توہین رسالت حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے؟

مولانا مفتی محمد اصغر

توہین رسالت  کا جرم حدود سے متعلق  ہے یا تعزیرات سے ؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل  حدود  اور تعزیرات  کی تعریف  معلوم  ہونی چاہیے کہ حدود  سے کیا مراد ہے اور تعزیرات  سے کیا مراد ہے ؟ فقہاء  کرام جب  لفظ حد کا استعمال کرتے ہیں تو اس کا مصداق کیا ہوتاہے ؟ اسی طرح   جب تعزیر  کا لفظ  بولا جاتا ہے تواس  کا مصداق کیا  ہوتاہے،۔ ان سب سوالوں کا جواب حد اور تعزیرکی تعریف معلوم ہونے سے بخوبی سمجھ آسکتاہے ۔

ملک العلماء علامہ   کاسانی ؒحد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتےہیں  

عقوبۃ مقدرۃ واجبۃ حقا اللہ تعالي 1

ایسی مقررہ سزا جس کا نفاذ اللہ تعالی کے حق کے طور پر واجب ہے ۔

فقہ حنفی کے معروف محقق علامہ زین الدین  ابن نجیم  مصری حد کی تعریف  کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

الحد عقوبۃ مقدرۃ للہ، بيان لمعناہ شرعا فخرج التعزير لعدم التقدير 2

 حد وہ سزاہے  جو اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ ہے یہ اس کے شرعی معنی  کی وضاحت  ہے پس  اس سے  تعزیر  نکل گئی   کیوں کہ  وہ اللہ تعالی  کی طرف سے  طے شدہ نہیں ہوتی  ۔

 ان عبارتوں سےیہ بات  واضح  ہوگئی  کہ حداس سزا  کو کہتے ہیں جو شارع  کی طرف سے  حق اللہ  کے طورپر  مقررشدہ ہو اور جو سزا شارع  کی طرف سے مقررشدہ نہ ہو وہ حد نہیں فقہاء اس کو تعزیر سے تعبیر کرتے ہیں ۔  چنانچہ علامہ   سرخسی حد اور تعزیر کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

الحد:اسم لعقوبۃ مقدرۃ  تجب  حقا للہ تعالي  ولہذا  لايسمي  بہ التعزير  لانہ غير  مقدر 3

حد اس سزا  کا نام ہے جو مقرر شدہ ہو اللہ تعالی   کے حق  کے طورپر واجب  ہو اس وجہ سے اسکو تعزیر  نہیں کہا جائے گا  کیوں کہ  وہ مقر رشدہ  سزا نہیں  ہوتی ۔

  کسی بھی سزا کے حد ہونے کے لئے  ضروری  ہے کہ وہ اللہ  تعالی  کی طرف سے  مقرر شدہ  ہو اور جو سزائیں  اللہ تعالی  کی طرف سے مقررشدہ  ہیں وہ یا تو قرآن  کریم  میں بیان ہوئی ہیں یا رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں۔ حد کی سزا کا ثبوت  قرآن کریم  یا حدیث رسول سے ضروری ہے لیکن تعزیری سزا کے لئے  اس کا ثبوت قرآن یا حدیث سے ضروری نہیں کیوں کہ  وہ شارع  کی طرف سے  مقرر شدہ  نہیں ہوتی۔   حد کی سزا کا تعلق حق اللہ سے ہے  اس لئے  حد کی سزا قیاس و رائے  سے نہیں بلکہ منجانب اللہ   نص کے ذریعے  سے مقرر شدہ  ہوتی  ہے جس میں  کمی وبیشی  کا اختیار  کسی بھی  ریاست  کے پاس نہیں ہوتا  چنانچہ  امام سرخسی  فرماتے ہیں ۔

الحد بالقيا س  لايثبت  4

’’حد قیاس  کے ذریعے  ثابت نہیں  ہوتی بلکہ  اس کے ثبوت کے لئے نص   صریح  کا پایا جانا ضروری  ہے ،،

حد کی  سزا شبہ سے بھی ساقط ہو جاتی ہے اور اس کے اثبات  کے لئے بھی  صرف  دو طریقے  ہی مقر  ہیں اس کے علاوہ  کسی تیسرے طریقے  سے اس جرم  کوثابت  نہیں کیا جاسکتا  مجرم  یا تو عدالت  کے روبرو  آزادانہ  اقرار جرم کرے  یا اس کے خلاف  شہادت  موجودہو ۔

چنانچہ علامہ کاسانی فرماتے ہیں۔

الحدود كلہا تظہر بالبينۃ والاقرار لكن عندا ستجماع شرائطہا 5

تمام حدود  گواہوں اور اقرار سے ثابت  ہوتي ہیں  لیکن  اسی وقت جب  اس کی تمام شرائط پوری  ہوں ۔

حد اور تعزیری سزا کے  بارے میں  ضروری گفتگو کے بعد اب ہم آتے ہیں توہین رسالت کی سزا  کی طرف کہ آیا وہ حد ہے یا تعزیری سزا ہے، اس سلسلہ میں جب قرآن کریم احادیث مبارکہ اور فقہاء کرام کے اقوال  کا مطالعہ کیا جاتاہے تو ہمارے  سامنےیہ  بات واضح  ہوجاتی  ہے کہ  توہین رسالت  کی سزا ایک اعتبار سے حدہے  جب کہ مجرم  توہین رسالت  کے ارتکاب  سے قبل مسلمان  ہو اور  اگر مجرم توہین رسالت کے ارتکاب سے پہلے ہی کافرہو تو پھر اس وقت یہ سزا ایک   تعزیرہے جس کو فقہاء سیاسۃ  سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔اب آئیے  اس اجمال  کی تفصیل کی طرف۔

اسلامی ریاست  میں اگر  کوئی مسلمان  شخص دیدہ  ودانستہ  نبی اقدس  ﷺپر سب وشتم  کرتاہے  اورپھر  اپنے اس فعل  پر ڈٹ جاتاہے ،توبہ نہیں کرتا تو اس کی سزا قتل ہے کیوں کہ توہین رسالت  کے ارتکاب سے وہ مرتد ہوگیا  ہے اور مرتد  اگر توبہ  نہ کرے  تو اس  کی سزا بھی  قتل ہے  ،اس لئے  شاتم رسول  اگر توبہ  نہ کرے تو اس  کی سزا بھی قتل ہے اور یہ سزا اسلامی  ریاست اپنے ملکی قانون کے مطابق  دے سکتی  ہے اسلامی ریاست  کے کسی فردکو یہ سزا  دینے کا اختیار  نہیں ہے ۔

فقہاء کرام  نے اسی صورت کے بارے میں قرا ر  دیا ہےکہ  شاتم رسول کی سزا  بطور حد قتل   ہے اور اس پر امت  کا اجماع  بھی نقل  کیاہے  ۔

چنانچہ قاضی عیاض مالکی  لکھتے ہیں:

أجمعت الأمۃ على قتل متنقصہ من المسلمين وسابہ" 6 

نبی اقدس  ﷺکی توہین  وتنقیص  کرنے والے  مسلمان  کے قتل  پر امت  کا اجماع  ہے۔

 علامہ شامی نے محمد بن سحنون   مالکی  کی عبارت  پیش  کی ہے  جس سے اس  مسئلہ پر امت  کا اجماع  بیان کیا گیا ہے  :

"أجمع العلماء على أن شاتم النبي صلى اللہ عليہ وسلم المتنقص لہ كافر والوعيد جار عليہ بعذاب اللہ لہ وحكمہ عند الأمۃ القتل ومن شك في كفرہ وعذابہ كفر". قال الخطابي: "لا أعلم أحدا من المسلمين اختلف في وجوب قتلہاذاکان مسلما 7  

علماء کا اس پر اجماع ہے کہ نبی اقدس ﷺ کی توہین وتنقیص   کرنے والا کافر  ہے اور اس پر  اللہ کے عذاب   کی وعید آئی ہے   امت کے ہاں اس کی سزا قتل ہے ،جو شخص  بھی اس کے کفر وعذاب  میں شک کرے وہ خود کافرہے  ابو سلیمان خطابی  فرماتے ہیں مسلمان  توہین رسالت  کے مرتکب  کے وجوب قتل پر  اہل اسلام  میں سے کسی کا  اختلاف  میرے علم میں نہیں ہے۔

اور اگر کوئی شخص وقتی طورپر  نادانستہ  توہین رسالت کا  مرتکب  ہوتاہے اوربعد میں توبہ کرلیتاہے تو اس کی سزا  کے بارے میں  فقہاء  کے درمیان  اختلاف  رائے  واقع ہواہے ، جمہور فقہاء کی رائے یہ ہےکہ  اس جرم کی سزا ہرحال میں یہ ہےکہ  مجرم  کو قتل  کردیا جائے  جب کہ  فقہاء  احناف   کی رائے  یہ ہےکہ  اس کی سزا  کو حکومت  وقت کی  صواب دید  پر چھوڑ دیا جائے ،اگر حکومت  وقت مناسب  سمجھے  تو اس کو  قتل کی سزا بھی  دے سکتی  ہے اور اگر مصلحت  قتل سے کم تر سزا  دینے میں  ہوتوموت سے کم تر تعزیری سزا پر اکتفاء  بھی کیا  جاسکتاہے  اصل مقصد  یہ ہےکہ  اسلامی  ریاست  میں پیغمبر  اسلام کی عزت وناموس  محفوظ  ہو اور  جو شخص  بھی آپ  کی ناموس  پر حملہ  کرنا چاہتاہے اس کو اس فعل سے باز رکھنے کے لئے جو سزا بھی  موثر ہو وہ نافذ کی جائے  تاکہ اس جرم کا خاتمہ ہو ۔

اس سلسلے میں جمہور فقہاء کی راے یہ ہے کہ توہین رسالت کے ارتکاب  سے لوگوں کو باز رکھنے  کے لئے قتل  سے کم تر سزا ناکافی  ہے اس سے  اس جرم کا خاتمہ نہیں ہوگا اس  لئے  قتل کی سزا  ضروری  ہے جب کہ فقہاء  واحناف  کا رجحان  یہ ہےکہ  عام حالات  میں اس جرم  پر قتل  کی سزا  کے بجائے  ایسی تعزیری سزا دینی چاہیے  کہ جو مجرم  کو آئندہ  اس جرم سے  باز رکھنے   میں موثر ہو  اور وہ کوئی بھی سزا  ہوسکتی ہے  حتی کہ قتل کی سزا بھی ہو سکتی  ہے ،بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزا  مثلاًسولی پر لٹکانابھی ہوسکتاہے۔

فقہاء کرام  کے مابین  اس امر میں تو اختلاف پایا جاتاہے  کہ توہین رسالت  کی سزا  قتل ہے  یا قتل  سے کم تر کوئی سزا  ہے ؟جس کی  تفصیل  بھی گزری  ہے لیکن اس امر میں  کوئی اختلاف  نہیں کہ یہ ایک تعزیر ی سزا  ہے جو بعض صورتوں میں قتل اور بعض صورتوں میں قتل سے کم تر سزا  کی صورت میں دی جاتی  ہے البتہ مشہور  یہ کردیا گیا ہےکہ  فقہاء  کے درمیا ن  یہ اختلاف  توہین رسالت  کی سزا کے حد ہونے یا نہ ہونے  میں ہے لیکن  اختلاف  کی یہ تعبیر  کسی طورپر بھی درست نہیں ۔

توہین رسالت  کی سزا  کے بارے میں فقہاء کے درمیان جو اختلاف  ہے عام طورپر  اس کی تعبیر  یوں کردی  جاتی ہے کہ جمہور  فقہاء  کے نزدیک  توہین رسالت  کی سزا حد یعنی  شریعت  کی طرف سے  مقر شدہ  سزاہے  اس کی تبدیلی  کا کسی  کوکوئی   اختیار نہیں اور فقہاء  احناف  کے نزدیک  یہ ایک تعزیری  اور صواب دید ی سزاہے جس کی  تبدیلی   کی گنجائش  بہرحال موجود ہے  ۔

فقہاء  کے اقوال  کا بغور مطالعہ  کیا جائے  تو یہ بات  واضح  ہوجاتی ہے کہ یہ تعبیر  بالکل  غلط  ہے بلکہ  فقہاء  کے اختلاف  کی نوعیت  کو نہ سمجھنے   کا نتیجہ  ہے  ۔

ہماری ناقص   رائے  یہ ہےکہ  توہین  رسالت  کی سزا  جمہور  صحابہ  وتابعین  فقہاء  کرام  اور تمام  محدثین  کے نزدیک   ایک تعزیری  سزاہے   یہی  وجہ  ہے توہین رسالت   کی سزا  میں صحابہ وتابعین  فقہاء  کے اقوال   مختلف  ہیں دور صحابہ  میں توہین رسالت  کی سزا  کے بارے میں اہل علم کے مابین   مشاورت  ہوتی  تھی ،  اس سزا   کے تعین   کے بارے میں   اجتہادات  کیے جاتے تھے اور پھر   اجتہادی   فیصلے   کی روشنی   میں توہین  رسالت  کے مجرموں  کو مختلف  سزائیں  جاری کی جاتی    تھیں، حالانکہ  جوسزا  شریعت  کی طرف سے  مقررشدہ  لازمی  سزا کے  طورپر  طے ہوتی  ہے اس میں  اہل علم  کا اختلاف  نہیں ہوتا اور نہ اس میں  اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے ۔

یہاں توہین رسالت  کی سزا کے بارےمیں فقہاء  کے درمیان  ہونے والے  اختلاف  کی صحیح   تعبیر   یہ ہے کہ جمہور  فقہاء  کے نزدیک  اس کی سزا  قتل  ہے ،قتل  سے کم سزا  دینا اس  قبیح  جرم کو روکنے میں غیر موثر ہے ،دور نبوی  اور دور صحابہ   وتابعین میں توہین رسالت کے مجرموں   کے ساتھ  روا رکھے  جانے والے  سلوک  اور شریعت کے عمومی مزاج کا تقاضا یہ ہےکہ  توہین رسالت  کے جرم کی شناعت  اور سنگینی  کو دیکھتے  ہوئے مجرم کو سزاے موت  دی جائے  ۔جب کہ  احناف  کے نزدیک   اس جرم پر   موت  کی  سزا کے ساتھ  ساتھ دیگر  متبادل   سزاؤں  کی    گنجائش   بھی  شرعی اصولوں  کے مطابق  موجود ہے   دور نبوی  میں توہین  رسالت کے مجرموں کے  ساتھ  جہاں آپ ﷺنے  قتل کے فیصلے فرمائے  وہیں  آپ نے  اس طرح  کے مجرموں  کو معاف  بھی کیا ۔ دور صحابہ  وتابعین  میں بھی  یہی صورت حال  ہمیں نظر آتی  ہے کہ توہین رسالت کے مجرموں  کوسزائے  موت سے بھی دو چار  کیا گیا اور موت سے کم  تر ہلکی  سزاؤں  پر اکتفاء  بھی کیا گیا ۔اس  سے شریعت  کا جو عمومی  مزاج ظاہر  ہوتاہے  وہ یہی  ہے کہ جرم  کی نوعیت  ،اس کے  اثرات  اور حالات  کو دیکھ  کرمجرم  کے ساتھ کاروائی  کی جائے ، اگر حالات کا تقاضا  مجرم کو سزائے موت دینے   کا ہوتو  سزائے  موت دی  جائے  اور اگر حالات  کا تقاضا   سزائے موت  سے کم تر  ہلکی سزا  دینے کا  ہو تو پھر  ہلکی سزا  پر اکتفاء کیا جائے، جن فقہاء  نے توہین رسالت کی سزا کو حد  تسلیم  کیاہے اس  کا مطلب  یہ نہیں کہ  یہ سزا  شریعت  کی طرف سے   مقرر شدہ  ہے اللہ اور  اس کے رسول  نے یہی سزا   متعین  کردی ہے اور اب اس میں  تغیر وتبدل  کی کوئی گنجائش  نہیں بلکہ  اس کا مطلب صرف اور صرف  یہ ہے کہ توہین رسالت  کے جرم کی سنگینی  اور آئیندہ  اس جرم  کی روک تھام کے لئے  یہی سزا ان کے نزدیک   موثر ہے  اور ان کے فہم کے مطابق شریعت کا  عمومی مزاج  بھی یہی ہے اس میں کسی فقیہ  کے فہم کا نتیجہ  دوسرے فقیہ  کے فہم  کے نتیجے  سے مختلف ہوسکتاہے  اس لئے  بعض دیگر   فقہاء   نے اس کو حد شرعی  تسلیم  کرنے سے انکار کیا ہے اور اس  کو ایک  تعزیر ی سزا  قرار دیا ہے جس میں تغیر وتبدل  کا ہرزمانے میں امکان  موجودرہاہے  یہی بات  مولانا  محمدعمار خان ناصر  نے اپنے مقالے   میں بیان  کی ہے ،چنانچہ  وہ لکھتے ہیں  :

’’ایک فقیہ  اور مجتہد  کا کسی  سزا کو اس لئے  لازم قرار دینا  کہ وہ شریعت  کی طرف سے مقرر  کی گئی ہے،بالکل اور بات ہے  اور اس کا کسی سزا پر اس لئے  اصرار کرنا کہ اس کے فہم    کے مطابق  عدل وانصاف  کے عمومی  تقاضوں  اور شرعی  وفقہی   اصولوں  کی رو سے وہی اس کی  قرار واقعی   سزا بنتی ہے  ایک بالکل  دوسری  بات ہے اور  اہل علم  ان دونوں  باتوں  کے فرق  کوبخوبی  سمجھتے  ہیں ، ائمہ  احناف  اور دوسرے  فقہاء    کے اختلاف  کا محور ی نکتہ  پہلی بات  نہیں ،  بلکہ دوسری بات ہے ، جمہور  فقہاء  کے استدلال  کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہےکہ ان کے ہاں توہین رسالت پر سزائے موت کے باب میں روایات وآثار کا حوالہ دراصل قانونی نظائر کی حیثیت سے تائیدی طورپر دیاجاتاہے نہ کہ اس  سزا کو حد شرعی ثابت کرنےکے لئے  اصل ماخذ  کےطورپر   جمہور  فقہاء  کے موقف  کی اصل قانونی   اساس یہی نکتہ ہے جو  صاف بتاتاہے  کہ وہ اس سزاکو  استدلال  اور استنباط پر مبنی سمجھتے ہیں نہ کہ شریعت  کی طرف سے  مقر ر کردہ  کوئی حد۔’’ 8

اب آتے ہیں دلائل  کی طرف کہ آیا قرآن وحدیث ،ائمہ مجتہدین اور فقہاء کرام کے اقوال وآثار میں اس سزا کو حد  تسلیم  کیا گیا  ہے یا نہیں  ؟  اس سلسلے میں جب  ہم قرآن کریم  کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں  صاف طورپر  یہ بات ملتی ہے  کہ اللہ تعالی   نے اپنے پیغمبر حضرت محمد ﷺ  کی عزت وعظمت ،آپ کی تعظیم وتوقیر آپ کے حقوق  کی ادائیگی   ،آپ کے آداب و احترام  کی رعایت  اور آپ کو ادنی تکلیف  دینے سے اجتناب پر بہت  زیادہ  زور دیاہے  اورآپ کی شان میں توہین  وتنقیص  پر سزائے موت  کو حد شرعی  کے طورپر بیان نہیں کیا ،  جس سے اتنی  بات تو واضح  ہوئی کہ توہین  رسالت کی سزا قرآن  میں صراحتا بیان نہیں ہوئی البتہ  فقہائے  نے بعض آیات  سے استباطی طورپر  سزائے موت کو  توہین رسالت  کی حد شرعی قرار دیا ہے ۔

یہی حال  احادیث مبارکہ کا ہے نبی اقدس ﷺ کے دور میں توہین رسالت کے متعدد  واقعات پیش آئے جن میں   آپ ﷺنے مجرموں کے ساتھ    ایک جیسا سلوک نہیں فرمایا  ،کسی کو قتل  کرادیا ، کسی کومعاف کردیا  ،کسی کے  اسلام قبول کرنے  کو معافی  کی شرط قراردیا ،کعب بن اشرف  ،ابو رافع یہودی  کو آپ نے اپنے حکم سے قتل کرادیا  اور قتل کرنے والوں سے خوشی  کا  اظہار  بھی کیا ۔ عبد اللہ بن خطل  کا قتل ،  نابینا صحابی کا  گستاخ  لونڈی  کوقتل کرنا   اور عصماء بنت مروان کا قتل یہ چند  مثالیں  ہیں ،جن سے معلو م  ہوتاہے کہ  نبی اقدس ﷺنے اپنی توہین   کرنے والوں  کو قتل کرادیا  ، یا صحابہ  نے توہین رسالت  کے جرم  میں ان کو قتل  کردیا۔

اسی طرح توہین  رسالت کے کچھ واقعات  آپ  کی زندگی  میں ایسے بھی پیش آئے کہ آپ نے ان مجرموں  کوکیفر  کردار تک پہنچانے کی بجائے ان کو معاف  کردیا جن میں عبد اللہ  بن ابی سرح ،کعب بن زہیر  عکرمہ  بن ابی جہل  اور انس بن زنیم  الدئلی  اور رئیس المنافقین  عبد اللہ بن ابی شامل  ہیں ، ان مجرموں  نے آپ کی   توہین وتنقیص  کا ارتکاب  کیا عبد اللہ بن ابی کے علاوہ باقی سب  نے بعد میں  توبہ کی اور اسلام قبول کیا   آپ ﷺ نے ان کی توبہ  کو قبول کیا  اور معاف  کردیا ۔

ان روایات  وآثار سے توہین رسالت  کے مجرموں  کے ساتھ  آپ  کا ردعمل   مختلف  نظرآتاہے ،سخت سے سخت سزا   دینے کا بھی نمونہ  اور بالکل  معاف کردینے   کانمونہ بھی واضح طورپر نظر آرہا  ہے جس سے امت کے لئے ایک طرف  کے نمونے  کو توہین  رسالت کی حتمی  اور مقرر شدہ سزا  حد شرعی  کے طورپر  بیان کرنا اور دوسرے نمونے کوبالکل  نظر انداز   کرنا  کسی طورپر بھی درست  نہیں   امت  کے لئے نبی  محترم ﷺ  کے دونوں   نمونے  اپنے اپنے  زمانے  کے اعتبار سے قابل   حجت  اور قابل عمل  ہیں ۔

دور نبوی  ﷺ  کے بعد حضرا ت صحابہ   کرام  کے دور  میں بھی  نبی اقدس ﷺ کے یہ  دونوں  طرزعمل  جاری  رہے ہیں   صحابہ کرام کے دور  میں بھی  توہین  رسالت  کے متعدد  واقعات  پیش آئے  جن  میں حضرات  صحابہ کرام نے تمام مجرموں  کو ایک ہی سزا دینے کی  بجائے  جرم  کی نوعیت   معاشرے  پر پڑنے والے  اس کے اثرات ، اور مجرم کی حالت  وکیفیت  کو دیکھ کر  اس کی سزا کے لئے مختلف   فیصلے  فرمائے  اور مجرموں   کو مختلف   سزائیں  دیکر اس  جرم کا  خاتمہ  کیا ۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے  حضرت سیدنا  صدیق اکبر ؓ کے فیصلوں  کو بیان کیا جاتاہے۔ امام ابوداؤد  ؒنے اپنی  سنن  کے اندر یہ  روایت  بیان کی   ہے کہ حضرت  ابو برزہ  اسلمی  کی موجودگی    میں حضرت  ابو بکر صدیق  ؓ  کسی شخص  پر انتہائی  ناراض   ہوئے ، ابو برزہ  نے حضرت ابو بکر  سے اس  شخص کو قتل  کرنے کی اجازت  طلب کی تو آپ ؓ  نے فرمایا  : نبی اقدس  ﷺ  کےبعد کسی  کی بھی توہین پر قتل  کی سزا  جائزنہیں  اس  روایت  میں آپ  ؓ نے  نبی اقدس  کی توہین  کی سزا  موت بیان فرمائی  ہے تاہم  اس سزا  کی بنیاد  واساس  کیا ہے  ؟  اس سے سلسلہ  میں قاضی  علاوالدین  صاحب کنز العمال  نے حضرت ابوبکر  کی توضیح  کو ان الفاظ میں بیان  کیاہے :

ان حد الانبیاء لیس  یشبہ الحدود  فمن تعاطي   ذلك  من مسلم  فہو  مرتد  او معاہد  فہو محارب  غادر 9

’انبیاء  کی توہین  کی سزا  عام سزا ؤں کی طرح  نہیں ہے  اگر کوئی مسلمان  اس کا ارتکاب  کرتاہے  تو وہ مرتد  ہے اور اگر  کوئی غیر مسلم ذمی   اس کا ارتکاب  کرتاہے تووہ  محارب  اور بد عہد ہے ۔’’

اس طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت   میں یمامہ  کے والی   حضرت  مہاجربن  امیہ کا فیصلہ   ملاحظہ  فرمائیے   ،ان کی خدمت میں  ایک گانا گانے والی عورت  کوپیش کیا گیا  جس نے نبی  اقدس ؓ   کی شان  میں گستاخی   کی تھی ،جرم ثابت  ہونے پر  حضرت  مہاجر  نے اجتہاد  کرتے ہوئے  یہ فیصلہ  کیا  کہ اس کا ایک   ہاتھ اور دو  دانت نکلوا  دیے ،بعد میں  امیرالمؤمنین   حضرت ابو بکر صدیق  ؓ کو اطلاع   دی گئی  تو آپ  ؓ نے فرمایا   اگر مہاجر  نے اس خاتون  کو پہلے  سزا  نہ دی ہوتی    تو میں اس شاتم  کو قتل  کی سزا دینا ۔ امام ابن جریر طبری  نے یہ واقعہ  بیان کیا ہے۔ 10

اس واقعہ  سے واضح  ہورہاہے کہ دور صحابہ  میں توہین رسالت  کی سزا  شرعی  طورپر کوئی متعین  ومقرر شدہ  سزا نہیں  تھی بلکہ  اس سلسلہ  میں صحابہ   اپنے اپنے  اجتہاد  سےاس کی سزا  متعین  کرتے تھے  ظاہر  ہے  جو سزا  حد شرعی  کے طورپر   مقرر  ہو تو  اس میں اجتہاد نہیں ہوتا ۔اجتہاد  ہمیشہ غیر منصوص  مسائل میں ہوتاہے  پھر حضرت ابوبکر   ؓنے بھی  اس خاتون  کو قتل  کی سزا نہیں دی   ۔اگرتوہین   رسالت   کی سزا قتل  شریعت  کی طرف سے  مقرر شدہ حد شرعی     کے طورپر  طے ہوتی تو حضرت ابو بکر  صدیق  ضرور اس شاتمہ کو قتل  کی سزا  دیتے  اور شرعی حد اس پر نافذ   فرماتے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس کا فیصلہ  بھی یہی  ہے کہ توہین رسالت  کی سزا  کوئی متعین  ومقر ر شدہ نہیں ،بلکہ  مجرم  اور اس  کے جرم کو دیکھ کر اس کی سزا متعین  کی جا سکتی  ہے ۔ چنانچہ  زادالمعاد  میں ان کا اثر منقول ہے :

ايما مسلم  سب اللہ  ورسولہ   او سب  احدا من  الانبياء  وفقد   كذب برسول   اللہ   وہي ردۃ  يستاب  فان رجع   والا  قتل  وايما  معاہد عائد  فسب اللہ  او سب  احدا  من الانبياء اور جہد  لہ فقد  نقض  العہد  فاقتلوہ، 11

جو مسلمان بھی اللہ  اور اس کے  رسول   کو یا کسی  بھی نبی  کوبر ا بھلا کہے ،  وہ رسول  اللہ ﷺ   کی تکذیب    کرتا  اور ارتداد  کا ارتکاب  کرتاہے ،  اس سے  توبہ کے لئے   کہا جائے  گا  ، اگر وہ  رجوع  کرے تو ٹھیک  ورنہ  اسے قتل  کردیا جائے  اور جو غیر مسلم  معاہد عناد کا اظہار کرتے ہوے اللہ  یا اس کے کسی  نبی کو برا بھلا  کہے اورا  علانیہ  ایسا کرے  وہ اپنا عہد  توڑدیتاہے  ، اس لئے  اس کو قتل کردو۔

ان روایات سےمعلوم  ہوا کہ  دور صحابہ  میں توہین رسالت  کی سزا کوئی متعین  ومقر رشدہ نہیں تھی ، مسلمان  اگر توہین رسالت  کا ارتکاب   کرتا تھا  تو صحابہ   اسے  مرتد قرار دیتے تھے  اور اس پر ارتداد  کی سزا جاری  کرتے تھے  اور اگر کوئی غیر مسلم اس جرم  کا ارتکاب  کرتا تھا   تواس کو نقض  عہد کی وجہ  سے قتل  کی سزا  جاری کرتے  تھے ۔ یہ  اس  طرح کے  دیگر  کئی واقعات ہیں ، جن  سے معلوم  ہوتاہے  کہ صحابہ  کرام توہین رسالت  کی سزا  کو حد شرعی  نہیں سمجھتے  تھے  تب ہی   تو اس جرم  پر مختلف  سزائیں  جاری کرتے تھے  ۔

صحابہ  وتابعین  کے بعد فقہاء  اربعہ کے اقوال  وآثار  کا جائز ہ لیا جائے  تو یہ بات  واضح  ہوجاتی   ہے کہ ان  کے مابین   توہین  رسالت  کی سزا  کے بارے میں  تو اختلاف   موجود   ہےکہ    جمہور  فقہاء  کے نزدیک  توہین  رسالت  کی سزا  از روئے شرع قتل  ہے  جبکہ  فقہائے  احناف   کے نزدیک   جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے   قتل سے کم تر  سزا بھی دی جا سکتی   ہے لیکن  اس سزا کی حیثیت   میں کوئی   اختلاف  نہیں ۔

فقہاء اربعہ  کی  امہات  کتب  کا جائزہ لیا جائے  تو یہ بات واضح ہوتی ہے  کہ تمام  فقہاء  کے نزدیک  اس سزا کی حیثیت  تعزیری  سزا کی ہے  ،صحابہ کی طرح فقہاء  اربعہ بھی  توہین رسالت کی  سزا کو حدشرعی  نہیں سمجھتے  تھے ۔

ہمارے اس دعوے کی دلیل  ان کا اپنی  کتابوں   میں توہین رسالت  کی سزا کوبطور حد شرعی  کے بیان نہ کرنا ہے ،کیوں کہ  عقل وقیاس  کا تقاضا   یہ ہےکہ جو سزائیں  حدود میں داخل ہیں   اور شریعت   کی طرف سے  مقررشدہ  ہیں جب کوئی فقیہ  اور عالم  ان سزاؤں   کو اپنی   کتاب  میں بیان  کرے یا شرعی  احکام  کا کوئی  مجموعہ   مرتب کرے  تو اس میں  ان سزاؤں  کا ذکر  کرنا ضروری  ہے اگر ان سزاؤں   میں  سے کسی سزا کا ذکر  نہیں کرتا  تو اس کا مطلب اس کے سوا  اور کیا ہو سکتاہے  کہ اس کے نزدیک  وہ سزا  حد شرعی  نہیں ،  اس لئے سزاؤں  کے حوالے سے شرعی  قانون کی تفصیل  وضاحت  بیان کرتے ہوئے  تعزیری  اور اجتہادی  واستنباطی  سزا تو نظر  انداز  کی جا سکتی  ہے لیکن  حد شرعی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا  ، اس منطقی  اور سادہ  سے اصول  کو پیش نظر رکھتے  ہوئے فقہاء  اربعہ  کی امہات کتب کا جائزہ لیا جائے  تو ہمارے  دعوےکی تصدیق  ہو جائے گی ۔

فقہ مالکی

 امام مالک ؒ نے اپنی کتاب  الموطاء میں توہین رسالت کی سزا کے بارے میں کوئی حدیث  ذکر نہیں کی  اسی  طرح المدونۃ الکبری میں بھی   اس سلسلہ میں کوئی حکم ذکر نہیں کیا  حالانکہ  المدونۃالکبری  میں بے شمار فقہی مسائل ذکر کیے گئے ہیں اس سے ثابت ہواکہ  امام ما لک  کے نزدیک  توہین رسالت کی سزا  حدود میں  شامل نہیں اگر ان کے نزدیک یہ سزا  حد میں داخل ہوتی تو وہ  ضرور  اس کو اپنی  کتابوں میں بیان کرتے ۔

فقہ شافعی

 امام شافعی ؒ   نے اپنی  کتاب الام  میں براہ راست  توہین رسالت کی سزا  بیان نہیں کی  تاہم  یہ ضرور  قرار دیا  ہے کہ اہل ذمہ کے ساتھ جب  کوئی معاہدہ  کیا جائے  تو یہ بات  ضرور شرط کے طورپر  طے کی جائے  کہ وہ نبی اقدس ﷺ اور شعائر اسلام کے بارےمیں کوئی  توہین آمیز  رویہ نہیں اپنائیں گے  ورنہ  ان کا عقد ذمہ توٹ جائیگا اور ان کی جان  ومال مباح قرار پائے گا۔

چنانچہ امام شافعی ؒ  لکھتے ہیں۔

 وعلي ان لايذكرو  رسول اللہ  _ الا بما  ہواہلہ  ولا يطعنوا  في دين الاسلام  ولا يعيبو  من حكمہ  شيا فان  فعلوا  فلا ذمۃ  لہم  12

اہل ذمہ  سے اس شرط پر معاہدہ  کیا جائے گا کہ وہ نبی  اقدس ﷺ کا تذکرہ اسی احترام سے لیں گے جس کے وہ اہل  ہیں اور دین اسلام  میں عیب جوئی اور طعنہ زنی نہیں کریں گے  پھر اگر انہوں  نے ایسا کیا تو ان  کے عقد  ذمہ کو توڑ دیا جاے گا۔

اور اگر  معاہدہ  کی شرائط  میں توہین رسالت نہ کرنے کی شرط طے نہ کی گئی ہو پھر  وہ اس کا ارتکاب کرلیں تو کیا ان کو قتل کی سزا جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ اس مسئلہ میں فقہاء شافعیہ  کے مابین اختلاف پایا جاتاہے قول مشہور یہ ہےکہ  قتل کی سزا پھر بھی جاےگی  لیکن بعض فقہائے شافعیہ کے رائے  یہ ہےکہ  اس صورت میں قتل  کی سزا نہیں دی جائے گی  ۔ ابو اسحاق شیرازی    کا موقف     بھی یہی  ہے جو فقہ شافعی  کے نامور عالم ہیں 

اسی طرح  مشہور شافعی  امام عبد الوھاب شعرانی کا موقف کہ توہین  رسالت کی سزا  حد شرعی  نہیں بلکہ  ایک تعزیری سزاہے۔

قال العلماء  وفيہ دليل  علي ان من  توجہ عليہ تعزير  لحق اللہ  تعالي  جاز للامام تركہ 13

علماء نے فرمایا ہے کہ توہین رسالت کے یہ تمام  واقعات  اس بات پر دلیل ہیں کہ شاتم  رسول  کی سزا  تعزیری  سزاہے  جسے حالات کے پیش نظر  معاف  بھی کیا جاسکتاہے ۔

فقہ حنبلی

امام احمد بن حنبل  کے بیانات سے بھی یہی ثابت ہوتاہےکہ وہ توہین رسالت  کی سزا  کو حد شرعی نہیں سمجھتے بلکہ  اسے ایک اجتہادی  واستنباطی  سزا قرار دیتے ہیں ،چنانچہ  ان کے شاگرد حنبل کا بیان ہے۔

 سمعت  ابا عبد اللہ  یقول  كل من  نقض العہد واحدث  في الاسلام حدثا  مثل ہذا  رأيت  عليہ القتل  ليس علي ہذا  اعطوا العہد  والذمۃ  14

میں نے امام احمد بن حنبل  کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو ذمی  بھی معاہدہ  توڑ دے  اور اسلام  کے بارے میں اس طرح  کے کسی جرم کا مرتکب  ہو ، میری رائے  میں اس کی  سزا قتل ہے کیوں کہ  ان کے ساتھ معاہدہ  اس بات پر نہیں کیا گیا  تھا۔

امام احمد کے اس اثر سے  واضح طورپر سمجھ آرہا ہے  کہ وہ توہین رسالت کی سزا  کو حد شرعی  نہیں سمجھتے   بلکہ   ذمی کے لئے قتل کی سزا  کے اس لئے قائل ہیں کہ توہین رسالت کی  وجہ سے  ان سے جو معاہدہ طے تھا  اس کی خلاف ورزی کی گئی  ہے۔

فقہ حنفی

 امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا تو موقف ہی یہ ہےکہ توہین رسالت کی سزا حد شرعی  نہیں بلکہ سراسر  تعزیری  سزاہے  جس کی کوئی  حد مقرر  نہیں اس سلسلہ  میں فقہ حنفی  کے دو معتبر  حوالے پیش کیے جاتے ہیں۔

امام طحاوی  لکھتے ہیں:

ومن كان  ذلك منہ من الكفار  ذوي  العہود  لم يكن  بذلك  خارجا من عہدہ وامر ان لا يعاودہ  فان  عاودہ ادب عليہ  ولم يقتل  15

اگر کوئی اذمی غیر مسلم  توہین  رسالت کا مرتکب  ہوتو اس سے عقد ذمہ  نہیں ٹوٹے گا اس سے کہا جائے گا  کہ وہ  دوبارہ  ایسی غلطی  نہ کرے  پھر اگر ایسا کرے  تو اسے تعزیری  سزا دی جائے گی ،لیکن قتل نہیں  کیا جائے گا۔

علامہ ابن عابدین شامی  فرماتے ہیں۔

ان الساب  اذاكان  كافرا  لايقتل  عندنا  الا اذا  رآہ الامام  16

اگر توہین سالت کا ارتکاب  کرنے والا کافر  ذمی ہوتو  ہمارے نزدیک  اسے قتل نہیں  کیا جائے گا  البتہ امام اگر  اس   کا قتل مناسب سمجھے تو ایسا کرسکتاہے۔

فقہاء کرام کی آرا کے بعد  ائمہ  محدثین  کی آرا  کا جائزہ  پیش کیا جاتاہے۔

یہ بات  تو اہل علم جانتے ہیں کہ  فقہی مذاہب  کی تدوین  وترتیب   میں فقہاء  کا الگ منہج  ہے اور محدثین  عظام کا  بھی الگ منہج  فکر ہے  ،محدثین کے ہاں  احادیث  کی جمع وترتیب  میں الگ الگ رجحانات  ہیں ،ایک رجحان  احادیث سے  فقہی  احکام  کے استنباط واستخراج  کاہےجس کی ایک مستقل   علمی  روایت   محدثین   کے ہاں دور اول سے چلی آرہی ہے  اس کے اپنے  فوائد وخصائص  ہیں۔

محدثین  کا طریقہ ہےکہ وہ عام طورپر اپنے فقہی ذوق   اور رجحان  کی وضاحت  کسی بھی موضوع  سے متعلق احادیث  کے انتخاب  اور ان پرکوئی  عنوان  قائم کرنے کے ذریعے سے کرتے ہیں  ، باب کا عنوان اور اس میں درج  حدیث  سے پتہ چل جاتا ہےکہ  اس بارے میں  صاحب کتا ب  کا فقہی  مذہب کیا ہے ۔اس زاویہ  نگاہ سے  زیربحث  مسئلہ    توہین  رسالت  کی سزا حد شرعی  ہے یا تعزیری  ہے  ؟ میں  محدثین  کا ذوق  اور ان کا موقف  معلوم کیا جائے   تو صاف دکھائی  دیتاہے کہ وہ اس کو  حد شرعی  نہیں سمجھتے ، کیوں کہ اگر ان کے نزدیک  یہ سزا حد شرعی  ہے توپھر ان کے فقہی  ابواب پر مرتب ہونے والے مجموعہ ہائے  حدیث میں   یہ سزا بیان کیوں نہیں ہوئی ، باقی تمام  شرعی سزا  ئیں  جو حدود سے متعلقہ ہیں وہ بیان  کی گئی  ہیں اگر  توہین رسالت  کی سزا  بھی حدود  میں داخل  ہوتی  تو اسے   ان سزاؤں کے ساتھ  ضرور بیان  کیا جاتا ،لیکن  ایسا نہیں  ہوا۔

فقہی  ابواب  وعنوانات  کےتحت  مرتب ہونے والے  تمام متداول   کتابوں کو آپ دیکھ  لیں ان میں حدود تعزیرات  کے ابواب  بھی قائم  کیے گئے  ہیں لیکن  ان میں توہین  رسالت کی سزا  کا کوئی ذکرنہیں محدثین کے اس طرز  اور اسلوب  سے یہی واضح  ہوتا ہے کہ  تو ہین رسالت کی سزا ان کے نزدیک  حد شرعی  نہیں۔

اس موضوع پر  مولانا عمار خان ناصر   نے جو تحقیق  پیش کی ہے، اس کا اختصار  انہی کے شکریہ  کےساتھ یہاں  پیش کیا جاتاہے۔

احادیث کی کتابوں  میں صحاح ستہ کو  بڑا مقام حاصل  ہے اس لئےاس سلسلہ میں  اپنے جائزے کا آغاز  بھی صحاح ستہ  سے کیا جارہاہے  ۔صحاح ستہ   کی چھ  میں سے تین  کتابوں   صحیح مسلم ، سنن  ترمذی   اور سنن  ابن ماجہ  کے متعلقہ  ابواب  میں توہین رسالت  کی سزا سے  متعلق  نہ کوئی  حدیث ذکر کی گئی  ہے اور نہ ہی عنوان  قائم کیا گیا ہے۔

سنن نسائی  اور سنن ابو داؤد میں توہین  رسالت سے  متعلق  ابواب بھی قائم  کیے گئے  ہیں اور اس  کے تحت  احادیث  بھی ذکر کی گئ ہیں جن میں  ایسے مجرموں  کو قتل  کیے جانے  کا ذکر  ہے لیکن  اس سے قطعی  طورپر  یہ مفہوم نہیں ہوتا  کہ وہ  اس سزا کو شرعی  حد بھی  سمجھتے ہیں کیوں کہ  انہی کتابوں  میں دوسرے مقامات  پر بعض  دوسرے  جرائم  پر قتل  کی سزا  کا ذکر کیا گیا ہے جو یقینا تعزیرات  کے دائرے  میں آتی  ہیں مثلا  ہم جنس  پرستی  کی سزا قتل   یا سنگسار  بیان کی گئی ہے جسے کوئی بھی حدود میں شامل نہیں سمجھتا۔

صحیح بخاری  میں امام  بخاری ؒ  نے توہین رسالت  کی سزا  کے متعلق   بعض روایات    ذک رکی   ہیں مثلا  کتاب  المغازی   میں کعب  بن اشرف  اور ابورافع   کے قتل  کی روایات  منقول    ہیں   لیکن کتا ب  الجزیہ  اور کتا ب       الحدود  جہاں یہ  روایات  امام بخاری  کے اسلوب  کے مطابق  درج ہونی چاہیے  تھیں  وہاں ان  میں سے کوئی  واقعہ نقل نہیں کیا گیا  اور نہ اس سزا  کا کوئی  ذکر کیا گیا ہے۔

امام بخاری کے اس اسلوب اور طرز سے یہی معلو م ہوتاہے  کہ ان کے نزدیک  یہ سزا شرعی  حد نہیں  اس کی تائید  امام بخاری  کی ایک اور بات سے بھی  ہوتی   ہے وہ یہ ہے کہ امام  صاحب نے  کتاب  استتابۃ المرتدین  والمعاندین  وقتالھم  میں ایک باب  اس عنوان سے ذکر کیا  ہے: باب  اذا عرض الذمی   وغیرہ  بسب النبی  ﷺولم یصرح  (اگر کوئی ذمی   یا کوئی دوسرا  شخص  کنائے  کے انداز میں نبی اقدس ﷺ  کی توہین  کرے لیکن  صراحتا  نہ کرے )  کا عنوان  قائم کرکے یہ مشہور روایت  ذکر کی ہے  کہ ایک یہودی  نے نبی اقدس ﷺ  کو سلام کرتے ہوئے السام علیک  (تم پر موت آجائے )  کے الفاظ  کہے  تو صحابہ  نے کہاکہ کیا   ہم اسے قتل  نہ کردیں  ؟  آپ نے فرمایا  کہ نہیں بلکہ  جب اہل کتا ب  تمہیں  سلام کریں  تو تم صرف  وعلیکم  کہہ دیا کرو۔

امام بخاری  کے اس اسلوب  سےشارحین  بخاری   شریف نے  بھی یہی نتیجہ  اخذ کیا ہے  کہ امام  صاحب توہین رسالت کی سزا  کے سلسلہ میں حنفی  مذہب   کے زیادہ  قریب ہیں اور حنفی   مذہب   میں توہین  رسالت کی سزا  حدود میں داخل نہیں  ۔ چنانچہ  ابن  المنیر  لکھتے ہیں:

 كان البخاري  كان علي  مذہب  الكوفين  في ہذہ  المسالۃ وہوان الذمي  اذا سب  يعزر ولايقتل  17

گویا امام بخاری    اس مسئلے  میں اہل کوفہ  کے مذہب  پر ہیں  اور وہ یہ ہے کہ  اگر ذمی  توہین رسالت  کا ارتکاب کرے تو اسے تعزیری  سزا دی  جائے  گی اور قتل نہیں  کیا جائے۔

صحاح ستہ  کے علاوہ  دیگر  احادیث  کی کتابوں  کی صورت حال  بھی یہی  ہے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب  المصنف  کی کتاب الحدود   اور کتاب السیر میں   توہین رسالت کی سزا  کے بارے میں   کوئی روایت  نقل نہیں کی   اگرچہ  بعض  دیگر  مواقع پر اس سلسلہ  کی ایک آدھ  روایت  ذکر کی ہے  جس میں ایک یہودی  عورت کو نبی  اقدس ﷺ کی توہین  کی وجہ سے قتل  کرنے کا ذکرہے  تاہم  اس سے یہ ثابت  نہیں ہوتا  کہ وہ اسے حد شرعی   سمجھتے  ہیں۔

اما م دارمی  نے بھی اپنی  سنن  کی کتاب الحدود  اور کتاب السیر  میں اس  سے متعلق کوئی روایت  ذکر نہیں کی  ہے۔

امام ابو عوانہ  نے اپنی   مسند کی کتاب  الحدود  اور کتاب  السیر   میں اس سے متعلق  کوئی حدیث  ذکر نہیں کی  امام ابن حبان   نے اپنی  صحیح  میں توہین رسالت  سے متعلق  نہ کوئی   عنوان قائم کیا ہے اور نہ  ہی کوئی  روایت   بیان کی  ہے   حالانکہ  ابن  خطل  وغیرہ  کے قتل کے واقعات  اس کتاب  میں دوسرے مقامات  پر منقول ہیں ،امام ابومحمد ابن الحارودنے احادیث احکام پر مشتمل  مجموعہ  المنتقی  میں اس سے متعلق  نہ کئی حدیث ذکر کی ہے اور نہ ہی  اس سے متعلق  کوئی حکم  بیان کیا ہے۔

 امام دار قطنی  نے اپنی سنن  میں کتاب الحدود  والدیات  میں  ابن عباس ؓ  کی روایت   اگرچہ نقل کی ہے  جس میں توہین  کرنے  والی ایک  عورت  کے قتل  کا واقعہ   بیان ہوا  ہے تاہم  اس سے یہ ثابت  نہیں ہوتا کہ  وہ اسے ردت  کی سزا  سمجھتے  ہیں یا حد شرعی   کی ،ظاہر  ان کے اسلوب  سےیہی مفہوم  ہوتاہے کہ وہ خاتون  مسلمان تھی  اور توہین کرنے کی وجہ سے مرتدہ ہوگئی  اور قتل  کی سزا  اسے ارتداد  کی وجہ سے  دی گئی   گویا  کہ امام  دارقطنی  نے صراحتا  غیر مسلم  کی سزا  اپنی کتاب  میں بیان نہیں کی۔

امام بیہقی  نے السنن الکبری  کی کتا ب الحدود  میں اس مسئلے  کا کوئی  ذکر نہیں کیا   البتہ  دوسرے  مقامات  پر توہین رسالت کی سزاکےواقعات    بیان کے ہیں  مثلا کتاب الجزیہ  کے ’’باب يشرط عليہم  ان لا يذكرو ا رسول اللہ الا  بماہوا ہلہ،، کے عنوان کے تحت  دوروایات  ذکرکی   ہیں ایک میں  توہین رسالت کی وجہ سے  ایک   یہودیہ عورت  کو قتل  کرنے کا ذکر ہے جب کہ  دوسری روایت  میں حضرت  غرفہ  بن حارث کندی  کا واقعہ  بیان ہواہے  کہ انہوں نے توہین رسالت کی بنیاد پر ایک نصرانی شخص  کی ناک توڑ دی تھی  اس واقعہ   سے صاف  پتہ  چلتا  ہےکہ توہین  کے مرتکب  نصرانی  کو قتل  نہیں کیا گیا  تھا بلکہ  صرف ناک توڑنے کی  سزا دی گئی  تھی  ۔امام بیہقی   کا اس روایت   کو یہاں  ذکرکرنا اس بات کی  دلیل ہےکہ  ان کے نزدیک  توہین رسالت  کی سزا  قتل  ضروری نہیں  بلکہ قتل  سے ہلکی سزا بھی دی جاسکتی  ہے اور یہ کہ قتل کی سزا  کوئی حد شرعی  نہیں۔ 

امام عبد الحق  الاشبیلی   نے صحیحین   کی احادیث کو  خاص انداز میں جمع  کیا ہے جس کا  نام ’’الجمع  بین الصحیحین‘‘ ہے اس کتاب  میں بھی توہین رسالت  کی سزا  یا اس سے متعلق   کوئی روایت  ذکر نہیں کی گئی۔

امام  زین الدین  عراقی   نے اپنی کتاب’’طرح التثریب  فی شرح التقریب  ،،میں  بھی   اس مسئلے  سے کوئی تعرض نہیں  کیا۔

ماضی قریب  کے عظیم محدث  علامہ احمد عبد الرحمان  الساعاتی  نے امام احمد بن حنبل  کی مرویات کو موضوعاتی   تبویب  کے اندازسے   الفتح  الربانی  کے نام سے مرتب کیا  ہے احادیث  کا بہت زیادہ   ذخیرہ  اس کتاب  میں مرتب  ہوگیاہے  لیکن اس میں توہین رسالت  کی سزاسے متعلق  کوئی روایت    بیان نہیں ہوئی  اور نہ اس سے متعلق کوئی حکم  بیان کیا گیا  ہے۔

مذکورہ  تفصیل سے اندازہ لگایا جاسکتاہے  کہ محدثین  کے ہاں بھی توہین  رسالت کا جرم  حدود سے  متعلق نہیں بلکہ تعزیرات سے متعلق ہے  اس حوالے سے فقہاء  احناف  صحابہ وتابعین  ائمہ  مجتہدین  اور محدثین  عظام کے موقف  میں کوئی   فرق نہیں  ۔قریب قریب  سب میں اتفاق  پایا جاتاہے ،کہ توہین رسالت  کاجرم  حدود سے متعلق  نہیں بلکہ  تعزیرات  سے متعلق ہے ۔


حوالہ جات

۱۔ بدائع الصنائع فی ترتیب  الشرائع ج۹ص۱۷۷

۲۔ البحرالرائق ج۵ص۲

۳۔ المبسوط ج۹،ص۳۶

۴۔  المبسوط ج۹ص۱۱۰

۵۔ بدائع الصنائع  ج۹ص۲۲۹

۶۔ الصارم المسلول   ص۳

۷۔   نفس المصدر ص۴

۸۔  براہین ص۴۵۶

۹۔  کنزالعمال کتاب الحدود ،ذیل الحدود ، رقم ۱۳۹۹۲

۱٠۔ نفس المصدر

۱۱۔ زادالمعاد فی ہدی  خیر العباد ،ج ۵ص۵۵

۱۲۔ کتاب االام ،ج۴ص۲۱۸

۱۳۔ کشف الغمہ ج۲ص۱۸۹

۱۴۔ الصارم المسلول ص۱۶

۱۵۔ مختصر الطحاوی ص۲۶۲

۱۶۔ تنبیہ الولاۃ والحکام ص ۳۸

۱۷۔ المتواری علی ابواب البخاری ج۱ص۳۴۶


آراء و افکار

Flag Counter