مدارس میں تحقیقاتی معیار پر سوالیہ نشان

مولانا نفیس الحسن

بات ہو رہی تھی جدید تحقیقاتی دور میں مدارس کے کردار کے حوالے سے،  ایک ساتھی نے اپنے ایک استاد محترم کے کسی مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مضمون میں جدید فقہی ذخیرے میں  کتابوں اور مقالات کی اس لمبی فہرست میں مدرسے کے کسی فاضل کی کوئی قابل ذکر کاوش  نہیں ۔ سب عرب جامعات کے فضلاء اور ان کے پی ایچ ڈی یا ایم فل مقالات ہیں۔ ہمارے پاس  میدان تحقیق میں چند گنے چنے نام ہیں جن کا صر ف ہم تذکرہ ہی کر سکتے ہیں۔ ان کے نہج پر چل کر تحقیق کےتقاضے پورے کرتے ہوئے کوئی قابل ذکر خدمت انجام دینا اب تک صرف ایک آرزو ہی ہے۔اس بات میں مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے لیکن علمی انحطاط کو دیکھ کر یہ بات کچھ مستبعد بھی نہیں۔

حقیقت حال تو یہ ہے کہ جو طالب علم بغیر بین السطور یا حاشیے کی مدد سے کتا ب حل کر سکتا تھا آج اس کو بغیر اردو شروحات کے کتاب کا حل کرنا محال تصور ہونے لگا ہے۔ بلکہ اب تو  اردو شروحات کے مطالعے کی توفیق بھی چھن گئی  ہے اور امتحان کی راتوں میں دس سالوں پر اکتفا ہونے لگا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ کتاب سے رہا سہا تعلق بھی ختم ہو گیا،  اور انٹرنیٹ نے اس بے توفیقی اورکم ہمتی میں اور بھی اضافہ کر دیا۔ استاذ محترم مفتی رفیع عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث میں توقبض علم کا ذکر آیا ہے جبکہ دیکھنے میں آ رہا کہ علماء کی بہتات ہو گئی ہے۔ علماء طلبہ کی تعداد آئے روز بڑھ رہی ہے۔اور زمانہ بھی قرب قیامت کا ہے، تو پھر قبض علم ہوگا کیسے؟ استاجی فرمانے لگے کہ قبض علم کی یہی صورت ہوگیِ، علمی انحطاط، انحطاط اس درجے کا ہو جائے گا کہ عالم و جاہل کے درمیان بجز ظاہری علامات کے فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔ استادجی پھر ایک واقعہ سنانے لگے کہ ایک مرتبہ ہمارے والد صاحب کے ایک استادمولانا رسول خان صاحب دارالعلوم کراچی تشریف لائے تھے،  انہوں نے طلبہ کے مجمعے میں تقریر کی، وہ اردو بھی ٹھیک طرح سے بول نہیں سکتے تھے لیکن چند لمحوں کی تقریر میں انہوں نے علم و حکمت کے ایسے دریا بہہ رہے تھے کہ ہم ششدر رہ گئے۔ والد ماجد رحمہ اللہ نے ہماری حالت کا اندازہ لگا  کر پوچھا ؛ " کیسے رہے میرے استاد؟" استادجی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ایک وہ حضرات تھے جو ہم سے کچھ پہلے گزر گئے، ہمارے اکابر، جو علمی استعداد ان کی تھی وہ ہماری ہر گز نہیں۔ اب رفتہ رفتہ اسی استعداد میں بھی کمی آ رہی ہے۔ اب تو طالب علم سے عبارت بھی ٹھیک طرح سے نہیں پڑھی جاتی۔ یہ ہے در اصل قبض علم۔

ہر استاد، ادارے کے ہر منتظم کو اس بات کی فکر ہے،اور اپنے بس کے مطابق طلبہ کی استعداد میں بہتری کیلئے اقدامات بھی کر رہے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ اقدامات نا کافی لگتے ہیں۔ تو پھر عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہم کونسے ایسے اقدامات کر سکتے ہیں کہ علوم دینیہ اور ان میں اچھی  استعداد کی اولوی حیثیت بھی برقرار رہے، اکابر کی روایات پر حرف بھی نہ آئے اور ہم جدید تحقیقاتی دور میں ایک تحقیقی ذہنیت کی نمائندگی کرتے ہوئے سر اٹھانے کے قابل بھی ہو سکیں؟

پچھلے سال دارالعلوم زاہدان کے سادسہ کے ایک طالب علم کا مقالہ پڑھا۔ لگ نہیں رہا تھا کہ یہ کسی مدرسے کے ایک طالب علم کی کاوش ہے۔ ایم فل کا مقالہ لگ رہا تھا۔ غالبا کتاب النکاح میں جن فقہی قواعد کا صراحۃ یا ضمنا تذکرہ آگیا ہے ، انکی خارجی تطبیقات پر تھا۔ کئی ایسی کتابوں کا حوالہ دیا گیا تھا جن کا شاید سادسہ کا طالب علم نام بھی نہ جانتا ہو۔ جس ساتھی نے مقالہ دکھایا تھا، انہوں نے بتایا کہ دارالعلوم زاہدان کے ہر طالب علم نے اپنے تعلیمی درجے کے مستوی کے مطابق عربی زبان میں مقالہ لکھنا ہوتا ہے۔عشاء کا وقت جو عموما ہمارے مدارس میں تکرار کا وقت ہوتا ہے، وہاں کی نظم کے مطابق طلبہ نے لائبریری میں گزارنا ہوتا ہے۔ طالب علم جس کتاب کا، جس فن میں چاہے مطالعہ کر سکتا ہے۔ آخر میں مقالہ اپنے نگران استاذ سے منظور کروانا ہوتا ہے۔ہر درجے کا اپنا ایک مستوی  ہوتا ہے اور اسی کے مطابق موضوع اور مقدار کی تعیین کر دی جاتی ہے۔ دارالعلوم زاہدان کے کئی ساتھی بڑے درجات کے لیے دارالعلوم کراچی  آتے ہیں۔ ان کے مقالات پڑھنے کو ملے، ان سے گفتگو ہوئی۔ ان کے مطالعہ کی وسعت اور عربیت قابل رشک ہے۔ دارالعلوم کراچی میں دورے کے سال طالب علم نے لازمی طور پر 50 صفحے کا مقالہ لکھنا ہوتا ہے لیکن اساتذہ اپنی بے پناہ مصوفیات کی وجہ سے ہر طالب علم کا مقالہ پڑھ نہیں سکتے، طالب علم کے پاس مطالعے کے لیے اتنا وقت بھی نہیں ہوتا۔ کوئی نگران بھی نہیں ہوتا ۔ جس نے جو لکھ دیا اور جیسے لکھ دیا، مقررہ تاریخ کو بند کاپیاں دفتر میں پہنچا دی جاتی ہیں، پھر اللہ جانے ان مقالات کا کیا ہوتا ہے۔

ہمارے مدارس میں طلبہ کودرسی کتابوں کے مطالعے کے لیے اجتماعی نظم کے مطابق مطالعے کا اچھا خاصہ وقت دیا جاتا ہے۔ جس میں طلبہ کل کے درس کے لیے کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ معلومات اور مجہولات کی تمییز ہو جاتی ہے، کل کے سبق میں معلومات کا تکرار اور مجہولات معلومات میں بدل جاتے ہیں۔ طالب علم فن کی حد تک کتاب سے اچھی طرح واقفیت حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن خارج از کتاب تطبیق میں طالب علم بے بس ہو جاتا ہے۔بلکہ کبھی کبھی احساس کمتری کا شکار ہو جاتاہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر افتاد یہ ہوتی ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ غیر نصابی کتاب کے علاوہ بھی کوئی ایسی کتاب ہو سکتی ہے جہاں سے اس کی بے بسی قدرے دور ہو سکتی ہے۔ اگر اسے کسی کتاب کا پتہ ہوتا ہے تو نا دانستہ طور پر وہ خود کو اس اہل نہیں سمجھتا کہ اس کتاب کو پڑھ سمجھ سکے۔ شامیہ یا بحر الرائق  کو دورے  تک کے طلبہ مفتی ہی کیساتھ خاص کتاب سمجھ کر دیکھنا گوارا نہیں کریں گے۔ایسی ذہنیت کے ساتھ تحقیقی مزاج کا پیدا ہونا ایک خواب ہی ہو سکتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہر مدرسے میں مکتبہ ہوتا تو ضرور ہے لیکن اکثر طور پر وہ صرف نمائش کی حد تک ہوتا ہے۔مکتبے میں مطالعے کے لیے طالب علم کو عموما وہ وقت عنایت ہوتا ہے جو آرام یا کھیل کود کا ہوتا ہے۔ اس بابت ارباب مدارس کے سامنے کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں۔ امید ہے کہ اپنے طویل تعلیمی و تربیتی تجربے کی بنیاد پر ان کو زیر غور لے آئیں گے۔ اور اگر گنجائش ہوئی تو کوئی مناسب اقدام بھی ضرور اٹھائیں گے۔

ہر طالب علم سے مقالہ لکھوانا اگر چہ مشکل ہے۔ مدارس میں آنے والے طلبہ ایک جیسی استعداد کے نہیں ہوتے۔ لیکن ان کو ان کی استعداد اور مستوی کے مطابق مطالعے اور اپنے مطالعے کا خلاصہ پیش کرنے کا  مکلف بنایا جا سکتا ہے۔پہلے مرحلے میں وہ  سناتے ہوئےجھجک بھی محسوس کرے گا۔ مطالعے میں دشواری پیش آنے کا شکوہ بھی کرے گا۔ لیکن مطالعے سے وہ کسی طرح مانوس ہو جائے تو پھر اس کو فن سے متعلق خارج از نصاب کتاب  سے کوئی جگہ مطالعے کرنے کا مکلف بنا یا جائے۔ مثلا نحو میں تقدیم خبر کی  بحث  جب وہ ہدایۃ النحو میں اپنے مطالعے سے کسی قدر سمجھ جائے اور استاد کو اطمینان ہو،  تو اس کو جدید قدیم نحو کی کتابوں میں سے کسی کتاب کا کہہ کر اس بحث کو مزید نکھار کر لکھنے اور اگر یہ صلاحیت نہ ہو تو کم از کم اپنے الفاظ میں خلاصہ سنانے کا مکلف بنایا جائے۔ قدوری کیساتھ اللباب اور الجوہرۃ النیرۃ ،کنز کیساتھ تبیین الحقائق اور البحر الرائق، شرح الوقایہ کیساتھ بدائع الصنائع، مبسوط للسرخسی اور بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ اور ہدایہ کے ساتھ فتح القدیر اور جدید مسائل پر لکھے گئے مقالات و رسائل سے طالب علم کی مناسبت ضرور ہونی چاہیے، کم سے کم کتاب کے انداز اور اسلوب اور مصنف کے مزاج سے اتنی واقفیت ہو کہ کل کو کسی مسئلے میں آسانی سے اس کتاب کی مراجعت کر سکتا ہو۔

فقہ کا ذکر بطور مثال ہوا۔ ہر فن میں استاذ طالب علم کے ذوق کو دیکھتے ہوئے متعلقہ کتابوں کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ طالب علم سے ان کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کرایا جائے، بلکہ ہفتے میں ایک سوال ایسا پوچھا جائے جس کا جواب انہی کتابوں سے ملے یا ان کتابوں میں سے کسی کتاب سے کوئی بحث پڑھنے کو اور اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھنے کا کہا جائے ۔پھر دو سالوں میں طالب علم کے مستوی کی رعایت رکھتے ہوئے اسے ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کا ادارے کی طرف سے مکلف بنایا جائے۔ مثلا ثانیہ کا طالب علم بیس صفحے، رابعہ کا تیس سے پینتیس سادسہ کا پچاس اور دورے کا ساٹھ صفحےپر مشتمل عربی  مقالہ جس بھی فن میں لکھنا چاہیے، موضوع ادارے کی طرف سے مقرر اپنے نگران استاد سے منظور کرا کر لکھ لے۔ ساٹھ صفحات لکھ کر تحقیق کا کوئی معرکہ سر ہوسکے، مشکل ہے۔ لیکن جس طالب علم نے آٹھ سال پڑھنے کے بعد تحقیقی مقالہ لکھنے کا فن ٹھوکریں کھا کھا  کے یونیورسٹی میں جا کر سیکھنا ہوتا ہے وہ مدرسےمیں ہی سیکھ جائےگا۔ مدرسے میں رہ کر وہ اس اہل ہوگا کہ کسی مجمع کے لیے کوئی تحقیقی مقالہ لکھ سکے یا  کسی علمی مجلس میں شرکت کر سکے۔

اس کے لیے بنیادی ضرورت اس بات کی ہےکہ طالب علم کو تفریح اور آرام کے علاوہ کے اوقات میں کم از کم دو گھنٹے  لائبریری میں بیٹھنے کا مکلف بنایا جائے اور اگر اس سے زیادہ کی اس کو ضرورت ہو تو ادارے کی طرف سے اس کا بھی انتظام کیا جائے۔مطالعہ میں اردو شروحات پر سخت پابندی لگائی جائے اور طالب علم کے مطالعے میں کسی طرح خلل پڑنے نہ پائے۔ موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال پر اس کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اگر ضرورت ہو تو آدھا گھنٹہ سے زیادہ کی اجازت نہ دی جائے، اور بھی کسی بڑے استاذ کے زیر نگرانی۔ جن اداروں نے  طلبہ کو انٹرنیٹ کے استعمال کی کھلی چھوٹ دے  رکھی ہے وہاں سرچ اور ریسرچ کے نام پر علم کا جنازہ نکل رہا ہے۔لائبریری میں ہر وہ کتاب مہیا ہو جس سے طالب علم اپنے مستوی کے مطابق استفادہ کر سکتا ہے۔ ہر وہ کتاب یا رسالہ جس سے اس کے وقت کا ضیاع ہوتا ہو جیسے اردو  ڈائجسٹ، اخبار وغیرہ ہر گز نہ رکھے جائیں۔ مطالعے میں طالب علم کو آزاد چھوڑ دیا جائے۔دارالعلوم  کراچی جا کر جو پہلا احساس ہوا تھا وہ یہی تھا کہ مطالعے میں طالب علم پر کوئی قدغن نہ تھا۔ ایسے بھی طلبہ دیکھے جنہوں نے سادسہ تک بینکنک پر لکھی گئی شیخ الاسلام صاحب کی تقریبا سب کتابوں کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔ ایسے بھی ساتھی ملے جنہوں نے منفلوطی اور طنطاوی کی کئی کتابیں چاٹ ڈالی تھیں، جبکہ ہم نے ان کا صرف نام ہی سنا تھا۔جغرافیہ، طب، قانون کا مطالعہ کرنے والے ساتھی بھی ملے ۔

زمانہ طالب علمی ہی میں علمی مزاج تشکیل پاتا ہے۔ اگر ایک طالب علم درسی کتابوں کے علاوہ کوئی کتاب اٹھانے میں جھجکتا ہو، تو وہ انہی کتابوں میں محدود ہو کر رہ جاتا ہے جو اس نے پڑھی ہوئی ہیں۔حالانکہ ایسے بھی طلبہ ہوتے ہیں جو درسی کتابیں بغیر کسی شرح کی مدد سے امتحان کی راتوں میں حاشیےسمیت حل کر لیتے ہیں۔ایسے ایک طالب علم سے میں واقف ہوں جو مطالعہ امتحان کی راتوں پہ چھوڑ جاتا اور مطالعے کے مقررہ وقت  میں خارجی مطالعہ یا پھر شاعری اور مقالہ نگاری میں وقت صرف کرتا تھا۔  ایسے طلبہ کی تعداد کسی بھی ادارے میں کوئی کم نہیں ہوتی۔ ان کو درسی کتابوں میں محدود رکھنا ان کی صلاحیتیں ضائع کرنے کے مترادف ہے۔  ان کو مطالعہ میں تنوع اور وسعت پیدا کرنے کا موقع بہر صورت دینا چاہیے۔ایک کتاب میں کہیں پڑھا تھا کہ ذہن ایسی چیز ہے کہ جو ہر وقت مصروف عمل ہوتا ہے، یہاں تک کہ سوتے ہوئے بھی ذہن کسی نہ کسی درجے میں مصروف رہتا ہے۔ ذہن سستانے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ ہے تفنن۔ اگر ایک کتاب پڑھتے ہوئے اکتاہٹ محسوس ہو تو دوسری کتاب دیکھی جائے۔ایسے طلبہ کی رہنمائی کی اور بھی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ کئی ایسے تشنہ مواضیع ہیں جن پر ابھی کام باقی ہے۔ کئی ایسے مباحث ہیں جن کو جدید اسلوب سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ غزو فکری اور تقابل ادیان جیسا اہم موضوع ہے، اصول حدیث، فقہی قواعد، تفسیر پر کئی پہلو سے کام ہو سکتا ہے، ترجمہ و تعریب کا فن نا گزیر ہے۔ ایسے طلبہ کی صلاحیتوں کو ان جیسے کئی عظیم کاموں میں لگایا جا  سکتا ہے۔

اسی طرح اکابر سے مناسبت اور ان کےساتھ وابستگی جو اس زمانے کے فتنوں کے سامنے ایک ڈھال ہے، صرف  عقیدت کی حد تک رہ گئی ہے۔ ان کے علمی کام سے واقفیت بھی سنی سنائی باتوں کی حد تک ہے۔ علماء دیوبند کی پہچان جو باہر دنیا میں علم حدیث کی مناسبت سے ہوئی تھی، آج ان کے نام لیوا حدیث کو صرف فقہی مباحث کی حد تک ہی جانتے ہیں۔  بہت ہی کم طلبہ ہوں گے جو کشمیری صاحب کا علمی مقام فیض الباری یا حضرت بنوری صاحب کی معارف السنن پڑھ کر جانتے ہوں۔ حضرت سہارنپوری کی بذل المجہود، حضرت شیخ الحدیث صاحب کی اوجز المسالک،اور حضرت الاستاذ شیخ الاسلام صاحب کا تکملہ فتح الملہم  پڑھ کر روایت و درایت اور ان سے متعلقہ علوم میں ان کی امامت سے واقف ہوں۔ کشمیری صاحب کے متعلق علامہ کوثری صاحب  نے فرمایا تھا کہ ابن ہمام کا کوئی ثانی ہے تو وہ علامہ کشمیری ہیں۔ علامہ ابو غدہ ان کو امام العصر لکھتے ہیں اور چھ بڑے فقہاء میں سے ان کا بڑا جامع تذکرہ کیا ہے۔  معارف السنن میں حضرت بنوری نے جس طرح  اپنے استاذ کے علوم کو جمع کیا اگر اس کا کوئی ایک باب بھی مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ حدیث نبوی کے مزاج سے علامہ کشمیری کتنی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ فقہ، رجال اور اصول میں ان کی مجتہدانہ بصیرت تھی۔ ایک طالب علم اپنے ایسے اکابر سے علمی مناسبت پیدا نہ کر سکے تو اس کو کیا حق بنتا ہےکہ وہ آٹھ سال گزار کر  انہی اکابر سے عقیدت کے نرے دعوے  کرتا رہے۔

آخری بات کہ طالب علم کو تجزیوں اور تبصروں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے علمی اور تحقیقی مزاج میں پختہ تر کر دیا جائے۔البتہ فقہ السیرۃ ، تاریخ ،  لغۃ الاعلام ، معاصر علوم جیسے طب وغیرہ کی  اصطلاحات اور ان کا تعارف،جغرافیہ ، اور الغزو الفکری  ثانوی حیثیت میں اس کو ضرور پڑھائے جائیں۔ عربی میں جتنی بھی جدید تحقیقات لکھی جاتی ہیں ان کی زبان ہماری روایتی کتابوں سے مختلف ہوتی ہے، جس کی وجہ سے طالب علم کو کافی دشواری ہوتی ہے۔ اسی طرح الحاد اورفتنوں کے ہرکارے مختف روپ دھارے  پھیلے ہوئے ہیں۔ ان  فتنوں کی سرکوبی اہل مدارس جو عظیم روایات کے امین ہیں، ہی بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔ قائدانہ کردار اگر کسی نے خوش اسلوبی سے ادا کرنا ہے تو وہ یہی بوریاں نشین ہی ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ مواد اس بابت کافی حد تک ممد ثابت ہو سکتا ہے۔

مدارس کےمحدود  وسائل میں ان تجاویز پر عمل کرنا کوئی  مشکل نہیں، نہ ہی  ان میں کوئی ایسی بات ہے کہ اکابر اور روایات کے ٹوٹنے کا عذر پیش کر کے ٹالی جا سکے۔ ارباب مدارس کو سنجیدگی سے ان تجاویز پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مدارس کے روشن علمی مستقبل کے لیے سنجیدہ کوشش ہی "علم اور اپنے اسلاف" سے اصل وفاداری ہے۔


تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(اکتوبر ۲۰۲۰ء)

Flag Counter