الشریعہ اکادمی میں اسلامی تاریخ پر کوئز مقابلہ

مولانا محفوظ الرحمٰن

تاریخ کا علم نسل انسانی کی بقا اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ تاریخ سے سابقہ اقوام کی سرگزشت معلوم ہوسکتی ہے۔ قرآن کریم نے بھی سابقہ اقوام کے قصوں کوبڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرکے آنے والے لوگوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ کا ایک تابناک دورتھاجس سے واقفیت اور اطلاع نئی نسل کو بہتر راستے پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کاہے جس کوسیرت طیبہ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعدخلفاء راشدین کا دور ہے اور پھر خلافت بنوامیہ اورخلافت بنوعباس اور اس کے بعد خلافت عثمانیہ بڑے طمطراق والی خلافتیں گزری ہیں۔ 

سیرت وتاریخ کی اسی اہمیت کے پیش نظر الشریعہ اکادمی میں گزشتہ چند سال سے سیرت اور تاریخ کے موضوع پر کوئز مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ سیرت نبوی کے علاوہ خلفاء اربعہ، حضرت معاویہ، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرات حسنین کریمین کی زندگیوں پر مقابلے منعقد کیے جا چکے ہیں۔ امسال کوئز مقابلہ کے لیے خلافت بنوامیہ اور خلافت عباسیہ کا موضوع منتخب کیا گیا۔ 

مقابلے کا انعقاد دو مرحلوں میں کیا گیا جس میں شہر کے مختلف مدارس سے طلبہ نے شرکت کی۔ ہرٹیم تین تین شرکاء پرمشتمل تھی۔ مدرسہ ابوایوب انصاری کی ایک ٹیم جبکہ جامعہ حقانیہ، جامعہ مدینۃالعلم، جامعہ دارالعلوم گوجرانوالہ اور الشریعہ اکادمی سے دو دو ٹیمیں شریک ہوئیں۔ مقابلہ کاپہلاسیشن ۱۱ جنوری کو مکمل ہوا جس میں کامیاب ہوکر فائنل مرحلے میں پہنچنے والی آٹھ ٹیموں نے ۱۸ جنوری کو مقابلے کے آخری راؤنڈ میں حصہ لیا۔ مقابلہ ہر لحاظ سے دلچسپ رہا۔ طلبہ کی ان تھک جدوجہداورانتہائی لگن سے کی ہوئی تیاری قابل دادتھی جس میں ہرخلیفہ کی زندگی، کارنامے اور دیگر تاریخی امور زیر بحث لائے گئے۔

مقابلہ میں الشریعہ اکادمی کی ٹیموں نے اول اور سوم جبکہ جامعہ حقانیہ کے طلباء نے دوسری پوزیشن حاصل کرکے میدان جیتا۔ کانٹے دارمقابلہ میں سوالات کے جوابات اتنے بھرپورتھے کہ تقریباًتین دفعہ دو دو ٹیمیں برابر رہیں جن سے مزید سوالات کرکے ایک کوکامیاب قرار دیا جاتا رہا۔ سوالات تیار کرنے اور میزبانی کی ذمہ داری الشریعہ اکادمی کے استاذ مولاناعبدالغنی محمدی نے بخوبی سرانجام دی، جبکہ اکادمی کے دیگراساتذہ اورعملہ نے پروگرام کی کامیابی کے لیے بھرپور محنت کی۔ 

شرکاء کوقیمتی انعامات اورشیلڈز سے نوازاگیا۔ انعامات کی تقریب میں اول آنے والی ٹیم کو۹۰۰۰ روپے مع قیمتی کتب، دوم آنے والی ٹیم کو ۶۰۰۰ روپے مع قیمتی کتب اورسوم آنے والی ٹیم کو۴۵۰۰روپے مع قیمتی کتب دی گئیں۔ انعامات الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹرحضرت مولانا زاہدالراشدی دام مجدہ نے اپنے دست مبارک سے دیے۔ بعد ازاں مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نے مختصر گفتگو فرمائی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ علماء کرام سب سے زیادہ فن تاریخ میں کمزور شمار ہوتے ہیں، چنانچہ فن تاریخ سے واقفیت کی غرض سے چندسالوں سے اس مقابلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ الحمد للہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ پورے ذوق سے جاری ہے۔ تاریخ کی اہمیت بیان کرنے کے بعد استاذمحترم مدظلہ نے طلبہ کو دعاؤں سے نوازا۔ طلبہ کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے لیے شہر بھر کے مدارس سے اساتذہ کرام کی ایک بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجودتھی۔ اختتامی دعا جامعہ مدینۃ العلم کے بانی ومہتمم مولاناریاض جھنگوی صاحب نے کروائی اور یہ پررونق مجلس حاضرین کے عشائیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ 

الشریعہ اکادمی

Flag Counter