مدرسہ ڈِسکورسز کا وِنٹر اِنٹنسو ۔ میرے تاثرات

سید مطیع الرحمٰن

مدرسہ ڈسکورسز کے پہلے سمسٹر کے بعد نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی جانب سے حمد بن خلیفہ یونیورسٹی دوحہ (قطر) میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ورکشاپ 25 دسمبر تا 30 دسمبر 2017ء تک جاری رہی۔ 

قطر میں ایک پورا علاقہ ایجو کیشن سٹی کے نام سے موسوم ہے جہاں یونیورسٹیز ، کالجز ،لائبریریز قریب قریب واقع ہیں۔ حمد بن خلیفہ یونیورسٹی بھی اسی علاقے میں ہے۔ یہ یونیورسٹی 2007ء میں قائم کی گئی۔غالباً یہ وہی یونیورسٹی ہے جس کے نظام و نصاب کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی خدمات لی گئی تھیں۔ہماری ورکشاپ کے دنوں میں یہاں تعطیلات تھیں۔ نہایت خوبصورت کلاس رومز ، اعلیٰ درجے کی سہولیات سے مزین آڈیٹوریم ، لائبریری،شاندار مسجد ، اور بہت ہی بااخلاق اور معاون عملہ موجود تھا۔

ورکشا پ کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ پہلاڈیڑھ گھنٹے کا سیشن لیکچر پر مشتمل ہوتا۔ پھر پندرہ منٹ کی بریک کے بعد لیکچر کابقیہ حصہ اور سوال وجواب کی نشست ہوتی۔ اس کے بعد نماز اور دوپہر کا کھانا۔ دوپہر کے کھانے کے لئے بہترین ہوٹلز کا انتخاب کیا گیا، ڈشز اتنی ہوتیں کہ ہر کسی کو اس کی پسند کی ڈش مل جاتی۔ ہوٹل سے دوبارہ یونیورسٹی واپسی ہوتی، پھر ڈسکشن روم میں طلبہ کے چھ یا سات گروپ تشکیل دے دیے جاتے اور انہیں اس دن کے لیکچرکے بنیادی اور اہم نکات پر گفتگوکرنے اور سوالات تیار کرنے کا کام سونپاجاتا۔ اساتذہ اس گروپ ڈسکشن میں خود بھی طلبہ کے ساتھ بیٹھتے اور ان کی گفتگو کو سنتے۔ تما م طلبہ اپنے اپنے نکات، گروپ میں ڈسکس کرتے اور سوالات تیارکرتے جس کا جواب وہی استاذ دیتے جن کا اس دن لیکچر ہوتا۔ گروپس روزانہ کی بنیاد پر نئے بنائے جاتے تاکہ تمام طلبہ کا ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ و مباحثہ ہو سکے اور ایک دوسرے سے خیالات کا تبادلہ زیادہ مفید انداز میں ہو سکے۔ یہ سیشن بھی ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس ڈسکشن کے دوران میں مختلف طلبہ کی مختلف آراء نے ذہن کو کئی نئی وسعتوں سے روشناس کرایا اور کئی نئے زوایہ ہائے فکر سامنے آئے۔ اساتذہ باری باری تمام گروپس کے سوالات کے جوابات دیتے۔ اس کے بعد دو گھنٹے کے لیے ہوٹل میں آرام کے لیے لے جایا جاتا۔ شام کے بعد اگلے دن کے لیکچر کی تیاری کے لیے دیے گئے مواد کو پڑھنے اور اس پر غور خوض کاسیشن ہوتا۔ اساتذہ اس ٹاسک میں بھی طلبہ کی ہر طرح کی معاونت کرتے۔اس سیشن کے بعدرات کے کھانے کے لیے کوچ کیا جاتا اور اس کے بعد تقریباً رات آٹھ بجے آرام کے لیے ہوٹل پہنچ جاتے۔

علمی و فکری دنیا میں خلوص اور علمی دیانت دو نہایت جلیل القدر اقدار ہیں جن کے بغیر صراطِ مستقیم پر دو قدم بھی چلنا محال ہے۔ تمام اساتذہ میں ان اقدار کو بدرجہ اتم موجود پایا۔ ان کا ہاں روایت پر بھی گہری نظر موجود ہے اور جدید مباحث و نظریات پر بھی پوری بصیرت۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسہ ڈسکور سز کے ایک سمسٹر کے بعد، اسلامی روایت کے بارے میں خود کو فکری طورپر اعتماد کی فضا میں محسوس کر رہا ہوں۔ ایمان کو شعوری اور فکری طور پر بھی قلب و ذہن میں جاگزیں ہوتا محسوس کر سکتا ہوں۔ اپنی روایت میں جب غزالی، ابن تیمیہ، ابن رشد، ابن حزم اوررازی جیسے عبقر یوں کی منتخب تحریریں نظر سے گزریں تو اسلامی روایت کو نہایت مضبوط فکری بنیادوں پر استوار پایا۔

ڈاکٹر ماہان مرزا جو اس پورے پروگرام کی جان ہیں، نہایت ہی زندہ دل ، خوش مزاج اور خوش دل انسان ہیں۔ پوری تندہی اور چستی سے ہر گام ہمارے ساتھ رہے۔ ہماری حس مزاح کو بھی گدگداتے رہے اور ہمیں ہوٹل ، یونیورسٹی اور دیگر مقررہ جگہوں پر وقت پر پہنچنے کا پابند بھی کرتے رہے۔ سیشنز کے اختتام پر بسوں کی طرف کوچ کرنے کے لیے ان کا نعرہ ’’اِلیَ البَسَّین‘‘ ابھی بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ الوداعی ڈنر میں ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ نے سر ماہان کے لیے ایک جملے میں ہم سب کی دلی ترجمانی کردی: ?Who can do without Mahan۔ ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا،پھر اس جملے پر سر ماہان کے ایک تبصرے نے پوری محفل کو کشت زعفران بنادیا۔

ایک نہایت قیمتی پہلو اس ورکشا پ کا یہ تھا کہ سیشن کے درمیان چائے اور کافی بریک میں،آڈیٹوریم سے ہوٹل تک ، ڈسکشن روم سے مسجد تک، یہاں تک کہ کھانے کے دوران میں بھی اساتذہ سے کسی بھی موضوع پر سوال کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ اساتذہ نہایت توجہ سے سوال سنتے اور پوری تفصیل سے جواب دیتے۔ اچھے سوالات کو بعض دفعہ اساتذہ لیکچر یا ڈسکشن سیشن میں تمام طلبہ کے سامنے دہراتے،سراہتے اور اس کے جوابات کی مختلف جہتیں سامنے لاتے۔

میرے نزدیک اس پوری ورکشاپ میں جو مباحث بنیادی اہمیت کے حامل تھے، ان میں مرکزی بحث جدید لسانی مباحث کی تھی اور اسی کے تناظر میں دورِ جدید کی فکری تحدیات کو دیکھا گیا۔ گزشتہ نصف صدی سے ساختیات،پس ساختیات اور مابعد ساختیات کے نظریات و مباحث نے متن کی تفہیم کے نئے نئے زاویے اور نئی نئی جہات متعارف کروائی ہیں جس سے مذہبی متون کے لیے نئی تحدیات سامنے آئی ہیں۔ اس ضمن میں پروفیسر توشی ہیکو ازوتسو کی منتخب تحریر اور پروفیسر ابراہیم موسی کے مضامین زیر بحث آئے جن میں دینی متون کے حوالے سے روایت اور جدید لسانی زاویہ نظر کو بیا ن کیا گیا ہے۔ اسی طر ح سر عمار ناصر نے الفاظ کے حقیقی اور مجازی معانی اور ان کی تعیین کے اصول و قواعد پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اور اس پہلو پر خوب روشنی ڈالی کہ زبان اور اہل زبان کے ہاں عمومی طورپر یہ اصول طے شدہ ہوتے ہیں کہ کس مقام پر لفظ کامجازی معنی مراد لیا جا سکتا ہے اور کہاں حقیقی۔ سر وارث مظہری نے بھی اسی پہلو کو زیرِ بحث لاتے ہوئے امام غزالی اورامام ابن تیمیہ کے اصولِ تاویل کو موضوعِ بنایا، خاص طور پر امام غزالی کی "اصول التاویل" کی روشنی میں اہل تاویل کے پانچ گروہوں اور ان کے اصولِ تاویل کا مطالعہ پیش فرمایا۔ اردن سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر رنا دجانی کے ہاں بھی الفاظِ قرآنی کی تاویل کا ایک اطلاق ڈاورن کے نظریہ ارتقا ء اور تخلیقِ آدم کے قرآنی بیانات کے ضمن میں سامنے آیا۔ 

اس ساری گفتگو سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ جدید علم اور قدیم متن کے مابین بنیادی مسائل میں اہم ترین مسئلہ متن کی تاویل کے امکانات اور اس کی حدود کا تعین کرنا ہے۔ تاویل کی حدود اور قرآنی الفاظ کے ممکنہ معانی اور اس معانی میں سے جدید دور کے تناظر میں چناؤ اور بقول پروفیسر توشی ہیکو ان الفاظ کے ساخت اور بناوٹ میں شامل اس دور کی ثقافت اور نظریہ کائنات کے بنیادی اجزا ء کا مطالعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وہ بنیاد ی مسئلہ ہے جو اس پوری ورکشا پ کے علمی مکالمے کا محور بنا رہا۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے چند اہم باتیں اگر ملحوظ رکھی جائیں تو اس بحث کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے:

ایک بنیادی اصول یہ مدنظر رکھنا ہوگا کہ تاویل کے حوالے سے کوئی بھی ایک اصول ہر ہر آیت پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں مختلف آیات کو مختلف گر وپس میں تقسیم کیاجا ئے اور تمام گرو پس پر الگ اصولِ تطبیق لاگو کرنے کی کوشش کی جائے۔

الفاظ اور ان کے اندر معانی اور اس کی مختلف تعبیرات کے حوالے سے تمدن عر ب،عر ب کا نظریہ حیات و کائنات اور جاہلی شاعری کو مدنظر رکھا جائے۔ بہت سی آیاتِ قرآنی جن کی تفہیم آج محلِ نظر ہے، وہ عرب کے مشرکین کے ہاں بھی اعتراض کی وجہ نہیں بنیں۔

ہماری علمی میراث اور روایت میں موجود اس مسئلہ سے متعلق علمی و فکری مباحث کو خام مال کی طرح لے کر نئی عمارت کھڑی کی جائے۔نہ اپنی روایت سے بے اعتنائی کا رویہ درست ہے اور نہ ہی اسی کے گر د طواف کر نے کا۔ختمِ نبوت کو اقبال اپنے خطبات میں رحمتِ خداوندی قرار دیتے ہیں۔ تاویل کی وسعت کے حوالے سے ہمیں ختم نبوت کی حکمتوں کو سمجھنا ہوگا کہ آخر کیوں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص وقت میں وحی کا سلسلہ ختم دیا اور چند ہزار فقروں تک محدود کر دیا۔

مذہبی متن اور انسانی ذہن کے مابین تعلق محض تعقلی نہیں، وجدانی بھی ہے۔ ان وجدانی دوائر و جہات کو بھی کھو جنے کی ضرورت ہے جس کے بارے میں واضح اشارے امام غزالی کے ہاں بھی ملتے ہیں۔

تاویل کرتے ہوئے قرآنی احکام کی بنیادی روح کو متاثر نہ کیا جائے۔ یہاں یہ بات بڑی اہم ہے کہ قرآنی احکام کی روح بڑی نمایاں اور ظاہرہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آیاتِ قرآنیہ کی روح نہایت پوشیدہ اور کوئی چیستان ہو جس کی تفہیم جو ئے شیر لانے کے مترادف ہو، بلکہ اس کے علل و مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے متن کی شرح کی نئی جہات متعین کی جائیں۔

ورکشا پ کے اختتام پر الوداعی ڈنر کے موقع پر تمام اساتذہ نے باری باری اپنے خیالات کا اظہار فرمایا اور نہایت محبت بھرے جذباتی انداز میں طلبہ کو رخصت فرمایا۔اس موقع پر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی آنکھوں میں مچلتے آنسو صاف دکھائی دے رہے تھے۔اللہ ان تمام اساتذہ کی مساعیِ جمیلہ و عظیمہ اور اخلاص کو قبول فرمائے۔

تعارف و تبصرہ