لبرل ازم اور جمہوریت کی ناکامی کی بحث

محمد عمار خان ناصر

اسرائیلی مصنف یوول نوآہ حراری کی کتاب Twenty one Lessons for the 21st Century  کا بنیادی موضوع فری مارکیٹ اکانومی اور لبرل ڈیموکریسی کو درپیش انتظامی واخلاقی چیلنجز کی وضاحت ہے۔ حراری کے خیال میں یہ نظام جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے قطعا ناکافی ہیں۔ اختتام تاریخ کا مرحلہ مزید موخر ہو گیا ہے اور انسانی تہذیب ایک بارپھر ’’اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو” جیسی صورت حال سے دوچار ہے۔

کتاب کے انٹروڈکشن میں، حراری نے اس کشمکش کا ذکر کیا ہے جس میں وہ اس تنقید کو سپرد قلم کرنے کے حوالے سے مبتلا رہے۔ حراری لکھتے ہیں:

’’بدقسمتی سے، موجودہ سیاسی فضا میں لبرل ازم اور جمہوریت کے متعلق کسی بھی تنقیدی فکر کے متعلق غالب امکان ہے کہ استبداد پسند عناصر اور مختلف غیر لبرل تحریکات اس تنقید کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کریں گی جن کا مفاد صرف اس میں ہے کہ لبرل ڈیموکریسی کو بے وقعت ثابت کیا جائے، جبکہ انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے کسی کھلے مباحثہ میں شریک نہ ہوا جائے۔ یہ طبقے لبرل ڈیموکریسی کے مسائل کے بارے میں تو بہت خوشی سے بحث کرتے ہیں، لیکن خود اپنے نظریات پر کسی قسم کی تنقید کو گوارا کرنے کا حوصلہ بالکل نہیں رکھتے۔

بطور ایک مصنف کے، مجھے ایک مشکل انتخاب کرنا تھا۔ کیا مجھے اپنے خیالات کا اظہار کھل کر کر دینا چاہیے اور یہ خطرہ مول لینا چاہیے کہ میرے الفاظ کو سیاق وسباق سے کاٹ کر دن بدن قوت پاتے ہوئے استبداد پسند نظریات کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے؟ یا پھر یہ کہ میں خود پر سنسر عائد کروں؟ یہ تو غیر لبرل حکومتوں کی نشانی ہے کہ وہ آزادی اظہار کو اپنے حدود اقتدار سے باہر اور بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔ اس طرح کی حکومتوں کی وسعت پذیری کی وجہ سے ہمارے لیے نوع انسانی کے مستقبل کے متعلق تنقیدی فکر سے کام لینا دن بدن زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

اپنے احساسات وکیفیات کا کچھ جائزہ لینے کے بعد میں نے خود پر سنسر عائد کرنے کے مقابلے میں کھلی بحث کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لبرل ماڈل پر تنقید کے بغیر ہم نہ اس کی غلطیوں کی تصحیح کر سکتے ہیں اور نہ اس سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔” (21 Lessons, xiv, xv)

حراری کا یہ تبصرہ، اسلامی فکر کے وابستگان کے لیے بھی غور وفکر کا سامان مہیا کرتا ہے۔ انسانی تہذیب اور تمدن کے ارتقا کی تفہیم کے ضمن میں روایتی مسلم فکر کے پاس بنیادی حوالہ ابن خلدون اور شاہ ولی اللہ کے تاریخی وعمرانی نظریات ہیں۔ یہ دونوں مفکرین سلطنتوں کے زمانے سے تعلق رکھتے تھے اور اسی تناظر میں بادشاہت اور سلطنت کو سیاسی واقتصادی بندوبست کا نقطہ عروج تصور کرتے تھے۔ ان کے لیے اختتام تاریخ خلافت تھی، جیسے فوکویاما وغیرہ مغربی مفکرین کے لیے لبرل ڈیموکریسی ہے۔ شاہ صاحب کے فریم ورک میں تمدن کا ارتقا چار مراحل سے عبارت ہے جسے وہ ارتفاقات سے تعبیر کرتے ہیں۔ چوتھا ارتفاق خلافت وامامت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اس مرحلے میں آخری نبوت کا ظہور، شاہ صاحب کے فریم ورک میں، گویا خلافت کے سسٹم کو مذہبی لحاظ سے اختتام تاریخ بنا دیتا ہے۔

یہ فریم ورک، جیسا کہ ظاہر ہے، صنعتی انقلاب کے بعد کی تاریخی وتہذیبی تبدیلیوں کی تفہیم کے لیے اپنے اندر کوئی بنیاد نہیں رکھتے۔ مسلم تصور تہذیب میں ایمپائر (یعنی خلافت) اور اسلام کا کفر پر سیاسی غلبہ (یعنی دار الاسلام بمقابلہ دار الحرب) بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ابن خلدون اور شاہ ولی اللہ کے فریم ورک انھی پر مبنی ہیں۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں مغربی اقوام کے عالمی تسلط نے دنیا کے سیاسی ومعاشی نظام کو جو صورت دی ہے، اس میں خلافت اور دار الاسلام کے کلاسیکی تصورات عملا غیر متعلق ہو گئے ہیں، تاہم روایتی مسلم فکر چونکہ عموما چوتھے ارتفاق کے بعد کسی پانچویں یا چھٹے ارتفاق کا تصور ہی نہیں رکھتی، (اس میں متحدہ ہندوستان کے قوم پرست مفکرین، خصوصا مولانا عبید اللہ سندھی ایک استثنا ہیں) اس لیے ان تبدیلیوں کی تفہیم بنیادی طورپر رد عمل، انکار اور تردید کے ذہنی رویے میں کی جاتی ہے اور گویا انھیں ارتقا کے اگلے مرحلے کے بجائے غلط سمت میں انحراف کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان سارے سسٹمز کی تشکیل، ترمیم وتغییر اور اصلاح کی پوری بحث میں مسلم فکر کا کوئی کردار نہیں، اور وہ صرف ایک شکست خوردہ حریف کے طور پر ان کی ان خرابیوں اور ناکامیوں کو گنوانے پر ہی مطمئن ہے جو خود اس کی اپنی تحقیق کا نتیجہ نہیں، بلکہ مغربی ڈسکورسز سے ہی مستعار ہے۔

حراری کا تبصرہ ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ کیا مروج سیاسی ومعاشی نظاموں کی خرابیوں اور کمزوریوں پر، جو بلاشبہ حقیقتا موجود ہیں، خوش ہونے سے آگے بڑھ کر کیا مسلم فکر ایک ایسی دنیا کی تشکیل میں کوئی تعمیری حصہ ڈال سکتی ہے جو چوتھے ارتفاق سے آگے بڑھ چکی ہے؟

غزوہ ہند کی پیشین گوئی

بھارتی حکومت کی طرف سے ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اقدام کے تناظر میں گزشتہ دنوں بعض ٹاک شوز میں غزوہ ہند پھر زیربحث رہا اور  حسب معمول یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ    یہ پیشین گوئی  گویا تاریخ میں ابھی تک تشنہ تعبیر ہے اور   اسے حقیقت میں بدلنے کا وقت گویا آ پہنچا ہے۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ  جب حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی تو مسلمان ابھی عرب کی حدود سے باہر نہیں نکلے تھے۔ اس وقت انھیں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ روم، فارس، مصر وغیرہ کے علاوہ مسلمان ’’ہند ” کے علاقے پر بھی حملہ کریں گے۔ اس وقت کی جغرافیائی اصطلاح کے لحاظ  موجودہ افغانستان کا کچھ حصہ، پاکستان اور ہندوستان کا سارا علاقہ ’’ہند ” کہلاتا تھا۔ یہ پیشین گوئی  تاریخ اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں  پوری ہو چکی ہے، چنانچہ علامہ ابن کثیر نے ’’البدایۃ والنہایۃ” (طبع دار ہجر، ۱۴۱۸ھ بتحقیق الدکتور عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی) کی نویں جلد میں ’’دلائل النبوۃ” کے تحت جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر متعدد پیشین گوئیوں کا ذکر کیا ہے جو تاریخ میں سچی ثابت ہوئیں اور یوں آپ کی نبوت کی دلیل ہیں، اسی طرح غزوۃ الہند کی حدیث کا بھی ذکر کیا اور اس کی صداقت کے طور پر سیدنا معاویہ کے دور میں ہندوستان کی طرف بھیجے جانے والے لشکر اور اس کے بعد خاص طور پر محمود غزنوی کے حملوں کا حوالہ دیا ہے۔

غزوۃ الہند سے متعلق مروی احادیث کا اسنادی جائزہ لیا جائے تو ان میں سے ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سندا صحیح ہے، جبکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث کے طرق کمزور ہیں۔ خاص طور پر ایک طریق جس میں ذکر ہے کہ ہندوستان سے کامیاب لوٹنے والا لشکر وہاں سے شام جائے گا اور اس کی ملاقات حضرت مسیح علیہ السلام سے ہوگی، محدثانہ معیار کے لحاظ سے بالکل ناقابل اعتبار ہے، کیونکہ اس میں حضرت ابو ہریرہ سے اس کو نقل کرنے والا ایک ’’شیخ ” مجہول ہے، یعنی اس کے نام اور اوصاف کا کچھ پتہ نہیں۔ بعض اہل علم نے اسی طریق کی روشنی میں یہ لکھا ہے کہ ’’اگر یہ حدیث صحیح ہو” (ان صح الحدیث بذالک) تو پھر یہ پیشین گوئی ابھی پوری نہیں ہوئی، بلکہ نزول مسیح کے زمانے میں پوری ہوگی۔ ہمارے ہاں بعض  قصہ گو حضرات اس واہی روایت کی محدثانہ حیثیت اور ’’اگر صحیح ہو” کو نظر انداز کر کے اس پر ایک نئے جہادی بیانیے کی عمارت کھڑی کرنا چاہ رہے ہیں۔

عبایہ کی بحث

گزشتہ دنوں خیبر پختون خوا کی ایک ضلعی حکومت کی طرف سے  جاری کی گئی ہدایات میں اسکول کی طالبات کے لیے عبایا پہننے کو لازم قرار دیا گیا، لیکن عملی تنفیذ کے بغیر ہی  عوامی رد عمل  پر اس حکم کو واپس لے لیا گیا۔  اس پر  حسب توقع وحسب معمول  لبرل اور مذہبی حلقوں کے مابین  سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی۔  لبرل حضرات نے اسے سماجی آزادیوں کے منافی اقدام قرار دیا اور حکومت کے لیے  انفرادی آزادیوں میں  مداخلت  کو غیر جمہوری طریقہ قرار دیا، جبکہ مذہب  پسند حلقوں  کی طرف سے  پردہ سے متعلق مروج فقہی تصورات کے تناظر   میں  اس کا خیر مقدم اور ہدایات کی منسوخی کو قابل افسوس قرار دیا گیا۔

اہل مذہب  کا  موقف بنیادی طور پر لبرل حضرات کے  عمومی رویے کا ایک رد عمل تھا جو فرانس کی حکومت کی طرف سے حجاب پر پابندی کو تو بالکل درست سمجھتے ہیں، کیونکہ فرانسیسی معاشرے کو اپنا سیکولر تشخص محفوظ رکھنے کا حق ہے، لیکن کوئی مسلمان حکومت اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے عبایا وغیرہ کو لازم کرنا چاہے تو یہ ان کے نزدیک درست نہیں، کیونکہ یہ سماجی آزادیوں کے منافی ہے۔ یہ عمومی رویہ  اس التباس کی قلعی کھول دیتا ہے کہ سیکولرزم یا لبرل ازم ایک ’’نیوٹرل ” پوزیشن رکھتے ہیں اور  فرد کو مطلقا سماج کے جبر سے محفوظ رکھنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم اور لبرل ازم بذات خود اقداری تصورات ہیں اور لبرل اہل دانش اقداری بنیادوں پر ہی کسی اقدام کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

تاریخی لحاظ سے بھی سیکولرزم صرف ایک ’’انتظامی ” بندوبست نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے ہاں عموما سیکولر دانش ور سمجھتے یا باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ واضح طور پر ایک ’’اقداری ” مسئلہ ہے۔ سماجی اور سیاسی تصورات تاریخ میں مختلف تبدیلیوں سے گزرتے ہیں اور فکری بحث میں ان تبدیلیوں کے ساتھ رہنا لازم ہے۔ مغرب میں کلیسا اور ریاست کی علیحدگی کا آغاز یقینا ایک انتظامی بندوبست کے طور پر، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کی طویل باہمی قتل وغارت کے تناظر میں، ہوا تھا، لیکن مغرب میں تاریخ سترھویں صدی میں کھڑی نہیں ہے۔ مغربی فکر میں جوہری نوعیت کی تبدیلیاں روشن خیالی کی تحریک نے پیدا کی ہیں اور اس سے پہلے چار پانچ سو سال میں آنے والی تمام فکری، مذہبی، تمدنی اور سیاسی تبدیلیوں کو ایک نیا فکری قالب دیا ہے۔ مغربی سیاسی فکر میں سیکولرزم کی بحث اپنی موجودہ وضع میں ’’چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی” کے سوال سے بہت آگے بڑھ چکی ہے اور مذہب کے بارے میں باقاعدہ ایک فکری پوزیشن پر مبنی ہے۔اس حوالے سے معاصر جرمن سوشیالوجسٹ ہیبرماس کے بعض نظریات کے حوالے سے جو رد وقدح اس وقت مغربی اکیڈمی میں ہو رہی ہے، وہ بہت قابل توجہ ہے۔ ہیبرماس نے نائن الیون کے بعد صورت حال کا نیا جائزہ لیتے ہوئے اپنے بعض پرانے خیالات پر نظر ثانی کی ہے اور public sphere میں، کئی طرح کی تحدیدات وشرائط کے ساتھ، مذہبی مواقف کی گنجائش تسلیم کرنے کی ضرورت واضح کی ہے۔ اس پر مغرب میں سیکولر فکر جو سوالات اٹھا رہی ہے، وہ ہمارے ہاں کے حضرات کے لیے بہت چشم کشا ہے۔

اس تناظر میں مذہبی طبقات نے عموما جو پوزیشن اختیار کی، وہ قابل فہم ہے اور جناب مولانا محمد تقی عثمانی جیسے صاحب علم کی طرف سے اس مسئلے پر ایک ’’عوامی ” انداز کی ٹویٹ کی بھی ہمارے ذہن میں یہی توجیہ آتی ہے۔ البتہ اس مسئلے کو خود دینی نظام فکر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے جو اصل ہے۔ ضروری نہیں کہ لبرل حضرات اپنے تصورات کے تحت کسی بات پر تنقید کریں تو ان کے رد عمل میں اس بات کی تائید کرنا ہی دین کا تقاضا ہو۔ دینی فریم ورک میں چیزوں کو دیکھنے کا اپنا ایک مستقل طریقہ ہے، اسے ردعمل میں چھوڑ نہیں دینا چاہیے۔

ہمارے خیال میں اس انداز سے عبایا وغیرہ کو قانونا لازم قرار دینا بہت سے دینی اصولوں کی عدم رعایت پر مبنی اقدام تھا اور اسے واپس ہی لیا جانا چاہیے تھا۔ بعض اہل قلم نے اس کو یونیفارم وغیرہ پر قیاس کیا  جس کی پابندی حکومت یا کوئی بھی ادارہ اپنے دائرے میں  لازم کر سکتا ہے۔ لیکن یہ قیاس اس لیے درست نہیں کہ یونیفارم محض ایک انتظامی نوعیت کی پابندی ہے جس میں دینی پہلو شامل نہیں ہے اور اسی لیے اسے قبول کرنے میں کسی کو کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ عبایا کا تعلق ایک دینی وفقہی حکم سے بنتا ہے اور اس میں اجتہادی وثقافتی اختلافات کی رعایت خود دینی لحاظ سے ضروری ہے۔ ویسے بھی اس نوعیت کے مسائل میں عمومی معاشرتی قبولیت کا ماحول پیدا کیے بغیر محض قانونی اقدامات سے سماجی تشخص پیدا نہیں کیا جا سکتا اور ایسی کوششیں معکوس نتائج کا موجب بنتی ہیں۔

حالات و مشاہدات