امام ابن جریر طبری کی شخصیت اور ایک تاریخی غلط فہمی

مولانا سمیع اللہ سعدی

امام ابن جریر طبری عہد عباسی کے معروف مورخ و مفسر گزرے ہیں ۔اسلامی علوم کے زمانہ تدوین سے تعلق رکھنے کی وجہ سے علوم اسلامیہ پر گہرے اثرات ڈالنے والوں میں سر فہرست ہیں ۔گرانقدر تصنیفات چھوڑیں ،جن میں خاص طور پر صحابہ و تابعین کے اقوال سے مزین ایک ضخیم تفسیر "جامع البیان عن تاویل آی القران "المعروف تفسیر طبری اور حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لیکر اپنے زمانے تک کی مبسوط تاریخ "تاریخ الا مم و الملوک" اپنے موضوع پر بنیادی کتب کی حیثیت رکھتی  ہیں ۔ تفسیر و تاریخ کے میدان میں آنے والے تقریبا تمام نامور مصنفین نے ان کتب کو ماخذ بنایا ۔امام ابن جریر اپنی جلالت شان اور گوناگوں صلاحیتوں کے باوجود اپنے زمانے میں خاصے تنازعات کا شکار رہے ،امام دادو ظاہری  کے ساتھ معاصرانہ چپقلش رہی ،اور نوبت یہاں تک پہنچی،کہ  یہ "مخاصمت" اگلی نسل میں بھی منتقل ہوئی ، ۔علامہ ذہبی  ،امام داود ظاہری کے صاحبزادے اور امام ابن جریر  سے متعلق لکھتے ہیں :

و قد وقع بین ابن جریر و بین ابن ابی داود، وکان کل منھما لا ینصف الاخر1

ترجمہ:امام ابن جریر اور  ابن ابی داود کے  درمیان تنازعہ پیدا ہوا ،اور دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔

حنابلہ کے ایک گروہ کے ساتھ طویل مخالفت رہی ،جس کے متعدد اسباب تراجم کی کتب میں مذکور ہیں ۔اس طویل کشمکش کا اثر یہ ہوا کہ حنابلہ کے علاوہ دوسرے طبقات بھی ابن جریر کے مخالف ہوگئے ،ابن اثیر الکامل میں لکھتے ہیں :

و انما بعض الحنابلۃ تعصبو ا علیہ  ووقعو ا فیہ فتبعھم غیرھم2

ترجمہ :بعض حنابلہ نے ابن جریر کے معاملے میں تعصب اختیار کیا ،اور ان کی مذمت و مخالفت میں لگ گئے ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے لوگ بھی آپ کے مخالف ہوگئے ۔

بعض نامور محدثین نے ان پر تشیع و رفض کا الزام لگایا (جن پر بحث ہم آگے کریں گے ) ۔متنوع تنازعات کے اثرات یہاں تک پہنچے کہ موصوف اپنے آخری زمانے میں گھر میں محصور ہو کر رہ گئے۔

وكانت الحنابلۃ حزب أبي بكر بن أبي داود، فكثروا وشغبوا على ابن جرير، ونالہ أذى، ولزم بيتہ۔3

ترجمہ :حنابلہ ابن ابی داود کے حامی تھے ۔ انہوں پے در پے ابن جریر کے خلاف فتنہ و فساد برپا کیا ،اور ان کو اذیتیں دیں ۔بالاخر ابن جریر گھر میں محصور ہوکر رہ گئے ۔

انہی تنازعات کا اثر ہے کہ ان کی وفات اور نمازہ جنازہ کے بارےمیں بھی متضاد قسم کی روایات ہیں ۔علامہ حموی  نے معجم الادباء میں لکھا ہے :

قال غير الخطيب: ودفن ليلا خوفا من العامۃ لأنہ يتھم بالتشيع، وأما الخطيب فإنہ قال: ولم يؤذن بہ أحد، فاجتمع علی جنازتہ من لا يحصي عددھم إلا اللہ، وصلي علی قبرہ عدۃ شھور ليلا ونھارا4

ترجمہ :خطیب کے علاوہ بقیہ مورخین نے لکھا ہے کہ ابن جریر کو رات کے وقت عام لوگوں کے خوف سے دفن کیا گیا ،کیونکہ ان پر شیعہ ہونے کا اتہا م تھا،جبکہ خطیب نے کہا ہے کہ ان کے جنازے پر کسی کو نہ بلانے کے باوجود لوگوں کی ایک کثیر تعداد جمع ہو گئی ،اور ان کی قبر پرکئی  مہینے رات دن تک لوگ جنازہ پڑھتے رہے ۔

خطیب بغدادی اور دیگر جملہ مورخین کے بیانات میں  تضاد اور اس  میں صحیح و غلط سے قطع نظر خطیب کی روایت کا آخری حصہ بلا شبہ مبالغہ پر مبنی ہے کہ قبر پر مہینوں  تک جنازہ پڑھنے کا مسلمانوں میں بشمول نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر  اور صحابہ کرام کی قبور کے، رواج و تعامل  کبھی نہیں رہا  ۔

امام ابن جریر جرح و تعدیل کے میزان میں

امام ابن جریر اپنے زمانے میں متنوع تنازعات کا  شکار ہونے کے باوجود بعد کے اہل علم میں بڑے مقبول ہوئے۔ ان کی لکھی ہوئی تصنیفات مشرق و مغرب میں پھیل گئیں ،خصوصا  تفسیر اور تاریخ سے متعلق ان کی کاوشیں  بنیادی مرجع قرار پائیں ۔اس لیے کتب رجال میں بڑے شاندار الفاظ میں ان کا ذکر کیا گیا ہے اور متعدد ائمہ نے ان کی جلالت شان ،وفور علم ،وسعت نظر اور امامت علمی کا ذکر کیا ہے ۔اختصار کے پیش نظر ہم تعدیل کے ان اقوال سے صرف نظر کرتے ہیں ۔اور امام ابن جریر پر ہونے والی جرح پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ پر ساری جرح کا خلاصہ "تشیع و رفض"ہے ۔درجہ ذیل حضرات نے ان پر یہ جرح کی ہے :

۱۔علاہ ذہبی رحمہ اللہ  متکلم فیہ رجال کے تذکرے پر مشتمل اپنی کتاب "میزان الااعتدال "میں لکھتے ہیں :

فیہ تشیع و موالاۃ لاتضر 5

یعنی امام ابن جریر میں تشیع اور اہلبیت کے ساتھ معمول سے  زیادہ مودت تھی ،لیکن یہ موالات   ضرر کی حد تک نہیں پہنچی تھی ۔

۲۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ  "لسان المیزان"میں بعینہ یہی بات فرمائی ہے۔6

۳۔چوتھی صدی ہجری کے معروف محدث احمد بن علی سلیمانی ،جن کے بارے میں علامہ ذہبی نے ‘‘لم يكن له نظير في زمانه إسنادا وحفظا ودراية وإتقانا‘‘ 7کے الفاظ استعمال کیے ہیں ،ابن جریر کے بارے میں فرماتے ہیں :

کان یضع للروافض8

یعنی امام ابن حجر روافض کے لیے احادیث گڑھا کرتے تھے۔

۴۔چوتھی صدی ہجری کے معروف امام لغت اور شاعر ابوبکر محمد بن عباس الخوارزمی ،جو امام ابن جریر کے بھانجے تھے ،علامہ ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء"9 میں ،ابن خلکان نے "وفیات الاعیان" 10 میں، علامہ سمعانی نے "الانساب" 11 میں ،علامہ یاقوت الحموی نے "معجم الادباء" 12 میں اور معروف علماء کے شیوخ پر متعدد کتب کے مصنف ابو طیب نائف بن صلاح المنصوری نے "الروض الباسم فی تراجم شیوخ الحاکم" 13 میں  ان کے تذکرے کے ساتھ "ابن اخت محمد بن جریر  الطبری "(امام ابن جریر کا بھانجا) لکھا ہے۔ اپنے ماموں ابن جریر کے مسلک کے بارے میں فرماتے ہیں:

بآمل مولدی و بنو جریر
فاخوالی ویحکی المرء خالہ
فھا انا رافضی عن تراث
و غیری رافضی عن کلالہ14
’’آمل میری پیدائش ہے ،اور ابن جریر کے بیٹے میرے ماموں ہیں ،اور آدمی اپنے ننھیال کے مشابہ ہوتا ہے ۔سنو میں وراثتا رافضی ہیں ،جبکہ باقی لوگ دور کے رافضی ہیں۔‘‘

۵۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں معروف مفسر ابو حیان الاندلسی کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں لفظ  صراط کی تحقیق میں ابن جریر طبری کو ’’امام من الامامیۃ‘‘ لکھا ہے۔15 لیکن اس جرح کے بارے میں انصاف کی بات یہ ہے کہ اس میں ابن حجر صاحب سے تسامح ہوا ہے ۔ابن حیان نے اپنی تفسیر البحر المحیط  میں معروف شیعہ عالم  "ابو جعفر الطوسی "کو  لفظ صراط کی تحقیق میں امام من الامامیہ لکھا ہے۔ لکھتے ہیں:

وقال ابو جعفر الطوسی فی تفسیرہ و ھو امام من ائمۃ الامامیۃ الصراط بالصاد لغۃ قریش، ھی اللغۃ الجیدۃ 16

یہ تحقیق ابوحیان نے الطوسی کی تفسیر "التبیان "سے نقل کی ہے ۔اور التبیان میں الطوسی نے یہی تحقیق لکھی ہے۔ صراط کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

بالصاد لغۃ قریش وھی اللغۃ الجیدۃ 17

ابن جریر طبری کی تفسیر میں ابو حیان کی نقل کی ہوئی کوئی تحقیق نہیں ملتی اور نہ ابو حیان نے اپنی تفسیر میں لفظ صراط کی تحقیق"ابو جعفر الطبری"کا حوالہ دیا ہے  ۔حافظ صاحب نے تسامحا(ممکن ہے کہ حافظ صاحب کے پاس جو نسخہ ہو ،اس میں الطوسی کی جگہ الطبری لکھا ہوا ہو ،لھذا  ناسخ کی غلطی بھی ہوسکتی ہے )"ابو جعفر الطوسی "کو "ابو جعفر الطبری"بنا دیا ۔

تشیع و رفض کی جرح پر تبصرہ

حافظ ابن حجر و علامہ ذہبی نے تو تشیع کی جرح کے ساتھ یسیر اور لا یضر والی بات نقل کر کے ابن جریر صاحب کے تشیع کی بنا پر ان کے ضعف کا رد کر دیا ۔البتہ یہ بات بہرحال بر قرار رہے گی کہ ابن جریر صاحب کو شیعہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام کے بارے میں ان کے نظریے میں اہلسنت و الجماعت کے مسلک سے انحراف تھا ،اب یہ انحراف کس درجے کا تھا؟اس کی وضاحت مذکورہ حضرات نے نہیں کی ، البتہ یسیر اور لا تضر کے الفاظ کہہ کر اس کی بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ انحراف خطرناک درجے کا نہ تھا ۔تشیع کے مفہوم اور متقدمین و متاخرین کے نزدیک اس کے اطلاقات سے قطع نظر امام ابن جریر جس زمانے کے ہیں ،اس زمانے میں شیعہ بطور فرقہ کے ممتاز ہو چکا تھا ، چنانچہ شیعہ اثنا عشریہ (جو اہل تشیع کا مین سٹریم طبقہ ہے )کی سب سے پہلی باقاعدہ کتاب "الکافی "کے مصنف محمد یعقوب الکلینی  اور امام ابن جریر کا زمانہ ایک ہے۔ ۔اما م ابن جریر کی وفات ۳۱۰ ھ اور الکلینی کی وفات ۳۲۹ھ میں ہوئی ہے ۔اس اعتبار سے دونوں ہم عصر قرار پاتے ہیں ۔تشیع و رفض کے شیوع کے زمانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے صرف تشیع کی جرح بھی کافی بڑی جرح ہے ۔

 علامہ احمد بن علی سلیمانی اور الخوارزمی نے تو بلا کم و کاست امام ابن جریر کو رافضی قرار دیا ہے ۔اس جرح کے جواب کے لیے جب ہم کتب رجال میں پر نظر ڈالتے ہیں ،تو سوائے اس کے اور کوئی جواب نہیں ملتا ،کہ ہر دو حضرات کی جرح معروف ابن جریر کے بارے میں نہیں ہیں ،بلکہ اس نام سے ایک اور ابن جریر تھے ،جو مسلکا شیعہ تھے ،یہ جرح  شیعہ ابن جریر کے بارے میں ہے ،نام کی مشابہت کی وجہ سے اس جرح کو سنی ابن جریر کے بارے میں سمجھا گیا۔ چنانچہ السلیمانی کی جرح کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :

ولو حلفت أن السليماني ما أراد إلا الآتي لبررت والسليماني حافظ متقن كان يدري ما يخرج من رأسہ فلا اعتقد أنہ يطعن في مثل ھذا الإمام بھذا الباطل18

ترجمہ: اگر میں قسم کھاوں، تو حانث نہیں ہوں گا کہ سلیمانی کی مراد دوسرے شیعہ ابن جریر  ہیں۔سلیمانی حافظ الحدیث اور معتمدہیں ۔اپنی زبان سے سوچ سمجھ کر الفاظ نکالتے ہیں۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ سلیمانی جیسا شخص امام ابن جریر جیسے امام کے بارے میں یہ باطل جرح کریں۔

شیعہ ابن جریر اور اس کی تاریخی حقیقت سنی کتب کی روشنی میں

علامہ ذہبی و عسقلانی رحمھما اللہ کی  بعض کتب (سیر اعلام النبلاء ،میزان الاعتدال اور لسان المیزان) میں ابن جریر طبری رحمہ اللہ کے تذکرے کے ضمن میں طبری صاحب کے ہم نام،ہم ولدیت اور ہم وطن  ایک اور ابن جریر شیعہ کا  کا ذکر ملتا ہے۔ ہم اولا تینوں کتب سے ابن جریر شیعہ کا  پورا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔

سیر اعلام النبلاء میں ہے:

  محمد بن جرير بن رستم: أبو جعفر الطبري قال عبد العزيز الكتاني: ھو من الروافض، صنف كتبا كثيرۃ في ضلالتھم، لہ كتاب: ’’الرواۃ عن أھل البيت‘‘، وكتاب: ’’المسترشد في الإمامۃ‘‘ 19

ترجمہ :محمد بن جریر بن رستم الطبری ،جن کے بارے میں عبد العزیز الکتانی نے لکھا ہے کہ وہ روافض میں سے تھے ،ان کے مذہب میں متعدد کتب لکھیں جیسے الرواۃ عن اہل البیت اور کتاب المسترشد فی الامامۃ

میزان الاعتدال میں ہے:

رافضي لہ تواليف، منھا كتاب الرواۃ عن أھل البيت، رماہ بالفرض عبد العزيز الكتاني20

یہ رافضی ہیں ۔کتاب الرواۃ عن اہلبیت ان کی تصنیف ہے ۔الکتانی نے انہیں رفض سے متہم کیا ہے۔

لسان المیزان میں حافظ صاحب لکھتے ہیں:

محمد بن جرير بن رستم أبو جعفر الطبري. رافضي لہ تواليف منھا كتاب ’’الرواۃ عن أھل البيت‘‘. رماہ بالرفض عبد العزيز الكتاني. انتھی.
وقد ذكرہ أبو الحسن بن بانويہ في تاريخ الري بعد ترجمۃ محمد بن جرير الإمام فقال: ھو الآملي قدم الري وكان من جلۃ المتكلمين علی مذھب المعتزلۃ , لہ مصنفات. روى عنہ الشريف أبو محمد الحسن بن حمزۃ المرعشي. قلت: وروى، عَن أبي عثمان المازني وجماعۃ. وعنہ أبو الفرج الأصبھاني في أول ترجمۃ أبي الأسود من كتابہ.
وذكرہ شيخنا في الذيل بما تقدم أولا وكأنہ سقط من نسختہ وزاد بعد لعل السليماني إلی آخرہ: وكأنہ لم يعلم بأن في الرافضۃ من شاركہ في اسمہ واسم أبيہ ونسبہ وإنما يفترقان في اسم الجد ولعل ما حكي، عَن مُحَمد بن جرير الطبري من الاكتفاء في الوضوء بمسح الرجلين إنما ھو ھذا الرافضي فإنہ مذھبھم.21

ترجمہ: ابن جریر ابن رستم رافضی ہے ،عبد العزیز الکتانی نے انہیں رفض سے متہم کیا ہے ،ان کی ایک تصنیف  "الرواۃ عن اہل البیت"ہے ۔ابو الحسن ابن بانویہ نے  تاریخ الری میں ابن جریر سنی کے بعد ان کا ذکر کیا ہے۔لکھا ہے: وہ املی ہے ،رای میں وارد ہوئے ،معتزلہ کے بڑے متکلمین میں سے ہیں ،کئی کتب کے مصنف ہیں۔ ان سے ابو محمد الحسن بن حمزہ المرعشی نے روایت کی ہے ۔

میں (حافظ ابن حجر) کہتا ہوں کہ انہوں نے ابو عثمان المازنی اور ایک بڑی جماعت سے روایات لیں ۔اور خود ان سے ابو الفرج الاصفہانی نے اپنی کتاب میں ابو الاسود کے ترجمے میں روایت لی ہے ۔(الی اخرہ)

اہلسنت کے پورے ذخیرہ رجال میں علا مہ ذہبی و عسقلانی وہ اولین شخصیات ہیں ،جنہوں نے شیعہ ابن جریر کا ذکر کیا ہے ،ہر دو حضرات سے پہلے رجال کی چار سو  سالہ تاریخ میں  رجال  یا فہارس الکتب و المصنفین کی کسی  بھی معتبر کتاب میں ابن جریر شیعہ کا ذکر نہیں ہے ۔اس موقع پر ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تاریخ و تفسیر کی اولین کتب لکھنے والی معروف شخصیت ابن جریر (سنی )کے ہم نام ،ہم وطن ،ہم ولدیت اور ہم عصر ایک اور ابن جریر (شیعہ )تھے ،اور وہ شیعہ  ابن جریر بھی سنی کی طرح اپنے مسلک کی معروف اور مقتداء شخصیت تھی ،تو یقینا اس سے گمراہ کن التباس پیدا ہو نے کا خدشہ تھا  ،اس کی وضاحت ہمیں چار صدیوں کے علمی ذخیرے میں کیوں نہیں ملتی؟ علم رجال کی تاریخ میں یہ بات ناممکن ہے کہ اتنی بڑی شخصیت جو حیرت انگیز طور پر اہلسنت کےا یک معروف امام کے ساتھ متعدد جہات سے مشابہت کی حامل ہو ،چار سو سالہ رجال کے ذخیرے میں اس کے حالات تو کجا ،اس کا نام و نسب بلکہ محض تذکرہ بھی نہ آسکے ۔اس کے علاوہ علامہ ذہبی و عسقلانی کے ذکر کردہ ترجمے میں ایسے اشارات ملتے ہیں ،جن کی وجہ سے ہم اس "افسانوی شخصیت"کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں ۔

۱۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ ابن جریر شیعہ کا ذکر "ابو الحسن بن بابویہ"(لسان المیزان میں "بابویہ"کی جگہ بانویہ"لکھا ہوا ہے ،جسے تصحیف پر محمول کیا جاسکتا ہے ،اس نام سے بسیار تلاش کے باوجود کوئی شخصیت نہ مل سکی ،شاید اسی لیے شیعہ عالم محسن العاملی نے اسے "بابویہ"سمجھا کما سیاتی) تاریخ الری میں کیا ہے،شیعہ علماء کے ہاں اس نام سے قم کے معروف عالم اور شیخ صدوق کے والد مراد لیے جاتے ہیں ،لیکن اس نام سے ان کی کوئی کتاب شیعہ کتب رجال میں نہیں ملتی ،یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر مذکورہ  حوالے  سے متعلق  معروف شیعہ عالم محمد محسن العاملی اپنی کتاب "اعیان الشیعہ"میں لکھتے ہیں:

وفی لسان المیزان: ابراہیم بن ادریس القمی ذکرہ ابوالحسن بن بابویہ فی رجال الشیعۃ انتہی۔ والظاہر ان المراد بابی الحسن بن بابویہ ھؤ علی بن الحسین بن موسی بابویہ القمی والد الصدوق فانہ یکنی اباالحسن و لم یعلم این ذکرہ۔22

ترجمہ :لسان المیزان میں ہے ،ابراہیم بن ادریس القمی ،ابو الحسن ابن بابویہ (یاد رہے لسان کے موجودہ نسخ میں بابویہ کی بانویہ لکھا ہوا ہے 23۔جیسا کہ ابن جریر کے ترجمے میں ہے )نے رجال شیعہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ظاہر یہ ہے کہ ابو الحسن بن بابویہ سے  مراد علی بن حسین بن موسی بابویہ القمی مراد ہیں ۔جو شیخ صدوق کے والد ہیں ۔لیکن یہ معلوم نہیں ،کہ ابو الحسن بن بابویہ نے کس جگہ اس راوی کا تذکرہ کیا ہے ۔

۲۔حافظ صاحب نے ابن جریر شیعہ کو ابو عثمان المازنی کا شاگرد لکھا ہے ،جبکہ ابو عثمان المازنی کے تلامذہ میں اس نام کا کوئی راوی نہیں ہے ،البتہ اس سے جلتا ملتا ایک نام ملتا ہے ۔علامہ حموی معجم الادباء میں حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے تذکرے میں لکھتے ہیں:

قرأت في «كتاب الأمالي» لأبي القاسم الزجاجي قال حدثنا أبو جعفر أحمد بن محمد بن رستم الطبري صاحب أبي عثمان المازني24

ترجمہ: میں نے زجاجی کی کتاب الامالی میں پڑھا کہ ہمیں ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم طبری نے بیان کیا، جو ابو عثمان المازنی کے شاگرد ہیں۔

الفہرست میں ابن ندیم ان کی تصانیف کے بارے میں لکھتے ہیں:

ومن علماء البصريين: أبو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن يزدبان الطبري ويعد في طبقۃ أبي يعلی بن أبي زرعۃ ولہ من الكتب كتاب غريب القرآن كتاب المقصور والممدود كتاب المذكر والمؤنث كتاب صورۃ الھمز كتاب التصريف كتاب النحو.25

ترجمہ:علمائے بصرہ میں سے ایک ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن یزدبان طبری ہے ،اور ابو یعلی بن ابی زرعہ کے طبقہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کی کتاب یہ ہیں :غریب القران ،کتاب المقصور ،کتاب المدود،کتاب المزکر و المونث، کتاب صورۃ الھمزۃ ،کتاب التصریف ،کتاب النحو ۔

اسی کو مختصر کر کے ابو جعفر بن رستم کہا جاتا ہے ،چنانچہ ایک اور جگہ کتب غریب القران کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

كتاب غريب القرآن لأبي جعفر بن رستم الطبري26

اسی ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن یزدبان الطبری کا ترجمہ  تاریخ بغداد 27 اور معجم الادباء 28 میں  ملتا ہے۔

درجہ بالا عبارات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ،کہ علامہ ذہبی و عسقلانی نے جس ابن جریر شیعہ کا ذکر کیا ہے ،اس نام سے تو کتب رجال کے پورے ذخیرے میں کوئی شخصیت نہیں ہے ، انہوں نے اسے ابو عثمان المازنی کا شاگرد لکھا ہے ،جبکہ  کتب رجال میں ابو عثمان المازنی کے تلامذہ میں اس نام کا کوئی راوی نہیں ہے ،البتہ اس سے ملتا جلتا ایک شخص ہے جو نام ،ولدیت میں ابن جریر کے  مشابہ نہیں ہے ،کیونکہ ابن جریر کا نام" ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید الطبری"ہے۔ جبکہ اس راوی کا نام " ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم بن یزدبان الطبری  النحوی "ہے ،دونوں ناموں کو ملاحظہ کرنے سے یہ بات  ثابت ہوتی ہے ،کہ ان دونوں میں خاصا فرق ہے ۔ نیز یہ فرق اس طرح سے مزید نمایاں ہوجاتا ہے ،کہ ابو عثمان المازنی کے شاگرد کو مختصر کر کے "ابو جعفر بن رستم"کہا جاتا ہے ،جس سے جزوی مشابہت کا امکان بھی ختم ہو جاتا ہے ۔اس کے علاوہ ابو جعفر بن رستم خالص لغوی ،نحوی اور قراءت قرانیہ کے ماہر عالم تھے ۔اور ان کی جملہ تصانیف اسی کے گرد گھومتی ہیں ، ان کے مسلک پر کسی کتاب میں کوئی تصریح نہیں ملی ،البتہ  غالب امکان یہ ہے کہ یہ سنی عالم ہوں گے ۔کیونکہ خاص طور پر قراءت سے شغف ان کے تسنن پر دلالت کرتا ہے ،اس لیے کہ شیعہ علماء قراءت قرانیہ کے قائل نہیں ہیں ۔اس کے علاوہ علامہ ذہبی و عسقلانی نے جن کتب کو ابن جریر شیعہ کی طرف منسوب کیا ،ان میں سے  بھی کؤئی کتاب  ابو جعفر بن رستم کی تصنیفات کے ذیل میں نہیں ملتی۔

شیعہ کتب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ،کہ جس شخص کو ابن جریر سنی کا ہم نام و ہم عصر ثابت کیا جا رہاہے ،وہ یہی ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری مراد ہیں ،چنانچہ تیرھویں صدی کے معروف شیعہ محقق سید بحر العلوم کی  کتاب "الفوائد الرجالیہ" کے محشی  لکھتے ہیں :

محمد بن جرير بن رستم الطبري الآملي: ھو صاحب (كتاب غريب القرآن) كما ذكرہ ابن النديم في الفھرست29

محقق مذکور نے ابن جریر شیعہ کی ایک کتاب "غریب القران" بتائی ہے ،اور یہ کہ ابن ندیم نے اس کا ذکر بھی  کیا ہے ،جبکہ ابن ندیم کے حوالے سے ہم ماقبل میں لکھ آئے ہیں ،کہ صاحب غریب القرآن ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری ہے ،نہ کہ ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری ،محقق بحر العلوم کے ذکر کردہ  نام کی کسی شخصیت کا الفہرست میں ذکر نہیں ہے ۔ شیعہ و سنی کتب کے مذکورہ حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ابن جریر سنی کے ہم نام جس شخصیت کو بتا یا جارہا ہے ،اس کی عمومی طور پر دو علامتیں بیان کی جاتی ہیں ،ایک یہ کہ وہ ابو عثمان المازنی کا شاگرد ہے ،دوسرا یہ کہ ابن ندیم نے غریب القرآن کی کتب کے تذکرے میں اس کا ذکر کیا ہے ،اور ان دو علامتوں سے متصف شخص "ابو جعفر احمد بن محمد بن رستم الطبری ہے نا کہ "ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری "اور وہ بھی خالص ایک لغوی،نحوی اور قراءت کے ماہر عالم ہیں ،جن کی تصنیفات انہی دائروں میں گھومتی ہیں ،کتب رجال میں سے کسی میں بھی اس کے مسلکا شیعہ یا اعاظم علمائے شیعہ کے طور پر ذکر نہیں ہے۔       

(جاری)


حواشی

 1. الذہبی ،شمس الدین احمد بن محمد،سیر اعلام النبلاء ،بیروت ،موسسۃ الرسالۃ ۱۴۰۳ھ،ج۱۴ص۲۷۷

 2. الجزری ،ابن الا ثیر ،محمد بن محمد بن عبد الکریم ،الکامل فی التاریخ ،بیروت ،دار الکتب العلمیہ ۱۴۰۷ھ،ج۷ص۹

3.  سیر اعلام النبلاء ، ج۱۴ص۲۷۷

4. الحموی ،یاقوت شہاب الدین ابو عبد للہ ،معجم الادباء ،بیروت ،دارا لغرب الاسلامی ۱۴۱۴ھ،ج۶ص۲۴۴۱

5. الذہبی ،شمس الدین احمد بن محمد ،میزان الاعتدال،بیروت ،دار المعرفۃ ۱۳۸۲ھ،ج۳ص۴۹۹

6. العسقلانی ،ابن حجر ،احمد بن علی ،لسان المیزان ،بیروت ،دالبشائر الاسلامیہ ۱۴۲۳ھ،ج۷،ص۲۵

7. سیر اعلام النبلاء ، ج۱۷ص۲۰۱

8.  لسان المیزان ، ج۷،ص۲۵

9.  سیر اعلام النبلاء ، ج۱۶ص۵۲۶

10. ابن خلکان ،ابو العباس احمد بن محمد ،وفیا ت الاعیان ،بیروت ،دار صادر ،ج۴ص۴۰۰

11. السمعانی ،ابو سعد ،عبد الکریم بن محمد،الانساب ،حیدر آباد،دائرۃ المعارف العثمانیہ ۱۳۸۲ھ،ج۵ص۲۱۳

12.  الحموی ، معجم الادباء ، ج۶ص۲۵۴۳

13. المنصوری ،ابو طیب ،نائف بن صلاح،الروض الباسم فی تراجم شیوخ الحاکم ،ریاض، دالعاصمۃ۱۴۳۱ھ،ج۲ص۱۰۵۰

14.  الحموی ، معجم الادباء ، ج۶ص۲۵۴۳

15.  لسان المیزان ، ج۷ص۲۵

16. الاندلسی ،ابوحیان ،محمد بن یوسف ،البحر المحیط ،بیروت ،دارلکتب العلمیہ ۱۴۱۳ھ،ج۱ص۱۴۴

17. الطوسی ،شیخ الطائفۃ ،ابو جعفر ،محمد بن حسن ،التبیان فی تفیسر القرآن ،بیروت ،دار احیاء التراث العربی ،ج۱ص۱۲۲

18.  لسان المیزان ، ج۷،ص۲۵

19.  سیر اعلام النبلاء ، ج۱۴ص۲۸۲

20.  میزان الاعتدال، ج۳ص۴۹۹

21.  لسان المیزان ، ج۷ص۲۹

22. الامین ،محمد محسن،اعیان الشیعہ ،بیروت ،دار التعارف للمطبوعات ،۱۴۱۹ھ،ج۳ص۴۳

23.  لسان المیزان ، ج۱ص۲۳۳

24.  الحموی ، معجم الادباء ، ج۴ص۱۸۱۲

25. ابن ندیم ،ابو الفرج ،محمد بن اسحاق،الفہرست ،بیروت،دار المعرفۃ ۱۳۹۸ھ،ص۸۹

26. ایضا،ص۵۲

27. البغدادی ،الخطیب ،ابو بکر احمد بن علی ،تاریخ مدینۃ السلام ،بیروت ،دار الکتب العلمیہ ۱۴۲۵ھ،ج۵ص۲۳۳

28.  الحموی ، معجم الادباء ، ج۱ص۴۵۷

29. طباطبائی ،بحر العلوم ،سید مہدی ،الفوائد الرجالیہ ،طہران ،مکبتۃ الصادق ۱۳۶۳ھ،ج۴ص۱۲۱

شخصیات