غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور جناب زاہد صدیق مغل کا نقد (۲)

احمد بلال

xii۔ خلاصہ تنقید: ’’قومی سیاسی پہلو پر چند اصولی کلمات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گو ہمیں اس کی شکلی صورت سے غرض نہیں۔" (از حامد کمال الدین صاحب)

جواب: صاحب مضمون نے حامد کمال الدین صاحب کا اقتباس نقل فرمایا ہے۔ ویسے تو میں نے حامد صاحب کے ان اعتراضات کے حامل شمارہ ایقاظ کا تفصیلی تجزیہ ایک علیحدہ مقالے میں پیش کر دیا ہے، تاہم یہاں بھی نکات کی مناسبت سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔ 

پہلی گزارش: یہ دعویٰ اصول میں بالکل درست ہے کہ "نیشن اسٹیٹ کا فارمیٹ بدلنا کوئی دین شکنی نہیں ہے" اور نہ ہی غامدی صاحب نے کبھی اسے دین شکنی کہا ہے۔ تاہم، اس کے اطلاق پر چند کلمات عرض کرنے سے پہلے جو دعویٰ اس کے مقابل میں غامدی صاحب کے بیانیے سے اخذ کیا جا سکتا ہے، وہ بھی دہرانا مناسب معلوم پڑتا ہے، کہ "نیشن سٹیٹ کا فارمیٹ بدلنا کوئی دین کا حکم بھی نہیں ہے"۔ اب رہی بات اس کے اطلاق کی، تو معاملہ یہ نہیں ہے کہ ہم کوئی ریاست ابھی بنانے جا رہے ہیں اور اس کے بننے سے پہلے یہ بحث کر رہے ہیں، کیونکہ اس صورت میں تو متعدد زاویوں سے اس بحث میں خامہ فرسائی کرنا شاید میری بھی دلچسپی کا باعث ہوتا۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ایک ریاست وجود پذیر ہو چکی ہے، اس لیے موضوعِ بحث یہ ہے کہ کیا ہماری موجودہ نیشن اسٹیٹ کا فارمیٹ اکثریت کے زور پر بدلنا "مؤثر بہ زمانہ ماضی" انداز میں، عقلاً و قانوناً انصاف کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، ممکن ہے کہ نہیں؟ غامدی صاحب اس پر اپنا مؤقف دے چکے ہیں جو انصاف کے بالکل مطابق معلوم پڑتا ہے کہ اب یکطرفہ طور پر ایسا کرنا استبداد اور تحکم ہو گا۔ تاہم، اگر یہ نا انصافی نہیں ہے تو صاحبِ مضمون سے التماس ہے کہ وہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو دلائل سے یہ باور کرائیں کہ یہ نا انصافی کیوں نہیں ہے۔ میں اْنہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر وہ یہ ثابت کر دیں تو نہ مجھے اور نہ ہی غامدی صاحب کو کوئی شوق ہے کہ اپنے وطن سے شریعت کے حلقہ اثر کو کم کرنا ہمیں بھاتا ہو۔ مگر نا انصافی کی تو ادنیٰ آمیزش بھی ہم شریعت کی رو سے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 

دوسری گزارش: جہاں تک مسلمانوں کو غاصب گرداننے کا معاملہ ہے اور اصل بات کے بہت پیچھے تک جانے کاتو یہ ایک ایسی بحث کی طرف رخ موڑنے کی کوشش معلوم پڑتی ہے جس کا شریعت میں حلال و حرام یا مکروہ و مندوب کے تعین سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمانوں کا عمل چودہ صدیوں میں کیا رہا اور شریعت کو کیا مطلوب تھا، یہ دونوں الگ الگ حقیقتیں ہیں اور دونوں کا ایک ہونا کوئی عقلی لازمہ نہیں۔ اگر قرآن کو جمہوری نظام پر اصرار ہے اور مسلمانوں نے خلفاءِ راشدین کے بعد اس کے بجائے بادشاہت کو اپنا نظام بنا لیا، تو اب ہمیں شریعت کا مطالبہ واضح کرنے کے لیے مسلمانوں کے اس دورِ بادشاہت میں اختیار کیے گئے رویے اور اس کے محرکات پر بحث کی کوئی منطقی حاجت نہیں۔ مگر اصل میں ایسی باتیں چونکہ قارئین میں کسی مؤقف کی حامل شخصیت کے خلاف تعصب اور نفرت پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہیں، اس لیے میں اس کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں، تا کہ اگر صاحبِ مضمون کا بھی ارادہ کچھ ایسا ہی ہے تو انہیں اس طرح کے دلائل سے قارئین کے تحت الشعور میں غامدی صاحب کے متعلق ایک عمومی تعصب کا بیج بونے کا موقع نہ دیا جائے۔ نہ غامدی صاحب کا مؤقف BJP کے زاویہ مطالعہ تاریخ سے ملتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی فتوحات کو ظلم گردانتا ہے۔ مسلمانوں نے جس زمانے میں یہ فتوحات کیں، اس میں ان کے مقابل میں استبدادی حکومتیں ہی تھیں۔ جب مقابل میں استبداد ہو تو جنگ کے علاوہ کوئی صورت رفعِ نزاع کے لیے باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان فتوحات کے خلاف اْس دور کے اجتماعی انسانی ضمیر نے کبھی اصولاً غیر اخلاقی ہونے کا فتویٰ نہیں دیا۔ اِس دور میں بھی جن لوگوں نے اس پر کسی قسم کا کوئی اعتراض وارد کیا ہے، انہوں نے دراصل موجودہ دور کی سیاسی اخلاقیات کو ماضی میں بھی مؤثر ماننے کی خطا کی ہے، جس کا ابطال مسلم و غیر مسلم اہل علم متعدد زاویوں سے کر چکے ہیں۔ چنانچہ صاحب مضمون سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ دین کے مطالبات کی جانچ پڑتال کے لیے تاریخی واقعات کا سہارا لینا خلط مبحث کے مترادف ہے۔ ہمارے دین میں مطالبات ایسی شانِ وضاحت سے بیان کیے گئے ہیں کہ اْن کی بحث شریعت کے ماخذوں سے شروع ہو کر انہی پر تمام ہو جانی چاہیے۔ 

تیسری گزارش: جہاں تک بات ہے سیاسی و سماجی برتری کو فتح کے مقابل میں کہیں زیادہ نرم تر عمل سمجھنا اور نیشن اسٹیٹ کے فارمیٹ میں کچھ فرق آنے کو شریعت کی خلاف ورزی نہ سمجھنا، تو توضیح کی خاطر اوپر کی گزارشات پر کچھ مزید اضافہ کیے دیتا ہوں۔ پہلے تو میری اور قارئین کی تفہیم کو یہ فرما دیجیے کہ آپ خلافِ عدل ہونے کو خلافِ شریعت مانتے ہیں کہ نہیں؟ کیونکہ میں تو جب بحث کرتا ہوں تو اِن دونوں کو لازم و ملزوم مانتے ہوئے کرتا ہوں۔ نیشن اسٹیٹ کے فارمیٹ میں یکطرفہ تبدیلی کو چونکہ خلافِ عدل سمجھتا ہوں، اس لیے شریعت کی خلاف ورزی بھی گردانتا ہوں۔ چنانچہ فاضل ناقد سے پھر التماس کرتا ہوں کہ اس کا خلافِ عدل ہونا مفقود دکھا دیجیے، یہ آپ سے آپ خلافِ شریعت بھی نہیں رہے گا۔ رہی بات نرم تر عمل کی، تو اس ضمن میں گزارش ہے کہ یہ بحث زیادہ ناانصافی اور کم ناانصافی کی نہیں ہے کہ میں صاحبِ مضمون کے اس دعوے کی تائید و تنکیر کروں۔ یہ بحث تو اصول میں ناانصافی کی ہو رہی ہے، چاہے وہ زیادہ ہو یا کسی اور طرح کی بڑی ناانصافی سے کم تر۔ چنانچہ اس دور میں جس طرح کسی ملک کو فتح کر کے اس کے عوام کو اپنے دینی تصورات کا پابند کرنا ظلم شمار ہوتا ہے، اسی طرح سیاسی و سماجی اکثریت کے زور پر بھی ایسا کرنا ظلم ہی شمار ہوتا ہے۔ یہی وہ ظلم تھا جس کو بھانپتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے حامی یعنی قائد اعظم نے آخر کار علیحدہ ملک کے مطالبے کا فیصلہ کیا۔ کیا طْرفہ تماشا ہے کہ ہم نے یہی کام اپنی اقلیتوں سے کر ڈالا۔ رہی بات قراردادِ مقاصد کی، تو اس پر غامدی صاحب کے اعتراض کو سمجھنے کی ایک موہوم سی کوشش تو کیجیے۔ قراردادِ مقاصد کو مسلمانوں کے لیے خاص کر دیجیے، اقلیتوں کو اْس کے حلقہ اثر سے باہر کر دیجیے، پھر چاہے تو جو مرضی اکثریت کی رائے سے اس میں شامل کر دیجیے، اس پر خلافِ عدل ہونے کا کوئی اعتراض ہماری جانب سے نہ آئے گا۔

xiii۔ خلاصہ تنقید: قراردادِ مقاصد ایک سیاسی اور عملی ضرورت ہے۔

جواب: قارئین سے گزارش ہے کہ قراردادِ مقاصد کی ضرورت پر وارد اِن اقتباسات کو غور سے پڑھیے اور پھر فیصلہ کیجیے: کیا اِن اقتباسات میں اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے شریعت کے ماخذوں سے کوئی دلیل پیش کی گئی ہے؛ یا پھر دنیا کے سیاسی حالات کے پیش نظر قراردادِ مقاصد کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے؟ اگر دوسری بات ہے، اور یقیناًدوسری ہی بات ہے، تو اس پر کسی کلام کی میں کوئی حاجت محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ چاہے میں اِن سے پوری طرح متفق ہوں یا جزوی طور پر، یا چاہے ان سب سے اختلاف رکھوں ،غامدی صاحب کے مؤقف پر یک سرِ مو فرق نہیں پڑتا۔ مروجہ سیاسی حالات کے تناظر میں جو رائے صاحبِ مضمون نے پیش فرمائی ہے، اس سے شریعت میں مقصود و مطلوب ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اگر صاحبِ مضمون ان دلائل کی بنیاد پر ایسا سمجھتے ہیں کہ قراردادِ مقاصد واقعتا ایک قانونی ضرورت ہے، تو اس طرح کی کسی قرارداد کو اکثریت کی تائید سے نافذ کرا لینے میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ قباحت ہے تو بس اس میں کہ جبراً غیر مسلموں کو اس کا پابند کر دیا جائے۔

xiv۔ خلاصہ تنقید: یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب "اقلیتوں کے مساوی حقوق کی مجروحیت" کی دہائی پر یہاں کچھ "مذہبی بیانیے" دینے والے یہ بھی کہیں گے کہ اپنے یہاں کے اسکولوں کے نصاب سے ان باتوں کو حذف کرنا بھی "شرعاً لازم" ہے کہ "اس کائنات کا خالق خدا ہے" وغیرہ۔

جواب: جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ اِس بات کے غماز ہیں کہ غامدی صاحب کے تصورِ دینِ ریاست کو لادینیت (secularism) کے مترادف سمجھ لیا گیا ہے اور لادینی ریاستوں میں پیش آنے والے واقعات (اگرچہ ان واقعات کو بھی صحیح نہیں سمجھا گیا) پر قیاس کر کے ان خدشات کو شدنی قرار دے دیا گیا ہے۔ خود غامدی صاحب اور میں بھی متعدد توضیحی مضامین میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کر چکے ہیں کہ جس تصور میں اجتماعی مذہبی ہدایات نہ صرف حکمرانوں کو تاکید اًکی جائیں، بلکہ ان کی ذمہ داری قرار دیا جائے، اسے لا دینیت کے مترادف گرداننا کسی طرح روا نہیں۔ میری تمام ناقدین سے دردمندانہ گزارش ہے کہ ایک مرتبہ غامدی صاحب کے دس کے دس نکات کو تسلی اور تدبر سے سمجھیں اور انہیں اپنے ذہن میں سرایت کرنے دیں، اس کے بعد جیسی چاہیں صنف بندی کریں۔ مگر یقین جانیے کہ اگر تدبر سے اس کا مطالعہ کیا گیا تو پختہ اذہان لا محالہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ ایک مختلف صنف ہے جو خالص مذہبی ریاست اور لا دینی ریاست کے بین بین ہے۔ اور خالص مذہبی ریاست کے مقابل میں غامدی صاحب اِسے اس لیے پیش نہیں کر رہے کہ اْس کا ظہور وہ دنیا میں دیکھنا نہیں چاہتے، بلکہ صرف اس لیے کر رہے ہیں کہ اِس موجودہ ریاست کی مشترک ملکیت کی نوعیت، اور شریعت کا سکھلایا ہوا عدل و قسط، انہیں اِس اقرار پر مجبور کر رہا ہے کہ ایسا کرنا ناانصافی ہے۔ تاہم میری ناقدین سے گزارش ہے کہ وہ یہ فرما دیں کہ یہ ناانصافی نہیں ہے تو پھر اٹھ کھڑے ہوں خالص مذہبی ریاست بنانے کی خاطر، وہ بالکل حق بجانب ہوں گے۔ رہی بات اْن نتائج کی جو محترم صاحب مضمون نے دکھلائے ہیں، تو وہ واقع ہی نہیں ہوں گے۔ اسلام نے جتنے احکامات مسلمانوں کو کسی شعبہ زندگی سے متعلق بھی دیے ہیں، وہ ضرور لاگو ہو سکیں گے، بس اس فرق کے ساتھ کہ غیر مسلموں کو اْن کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی نظام میں بھی مسلمانوں کا پورا حق ہو گا کہ جو مذہبی علوم بھی وہ بچوں کو پڑھانا چاہیں گے، ضرور پڑھا سکیں گے۔ میں چونکہ اس موضوع پر ایک مستقل مضمون لکھ رہا ہوں، اس لیے یہاں اسی اجمال پر اکتفا ہے۔ تفصیل ان شاء اللہ اس دوسرے مضمون میں بیان کروں گا۔ کیونکہ مجھے اس چیز کا پورا احساس ہے کہ لوگوں کا کسی بھی نظریے کو پہلے سے معلوم اصناف میں سے کسی ایک پر محمول کرنے کا ذوق، اور غامدی صاحب سے ایک عمومی سوءِ ظن، اس مختلف صنف کے ادراک میں حائل ہو رہے ہیں۔

xv۔ خلاصہ تنقید: علما نے بڑی محنت سے اس نظام کو چلانے والوں کے ارادوں کو قرآن و سنت کے کلے سے باندھنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ جیسی جو کامیابیاں حاصل کیں، جدید اربابِ علم انہیں اپنی نکتہ شناسیوں سے بہا لے جانا چاہتے ہیں۔ اور "اقلیتوں کی ذہنی تسکین بحال کرنے کے لیے" علما کو ناراض طبقوں کے سامنے بالکل ہی لاجواب کر دینا چاہتے ہیں۔

جواب: یہ اعتراض اصل میں اس سوچ کی عکاسی پوری دیانت سے کر دیتا ہے کہ غالباً جس کے تدارک کے لیے غامدی صاحب نے اس جوابی بیانیے میں ریاست کے ساتھ مذہب کے تعلق کو واضح کرنا مناسب جانا۔ صاحبِ مضمون کا یہ فرمانا کہ علما نے بڑی محنت سے اس نظام کو چلانے والوں کے ارادوں کو قرآن و سنت کے کلے سے باندھنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ جیسی جو کامیابیاں حاصل کیں۔۔۔۔ہمارے مروجہ مذہبی بیانیے اور علما کے مؤقف کی جامع عکاسی کرتا ہے۔ اصل میں یہی وہ کامیابیوں کا تصور ہے جو اس مؤقف کے حاملین کی سادہ لوحی کو مبرہن کر دیتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پرانے پاپیوں کے علی الرغم، شب بھر میں مسجد بنا دینے سے انہیں کوئی عظیم کامیابیاں حاصل ہو گئی ہیں۔ انہیں یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ملک کے آئین و قوانین اصل میں لوگوں کی مجموعی علمی و عقلی و دینی کیفیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ جس طرح کوئی علمی و عقلی حقیقت ان پر خارج سے تھوپی نہیں جا سکتی اسی طرح کوئی دینی تعبیر یا شق بھی ان پر باہر سے چسپاں نہیں کی جا سکتی، اور اگر کر بھی دی جائے تو وہ نتیجہ خیز ہونے کی بجائے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے، کیونکہ لوگ اسے عملاً قبول نہیں کرتے۔ 

اس دور میں ریاستوں پر حملے کر کے ان پر جمہوریت تھوپنے والے مغربی ممالک بھی یہی غلطی کر رہے ہیں۔ چنانچہ دینی قوانین کا فطری طریقہ بھی یہی ہے کہ جتنے لوگ مسلمان ہوں گے اتنے ہی وہ قوانین بھی اسلامی بنائیں گے۔ اور اگر اس ترتیب کو الٹ دیا جائے، یعنی قوانین تو عین اسلامی بنا ڈالے جائیں لیکن عوام و حکمران بے دین ہوں، تو پھر وہ منافقت پیدا ہوتی ہے جو ہمارے وطن میں ظہور پذیر ہو چکی ہے۔ غامدی صاحب اسی لیے اس طریقہ کار کو غیر حکیمانہ کہتے ہیں اور یہ باور کرا رہے ہیں کہ ایسا کوئی آئینی مسودہ تیار کرنا شرعی اعتبار سے اسی لیے ضروری بھی نہیں رکھا گیا۔ علما کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام سعی کا ہدف عوام کے دینداری کے معیار کو بلند کرنے کو بنائیں۔ کلے گاڑنے اور لوگوں کو اس سے باندھنے کی جو مشق انہوں نے شروع کی تھی اس کے نتائج سے ہی کچھ سبق سیکھ لیں۔ رہی بات ناراض طبقے کی، تو ان کو واپس لانے کے لیے ہی تو غامدی صاحب دین کے ماخذوں کی طرف مراجعت کی تلقین کر رہے ہیں۔ وہ یہی تو باور کرانا چاہتے ہیں کہ قرآن و سنت کے مطابق دینی تعلیمات کا ہدف افراد ہیں، نہ کہ ریاست اور اس کے ادارے۔ یہ جو الٹی ترتیب اِن مخلص و سادہ لوح مسلمانوں کو پڑھا دی گئی ہے اسی کی غلطی واضح کرنے کی جدوجہد تو وہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو یہ سب ناراض طبقے یہ جان لیں گے کہ ان کی سعی وجہد کا ہدف صرف اور صرف افراد ہیں، چاہے وہ عوام ہوں یا حاکم، اور حکمت سے دعوت اور وعظ و نصیحت ہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ریاست سے بغاوت میں وہ ہتھیار ہی کیوں اٹھائیں گے جب یہ یقین کر لیں گے کہ ایک خالص جمہوری معاشرہ ہی تو شریعت کو مطلوب ہے؟

xvi۔ خلاصہ تنقید: ہمارے یہ احباب اب الطاف حسین، نواز شریف، عمران خان و زرداری جیسوں کے مشوروں سے بننے والی تشریحِ اسلام کو امت سے "فائنل اتھارٹی" منوا لینا چاہتے ہیں، وہ بھی ایسے جسے کسی قانونی فورم پر قرآن و سنت کی بنیاد پر چیلنج بھی نہ کیا جا سکتا ہو۔

جواب: اس نقطے پر کوئی سنجیدہ ردّ عمل دینا فی الحال میرے لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ اگر یہ طنز واقعی اسی معنی میں ہے جس میں نظر آ رہا ہے تو پھر مجھے یہ ماننا پڑے گا کہ زاہد صاحب جیسے فاضل محقق کو جمہوری نظام میں آئین سازی یا آئینی ترامیم کے اجرا کے طریقہ کار کا علم نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے اعتراض سے تو ایسا لگتا ہے کہ جن تشریحاتِ اسلام کو ہمارے آئین میں ابتک حصہ ملا ہے، اور جن کی تعریف میں وہ اور ہمارے باقی علما قلابے ملاتے نہیں تھکتے، وہ شاید جمہوری عمل سے نہیں ملا۔ کیا واقعی وہ یہ بات نہیں جانتے کہ الطاف حسین، نواز شریف، عمران خان و زرداری جیسے سیاستدان ہی تھے جنہوں نے ان تمام "تاریخی" شقوں کو آئین کا حصہ بنایا یا آئین کا حصہ رہنے دیا؟ یہ کسے معلوم نہیں کہ آئین میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے معاملات کے بارے میں قانون سازی گو سیاستدان ہی کرتے ہیں ،مگر وہ یہ قانون سازی آسمان پر بیٹھ کر تنہائی میں نہیں کرتے، اور نہ ہی ہر شعبے سے متعلق پورا علم ہی ان کے پاس ہوتا ہے۔ وہ تو ہر شعبے کے ماہرین کی آرا کو ہی بنیاد بناتے ہیں، جیسا کہ آج تک کی منظور شدہ دینی شقوں کے معاملے میں ہوا ہے۔ چونکہ میں جمہوری نظام سے مکمل نا شناسائی کو صاحبِ مضمون کے حق میں فرض نہیں کر سکتا، اس لیے فی الحال اس سے زیادہ تفصیل سے گریز ہی کروں گا۔

xvii۔ خلاصہ تنقید: ایک الزامی سوال یہ ہے کہ متبادل بیانیے والوں کے نظریہ ریاست کی رو سے یورپ و امریکا کی جدید سیکولرانہ ریاستیں بھی استبدادی اور جابرانہ ہیں۔ تو کیا یہ حضرات ان ریاستوں کے خلاف اپنے نظریہ جہاد و ریاست کی روشنی میں امت مسلمہ پر "جہاد کی اصولی مشروعیت" کا اعلان فرمائیں گے؟ کیا ایک "متبادل بیانیہ" اس پر بھی نہیں ہونا چاہیے؟

جواب: بصد احترام، کیا میں یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ اس الزامی سوال کا ہماری موجودہ بحث سے تعلق کیونکر ہے؟ کیا ہمیں مسلمانوں کے مذہبی فکر کی کوئی غلطی بیان کرنے کے لیے پہلے موجودہ زمانے کی اجنبی اقوام کے تمام جرائم اور مظالم کی ایک فہرست مرتب کرنا پڑے گی؟ یہ کون سا علمی طریقہ استدلال ہے؟ عالمی اقوام کے خلاف جہاد تو بہت دور کی بات، "اپنوں" کی غلطی واضح کرنے کے پروسیس (process) میں تو اللہ تعالٰی خود اپنے سفّاک دشمنوں پر حرفِ تنقید بھی بلند کرنے کے روا نہیں(سورۂ بنی اسرائیل کا پہلا رکوع ہی پڑھ کر دیکھ لیجیے)۔ یعنی یہ کس قسم کا علمی مکالمہ ہے کہ پہلے فلاں کی غلطی مانو تب ہماری پر بات ہو سکے گی! اور جہاں تک جہاد کی اصولی مشروعیت اور متبادل بیانیہ جہاد جیسے دلائل کا تعلق ہے، تو ان پر تو مجھے شدید دکھ ہوا ہے۔ یعنی ایک طرف ناقدین کے اشکالات رفع کرنے کی مخلصانہ کوشش جاری ہے۔ ایسی کوشش کے لیے ناقدین کے متعلق بھی خوش گمانی رکھنا کہ وہ بھی پورے اخلاص سے کسی نقطے کو سمجھنا چاہ رہے ہیں ایک مجبوری ہوتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر بحث کے لیے اپنے نفس کی تحریک بڑی گراں ہوتی ہے۔ مگر دوسری جانب سے ایسے اعتراض کا سامنے آنا کہ بھئی ہمیں اگر کینسر ہوا ہے اور چاہے ہم آپ کے بھائی بھی ہیں، مگر آپ اس شخص کا علاج کریں جو فلاں بستی میں کوسوں دور بھی رہتا ہے اور آپکا اس سے کوئی رشتہ بھی نہیں اور ہوا بھی اس کو بس نزلہ ہے، تو اس طرح کے اعتراض کے بعد تو گفتگو کا سارا شوق ہی ختم ہو جاتا ہے۔ 

بہر حال چونکہ یہ نقطہ ناقدِ فاضل نے اٹھا دیا ہے تو اس کا بھی جواب پیش خدمت ہے۔ مغربی ممالک کی جمہوریتوں کو کب غامدی صاحب نے مثالی کہا ہے اور کب کہا ہے کہ ان میں حلقہ ہائے اصلاح نہیں؟ بلکہ وقتاً فوقتاً اپنے محل میں ان پر نقد بھی غامدی صاحب کرتے رہتے ہیں۔ مگر جہاں تک اس موضوع پر پورا بیانیہ مرتب کر دینے کی بات ہے تو کیا صاحب مضمون یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اپنی امت کو درپیش زندگی اور موت کی کشمکش کو چھوڑو اور غیر مسلم اقوام کو درپیش "جنرل ول" کو نہ بدل سکنے جیسے کہیں ادنیٰ مسئلے پر توجہ مرکوز کر دو؟ تو معاف کیجیے گا، یہ ہم سے نہ ہو سکے گا۔ ہمارے لیے اوّلیت ہمارے دین کی تعبیرات اور اس کے حاملین کے مسائل ہیں۔ جب ہم ان سے فارغ ہو لیں گے تو شاید اس طرف بھی توجہ کریں۔ اور پھر جہاد کی مشروعیت ۔۔۔ تو نہ جانے ہمارے ذی شعور اہل علم کے یہاں ہر معاملے کا نقطہ آغاز جہاد ہی کیوں ہوتا ہے۔ کیا دعوت و تبلیغ سے لوگوں کو کسی چیز کا قائل کر لینا مسدود ہو گیا ہے؟ میرا تجربہ تو یہ ہے کہ مغرب کے غیر مسلم اس دور کے مسلمانوں سے کہیں زیادہ علمی و عقلی دلائل سے قائل ہونے والے لوگ ہیں۔ تو جب ہم ان کے دلائل سے متاثر ہونے کی روش سے مایوس ہو جائیں گے، اور پھر ان کے ساتھ حربی طاقت کے توازن کے قابل ہو جائیں گے، اور اپنے مسائل سے فارغ ہو لیں گے، تو پھر ضرور اس مشروعیت پر اپنا تبصرہ بھی دے دیں گے۔

xviii۔ خلاصہ تنقید: 38:26 میں اللہ تعالی نے حضرت داود کو خلافت کے جس طرز کی تلقین فرمائی ہے ، تو چاہے غامدی صاحب اس کے لیے اپنی طرف سے کوئی دوسرا نام رکھ لیں ، کہ بھلا اصطلاح میں کیا لڑائی؟ لیکن کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ "خلافت کا یہ تصور" ہی خدا کو مطلوب نہیں؟ بتائیے، خلافت کا تصور حق کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور خواہشاتِ نفس کی پیروی نہ کرنے کے سوا اور کیا ہے؟

جواب: جو آیت صاحبِ مضمون نے پیش فرمائی ہے، اور اس کا جو ترجمہ "خلیفہ" کے لفظ کو جوں کا توں رکھ کر نذرِ تحریر فرمایا ہے، اس کا مفصل جواب غامدی صاحب اپنے ایک توضیحی مقالے بعنوان "خلافت" میں دے چکے ہیں جس میں انہوں نے واضح فرمایا تھا کہ یہ لفظ قرآن و حدیث میں ہر جگہ اپنے لغوی مفاہیم یعنی نیابت، جانشینی اور اقتدار میں سے کسی ایک میں ہی استعمال ہوا ہے، نہ کہ کسی دینی اصطلاح کی حیثیت سے۔ میرا اندازہ ہے کہ صاحب مضمون کی نظر سے وہ نہ گزرا ہو، گا اس لیے گزارش ہے کہ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ رہی بات اس اعتراض کی کہ محولہ آیت میں بیان کردہ خلافت کا تصور بھی خدا کو مطلوب ہے کہ نہیں؟ تو اس کا سادہ جواب ہے کہ بالکل مطلوب ہے۔ مگر میں نہیں جانتا کہ میری اس تائید سے فاضل ناقد کیا مراد لے بیٹھیں گے اس لیے وضاحت بھی کر دیتا ہوں۔ ہر مسلمان حکمران کو یہی تلقین کی جائے گی کہ لوگوں کے درمیان حق کی بنیاد پر فیصلے کریں، اور خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ہماری بحث سے متعلق اس سے زیادہ کوئی بات تو اس آیت سے برآمد نہیں کی جا سکتی۔ اور اگر کی جا سکتی ہے تو ضرور مطلع فرمائیں! اور خلافت کا تصور اگر فاضل ناقد کے خیال میں بس اسی قدر ہے جو انہوں نے بیان فرمایا، اور جمہوریت کے مقابل میں کسی خاص طریقے سے حکومت بنانے اور چلانے کا نام نہیں، اور تمام عالم میں ایک ہی حکومت اور ایک ہی خلیفہ اور اس طرح کے اور بہت سے لوازمات سے عبارت نہیں تو صاحب مضمون سے درخواست ہے کہ بس یہی بات ہمارے طبقہ علما سے بھی منوا دیجیے، ہمارا کام تمام ہو جائے گا۔ ویسے اگر یہ تجاہلِ عارفانہ نہیں ہے تو پھر یہ وضاحت ضروری معلوم پڑتی ہے کہ ہمارے مروجہ مذہبی فکر میں خلافت ایک ایسی دینی اصطلاح ہے جو ایک عالمگیر سلطنت اسلامی سے عبارت ہے، اور جس میں جس طرح حکومت چلانے کے کچھ مخصوص طریقے ہیں، اسی طرح حکومت بنانے کے بھی کچھ منفرد قاعدے ہیں۔

xix۔ خلاصہ تنقید: امرھم شوری بینھم کے تحت آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ "چونکہ اس مقام پر قرآن مجید نے اسے ضمیرِ غائب کے سوا کسی دوسری صفت سے مخصوص نہیں کیا، اس لیے نظام کا ہر پہلو اس میں شامل سمجھا جائے گا"۔ تو پھر خود آپ کے اصولوں کے مطابق "ھم" سے بھی "عالمی جمہوریت" یا کم از کم "کنفیڈریشن" مراد کیوں نہ لیا جائے؟

جواب: اس دلیل پر میں اپنی تمام تر کوشش کے باوجود محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، اس لیے اس پر میری معذرت پہلے سے قبول فرمائیں۔ اس "ھم" سے جو "عالمی جمہوریت" یا کم از کم "ایک کنفیڈریشن ٹائپ کسی شے کا قیام" صاحبِ مضمون نے برآمد فرمایا ہے، اس پر حیرت کے اظہار کے لیے میر ے پاس مناسب الفاظ نہیں۔ خیر مجھے ہر چیز کا علمی تجزیہ کرنا ہے، اس لیے جواب پیش خدمت ہے۔ اس ھم میں نہ عالمی جمہوریت چھپی بیٹھی ہے اور نہ کنفیڈریشن۔ اس ھم کا اشارہ مسلمانوں کی طرف بغیر کسی سیاسی وحدت و تقسیم کے ہے۔ ہاں اقتدار اس میں اور اس سلسلہ کی باقی آیات میں لازماً شرط ہے جو کہ بالکل واضح ہے، اور میرا نہیں خیال کہ صاحبِ مضمون کو بھی اس سے انکار ہے۔ یعنی چاہے مسلمانوں کے ہاتھ میں زمامِ اقتدار پوری دنیا میں ہو، یا ایک خطے میں، کسی ایک ملک میں ہو یا متعدد ملکوں میں، یا کسی اور جغرافیائی یا معاشرتی تقسیم کے ساتھ، انہیں اپنے اپنے حلقہ اقتدار میں جو نظام بھی بنانا ہے، وہ باہمی مشاورت سے ہی بنانا ہے۔ یہ آیت ایک اصول دے رہی ہے اور اصول اسی طرح تقسیم و تحدید سے بلند ہو کر ہی دیے جاتے ہیں۔ اس آیت میں اصل اہم نکتہ "امر" سے متعلق تھا، نہ کہ "ھم" سے۔ "امر" کی چونکہ کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی اس لیے اس سے یہ نکتہ برآمد کرنا کہ اس میں ہر طرح کا نظام اور قانون سازی شامل سمجھی جانی چاہیے، زبان و بیان کے معیار پر پورا اترتا ہے؛ اور میرے خیال میں صاحبِ مضمون نے بھی اس پر کوئی اعتراض وارد نہیں کیا۔ "ھم" تو فقط ان مسلمانوں کی طرف اشارے کے لیے آیا ہے جو اس حلقہ اقتدار میں آباد ہیں۔ صاحبِ مضمون اس آیت کا اردو ترجمہ کسی اردو زبان کے ماہر کو دکھا لیں اور اس سے پوچھ لیں کہ اس سے عالمی جمہوریت یا کنفیڈریشن مراد ہے کہ نہیں! اور پھر میری یہ طالبعلمانہ خواہش بھی پوری فرما کر ممنونِ احسان فرمائیں کہ یہ بتا دیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عالمی جمہوریت اور کنفیڈریشن مراد نہ لینا ہوتی تو الفاظ کیا ہونے چاہیے تھے؟ 

ممکن ہے کہ قارئین کو یہ بحث کچھ ثقیل لگی ہو، اس لیے ان کی تفہیم کے لیے ایک مثال پیش خدمت ہے۔ فرض کریں کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ "غریبوں کی امداد کا نظام ان کے مشورے پر مبنی ہونا چاہیے"۔ اس سے غامدی صاحب یہ دلیل پکڑ رہے ہیں کہ کیونکہ "امداد کا نظام "کو غریبوں کی طرف اضافت کے علاوہ کسی دوسری صفت سے مخصوص نہیں کیا گیا، اس لیے اس میں امداد کی ہر قسم کا نظام اور نظام کا ہر پہلو شامل ہو گا۔ اور زاہد صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ اس میں "ان" کا اشارہ "تمام غریبوں" کی طرف ہے نہ کہ پاکستان، ایران اور فلسطین کے غریبوں کی طرف الگ الگ، اس لیے یہ جملہ تقاضا کر رہا ہے کہ تمام دنیا کے غریب کسی ایک ہی مالیاتی ادارے کے نیچے لے آئے جائیں ، یا کم از کم ایک کنفیڈریشن کے۔ فیصلہ خود فرما لیجیے!

xx۔ خلاصہ تنقید: اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ قومیت کی بنیاد اسلام نہیں بلکہ جغرافیائی و تاریخی نسلی شناختیں ہوا کرتی ہیں، تب بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو "اخوت" کے جس رشتہ میں باندھا گیا ہے، اس کا کوئی "سیاسی تقاضا" بھی ہے یا نہیں؟

جواب: یہ واضح ہے کہ صاحبِ مضمون نے کوئی نص ایسی سامنے نہیں رکھی جس میں مسلمانوں کو ایک عالمگیر سیاسی و انتظامی وحدت بنانے کا حکم دیا گیا ہو۔ وہ تو یہ فرما رہے ہیں کہ قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو اخوت و مودّت و ہمدردی کی جو نصیحتیں کی گئی ہیں، اور مسلمانوں کو اپنی "بنیادی شناخت" کی طرف جو توجہ دلائی گئی ہے، کیا وہ مسلمانوں سے کوئی سیاسی تقاضا نہیں کرتی؟ تو اس سوال میں ایک تو نا مذکور اعتراف ہے اور وہ یہ کہ قرآن و حدیث میں کوئی صریح حکم ایسا نہیں جو عالمگیر سیاسی وحدت کا تقاضا کرتا ہو؛ اور یہ غامدی صاحب کے مؤقف کی خاموش تائید ہوئی۔ 

رہی دوسری بات تو اس کا سادہ جواب ہے کہ، نہیں! محولہ ترغیبات مسلمانوں سے اس نوعیت کا کوئی سیاسی تقاضا نہیں کرتی جو محترم ناقد مراد لے رہے ہیں! جس طرح ہماری شریعت رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کی مسلسل تلقین کے باوجود ان سے "مشترک خاندانی نظام" (joint family system)کا تمدنی تقاضا نہیں کرتی، اسی طرح مسلمانوں کو "توادھم و تراحمہم" اور اخوت و محبت و اتحاد کی تلقین کے باوجود "عالمگیر متحدہ سلطنت" (global unified form) کا تقاضا بھی نہیں کرتی۔ ہماری شریعت یہی چاہتی ہے کہ وہ ہر زمانے اور معاشرے میں لاگو ہو سکے۔ اس کا دامن اتنا بسیط ہے اور احکامات میں ایسی عالمگیریت ہے کہ چاہے کوئی زمان ہو یا کوئی مکان، وہ اپنے مطالبات پورے عملی پن (practicality) کے ساتھ واضح کر دیتی ہے۔ اور خاص طور پر وہ چیزیں جن میں ارتقا ہی اصل ہو، ان کے بارے میں تو ایسا آفاقی انداز اپناتی ہے کہ اس دور کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی اسی ایک انداز سے یہ باور کر لیتے ہیں کہ یہ دین لازماً اْس علیم و خبیر ہستی کا ہی ہو سکتا ہے جو چودہ صدیاں پہلے اپنے احکامات کو ایسے الفاظ میں بیان کر دیتی ہے کہ لگتا ہے وہ آج نازل ہوئے ہیں۔ اسی لیے ہماری شریعت ہر دور کے تمدنی، ثقافتی، معاشرتی اور سیاسی حالات و ضروریات کے تحت کوئی سی صورت اختیار کر لینے کی کوئی ممانعت نہیں کرتی۔ اور اگر کرتی ہے، تو براہِ مہربانی کوئی نص قرآن و حدیث سے پیش فرما کر ہماری تصحیح کر دیجیے۔

اختتامیہ: محترم محمد زاہد صدیق مغل صاحب سے التماس ہے کہ اگر کہیں کوئی لب و لہجہ ادب کے منافی پائیں تو اسے نادانستہ سمجھیں اور اس پر میری معذرت قبول فرمائیں۔ تاہم، جو جوابات معقول لگیں ان کو تسلیم کریں اور جو غلط پائیں ان پر ضرور مطلع فرمائیں۔

آراء و افکار

Flag Counter