قرآنی اُسلوب دعوت کی باز یافت

سید مطیع الرحمٰن مشہدی

 عزیز دوست محترم میاں انعام الرحمٰن  کو جب بھی بتا یا  کہ میں آج کل فلاں کتاب یا فلاں موضوع کا مطالعہ کر رہاہوں تو ایک بات وہ ہمیشہ دہراتے ہیں کہ جب کتاب یا مذکورہ مضمون کامطالعہ مکمل کرلیں تو اس کے حاصلِ مطالعہ پر ایک ڈیڑھ صفحہ ضرور  لکھ  دیا کریں کہ اس  سے نثر نگار ی شستہ ،رواں اور بہترین ہو گی ۔پھر  جب کبھی آپ اس کتاب یا موضوع پر برسوں بعد بھی کوئی تبصرہ یا کوئی تحقیقی کام کر نا چاہیں گے تو بجائے پوری کتاب پڑھنے کے  یہ ایک ڈیڑھ صفحہ  کفایت کرے گا ۔ آپ کے حاصل مطالعہ سے کئی اور لوگ بھی مستفید ہو ں گے ،کچھ عرصہ بعد اس طرح کے شذرات سے ایک کتاب بھی بن سکتی ہے  اور اس کے علاوہ کئی ایک  فوائد گنواتے ہیں ۔

گزشتہ دنوں میاں صاحب نے اپنے دادا جان مفتی ابو احمد  عبد اللہ لدھیانوی ؒ   کی کتا ب’’ انسان ، مادہ پرستی اور اسلام“ مطالعہ اور پروف ریڈنگ کی غرض سے عنایت کی تو مذکورہ بالا نصیحت  دہراتے ہوئے اس بات کا اضافہ فرمایا کہ اس کتاب کا حاصل ِ مطالعہ کتاب میں شامل کیا جائے گا  ۔میں نے ہزار منت سماجت کی کہ  میں کہاں اور مفتی صاحب کی شخصیت کہاں ،نہیں مانے ۔ پھر فارسی زبان میں بھی گذارش کی کہ من آنم کہ من دانم ،مگر مسلسل اصرار فرمایا جسے ان کی محبت  اور ذرہ نوازی نہ کہیے تو کیا کہیے ۔سو مطالعہ کے دوران میں چند اہم پہلو جو مجھے محسوس ہو ئے، سپر د ِقلم کیے ہیں۔

یہ بات عموما دیکھنے میں آئی ہے کہ ہمارے ہا ں جب بھی مغربی تہذیب و تمدن پر نقد کیا جاتا ہے تو  ہمار ےنقاد  اپنی تنقید کا سارا مقدمہ مغرب سے متعلق سنی سنائی باتوں ، مشہور مفروضات اور چند غلط فہمیوں کی بنیاد پر قائم کرتے ہیں ۔ نہ ان کے پاس مستند ذرائع سے معلومات ہوتی ہیں اور نہ انہیں براہ ِراست مشاہدے کا موقع ملا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ ان کا استدلال جگہ جگہ اپنی کمزور ی ظاہر کرتا ہے۔ ایسی کمزور بنیادوں پر یقینا کوئی بلند وبالا عمارت قائم نہیں کی جاسکتی ۔ کتابِ ہذا میں دوران ِمطالعہ جہاں جہاں مغربی تہذیب و تمدن، نظریہ حیات اور دیگر مغربی  افکار  پر تنقید کا موقع آیا ، میں فورا چوکنا ہو گیا کہ یہاں مذکورہ بالا  مصنفین  کی طرح مفتی صاحب موصوف بھی مغربی معاشرے اور ممالک  سے متعلق بہت سارے مفروضات  او ر سنی سنائی باتوں  پر  اپنا مقدمہ قائم کریں گے اور اپنی نقد کی پوری عمار ت انہی Myths  پر کھڑی کریں گے۔ لیکن ہر دفعہ خوشگوار حیرت  ہوئی کہ  اس معاملے میں  بھی ان کی  معلومات  حقیقت  کے قریب، مبنی بر دیانت ،اور افراط و تفریط سے پاک ہیں ،حالانکہ یہ  ساٹھ سال قبل  کی تحریر ہے جبکہ معلومات  کے ذرائع آج کے ذرائع کے عشر ِ عشیر بھی نہ تھے ۔

فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی  کی ایک بنیادی وجہ مخالفین کے ساتھ بحث و مباحثہ،مثبت مکالمہ  اور علمی و فکری اختلاف  کےآداب سے نابلد ہونا ہے ۔ بد قسمتی سے مدارس کے طلبا کے ہاں اس کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔ مخالفین کی توہین ، غیر شائستہ اندازِ تخاطب ، مخالف کے مثبت پہلوؤں کو نہ صرف نظر  اندازکرنا بلکہ انہیں الٹا منفی بناکر پیش کرنا اور دیگر غیر علمی رویےمذہبی طبقات کی اکثریت  میں پائے جاتے ہیں  ۔ یہی وہ اسا لیب ہیں جو مخالف کو حق کے قریب لانے  کے بجائے  الٹا مانع بنتے ہیں ۔ مجھے آ ج تک یہ  معلوم نہیں ہو  سکا کہ مناظرین کے ہاں پائے جانے والے اسلوبِ مخاصمت کی اصل کیا ہے ۔ غیر مسلم تو ایک طرف رہے، خود مسلمانوں کے اپنے فر قوں اور مسالک کے مابین گفتگو اور بحث و تمحیص کا  جو رویہ پایا جاتاہے،نہایت غیر شائستہ اور ناگفتہ بہ ہے ۔مباحثے  و مناقشے  کا یہ انداز نہ قرآن نے اختیار کیا  ہے نہ پیغمبر انہ اسلوب ِ دعوت سے اسے کوئی نسبت ہے ۔اس کے برعکس مفتی صاحب ؒ کا اسلوب  ایسا عمدہ ،حکیمانہ ، مخلصانہ ،ہمدردانہ ، شائستہ ، دلکش  ، دانش افروز، قرآنی  اصول  وجادلھم بالتی ھی احسن کا عملی نمونہ اور  انبیاءکے دعوتی منہج کے عین مطابق ہے ۔مخالف کی مثبت باتوں اور نظریات و خیالات کو نہ صرف مد نظر رکھا گیا  ہے بلکہ اسے دعوتی مقاصد  کے لئے استعمال  بھی کیا گیا ہےجو  ایک داعی کی وسیع الظرفی اور وسعتِ قلبی   کے ساتھ ساتھ حکمت کا تقاضا بھی ہے میرے خیال میں مفتی صاحبؒ  کی یہ کتاب خصوصی طورپر  مدارس کے طلبا کے  نصاب میں شامل ہونی چاہیے تا کہ ان کے ہاں  مخالفین  کے ساتھ گفتگو اور مکالمے  کی ایک شائستہ اور قرآنی روایت  قائم ہوسکے ۔ 

مخالف کے دلائل کے مقابلے میں جب آپ مضبوط علمی پوزیشن میں ہوں تو  نہ چاہتے ہوئے بھی ایک طرح کی علمی رعونت زبا ن  وبیان میں دَ ر آتی ہے ۔ مخالف  کے دلائل کا ، یہاں تک کہ اس کی ذات کا تمسخر اڑانااور اس کی کج فہمی کا ڈھنڈوراپیٹنا،  اسی فکری تکبر کا شاخسانہ ہے ۔ ایک داعی کو  ہرگز  زیب نہیں دیتا کہ  وہ مخالف کے کمزور دلائل پر اس طرح جھپٹے جیسے شیر ہرن پر جھپٹتا ہے ،بلکہ الفاظ کے انتہائی محتا ط چناؤ اور  نہایت باوقار لہجے میں  مخالف کو کمتر اور کم علم ثا بت کیے بغیر  اس کے علمی استدلال کی کمزور ی کو واضح کرنا  ہی درست رویہ ہے ۔ اس پوری کتاب میں کہیں بھی، کسی در جے  میں بھی علمی رعونت  سے مغلوب ہوکر  مخالف کا تمسخر  نہیں اڑایا گیا اور نہ ہی تہذیب و شائستگی سے عاری کسی لفظ کا چنا ؤ کیا گیا ہے ۔

دعوتی لٹریچر میں عام طور پر اس بات کا خیال کم رکھا جاتا ہے کہ دلیل کس قدر مضبو ط بنیاد وں پر استوار ہے ۔ ضعیف  و کمزور روایات اور بے سند قصص  بلا ججھک بیان کر دیے جاتےہیں اور اس بارے میں نقطہ نظر یہ رکھا جاتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں اس قدر چھان پھٹک اور تحقیق وتفتیش  کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ میرے خیال میں یہ رویہ  کئی لحاظ سے درست نہیں ۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا  ہے کہ صحیح روایات اور مستند حکایات و قصص   اس قدر موجود  ہی نہیں کہ دعوت ِدین کے لئے کا فی و شافی ہوسکیں ۔ دوسرا  یہ کہ ایسی کمزور  اور ضعیف الاسناد  باتوں پر  جب آپ مخالفین  سے بات کریں گے تو ایک طرف یہ دلائل اس کے لئے متا ثر کن ثا بت نہیں ہوں گے اگر وقتی طور پر  مان بھی لیے گئے تو  جب کبھی انہیں ان دلائل کے بودے پن کا علم ہو گا تو آپ کی ساری بحث ہی مشکو ک ٹھہرے گی اور آپ کی ساری محنت غا رت جائے گی ۔مفتی صاحب ؒ نے یہ کتاب اگرچہ خالصتا دعوتی نقطہ نظر سے لکھی ہے لیکن ان کے ہاں اس بات کا پورا خیا ل رکھا گیا ہے کہ کوئی بات  بلا دلیل  اور بے اصل نہ ہو۔

ایک داعی کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ نہ  صرف اپنے  مخالف کی  علمی و عملی  کمزوریوں کا پورا  ادارک رکھتا ہو بلکہ خود اس طبقے کی جملہ کمزوریوں سے بھی با خبر  ہوجس کا وہ خود ایک فرد ہے ۔ مفتی صاحب ؒ کے ہاں اس بات کا بھی پورا اہتمام نظر آتا ہے ۔خود تنقیدی و خود نگری کا جرت مندانہ انداز   بھی کئی مواقع پر سامنے آتا  ہے ۔ اس معاملے میں  جہاں مسلمانوں  سے تفہیم ِ دین یا  اس کے اطلاقی پہلوؤں سے  ٖغلطیاں سر زد ہوئی ہیں، انہیں نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان کی پرزور مذمت بھی کرتے ہیں ۔یہ بات داعی کی دیانت و صیانت کے ساتھ ساتھ مخالفین کے ہاں ا س کی تنقیدکی وقعت اور بات میں وز ن بھی پیداکرتی ہے اور اس کے علمی مرتبے پر اعتماد پیداکرتی ہے  ۔ 

اس  کتاب میں  انسان ، مادہ پرستی اور اسلام کی مثلث کے تینوں زاویوں  کا علمی و عقلی  تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب ِ نگارش نہایت  فکر انگیز اور  مربوط،   اور نثر اس قدر شستہ اور رواں ہے کہ قاری  علمی و فکری غذ ا کے ساتھ ساتھ ادب و سخن کی چاشنی سے بھی محظوظ  ہو تا چلا جاتا ہے  ۔ یہ کتاب جدید مادیت پرستی کے پرشور دور میں انسان کی روحانی بازیافت کے ساتھ ساتھ قرآنی اسلوب ِ دعوت کی بازیافت  کی طرف بھی  ایک مثبت قدم ہے ۔ ایسے کئی قدم اٹھیں گے تو اس عظیم منزل کی راہ ہموار ہو گی اور نئی نسل ان راستوں پر آگے بڑھ سکے گی۔ الحاد اور مادہ پرستی کی جدید لہر  اس بات کی متقاضی ہے  کہ زیرِ نظر کتاب کا انگریزی ترجمہ  منظر عام پر لایا جائے تا کہ اس سے استفا دے کا دائرہ مزید وسیع ہو سکے ۔اللہ رب العزت مفتی صاحب کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے پوتے محترم میاں انعام الرحمٰن کے علم و عمل میں مزید ترقی و اضافہ فرمائے کہ ان کی کاوش و محنت  کی بدولت تقریبا چھ عشروں  کے بعد   اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن  منظر عام پر آسکا۔

قرآن / علوم قرآن