پروفیسر فواد سیزگینؒ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

(گزشتہ دنوں عالم اسلام کے ممتاز محقق اور دانشور پروفیسر فواد سیزگین انتقال کر گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے مختصر حالات زندگی اور علمی خدمات کے تعارف پر مبنی یہ تحریر، جو ان کی حیات میں ماہنامہ ’’افکار ملی’’ دہلی میں شائع ہوئی تھی، مذکورہ مجلہ کے شکریے کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔)


بیسویں صدی مسلمانوں کے سیاسی و علمی عروج و زوال کی صدی رہی ہے۔ اس صدی کے پہلے نصف میں مسلمانانِ عالم جہاں علمی و تحقیقی اور سیاسی و معاشی زوال کی انتہا کو پہنچ رہے تھے، وہیں اس صدی کے نصف ثانی میں انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں عروج وارتقاء کی ایک دوسری داستان لکھی۔ چنانچہ جہاں بہت سارے مسلم ممالک نے استعمار کے چنگل سے نجات پائی، وہیں فکر و تحقیق کے میدان میں بہت سے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے علم و تحقیق، تصنیف وتالیف اور بحث و ریسرچ کی ان تابندہ روایات کو پھر سے زندہ کیاجو کبھی اسلاف کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں۔ ان بڑی اورعظیم محقق شخصیات میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ(پیرس) کے علاوہ پروفیسرفوادسیزگین وغیرہ جیسی شخصیات بھی ہیں جن کو علوم اسلامیہ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اگلی سطور میں انہی ڈاکٹر فواد سیزگین (ترکی) کا مختصر تعارف کرانا مقصود ہے۔ البتہ ان کے گھریلو حالات راقم کو تلاش کے باوجود نہیں مل سکے۔ بڑی عنایت ہوگی اگر کوئی قاری اس سلسلے میں مزید معلومات فراہم کرسکے۔ فواد سیزگین (Fuat Sezgin) چوبیس اکتوبر1924ء کو ترکی کے مقام بطلس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے علاقہ میں پانے کے بعد استنبول آگئے، جہاں انہوں نے جامعہ استنبول میں داخلہ لیا اور 1947ء میں اس کی فیکلٹی آف آرٹس سے گریجویشن کیا، یہیں سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور عربی زبان و ادبیات میں 1954ء میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا، جس کے نگراں جامعہ استنبول میں اسلامی علوم اور عربی ادبیات کے ماہر ایک جرمن مستشرق پروفیسرہیلمٹ رٹر (Hellmut Ritter) تھے۔ رٹر اپنے اس شاگرد پر بہت شفقت کرتے تھے۔ ان کے مشورے سے پی ایچ ڈی کے مقالہ کے لیے فواد سیزگین نے بخاری کے مصادرکا موضوع منتخب کیا۔ مصادر بخاری پر اپنے تحقیقی کام میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ امام بخاریؒ نے مکتوبہ و مدونہ مصادر و مراجع پر اعتمادکیا ہے نہ کہ صرف زبانی روایات اور مراجع پر، جیسا کے مشہور عام ہے۔ پی ایچ ڈی کے بعد فواد سیزگین اسی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوگئے۔ ان سے قریبی زمانہ میں ایک اور مشہور جرمن مستشرق کارل بروکلمن نے عربی اور اسلامی ادبیات پر تاریخ آداب اللغۃ العربیہ کے نام سے ایک مبسوط کام کیا تھا۔ گرچہ کارل بروکلمن ترکی آتے جاتے رہتے تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی اور مسلمان علما سے اُن کا کبھی انٹرایکشن یا تبادلہ خیال نہیں ہوا، کیونکہ ان کی کتاب یوں تو بہت تحقیقی، مستند اور جامع سمجھی جاتی ہے مگر اس میں صرف یورپی مصادر و مراجع سے کام لیا گیا ہے اور مسلمان علما کی کتابوں کا کوئی ذکر اذکار نہیں ہے۔ اس خلا کے باعث وہ ناتمام کتاب ہے اور اس خلاء کو پُر کرنے کی یورپی اسکالروں نے کئی کوششیں کی ہیں۔ چنانچہ 1950ء میں اس کتاب کی تکمیل اور کمیوںکی تلافی کا کام کئی محققین کی ایک ٹیم نے مل کرکیا اور اس منصوبے کو UNESCO نے فنڈ فراہم کیا۔ نیز برل پبلشنگ نے اس کی اشاعت کی ذمہ داری لی۔ اس طرح یہ کام پہلے سے بہتر تو ہوگیا مگر ابھی بہت کچھ اصلاح کی ضرورت باقی تھی۔ کارل بروکلمن کی اس کتاب کا مطالعہ بالاستیعاب جب فواد سیزگین نے کیا تو اس کے نقائص اُن پر اچھی طرح واضح ہوگئے اور انہوں نے تلافی مافات کے لیے کمرکس لی۔ ان کی مشہور عالم کتاب تاریخ التراث العربی (عربوںکی میراث علمی کی تاریخ) اسی طرح منصۂ شہود پر آئی۔ یہ کتابی سلسلہ ابھی جاری ہے، اس کی پندرہ جلدیں طبع ہوچکی ہیں اور دو پر وہ کام کررہے ہیں۔ پوری کتاب سترہ جلدوں میں آئے گی۔ 

فواد سیزگین مطالعہ وتحقیق کے آدمی ہیں اور اسی کے لیے وقف ہیں۔ اپنے استادوں میں انہوں نے پرفیسر رٹرکا اثر سب سے زیادہ قبول کیا ہے جنہوں نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ اگر ’’وہ واقعی اسکالر بننا چاہتے ہیں تو ان کو سترہ گھنٹے یومیہ پڑھنا چاہیے‘‘۔ انہوں نے استادکی اس بات کو گرہ سے باندھ لیا اورآج تک اس پر عمل پیرا ہیں اورآج بیاسی سال کی عمر میں بھی وہ چودہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ رٹرسے ملاقات کو وہ اپنی زندگی کا اہم موڑ مانتے ہیں اور اسے The time when I was born again (ایسا لمحہ جب میں دوبارہ پیدا ہوا) کہاکرتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے رٹر سے معلوم کیاکہ کیا عربوں اور مسلمانوںکی تاریخ میں ریاضیات کے میدان میں کوئی بڑا نام نہیں ہے؟ رٹرکو حالانکہ یہی پڑھایا گیا تھا کہ مسلمان اورعرب ایک جاہل قوم ہیں اورانسانی تاریخ میں ان کا کوئی بڑا کارنامہ نہیں۔ مگر رٹر ایک منصف مزاج آدمی تھے، انہوں نے فواد سیزگین کو بتایاکہ ایک نہیں کئی بڑے نام ہیں۔ بس پھرکیا تھا، ان کے دل کو یہ بات لگ گئی اور انہوں نے اس موضوع پر مطالعہ وتحقیق شروع کردی، جس کا نتیجہ ان کی کتاب Natural Sciences in Islam ہے۔ یہ کتاب پانچ جلدوں میں ہے اور اس میں انہوں نے سائنسی علوم میں مسلمانوں اور عربوں کے کارناموں کو نہایت مستند مصادر و مراجع کی بنیاد پر بیان کیا ے۔ جرمنی میں مستقل قیام پذیر ہونے سے پہلے بھی ریسرچ و تحقیق کے لیے انہوں نے جرمنی کا سفر کیا تھا۔

فواد سیزگین ترکی کی جامعہ استنبول میں پڑھا رہے تھے کہ 27 مئی 1960ء کو ملک میں فوجی بغاوت ہوگئی اور نئی حکومت نے بغیر کسی سبب کے یونیورسٹی کے 147 پروفیسروں کو برخواست کردیا۔ اگرچہ ان کے دو چھوٹے بھائیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا، مگر سیزگین نے اس کے باوجود یونیورسٹی میں اپنے فرائض انجام دینے جاری رکھے۔ ایک دن وہ صبح صبح یونیورسٹی جارہے تھے کہ ہاکر نے ان کو اخبار پکڑا دیا جس میں یہ خبر تھی کہ نئی حکومت نے یونیورسٹی کے 147پروفیسروںکو برخواست کردیا ہے۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں: ’’میں ترکی چھوڑنا نہیں چاہتا تھا مگر اس کے علاوہ میرے پاس کوئی آپشن نہیں بچا تھا‘‘۔ وہ یہ خبر پڑھ کر سلیمانیہ لائبریری گئے اور وہاں بیٹھ کر امریکہ اور یورپ میں اپنے دوستوںکو خطوط لکھے کہ نئے حالات میں ترکی میں رہ کر ان کے لیے کام کرنا ممکن نہیں رہا، کیا وہ ان کو کوئی موقع دیں گے؟ ایک ماہ کے اندر اندر کئی جگہوں سے مثبت جواب آئے۔ انہوں نے جرمنی کی فرینکفرٹ یونیورسٹی جانا پسند کیا جہاں وہ اس سے پہلے بھی کئی بار جاچکے تھے۔ جس دن ان کو روانہ ہونا تھا اس کے بارے میں وہ بہت جذباتی ہوگئے، لکھتے ہیں: ’’ترکی سے اپنی روانگی کی شام میں ’’گلاتا برج کے قراقوے‘‘ (استنبول کا ساحلی علاقہ)کی جانب گیا۔ میں 15۔20منٹ تک ’’اوسکدار‘‘(استنبول کی ایک گنجان آباد میونسپلٹی) کو دیکھتا رہا۔ یہ رات بڑی خوبصورت تھی مگر میرے آنسو بہہ رہے تھے، میں ناراض نہیں مگر غم زدہ ضرورتھا۔‘‘

اس کے بعد وہ جرمنی چلے گئے اور1962ء سے فرینکفرٹ یونیورسٹی میں وزٹنگ لیکچرارکی حیثیت سے کام شروع کردیا۔1965ء میں انہوں نے عرب سائنس کی تاریخ پر پھر پی ایچ ڈی کی اور اسی سال اپنی وہ مشہورکتاب لکھنی شروع کی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے جرمن میں لکھی جس کا نام ہے: “Geschechte des arabischen shehrefttrms” اس کتاب کا موضوع اسلامی علوم کی تاریخ ہے جس کا انگریزی نام ہے :”History of Arabi-Islamic sciences and technology in the Islamic world” اردو میں اسے اسلامی عربی سائنسی وٹیکنالوجی کے علوم کی تاریخ کہیں گے۔ اس کا عربی ترجمہ ہوچکا ہے اور متداول ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر ان کو فیصل ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس کی پہلی جلد میں عربی و اسلامی علوم ہیں جن میں مذہبی علوم بھی شامل ہیں۔ 1970ء میں اس کی دوسری جلد شائع ہوئی جس میں طبی علوم سے بحث کی گئی ہے۔1971میں تیسری جلدآئی جس میں علم کیمیا، کیمسٹری جیسے علوم ہیں، چوتھی جلد 1974ء میں آئی جس میں ریاضی ہندسہ اور ہیئت فلکیات، علم نجوم وغیرہ علوم کا ذکر ہے۔ 1978ء میں اس کی وہ جلد منظرعام پر آئی جس میں شاعری، عروض، نحو و صرف اور بلاغت اور دوسرے لغوی علوم کا تذکرہ ہے۔ یہ کتابی سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اور استناد کا مرتبہ یہ کہ پاکستان کے ایک بڑے اسکالر اور دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کہا تھا کہ ’’یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کے براہِ راست مطالعہ کے لیے جرمن زبان سیکھ لی جائے۔‘‘ (ملاحظہ ہو، ماہنامہ الشریعہ کی خصوصی اشاعت بیاد ڈاکٹر محمود احمد غازی۔ جنوری فروری 2011ء)

پروفیسر فواد سیزگین اب دنیاکے ایک بڑے تحقیقی ادارے Institute of Historical Arab-Islamic Sciences at John wolfgang Goethe University Frankfurt Germany کے بانی و صدر ہیں اور اسی یونیورسٹی میں Natural Sciences میں پروفیسر آف ایمرٹس۔ یہ ادارہ عرب مسلم تاریخی کلچر پر ریسرچ و تحقیق کرتا ہے۔ سیزگین کہتے ہیں کہ مسلم سائنس کا دورِ عروج آٹھویں صدی عیسوی سے سولہوی صدی تک رہا ہے۔ یورپی اسکالر آج سیزگین کو Conqueror of a missing treasure (مخفی خزانہ کا فاتح) کہتے ہیں، کیونکہ انہوں نے مغرب کے قرون مظلمہ (یعنی اسلامی دور) کے تصور کو غلط ثابت کردیا ہے اور بتایا ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس دراصل مسلمانوں اور عربوں کی ہی ریسرچ و تحقیق کا ثمرہ ہے۔ اور قرون وسطیٰ کے جن ادوارکو مغرب والے تاریک دورکہتے رہے ہیں وہ اسلامی سائنس کا عہد ہے اور اس کو تاریک دور قرار دینا جہالت اور تعصب ہے۔ اب وہ ایک اورکتاب پر کام کررہے ہیں جو پانچ جلدوں میں ہوگی اور مسلم تاریخ کے مختلف گوشوں کا احاطہ کرے گی۔

پروفیسر سیزگین روانی سے عربی، ترکی، انگریزی اور جرمن بولتے ہیں، البتہ ان کی تحریری زبان جرمن ہے۔ آغاز میں وہ ترکی میں پڑھاتے تھے مگر جرمنی جانے کے بعد جلد ہی انہوں نے جرمن پر عبور حاصل کرلیا۔ انہوں نے اسلامی ٹیکنالوجی اور سائنس پر ایک میوزیم بھی بنایا ہے جس میں مسلم سائنس کے نادر نمونے، نقشے، خریطے، جدولیں اور سائنسی آلات و اصطرلاب وغیرہ جمع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جرمنی اور ترکی، نیز مغرب میں مختلف جگہوں پر مسلم سائنس کی نمائش بھی لگا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک ترکی مؤرخ زکی ولیدی طوغان کے ساتھ مل کر انہوں نے ترکی میں بھی Islamic Science Research Institute قائم کیا ہے۔ انہوں نے مسلم نقشہ نویسوں پر بھی کام کیا ہے اورساتویں صدی میں عرب اسلامی علوم اور ان کے یونانی مصادر پر بھی ان کی گہری نظر ہے اور اس موضوع پر وہ جرمن و ترکش میں سینکڑوں مقالات تحریرکرچکے ہیں۔

فواد سیزگین جرمنی کے معروف مجلہ Journal for the History of Arab-Islamic Sciencesکے ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق عرب سیاح اور ملاح 1420ء میں ہی امریکہ پہنچ چکے تھے۔ مختلف نقشوں اور جغرافیائی خریطوں اورآثار قدیمہ کے نمونوں کے مطالعہ سے انہوں نے یہ بات ثابت کی ہے۔ ان کو 1978ء میں علوم اسلامیہ کی خدمت کے سلسلے میں عالم اسلام کا باوقار انعام فیصل ایوارڈ دیاگیا۔ ان کے ساتھ ایوارڈ پانے والوں میں مولانا مودودیؒ بھی تھے جنہیں اسی سال اسلامی خدمات کے لیے یہ ایوارڈ دیا گیا تھا۔ فیصل ایوارڈ کے علاوہ ان کو جرمنی کا مشہور انعام The great medal for distinguished sciences of the federal republic of Germany بھی دیاگیا۔ وہ ترکی اکیڈمی برائے علوم، مجمع اللغۃ العربیہ، دمشق، قاہرہ اور بغدادکے ممبر ہیں، جن کا ممبر ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ اس کے علاوہ اکیڈمی آف سائنس مراکش کے رکن ہیں۔ اس طرح پروفیسر فواد سیزگین اسلامی و عربی علوم کے میدان میں ایک منارۂ نور ہیں اور اسلاف کی علمی روایتوں کے امین، جن کے چراغ سے کتنے ہی چراغ جلیں گے اورجن کی تابانی سے کتنے ہی نقوش روشن ہوں گے۔ 

اخبار و آثار