حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۲)

مولانا عبید اختر رحمانی

حضرت شاہ ولی اللہ کے دلائل کا جائزہ 

حضرت شاہ ولی اللہ نے اپنے نظریہ تخریج پر  الانصاف اورحجۃ اللہ میں تفصیل سے بحث کی ہے  ، اپنے موقف کی تائید کیلئے انہوں نے تین دلیلیں پیش کی ہیں،ہم ترتیب وار ان تینوں دلیلوں کا جائزہ لیتے ہیں

(۱) حضرت شاہ صاحب کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اہل کوفہ کو اپنے مشائخ اوراساتذہ سے خصوصی لگاؤ تھااور ان کی پوری توجہات کا مرکز کوفہ کے فقہااورمشائخ تھے اوراس ضمن میں انہوں نے حضرت مسروق اورامام ابوحنیفہ کا واقعہ پیش کیاہے۔

حضرت مسروقؒ نےایک مسئلہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ کر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کرلیاتھاتوان سے علقمہ نے کہا تھا کہ کیاکوئی اہل مدینہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی زیادہ صاحب علم ہے،اس پر مسروق نے کہاکہ ایسی بات نہیں ؛لیکن حضرت زید بن ثابت کو میں نے راسخین فی العلم میں سے پایاہے۔

دوسری مثال یہ ہے کہ جب امام ابوحنیفہ اورامام اوزاعی میں رفع یدین پر مناظرہ ہوا توامام ابوحنیفہ نے فرمایا : اگر حضرت عبداللہ بن عمر کو شرف صحابیت حاصل نہ ہوتی تومیں کہتاکہ علقمہ ابن عمر سے زیادہ فقیہ ہیں، ان مثالوں سے محض یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کو اپنے مشائخ اورمشائخ کے مشائخ سےدلی لگاؤتھااوران کے اقوال واجتہادات کے ساتھ خصوصی تعلق تھا؛لیکن یہ تو فطری چیز ہے،ہرشہر والے کو اپنے شہر اورملک کے عالم وشیخ سے محبت ہوتی ہے، اہل مدینہ کو فقہاء سبعہ اوران کے مشائخ حضرات صحابہ سےفطری لگاؤتھا،مکہ والوں کوحضرت عبداللہ بن عباس اوران کےشاگردوں سےخصوصی لگاؤتھا، اہل شام کوحضرت معاذ بن جبلؓ،حضرت معاویہؓ وغیرہ اوران کے شاگردوں سے خصوصی محبت تھی۔ یہ دونوں نقل کردہ اثر اس بات کو توبتاتی ہیں کہ اہل کوفہ کو اپنے مشائخ اوراساتذہ سے محبت تھی؛ لیکن اس سے نظریہ تخریج پر کوئی روشنی نہیں پڑتی اورنہ یہ نظریہ تخریج کے لیے دلیل بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

(۲) حضرت شاہ ولی اللہ کی دوسری دلیل منطقی اور قیاسی ہے ،پہلی بات یہ کہ  اہل الرائے حضرات کو مسائل کاجواب بتانے اورفتویٰ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی ،دوسری بات یہ کہ اہل الرائے کے پاس احادیث وآثار کا وسیع ذخیرہ نہیں تھا، نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ایسے میں محض تخریج ہی ایک واحد طریقہ کار بچ جاتاہے ،جس سے وہ پیش آمدہ مسائل کا جواب دیتے تھے۔

گویا اس صغری کبریٰ کاملاپ نظریہ تخریج کا مولد ہے۔ صغریٰ یہ ہے کہ شہروں کی خاک چھان کر حدیث کی تلاش کرنہیں سکتےتھے،پیش آمدہ مسائل کا جواب دینے کیلئے حدیث کا سرمایہ کم تھااورکبریٰ یہ ہے کہ فقہ وفتاویٰ میں خاص دلچسپی ہے اور رائے بیان کرنے میں کوئی باک نہیں ہے نتیجہ نظریۂ تخریج کی صورت میں سامنے آگیا۔سردست ہم صرف حضرت شاہ صاحب کا موقف پیش کررہے ہیں،ہم آگے چل کر عرض کریں گے کہ یہ دونوں ہی صغری اورکبریٰ مشکوک بلکہ مخدوش ہیں لہذا جس صغری وکبریٰ کے ملانے پر نتیجہ کی بنیاد رکھی گئی، وہ بنیاد ہی غارت ہوجاتی ہے توظاہرہےاس صغریٰ وکبری سے حاصل شدہ نتیجہ کا انجام بھی بخیر نہیں ہوگا۔

ہم شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے صغری اورکبریٰ کا جائزہ لیتے ہیں اوردیکھتے ہیں کہ دلائل کی کسوٹی پر یہ صغریٰ اورکبریٰ کہاں تک پورے اترتے ہیں،حضرت شاہ ولی اللہ کا دعویٰ یہ رہاہے کہ اہل عراق کے پاس حدیث کا سرمایہ کم تھا،محدثین کی طرح مختلف شہروں اورملکوں میں گھوم گھوم کر احادیث کے جمع کرنے سے قاصر تھے،یہ دعویٰ صرف حضرت شاہ ولی اللہ کا ہی نہیں بلکہ ماضی کے کچھ علماء مثلاابن خلدون اورشہرستانی وغیرہ نے بھی یہ دعویٰ کیاہے،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عراق احادیث میں حجاز سےکسی اعتبار سے کم تر نہیں تھا۔

عراق احادیث کے معاملہ میں حجاز سے کمتر نہیں!

اولاًتویہ دعویٰ ہی صحیح نہیں ہے کہ اہل عراق کے پاس حدیث کا سرمایہ کم تھا،حقیقت یہ ہے کہ اگرکوئی شخص صرف تذکرۃ الحفاظ کھول کر بیٹھ جائے اور کوفی وبصری اوربغدادی محدثین کوتلاش کرے تواسے حیرت ہوگی کہ کوفہ وبصرہ کے محدثین حضرات کسی طرح مکہ اورمدینہ سے کم نہیں  ہیں، نہ معیار میں نہ مقدار میں،کون کہہ سکتاہے کہ علقمہ اوراسود سعید بن المسیب اوردیگرفقہاء سبعہ سےفروتر ہیں ؟کون کہہ سکتاہے کہ سفیان ثوری امام مالک سے کم ہیں؟ کون کہہ سکتاہے کہ سلیمان بن مہران معروف بہ اعمش زہری سے کم ہیں؟کون کہہ سکتاہے کہ شعبی کسی حجازی محدث سے کم درجہ ہیں؟کون کہہ سکتاہے کہ شعبہ کسی حجازی محدث سے کم تر ہیں ،کس کی یہ مجال ہے کہ یحیی بن سعید القطان کو امام مالک سے  فروتر قراردے،پھر اس کے بعد فوراًمتصل دیکھئے تو امام یحیی بن معین اورعلی بن مدینی ہیں ،احمد بن حنبل ہیں ،عبدالرحمن بن مہدی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال کی عراق میں حدیث کم تھی،ایک غلط خیال ہےجونقل درنقل ہوتاچلاآرہاہے؛ لیکن کسی نے اس پر رک کرغور کرنے سوچنے اورسمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ،مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب نے اپنی بیش قیمت تصنیف مقام امام ابوحنیفہ میں اس پر اچھی بحث کی ہےاور محض تذکرۃ الحفاظ جو حافظ ذہبی کی تصنیف ہے،اس میں سے سو سےز ائد محدثین کوفہ کی نشاندہی کی ہے،جوسب کے سب حافظ حدیث اوربعضےامیرالمومنین فی الحدیث تھے،اگرآپ کوفہ کے ساتھ بصرہ اوربغداد کو بھی اس فہرست میں شامل کرلیں توعراق کا علم حدیث میں رتبہ بے تحاشا بڑھ جاتاہے۔ (1)

اس مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں کہ عراق میں علم حدیث کی جو گرم بازاری تھی،اس کا مفصل ذکر کیاجائے، اس پر علامہ زاہد الکوثری نے نصب الرایہ کے مقدمہ’’فقہ اہل العراق وحدیثھم’’ میں بہترین اورمحققانہ کلام کیاہے، اس کے علاوہ اس موضوع پر مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کی کتاب ’’مقام امام ابوحنیفہ ‘‘میں بھی بہترمواد موجود ہے،جس سے اس غلط خیال کی پورے طورپر تردید ہوجاتی ہے کہ کوفہ یاعراق میں علم حدیث کم تھا،جن حجازی ائمہ نے اس سلسلے میں کچھ طعن وتعریض کے کلمات کہے ہیں تو وہ معاصرانہ اورحریفانہ چشمک ورقابت کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو کوفہ وعراق میں حدیث کم ہونے کی دلیل سمجھنا غلط ہے۔

امام ابوحنیفہ اورعلم حدیث 

امام ابوحنیفہ کی پیدائش 80ہجری میں ہوئی ہے جب کہ بعض روایات اس سے پہلے بھی کی ہیں، زاہد الکوثری نےمختلف قرائن کی بنیاد پر 80سے پہلے کی روایت کو تانیب الخطیب میں ترجیح دیاہے(تانیب الخطیب، ص42/44) جوں جوں عہد رسالت سے بعد ہوتاگیا،اسناد کے وسائط یعنی راوی سے لے کر رسول اللہ تک واسطے بڑھتے گئے ،حدیث کی سندیں اورطرق میں اضافہ ہوا،اس کےبرعکس رسول پاک ﷺ سے جس قدر قرب زمانی کم ہوا،وسائط کم ہوئے اور حدیث کے طرق کم ہوئے، اس طرح رسول پاک ﷺ سے جو جتنا قریب رہا،اس کیلئے احادیث کے اسناد اورطرق اتنے ہی کم اور وسائط اتنے ہی کم رہے جس کی وجہ سے اس کیلئے احادیث کے ذخیرہ پر حاوی ہونا اور روایتوں کو محفوظ کرنا زیادہ آسان تھا۔

امام ابوحنیفہ کا عہد رسالت سے بالکل قریب کا ہے، امام ابوحنیفہ کے اساتذہ میں زیادہ تر اوساط اورکبار تابعین ہیں،امام ابوحنیفہ سے رسول پاکﷺ تک راویوں کا واسطہ بہت کم ہےجس کی بناء پر سند مختصر اور احادیث کی تعداد بھی کم تھی، امام ابوحنیفہ کے بارے میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں :وعني بطلب الآثار، وارتحل في ذلك(سير أعلام النبلاء،الناشر : مؤسسۃ الرسالۃ،6/392)اورآثار کی طلب میں توجہ کی اور اس سلسلے میں اسفار کیے،حافظ ذہبی مزید لکھتے ہیں کہ طلب حدیث میں امام ابوحنیفہ کی یہ جدوجہد ایک ہجری کے بعد دوسری ہجری کی ابتداء میں ہوئی (سیراعلام النبلاء،6/396) امام ابوحنیفہ اموی حکومت کے داروگیر کے باعث تقریباچھ سال تک کوفہ کو چھوڑ کر  مکہ میں رہے،اس دوران دنیا بھر سے آنے والے محدثین عظام سے وہ علم حدیث حاصل کرتے رہے،پھر آپ سال بہ سال حج کرتے تھے، روایتوں میں پچاس پچپن ،ساٹھ حج کا ذکر ملتاہے، حج کے ایام میں دنیابھرکے محدثین سے استفادہ کا موقع ملتارہا۔

علم حدیث میں امام صاحب کی عظمت شان کا اعتراف

امام ابودائود فرماتے ہیں: “اللہ شافعی پر رحم کرے  وہ امام تھے، اللہ مالک پر رحم کرے وہ امام تھے اللہ ابوحنیفہ پر رحم کرے وہ امام تھے”۔ظاہر سی بات ہے کہ جس طرح امام شافعی اورامام مالک کی امامت فقہ وحدیث دونوں میں ہے،اسی طرح امام ابوحنیفہ کوبھی ان کے ساتھ ملاکر امام ابوداؤد نے بتادیاکہ امام ابوحنیفہ بھی فقہ وحدیث کے امام ہیں۔(الانتقاء 1/32) حماد بن زید جو بڑے درجہ کے محدث ہیں اورجن کو حافظ ذہبی نے گراں قدر القاب سے یاد کیاہے ،ان کے بارے میں حافظ المغرب ابن عبدالبر لکھتے ہیں، “انہوں نے امام ابوحنیفہ سے بہت سی حدیثیں روایت کی ہیں”(الانتقاء ص130)مشہور محدث مسعر بن کدام کہتے ہیں : “میں نے امام ابوحنیفہ کے ساتھ حدیث کی تحصیل کی لیکن وہ ہم پر غالب رہے اور زہد میں مشغول ہوئے تواس معاملہ میں بھی ہم پر غالب رہے اورہم نے ان کے ساتھ فقہ طلب کی تو تم دیکھ ہی رہے ہو کہ انہوں نے اس میں کیاکمال حاصل کیاہے” (مناقب الامام ابی حنیفہ وصاحبیہ ص43)

سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کا خاص امتیاز یہ تھاکہ آپ ہر قسم کی واہی تباہی احادیث کا ذخیرہ جمع کرنے کے فراق میں نہیں رہتے تھے ؛بلکہ آپ ان احادیث کو جمع کرتے تھے جو ثقہ روات سے مروی ہوں اور صحیح ہوں اور جو رسول اللہﷺ کاآخری عمل رہاہو (2)۔

حفاظ حدیث میں شمار

حافظ ذہبی نے آپ کو حفاظ حدیث میں شمار کیاہے (تذکرہ الحفاظ 1/126،دار الكتب العلميۃ بيروت) اور تذکرۃ الحفاظ کے بارے میں خود حافظ ذہبی لکھتے ہیں:

ہذہ تذكرۃ بأسماء مُعَدِّلِي حَمَلَۃ العِلْمِ النبوي، ومن يُرْجَعُ إلی اجتہادہم في التوثيق والتضعيف، والتصحيح والتزييف ( مقدمہ تذکرہ الحفاظ)

ترجمہ :اس کتاب میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو عادل ،علم نبوت کے حامل اور احادیث وروات کی توثیق وتضعیف اورکھرے کھوٹے الگ کرنے میں جن کی جانب رجوع کیاجاتاہے۔

حافظ ذہبی نے ہی المعین فی طبقات المحدثین میں بھی آپ کا ذکر کیاہے،(دیکھئے مذکورہ کتاب ص51،مطبع دار الفرقان - عمان–الأردن) اس کتاب  کے بارے میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں:

فَہَذِهِ مُقَدّمَۃ فِي ذكر أَسمَاء أَعْلَام حَملَۃ الْآثَار النَّبَوِيَّۃ تبصر الطَّالِب النبيہ وتذكر الْمُحدث الْمُفِيد بِمن يقبح بالطلبۃ أَن يجہلوہم وَلَيْسَ ہَذَا كتاب بالمستوعب للكبار بل لمن سَار ذكره فِي الأقطار والأعصار وَبِاللَّہِ أَعْتَصِم وَإِلَيْہِ أنيب (مقدمہ المعین فی طبقات المحدثین )

حافظ ذہبی کے ہم عصر اوراونچے درجہ کے محدث وفقیہ عبدالہادی مقدسی حنبلی نےبھی مختصرطبقات علماء الحدیث میں امام ابوحنیفہ کا ذکر خیر کیاہے۔(دیکھئے مختصرطبقات علماء الحدیث جلداول ،ترجمہ امام ابوحنیفہ)،اس کتاب کے بارے میں حافظ عبدالہادی لکھتے ہیں:

فہذا كتاب مختصر يشتمل علی جملۃ من الحفاظ من أصحاب النبي صلَّی اللہ عليہ وسلّم والتابعين ومن بعدہم، لا يسع من يشتغل بعلم الحديث الجہل بہم  (طبقات علماء الحديث (1/ 77)

مشہور محدث ابن ناصرالدین دمشقی شافعی نے بھی حفاظ حدیث پر لکھے گئے اپنے منظومہ ’’بدیعۃ البیان عن موت الاعیان‘‘ میں امام ابوحنیفہ کا ذکر کیاہے ،چنانچہ لکھتے ہیں :

بَعْدَہُمَا فَتَی جُرَيْجِ الدَّانِي ... مِثْلُ أَبِي حَنِيفَۃ النُّعْمَانِي۔ (بحوالہ مکانۃ الامام ابوحنیفہ فی الحدیث ،ص60)

جمال الدين يوسف بن حسن الصالحي الحنبلي جوابن مبرد کے نام سے مشہور ہیں،انہوں نے بھی امام ابوحنیفہ کا ذکر حفاظ حدیث میں کرتے ہوئے اپنی تصنیف “طبقات الحفاظ” میں ذکر کیاہے،جس سے شیخ عبداللطیف ہاشم سندی نے اپنی تصنیف ’’ذَبُّ ذُبَابَاتِ الدراسات، عن المذاهب الأربعۃ المتناسبات" میں نقل کیاہے۔ان کے علاوہ حافظ سیوطی نے طبقات الحفاظ میں اور محدث علامہ محمد بن رستم قباد بدخشی نے تراجم الحفاظ میں امام ابوحنیفہ کا ذکر کیاہے۔

امام ابوحنیفہ حافظ حدیث ہونے کے علاوہ جرح وتعدیل کے بھی امام تھے،اس کا بھی ذکر محدثین عظام امام ترمذی بلکہ ان سے قبل سے لے کر حافظ سخاوی اورمابعد تک کرتے آئے ہیں ۔(دیکھئے ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل للذہبی اور المتکلمون فی الرجال للسخاوی)

مولانا عبدالرشید نعمانی کی ایک بہترین تصنیف مکانۃ الامام ابوحنیفہ فی علم الحدیث ہے، اس میں مولانا نے بڑی محنت اور تحقیق وتفتیش سے ثابت کیاہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ کا علم حدیث میں کیامقام اورمرتبہ تھا اورکس طرح بعد کے لوگوں نے بھی علم حدیث میں ان کی اس عظمت کو تسلیم کیاہے، یہ بات دوسری ہے کہ انہوں نے روایت حدیث کو مرکز توجہ نہیں بنایا ،اس طرح علم حدیث میں ان کی مہارت اوررسوخ دنیا کے سامنے نہیں آسکی اورنہ دنیا نے ان کو اس حیثیت سے پہچانا جیسے امام بخاری فقیہ ہونے کے باوجود دنیا کے سامنے فقیہ کی حیثیت سے نہ آسکے اور نہ کسی فقیہ نے اپنی کتاب میں ان کو جگہ دی۔اسی طرح قاسم حارثی عبدہ نے بھی اپنے دکتوراہ کا موضوع مکانۃ الامام ابی حنیفہ بین المحدثین کو بنایاہے اوراس پر ایک سیرحاصل مقالہ لکھاہے جس سے واضح ہوتاہے کہ نہ صرف امام ابوحنیفہ کا علم حدیث میں بڑامقام تھا بلکہ محدثین کے درمیان بھی انتہائی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

اگرہم اس بات کو بالفرض تسلیم بھی کرلیں کہ اہل الرای حضرات یعنی امام ابوحنیفہ وغیرہ کے پاس حدیث کا سرمایہ نہیں تھا توبھی کوفہ جہاں عظیم محدثین کی ہمیشہ ایک بڑی تعداد رہی ہے ،کیامسائل کے حل میں وہ ان محدثین سے رجوع نہ کرتے ہوں گے ؟آج کے دورمیں بھی ایک معمولی محقق بھی جب کسی مسئلہ کی تحقیق کرتاہے تو کتابوں سے مدد لیتاہے، جوبڑے عالم اس موضوع کے جانکار ہوتے ہیں، ان کی رائے حاصل کرتاہے ،ان سے مزید مواد کے سلسلے میں استفسار کرتاہے توکیا خیرالقرون کے اس دور میں امام ابوحنیفہ کسی مسئلہ کے استنباط میں کوفہ میں موجود محدثین سے اس موضوع کے تعلق سے احادیث کے تعلق سے دریافت نہ کرتے ہوں گے؟

کوفہ کی علمی اورحدیثی عظمت اورامام ابوحنیفہ کی علم حدیث میں گہرائی اورگیرائی بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ نے جن بنیادوں پر قصر تخریج کی عمارت اٹھائی ہے، اس کی کمزوریاں واضح کی جائیں۔

حدیث کی روایت نہ کرنا عدم علم کو مستلزم نہیں

دوسری بات یہ ہے کہ حدیث کی روایت نہ کرنا علیحدہ بات ہےاورحدیث سے واقف نہ ہونا دوسری بات ہے،حضرت ابوبکر وحضرت عمررضی اللہ عنہما کی روایتیں کم ہیں توکیااس کا یہ مطلب ہے کہ ان کو کم روایتیں معلوم تھیں؟اگرامام ابوحنیفہ کی روایت سے کتب صحاح خالی ہونے کا یہ مطلب لیاجائے کہ ان کے پاس حدیث کا سرمایہ نہیں تھا توکیا کتب فقہ میں امام بخاری کی آراء نہ نقل کیے جانے سے یہ مطلب نکالنا درست ہوگاکہ وہ فقیہ نہیں تھے؟ (3)

جس طرح امام بخاری کی آراء سے کتب فقہ وخلافیات کا خالی ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ وہ فقیہ نہیں تھے،اسی طرح اہل الرائے حضرات کی روایتوں سے کتب حدیث کاخالی ہونااس کو مستلزم نہیں کہ وہ محدث نہیں تھے،یا ان کے پاس حدیث کا معتدبہ سرمایہ نہیں تھا؟؛بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں اہل الحدیث حضرات نے متعدد اہل الرای حضرت سے باوجود مستحق ہونے کے ان سے روایت نہیں لی ہے اور روایت نہ لینے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ وہ اہل الرای میں سے تھے ،حضرات محدثین کے اس ظلم وتعصب کی جانب  علامہ شام جمال الدین قاسمی (4)، امام یحیی بن معین (5) اور ابن عدالبر (6) وغیرہ نے بھی اشارات کیے ہیں،خود شیخ عبدالفتاح ابوغدہ نے الرفع والتکمیل (7) میں اس کے تعلق سے متعدد نقول بہم پہنچائے ہیں،جہاں محدثین نے کسی سے محض اس کے اہل الرایٔ ہونے کی وجہ سے روایت نہیں لی۔

محدثین کے پاس لاکھوں احادیث کی حقیقت

اکثر لوگوں کو اس بات سے غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ بخاری نے چھ لاکھ سات لاکھ احادیث سے انتخاب کرکے صحیح الجامع مرتب کی(تاریخ بغداد 2/9)امام مسلم نے مسلم شریف تین یاچار لاکھ احادیث سے انتخاب کرکے تالیف کی(طبقات الحنابلہ1/338،دار المعرفۃ - بيروت) ،ابودائود نے پانچ لاکھ احادیث سے سنن ابی دائود مرتب کی(مختصر تاریخ دمشق 10/109، دار الفكر دمشق - سوريا)یہ محدثین ملکوں اورشہروں میں گھومے توان کے پاس احادیث کا وسیع ذخیرہ ہوگیااور اہل الرائے کوفہ تک محدود رہے ،اس لئے ان کی معلومات کچھ ہزار حدیثوں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

محدثین کا خاص طرز تھا کہ وہ دنیا بھر میں گھوم پھر کر ایک حدیث کے زیادہ سے زیادہ سند اورطرق تلاش کرتے تھے جیساکہ یحیی بن معین کہتے ہیں کہ اگر کوئی حدیث میرے پاس سو طرق سے نہ ہو تواس کی صحت معلوم نہیں ہوتی،لَوْ لَمْ نَكْتُبِ الْحَدِيثَ مِنْ مِائَۃِ وَجْہٍ مَا وَقَعْنَا عَلَی الصَّوَابِ (الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث ،2/595، مكتبۃ الرشد - الرياض) ابراہیم بن سعید جوہری کہتے ہیں اگرمیرے پاس کسی حدیث کی سوسند نہ ہوتواس حدیث کے معاملہ میں ،میں خود کو یتیم سمجھتاہوں،كل حَدِيث لم يكن عندي من مائۃ وجہ فأَنَا فِيہِ يتيم (تاریخ بغداد 6/618، دار الغرب الإسلامي –بيروت)

پھر جیسے جیسے حدیث کے روات اور شیوخ کا دائرہ وسیع ہوتاگیا، حدیث کے طرق اور سندوں میں اضافہ ہوتاگیا، مثلاحضرت عمر ؓسے ایک حدیث مروی ہے،ان سے اس حدیث کی روایت کرنے والے چارافراد ہیں، پھر ان چاروں سے اس حدیث کو سننے والے چالیس افراد ہیں، پھر ان چالیس افراد سے روایت سننے والے چارسو افراد ہیں اوران چارسو افراد سے اس روایت کو نقل کرنے والے چارہزار افراد ہیں، اب ایک شخص ان چارہزار افراد سے یہی ایک حدیث سنتاہے توچارہزار سندوں کی وجہ سے وہ ایک حدیث چار ہزار حدیث ہوجاتی ہے، مختصر یہ سمجھئے کہ جو حال آبادی میں اضافہ کا ہے، دوسے دس،دس سے سو ،سو سے ہزار،کچھ اسی طرح کا حال حدیث کی سند کاہے،تورسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے زمانہ جتنا دورہوتاجائے گا، راویوں کی تعداد اتنی ہی بڑھتی جائے گی، حدیث کے طرق اوراسناد میں اضافہ ہوتاجائے گا،اس کی واضح مثال انماالاعمال بالنیات والی حدیث ہے، اس کو حضورپاک سے نقل کرنے والے حضرت عمر ؓ ہیں، ان سے روایت کرنے والے ایک راوی ہیں اورپھر ان سے روایت کرنے والے بڑھتے چلے گئے، یہاں تک کہ محدثین نے اس ایک حدیث کی سات سوسندیں تلاش کی ہیں۔)فتح المغیث 1/28)

اب جن محدثین کے بارے میں ہم سنتے ہیں کہ ان کے پاس سات لاکھ، دس لاکھ اورپانچ لاکھ احادیث تھیں، تو اس کو اسی اضافہ سند پر قیاس کرناچاہئے اوراسی اعتبار سے دیگر محدثین کے پاس لاکھوں کی تعداد میں احادیث تھیں،ورنہ اگر نفس حدیث کی بات کی جائے توصحیح متصل مرفوع بلاتکرار احادیث کی تعدادصرف چارسے پانچ ہزارکے درمیان ہے،اس  سے زائد نہیں ہےجیساکہ اس کی صراحت حافظ ابن حجر نے کی ہے۔ ("النكت علی ابن الصلاح"، ص992)

واضح رہے کہ اس میں ذکر کردہ ثوری،شعبہ،امام احمد بن حنبل ،ابن مہدی،یحیی بن سعید القطان سب کے سب امیرالمومنین فی الحدیث ہیں، ان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ احادیث کے تقریباًتمام ذخیرہ پر ان کی نگاہ اورنظر ہے،ایسے میں ان کی یہ بات کتنی وزنی اور مستند ہے اس کا اندازہ کیاجاسکتاہے۔

یہ تو مرفوع متصل صحیح بلاتکرار حدیث کی تعداد ہوئی، اب اس میں احادیث احکام کی کیاتعداد ہے،ظاہر سی بات ہے کہ بہت ساری احادیث فضائل ،زہد اوردیگر ابواب میں مذکور ہیں،ایسے میں یہ بات ہرعاقل پر روشن ہے کہ احکام کی حدیث کی تعداد اس تعداد سے یقیناکم ہوگی۔حافظ بیہقی امام شافعی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ احادیث جن پر حلال وحرام کا مدار ہے ،ان کی تعداد پانچ سو ہے۔ (مناقب الشافعي" (1\915 تحقيق أحمد صقر)

اگرہم مان لیں کہ چلو پانچ سو نہیں حدیث حسن وغیرہ ملاکر دوہزار کے قریب حلال وحرام کی احادیث کی تعداد ہے توکیاان دوہزار احادیث کے حفظ وضبط سے بھی ائمہ احناف عاجز تھے؟امام ابویوسف کے بارے میں طبری نے لکھاہے کہ ان کا حافظہ اس غضب کاتھاکہ کسی محدث کے درس میں شریک ہوتے تھے اورسن کر ہی پچاس ساٹھ حدیثیں یاد کرلیتے تھے اورپھر اس کو بغیر کسی تغیر وتبدل کے دوہرادیتے تھے اور امام ابویوسف کثیر الحدیث تھے(الانتقاء  ص172)کیاایسوں کیلئے دوہزار تین ہزار حدیثیں یاد کرنابھی مشکل ہے؟ لہذا حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ نے اہل الرائے کے پاس احادیث کم ہونے کی وجہ سے تخریج کا جو نظریہ تراشاہے ،وہ درست معلوم نہیں پڑتا۔

درج بالا بحث سے یہ بات واضح ہے کہ احادیث کا سرمایہ یوں ہی کم ہے اورپھر جس قدر احکام میں احادیث کی ضرورت پڑتی ہے اس کا معتدبہ حصہ امام ابوحنیفہ کے پاس موجود تھا،پھر خود کوفہ میں علم حدیث کے امیرالمومنین ایک نہیں، کئی کئی موجود تھے، ان سے کسی بھی مسئلہ میں استفادہ کیاجاسکتاتھا،لہذا قلت حدیث کو تخریج کی بنیاد بنانا درست نہیں ہے۔

(۳) تیسری دلیل حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی یہ ہے کہ کتاب الآثار اورمصنف عبدالرزاق میں حضرت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سے بڑی تعداد میں حضرت ابراہیم کے فتاویٰ منقول ہیں اورانہی کے مطابق امام ابوحنیفہ کی رائے بھی ہے ،اس سے واضح ہوتاہے کہ امام ابوحنیفہ ابراہیم نخعی کے قول پر تخریج کرتے تھے۔ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف ص39)

بظاہر یہ دلیل سابقہ دونوں دلیلوں سے قوی نظرآتی ہےاورکتاب الآثار کے مطالعہ سے بھی پتہ چلتاہے کہ ابراہیم نخعی کےاجتہادی اقوال انہوں نے بکثرت بیان کئے ہیں اورزیادہ مقامات وہ ہیں،جہاں انہوں نے ابراہیم نخعی کے قول کے مطابق ہی اپنی رائےبنائی ہے؛لیکن یہ پوراسچ نہیں ہے۔

 اسی کے ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ کتاب الآثار میں ایسے مقامات بھی کم نہیں ہے جہاں امام ابوحنیفہ نے ابراہیم نخعی کی رائے سے اختلاف کیاہے اورابراہیم نخعی کی رائے کے مقابلہ میں مکی اورمدنی فقہائے کرام کی رائے کو پسند کیاہے،اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ کے نظریہ تخریج کے دلائل اور امام مالک

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے احناف کو اہل الرائے میں سے قراردیاہے اوراہل الحدیث اوراہل الرائے کے درمیان فرق وامتیاز ‘‘تخریج’’ کو قراردیاہے،تخریج کے نظریہ کیلئے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے دلائل ماقبل کے صفحات میں گذرچکے،حضرت شاہ صاحب جن دلائل کی بنیاد پر احناف کو یاامام ابوحنیفہ کو اہل الرائے قراردیتے ہیں بعینہ انہی دلائل کی بنیاد پر تو امام مالک کوبھی اہل الرائے قراردیاجاسکتاہے؛لیکن حضرت شاہ ولی اللہ نے کہیں بھول کربھی امام مالک کو اہل الرائے میں شمار نہیں کیاہے۔

اگرائمہ احناف اپنے کوفہ کے علماء ومشائخ سے ازحد عقیدت رکھتے تھے تویہ یہ بات امام مالک کے یہاں بھی ہے،وہ بھی اپنے فقہاء ومشائخ سے بے انتہاعقیدت رکھتے ہیں، بالخصوص عبداللہ بن عمرؓ،سعید بن المسیب،نافع  اورفقہاء سبعہ وغیرہ ،اس کی انتہایہ ہے کہ عمل اہل مدینہ کے مقابل حدیث تک کو ترک کردیتے ہیں،جب کہ امام ابوحنیفہ سے اس طرح کانہ کوئی اصول منقول ہے اورنہ کوئی فرع ،جس میں انہوں نے حدیث رسول پر اپنے مشائخ یااپنے شہر کے علماء کو ترجیح دی ہو۔

اگرکتاب الآثار میں ابراہیم نخعی کے اقوال بکثرت ملتے ہیں اور وہی فقہ حنفی کا مسلک ومذہب قرارپاتاہے  تو امام مالک کی موطابھی فقہاء سبعہ، سعید بن المسیب اورنافع وغیرہ کے اقوال سے مملو اورپُرہے،حقیقت یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ جتنا ابراہیم نخعی کے اقوال سے متاثر نہیں دکھائی دیتے،اس سے کہیں زیادہ امام مالک فقہاء سبعہ کے اقوال سے متاثر نظرآتے ہیں۔ 

اب رہ گئی آخری بات کہ امام مالک کے پاس روایات کا بہت زیادہ ذخیرہ تھا اورامام ابوحنیفہ کے پاس کم تھاتوبحمداللہ ہم اولاًاس کی حقیقت واضح کرتے چلے آئے ہیں کہ امام ابوحنیفہ سے عدم روایت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بڑے محدث نہیں تھے،پھر احکام کی روایات یوں بھی کم ہیں، اگر کتاب الآثار میں موجود روایات کو ہی امام ابوحنیفہ کا سرمایہ علم قراردینے پر تل جائے تواسی منطق میں اس کو تسلیم کرنا ہوگاکہ امام مالک کا سرمایہ علم بھی موطامیں موجود روایات تک ہی محدود ہے(جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایساسوچنے والا کوئی انتہائی متعصب یاانتہائی جاہل شخص ہی ہوگا)علاوہ ازیں کمی وبیشی ایک اضافی امر ہے، اگرہم  مان لیں کہ امام مالک سےا مام ابوحنیفہ علم حدیث میں کم تر تھے تو اسی طرح امام شافعی بھی علم حدیث میں امام احمد سے کم تر تھے؛ لیکن اس سے کیا امام شافعی کی شان فقاہت میں کوئی کمی آتی ہے؟اس موقعہ پر ضروری محسوس ہوتاہے کہ ہم حافظ ذہبی کا وہ محاکمہ نقل کریں جو انہوں نے امام ابوحنیفہ اورامام مالک  کے درمیان علم حدیث کے سلسلے میں کیاہے:

وعلی الإنصاف لو قال قائل: بل ھما سواء في عِلم الكتاب. والأول (أبو‏حنيفۃ) أعلم بالقياس. والثاني (مالك) أعلم بالسنۃ. وعندہ عِلمٌ جَمٌّ من أقوال كثيرٍ من الصحابۃ. كما أن الأول أعلمُ بأقاويل علي وابن مسعود ‏وطائفۃ ممن كان بالكوفۃ من أصحاب رسول اللہ فرضي اللہ عن الإمامين، فقد صِرنا في وقتٍ لا يقدِرُ الشخص علی النطق بالإنصاف. نسأل‏اللہ السلامۃ۔ (سير أعلام النبلاء (8\112)

اور اگر انصاف کی بات کی جائے توکہنے والا کہہ سکتاہے کہ دونوں (امام مالک اورامام ابوحنیفہ)کتاب اللہ کے علم میں برابر تھے اورا مام ابوحنیفہ قیاس میں امام مالک سے بڑھ کر تھے،اورامام مالک کو حدیث کا علم زیادہ تھااورامام مالک کے پاس بہت سارے صحابہ کے اقوال کا علم تھا،جیساکہ امام ابوحنیفہ کو حضرت علیؓ اورحضرت ابن مسعودؓ اورکوفہ میں بسنے والے صحابہ کرام کا زیادہ علم تھا،اللہ دونوں امام سے راضی ہو،ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں جب کسی شخص کے اندر انصاف کے ساتھ بات کرنے کا یارانہیں ہے،اللہ سے ہی سلامتی کے طلبگار ہیں۔

(حافظ ذہبی اپنے زمانہ کا شکوہ کررہے ہیں،اگروہ آج کے حالات دیکھتے اورمقبل الوادعی ،زبیر علی زئی اوران ہی جیسوں کی تصنیفات  وغیرہ پر ان کی نگاہ پڑتی تو نہ جانے وہ کیاکہتے؟)

حضرت ابراہیم نخعی کی مخالفت

حضرت شاہ ولی اللہ کاتیسرا دعویٰ یہ رہاہےکہ امام ابوحنیفہ بکثرت ابراہیم نخعی کی پیروی کرتے ہیں، اورشاذونادر ہی ان کے اقوال سے عدول کرتے ہیں، ہم ذیل میں کتاب الآثار سے کچھ ایسے آثار نقل کررہے ہیں جہاں امام ابوحنیفہ نے بصراحت ابراہیم نخعی کے اقوال سے عدول کیاہے اورایسے مقامات کم نہیں ہے، ہم نے مقالہ کی طوالت کے پیش نظر ان تمام مسائل کی نشاندہی نہیں کی ہے جہاں امام ابوحنیفہ کی راہ ابراہیم نخعی سے الگ ہوتی ہے، اگرسنجیدگی سے جائزہ لیاجائے تویہ بات واضح ہوجائے گی کہ  ابراہیم نخعی کے اقوال سے امام ابوحنیفہ کی مخالفت اس قدر کم نہیں ہے کہ وہ کسی درجہ میں قابل لحاظ ہی نہ ہو۔

سردست ہم صرف کتاب الآثار کی ورق گردانی کرتے ہیں؛ کیونکہ اس میں امام محمد نے اپنے اورامام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے قول کی وضاحت کردی ہے،جس سے تقابل بہت آسان ہوجاتاہے،اورکتاب الآثار کی ورق گردانی ہمیں بتاتی ہے کہ امام صاحب نے فقہائے کوفہ کے علاوہ مکہ اورمدینہ کے فقہاء سے بھی استفادہ کیاہے اور ان کی فقہی تفکیر میں صرف کوفہ نہیں بلکہ حجاز کا بھی اہم حصہ ہے،مقالہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتاکہ ہم کتاب الآثار کے وہ تمام  اقتباسات نقل کردیں ،جس میں فقہ نخعی سے عدول ہے ؛اختصار کے ساتھ کچھ مثالیں پیش ہیں ۔

۱۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سفر سے واپس آئے اوراس کا عورتیں بوسہ لیں ،تواگربوسہ لینے والی خواتین محارم ہیں تووضو نہیں ٹوٹتا،اگربوسہ لینے والی عورتیں غیرمحرم ہیں تو وضو ٹوٹ جائے  گاکیونکہ یہ بمنزلہ حدث کے ہیں۔ 

اس پر امام محمد کہتے ہیں:

وَہَذَا قَوْلُ إِبْرَاہيمَ، وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہذَا وَلَا نَرَی فِي الْقُبْلَۃ وُضُوءًا عَلَی حَالٍ إِلَّا أَنْ يَمْذِيَ فَيَجِبُ عَلَيْہ لِلْمَذْيِ الْوُضُوءُ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (الامام محمد بن الحسن الشيباني، دار النشر: دار الكتب العلميۃ، بيروت - لبنان1/34)

یہ ابراہیم کا قول ہے اور ہماری رائے اس کے برخلاف ہے،بوسہ لینے والی عورتیں چاہے محرم ہوں یاغیرمحرم ،کسی بھی حال میں روزہ نہیں ٹوٹتا،ہاں!یہ کہ بوسہ کے خیال سے مذی نکل آئے تو مذی نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گااوریہی امام ابوحنیفہ کا بھی قول ہے۔

۲۔ مستحاضہ(جس عورت کو حیض کے بعد بھی خون آتارہے)کے بارے میں ابراہیم نخعی کی رائے ہے کہ ظہر کی نماز کا جب آخری وقت ہو تو وہ غسل کرے گی اورنماز پڑھے گی، پھر اسی غسل سے وہ عصر کی نماز پڑھے گی،پھر رکی رہے گی ،جب مغرب کاوقت بالکل آخری ہوگا تووہ غسل کرے گی اور اور مغرب اور عشاء کی نماز پڑھے گی،امام محمد فرماتے ہیں:

وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہَذَا، وَلَكِنَّا نَأْخُذُ بِالْحَدِيثِ الْآخَرِ أَنَّہَا تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ وَقْتِ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّي فِي الْوَقْتِ الْآخَرَ، وَلَيْسَ عَلَيْہَا عِنْدَنَا إِلَّا غُسْلٌ [ص:89] وَاحِدٌ حَتَّی تَمْضِيَ أَيَّامُ إِقْرَائِہَا، وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق1/87)

ہم ابراہیم نخعی کی اس رائے کے قائل نہیں ہیں،بلکہ ہماری رائے اس حدیث کے مطابق ہے ،جس میں حکم دیاگیاہے کہ وہ ہرنماز کے وقت وضو کرے گی اور آخروقت میں نماز پڑھے گی،اور جب اس کا خون بند ہوجائے گا تو وہ غسل کرے گی اورنماز پڑھے گی اوریہی امام ابوحنیفہؓ کا بھی قول ہے۔

۳۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں،اگرکسی شخص نے عشاء کی نماز پڑھی اور وتر نہیں پڑھا ،یہاں تک کہ صبح ہوگئی تو وترپڑھنے کا وقت ختم ہوگیا، امام محمد فرماتے ہیں:

وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہَذَا. يُوتِرُ عَلَی كُلِّ حَالٍ إِلَّا فِي سَاعَۃٍ تُكْرَهُ فِيہَا الصَّلَاۃُ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّی تَبْيَضَّ، أَوْ يَنْتَصِفَ النَّہَارُ حَتَّی تَزُولَ أَوْ عِنْدَ احْمِرَارِ الشَّمْسِ حَتَّی تَغِيبَ. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق1/338)

ہم اس رائے کے قائل نہیں ہیں:وہ اس پورے دن مکروہ اوقات کے علاوہ میں وتر کی قضاء پڑھ سکتاہےاوریہی امام ابوحنیفہ کابھی قول ہے۔

۴۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں:جب کوئی مسجد میں اس حال میں داخل ہو کہ جماعت کھڑی ہوچکی ہو، اور لوگ رکوع میں ہوں توتیز چل کر رکوع میں شامل ہوجاناچاہئے۔

امام محمد ؒ فرماتے ہیں :

قَالَ مُحَمَّد: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہَذَا، وَلَكِنْ يَمْشِي عَلَی ھِينَۃِ حَتَّی يُدْرِكَ الصَّفَّ فَيُصَلِّيَ مَا أَدْرَكَ، وَيَقْضِيَ مَا فَاتَہُ (المصدرالسابق1/347)

ہماری رائے اس کے خلاف ہے،وہ آہستہ حسب سابق چلے ،یہاں تک کہ صف میں پہنچے ،جتنی نماز جماعت کے ساتھ ملے،اسے اداکرے اورجوچھوٹ گئی،اسے مکمل کرےاوریہی امام ابوحنیفہؓ کا بھی قول ہے۔

۵۔ جنازہ کے ساتھ چلنے میں ابراہیم نخعی کا طرزعمل یہ تھاکہ وہ جنازہ سے کافی آگے بڑھ جایاکرتے تھے ،ہاں !اتنی دور نہیں جایاکرتے تھے کہ نظروں سے اوجھل ہوجائیں۔

امام محمد فرماتے ہیں:

لَا نَرَی بِتَقَدُّمِ الْجَنَازَۃِ بَأْسًا إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنْہَا، وَالْمَشْيُ خَلْفَہَا أَفْضَلُ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ۔

جنازہ کے آگے چلنے میں کوئی ہرج نہیں ہے ،جب کہ زیادہ دوری نہ ہو،لیکن جنازہ کے پیچھے چلناافضل ہے اور یہی امام ابوحنیفہ ؓ کا بھی قول ہے۔

۶۔ ابراہیم نخعی سے ایسے پانی کے پینے اوروضو کے بارے میں سوال کیاگیا،جس میں بلی منہ ڈال چکی ہو،ابراہیم نخعی نے جواب دیاکہ بلی گھر میں گھومتی رہتی ہے ،اس کا بچاہواپانی پینے میں کوئی حرج نہیں ہے،پھر ان سے بلی کے منہ ڈالے پانی سے وضو کے بارے میں پوچھاگیاتوانہوں نے کہاکہ اس بارے میں اللہ نے رخصت دی ہے، نہ حکم دیاہے اورنہ منع کیاہے۔

امام محمد فرماتے ہیں کہ 

قَالَ أَبُوحَنِيفَۃ: غَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْہُ، وَإِنْ تَوَضَّأ مِنْہُ أَجْزَأهُ، قَالَ، وَكَذَلِكَ شُرْبُ غَيْرِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَإِنْ شَرِبَہُ فَلَا بَأْسَ بِہٖ، قَالَ مُحَمَّدٌ [ص:13]: وَبِقَوْلِ أَبِي حَنِيفَۃَ نَأْخُذُ (المصدرالسابق 1/11)

امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا:بلی نے جس پانی میں منہ ڈال دیاہو ،اگراس سے وضو کرلیاجائے تو وضو درست ہوجائے گالیکن بہتر یہ ہے کہ دوسراپانی استعمال کیاجائے،اسی طرح بلی کا بچاہواپانی پینا جائز ہے؛لیکن پسندیدہ یہ ہے کہ دوسرا پانی پیاجائے،امام محمد فرماتے ہیں :میری رائے وہی ہے جوامام ابوحنیفہ کی رائے ہے۔

۷۔ کپڑے میں شیرخوار بچے کا پیشاب لگ جائے توابراہیم نخعی کی رائے یہ ہے کہ اس پر سےپانی بہادیاجائے۔

امام محمد فرماتے ہیں:

قَالَ مُحَمَّد: وَأَعْجَبُ ذَلِكَ أَنْ تَغْسِلَہُ غَسْلًا. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق 1/53)

مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ ایسے کپڑے کو باقاعدہ دھویاجائے اور یہی رائے امام ابوحنیفہ ؓ کی بھی ہے۔

۸۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ جوشخص ناخن تراشے یاپھر بال اکھاڑے یاکاٹے،توانگلیوں پر یاجہاں سے بال اکھاڑے گئے ہیں، وہاں پانی بہادے۔

امام محمد فرماتے ہیں:

وَسَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَۃَ يَقُولُ: «رُبَّمَا قَصَصْتُ أَظْفَارِي، وَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي وَلَمْ أُصِبْہُ الْمَاءَ حَتَّی أُصَلِّيَ» قَالَ مُحَمَّد: وَبِہٖ نَأْخُذُ، (المصدرالسابق1/65)

میں نے امام ابوحنیفہ کو یہ کہتے ہوئے سناہے “بسااوقات میں نے ناخن تراشیا یاپھر بال اکھاڑے ،لیکن بغیر دھوئے اورپانی بہائے میں نے نماز پڑھی ہے’’،امام محمدفرماتے ہیں:میری بھی رائے یہی ہے۔

۹۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں:عورت کیلئے وضو کے دوران محض کنپٹیوں کا مسح کرنا کافی نہیں؛بلکہ اس کو ایسے ہی مسح کرنا ضروری ہے جیسے مرد مسح کرتے ہیں۔

امام محمد فرماتے ہیں:

وَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ: إِذَا مَسَحَتْ مَوْضِعَ الشَّعْرِ فَمَسَحَتْ مِنْ ذَلِكَ مِقْدَارَ ثَلَاثِ أَصَابِعَ أَجْزَأھا وَأَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ تَمْسَحَ كَمَا يَمْسَحَ الرَّجُلُ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق 1/74)

ہماری رائے یہ ہے کہ جب کسی عورت نے اس طرح مسح کیاکہ سرپر تین انگلی کے برابر مسح ہوگیا تو بس کافی ہے ؛ہاں!زیادہ بہتر اورپسندیدہ بات یہ ہے کہ وہ بھی ایسے ہی مسح کرے ،جیسے مرد مسح کرتے ہیں  اوریہی قول امام ابوحنیفہ ؓ کا بھی ہے۔

۱۰۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ موذن اگر دوران اذا ن کلام (بات چیت کرے)تومیں نہ اس کی اجازت دوں گا اورنہ منع کروں گا۔

امام محمدفرماتے ہیں:

وَأَمَّا نَحْنُ فَنَرَی أَنْ لَا يَفْعَلَ، وَإِنْ فَعَلَ لَمْ يَنْقُضْ ذَلِكَ أَذَانَہُ. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق 1/100)

اس بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ موذن ایسانہ کرےاوراگر وہ ایساکرتاہے تو اس سے اذان فاسد نہیں ہوگی۔

۱۱۔ ابراہیم نخعی، علقمہ اور اسود سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو ایک مرتبہ عبداللہ بن مسعودؓ نے نماز پڑھائی، تین آدمی تھے ،تینوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا،ایک کودائیں اورایک کوبائیں، اورنماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایاکہ جب تم تین آدمی ہو توایسے ہی کیاکرو،حضرت عبداللہ بن مسعود رکوع میں تطبیق فرماتے تھے(تطبیق یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ملاکر دونوں گھنٹیوں کے درمیان رکھ لیاجائے)اور وہ نماز بغیر اذان اوراقامت کے پڑھی۔

امام محمد فرماتے ہیں:

وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ فِي الثَّلَاثَۃِ، وَلَكِنَّا نَقُولُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَۃً تَقَدَّمَہُمْ إِمَامُہُمْ، وَصَلَّی الْبَاقِيَانِ خَلْفَہُ، وَلَسْنَا نَأْخُذُ أَيْضًا بِقَوْلِہِ فِي التَّطْبِيقِ كَانَ يُطَبِّقُ بَيْنَ يَدَيْہِ إِذَا رَكَعَ، ثُمَّ يَجْعَلَہُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْہ، وَلَكِنَّا نَرَی أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رَاحَتَيْہ عَلَی رُكْبَتَيْہ، وَيُفَرِّجَ بَيْنَ أَصَابِعِہ تَحْتَ الرُّكْبَتَيْنِ. وَأَمَّا صَلَاتُہُ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَۃٍ فَذَلِكَ يُجْزِئُ وَالْآذَانُ وَالْإِقَامَۃُ أَفْضَلُ. وَإِنْ أَقَامَ الصَّلَاۃ وَلَمْ يُؤَذِّنْ فَذَلِكَ أَفْضَلُ مِنَ التَّرْكِ لِلْإِقَامَۃ؛ لِأَنَّ الْقَوْمَ صَلَّوْا جَمَاعَۃ. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدرالسابق1/211)

ہم اس مسئلہ میں عبداللہ بن مسعودؒکے قول وفعل پر عمل نہیں کرتے،ہماری رائے یہ ہے کہ نماز پڑھنے میں اگر تین آدمی ہوں تو ایک آگے کھڑا ہو اوربقیہ دو اس کے پیچھے،اور تطبیق پربھی ہمارا عمل نہیں ہے، ہماری رائے یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھی جائے، گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے میں انگلیاں ملاکر نہیں بلکہ کشادہ اورپھیلاکررکھی جائے ،جہاں تک بغیر اذان واقامت کے نماز پڑھنے کی بات ہے تو اس سے نماز ہوجاتی ہے ؛لیکن اذان واقامت کہنا افضل ہے ،اگراقامت کہی جائے لیکن اذان نہ دی گئی ہو تو وہ اذان واقامت دونوں نہ کہنے سے بہتر ہے اوریہی قول امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کابھی ہے۔

۱۲۔ ایک شخص نماز کے دوران اپنے عصو تناسل کے سرے پر کچھ تری پاتاہے تو وہ کیاکرتے،(شبہ یہ ہے کہ شاید یہ پیشاب کاقطرہ ہو)ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اگرمیرے ساتھ ایساہوتاہے تومیں وضو اورنماز دونوں کو دوہراتاہوں۔

امام محمدفرماتے ہیں:

وَأَمَّا نَحْنُ فَنَرَی أَنْ يَمْضِيَ عَلَی صَلَاتِہ، وَلَا يُعِيدَ، وَلَا يَضْرِبَ بِيَدَيْہ عَلَی الْأَرْضِ، وَلَا يَمْسَحَ بِوَجْھہ وَلَا يَدَيْہ حَتَّی يَسْتَيْقِنَ أَنَّ ذَلِكَ خَرَجَ مِنْہُ بَعْدَ الْوُضُوءِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ ذَلِكَ أَعَادَ الْوُضُوءَ. وَہُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ (المصدر السابق 1/412)

ہماری رائے یہ ہے کہ مصلی نمازپڑھتارہے ،اس کو نہ وضو دوبارہ دوہرانے کی ضرورت ہے ، ہاں!اگراس کو یقین ہوجائے کہ وہ قطرہ  وضو کے بعد نکلاہے تو وہ وضو کو دوہرالے،اوریہی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔

۱۳۔ حماد ،ابراہیم نخعی سے نقل کرتے ہیں کہ کسی عورت کے انتقال پر اس کا شوہر اس کو غسل دے سکتاہے۔ 

قَالَ أَبُو حَنِيفَۃ: أَكْرَهُ أَنْ يُغَسِّلَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہ قَالَ مُحَمَّد: وَبِقَوْلِ أَبِي حَنِيفَۃ نَأْخُذُ، إِنَّ الرَّجُلَ لَا عِدَّۃَ عَلَيْہ؛ وَكَيْفَ يُغَسِّلُ امْرَأَتَہ، وَہُوَ يَحِلُّ لَہ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُخْتَہَا؟ وَيَتَزَوَّجَ ابْنَتَہَا إِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِأُمِّہَا؟ (المصدرالسابق2/36)

امام ابوحنیفہ ؓ فرماتے ہیں میں اسے مکروہ سمجھتاہوں کہ مرد اپنی بیوی کو غسل دے، امام محمد فرماتے ہیں ،امام ابوحنیفہ کا قول ہی ہم اس مسئلہ میں اختیار کرتے ہیں،اوراس قول کی دلیل ہے کہ بیوی کے موت کے بعد مرد پر کوئی عدت نہیں ہے(جس سے خفیف سا رشتہ نکاح باقی رہنے کا وہم ہو)وہ اس کی بہن سے شادی کرسکتاہے،اوراگرہم بسترنہ ہوا ہوتو اس کے دوسرے شوہر کی بیٹی سے بھی شادی کرسکتاہے(یہ تمام باتیں بتاتی ہیں کہ شوہر اس میت بیوی کیلئے غیر اورنامحرم ہوچکاہے) 

۱۴۔ ابراہیم  کہتے ہیں کہ عورت نماز میں جیسے چاہے بیٹھ سکتی ہے۔

 امام محمد فرماتے ہیں :

أَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ تَجْمَعَ رِجْلَيْہَا فِي جَانِبٍ، وَلَا تَنْتَصِبَ انْتِصَابَ الرَّجُلِ (کتاب الاثارللامام محمد،ص:609]

ہمارے نزدیک بہتر یہ ہے کہ وہ مرد کی طرح نہ بیٹھے بلکہ وہ اپنے پاؤں کو ایک جانب نکال کو بیٹھے۔

(نوٹ:اس کے علاوہ مزید اس طرح کے مسائل ڈھونڈنے سے جہاں امام ابوحنیفہ ابراہیم نخعی کی مخالفت کرتے ہیں پچاس سے بھی زائد مثالیں محض کتاب الآثار سے مل جاتی ہیں۔ اگرابراہیم نخعی اورامام ابوحنیفہ کے اختلافات کو ازاول تاآخر کھنگالا جائے تویقیناًاس کی تعداد بہت بڑھ جائے گی اوراس میں مزید کئی گنااضافہ ہوجائے گا،اگرہم ابراہیم نخعی کے ساتھ اختلاف کرنے میں امام ابویوسف وامام محمد یاان مین سے کسی ایک کوبھی شامل کرلیں توان اختلافات کی مقدار مزیدبڑھ جائے گی۔)

ان تمام مثالوں میں یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ نہ صرف امام ابوحنیفہ بلکہ امام محمد بھی ابراہیم نخعی کے اجتہاد کے پابند نہیں ہیں؛ بلکہ وہ کھلے عام دلیل کی روشنی میں اوراپنے اجتہاد کی روشنی میں ان سےاختلاف کرتے ہیں ،جہاں ان سے اتفاق کرتے ہیں ،وہاں تخریج کی بنیاد پر نہیں اوران کے اقوال کو لازم سمجھ کر نہیں؛بلکہ ان مقامات میں دونوں کا اجتہاد ایک ہوجاتاہے،اجتہاد میں توافق کی بناء پر امام صاحب ابراہیم نخعی کے ہمنوا ہوتے ہیں نہ کہ ان کے قول کو لازم سمجھ کر۔

(جاری)


حواشی

29- اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ میں بیت اللہ ہے،مدینہ مھبط وحی اور رسول پاک کی قبرانور وہاں ہے اور وہیں سے سارے عالم مین اسلام پھیلا، صحابہ کرام کی بڑی تعداد وہاں محو خواب ہے،لیکن جس دور کی ہم بات کررہے ہیں یعنی امام مالک اورامام ابوحنیفہ کی، اس دور کے لحاظ سے اگر ہم دونوں جگہ کی علمی حیثیت کا جائزہ لیں تو پتہ چلتاہے کہ علم وحدیث کے میدان میں کوفہ یادوسرے لفظوں میں عراق مدینہ ومکہ سے کسی طورپیچھے نہیں تھا۔

30- سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ كَانَ أَبُو حَنِيفَۃَ شَدِيدَ الأَخْذِ لِلْعِلْمِ ذَابًّا عَنْ حَرَمِ اللَّہِ أَنْ تُسْتَحَلَّ يَأْخُذُ بِمَا صَحَّ عِنْدَہُ مِنَ الأَحَادِيثِ الَّتِي كَانَ يَحْمِلُہَا الثِّقَاتُ وَبِالآخَرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم وَبِمَا أَدْرَكَ عَلَيْہِ عُلَمَاءَ الْكُوفَۃَ (الانتقاء فی فضائل الائمۃ الثلاثہ142)

31- واضح رہے کہ امام بخاری کے اخص الخواص شاگر امام ترمذی نے اپنی کتاب سنن میں دیگر فقہاء محدثین کی آراء نقل کرنے کا اہتمام تو کیاہے، مثلاًعبداللہ بن مبارک، احمد بن حنبل، یحیی بن سعید القطان ،اسحاق بن راہویہ وغیرذلک لیکن وہ کہیں پر بھی امام بخاری کی فقہی رائے کا اظہارنہیں کرتے۔

32- كالإمام أبي يوسف والإمام محمد بن الحسن فقد فقد لينہما أہل الحديث - كما تری في "ميزان الاعتدال " - ولعمري لم ينصفوہما وہما البحران الزاخران، وآثارہما تشہد بِسَعَۃِ عِلْمِہِمَا وَتَبَحُّرِہِمَا، بل بتقدُّمہما علی كثير من الحفاظ. وناہيك كتاب " الخراج" لأبي يوسف و "موطأ " الإمام محمد (الجرح والتعدیل،ص31)

33-  يَحْيَی بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: «أَصْحَابُنَا يُفْرِطُونَ فِي أَبِي حَنِيفَۃ وَأَصْحَابِہ (جامع بیان العلم وفضله 2/1081)

34- قَالَ أَبُو عُمَرَ : وَأَمَّا سَائِرُ أہلِ الْحَدِيثِ فَہْمْ كَالأَعْدَاءِ لأَبِي حَنِيفَۃَ وَأَصْحَابِہ (الانتقاء ص :173)

35- دیکھئے :الرفع والتکمیل ص70تا77


شخصیات