مقدس شخصیات کی توہین اور جدید قانونی تصورات

محمد عمار خان ناصر

یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے   اپنے ایک حالیہ فیصلے میں آسٹریا کی عدالتوں میں  ۲٠۱٠ء سے ۲٠۱۴ء تک چلنے والے ایک مقدمے کے متعلق   یہ قرار دیا ہے کہ  آسٹروی عدالتوں نے  ملزم کو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت انگیز  القاب استعمال کرنے پر  جو سزا دی ہے،  وہ قانون کے مطابق ہے اور آزادی اظہار کے حق کے منافی نہیں ہے۔ ۲٠٠۹ء  میں ایک خاتون نے آسٹریا میں ایک  عمومی اجتماع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا حوالہ دیتے ہوئے  انھیں طفل پرست  قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ محمد  اخلاقی طور پر کوئی  رول ماڈل نہیں ہیں، جیسا کہ مسلمان  ایمان رکھتے ہیں۔  اجتماع میں موجود ایک خفیہ صحافی نے  اس کے خلاف ویانا کی علاقائی فوجداری عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا  جس نے متعدد سماعتوں کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ ملزمہ نے محمد پر  ایک بے بنیاد الزام عائد کر کے یہ تاثر  پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کوئی قابل احترام شخصیت نہیں ہیں  اور یوں وہ مسلمانوں کے  خلاف نفرت انگیزی  کے جرم کی مرتکب ہوئی ہے۔  عدالت نے سزا کے طور پر ملزمہ کو جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔  اس فیصلے کے خلاف  ویانا کورٹ آف اپیل اور پھر اس کے بعد آسٹریا کی سپریم کورٹ میں  درخواست دائر کی گئی، تاہم دونوں عدالتوں نے  علاقائی عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے  سزا کو برقرار رکھا۔ آخری چارے کے طور پر   اس فیصلے کے خلاف یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں  اپیل دائر کی گئی  جس کا فیصلہ  عدالت کے آٹھ رکنی بنچ نے ۲ اکتوبر ۲٠۱۸ء کو کیا  اور متفقہ طور پر آسٹریا کی عدالتوں کو  انسانی حقوق کے اصولوں اور  جمہوری قوانین کے مطابق قرار دیا۔ یہ فیصلہ E.S. v. Austria  کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کا انگریزی متن عدالت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

https://hudoc.echr.coe.int/eng#{%22itemid%22:[%22001-187188%22]}

یورپی عدالت کے اس فیصلے پر مغرب کے لبرل اور سیکولر حلقوں کی طرف سے سخت تنقید  سامنے آئی ہے   جو آزادی اظہار کے حق کو غیر محدود  سمجھتے ہیں  اور  ان کا کہنا ہے کہ  کسی شخص کی رائے کی آزادی کو پابندیوں میں جکڑنے کے بجائے  ان لوگوں کو جن کے مذہبی جذبات کو کسی تنقید سے یا طنز واستہزا سے ٹھیس پہنچتی ہے،  اپنا رویہ بدلنا چاہیے  اور  تنقید، طنز اور تضحیک وغیرہ کو  آزادی اظہار کی  ایک جائز صورت کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔  لبرل حلقوں کا یہ نقطہ نظر ، مغربی تاریخ کے تناظر میں، قرون وسطی میں کلیسا کے سرکاری موقف  کےمقابلے میں دوسری انتہا کی نمائندگی کرتا ہے۔  قرون وسطی میں  مسیحیت کو  یورپ  میں  سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل تھی اور  مسیحی عقائد وتعلیمات اور مقدس شخصیات پر تنقید کرنا، چہ جائیکہ ان کا مذاق اڑانا،  ریاست کے خلاف جرم سمجھا جاتا تھا۔  اس تناظر میں مسیحی مذہب کی توہین کے حوالے سے تعزیری قوانین مغربی قانونی روایت کا حصہ رہے ہیں، اور پیو ریسرچ سنٹر کی رپورٹ کے مطابق ۲٠۱۴ء تک    براعظم امریکا کے ۲۹ فیصد ممالک جبکہ یورپ کے ۱۶ فی صد ممالک میں  توہین مذہب کے خلاف قوانین  موجود تھے ، تاہم  بنیادی نوعیت کے سماجی وسیاسی تغیرات اور آزادی فکر کی تحریکوں کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں  سیاست اور قانون کے دائرے میں  مذہب کا اثر  مسلسل کم  ہوتا  چلا آ رہا ہے اور اس کی جگہ سیکولر اقدار  نے قانون سازی اور ریاستی پالیسیوں میں  بنیادی اہمیت حاصل کر لی ہے۔  ان جدید اقدار میں آزادی اظہار ایک بنیادی قدر ہے  جسے   مذہبی  جذبات واحساسات کے مقابلےمیں  بالاتر قدر  سمجھا جاتا ہے اور  اس کے زیر اثر، مغربی ملکوں میں توہین مذہب پر سزا کے قوانین   کو ایک تدریج کے ساتھ کتاب قانون سے  حذف کیا جا رہا ہے۔  مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا میں وفاقی سطح پر ایسی کوئی قانون سازی موجود نہیں، لیکن  بہت سی امریکی ریاستوں کو چونکہ برطانوی کامن لاء ورثے میں ملا تھا، اس لیے بعض ریاستوں مثلا میساچوسٹس اور مشی گن میں  اب تک ایسے قوانین موجود ہیں۔ البتہ انھیں امریکی دستور کی پہلی ترمیم کے منافی  ہونے کے باعث، جس میں  آزادی اظہار  کو بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا ہے،  عملا کالعدم سمجھا جاتا ہے اور امریکی سپریم کورٹ ۱۹۵۲ء میں  ایسے قوانین کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔  

یورپی ممالک میں  بلاسفیمی کے خلاف قانون کے خاتمے کا آغاز ۱۷۸۹ء میں فرانس سے ہوا ۔  فرانس کے بعض علاقوں میں  جو کچھ عرصے کے لیے جرمنی کا حصہ   بن گئے تھے، یہ قانون نافذ العمل تھا ، لیکن وہاں بھی ۲٠۱۶ء میں اس کو منسوخ کر دیا گیا۔  سویڈن میں  اسے ۱۹۷٠ء میں اور برطانیہ میں ۲٠٠۸ء میں منسوخ کیا گیا،  جبکہ انسانی حقوق کے علمبردار حلقوں کی طرف سے شدید تنقید اور دباو کے نتیجے میں  نیدر لینڈز، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، مالٹا اور ناروے نے بھی گزشتہ چار سال کے دوران میں   ایسے قوانین کو منسوخ کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ اور کینیڈا  میں ان قوانین کی تنسیخ کے حوالے سے بل پارلیمنٹ میں پیش کیے جا چکے ہیں۔  آئر لینڈ میں ، جہاں  چند ہی سال پہلے ۲٠٠۹ء میں کسی بھی مذہب کے خلاف بلاسفیمی کو جرم قرار دینے کے حوالے سے قانون  سازی کی گئی تھی، حال ہی میں    ایک عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں یہ قانون غیر موثر  قرار پا چکا ہے۔

البتہ بعض  یورپی ممالک میں  ابھی تک یہ قانون موجود ہے اور اس کے تحت  مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ مثلا حال ہی میں اسپین میں  ولی ٹولیڈو نامی  اداکار کو  خدا اور مقدسہ مریم کے بارے میں توہین  پر مبنی پوسٹ لکھنے پر گرفتار کیا گیا اور اس پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے جس پر پورے مغرب کے سیکولر حلقوں کی طرف سے شدید احتجاج  کیا گیا اور اسے اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ (دی گارڈین، ۱۲ و ۲٠ ستمبر ۲٠۱۸) اسپین کے علاوہ  جرمنی،  روس،  یونان اور پولینڈ وغیرہ میں بھی توہین مذہب کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ 

ان تعزیری قوانین  پر، آزادی اظہار کے حق کے منافی ہونے کے علاوہ ایک اہم اعتراض  یہ بھی ہے کہ یہ مذہبی امتیاز پر مبنی ہیں  اور خاص طور پر  مسیحی مذہب کو  تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی طور پر توہین مذہب کے خلاف قوانین بنیادی طور پر مغربی معاشروں میں مسیحی مذہب کی حیثیت اور کردار کو محفوظ ومستحکم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے اور  مسیحی مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب، خاص طور پر اسلام ان کے دائرہ اطلاق میں شامل نہیں ہیں۔ چنانچہ ۹٠ء میں  جب مسلمانوں کی طرف سے سلمان رشدی کی کتاب  کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے  برطانوی عدالتوں سے رجوع کیا گیا تو   جواب یہ دیا گیا کہ یہ قوانین  صرف مسیحی مذہب  کو بلاسفیمی کے خلاف تحفظ دیتے ہیں، دوسرے کسی مذہب کو ایسا تحفظ دینا قانون  کا حصہ نہیں ہے۔  مقامی برطانوی عدالتوں کے ان فیصلوں کو جب یورپی کمیشن آن ہیومن رائٹس  میں  مذہبی امتیاز کے نکتے کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تو  کمیشن کا جواب بھی یہی تھا کہ چونکہ برطانوی قانون، برطانوی حکومت کو پابند نہیں کرتا کہ وہ تمام مذاہب کے  مقدس احساسات کا تحفظ کرے، اس لیے  برطانوی حکومت کا رشدی اور کتاب کے ناشر کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنا مذہبی امتیاز کے زمرے میں نہیں آتا۔  اس کے مقابلے میں، اسی عرصے میں  یورپی کمیشن   نے متعدد مقدمات میں مختلف مغربی حکومتوں کے ایسے فیصلوں  کو جائز اور درست قرار دیا جن میں  مسیحیوں کے مذہبی جذبات کو  مجروح کرنے والے اقدامات کے خلاف پابندی عائد کی گئی تھی۔

Peter G. Danchin, Islam in the Secular Nomos of the European Court of Human Rights, 32 Mich. J. Int'l L. 663 (2011). Available at: http://repository.law.umich.edu/mjil/vol32/iss4/2

ان اعتراضات کی بنیاد پر  مغرب کے سیکولر اور لبرل حلقوں کا، جو   معاشرتی اقدار اور حکومتی پالیسیوں  کی تشکیل میں  مذہبی عقائد  یا احساسات کا کسی درجے میں کوئی کردار قبول نہیں کرنا چاہتے،  یہ مطالبہ ہے کہ  مذہبی حساسیتوں  کو قابل تحفظ سمجھنے اور اس کے لیے  قانونی تحفظات فراہم کرنے کا زاویہ  نظر بالکل ترک کر دیا جائے اور کسی بھی انداز میں کسی بھی مذہب یا اس کی مقدس شخصیات پر  تنقید یا تضحیک کو   ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر  قبول کیا جائے۔   اس کے مقابلے میں مغربی حکومتوں، قانون ساز اداروں اور  عدالتوں کا  زاویہ نظر  یہ ہے کہ  کسی بھی مذہب کو  اعتراض یا تنقید  سے تحفظ  مانگنے کا حق نہیں  اور  آزادی اظہار  کو یقینی بنانے کے لیے  ضروری ہے کہ  ہر شخص کو  کسی بھی عقیدے یا نظریے پر، جسے وہ غلط سمجھتا ہے، تنقید یا اعتراض کرنے کا حق حاصل ہو،  تاہم  اس کے ساتھ  معاشرتی امن وامان کو برقرار رکھنا اور کسی بھی گروہ کو  نفرت  یا تحقیر کا نشانہ بننے سے  بچانا بھی  ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر قانونی نظام اپنے باشندوں کو نہ صرف جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ ان کی عزت اور آبرو کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے اور ہتک عزت اور ازالۂ حیثیت عرفی وغیرہ سے متعلق تادیبی سزائیں اسی اصول پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ راسخ العقیدہ اہل مذہب اپنے مذہبی شعائر ، شخصیات اور جذبات کو جان ومال اور آبرو سے زیادہ محترم سمجھتے ہیں اور ان میں سے کسی بھی چیز کی توہین لازماً مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور نتیجتاً اشتعال انگیزی کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ  کسی مذہبی عقیدے یا عمل پر  تنقید کرتے ہوئے   ایسا انداز اختیار کیا جائے  جس کا مقصد   کسی مذہبی  گروہ کو محض طعن وتشنیع  اور نفرت کا  نشانہ بنانا نہیں، بلکہ مفاد عامہ کو  بڑھانا اور  بحث ومباحثہ سے  درست تر  نتیجے تک پہنچنا ہو۔  چنانچہ اگر کوئی بھی تنقید  اس حد سے متجاوز ہو تو اسے ’جرم‘ قرار دے کر اس کے سدباب کے لیے سزا مقرر کرنا ہر لحاظ سے جمہوری اصولوں اور تصورات کے مطابق ہے۔ 

زیر بحث مقدمے میں بھی آسٹریا کی عدالتوں اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق  کے فیصلوں میں یہی  موقف اختیار کیا گیا ہے۔ چنانچہ  یورپی عدالت کے فیصلے میں آسٹریا کی علاقائی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ

The Regional Court further stated that anyone who wished to exercise their rights under Article 10 of the Convention was subject to duties and responsibilities, such as refraining from making statements which hurt others without reason and therefore did not contribute to a debate of public interest. A balancing exercise between the rights under Article 9 on the one hand and those under Article 10 on the other needed to be carried out. The court considered that the applicant’s statements were not statements of fact, but derogatory value judgments which exceeded the permissible limits. It held that the applicant had not intended to approach the topic in an objective manner, but had directly aimed to degrade Muhammad. The court stated that child marriages were not the same as paedophilia, and were not only a phenomenon of Islam, but also used to be widespread among the European ruling dynasties. Furthermore, the court argued that freedom of religion as protected by Article 9 of the Convention was one of the foundations of a democratic society. Those who invoked their freedom of religion could not expect to be exempt from criticism, and even had to accept the negation of their beliefs. However, the manner in which religious views were attacked could invoke the State’s responsibility in order to guarantee the peaceful exercise of the rights under Article 9. Presenting objects of religious worship in a provocative way capable of hurting the feelings of the followers of that religion could be conceived as a malicious violation of the spirit of tolerance, which was one of the bases of a democratic society. The court concluded that the interference with the applicant’s freedom of expression in the form of a criminal conviction had been justified as it had been based in law and had been necessary in a democratic society, namely in order to protect religious peace in Austria.

’’علاقائی عدالت نے مزید کہا ہے کہ کوئی بھی شخص جو کنونشن کے آرٹیکل ۱٠ کے تحت (آزادی اظہار سے متعلق) اپنے حقوق استعمال کرنا چاہتا ہو،   اس پر فرائض اور ذمہ داریوں کی پابندی بھی لازم ہے، مثلا ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا جو کسی معقول جواز کے بغیر دوسروں  کے جذبات کو مجروح کرتے ہوں اور مفاد عامہ سے متعلق کسی بحث میں کوئی  (مفید) حصہ نہ ڈالتے ہوں۔  آرٹیکل ۹ اور آرٹیکل ۱٠ میں  دیے گئے حقوق کے مابین ایک توازن کو قائم رکھنا  ضروری ہے۔  علاقائی  عدالت نے  ملاحظہ کیا کہ  مدعی (یعنی ملزمہ) کے بیانات واقعاتی حقائق کو بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ  تحقیر  پر مبنی اقداری  حکم لگا رہے تھے جو   جائز حدود سے متجاوز تھا۔ عدالت نے  قرار دیا کہ ملزمہ کی نیت مسئلے پر معروضی انداز میں   غور کرنے کی نہیں بلکہ براہ راست محمد   کی شخصیت کو مجروح کرنے کی تھی۔  عدالت نے کہا کہ  نابالغ لڑکی کے ساتھ شادی کرنا اور طفل پرست ہونا ،  ایک جیسے عمل نہیں ہیں اور صغر سنی کی شادیاں صرف اسلام میں نہیں تھیں، بلکہ یورپ کے حکمران خاندانوں میں  بھی ان کا عام رواج رہا ہے۔  مزید برآں عدالت نے یہ دلیل بھی دی کہ  کنونشن کے آرٹیکل ۹ میں  آزادی مذہب کا جو حق بیان کیا گیا ہے،  وہ ایک جمہوری معاشرے کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔  وہ لوگ جو آزادی مذہب کے اصول کا حوالہ دیتے ہیں، یہ توقع نہیں رکھ سکتے  کہ  وہ تنقید سے مستثنی ہیں  اور اگر کوئی ان کے عقائد کی نفی کرے تو انھیں اس کو بھی گوارا کرنا ہوگا۔  تاہم جس انداز میں مذہبی خیالات کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے،  وہ  ریاست کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی دعوت دے سکتا ہے  تاکہ وہ آرٹیکل ۹ کے تحت دیے گئے حقوق   کے پرامن استعمال کو یقینی بنا سکے۔  ایسی چیزیں جو مذہبی عقیدت کا مرکز ہوں،  انھیں  اگر ایسے اشتعال انگیز انداز میں پیش کیا جائے جس سے اس مذہب کے پیروکاروں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں تو اسے بد نیتی کے ساتھ  رواداری کی روح کو  ،  جو کہ  جمہوری معاشرے کی اساسات میں سے ایک ہے، پامال کرنے والا عمل تصور کیا جا سکتا ہے ۔  عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ  ملزمہ کو جرم کا مرتکب قرار دے کر   اس کی آزادی اظہار پر قدغن لگانے کا پورا جواز ہے اور اس کی بنیاد قانون میں موجود ہے بلکہ جمہوری معاشرے میں  ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ آسٹریا میں  مذہبی امن کو  محفوظ رکھا جا سکے۔”

ہماری رائے میں عدالت نے ایک بہت اہم اصول کی وضاحت کی  ہے  جس کی،  گلوبلائزیشن کے  اس دور میں غیر معمولی عملی اہمیت ہے اور وہ عالم اسلام اور مغرب کے مابین ایک بنیادی تہذیبی واقداری اختلاف  میں مفاہمت کی بنیاد بن سکتا ہے۔  مغرب اور اسلام کے باہمی تعلقات کے تناظر میں اس بحث کا نقطہ آغاز سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات” بنی تھی جو ۱۹۸۸ء میں منظر عام پر آئی۔  اس کتاب کی اشاعت وتشہیر اور اس پر  سامنے آنے والے بین الاقوامی رد عمل  نے عالم اسلام اور مغرب کے باہمی تعلقات کی بحث میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا  جس کی اہمیت  اور اثرات کئی لحاظ سے  افغانستان میں سوویت افواج کے داخلے،  خلیج میں امریکی افواج کی آمد اور نائن الیون جیسے تہلکہ خیز سیاسی وعسکری واقعات سے  بڑھ کر ہیں۔  اس بحث  کا مرکزی نکتہ دو مختلف نظام ہائے اقدار اور سماجی آزادیوں کے دو متخالف تصورات  کا باہمی تصادم ہے،  اور یہ بحث اس فالٹ لائن  کو  نمایاں کرتی ہے جو  اقدار کی سطح پر مسلم معاشروں اور جدید مغربی  تہذیب کے مابین پائی جاتی ہے۔   اہم بات یہ ہے کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ ایک نئی صورت حال تھی جس سے دور جدید سے پہلے   ان دونوں تہذیبوں کو واسطہ  پیش نہیں آیا تھا۔

دور جدید سے پہلے قانون بین الاقوام کی نوعیت  بہت مختلف تھی  اور اس نوعیت کے واقعات  ریاستوں اور حکومتوں کے باہمی تعلقات پر   اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔   یہی وجہ ہے کہ اسلامی قانونی روایت میں یہ مسئلہ اس تناظر میں زیر بحث آتا ہے جب اسلامی ریاست میں مقیم کسی غیر مسلم نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کیا ہو ۔ اگر مسلم ریاست کے دائرۂ اختیار سے باہر کسی فرد نے ایسا کیا ہو تو کلاسیکی اسلامی قانون اس صورت سے تصریحاً کوئی تعرض نہیں کرتا اور چونکہ فقہی دور میں رائج قانون بین الاقوام کے تصور کے تحت کسی محارب قوم کے قانونی دائرۂ اختیار میں رونما ہونے والے اس طرح کے واقعات سے زیادہ سروکار نہیں رکھا جاتا تھا، اس لیے اس سے کوئی عملی مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوتا تھا، تاہم دنیا کے سیاسی وتہذیبی ارتقا اور قانون بین الاقوام میں پیدا ہونے والے تغیرات کے نتیجے میں اس صورت حال میں ایک جوہری تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اب دنیا کی کم وبیش تمام اقوام ایک بین الاقوامی معاہدے کی فریق اور اس کی پاس داری کی پابند ہیں اور اس کے نتیجے میں اقوام عالم ایک دوسرے سے جذبات واحساسات کے باہمی احترام کی توقع بھی رکھتی ہیں اور اگر ان کو پامال کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے اثرات براہ راست قانون بین الاقوام اور عالمی سیاست کے پورے ڈھانچے پرمرتب ہوتے ہیں۔ مزید برآں معاصر مغربی معاشروں میں مسلمانوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے  جس کے مذہبی جذبات  مسلم معاشروں میں مقیم مسلمانوں  سے کسی طرح کم نہیں، بلکہ مغرب کے اندر رہنے والی ایک کمیونٹی کے طور پر  وہ اس بحث کے بنیادی فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔  اس صورت حال میں توہین رسالت کی بحث نے، جو اس سے پہلے اسلامی قانون کی ایک داخلی بحث تھی، عالم اسلام اور مغرب کے مابین ایک نہایت حساس اور نازک نزاعی مسئلے کی صورت اختیار کر لی ہے۔

عالم اسلام کی مذہبی وسیاسی قیادت نے ،  مغربی معاشروں کی داخلی صورت حال سے براہ راست واقف نہ ہونے  نیز ٹھنڈے دل ودماغ سے معاملات کا جائزہ  نہ لینے کی وجہ سے  اس پر جو بالکل ابتدائی رد عمل  ظاہر کیا،  اس کی عالمی ترجمانی  آیت اللہ خمینی کے فتوے کی صورت میں  ہوئی  جس میں رشدی کو واجب القتل قرار دے کر  گویا  اس بات کو مسلمانوں پر فرض کفایہ قرار دیا گیا کہ  ان میں سے جس کو بھی موقع ملے، وہ سلمان رشدی کو قتل کر دے۔  یوں رشدی کی کتاب سے جو کشیدگی اور تناو پیدا ہوا تھا، اس فتوے نے اسے مزید بڑھا دیا  اور  عملا اس کا نتیجہ  عالم اسلام کی توقعات اور خواہشات کے برعکس نکلا۔ رشدی نے  یہ کتاب اپنی ذاتی حیثیت میں لکھی تھی  اور برطانوی حکومت  ابتداءا اس میں کسی بھی حوالے سے فریق نہیں تھی، لیکن  قتل کے فتوے نے  اسے ایک حکومتی اور سیاسی مسئلہ بنا دیا  اور حکومت برطانیہ نے  نہ صرف رشدی کو سرکاری  طور پر تحفظ فراہم کیا، بلکہ فتوے کے رد عمل میں  اسے مغرب کے لبرل حلقوں میں آزادی اظہار کے ہیرو کا درجہ حاصل ہو گیا۔  یوں بین الاقوامی قانون اور سیاسی حکمت عملی، دونوں  اعتبار سے  فتوائے قتل کی اپروچ  غلط اور ناکام ثابت ہوئی۔ 

اس کے بعد  اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے  ۱۹۹۸ء میں اس حوالے سے سیاسی وسفارتی  جدوجہد شروع کی  اور اسلامی قانونی ومذہبی تصورات کے پس منظر میں    اس کی  کوششوں کا  ہدف یہ رہا کہ  مذہبی مفہوم میں  بلاسفیمی  کو  ایک جرم قرار دلوایا جائے۔  مغربی معاشرے کے فکری ارتقا اور قانونی وسیاسی تصورات  کے موجودہ منظر کو سامنے رکھتے ہوئے  یہ قیاس کرنا مشکل نہیں تھا کہ ان کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی، تاہم  او آئی سی کو اس نتیجے تک پہنچنے میں  کم وبیش پندرہ سال لگے اور بالآخر ۲٠۱۲ء میں   تنظیم کی طرف سے باقاعدہ  اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا۔ 

رویٹرز کی رپورٹ (۱۵ ۔اکتوبر ۲٠۱۲ء  ) کے مطابق  او آئی سی کے سیکرٹری جنرل احسان الدین اوغلو نے  بتایا کہ او آئی سی کی طرف سے ۱۹۹۸ سے ۲٠۱۱ء تک  اس بات کی ان تھک کوشش کی جاتی رہی ہے کہ  اقوام متحدہ کی تائید سے عالمی سطح پر توہین مذہب پر قانونی پابندی عائد کی جائے، لیکن ہم اقوام متحدہ کو قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، کیونکہ مغربی حکومتوں کے ہاں ایک عجیب تصور ہے جو  دوسروں کے احساسات کو مجروح کرنے اور ان کی توہین کرنے  کو بھی  آزادی اظہار  میں شمار کرتا ہے اور وہ اس کے خلاف قانون سازی کو آزادی رائے کے خلاف سمجھتے ہیں۔ احسان الدین اوغلو نے کہا کہ اس لیے اب ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اس عنوان سے عالمی قانون سازی کے لیے مزید  کوئی کوشش نہیں کریں گے،  اور اس کے بجائے مغربی ممالک سے اپیل کریں گے کہ ان کے ہاں  مقامی طور پر توہین مذہب یا نفرت انگیزی کے خلاف جو قوانین موجود ہیں، ان کو  استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو مجروح کرنے والے  اقدامات کا قانونی سد باب کریں۔   اوغلو نے کہا کہ  اس کے سدباب کے لیے مغربی ممالک میں مناسب قوانین  اور اقوام متحدہ کی  ہیومن رائٹس کونسل کی قراردادیں پہلے ہی موجود ہیں اور ان کو بس لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔

رویٹرز کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ  ۱۹۹۸ء کے بعد سے  او آئی سی  کی طرف سے  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی مختلف کمیٹیوں اور جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں  ہر سال پیش کردہ قرادادوں کو  اکثریت کی تائید حاصل ہوتی رہی جن میں مذاہب  کو بدنام کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے  کی ضرورت پر زور دیا جاتا تھا، لیکن  مغربی حکومتوں کی طرف سے ایسی قراردادوں کو  آزادی اظہار کے لیے خطرہ قرار دیا گیا اور یوں   یورپی وامریکی ممالک کی مخالفت کی وجہ سے ۲٠۱٠ء تک ان کو حاصل تائید ۵٠ فی صد تک رہ گئی۔ 

(https://www.reuters.com/article/us-islam-blasphemy/wests-free-speech-stand-bars-blasphemy-ban-oic-idUSBRE89E18U20121015)

حاصل کلام یہ کہ  مذہبی قانونی روایتوں میں، چاہے وہ اسلام ہو یا مسیحیت،  توہین مذہب پر سزا کی بنیاد  تقدس کی پامالی کے مذہبی تصور پر تھی۔ جدید مغربی معاشروں میں  یہ تصور اپنی تاثیر کھو چکا ہے اور ہیومن ازم کے فلسفے کے زیر اثر اس کی جگہ آزادی رائے کے تقدس نے حاصل کر لی ہے۔ تاہم ہیومن ازم ہی کا فلسفہ ایک دوسرے اصول یعنی انسانی جذبات واحساسات کے احترام کو بھی تقدس دیتا ہے۔  یوں مذہبی تقدس کے تصور کے تحت نہ سہی، انسان دوستی کے تصور کے تحت آزادی اظہار کے ایسے اسالیب پر قدغن عائد کرنے کی فلسفیانہ وقانونی بنیاد موجود ہے   جو ایک ہی دنیا میں رہنے والے مختلف گروہوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے اور نتیجتا بدامنی اور فساد کو جنم دیتے ہوں۔  چنانچہ پچھلی تین دہائیوں پر محیط  اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ  تہذیبوں، معاشروں اور قانونی وسیاسی تصورات کے باہمی تعامل میں ، تصادم سے بچنے اور پرامن بقائے باہمی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے   مشترکات کو دریافت کرنا اور یہ سمجھنا  بہت ضروری ہوتا ہے کہ  ایک عالمی ماحول میں   قانونی ضابطے یک طرفہ طور پر کسی ایک تہذیبی  روایت یا قانونی نظام پر مبنی نہیں ہو سکتے۔  یہاں عملیت کا زاویہ نظر اختیار کرنا ناگزیر ہے  اور کوشش کا ہدف کسی ناگوار صورت حال کے مکمل خاتمے کے بجائے اسے کم سے کم   کرنے کو ہی بنایا جا سکتا ہے۔  

آراء و افکار