چند جدید عائلی مسائل ۔ فقہی تراث کا تجزیاتی مطالعہ

مولانا محمد رفیق شنواری

ہم نے مدرسہ ڈسکورسز کی کلاس میں  “جرم  زنا” کی ماہیت اور تعریف نیز بنیاد فراہم کرنے والے مفروضوں کا تجزیہ کرنا تھا جس کے لیے ڈاکٹر سعدیہ یعقوب صاحبہ نے امام سرخسی کی کتاب المبسوط کے کچھ صفحات (جلد نہم ص ۵۴-۵۵) کا انتخاب کیا تھا۔ پہلے ہم نے اس بنیادی سوال کا تعین کیا جس کا امام سرخسی ان صفحات میں جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیوں کہ تراث جس مقصد کے لیے پڑھائی جا رہی ہے ، اگر وہ مقصدی سوال سامنے نہ ہو تو سمجھنے کے جتن کا کیا معنی؟ اس کے بعد اس منتخب حصے کو کئی مناسب حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ یہ حصہ محض کئی مسائل کی تصویر اور تکییف پر مشتمل تھا ، جس سے ہمیں مسئلہ زیر بحث میں حنفی اور شافعی نقطہ ہائے نظر کا اس قدر دل چسپ تقابلی انداز میں پتہ چلا کہ اس اختلاف کے اسباب معلوم کرنے کا ایک فطری تجسس محسوس ہوا۔ اس کے بعد اگلا حصہ اسی اختلاف کے اسباب سمجھنے اور جزوی دلائل پر نظر ڈالنے کا تھا۔ اس کے بعد والا حصہ اس بحث کے لیے بنیادی کردار فراہم کرنے والے فقہی اصول یا بنیادی مفروضوں کی نشاندہی سے متعلق تھا۔ اور اخیر میں بنیادی اصول یا مفروضوں ، جن پر حنفی یا شافعی نقطہ نظر کھڑا ہے ، کی دریافت اور پھر ان پر قائم جزئیات کی regulation کے بعد اس بحث کے نئے مسائل پر انطباق اور توسیع کا کام تھا ، جس کے لیے اس نشست کا آخری حصہ مقرر تھا۔ اب ہم آتے ہیں ان تمام نشستوں میں سامنے آنے والی بحث کی تلخیص کی جانب ، جو اس طریقہ کار کا ایک عملی تجربہ رہا۔

۱۔ بنیادی سوال کا تعین: خاندانی نظام اور اس میں میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریوں سے متعلق تحریکِ فیمینیزم کے نتیجے میں بعض فقہی احکام سےمتعلق تبدیلی یا عملی طور پر سستی اور ذہول کے رجحانات پیدا ہورہے ہیں۔ بالخصوص مغربی دنیا میں ، قدیم فقہ اور جدید مباحث کے تقابلی اور تنقیدی مطالعے کی روشنی میں ان رجحانات کا جائزہ لینا تھا ، کہ کس حد تک قابل قبول یا ناقابل قبول ہو سکتے ہیں اور ان کی بنیاد کیا ہوگی؟ اس مقصد کیلئے اولا میاں بیوی کے تعلقات کی بنیاد ، بالخصوص جنسی تعقات کی فقہی و قانونی ماہیت ،سمجھنا تھا۔ اسی طرح ان تعلقات کی Nature کا ادراک کرنے اورپورے عائلی نظام کے مزاج کی تفہیم کے بعد نئے مسائل پر غور و فکر کا عمل آسان ہو سکتا ہے۔ میاں بیوی کے جنسی تعلقات کی ماہیت کی تحقیق زیادہ جامعیت کے ساتھ سمجھنے میں امام سرخسی کی کتاب المبسوط کے حدود کے مسائل میں آنے والی ایک بحث ، جو جنسی تعلق کے اندر مرد عورت کے کردار کا تعین کرتی ہے ، سے ملتی تھی اس لئے اس حصے کو منتخب کیا گیا۔ اس دوران مرکزی توجہ قدیم فقہ میں بیوی کو ادا ہونے والے مہر  کے بدلے میں خاوند کو اس پر حاصل ہونے والے تصورِ” ملکیت” پر اور زنا کا جرم سرزد ہونے کے دوران عورت کی جانب سے مرد کو ملنے والے “تمکین” کے تصور پر رہی ، کہ ان کے مفاہیم اور اطلاقات کیا ہیں؟

۲۔ متعلقہ فقہی جزئیات کی تکییف: اس دوران توجہ سرخسی کی گفتگو کے ترجمے کے بجائے اس کے ذکر کردہ فروعی مسائل کو اصولی اور تقعیدی (قاعدہ کی شکل دینا) صورت دینے پر رہی۔ ایسے بنیادی مسائل کچھ یوں تھے:

1- اگر “اہلیت” رکھنے والا مرد “اہلیت” رکھنے والی خاتون کو زنا کے ارتکاب پر مجبور کرے ۔ تومرد کو سزا ہوگی ، اور عورت کو سزا نہیں

2- اگر “اہلیت” رکھنے والا مرد “اہلیت” نہ رکھنے والی خاتون کو زنا کے ارتکاب پر مجبور کرے ۔ مرد کو سزا ہوگی ، اور عورت کو سزا نہیں

3- اگر “غیر مکلف” مرد ” مکلف” عورت کو زنا پر مجبور کرے (مثلا پاگل مرد کسی خاتون سے زبردستی زنا کرے)۔ مرد و عورت دونوں کو سزا نہیں ہوگی۔

4- اگر “مکلف” خاتون کسی “غیر مکلف” مرد سے زنا کا ارتکاب کرے (مثلا بچے یا پاگل مرد سے) ۔ مرد کو سزا نہیں ہوگی اورعورت کو بھی مرد کے فعلِ زنا کے “نامکمل” ہونے کی وجہ سے سزا نہیں ہوگی۔

۳۔ فروعی مسائل کی تعلیل: یہاں فقہی مسائل میں بنیادی اور اصولی کردار ادا کرنے والی اصطلاحات پر توجہ رہی مثلا: اہلیت ، تملیک اور مرد کے فعل کا تام یا مکمل ہونا۔ حد کی سزا صرف مکلف پر ہی نافذ ہوگی۔ نیززنا کا جرم تب مستوجب حد ہوگا جب مرد کا فعل مکمل ہو۔ اس کے علاوہ خاتون پر تب حد جاری ہوگی جب اس کی جانب سے جرم زنا کے دورا ن تمکین بھی پائی جائےاور وہ خود مرد کو اپنا آپ اس عمل کیلئے پیش بھی کرے۔ اگر ایسا نہ ہو اور اس کے ساتھ یہ فعل زبردستی کیا جائے تو سمجھا جائے گا کہ اس خاتون کی جانب سے تمکین کا عنصر نہیں پایا گیا لہذا وہ مستوجبِ حد نہیں۔

پہلی صورت میں مرد کو سزا اس لئے ہو رہی ہے کہ اس کے اندر تکلیف یعنی شرعی احکام کی تنفیذ کیلئے “اہلیت” پائی جاتی ہے ، اور اس کی طرف سے جرمِ سزا کا صدور بھِی مکمل طور پر ہوا ہے۔ اور خاتون کو سزا اس لئے نہیں ہوگی کہ جرمِ سزا کو خاتون کے حق میں مستوجب حد قرار دینے کیلئے اس کی جانب سے “تمکین” یعنی مرد کیلئے خود کواس عمل ِ زنا کیلئے پیش کرنا ، بوجہ اکراہ نہیں پایا جاتا۔ مختصرا یہ کہ جرمِ زنا تب مستوجب حد ہوتا ہے جب دونوں مکلف بھِی ہو اور عورت کی جانب سے تمکین کا عنصر بھی پایا جائے۔ اور یہاں مرد میں اہلیت تو ہے مگر عورت کے اندر تمکین نہیں اس لئے مرد کو سزا ہوگی اورعورت کو نہیں۔

دوسری صورت میں مرد کو سزا ہوگی کیوں کہ وہ مکلف بھی ہے اور اور اس کا جرمِ زنا مکمل بھی ہے۔ مگر خاتون کو سزا نہیں ہوگی کیوں کہ اس کے اندر اہلیت نہیں پائی جاتی۔ خاتون کا غیر مکلف یا بچی ہونے کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فعلِ زنا کا محل نہیں لہذا مرد کا فعل تام/مکمل نہیں اور وہ بھی مستوجبِ سزا نہیں۔

تیسری صورت میں مرد کو اس لئے سزا نہیں ہوگی کہ وہ غیر مکلف ہے۔ اور عورت کو اس لئے سزا نہیں ہوگی کہ اس کی جانب سے تمکین کا عنصر نہیں پایا جاتا۔

آخری صورت میں مرد و عورت میں سے کسی کو سزا نہیں ہوگی۔ کیوں کہ مرد غیر مکلف ہے۔ اور عورت کو اس لئے سزا نہیں ہوگی کہ غیر مکلف ہونے کی بنیاد پر جب مرد کا فعلِ زنا نا مکمل ہوا تو اس کی اتباع میں خاتون کا فعل بھی نامکمل ہے اور نامکمل جرم پر حد جاری نہیں ہوتی۔

۴۔ متعلقہ اصولوں/مفروضات کی تفہیم و تشریح : یہاں چوتھا جزئیہ احناف اور شافعیہ کے درمیان مختلف فیہ ہےکہ شافعیہ کے یہاں خاتون کو سزا ہوگی۔ ان کے یہاں اصول یہ ہے کہ مرد و عورت دونوں کا فعل ایک دوسرے پر موقوف یا ایک کا فعل دوسرے کیلئے تابع نہیں۔ بلکہ ہر ایک کے فعل کو مستقل حیثیت سے دیکھا جائے گا ۔ یہاں عورت کا فعل اپنی تمام شرائط رکھتا ہے تو خاتون کو سزا ہوگی اگرچہ مرد پر غیر مکلف ہونے کی وجہ سے سزا کا نفاذ نہیں ہورہا۔ اس کے برعکس احناف کا اصول یہ ہے کہ زنا کے اندر عورت کو صرف “تمکین” کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاتی،بلکہ مرد کا “اہل” ہونا بھی ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ احناف کے یہاں زنا کے اندر مرد کا فعل اصل ہے اور خاتون محض اس فعل کا محل ہے ؛ لہذا اگر اصل یعنی مرد کو سزا نہیں ہو رہی تو عورت پر بھی حد نافذ نہیں ہوگی۔ جب کہ شافعیہ کے یہاں عورت کو سزا ہونے کی ایک بنیادی شرط یعنی “تمکین” پائی جاتی ہے توسزا ہوگی ۔ تیسری بات یہ کہ شافعیہ آیت قرآنیہ کاحوالہ دیتے ہیں کہ کہ جس میں مرد اور عورت کودونوں مستقل طور ہر زنا کرنے والا/ والی کہا گیا ہے۔ لہذا دونوں کا فعل مستقل اور ایک دوسرے کیلئے تابع نہیں۔ تو اس بنیاد پر جس کافعل اپنی تما شرائط کے ساتھ متحقق ہو تو اس کو سزاہوگی ، اگرچہ دوسرے کو کسی بھی شرط کے نہ ہونے کی وجہ سے سزا نہ ہو رہی ہو۔

بعض اہل علم نے قرآن کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے حنفی پوزیشن کو شافعی موقف کے مقابلے میں مرجوح قرار دیا ہے۔ مگر ہماری دانستِ ناتواں کے مطابق حنفی موقف دیگر مقامات میں اختیار کئے گئے موقف کے ساتھ ہم آہنگ اور متکامل ہے۔ عقدِ نکاح کے بعد میاں بیوی کو ایک دوسرے کے جسم پر حاصل ہونے ؎والے افعال کا جو جواز ثابت ہو جاتا ہے اس کی توجیہ حنفی فقہ کے اعتبار سے یہ ہے کہ مرد مہر کی ادائیگی کے بعد عورت کے جسم سے جنسی فوائد(استمتاع) کا بایں طور مالک ہوجاتا ہے کہ وہ فوائد یا استمتاع تب تک اسی مرد کیلئے خاص ہوں گے جب تک عقد نکاح قائم ہوں۔ جب کہ شافعیہ کے یہاں مہر کی ادائیگی کے بعد مرد عورت کے جسم کا مالک بن جاتا ہے۔ (اور شاید اسی لئے ان کے یہاں عقدِ نکاح لفظِ بیع کے ساتھ بھی منعقد ہو جاتا ہے)۔ اب جرمِ زنا کی تکییف کے وقت اختیار کئے گئے موقف اور یہاں کے موقف کا تقابل کیا جائے تو حنفی پوزیشن میں تکامل کا عنصر پایا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہاں ان کا موقف یہ تھا کہ مرد کا فعل “اصل” ہے۔ تو “اصل” ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ بوقتِ نکاح جائز تعلق کیلئے “مالک” بھِی بنے۔ تو جیسا کہ ملاحظہ کیا گیا کہ ایک ہی “تعلق” کی دو جائز و ناجائز صورتوں میں اختیار کئے جانے والے دونوں موقف میں ایک گونہ یکسانیت اور تکامل کا پہلو محسوس ہوتا ہے۔ جب کہ شافعیہ کے دونوں مسائل میں اختیار کئے گئے موقف میں اگرچہ تضاد محسوس نہیں ہوتا مگر ہم آہنگی یا تکامل کا عنصر بھی نہیں پایا جاتا۔ کیوں کہ زنا کے مسئلے میں ان کا کہنا ہے کہ مرد و عورت میں ہر دو کا فعل مستقل اور ایک دوسرے کے فعل پر موقوف یا تابع نہیں۔ مگر نکاح کے وقت مرد اس کا مالک بن جاتا ہے۔ اب اگر ایک جانب -ناجائز تعلق- میں ایک چیز از خود مستقل طور پر اپنا وجود اور احکام کے بنا کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تو اسی فعل کی جائز صورت یعنی نکاح کے وقت اس کو مملوک بنانے کا کیا فلسفہ ہوسکتا ہے۔ ہم دوبارہ عرض کریں کہ یہاں اس قسم کا تکامل قطعیت کے ساتھ ایک موقف کو درست اور دوسرے کو غلط قرار دینے کیلئے اگر بنیاد نہیں تو legal reasoning کیلئے ایک وجہ ترجیح ضرور ہو سکتی ہے۔

۵۔ جدید مسائل کی نشاندہی: پہلی بحث کے دوران حنفی و شافعی ہر دو مواقف کے کئی اور اصولوں کی بات بھِی آ گئی تھی ۔ مثلا احناف کا زنا کے اندر مرد کے فعل کواصل اور عورت کے فعل کو تابع قرار دے کر حد کے نفاذ کو مزید مشکل بنا دینے کی پوزیشن کی بنیاد اسی مفروضے پر ہے کہ احناف امکان کی حد تک حدود سزاؤں کے نفاذ کو روکنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد اس مشہور کلیے پر ہے کہ “إدرءو الحدود بالشبهات”. اس پوری بحث کو کلاسیکی فقہ کی روشنی میں دیکھنے کے بعد ہمارے سامنے ایک سوال یہ آتا ہے کہ عورت پر بچے کو دودھ پلانا لازم نہیں ۔ مرد اس کیلئے باقاعدہ رقم کی ادائیگی کر کے کسی دایا کا بندوبست بھی کرسکتا ہے ، یا اگر بیوی رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرے تب بھی درست ہے ۔ اس سے بظاہر یہی ذہن میں آتا ہے کہ عورت اپنے جسم کے کسی حصے کو بیچ سکتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح مہر کو وصول کر کے اپنے خاوند کو اپنے جسم سے اسمتاع کا مالک بنا دیا ۔ اب مغربی دنیا میں باقاعدہ Milk Banks بنے ہوئے ہیں جہاں خواتین اپنے سینوں سے دودھ نکال کر مختلف کمپنیوں کو بیچ دیتی ہیں اور وہ کمپنیاں آگے خریداروں کو بیچ دیتی ہیں۔ تو باقاعدہ ان کمپنیوں کا قیام شرعا کیسا ہے نیز رضاعت وغیرہ مسائل کے حوالے سے کیا ممکنہ اقدامات کئے جا سکتے ہیں؟ دوسرا سوال جو تحریک فیمینیزم اور مغربی دنیا سے زیادہ متعلق تھا جہاں خواتین کے حقوق کی خاطر کچھ شرعی و فقہی احکام سے رو گردانی کی جاتی ہے۔ کہ کلاسیکی فقہ میں جو مرد کے خاتون کے جسم یا اس کے جسم سے حاصل ہونے والے جنسی فوائد کا مالک بنتا ہے تو اس ملکیت کے تصور کی معنویت کیا ہے ، بالخصوص اس دنیا میں جہاں مرد اور عورت کی برابری کی بات نہایت زور و شور سے کی جاتی ہے ۔ کیا ہم ملکیت کے اس تصور کو کسی دوسرے مناسب اصطلاح سے تبدیل کر سکتے ہیں؟ یا یہ اصطلاح ناقابل تبدیلی ہے اور اصل ضرورت اس کی درست تفہیم و تشریح کی ہے۔ اس سوال پر کھل کر گفتگو کی گئی اور ہر شریکِ کورس کو مکمل اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا گیا۔

آراء و افکار