تحفظ ناموس صحابہ اور عالم اسلام کا داخلی خلفشار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس کے تحفظ و دفاع کا مسئلہ ہمیں اس طور پر ہمیشہ درپیش رہا ہے کہ کچھ لوگوں کی تحفظ ناموس صحابہ اور عالم اسلام کا داخلی خلفشارطرف سے ان مقدس ہستیوں میں سے چند ممتاز شخصیات کے خلاف منفی اور توہین آمیز گفتگو کے ردعمل میں اشتعال پیدا ہوتا ہے جو بعض اوقات تصادم کی حد تک جا پہنچتا ہے، جبکہ اس سال ملک بھر میں عام معمول سے ہٹ کر زیادہ تعداد میں اور مختلف مقامات پر ایسا ہوا ہے اس لیے ردعمل اور اشتعال کے دائرہ کا پھیلنا بھی فطری بات ہے جو ہر طرف دکھائی دے رہا ہے۔

عالمی سطح پر ہمیں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ناموس و حرمت کا مسئلہ درپیش ہے کہ جب ہم ان مقدس و محترم شخصیات کی اہانت کو جرم قرار دے کر ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو انسانی حقوق اور آزادیٔ رائے کے عنوان سے ایسی گستاخیوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے بلکہ احتجاج کرنے والوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ گستاخی، توہین اور تحقیر کو آزادیٔ رائے اور انسانی حقوق کے دائرے میں شمار کیا جا رہا ہے جو ناقابل برداشت ہونے کے ساتھ ساتھ قطعی طور پر غیر منطقی اور غیر معقول بات بھی ہے۔ جبکہ یہی صورتحال ہمیں ملک کے اندر حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کے حوالہ سے درپیش ہے کہ جب ہم ان بزرگ ہستیوں کی اہانت و تحقیر پر احتجاج کرتے ہیں، اضطراب کا اظہار کرتے ہیں، اور گستاخی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہاں بھی انسانی حقوق اور آزادیٔ رائے کا واویلا شروع ہو جاتا ہے اور گستاخی کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کارروائیاں سامنے آنے لگتی ہیں جس سے اضطراب اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم اس وقت ملک بھر میں اس قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں اور اہل سنت کے تمام مکاتب فکر کی طرف سے عوامی سطح پر جذبات کا بھرپور اظہار کیا جا رہا ہے۔

ہم اس حوالہ سے دوہرے اضطراب اور دباؤ کا شکار ہیں کہ ایک طرف حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کی حرمت و ناموس مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کا مسئلہ ہے جس میں کسی قسم کی لچک قابل قبول نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف مشرق وسطٰی کی صورتحال سامنے ہے کہ عراق، یمن، لبنان، شام اور بحرین میں اسی قسم کے مسائل چھیڑ کر خانہ جنگی کا بازار گرم کر دیا گیا ہے اور اس خانہ جنگی کی فضا میں اسرائیل کو عرب ممالک سے تسلیم کرانے کے ایجنڈے پر امریکی استعمار مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے۔ حالات کا رخ یوں نظر آ رہا ہے کہ اسی طرح کی صورتحال پاکستان میں پیدا کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی ہے۔ چنانچہ ہمارا اس وقت کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو شام، عراق اور یمن بننے سے بھی بچانا ہے اور قومی وحدت کو بھی ہر صورت میں برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کے حوالہ سے اپنے ایمان و عقیدہ اور حمیت و جذبات کا تحفظ کریں اسی طرح ہماری یہ بھی ہماری ملی اور قومی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مشرق وسطٰی کی صورتحال سے ہر قیمت پر بچائیں۔ اس لیے ان دونوں باتوں کو سامنے رکھ کر ہمیں آگے بڑھنا ہے جس کے لیے یہ ضروری ہے کہ اہل سنت کے تمام مکاتب فکر کے اکابر اور سنجیدہ راہنما سر جوڑ کر بیٹھیں اور مشترکہ موقف کے ساتھ ساتھ متفقہ قیادت بھی قوم کو فراہم کریں۔

اس تناظر میں گزشتہ دنوں لاہور میں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے لیے تمام مکاتب فکر کے سنجیدہ راہنماؤں پر مشتمل مرکزی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ کراچی میں اہل سنت کے تمام مکاتب نے جس جوش و ولولہ کے ساتھ اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کیا ہے، وہ لائق تحسین ہے اور پوری قوم کی طرف سے کراچی کے عوام اور تمام مسالک کی دینی قیادتیں مبارکباد کی مستحق ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ اس نازک اور حساس مسئلہ پر قوم کو مشترکہ موقف اور مشترکہ قیادت فراہم کی جائے تاکہ ماضی کے تلخ تجربات سے بچتے ہوئے ایمانی جذبات کے ساتھ ساتھ قومی وحدت کا تحفظ بھی کیا جا سکے۔

حالات و مشاہدات