قرب قیامت میں غلبہ اسلام کی پیشین گوئی ۔ علامہ انور شاہ کشمیری کا نقطہ نظر

محمد عمار خان ناصر

کتب حدیث میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول ثانی سے متعلق بعض روایا ت میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسی بن مریم علیہما السلام، رقم ۳۲۹۰) وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے علاوہ ساری ملتوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، رقم ۳۸۲۶)

شارحین حدیث نے عموماً‌ اس پیشین گوئی کی تشریح یہ کی ہے کہ نزول مسیح  کے موقع پر کفر کا خاتمہ اور اسلام کا بول بالا ہو جائے گا اور  اسلام کا غلبہ پوری دنیا پر قائم ہو جائے گا۔ تاہم ماضی قریب کے نامور محدث علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اس رائے سے اختلاف ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روایات میں اس موقع پر اسلام کے غالب آنے کا جو ذکر ہوا ہے، اس سے مراد پوری روے زمین نہیں، بلکہ شام اور اس کے گرد ونواح کا مخصوص علاقہ ہے جہاں سیدنا مسیح  کا نزول ہوگا اور جو اس وقت اہل اسلام اور اہل کفر کے مابین کشمکش اور جنگ وجدال کا مرکز ہوگا۔ 

شاہ صاحب کی یہ رائے قرب قیامت سے متعلق قرآن وحدیث میں وارد مختلف پیشین گوئیوں کے مجموعی فہم پر مبنی ہے اور  انھوں نے نزول مسیح کے بعد غلبہ اسلام کی پیشگوئی کو تمام متعلقہ پیشگوئیوں کے  مجموعی تناظر میں  دیکھتے ہوئے ان کی مذکورہ تعبیر پیش کی ہے۔ ان پیشگوئیوں کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر کی وضاحت ان کی تصانیف، خاص طور پر فیض الباری میں متفرق مقامات پر موجود ہے۔ ان سطور میں شاہ صاحب کی تحریروں کی روشنی میں اس کے بنیادی پہلووں کو مختصراً‌ واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

۱ ۔ علامہ انور شاہؒ کے نقطہ نظر  میں ایک بنیادی نکتہ اللہ تعالیٰ کی اس تکوینی سنت کا فہم اور ادراک ہے کہ وہ دنیا میں کسی بھی قوم کو ابدی طور پر غلبہ وسیادت عطا نہیں کرتا۔  اس کی طرف سے قوموں کے عروج وزوال کے ضابطے مقرر ہیں جن کے تحت  قوموں کو ایک مخصوص مدت تک اقتدار اور طاقت دے کر آزمایا جاتا ہے اور مدت مکمل ہونے پر اللہ کے قانون کے مطابق اقتدار ان سے لے کر کسی دوسری قوم کو دے دیا جاتا ہے۔ شاہ صاحب امت مسلمہ کے غلبہ اور اقتدار کو بھی اسی تکوینی سنت کے تحت دیکھتے ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:

“اس امت کے غلبے کا عرصہ، جیسا کہ شیخ اکبر، مجدد الف ثانی، شاہ عبد العزیز اور تفسیر مظہری کے مصنف قاضی ثناء اللہ نے کہا ہے، ایک ہزار سال تھا۔ اس کی تائید ابن ماجہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ ’’میری امت کو آدھا دن ملے گا۔ اگر اس کے بعد وہ مستقیم رہے تو دن کا باقی حصہ بھی مستقیم رہیں گے، ورنہ ہلاک ہونے والوں کی طرح ہلاک ہو جائیں گے۔’’ شارحین کا اتفاق ہے کہ یہاں دن سے مراد آخرت کا دن ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے کہ ’’بے شک تیرے رب کے ہاں ایک ان تمھارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔’’ تاریخ بھی اسی کی گواہی دیتی ہے کہ فتنہ تاتار کی صورت میں عظیم مصیبت ہم پر پانچ سو سال کے بعد نازل ہوئی جس سے دین کی عمارت متزلزل ہو کر رہ گئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان پر ہم سے جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا اور  ایک ہزار سال کی مدت پوری ہو گئی۔ اس مدت میں اسلام مشرق ومغرب میں دنیا کے سارے ادیان پر غالب تھا اور یہی زمانہ امت محمدیہ کے غلبے کا زمانہ تھا۔ اس کے بعد اللہ نے ہم پر اہل یورپ کو مسلط کر دیا  اور اب اسلام کے میناروں اور منبروں کا حال وہاں پہنچ چکا ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔’’ (فیض الباری ج ۲، ص ۱۶۳)

۲ ۔ شاہ صاحب کے نقطہ نظر کی دوسری اہم بنیاد یاجوج وماجوج کے خروج سے متعلق پیشین گوئیوں کا ان کا مخصوص فہم ہے جس کے مطابق ان پیشین گوئیوں میں  کسی ایک متعین واقعے کا نہیں، بلکہ ایک طویل عرصے کو محیط سلسلہ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ کہ تاریخ میں یاجوج وماجوج کے خروج کا آغاز کئی صدیاں پہلے ہو چکا ہے اور ہم اس وقت اسی دور میں جی رہے ہیں۔ 

قرآن مجید میں یاجوج وماجوج کے خروج کا ذکر دو مقامات پر کیا گیا ہے: ایک سورۃ الکہف میں ذو القرنین کے واقعے کے ضمن میں، جہاں کہا گیا ہے کہ یاجوج وماجوج کو ایک سد کے پیچھے محبوس کر دینے کے بعد ذو القرنین نے کہا کہ جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس بند کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔ (سورۃ الکہف، آیت ۹۸) دوسرا مقام سورۃ الانبیاء کی آیت ۹۶ ہے جہاں یاجوج وماجوج کے خروج کو  قرب قیامت کی نشانی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

علامہ انور شاہ کہتے ہیں کہ  ان دونوں آیتوں میں یاجوج وماجوج کے خروج کے ابتدائی اور انتہائی مراحل کا ذکر ہے۔ پہلا مرحلہ سد ذو القرنین کے ٹوٹنے کا ہے جس کے بعد یاجوج وماجوج کے، اپنے علاقے سے باہر نکلنے کا  عمل شروع ہو جائے گا۔ سورۃ الکہف میں اسی کا ذکر ہے۔ پھر جب یاجوج وماجوج کے خروج کا یہ سلسلہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا دنیا کی تباہی اور فساد کے آخری مرحلے میں داخل ہوگا تو  وہ بالکل قیامت کا قریبی زمانہ ہوگا جس کا ذکر سورۃ الانبیاء میں کیا گیا ہے۔ (فیض الباری، ج ۴، ص ۳۵۸) گویا یاجوج وماجوج کے، دنیا کی قوموں پر تاخت وتاراج  کا واقعہ  صرف ایک مرتبہ نہیں، بلکہ بار بار رونما ہونا ہے اور یہ واقعات کے ایک پورے سلسلے کا بیان ہے جس کا آغاز ہو چکا ہے اور  جو قیامت کے بالکل قریبی زمانے میں اپنی حتمی صورت میں مکمل ہوگا۔ انھی میں سے ایک خروج سیدنا مسیح کے نزول کے بعد بھی ہوگا  اور یاجوج وماجوج کے اس گروہ کو احادیث کے مطابق سیدنا مسیح کی بددعا کی وجہ سے ہلاک کر دیا جائے گا۔ (فیض الباری ج ۴، ص ۱۹۷)

شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ ترکی نسل، اہل روس اور اہل برطانیہ یاجوج ماجوج کی اولاد ہیں  اور  دنیا میں فساد اور تباہی پھیلانے کے لیے ان کے خروج کا آغاز منگولوں کے حملوں کی صورت میں ہو چکا ہے۔ شاہ صاحب  تیمور لنگ، چنگیز خان اور ہلاکو کی تباہ کاریوں کو (اور اسی طرح مغربی اقوام کی استعماری چیرہ دستیوں کو) اسی پیشین گوئی کا ایک مصداق قرار دیتے ہیں۔ (فیض الباری ج ۴، ص ۱۹۷)

جہاں تک قرآن مجید میں  مذکور اس ’’سد” کا تعلق ہے جو یاجوج وماجوج کو روکنے کے لیے ذو القرنین نے بنایا تھا تو اس کے بارے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں  بیان ہوا ہے کہ یاجوج وماجوج اس “سد”کے پیچھے قید ہیں اور روزانہ اس کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ناکام رہتے ہیں، یہاں تک کہ قیامت کے قریب وہ آخر کار اسے توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور  وہی ان کے خروج کا زمانہ ہوگا۔ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم وخروج یاجوج وماجوج، رقم ۴۱۱۲) شاہ صاحب نے اس روایت کو بخاری کی صحیح روایت کے منافی قرار دیا ہے جس میں ذکر ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  اپنے زمانے میں بند کے، انگوٹھے اور انگلی کے حلقے کے برابر ٹوٹ جانے کی اطلاع دی۔ (بخاری، کتاب الفتن، باب یاجوج وماجوج، رقم ۶۷۵۳) مزید یہ کہ اس روایت کو علامہ ابن کثیر نے معلل قرار دیا ہے اور یہ رجحان ظاہر کیا ہے کہ یہ دراصل اسرائیلیات میں سے ہے جسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار سے نقل کیا اور راویوں نے غلطی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا۔ (فیض الباری، ج ۴، ص ۳۵۵)

۳۔ شاہ صاحب کی زیر بحث رائے کی تیسری اہم بنیاد نزول مسیح سے متعلق احادیث کا سیاق وسباق اور ماحول ہے۔ ان احادیث میں مذکور تمام تفصیلات وجزئیات  پورے کرہ ارضی کا احاطہ نہیں کرتیں، بلکہ  ایک مخصوص زمینی خطے کی نشان دہی کرتی ہیں جن میں یہ واقعات رونما ہوں گے۔ شاہ صاحب اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ ان روایات میں اسلام کے غلبے اور دیگر ادیان کے خاتمے کی جو بات ذکر کی گئی ہے، اس کا تعلق بھی  اسی مخصوص جغرافیائی  خطے سے ہے اور اسے پورے روئے زمین سے متعلق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فرماتے ہیں:

“یہ جو زبانوں پر مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں دین پورے روئے زمین پر پھیل جائے گا، یہ بات احادیث میں بیان نہیں ہوئی۔ احادیث میں  صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ شرعی مسئلے کے طور پر یہودیت اور نصرانیت کو  (یعنی ان کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی) اجازت نہیں دیں گے۔ چنانچہ جو اسلام قبول کرے گا، وہ اپنی جان کو بچا لے گا اور جو انکار کرے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا، اور یہ قانون ان علاقوں میں نافذ ہوگا جہاں اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام جہاد کریں گے۔ احادیث کا حاصل یہ ہے کہ آج تو تین ادیان جاری ہیں، لیکن جب عیسیٰ علیہ اللسام نازل ہوں گے تو صرف اسلام قبول کیا جائے گا اور اس وقت سارا دین اللہ ہی کا ہو جائے گا۔ چنانچہ یہ شرعی حکم کا بیان ہے نہ کہ خارج میں رونما ہونے والے کسی واقعہ کا (یعنی یہ پیشین گوئی نہیں ہے کہ عملاً‌ یہودیت اور نصرانیت کا خاتمہ ہو جائے گا)، اس لیے یہ ممکن ہے کہ (اس کے بعد بھی) کفر اور اہل کفر باقی رہیں، البتہ اگر عیسیٰ علیہ السلام ان تک پہنچ گئے تو وہ ان سے صرف دین اسلام قبول کریں گے، نہ کہ جزیہ، جیسا کہ آج کیا جاتا ہے۔ احادیث سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ یہ غلبہ جس کا وعدہ کیا گیا ہے، شام اور اس کے گرد ونواح کے علاقے میں ہوگا جہاں عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ یاجوج وماجوج کا فساد بھی اسی علاقے میں برپا ہوگا اور جزیرہ طبریہ بھی شام ہی کی طرف واقع ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ہمیں کسی حدیث میں یہ نہیں ملا کہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کی طرح پوری زمین میں گھومیں گے، اس لیے ان کے لیے جس غلبے کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ صرف اسی علاقے میں ہوگا جہاں وہ نازل ہوں گے۔ باقی ساری دنیا کے حال کا ان میں کوئی ذکر نہیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کا کیا احوال ہوگا۔” (فیض الباری ج ۳، ص ۴۰۰)

ایک حدیث میں بیان ہوا  ہے کہ “قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تمہاری یہود کے ساتھ  جنگ نہ ہو، یہاں تک کہ وہ پتھر جس کے پیچھے یہودی ہوگا، پکارے گا کہ اے مسلمان، یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کر دو۔” (بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قتال الیہود، رقم ۲۷۹۷)

علامہ انور شاہ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ یہاں انھی یہودیوں کا ذکر  ہے جن کے ساتھ جنگ کے لیے سیدنا مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے، نہ کہ ساری دنیا کے یہودی، اور یہ وہ یہودی ہوں گے جو دجال کے پیروکار ہوں گے۔ (فیض الباری، ج ۴، ص ۱۹۷)

زیر بحث پیشین گوئی کی تفسیر میں شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے ہاں بھی یہی رجحان دکھائی دیتا ہے، چنانچہ انھوں نے لکھا ہے: 

”امام مہدی کی پیدائش اور آمد سے پہلے دنیا میں جو ظلم وجور ہوگا، اللہ کے فضل وکرم سے اقتدار میں آنے کے بعد زیر اثر علاقہ میں وہ عدل وانصاف قائم کریں گے اور نا انصافی کو نیست ونابود کر دیں گے۔” (ارشاد الشیعہ، ص ۱۹۵) 

”دجال لعین کے قتل کے بعد جس علاقہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اقتدار ہوگا، وہاں بغیر اسلام کے اورکوئی مذہب باقی نہ رہے گا۔” (ایضاً، ص ۲۰۱)

۴۔ مذکورہ قرائن وشواہد کے علاوہ بعض دیگر  نصوص سے بھی شاہ صاحب کی زیر بحث رائے کی تائید ہوتی ہے۔ مثال کے طو رپر صحیح مسلم میں مروی ہے کہ ایک موقع پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی مجلس میں مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا کہ "قیامت سے پہلے رومی لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔" (عہد نبوی کے عرف میں روم سے مراد سفید فام مغربی اقوام ہوتی تھیں)۔ عمرو بن العاص نے سنا تو چونکے اور پوچھا کہ ”دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟“ مستورد قرشی نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ عمرو بن العاص نے فرمایا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر ان رومیوں میں چار خصلتیں موجود ہوں گی (جن کی وجہ سے وہ دنیا کی باقی قوموں  پر غالب ہوں گے):

پہلی یہ کہ وہ فتنے اور آزمایش کے وقت دوسروں سے زیادہ تحمل او ربردباری کا مظاہرہ کریں گے۔

دوسری یہ کہ وہ مصیبت گزر جانے کے بعد سنبھلنے میں دوسرے لوگوں سے زیادہ تیز ہوں گے۔

تیسری یہ کہ وہ شکست کے بعد دوبارہ جلدی حملہ آور ہونے والے ہوں گے۔

چوتھی یہ کہ وہ اپنے یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کی دیکھ بھال میں بہترین لوگ ہوں گے۔ 

اور ان میں ایک پانچویں خصلت بھی ہوگی جو اچھی اور خوب ہوگی کہ وہ لوگوں کو حکمرانوں کے مظالم سے روکنے میں سب سے بڑھ کر ہوں گے۔ (مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب تقوم الساعۃ والروم اکثر الناس، رقم ۵۲۸۹)

مذکورہ تمام قرائن وشواہد بے حد قابل غور ہیں  اور ان سے قرب قیامت کے زمانے کی صورت حال پر مذہبی تناظر میں غور وفکر کے لیے کئی اہم زاویے سامنے آتے ہیں۔ 

اہل کتاب کے لٹریچر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر

قرآن مجید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات میں ایک نمایاں دلیل یہ ذکر کی ہے کہ آپ کی بعثت کا ذکر تورات وانجیل میں موجود ہے اور اہل کتاب کے علماء آپ کی تشریف آوری سے نہ صرف واقف ہیں، بلکہ اس کے منتظر بھی تھے اور وہ آپ کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔  

قرآن مجید کے ان بیانات کے تناظر میں تورات وانجیل اور  انبیاء کے صحائف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پیشین گوئیوں کی نشان دہی اور  قرائن ودلائل کی روشنی میں آپ پر ان پیشین گوئیوں کا انطباق  ابتدا سے ہی مسلمان متکلمین کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔  اس ضمن میں علامہ دور متوسط میں ابن حزم اور امام ابن القیم  کی تحقیقات،جبکہ برصغیر میں برطانوی اقتدار کے دور میں  مولانا رحمت اللہ کیرانوی (اظہار الحق)، مولانا ابو منصور دہلوی (نوید جاوید)، مولانا شبلی نعمانی (سیرت النبی)،مولانا حمید الدین فراہی (من ہو الذبیح) اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی (میثاق النبیین) وغیرہ کی کاوشیں بطور خاص قابل ذکر ہیں۔  ماضی قریب میں مولانا بشیر احمد الحسینی  اور جناب عبد الستار غوری نے بائبل کی بعض پیشیین گوئیوں پر مفصل اور تحقیقی کتابیں لکھی ہیں، جبکہ مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا سید ابو الاعلی ٰ مودودی کی تفاسیر میں بھی متعلقہ مقامات پر  قیمتی مواد ملتا ہے۔

راقم الحروف کو بائبل اور یہودیت ومسیحیت کے مطالعہ سے نوعمری سے ہی اشتغال رہا ہے۔ اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پیشین گوئیوں پر لکھے جانے والے لٹریچر سے بھی دلچسپی رہی اور اب بھی ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ قرآن مجید میں تورات وانجیل کی جن پیشین گوئیوں کے حوالے سے یہود ونصاریٰ پر اتمام حجت کیا گیا، اس میں اصل موثر چیز اہل کتاب کے ہاں چلی آنے والی صدری روایات اور وہ انتظار تھا جو اس زمانے میں بہت عام تھا۔جہاں تک صحائف کے متن کا تعلق ہے تو کتاب استثناء کی پیشین گوئی کے علاوہ، جس میں بہت واضح قرائن ہیں، باقی پیشین گوئیاں ایسی صراحت کے ساتھ موجود نہیں یا نہیں رہنے دی گئیں کہ کسی رد وکد کے بغیر انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منطبق کیا جا سکے۔ اس ضمن میں متعلقہ بیانات کے تاریخی ولسانی تجزیے کے حوالے سے ہمارے مرحوم بزرگ عبد الستار غوری صاحب کی کاوشیں شاید اس ضمن کی latest research کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن ان کے مطالعہ کے بعد بھی میرا یہ تاثر قائم ہے۔ یوں موجودہ تناظر میں یہ ایک اکیڈمک یا مناظرانہ نوعیت کی بحث ہو سکتی ہے، لیکن دعوت یا اتمام حجت کے پہلو سے عموماً‌ اس کی کوئی خاص افادیت مجھے دکھائی نہیں دیتی۔

البتہ اسلامی ذخیرے میں اس موضوع سے متعلق چند مزید پہلووں کا ذکر ملتا ہے جس پر میرے خیال میں داد تحقیق دینے کا امکان اور ضرورت موجود ہے۔  ان میں سے ایک پہلو تو وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا، یعنی یہ کہ علمائے اہل کتاب سینہ بسینہ چلی آنے والی روایات کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے منتظر تھے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی اور متوسط عہد کے اہل علم کے ہاں اس بات کا ایک عمومی تذکرہ ملتا ہے کہ اہل کتاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا نبی تو تسلیم کرتے ہیں، لیکن آپ کی بعثت کو اہل عرب کے لیے خاص قرار دے کو خود کو آپ پر ایمان لانے کا مکلف نہیں سمجھتے۔ ان دونوں حوالوں سے اہل کتاب، خاص طور پر یہود کے مذہبی لٹریچر میں  ایسے شواہد وبیانات کی نشان دہی  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کی ایک نہایت بنیادی تاریخی دلیل  کو مزید محکم اور مضبوط بنا سکتی ہے۔

حال ہی میں راقم الحروف کو ایک ویب سائٹ پر اس نوعیت کی بعض تحقیقات دیکھنے کا موقع ملا جن سے مذکورہ احساس کو مزید تقویت ملتی ہے۔  http://old-criticism.blogspot.com کے نام سے قائم ویب سائٹ میں ’’النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی التراث الیہودی’’ کے زیر عنوان چار اقساط میں ایک تحریر شائع کی گئی ہے جس میں یہود کے مذہبی ذخیرے سے اس مضمون کے بعض اہم شواہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ربی شمعون بن یوحائی کا شمار دوسری صدی عیسوی کے اکابر یہودی علماء میں سے ہوتا ہے۔ ان کی ولادت ۸٠ء میں جبکہ وفات ۱۶٠ء میں ہوئی۔ انھوں نے اپنی ایک تحریر میں دنیا کے خاتمے کے قریب رونما ہونے والے چند نمایاں واقعات کا ذکر کیا ہے اور اس ضمن میں لکھا ہے کہ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ وہ بنی اسماعیل میں ایک نبی مبعوث کرے اور اس سرزمین پر انھیں  غلبہ اور اقتدار عطا کرے۔ ربی شمعون نے اس حوالے سے یسعیاہ نبی اور زکریاہ نبی کے صحائف سے بھی استشہاد کیا ہے۔

اسی طرح گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں یمن کے ایک بڑے یہودی عالم نتنائیل الفیومی نے اپنے ایک رسالے میں لکھا ہے کہ اللہ تعالی ٰ جیسے تورات کے نازل کرنے سے پہلے مختلف قوموں میں انبیاء کو مبعوث کرتا رہا ہے، اسی طرح تورات کے نازل ہونے کے بعد بھی ایسے لوگوں میں نبی بھیج سکتا ہے جن کے پاس دین نہ ہو۔ اسی لیے اللہ تعالی ٰ نے اہل عرب میں، جن کی طرف سے اس سے پہلے کوئی نبی نہیں بھیجا گیا تھا، ان کی ضرورت کے پیش نظر محمد کو بھیجا  تاکہ وہ ان کی صحیح راستے کی طرف راہ نمائی کرے۔

مطالعہ مذاہب سے دلچسپی رکھنے والے محققین اس  حوالے سے یہودی تراث تک براہ راست رسائی اور استفادہ کی صلاحیت  پیدا کر سکیں تو ہمیں امید ہے کہ اس نوعیت کے بہت سے شواہد اور  بیانات جمع کیے جا سکتے ہیں۔ 

آراء و افکار