امام طحاوی کا مقدمہ احکام القرآن

مولانا محمد رفیق شنواری

امام ابو جعفر الطحاوی /مترجم: محمد رفیق شنواری

شریعت کے احکام کا ماخذ و مصدر قرآن و سنت ہیں۔ عام طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ قرآنِ کریم احکام کا سب سے اعلی و برتر اور تنہاماخذ ہے۔ پھر اس مفروضے کا تمام مسائل پر  یکساں اطلاق کردیاجاتا ہے۔ حالانکہ فقہا اور اصولیین اس بارے میں مختلف رجحانات رکھتے ہیں۔ اور ہر ایک کے یہاں ایک مستقل موقف ، جو فروع اور احکامِ شریعت پر دور رس فقہی و قانونی اثرات مرتب کرتا ہے، پایاجاتاہے۔ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر گذشتہ کئی ماہ سے قارئین کی خدمت میں قرآن و سنت کے درمیان تعلق کے حوالے سے اس مؤقر جریدہ کے ایڈیٹر مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر ایک مکمل پروجیکٹ کے تیار کردہ نتائجِ فکر پیش کر رہے ہیں۔ ابھی تک کئی اقساط آ چکی ہیں،او رمکمل ہونے کے بعد مستقل کتابی صورت میں بھی ان شاء اللہ پیش کی جائیں گی۔ حنفی موقف کی بہترین ترجمانی اصول کی کتابوں کے علاوہ اور مختصر انداز میں امام طحاوی کی ’’احكام القرآن‘‘کے مقدمہ بھی میں کی گئی ہے۔ اس کی اہمیت، اختصٓر اور جامعیت کے پیش نظر راقم نے استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ، ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے حکم کی تعمیل میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ امید ہے زیر بحث مسئلے پر غور وخوض کے دوران یہ شذرہ بھی معان ثابت ہو۔ (مترجم)

تمام  تعریفیں اس خدا کےلیے جس نے ہمارے لیے اپنا برہان واضح کیا ، اپنا فرقان بیان کیا، اپنے نبی ﷺپرعربی مبین میں نازل کردہ کتاب قرآن کریم کے نور کی ہدایت نصیب کیاور اسی کو صراطِ مستقیم بتلایا، جس ذات نے اس کتاب کو دیگر انبیائے کرام  علیہم السلام پر نازل ہونے والی  گذشتہ آسمانی کتب  کےلیے نگہبان (معیار)  قرار دیا۔

قرآن کے ساتھ ساتھ سنت کی اتباع بھی لازم ہے؛ قرآن سے استشہاد

اللہ تعالی نے نبی ﷺ  پر اپنی نازل کردہ کتاب میں فرمایا ہے:

﴿ھوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْہ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ ھنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِھاتٌ ۖ﴾

ترجمہ: ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے۔ جس کی کچھ آیتیں محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے ، اور کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔‘‘1

اس آیت کے اندر اللہ تعالی نے ہمیں یہ بات ارشادفرمائی  ہے کہ اس کتاب کے اندر کچھ آیتیں محکم ہیں جن کو نزول کی حکمت کے ساتھ ساتھ تاویل کے ذریعے بھی محکم بنا دیا، اور انہی آیتوں پر اس کتاب کی اصل قائم ہے۔ اسی طرح اس کتاب کے اندر کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے متشابہ آیات کے پیچھے پڑنے والوں کی مذمت کی ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِھمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہ مِنْہ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَۃ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِہ﴾

ترجمہ: ’’جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہےوہ ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریںاور ان آیتوں کی تاویلات تلاش کریں۔‘‘2

کیوں کہ متشابہ آیتوں کا حکم قرآن کریم کی اصل ،یعنی محکم آیتوں،  سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر زبانِ رسالت پر جاری ہونے والے کچھ احکام ایسے بھی ہیں جو قرآنِ کریم کی متشابہات کی توضیح و تبیین ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ تعالی کا حکم یہ ہے کہ ان کو ایسے ہی قبول کیا جائے گا جیسے قرآنِ کریم قبول کو کرنے کا حکم ہے۔ چناں چہ فرمایا:

﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہ وَمَا نَھاكُمْ عَنْہ فَانتَھوا ۚ وَاتَّقُوااللَّہ  ۖإِنَّ اللَّہ شَدِيدُالْعِقَابِ﴾

ترجمہ: ’’اور رسول جو کچھ تمہیں دے اس کو لے لواور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔‘‘3

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّہ﴾

ترجمہ: ’’اور ہم نے کسی رسول کو اس کے سوا کسی اور مقصد  کےلیے نہیں بھیجا کہ اللہ کےحکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘4

ایک اور جگہ فرمایا:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہ لِيُبَيِّنَ لَھمْ﴾

ترجمہ: ’’اور جب بھی ہم نے کوئی رسول بھیجا، خود اس کی قوم کی زبان میں بھیجا ، تاکہ وہ ان کے سامنےحق کو اچھی طرح واضح کرے۔‘‘5

ان آیات کی روشنی میں ہم پرزبانِ رسالت سے ادا ہونے والے احکام کی اطاعت ایسی ہی واجب ہے جیسے اس زبانِ مبارک پر تلاوت کیا جانے والا قرآن  تسلیم کرنا واجب ہے۔

قرآن کے ساتھ ساتھ  اتباع سنت  کے التزام  احادیث کی تصریحات

    1. نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے  کہ ’’میں تم میں سے ہرگز کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرےاحکام میں سے کوئی حکم آئے جن کا میں نے حکم دیا ہے یا میں نے جن سے روکا ہے ، اور وہ کہے کہ میں یہ نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو پایا بس اسی کی پیروی کی ہے‘‘۔

    2. عبیداللہ بن ابی رافع  نےرسول اللہ ﷺ  کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ’’میں اس شخص کو جانتا ہوں  جو اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس میرا کوئی فیصلہ  آئے گا جس میں مَیں نے کسی چیز کا حکم دیا ہوگا یا میں نے کسی چیز سے منع کیا ہوگا۔ وہ کہے گا کہ ہم اس کو نہیں جانتے، ہمارے پاس تو اللہ کی کتاب ہے اور اس کے اندر اس فیصلے کا  ذکر نہیں‘‘۔

    3. ایک دوسری سند کے ذریعے، الفاظ کے اختلاف کے ساتھ،  ابورافع سے رسول اللہ ﷺ  کا یہ ارشاد کچھ یوں منقول  ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ ’’میں اس شخص کو جانتا ہوں  جو اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس میرا کوئی فیصلہ  آئے گا جس میں میں نے کسی چیز کا حکم دیا ہوگا یا میں نے کسی چیز سے منع کیا ہوگا۔ وہ کہے گا کہ ہم جو چیز اللہ کی کتاب میں دیکھیں گے اس پر عمل کریں گے ورنہ نہیں‘‘۔

    4. نبی کریم ﷺ سے روایت ہے  کہ ’’میں اس شخص کو جانتا ہوں جو اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس میرا کوئی فیصلہ آئے گا ، جس میں یا تو میں نے کوئی حکم دیا ہوگا یا میں نے کسی چیز سے روگا ہوگا، اور وہ کہے گا  کہ ہمارے اور آپ کے بیچ میں اللہ کی کتاب موجود ہے ۔ ہم اس کے اندر جس چیز کو حرام پائیں گے صرف اسی کو حرام سمجھیں گے ۔ خبردار! رسول اللہ ﷺ  کی حرام کردہ اشیا ایسی ہی حرام ہیں جیسے خود اللہ جل شانہ کی حرام کردہ‘‘۔

    5. مقدام بن معدی کرب کندی رسول اللہ ﷺ  کی یہ حدیث نقل  کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’سنو! مجھے کتاب بھی دی گئی ہے ، اور ایک اور چیز بھی جو اس کے قریب ہے۔ ایک آسودہ حال شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے کہے گا کہ ہمارے اور آپ کے بیچ  میں یہ اللہ کی کتاب ہے، جو چیز اس کے اندر حرام ہے صرف اسی کو حرام اور جو اس چیز اس کے اندر حلال کی گئی ہے صرف اسی کو حلال سمجھیں گے۔ خبردار! ایسا نہیں ہے،تمہارے لیے نوکیلے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ پالتو گدھے کا گوشت حلال ہے‘‘۔

ان احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے یہی تعلیم دی ہے کہ جس طرح ہم آپ سے قرآن کریم کو خدا کی کتاب کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں ، اسی طرح آپ کا ہر فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔ خواہ وہ ہمیں کسی چیز کاحکم دینے کی صورت میں ہو،یا ہمیں کسی چیز سے روکنے کی صورت میں، اگرچہ وہ کتاب للہ کے اندر نہ ہو۔ ہمیں اسلام کے اندر کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں جو اسلام میں فرض تو تھی مگر قرآن کے اندر ان کا ذکر نہیں تھا۔ مثلا؛

اولا:    ہجرت کی بنیاد پر میراث میں حصہ دار ہونا جواسلام کے اندر(کسی زمانے میں) تھا، بعد میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کرکے منسوخ کردیا  کہ: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُھم أَوْلَی بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُھَاجِرِينَ﴾ ترجمہ: ’’پیٹ کے رشتے دار دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے مقابلے میں ایک دوسرے پر (میراث کے معاملے میں زیادہ حق رکھتے ہیں‘‘6۔ نیز اس بارے میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے، ان شاء اللہ اس کتاب میں اپنے مقام پرسند سمیت  ذکر کریں گے؛

ثانیا: بیت المقدس کی جانب نماز پڑھنا، یہی رسول اللہ ﷺ  کا معمول تھا، جس کو بعد میں اللہ تعالی نے قرآن کے اندر منسوخ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ﴿قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْھِک فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَۃً تَرْضَاھَاۚ فَوَلِّ وَجْھكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوھَكُمْ شَطْرَہ﴾ ترجمہ:  ’’ہم تمہارا چہرہ بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چناں چہ ہم تمہارا رخ ضرور اس طرف پھیر دیں گے جو تمہیں پسند ہے، لو! اب  اپنا رخ مسجد حرام کی سمت کرلو۔ اور(آئندہ) جہاں کہیں تم ہو اپنے چہروں کا رخ (نماز پڑھتے ہوئے ) اسی کی طرف رکھا کرو‘‘۔7

ہم (احادیث و آثارکی) مزید تفصیلات کا ذکر اسانید سمیت اس کتاب کے اندر آگے اپنے مقام پر کریں گے، ان شاء اللہ تعالی۔

ثالثا: واجب الادا قرضہ جات میں آزاد انسانوں کی خرید و فروخت کا رواج ، جس کے بارے میں بعد میں قرآنی آیت نازل ہوئی جس میں ارشاد فرمایا کہ:﴿وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃ إِلَی مَيْسَرَۃ﴾ ترجمہ: ’’ اگر کوئی تنگ دست(قرض دار) ہوتو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے‘‘۔8

نزولِ احکام سے قبل مسلمانوں کا طرزِ عمل اور کتاب وسنت میں نئے احکام

قرآن ِ کریم نے (کئی موقعوں پر) ان احکام کو منسوخ کردیا جن کا ذکر قرآن میں نہیں تھا، حالانکہ وہ مسلمانوں پر فرض تھے، اور ان کےلیے نئے احکام دئے۔ قرآن کریم کے اندرناسخ آیات کے نازل ہونے سے  پہلےجومعاملات طے پائے تھے مثلا  آزاد انسانوں کی خرید و فروخت یا رشتوں کے برعکس ہجرت کی اساس پر میراث میں حقدار ہونا وغیرہ، نئے احکام دیتے وقت قرآنِ کریم نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اگر ان آیات میں نازل شدہ  احکام کا اطلاق پہلے سےوقوع پذیر ہونے والے معاملات پر بھی ضروری ہوتا  تو ان تمام امور کا تصفیہ ان آیات کے مطابق ہی کیا گیا ہوتا۔ نیز ان تمام امور کے فیصلوں کو ان آیات کے احکام کے برعکس کبھی بھی نافذ نہیں ہونے دیا جاتا۔ (جب اس قسم کی آیات کے نزول کے بعد بھی پہلے سے طے شدہ امور اور فیصلوں کو اسی حال پہ رہنے دیا گیا تو) اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ  ناسخ آیات کے نزول سے پہلے تک  اللہ تعالی کے فرض (اور مرضی) کے مطابق ہی تھا۔ لہذا اسلام میں قرآنِ کریم کے نزول سے پہلے کے ان امور کو اسی حال پہ رہنے دیا جائے گا۔ پھر قرآنِ کریم کا اس کے برعکس احکام لے کر نازل ہونے کامقصد یہ نہیں ہوگا کہ قرآن ان فیصلوں کو توڑنا چاہتا ہے،بلکہ مقصد یہی ہوگا کہ ان امور کے بارے میں اب کے بعد پہلے کے احکام کو منسوخ  ہوکر قرآن نئے احکام دے رہا ہے اور وہ بھی نزول سے پہلے تک کے امور سے کوئی تعرض کئے بغیر۔ اس کو مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے رسول اللہ ﷺ  کی کسی حدیث (متواتر یا مشہور)کے ذریعے ہمیں معلوم ہو کہ قرآن کی فلاں آیت منسوخ ہے۔ اب اگر اس ناسخ حدیث کے حکم کا اطلاق اس سے پہلے قرآنی آیت میں مذکور حکم کے مطابق طے شدہ معاملات پر بھی ہونا ضروری قرار پائے  تو اس ناسخ حدیث سے پہلے قرآن اس کے برعکس حکم نازل ہی نہ کرتا۔ اگر چہ اس مسئلے میں کچھ لوگوں کا اختلاف ہے جن کی رائے یہ ہے کہ قرآن کو صرف قرآن کے ذریعے ہی منسوخ قرار دیا جا سکتا ہے۔9ہماری رائے اس مسئلے میں وہی ہے جو ابھی ہم نے ذکر کی۔ اس کی ایک وجہ تو مخالف موقف کی کمزوریاں اور دوسری جانب خود قرآنِ کریم کے میں ہمارے موقف کی تائید میں دلائل ہیں۔

زنا کی سزا: قرآنی آیات و احادیث

مثلا زنا کا ارتکاب کرنے والی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَۃ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْھدُوا عَلَيْھنَّ أَرْبَعَۃ مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَھدُوا فَأَمْسِكُوھنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّی يَتَوَفَّاھنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّہ لَھُنَّ سَبِيلًا﴾

ترجمہ: ’’تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنا لو۔ چناں چہ اگر وہ گواہی دیںتو ان عورتوں کو گھروں کے اندر روک رکھویہاں تک کہ انہیں موت اٹھا کر لے جائے، یا اللہ تعالی ان کےلیے کوئی اور راستہ پیدا کردے۔‘‘10

اس کے بعد  نبی کریم ﷺ  نے فرمایا  ’’کہ لیجیے اللہ تعالی نے ان کےلیے راستہ پیدا کر لیا ۔ غیر شادی شدہ مرد اور خاتون کی زنا کی صورت میں سو کوڑے اور ایک سال تک کےلیے جلا وطنی، جب کہ شادی شدہ مرد اور خاتون کی زنا کی صورت میں سو کوڑے اور سنگسار کرکے مارڈالنا‘‘۔  اس کتاب میں ہی اپنے مقام پر اس حدیث کو سند سمیت ہم ذکر کریں گے، ان شاء اللہ۔ قرآن میں جس راستے کاذکر آیا ہے اس کا بیان بعد میں نازل ہونے والی قرآنی آیات میں نہیں بلکہ لسانِ رسالت ﷺ  سے  ہی آیا ہے۔ جس نے بدکاری کی مرتکب خواتین کے بارے میں سابقہ حکم کو منسوخ کردیا۔

اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس آیت  میں مذکور راستے کا بیان تو سورہ نور میں آیا ہےجس میں ارشاد فرمایا کہ : ﴿الزَّانِيَۃ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃ جَلْدَۃ﴾ ترجمہ: ’’زناکار خاتون اور زناکار مرد دونوں سو کوڑے لگادو۔‘‘11 اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے جس حدیث کا حوالہ اوپر دیا ہے اس کا اس سے کوئی تضاد نہیں؛ کیوں اس میں ارشاد ہے کہ ’’ کہ لیجیے اللہ تعالی نے ان کےلیے راستہ پیدا کر لیا‘‘۔ یعنی وہ راستہ کیا ہے؛ اس حدیث کے اندر اس کا بیان ہے۔ حالانکہ قرآن میں اس راستے کا بیان نہیں آیا تھا۔ مزید یہ کہ یہاں دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو یہ حدیث رسالت مآب ﷺ  نے سورہ نور کی آیت سے پہلے ارشا فرمائی ہوگی یا اس کے بعد۔ اگر یہ حدیث سورہ نور کے نازل ہونے سے پہلے آپ نے ارشاد فرمائی ہو(تو کوئی تضاد اس لیے نہیں ) کہ قرآن نے سورہ نور کے نزول سے وہی راستہ بتلادیا جو اس سے پہلے زبانِ رسالت پر اللہ تعالی نے حدیث کی صورت میں بھی جاری فرمایا تھا۔ اس کے بعد سورہ نور کی آیت بھی (مزید تائید) کےلیے اتری۔ اور اگر آپ کا فرمان سورہ نور کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے تو بھی کوئی تضاد اس لیے نہیں کہ قرآنی آیت سے مراد صرف غیر شادی شدہ بدکار مرد اور عورتیں ہیں، جب کہ حدیث نے غیر شادی شدہ بدکار مردوں اور عورتوں کے قرآنی حکم کے ساتھ ساتھ شادی شدہ بدکار مردو اور عورتوں کا حکم بھی بیان کردیا۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ سورہ نور کی آیت شادی شدہ و غیر شادی شدہ سب کےلیے ہو مگر شادی شدہ بدکار وں کا حکم بعد میں حدیث نبوی سے منسوخ ہوگیا ہو۔جس کی تفصیلات ہم نے کہیں اور ذکر کی ہیں۔ اس سے یہ بات بخوبی معلوم ہوئی کہ بدکار مردوں اور عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی کا جو حکم رسالت مآب ﷺ  کی حدیث میں مذکور ہوا اس نے تب تک کے احکامات منسوخ کردیے۔

وصیت کا مسئلہ

اللہ تعالی نے اپنی کتاب کے اندر والدین اور رشتے داروں کےلیے وصیت فرض کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّۃ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ترجمہ:  ’’تم پر فرض کیا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی اپنے پیچھے مال چھوڑ کر جانے والا ہو تو جب اس کی موت کا وقت قریب آئے، وہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کےلیے وصیت کرے‘‘۔12 پھر یہ حکم نبی کریم ﷺ کی اس حدیث سے منسوخ ہوا جس میں ارشاد ہے کہ ’’وارث کےلیے وصیت جائز نہیں‘‘۔اگر کوئی یہ سوال اٹھائے کہ وصیت کا حکم حدیث سے نہیں بلکہ خود قرآن کی ایک دوسری آیت ،آیت مواریث، سے منسوخ ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت مواریث وصیت کے حکم کےلیے ناسخ نہیں؛ کیوں کہ آیت مواریث کے مطابق اگر کوئی وصیت یا قرض ہو تو اس کے بعد ہی میراث فرض ہے جب کہ خود قرآن کے مطابق والدین اورقریبی  رشتہ داروں کےلیے وصیت ضروری ہے۔ [یعنی آیت وصیت نے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں وصیت فرض کردی اور آیت مواریث نے وصیت اور قرضوں کے بعد میراث کے احکام دیے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ]آیت مواریث کو والدین کے حق میں وصیت کے حکم کےلیے ناسخ قرار دینے پر کوئی قرینہ نہیں۔ کیوں کہ ایسا ممکن ہے کہ والدین کے حق میں دونوں آیتوں کی روشنی میں وصیت اور میراث ضروری ہو۔ ہمارے علم کے مطابق والدین کے حق میں وصیت کی فرضیت کاحکم حدیث نبوی ، کہ’’وارث کےلیے وصیت جائز نہیں‘‘،ہی سےمنسوخ ہوا۔ لہذا اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سنت بھی قرآ ن کو منسوخ کرسکتی ہے جیسا کہ قرآن سنت کےلیے ناسخ ہوسکتا ہے۔

قرآنی آیت کی تاویل

اگر کوئی یہ سوال اٹھائے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے کہ﴿قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَہ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي﴾ ترجمہ:  ’’ان سے کہہ دو کہ مجھے یہ حق  نہیں پہنچتا کہ میں اس میں اپنی طرف سے تبدیلی کر دوں‘‘۔13 یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ تبدیلئ  احکام کا حق صرف اللہ تعالی کے پاس ہے اور اس کی صورت یہی ہے کہ قرآن ہی اپنا حکم منسوخ کرے (نہ یہ کہ حدیث قرآن کو منسوخ کردے)۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کون یہ کہتا ہے کہ قرآن کے حکم کو جس چیز نے منسوخ کردیا وہ اللہ تعالی کی جانب سے نہیں ہے، یا  (زیادہ واضح لفظوں میں) سنت اللہ تعالی کی جانب سے نہیں۔ قرآن و سنت دونوں اللہ تعالی ہی کی جانب سے ہیں ، ان میں جس کا حکم جس سے چاہے منسوخ کرسکتا ہے۔

سحری کے وقت سے متعلق سیاہ و سفید دھاری میں امتیازاور فہمِ صحابہ

دوسرا یہ کہ قرآن کے اندر ایسی آیتیں پائی جاتی ہیں جن کا ظاہری مفہوم باطن یا معنوی مفہوم سے مختلف ہوتا ہے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم ظاہری مفہوم پر ہی عمل کریں، اگرچہ باطن اورمعنوی  مفہوم اس سے مخالف کیوں نہ ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالی کی جانب سے ہمیں خطاب ہے جس کا مقصد احکام کی تبیین و توضیح ہے (جس کا نتیجہ یہی ہے کہ قرآن نے ہر چیز واضح کرکے رکھ دی ہے اوراب ہمارے لیے  ظاہر پر ہی عمل ضروری ہو گیا ہے۔ غور و فکرکر کے اس کے باطن یا کسی ایسے معنوی مفہوم تک پہنچنا جو اس کے ظاہر سے متصادم ہو، ضروری نہیں)۔ اگرچہ یہ مسئلہ بھی اختلافی ہے اور کئی لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کے باطن پر اس کے ظاہر کو ترجیح دینا درست نہیں۔ ہمارے پاس اپنے موقف کی کئی دلیلیں ہیں۔ ایک یہ کہ جب قرآن کی آیت ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ﴾ ترجمہ: اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک سفید دھاری سیاہ دھاری سے سے الگ ہو کر واضح ہو۔14 نازل ہوئی اور رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے تلاوت کی تو عدی بن حاتم طائی سمیت متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سفید اور سیاہ  دو دھاریاں لیں  اور آیت کے مفہوم کو انہی کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کی۔ پھر اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے بھی کیا۔ آپ ﷺ نے ان پر نکیر نہیں فرمائی، نہ کوئی سختی سے پیش آ کر یہ فرمایا کہ جو مطلب آپ کوگوں نے آیت کی لی ہے وہ غلط ہے۔ بلکہ صرف یوں فرمایا کہ ’’آپ کا تکیہ تو بڑا وسیع ہے!  اس کا مطلب رات کی سیاہی اور دن کا اجالا ہے‘‘۔  غورجائے تو بنی اکرم ﷺ نے قرآن کے ظاہری معنی کو مراد لینے پر کوئی عیب جوئی نہیں کی۔ اس سےمتعلق سندوں سمیت احادیث کا ذکر ان شاء اللہ اس کتاب کے اندر اپنے مقام پر آئے گا۔  نبی کریم ﷺ کی تفہیم سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معانی اخذ کرنے کے اسلوب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ حق پہنچتا تھا کہ جب تک خود قرآن کی نص کے نزول کی طرح  دوسری نص کے ذریعے اس کی تاویل کے بارے  میں ابھی  تک تعلیم نہ دی گئی ہو تو وہ  قرآن کے ظاہری معنی کو مراد لے سکتے ہیں۔ اور آیت کی تاویل کر کے باطنی و معنوی مفہوم کے مقابلے  میں ظاہری مفہوم راجح ہے۔

اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالی نے شراب کو حرام قرار دیا اور استعمال کیے گئے لفظ ’خمر‘ کا مفہوم اور اس کی جنس وغیرہ تفصیلات ابھی نہیں بتائی گئی تھی، تو ابوعبیدہبن جراح، ابوطلحہ، ابی بن کعب، سہیل بن بیضاء اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شراب بھی ضائع کردی اور بعض نے تو شراب کے برتن بھی توڑ ڈالے۔ اسی طرح بعض حضرات نے کھجور کا شیرہ بھی ضائع کردیا ، انہوں نے سمجھا کہ یہی تو وہ شراب ہے جس کی حرمت کا حکم آیا ہے یا کم از کم شراب کی ایک قسم ہے۔ شیرہ کو شراب سمجھنے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے مختلف تھی۔ ان کے خیال میں شراب حرام تھی اورحرمت کے بعد مدینہ میں  ناپید تھی۔  وہ  شیرہ کو شراب سے ہٹ کر ایک اور چیز سجھتے تھے جو اس وقت مدینہ منورہ میں موجود تھی۔  عبداللہ بن عباس کے مطابق ’خمر‘ اور ’فضیخ/شیرہ‘ ایک ہی چیز تھی اور دونوں حرام تھے۔ سیدنا عمر فاروق کی رائے یہ تھی کہ کہ شراب حرام ہے اور پانچ چیزوں سے بنتی ہے۔ انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو۔ قلب و دماغ لگا کر صحابہ کرام نے اس آیت کا جو مفہوم سمجھا اس سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ انہوں نے آیت کا ظاہری مفہوم لیا ہے، اور یہی ان کی ذمہ داری تھی ۔پھر نبی اکرم ﷺ نے آیت کا معنی اخذ کرنے پر نہ ان پر نکیر فرمائی اور نہ یہ فرمایا کہ جو چیزحرام کی گئی ہے واضح اور کسی دوسرے معنی کے احتمال سے بالکل عاری انداز و اسلوب میں  اس کا مفہوم سمجھنے سے پہلےاپنے اموال ضائع کرنے میں کیوں جلدی سے کام لیا۔ہم اقوال و آثار کو اسانید سمیت اس کتاب کے اندر اپنے اپنے مقامات پر ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔

ان نصوص کے ظاہری معانی مراد لینے سے لازم آتا ہے کہ ان آیتوں کا اطلاق بھی عام ہوگا۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ کتاب و سنت یا اجماع سے کسی دلیل کے بنا خاص کے مقابلے میں عام کو کوئی ترجیح حاصل نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں عام کو خاص پر ترجیح حاصل ہے؛ کیوں کہ ان آیات کو اگر دیکھا جائے تو عام یا دونوں طرح کے معنی مرادلینے کی گنجائش موجود تھی۔ اور نبی کریم ﷺ کی تفہیم و تعلیم سے قبل صحابہ کرام نے ظاہری معنی ہی مراد لیا، خاص معنی  مراد لینے کی گنجائش صرف قرآنی آیت یا حدیثِ رسول ﷺ سے  نص کی صورت میں ہی ممکن تھی آیات کا ظاہر خاص معنی پر دلالت نہیں کر رہا۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کا فرض یہی تھا کہ وہ ان آیات (کے ظاہری مفہوم کے مطابق) عام معنی ہی مراد لیں؛ الّا یہ کہ نص کی مدد سے معلوم ہو کہ خاص معنی مراد ہے۔

ہم نے یہ کتاب تالیف کی ہے جس سے ہمارا مقصد صرف اللہ تعالی کے احکام کی تشریح، فرائض و واجبات کا بیان، متشابہ آیات کی محکم آیات ، احادیثِ نبویہ، عربی لغت، خلفائے راشدین  ودیگر صحابہ کرام کے آثار اور تابعین کے اقوال کی روشنی میں وضاحت ہے۔  حق تعالی کے دربار میں توفیق و امداد کےلیے دست بدعا ہیں۔


حواشی

  1. سورہ آل عمران:  آیت 7
  2. ایضا،
  3. سورہ حشر : آیت 7
  4. سورہ النسا آیت 64
  5. سورہ ابراہیم آیت 4
  6. سورہ احزاب:  آیت 6
  7. سورہ بقرہ:  آیت 144
  8. سورہ بقرہ:  آیت 280
  9. یہ سفیانِ ثوری اور امام شافعی کا مذہب ہے۔ دیکھیے: امام شافعی، الرسالة، (مصر: مطبع مصطفی بابی حلبی، ۱۳۵۸ھ/۱۹۴۰م)، تحقیق: احمد شاکر، ص۱۰۶–۱۱۰، ابن حزم، الاعتبار في الناسخ والمنسوخ من الآثار، (حمص: مطبعہ اندلس،۱۳۸۶ھ/۱۹۴۰م)، ص۲۸–۲۹، ابن الجوزی،نواسخ القرآن، (مدینہ منورہ: منشورات مجلس علمی، إحياء التراث الإسلامي بالجامعة الإسلامية، ۱۳۰۴ھ/۱۹۸۴م)، تحقیق: محمد اشرف علی الملباری، ص ۹۸۔
  10. سورہ النساء، آیت نمبر 15
  11. سورہ النور، آیت نمبر 2
  12. سورہ بقرہ، آیت نمبر 180
  13. سورہ یونس، آیت نمبر 15
  14. سورہ بقرہ، آیت نمبر ۱۸۷


قرآن / علوم قرآن

(اکتوبر ۲۰۲۰ء)

Flag Counter