مولانا وحید الدین خان کا اسلوب تنقید اور خورشید احمد ندیم صاحب کے اعتراضات

صدیق احمد شاہ

خورشید احمد ندیم ایک معتدل مزاج اور فکری گہرائی رکھنے والے کالم نگار ہیں ۔اُن کی تحریر میں ایک مخصوص ٹھہراؤ اور رکھ رکھاؤ ہوتا ہے جسے میں ذاتی طور پر بہت پسند کرتا ہوں۔ ادبی خیال آفرینی سے اپنی تحریر کو مزین کرنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ اس وقت اُن کی کتاب "جنوبی  ایشیا کے تناظر میں بیسویں صدی کا فہم اسلام" میرے سامنے ہے جس میں اُنہوں نے جنوبی ایشیا کے تناظر میں مختلف فکری شخصیتوں کے احوال اور واقعات کا تجزیہ پیش کیا  ہے ۔ اسی کتاب میں ان کا ایک مضمون "مولانا وحید الدین کا اسلوب تنقید" شامل ہے اور میرے اس آرٹیکل کا مقصد اسی مضمون کا ایک تجزیاتی محاکمہ ہے ۔ اس پورے مضمون کا مرکزی نکتہ  ایک ہی ہے کہ وحید الدین خان صاحب کا تنقیدی اسلوب بہت منفی اور غیر ایجابی  ہے  اور  اُمت کے اکابر واصاغر اُن کی جادہ اعتدال سے ہٹی ہوئی تنقید کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اس بات کے اثبات کے لیے اُنہوں نے مولانا مودودی اور دیگر اکابرین کے نام دیے ہیں کہ کس طرح خان صاحب کی توہین آمیز تنقید سے ان شخصیات کی تخفیف ہورہی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر مولانا مودودی کے حوالے سے مثال دے کر لکھا ہے کہ خان صاحب نے ان کی نیت پر حملہ کیا ہے جبکہ بعض صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم پر بھی خان صاحب نے بڑے نامناسب انداز میں تنقید کی ہے۔

فی الحال راقم کا ارتکاز خورشید احمد ندیم صاحب کے اس دعویٰ کی گرہ کشائی پر رہے گا کہ خان صاحب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ اس ضمن  میں اُس مثال کی تجزیاتی تحلیل خان صاحب کے اپنے الفاظ میں کی جائے گی جو خورشید صاحب نے ثبوت کے طور پر پیش کی ہے ۔ (جہاں تک مولانا مودودی اور دیگر اکابرین پر تنقید کی بات ہے تو وہ سردست  ہماری بحث سے خارج ہے)۔ خورشید صاحب لکھتے ہیں:

"حضرت عبداللہ بن زبیر  نے یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہم کے عہد میں جو طرز عمل اختیار کیا، وہ مولانا کے تصور دین کے مطابق چونکہ درست نہیں تھا، اس لیے دیکھئے کہ وہ ان کا اور ان کی والدہ کا ذکر کیسے کرتے ہیں" (خورشید احمد ندیم، جنوبی ایشیا کے تناظر میں بیسوی صدی کا فہم اسلام، صفحہ 182)

پھر خان صاحب کا درج ذیل اقتباس نقل کرتے  ہیں:

"میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کہ  کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن کر رہ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی ماں (اسماء) نے ان کو ایک بڑے اقدام پر اُبھارا چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑ چکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لئے آمادہ ہوگیا۔ شہنشاہ اکبر کی ماں (مریم مکانی) نے اکبر کو ملا عبدالنبی کے خلاف کار روائی سے روکا چنانچہ اکبر  ان کے خلاف سخت کار روائی سے باز رہا وغیرہ وغیرہ ۔ راقم الحروف اگر بچپن میں ماں سے محروم ہوجاتا یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اُکساتی رہتی  تو یقینی طور پر میری زندگی کا رُخ دوسرا ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا اور مجھ کو اپنی صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنایا ۔ "(وحید الدین خان ، خاتون اسلام ، صفحہ 204) (حوالہ مذکورہ بالا)

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے خورشید صاحب لکھتے ہیں:

"مولانا وحید الدین کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم پر تنقید کرنا جائز نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عبداللہ ابن زبیر پر تنقید نہیں ؟ کیا  یہ حضرت اسماء بنت ابی بکر پر تنقید نہیں ؟  ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت اسماء کا ذکر اس اسلوب میں اور اس تقابل کے ساتھ ، کیا تنقید کا کوئی قابل تحسین اسلوب ہے؟"

راقم کا یہ ماننا ہے کہ حق کو پانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ تلاش ہے۔ میری احقاق حق کی سعی جس میں تلاش اور وجدان دونوں شامل ہیں، مجھے خورشید صاحب کے فکری حاصل کی بالکل متضاد پر سمت لے گئی ہے ۔ میں  تقریبا ایک دہائی سے وحید الدین خان صاحب اور اُن کے ناقدین کے درمیان جاری فکری کشا کش سے حقیقت کشید کرنے کی سعی کر رہا ہوں۔ بہرحال اس بحث سے قطع نظر، دیکھتے ہیں کہ  خود مولانا اپنے خلاف اس تنقید کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ مولانا صاحب کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے:

"پاکستانی ماہنامہ کے مذکورہ مضمون میں جو بات کہی گئی ہے، وہ  بلاشبہ غیر علمی بھی ہے اور غیر ذمہ دارانہ بھی ۔ یہ اعتراض راقم الحروف کی کتاب خاتون اسلام سے لیا گیا ہے۔ کوئی بھی شخص اس باب کو غیر جانبدارانہ انداز سے پڑھے گا تو یقیناً وہ جان لے گا کہ اس باب کا موضوع صحابہ یا صحابیہ کی روش پر تبصرہ نہیں ہے جس کی ایک مثال "خلافت و ملوکیت" نامی کتاب ہے ۔ میری کتاب کا موضوع اس کے برعکس صرف ایک مغربی پروپیگنڈے کا جواب ہے۔ میں نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے خانہ نشین عورت بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہے جس کو مغربی لوگ صرف غیر خانہ نشین خاتون کے لئے ممکن سمجھتے ہیں۔ اس نکتہ کو ثابت کرنے کے لئے میں نے کتاب میں تین خواتین کی مثالیں دی ہیں۔ حضرت اسماء، مریم زمانی، زیب النساء ۔ میری کتاب کی مذکورہ عبارت میں نعوذ باللہ کسی صحابی یا صحابیہ پر تنقید ہر گز نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ اس میں سادہ طور پر تین خواتین کا ،خاتون کی حیثیت سے رول بتایا گیا ہے۔ عبارت کے مدعا کے مطابق اس مثال میں مذکورہ خاتون کا صحابیہ ہونا ایک اتفاقی امر ہے۔ بلاغت کا مسلمہ اُصول ہے کہ تمثیل کے طریقہ میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ پیش نظر مثال کا متعلق پہلو ہی مقصود ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر پہلو وہاں غیر متعلق قرار پاتے ہیں۔

"In employing the method of anology it should always be possible to show that the resemblances noted bear relevance on the point to establish whereas the  difference are irrelevant (1/337)"

خان صاحب اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

"مذکورہ تنقید میں دو  واضح غلطیاں کی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ناقد نے اس علمی نکتہ کو ملحوظ نہیں رکھا کہ اس مثال میں حضرت اسماء کا نام صحابیہ کی حیثیت سے مراد نہیں ہے بلکہ دوسری دو خواتین کی طرح ان کا نام بھی یہاں ایک خانہ نشین خاتون کی حیثیت کے مراد ہے ۔ دوسری بات یہ کہ میری کتاب میں ان خواتین کا نام تنقید کے مقصد سے نہیں لایا گیا بلکہ ان کے تعریفی کارنامہ کی حیثیت سے لایا گیا ہے۔ مذکورہ ناقد نے اپنے ایک ذہنی تخیل کو شامل کرکے غیر ضروری طور پر اس کو قابل اعتراض بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح اُنہوں نے ایک تعریفی حوالہ کو خلاف واقعہ طور پر تنقیدی حوالہ بنادیا ہے ۔" (الرسالہ ، اپریل 2002ء، صفحہ 40-39)

خورشید صاحب کا موجودہ تنقیدی مضمون ماہنامہ اشراق کے شمارہ ستمبر  2001ء میں بھی شائع ہوا تھا۔ خان صاحب "پاکستانی ماہنامہ" کا ذکر کر کے در اصل اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ یہ خان صاحب کے ذاتی خیالات ہیں اور اس تنقید کا جواب ہے جو خورشید احمد ندیم نے صاحب پر کی ہے۔

کچھ ایسی قسم کی ہی تنقید کا مظاہرہ دیگر ناقدین نے بھی کیا ہے  جس میں محسن عثمانی ندوی کی کتاب "وحید الدین خان: علماء اور دانشوروں کی نظر میں"، محمد متین خالد کی "وحید الدین خان: اسلام دشمن شخصیت" اور مولانا عتیق احمد قاسمی کی "فکر کی غلطی" خاص طور پر شامل ہیں۔ تا ہم ان تمام تنقیدی کتب میں ایک جوہری اور اساس فرق یہ پایا جاتا ہے کہ خورشید احمد ندیم صاحب کی زبان علمی ہے اور انھوں نے پوری کوشش کی ہے کہ غیر علمی یا غیر اخلاقی زبان کا استعمال نہ کیا جائے جو بدقسمتی سے دیگر کتابوں میں پایا جاتا ہے ۔

 ایک دوسری جگہ پر خان صاحب صحابہ کرام پر تنقید کے حوالے سے اپنا مسلک یوں بیان کرتے ہیں:

"ایک صاحب نے کہا کہ آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل لغو بات ہے۔ صحابہ اور علماء کے درمیان کاما نہیں ہے، بلکہ فل سٹاپ ہے ۔ علماء پر تنقید کا ہر شخص کو حق  حاصل ہے مگر صحابہ رضی اللہ عنہم پر تنقید کا کسی کو حق نہیں ۔ اصحاب رسول ﷺ کا معاملہ ایک مخصوص معاملہ ہے، اس لئے صحابہ رضی اللہ عنہم مطلق طور پر تنقید سے مستثنیٰ ہیں"  (حکمت اسلام ، صفحہ 308) 

پھر اسی بات کو بڑے جزم و  وثوق کے ساتھ دہراتے ہوئے لکھتے ہیں:

"میں نے کبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید نہیں کی اور نہ بقید ہوش و حواس ایسا کر سکتا ہوں ۔" (حکمت اسلام ، صفحہ 308)

خورشید صاحب  کی تنقید کے جواب میں خان صاحب کا جواب ملا حظہ کیجئے، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کے معاملے میں خان صاحب کا جزم اور ان کی فکری حساسیت بھی دیکھ لیجئے جو اُن کے الفاظ سے چھلک رہی ہے ۔

خورشید صاحب کو اس چیز پر بہت پریشانی ہے کہ خان صاحب نے مولانا مودودی سمیت دیگر ملی رہنماؤں پر جس اسلوب میں تنقید کی ہے، وہ ہر شخص کی دل آزاری کا باعث ہےہ جو ان سے محبت رکھتا ہے۔ خورشید صاحب اسی کتاب میں لکھتے ہیں:

"غور کیجئے تو یہ بات خود ان کے فلسفہ دین سے متصادم ہے۔ اگر جنوبی ایشیا کے مسلمان ان کے مدعو ہیں تو کیا ان پر یہ الزام نہیں تھا کہ وہ ان کو اپنی بات کا مخاطب بناتے وقت ان کے جذبات کو بیش نظر رکھے۔ آج اس خطے کا کون سا مسلمان ایسا ہے جو شاہ ولی اللہ شیخ احمد سر ہندی ،سید احمد شہید، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی، علامہ محمد اقبال، مولانا مودودی، ٹیپو سلطان، محمد علی جناح جیسی تمام شخصیات یا ان میں بہت سے لوگوں سے تعلق خاطر نہیں رکھتا یا ان کی فکر اور اخلاص کا مداح نہیں ہے؟ جب آپ ان سب پر  ایسے اسلوب میں تنقید کریں گے جس سے ان کو جذبات کو ٹھیس پہنچے تو پھر یہ لوگ آپ کے مخاطب کیسے بن سکتے ہیں۔" (صفحہ نمبر 181)

خورشید صاحب مزید لکھتے ہیں:

"کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ مولانا وحید الدین کی تحریروں میں ایجابی پہلو غالب رہے " (صفحہ 83)

ہم دوبارہ خان صاحب کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ خورشید صاحب اس سارے مسئلے کو جس زاویے سے دیکھ رہے ہیں، خود خان صاحب اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔ اُن سے اسی قسم کا ایک سوال ایک قاری نے کیا۔ یہ سوال و جواب ملاحظہ کیجئے:

" ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ مسلم اکابر کو ہدف تنقید  کیوں بناتے ہیں؟ آپ اس کے بغیر بھی اپنی بات کہہ سکتے ہیں آپ جب مسلم اکابر کا نام لےکر ان کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو اس  سےقاری کے دل پر چوٹ لگتی ہے ، اس قسم کی تنقید کا فائدہ سمجھ میں نہیں آتا " (مولانا وحید الدین  خان ،سوال و جواب، صٖفحہ ، 11)

خان صاحب اپنی رائے یوں بیان کرتے ہیں:

"آپ کی یہ شکایت در اصل غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ اس قسم کی تحریروں کی بابت  یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں کچھ شخصیتوں کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے ۔ حالانکہ اصل بات یہ نہیں ہے اصل یہ ہے کہ میرا مقصد 20 ویں صدی کے ایک انوکھے ظاہرہ (Phenomenon) کی توجیہ ہوتا ہے۔ اس ظاہرہ کے ساتھ چونکہ بہت  سی شخصیتوں کے نام وابستہ ہیں، اس لئے ان کے نام حوالہ بھی ضمنا ان تحریروں میں آجاتا ہے۔ وہ انوکھا ظاہرہ یہ ہے کہ 20 وی صدی میں اسلام کے نام پر بہت بڑی بڑی کوششیں اور قربانیاں سامنے آئیں مگر ان کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ میں تاریخ اسلام کے اس انوکھے ظاہرہ کی توجیہ کرنا چاہتا ہوں ۔ اس میں ضمنی طور پر شخصیتوں کے نام بھی آجاتے ہیں۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو الزام دینا نہیں ہوتا بلکہ ایک تاریخی ظاہرہ کی توجیہ تلاش کرنا  ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ اگر اس فرق کو سامنے رکھ کر مطالعہ کریں تو آپ کو میری ان تحریروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی" (سوال و جواب ، صفحہ 11)

خان صاحب کے درج بالا الفاظ سے ان کا زاویہ نظر کُھل کر سامنے آ جاتا ہے، بشرطیکہ پڑھنے والی آنکھ بے تعصب ہو۔ خان صاحب بسیار نویس مصنف ہیں۔ ایک ہی موضوع پر مختلف پہلوؤں سے آراء کا اظہار کرتے ہیں، مختلف زاویوں سے ایک ہی موضوع کی فکری و تجزیاتی تحلیل کرتے ہیں۔ جب تک کسی موضوع سے متعلق خان صاحب کے  مختلف پہلوؤں، زاویوں اور   Vintage Points کو  نہ سمجھا جائے اور ان سب کو یکجا کرکے یک رنگی تصویر میں نہ ڈھالا جائے، اُس وقت تک ان کا پورا موقف واضح نہیں ہو سکتا۔

خورشید صاحب کے اس مضمون میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنھیں میں جاروبی بیانات (Sweeping Statement) پر محمول کرتا ہوں جس پر بہت کچھ کہنے اور لکھنے کی مزید ضرورت ہے۔  اختتام پر خان صاحب کے کچھ اور جملے بھی دیکھ لیجئے اور ان میں پنہاں خان صاحب کا پیغام بھی سمجھ لیجئے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

"میں نے کہا کہ گائے کی خوراک گھاس ہے  اور شیر کی خوراک گوشت، یہی معاملہ انسانوں کا ہے انسانوں میں بھی مختلف قسم کے لوگ ہیں اور الرسالہ بہرحال ہر ایک کی غذا نہیں بن سکتا ۔ الرسالہ صرف سنجیدہ اور حقیقت پسند لوگوں کی غذا ہے اور ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں اگر غیر سنجیدہ اور غیر حقیقت پسند  لوگ الرسالہ میں  اپنی غذا نہ پائیں۔" (ڈائری 84-1983، صفحہ 378)


آراء و افکار