اکتوبر ۲۰۲۰ء

جنسی درندگی کا بڑھتا ہوا رجحان

― محمد عمار خان ناصر

لاہور موٹروے پر رونما ہونے والے حالیہ واقعے کے تناظر میں تحریک انصاف کی حکومت نے آبرو ریزی کے مجرموں کو سرجری کے ذریعے سے نمونہ عبرت بنانے کے لیے قانون سازی کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ اس طرح کے اعلانات ایسے واقعات کے تناظر میں حکومتوں کی سیاسی ضرورت ہوا کرتے ہیں اور اجتماعی غم وغصہ کو نیوٹرلائز کرنے کا ایک فوری اور موثر ذریعہ بنتے ہیں، اس لیے ان سے زیادہ امیدیں باندھنے کے بجائے ایک بڑے تناظر میں اس انتہائی سنگین مسئلے کا جائزہ لینے اور ایک اجتماعی معاشرتی سوچ کو تشکیل دینے کی ضرورت...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۹)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(218) اذا الفجائیۃ والے جملے کا ترجمہ: اذا کی ایک قسم وہ ہے جسے اذا فجائیہ کہا جاتا ہے، یہ درست ہے کہ اس کا نام فجائیہ ہے، اذا میں ایک طرح کا تحیر کا عنصر تو پایا جاتا ہے، لیکن اس کے مفہوم میں ضروری نہیں ہے کہ اچانک واقع ہوجانے کا مفہوم بھی ہو۔ شاعر کہتا ہے: ’’کم تمنیت لی صدیقا صدوقا، فاذا انت ذلک المتمنی‘‘ (میں نے ایک سچے دوست کی کتنی تمنا کی تھی، تو ایسا ہوا کہ تم وہ ہوئے جس کی میں نے تمنا کی تھی)۔ یہاں تحیر آمیز مسرت ہے تو ہے، مگر یکایک ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ کبھی اذا کے بعد مذکور بات یکایک اور فورا پیش آنے والی بات بھی ہوسکتی ہے، ایسی صورت...

تحفظ ناموس صحابہ اور عالم اسلام کا داخلی خلفشار

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس کے تحفظ و دفاع کا مسئلہ ہمیں اس طور پر ہمیشہ درپیش رہا ہے کہ کچھ لوگوں کی تحفظ ناموس صحابہ اور عالم اسلام کا داخلی خلفشارطرف سے ان مقدس ہستیوں میں سے چند ممتاز شخصیات کے خلاف منفی اور توہین آمیز گفتگو کے ردعمل میں اشتعال پیدا ہوتا ہے جو بعض اوقات تصادم کی حد تک جا پہنچتا ہے، جبکہ اس سال ملک بھر میں عام معمول سے ہٹ کر زیادہ تعداد میں اور مختلف مقامات پر ایسا ہوا ہے اس لیے ردعمل اور اشتعال کے دائرہ کا پھیلنا بھی فطری بات ہے جو ہر طرف دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی سطح پر ہمیں حضرات انبیاء...

دینی مدارس اور محکمہ تعلیم

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق ’’سندھ حکومت نے صوبے میں موجود مدارس کو تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی جی سندھ نے بریفنگ میں بتایا کہ سندھ میں ۸۱۹۵ مدارس اور امام بارگاہیں ہیں۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں مدارس تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کیے جائیں گے اور انہیں محکمہ تعلیم رجسٹرڈ کرے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلٰی نے کہا کہ مدارس کا مفت تعلیم دینے میں اہم کردار ہے۔‘‘ ہمارے خیال میں دینی مدارس کے حوالہ سے سندھ حکومت کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے اور اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون اور دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کے...

مولانا امین عثمانی ؒ: حالات وخدمات اور افکار

― ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حالیہ دنوں میں علماء حق اٹھتے جاتے ہیں اور ان کا کوئی متبادل بھی نظرنہیں آتا۔دو ستمبر2020کواسلامی فقہ اکیڈمی انڈیاکے سیکریٹری جنرل مولاناامین عثمانی بھی اس دارفانی کوخیربادکہہ گئے ۔ذیل کی سطورمیں مختصراًان کے حالات زندگی اورخدمات کا ایک جائزہ پیش کیاجارہاہے۔ مولاناامین عثمانی، اس عثمانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جوپانی پت(ہریانہ ) میں آبادتھا۔ان کے اجدادتصوف کے چشتی سلسلہ سے وابستہ تھے اوربہارکے مشہورصوفی شیخ شرف الدین یحیٰ منیری کی شہرت سن کران سے استفادہ کے لیے بہارچلے گئے تھے۔ان کے خاندان میں ڈاکٹرمحسن عثمانی کے علاوہ طیب عثمانی...

تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ پنجاب کا ایک رخ

― ڈاکٹر اختر حسین عزمی

تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ جس میں انبیائے کرامؑ، خاتم النبیین ، ازواج مطہراتؓ ، صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین کے ناموں کے ساتھ القابات اور دعائیہ کلمات کو لکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس اعتبار سے ایک اچھی قانونی پیش رفت ہے کہ اسلام میں جو محترم ومقدس اور معتبر ہستیاں ہیں ، جن سے مسلمانوں کی ایک عقیدت وابستہ ہے، ان کا تذکرہ عام دنیاوی رہنماﺅں کی طرح نہ کیا جائے، اسے کچھ اصول وآداب کا پابند بنایا جائے۔ لیکن مذہبی اعتبار سے یہ جتنا حسّاس موضوع ہے ، اس قانون کے مسودے کی نوک پلک سنوارنے والوں نے اس کی نزاکتوں کا احساس کیے بغیر اسے عجلت میں پاس کر...

امام ابن جریر طبری کی شخصیت اور ایک تاریخی غلط فہمی

― مولانا سمیع اللہ سعدی

امام ابن جریر طبری عہد عباسی کے معروف مورخ و مفسر گزرے ہیں ۔اسلامی علوم کے زمانہ تدوین سے تعلق رکھنے کی وجہ سے علوم اسلامیہ پر گہرے اثرات ڈالنے والوں میں سر فہرست ہیں ۔گرانقدر تصنیفات چھوڑیں ،جن میں خاص طور پر صحابہ و تابعین کے اقوال سے مزین ایک ضخیم تفسیر "جامع البیان عن تاویل آی القران "المعروف تفسیر طبری اور حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لیکر اپنے زمانے تک کی مبسوط تاریخ "تاریخ الا مم و الملوک" اپنے موضوع پر بنیادی کتب کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ تفسیر و تاریخ کے میدان میں آنے والے تقریبا تمام نامور مصنفین نے ان کتب کو ماخذ بنایا ۔امام ابن جریر...

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

― ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

1۔ تعارف: جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب "برہان" میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین قائم کیا۔ اپنے مضمون کا آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں: "ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے، اُس کے لیے ہمارے ہاں ’تصوف‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یہ اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے جس کی دعوت قرآن مجید نے بنی آدم کو دی ہے" (برہان:...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter