ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ مغالطہ ہے کہ خلیفہ ایک ڈکٹیٹر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس خلیفہ قرانی اصول شوری بینھم یعنی مشورے کو اپناتا ہے۔

آج کے مسلمانوں نے اس ضمن میں دو مختلف انتہائیں اختیار کی ہیں۔ پہلا گروہ ان ماڈرنسٹ اہل علم کا ہے جو مغربی جمہوریت اور سیکولرزم کے داعی بن بیٹھے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت یعنی ڈیموکریسی دراصل عوام کی حاکمیت کا نام ہے جو اس اصول کی نفی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی۔ اسلام میں قانون سازی کیلئے یا خلیفہ منتخب کرنے کیلئے صرف ووٹوں کا زیادہ ہونا کافی نہیں ہیں بلکہ ساتھ ہی کئی اور شرائط ہیں جن کا اس شخص میں موجود ہونا لازم ہے جو خلیفہ بنایا جائے گا۔ مسلمانوں میں دوسری انتہا ان گروہوں نے اپنائی ہے جو فقط خلافت ہی کے قیام و کوشش کو دین کا واحد مقصد سمجھ بیٹھے ہیں۔ حالانکہ جس طرح تجارت کے قوانین و ہدایات اسلام کا حصہ ہیں ویسے ہی حکومت چلانے کے قوانین و احکامات بھی اسلام میں شامل ہیں۔ کسی ایک حصے کو پورا مدعا بنالینا درست نہیں۔ اس گروہ میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو اسی غلو کے تحت حج کو بھی عبادت کی بجائے ایک انٹرنیشنل میٹنگ برائے خلافت کہتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے بہت سے انبیاء خلافت نہیں قائم کرپائے تو کیا وہ ناکام رہے؟ جواب میں وہ معاذ اللہ کہتے ہیں کہ وہ دین کے بنیادی مقصد کو قائم کرنے میں ناکام ہوئے۔ یہ دوسری انتہا ہے۔ انہوں نے سیاست کو اسلامی کرنے کی چاہ میں اسلام کو سیاسی بناڈالا۔ حدیث کے مطابق کوئی مسلمان خلیفہ بننے کی تگ و دو نہیں کرتا یا اس کی لالچ نہیں رکھتا جیسا کہ آج اس کے برعکس سیاسی رہنما کرسی کے لیے تحریکیں چلاتے ہیں۔ دور خلافت میں کچھ اہل دانش کا انتخاب ہوا کرتا تھا جو مل کر کسی اہل شخص کو حکومتی نظم کے لیے بطور خلیفہ نامزد یا مقرر کرتے تھے۔ آج کے دور میں ایسی مجلس کا قیام ممکن نہیں رہا۔ اپنی اس کتاب میں مفتی عثمانی صاحب نے اس کا حل پیش کیا ہے۔

انہوں نے خلافت سے متعلق غلط فہمیوں کا بھی جواب دیا جیسے انہوں نے ثابت کیا کہ خلافت میں غیر مسلم کو برابر کے شہری حقوق حاصل ہوتے ہیں ۔ جزیہ ایک ٹیکس ہے جو غیر مسلم دیتے ہیں۔ اس کے مقابل زکاۃ ہے جو صرف مسلم ادا کرتے ہیں۔ جزیہ کی شرح ہمیشہ زکاۃ سے کم رکھی گئی ہے، لہذا جزیہ کو ظلم سمجھنا بلکل غلط ہے۔ آج خلافت کے قیام پر آپ جزیہ کا کوئی اور نام رکھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ اسی طرح یہ بھی غلط فہمی ہے کہ خلافت غیر مسلم ممالک سے حالت جنگ میں رہتی ہے۔ انہوں نے مثالیں دے کر یہ واضح کیا کہ کس طرح خلافت دیگر ممالک سے عمومی طور پر امن معاہدہ کرکے رکھتی ہے۔ 

(نوٹ: تحریر راقم کی اپنی سمجھ اور یادداشت پر مبنی ہے، لہذا اس میں کمی بیشی کا امکان ہے۔ تفصیل کے لیے اس پروگرام کی ریکارڈنگ سنی جا سکتی ہے جو انٹر نیٹ پر بآسانی دستیاب ہے)


تعارف و تبصرہ