مدرسہ ڈسکورسز کیا ہے؟

محمد عرفان ندیم

یہ آئیڈیا ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا تھا اور اسے عملی جامہ ڈاکٹر ماہان مرزا نے پہنچایا ۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا دونوں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور امریکی ریاست انڈیانا کی یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے منسلک ہیں۔

ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ ان کے آبا ؤ اجداد انڈیا کے شہر گجرات سے ہجرت کر کے جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا بچپن جنوبی افریقہ ہی میں گزرا ۔یہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے جب انہیں اسلامک اسٹڈیز کے مضمون میں دلچسپی پیدا ہوئی ۔ ایک دن کسی کلاس فیلو نے کلاس میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اسلام ایک غلط اور جھوٹا مذہب ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا تجسس بڑھا تو یہ امام مسجد کے پاس پہنچ گئے ۔ یہاں تشفی نہ ہوئی تو پہلے تبلیغی جماعت اور پھر مختلف اسکالرز سے ملے، لیکن تشنگی ابھی باقی تھی۔ چنانچہ انہوں نے خود دینی علوم حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ یہ دینی علوم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دینی مدارس میں آنا چاہتے ،تھے لیکن گھروالوں کا اصرار تھا کہ انہیں انڈیا جانا چاہیے۔ چنانچہ یہ ندوۃ العلماء لکھنو پہنچ گئے ، یہاں کچھ عرصے تک تعلیم حاصل کی اور پھر دار العلوم دیوبند چلے گئے ۔ وہاں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیااور قاری محمد طیب کی محفلوں میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ۔ تقریباً چھ سال تک انہوں نے مدارس میں رہ کر رسمی دینی تعلیم حاصل کی،کچھ عرصہ کے لیے کراچی بھی تشریف لائے اور اس طرح ان کی دینی تعلیم کا ایک مرحلہ مکمل ہوا ۔ 

تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ دوبارہ جنوبی افریقہ چلے گئے ،یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا، جرنلز م میں ماسٹر کیا اور صحافت کو بطور پیشہ جائن کر لیا ۔کچھ عرصہ تک جنوبی افریقہ میں ہی صحافت کرتے رہے اور ساتھ پی ایچ ڈی بھی مکمل کر لی ۔ اس کے بعد یہ امریکہ منتقل ہوئے اور مختلف اداروں سے ہوتے ہوئے یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم پہنچ گئے ۔ یہ گزشتہ بیس سالوں سے امریکہ میں ہیں اور امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسروں میں ان کا نام ٹاپ پر ہے ۔ یہ ان چند گنے چنے اسکالرز میں سے ہیں جو مغرب میں رہ کر اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کر رہے ہیں ۔ یہ امریکہ میں دینی مدارس کے وکیل سمجھے جاتے ہیں اور یہ مختلف فورمز پر دینی مدارس کا دفا ع کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ خود بھی اپنے آپ کو مدارس کا ایڈووکیٹ کہتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔

چونکہ یہ خود دینی مدارس سے گزر کر گئے ہیں، اس لیے انہوں نے 2015میں دینی مدارس کے حوالے سے ایک کتاب لکھی جس میں مدارس کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت اور افادیت پر بھی بات کی ۔ مغرب میں اس کتاب کو خوب پزیرائی ملی اور وہاں کے دانشوروں اور سول سوسائٹی کے دینی مدارس کے بارے میں جو تحفظات اور خدشات تھے، وہ کافی حد تک کم ہوئے ۔کچھ عرصہ پہلے انڈیا کے ڈاکٹر وارث مظہری نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا اور اب پاکستان میں یہ ترجمہ الشریعہ اکادمی اور اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے اشتراک سے شائع ہوا ہے۔ 21 دسمبر کو اسلام آباد میں اس کتاب کی تقریب رونمائی تھی جس میں ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا دونوں تشریف لائے تھے۔ یہ دونوں حضرات تین دن کے دورے پر پاکستان آئے تھے ، اسلام آباد میں تقریب رونمائی کے بعد مختلف یونیورسٹیز میں لیکچرز، سیمینارز اور پینل ڈسکشن ہوئی اور 24دسمبر کو یہ قطر کے لیے روانہ ہوگئے۔ 

ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کو مدرسہ ڈسکورس کا خیال کیسے آیا، اس کی طرف آنے سے پہلے میں ڈاکٹر ماہان مرزا کی طرف جانا چاہتا ہوں ۔ 

ڈاکٹر ماہان مرز ا کا تعلق اسلام آباد پاکستان سے ہے۔ یہ کافی عرصہ پہلے امریکہ منتقل ہو ئے ، بی ایس میکینکل انجینئرنگ میں کیا اور اس کے بعد یہ اسلامک اسٹڈیز کی طرف آ گئے۔ یہ ییل یونیورسٹی امریکہ سے پی ایچ ڈی ہیں ، کچھ عرصہ تک کیلی فورنیا کے زیتونہ کالج سے منسلک رہے اور آج کل یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں پروفیسر آف پریکٹس ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ مدرسہ ڈسکورس کورس کے بھی ڈائریکٹر ہیں اور بڑی مہارت اور دانشمندی سے اس کو ر س کو چلا رہے ہیں ۔

ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ جس یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، بنیادی طور پر یہ کیتھولک یونیورسٹی ہے ۔ یہاں ڈاکٹر صاحب کا رابطہ جان ٹیمپلٹن فاؤنڈیشن سے ہوا۔ یہ فاؤنڈیشن سائنس اور مذہب کے باہمی تصادم اور مذہب اور سیکولرزم کے مسائل کو افہام وتفہیم سے حل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو کچھ اسکالرشپس کی آفر ہوئی تو انہوں نے مدرسہ ڈسکورس کورس کا آئیڈیا پیش کر دیا۔ آئیڈیا یہ تھا کہ انڈیا کے مدارس کے وہ فارغ التحصیل طلباء جو گریجویٹ ہیں اور عربی اور انگلش پر مناسب عبور رکھتے ہیں، انہیں آن لائن کورس شروع کروایا جائے جس میں انہیں جدید علم الکلام کے حوالے سے مناسب تربیت دی جائے اور جدید سائنس نے مذہب کے حوالے سے جو چیلنجز اور سوالات کھڑے کیے ہیں، انہیں رسپانڈ کیا جائے ۔ مزید یہ کہ عقائد کے علاوہ فروعی مسائل میں امکانی حد تک ایسی تعبیر پیش کی جائے جو موجودہ زمانے میں قابل قبول ہو۔

ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اپنی مصروفیات کی بنا پر اس پرو جیکٹ کو وقت نہیں دے پائے، چنانچہ انہوں نے اپنے کولیگ ڈاکٹر ماہان مرزا کو ہائر کر لیا ۔ ڈاکٹر ماہان مرزا کا تعلق پاکستان سے تھا، لہٰذا انہوں نے پاکستانی اسٹوڈنٹس کو بھی اس کورس میں شا مل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ اس سال فروری 2017میں اس کورس کا پہلا سمسٹر شروع ہوا اور انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں سے ٹیسٹ اور انٹر ویو کے بعد پندرہ پندرہ اسٹوڈنٹس کو منتخب کیا گیا ۔ ہفتے میں ایک مقررہ دن پر کلاس ہوتی ہے۔ تمام اسٹوڈنٹس مقررہ وقت پر آن لائن ہو جاتے ہیں ، ٹیکسٹ کو پڑھا جاتا ہے ،ڈسکشن ہوتی ہے، سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور تشنہ سوالوں کے ساتھ کلاس ختم ہو جاتی ہے ۔ کلاس میں جو ٹیکسٹ پڑھنا ہوتا ہے، ایک ہفتہ پہلے اسٹوڈنٹس کو بھیج دیا جاتا ہے جسے وہ پڑھ کر کلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس کو مناسب لیپ ٹاپ اور نیٹ پیکچ بھی دیا گیا ہے تاکہ تعلیم کا یہ عمل کسی تعطل کے بغیر جاری رہے۔

انڈیا میں لیڈ فیکلٹی کے فرائض ڈاکٹر وارث مظہری صاحب سرانجام دے رہے ہیں۔ ٹیسٹ و انٹر ویو سے لے کر کورس کے بعض حصوں کی تدریس ان کی ذمہ داری ہے ۔ یہ دار العلوم دیوبندسے فارغ التحصیل ہیں اور ترجمان دار العلوم کے مدیر بھی رہ چکے ہیں، علی گڑھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں اور اسی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ پاکستان میں یہ ذمہ داری الشریعہ کے مدیر حافظ عمار خان ناصر صاحب سرا نجام دے رہے ہیں۔

عمار خان ناصر نامور اسلامی اسکالر مولانا زاہد الراشدی کے صاحبزادے اور مولانا سرفرازخان صفدر کے پوتے ہیں۔ پاکستان کے علمی حلقوں خصوصاً روایتی مذہبی حلقوں میں اپنی بعض انفرادی آرا اور روایت سے ہٹ کر چلنے کی وجہ سے متنازع حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ روایتی مذہبی حلقہ ان کے دینی اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے ان سے یہ توقع نہیں رکھتا، لہٰذا تحفظات اور خدشات کی وسیع خلیج جانبین میں حائل ہوگئی ہے۔مجھے ذاتی طور پر عمار خان صاحب کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا ہے، یونیورسٹی سطح پر ا ن سے تلمذ کی نسبت بھی رہی ہے۔ تحفظات کے باوجود میرا خیال ہے کہ ان کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ میرا ماننا یہ بھی ہے کہ محترم موصوف کو بھی معاملات کی نزاکت کا احساس ہونا چاہیے۔ ایک تو ان کا دینی و خاندانی پس منظراور دوسری طرف اگر وہ روایت کو روندنا چاہتے ہیں تو سر پر اپنے بڑوں اور بزرگوں کا سایہ بھی چاہیے۔ بڑوں کے زیر سایہ اور ان کو اعتماد میں لے کر جو کام کیا جائے گا، اس کے نتائج اور فوائد و ثمرات اس سے کہیں زیاد ہ اور دیر پا ہوں گے جو وہ انفرادی طور پر حاصل کر پا رہے ہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز کیوں ضروری تھا اور اس کی اہمیت و افادیت کیا ہے؟ اس سے پہلے آپ یہ واقعہ سن لیں۔ 

یہ دونوں پی ایچ ڈی کی اسٹوڈنٹ تھیں اور امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں ۔ ان کا آبائی تعلق لاہور سے تھا اور ا ن دنوں یہ لاہور آئی ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک میرے دوست ناصر باجوہ کی صاحبزادی تھیں۔ ناصر باجوہ پاکستان میں انٹر نیشنل میڈیا کا بڑا نام ہیں، یہ وائس آف جرمنی سے وابستہ ہیں اور کئی پاکستانی چینلز میں بھی کام کر رہے ہیں۔ ایک دن ان کا فون آیا کہ میری بیٹی اور اس کی چند دوستوں کا ایک گروپ ہے ،یہ سب سائنس کی سٹوڈنٹس ہیں ، ان کے ذہن میں اسلام کے بارے میں چند سوالات ہیں اور وہ اپنے سوالات کلیئر کرنا چاہتی ہیں ۔ 

اس سلسلے میں انہیں کسی اسکالر کی تلاش تھی ، مولانا طارق جمیل صاحب سے رابطہ کیا گیا تو وہ ملک سے باہر تھے ۔ ایک دو اور مولانا حضرات سے بات ہوئی تو انہوں نے معذرت کر لی۔ بالآخر لاہور کی ایک یونیورسٹی کے اسلامیات کے پروفیسر سے بات ہو گئی۔ وہ گھر تشریف لائے، اسٹوڈنٹس نے سوالا ت شروع کر دیے۔ یہ پی ایچ ڈی لیول کی اسٹوڈنٹ تھیں۔ اس سے آپ ان کے سوالات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ان کے سوالات کچھ اس طرح کے تھے کہ ہم خدا کو کیوں مانیں جبکہ جدید سائنس یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ کائنات کا نظام چند متعین قوانین کے تحت چل رہا ہے اور اس میں خدا کا کوئی کر دار نہیں۔ اگر مذہب کو ماننا ہی ہے تو دنیا میں مختلف مذاہب کیوں ہیں؟ ان سب مذاہب کو ملا کر ایک انٹر نیشنل مذہب کیوں تشکیل نہیں دیا جا سکتا؟ ہمیں عبادت کا حکم کیوں دیا گیا ہے، ہمارے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے سے اللہ کو کیا فائدہ ہوتا ہے اور اگر ہم نہیں کرتے تو اللہ کو کیا نقصان ہے؟ اگر اللہ رحمان اور رحیم ہے تو اپنے بندوں کو جہنم میں کیوں ڈالے گا؟ اللہ نے قرآن میں زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے بارے میں جو حقائق بیان کیے ہیں، جدید سائنس نے انہیں غلط ثابت کر دیا ہے، ایسا کیوں کیا ؟ پروفیسر صاحب نے اپنے علم اور فہم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہے اور محفل ختم ہو گئی ۔ 

یہ ایک مثال ہے، ورنہ ہماری نوجوان نسل میں سے اکثر اس طرح کے سوالات سے دو چار ہیں اور ان سوالات نے ان کے ذہنوں میں طوفان برپا کر رکھا ہے ، یہ سوالات کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ اس کی وجہ بڑی دلچسپ ہے ۔ دنیا کی گزشتہ تین چار سو سالہ تاریخ میں سیکڑوں نئے علوم و فنون متعارف ہوئے اور یہ سارے علوم مغرب نے متعارف کروائے ہیں۔ آج بھی مغربی یونیورسٹیوں میں پانچ پانچ سو ماسٹر ز ڈگری پروگرام چل رہے ہیں، جبکہ ہمارے یہاں کوئی یونیورسٹی بمشکل ہی سو پروگرام آفر کر رہی ہو گی۔ یہ سارے علوم وفنون نیچرل سائنسز اور سوشل سائنسز پر مشتمل ہیں اور یہ مغرب کے راستے سے ہم تک پہنچے ہیں۔ مغربی فکر کا خدا،کائنات ، سماج اور انسان کے بارے میں اپنا ایک نقطہ نظر ہے اور یہ سارے علوم اسی خاص نقطہ نظر اور تناظر میں پروان چڑھے ہیں۔ اب ہمارے نوجوان جب یہ علوم وفنون یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں تو اس کا ٹکراؤ ان کے ایمان اور عقیدے سے ہوتا ہے اور یہیں سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ اب سوالات تو اٹھ رہے ہیں، لیکن انہیں رسپانڈ نہیں کیا جا رہا اوراس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے، اس کا شاید ہمیں ابھی احساس نہیں ہو پا رہا۔

یہ سوالات ماضی میں بھی تھے، لیکن تب صورتحال مختلف تھی۔ ایک تو ان سوالات کی نوعیت مختلف تھی، دوسرا انہیں رسپانڈ کرنے کے لیے پورا علم الکلام موجود تھا۔ علم الکلام کیا تھا اور یہ کیسے وجود میں آیا؟ یہ حقیقت بھی دلچسپ ہے۔ آسان لفظوں میں آپ علم الکلام کو فلسفے کی اسلامی شاخ کا نام دے سکتے ہیں۔ ابتدائی صدیوں میں دین اسلام جب جزیرۂ عرب سے نکل کر عجم میں پھیلا تو اس کا سامنا وہاں کے مقامی مذاہب اور فلسفوں سے ہوا۔ یہ دور یونانی فلسفے کے عروج کا دور تھا۔ایک طرف یونانی فلسفہ اور دوسری طرف ہندو متھا لوجی نے اسلام کے سامنے خدا، کائنات ،سماج اور انسان کے بارے میں بہت سارے سوالات کھڑے کر دیے تھے ۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کے اندر بھی کچھ ایسے گروہ پیدا ہو گئے تھے جنہوں نے کائنات ، خدا ، قرآن ، معجزات ، بندے اور خدا کے تعلق اور مرتکب کبیرہ کے بارے میں بحث کا آغاز کر دیا تھا۔ یہ لوگ اہل سنت سے ہٹ کر ایک الگ روش پر چل نکلے اور معتزلہ کہلائے۔ اسلامی علمی روایت میں سب سے پہلے انہی لوگوں نے عقلیت کا نعرہ لگایا اور عقلی بنیادوں پر احکام و مسائل کی تشریح کرنے کی کوشش کی۔

ان سے پہلے فقہی مسائل میں بحث و مباحثہ ہوتا تھا، لیکن عقائد پر بات نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے عقائد پر بھی بات شروع کر دی اور یوں اہل سنت کو یونانی فلسفے ، ہندو متھالوجی کے ساتھ معتزلہ کی کلامی مباحث کا بھی جواب دینا پڑا۔ ان سارے چیلنجز اور سوالات کو رسپانڈ کرنے کے لیے جو علمی روایت قائم ہوئی، اسے علم الکلام کا نام دیا گیا اور اس فن کے ماہرین متکلمین کہلائے ۔ اہل سنت کی طرف سے اشاعرہ اور ماتریدیہ نے اس میدان کو سنبھالا اور اپنے وقت اور زمانے کے سوالات اور چیلنجز کو بہترین طریقے سے رسپانڈ کیا ۔ 

گزشتہ تین چار صدیوں سے مسلمانوں پر جو علمی و سیاسی زوال آیا، اس کے اثرات علم الکلام پر بھی پڑے ۔ اگرچہ برصغیر ، ایران اور مصر میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے طور پر علم الکلام کو زندہ رکھنے کی کوشش کی اور اپنے دور کے سوالات کا جواب دیا، لیکن یہ انفراد ی کوششیں ذیادہ دیر تک نہ چل سکیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جدید سائنس اور فلسفے نے سوالات کی نوعیت بدل ڈالی ہے۔ اکیسویں صدی میں جدید سائنس اپنی معراج پر کھڑی ہے، انسانی فہم وشعور ارتقاء کی منازل طے کرتا ہوا بہت آگے جا چکا ہے۔ جدید سائنس نے قدیم متھالوجی اور ایمان و عقیدے کے باب میں بہت سارے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور سوشل اور نیچرل سائنسز کے دائرے میں سوالات کا ایک طوفان ہے جو مسلسل بلند ہوتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے اور نوجوان نسل اس طوفان میں غرق ہو رہی ہے، لیکن اسے کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا ۔

اس وقت جو سوالات پیدا ہو رہے ہیں، وہ دو طرح کے ہیں۔ ایک ، وہ سوالات جو غیر مسلموں کی طرف سے سامنے آ رہے ہیں۔ اس میں مستشرقین سے لے کر جدید سائنس اور جدید مغربی فکر و فلسفہ شامل ہیں۔ دوسرے، وہ سوالات جو خود مسلمانوں کے اپنے ذہنوں میں پرورش پا رہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں الجھاؤ اور وسوسے پیدا کر رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک سائنس کا اسٹوڈنٹ یا ایک عام مسلمان جب ان سوالا ت کو لے کر اپنے محلے کی مسجدیا امام کے پاس جاتا ہے تو اسے تسلی بخش جواب نہیں ملتا اور اس کی تشنگی بر قرار رہتی ہے۔ ہمارے علماء ،قراء حضرات اور ائمہ مساجد کے ایمان و تقویٰ میں کو ئی شک نہیں۔ ان کی علمی پختگی ، دینی تصلب اور خشیت الٰہی میں کسی کو شبہ نہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب نہیں دے پا رہے۔ ہمارے مدارس میں آج جو فلسفہ اور علم الکلام پڑھایا جا رہا ہے، وہ وہی ہے جو قدیم یونانی فلسفے اور معتزلہ کے سوالات کو رسپانڈ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ بلاشبہ یہ اپنے دور کا بہترین علم الکلام تھا، لیکن آج اس سے کام نہیں چلے گا ۔ہمیںآگے بڑھ کر جدید سائنس، انسانی شعور کے ارتقاء، نئے علوم وفنون اور جدید مغربی فکر و فلسفے کو مد نظر رکھ کرنئی تھیا لوجی یا نیا علم الکلام ڈویلپ کرنا پڑے گا۔ 

ہم اس وقت اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق انسان نے اس زمین پر پہلا قدم دس ہزار سال پہلے رکھا تھا، ان میں سے پہلے پانچ ہزار سالوں کے بارے میں انسانی علم خاموش ہے ۔ اگر کچھ بیان کیا جاتا ہے تو وہ محض ظن و تخمین ہے ۔ آخری پانچ ہزار سالوں کی تاریخ کسی نہ کسی حد تک ہمارے پاس محفوظ حالت میں موجود ہے ۔ ان پانچ ہزار سالوں میں دنیا میں تقریباً بائیس نامور تہذیبوں نے جنم لیا ، اسلامی تہذیب بھی ان میں سے ایک ہے ۔ان میں سے ہر تہذیب ماقبل تہذیب سے اپنے تجربات ومشاہدات کی بنیاد پر ارتقاء اور فہم وشعور کی اگلی منزل پر کھڑی ہوتی تھی۔ اسلامی تہذیب نے انسانی فہم و شعور کوجومہمیز دی، پہلی تہذیبوں میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔شاید پہلی تمام تہذیبوں نے مل کرانسانی فہم و شعور کووہ عروج نہیں بخشا جواکیلے اسلامی تہذیب نے انسان کو عطا کیا۔

اسلامی تہذیب نے تسخیر کائنات کا نظریہ پیش کر کے آزادانہ غور فکر اور تجربات و مشاہدات کا راستہ ہموار کیا ۔ اس سے قبل جن چیزوں کو مقدس مان کر ان کی پوجا کی جاتی تھی، اسلامی تہذیب نے اس پر غور و فکر شروع کر دیا اور یہی عمل بعد میں جدید سائنس کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ ارتقاء اور انسانی فہم و شعور کوآگے بڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا، لہٰذا ہمیںآگے بڑھ کر اس کا حل نکالنا پڑے گا۔ آج سے چودہ سو سال پہلے انسانی شعور جس جگہ پر کھڑا تھا، آج ترقی کرتا ہوا بہت آگے نکل چکا ہے۔ سائنس نے کائنات کے ان گنت راز افشاں کر دیے ہیں اور اکیسویں صدی کی مغربی تہذیب اور مغربی فکر و فلسفے نے آدھی دنیا فتح کر لی ہے۔ اب مسئلہ یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اسلامی شریعت جو اس وقت کے انسانی فہم کو بنیاد بنا کر نازل ہوئی تھی، موجودہ دور میں ان کی تفہیم کے حوالے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ جدید علوم، جدید سائنس اورجدید مغربی فکر و فلسفہ ان کے بالکل مخالف پوزیشن پر کھڑا ہے اور ان پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے ۔ یہ حملے اس قدر شدید اور خطرناک ہیں کہ ہمارے بعض مسلمان بھائی ان کی زد میں آ کر ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ماضی میں یہ حملے یونانی فلسفے اور مقامی مذاہب اور متھالوجی کی طرف سے ہوتے تھے، لیکن ایک تو اسلامی تہذیب غالب تھی اور دوسرا انہیں رسپانڈ کرنے کے لیے پورا علم الکلام موجود تھا۔ لیکن آج ہمارا مسئلہ تھوڑا مختلف ہے ۔ ہمارے سامنے جو محاذ ہے، اس میں جدید علوم ، جدید سائنس اور جدید مغربی فکر مورچہ زن ہے لیکن ہم آج بھی یونانی فلسفے اور قدیم متھالوجی کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں ۔ اب یہ جو خلیج پیدا ہو رہا ہے، اس کا حل کیا ہے اور ہم اس خلیج کو کیسے پر کر سکتے ہیں؟ اس کے لیے ہمارے پاس دو آپشن ہیں ۔ ایک، ہم نیو تھیا لوجی یا علم الکلام کے نام سے ایک کورس ڈیزائن کریں اور اسے اپنی یونیورسٹیوں میں پڑھانا شروع کر دیں ۔ میرے خیال میں یہ آپشن ممکن نہیں کیونکہ نئے علم الکلام کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے قدیم کلامی مباحث اور دینی نصوص پر گہرا عبور ہونا ضروری ہے، اس کے لیے عربی سے مناسب حد تک واقفیت بھی لازمی شرط ہے اور ہمارا یونیورسٹی کا اسٹوڈنٹ ان تمام چیزوں سے ادنیٰ واقفیت بھی نہیں رکھتا ۔ اسے کلامی مباحث سے بھی واقفیت نہیں اور اسے عربی کے معرب اور مبنی کا بھی نہیں پتا، لہٰذا ہم یہ آپشن استعمال نہیں کر سکتے ۔ اگر کرتے بھی ہیں تو اس سے نتئج حاصل نہیں کر سکتے ۔ 

ہمارے پاس دوسرا آپشن دینی مدارس ہیں۔ دینی مدارس میں پہلے ہی علم الکلام کے نام سے ایک سبجیکٹ داخل نصاب ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ وہی علم الکلام ہے جو قدیم یونانی فلسفے، مقامی مذاہب اور معتزلہ کو رسپانڈ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔جدید علوم وفنون، جدید سائنس اور جدید مغربی فکر و فلسفہ کیا کہہ رہے ہیں اور کون سے سوالات کھڑے کر رہے ہیں، اس حوالے سے مباحث اس میں شامل نہیں ۔ صرف تھوڑی سے ترمیم و اضافہ سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ مدارس کے ذمہ داران ایک کمیٹی تشکیل دیں، یہ کمیٹی مسائل کا جائزہ لے ، اس کے لیے ایک کورس مرتب کرے اوراسے نصاب کا حصہ بنادے ۔ مدارس کے طلباء جو قدیم کلامی مباحث سے بھی واقف ہیں ، دینی نصوص پر بھی انہیں عبور حاصل ہے اور عربی سے بھی انہیں شناسائی ہے ،یہ طلباء محض تھوڑی سی محنت سے اس قابل ہو سکیں گے کہ اس خلیج کو پر کر سکیں ۔

اس سے بھی زیادہ بہتر صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے ہاں مدارس میں کئی قسم کے تخصصات چل رہے ہیں ،ان میں ایک تخصص جدید مغربی فکر و فلسفے کے نام سے شروع کر دیا جائے۔ اس میں ان طلباء کی ترجیح دی جائے جو درس نظامی کے ساتھ انگلش پر بھی مناسب حد تک عبور رکھتے ہوں تاکہ وہ اصل ماخذات سے اس فکر اور فلسفے کو سمجھ کر اس کو رسپانڈ کر سکیں ۔ یہ کام آج نہیں تو کل بہر حال ارباب مدارس کو کرنا ہو گا اور یہ ان کی دینی و ملی ذمہ داری ہے ۔ 

ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزانے مدرسہ ڈسکورس شروع کر کے فرض کفایہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہیں اس چیز کا احساس کیسے ہوا؟ اس کی وجہ ان کا وہ ماحول اور سوسائٹی ہے جس میں وہ رہ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر نئی چیز کو شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کی فضا اس کورس کے بارے میں بھی کچھ حلقوں میں پائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں ہمیں چیزوں کو وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ دار العلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء کے پڑھے ہوئے ہیں، لیکن اپنے بعض افکار کی وجہ سے مین اسٹریم میں قابل قبول نہیں۔ اس کی وجہ شاید ان کا وہ پس منظر اور تناظر ہے جس میں وہ رہ رہے ہیں۔ تناظر کے بدلنے سے دیکھنے کا زاویہ بھی بدل جاتا ہے۔ وہ مغرب میں جس سوسائٹی اور معاشرے میں رہ رہے ہیں، ان کی تفہیم اور ہماری تفہیم میں فرق کا آجانا ایک لازمی امر ہے اور ہمیں اس بات کو کھلے دل سے قبو ل کرنا چاہیے۔ ہاں، اگر یہ تفہیم بنیادی عقائد اور متعین نصوص کے باب میں ہوتو الگ بات ہے ۔ 

جہاں تک میں ڈاکٹر صاحب کو جانتا ہوں، ان کی نیت میں کوئی شک نہیں ، وہ خود مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں اور ان کاماننا ہے کہ یہ خلیج صرف مدارس کے طلباء ہی پر کر سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے مدارس کے طلباء سے ہی اس کورس کا آغاز کیا۔ البتہ کورس میں شریک بعض دوست شعوری یا غیر شعوری طور پر مدارس اور ارباب مدارس کے بارے میں غیر متوازن رویہ رکھتے ہیں۔ شاید یہ طرز عمل ٹھیک نہیں ۔ محض تنقیدبرائے تنقید کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ، آپ مثبت سوچ اور مثبت رویے کے ساتھ اپنے حصے کا چراغ جلائیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ آپ کو جس چیز کا احساس ہو چکا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس کا احساس ہمارے بڑوں کو بھی ہونا چاہئے تو احسن طریقے سے اپنی بات کو ان تک پہنچانے کی کوشش کریں، قطع نظر اس کے کہ کوئی آپ کی بات سنتا ہے یا نہیں۔کیونکہ ہر نئی بات کہنے والے کو اسی طرح کے طرز عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اور اگر آپ بجائے اپنی بات کو ان تک پہنچانے کے الٹا ان اداروں اور ان افراد پر تنقید شروع کر دیں گے تو اس سے بجائے فائدے کے الٹا نقصان ہو گا اور کورس کے منتظمین کے جو نیک مقاصد ہیں، وہ بھی ہدف تنقید بن جائیں گے اور اس ساری تگ و دو کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔اگر آپ یہ مثبت طرز عمل اختیار کرتے ہیں تو یہ تنقید برائے تنقید سے کہیں زیادہ سود مند ثابت ہو گا۔ 

تعارف و تبصرہ