خاندانی نظام کے لیے تباہ کن ترمیم

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مسلمانوں کے ہاں لے دے کر ایک خاندانی یونٹ بچا ہوا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے سال ۲۰۱۵ میں فیملی کورٹس ایکٹ ۱۹۶۴ء میں ایک ترمیم منظور کی ہے جسے گورنر کی منظوری سے باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ یہ ترمیم خاندانی یونٹ کے لئے انتہائی تباہ کن ہے۔ نتیجہ کے طور پر عدالتوں میں طلاق کے مقدمات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے خلع کے اصول کو مسخ کیا گیا ہے۔ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین، جناب مولانا خان محمد شیرانی کی جانب سے ۲۸ مئی ۲۰۱۵ کے اخبارات میں تفصیلی وضاحت شائع ہوئی ہے۔ یہ وضاحت کونسل کے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کی صورت میں کی گئی۔ وضاحت میں کہا گیا کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتوں کو خلع اور فسخ نکاح میں فرق کرنا چاہیے۔ خلع کی ڈگری جاری کرنے سے پہلے عدالت کا یہ اطمینان شہادت کے ذریعے بھی لازم ہے کہ خلع کا سمجھوتہ فریقین کے درمیان نیک نیتی اور آزاد مرضی سے ہوا ہو۔ اگر اس امر کی شہادت سامنے آئے کہ خاوند نے محض معاوضہ ہتھیانے کے لیے خاتون کو تنگ کر کے خلع کے مطالبے کے لئے مجبور کیا ہو تو ایسی صورت میں زر خلع ڈگری نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح شہادت کے بغیر سرسری طور پر خلع کی ڈگری جاری کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

"Dissolution of marriage by way of Khula was pronounced by Family Court subject to return of dower amount by wife, but said amount returned not accepted by husband. Pronouncement of Khula would amount to single divorce and until third divorce takes place, husband would be at liberty to remarry his wife again and parties could join as husband and wife on solemnization of nikah without intervening marriage. (2000 MLD 447)
’’فیملی کورٹ نے خلع کے طریقے پر نکاح کی منسوخی کا فیصلہ کیا ، اس شرط پر کہ بیوی مہر کی رقم واپس کر دے، مگر واپس کردہ رقم خاوند قبول نہ کرے۔ اس طرح خلع کا فیصلہ ایک طلاق کے مترادف ہو گا۔ تیسری طلاق تک خاوند اسی بیوی سے دوبارہ نکاح کے لیے آزاد ہو گا اور بیوی کے کسی اور شخص سے شادی کیے بغیر وہ دوبارہ نکاح کر کے بطور میاں بیوی کے طور پر رہ سکتے ہیں۔‘‘ 

اس بارے میں پنجاب اسمبلی کی جانب سے کئی گئی ترمیم شریعت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ معقولیت پر بھی مبنی نہیں۔ اس بارے میں خلع کے بارے میں فقہ کی کسی بھی کتاب سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہم علما اکیڈیمی اور شعبہ مطبوعات محکمہ اوقاف پنجاب کی ۱۹۸۹ء میں شائع کردہ کتاب الفقہ کی چوتھی جلد کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ اس میں صفحہ ۷۰۸ سے لے کر ۷۸۰ تک خلع کی نسبت جامع اور مفصل بحث کی گئی ہے۔ اس بحث میں فقہ کے ہر مسلک کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اس طرح یہ امر متفقہ ہے کہ خلع کا سرچشمہ خاوند کا حق طلاق ہے۔ اس کی رضامندی کے بغیر خلع کا کوئی تصور نہیں ہو سکتا۔

ترمیم میں سب سے خطرناک دفعہ دس میں ذیلی دفعہ پانچ کا اضافہ ہے۔ اس ترمیم کے الفاظ یہ ہیں:

(5) In s suit for dissolution of marriage, if reconciliation fails, the Family Court shall immediately pass a decree for dissolution of marriage and, in case if dissolution of marriage through khula, may direct the wife to surrender up to fifty percent of her deferred dower or up to twenty five percent of her admitted prompt dower to the husband.
’’دعویٰ تنسیخ نکاح کی صورت میں اگر مصالحت ناکام ہو جائے تو فیملی کورٹ فوری طور پر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دے گی۔ اگر یہ ڈگری خلع کی صورت میں ہو گی تو عدالت بیوی کو موجل حق مہر کے نصف سے دستبرداری کی ہدایت کرے گی، جبکہ حق مہر معجل کی صورت میں چوتھائی حق مہر خاوند کو ادا کیا جائے گا۔‘‘

نظریاتی کونسل نے اپنے تفصیلی بیان میں پنجاب کی جانب سے تازہ ترمیم کا ذکر نہیں کیا، صرف عدالتی معمولات پر تنقید کی گئی ہے، حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تازہ ترمیم کا شریعت کی روشنی میں تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ راقم کو امید تھی کہ جماعت اسلامی پنجاب کے امیر اور ممبر پنجاب اسمبلی جناب ڈاکٹر محمد وسیم نے اس ترمیم پر شرعی نقطہ نظر سے بحث کی ہو گی۔ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر میں جماعت سے یہ مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس ترمیم کی شرعی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اہتمام کرے۔ علاوہ ازیں اس پہلو سے دیگر دینی جماعتوں کو بھی متوجہ کرے اور اسے ایک سنجیدہ مسئلے کے طور پر پیش کرے۔ جماعتی رسائل ماہنامہ ترجمان القرآن اور ہفت روزہ ایشیا وغیرہ میں اس ترمیم اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔

یہ ترمیم ایک دفعہ میں ذیلی دفعہ ایزاد کرتی ہے مگر اس کے نتیجہ میں فیملی کورٹ کے پورے پروسیجر کو تنسیخ نکاح کی حد تک غیر موثر کر دیا گیا ہے۔ اب تنسیخ نکاح کے لئے کوئی معقول وجہ بیان کرنے اور نہ ہی کسی طرح کے شواہد پیش کرنے کی ضرورت رہی ہے۔ مصالحت کی پیشی پر صلح سے انکار ہی کافی ہے، عدالت کی کوئی صوابدید باقی نہیں رکھی گئی بلکہ عدالت کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ صلح کی ناکامی کی صورت میں تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دے۔ فیملی کیسوں کے جلد از جلد فیصلے کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر عدالت کے ہاتھ جس طرح باندھ دیے گئے ہیں، اس کے نتیجہ میں اب فیملی کورٹ کے تنسیخ کی حد تک فیصلہ کو عدالتی فیصلہ کہنا ہی غلط ہو گا۔ یہ صوابدید تو اب بیوی کو حاصل ہو گئی ہے۔ عورت کو اتنا باختیار بنا دینا کہ کوئی اصول، ضابطہ، دلیل، ثبوت غرض سب کچھ سے بالا دست ہو جائے، بالکل ناقابل فہم ہے۔ خاندان کے یونٹ کو ایک ہی ضرب میں توڑ کر رکھ دینا یہ ضابطہ ہے نہ قانون، بلکہ یہ ضابطے اور انصاف کی نفی ہے۔ یہ فیصلہ کی صورت پیدا نہیں کی گئی بلکہ فیصلے کے نام پر جھٹکا کا اہتمام کیا گیاہے۔ یہ صورت حال سخت تشویشناک ہے۔ جلد فیصلے کے لیے مختلف نوعیت کے کیسوں کے لیے ضابطے موجود ہیں۔ بنکوں اور کرایہ داری کے مقدمات کی مثالیں موجود ہیں، مگر کہیں یہ نہیں کہ ایک فریق کے مطالبے کا عدالت کو پابند کر دیا جائے۔ اس سے پنجاب اسمبلی کے ممبران کی عقل و دانش پر حیرت کے اظہار کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ صلح کے لیے مرد اور عورت کے دونوں خاندانوں کے ذمہ داران کو طلب کرنا قرآن کا واضح حکم ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ صلح کے لیے قرآن کے اس حکم کو ضابطے کا حصہ بنایا جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ عدالت کیسوں کے رش کی وجہ سے کوئی موثر مصالحتی کردار ادا نہیں کر سکتی۔ 

ریاست کو خاندان کے یونٹ کو تحفظ دینے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری کی جانب سنجیدہ توجہ دینا چاہیے۔ پاکستان کے دستور میں پالیسی کے اصول کے طور پر دستور کے آرٹیکل نمبر ۳۵ میں قرار دیا گیا ہے کہ 

The State shall protect the marriage, the family , the mother and the child. 

اس بارے میں اوپر درج کردہ معروضات کا لحاظ رکھتے ہوئے خاندان دشمن ترمیم کو ختم کر کے خاندان کو مزید مستحکم کرنے کے لیے قانون سازی کی جانب توجہ دینا چاہیے۔ اس بارے میں خاوند کے حق طلاق کو بھی معقولیت کی حدود میں لانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خاندان کے ادارے کومحفوظ بنانے کے لئے خاوند کے حق طلاق کو ہر قید سے آزاد چھوڑے رکھنا حالات کے لحاظ سے مناسب نہیں۔ بلا وجہ طلاق دینے کی صورت میں متاثرہ خاتون کو ہرجانے کا معقول حق دلایا جانا چاہیے۔ بلا معقول وجہ کے طلاق دینے کی کوئی صورت شریعت میں جائز نہیں ہو سکتی۔ طلاق بنیادی طور پر امر ناجائز ہے۔ یہ صرف اس صورت میں جائز ہو سکتا ہے کہ عورت بد کاری، سرکشی یا فرائض کی تارک ہو۔ جس طرح تنسیخ نکاح کے لیے شریعت نے وجوہات کا تعین کیا ہے، اسی طرح طلاق کے لیے بھی وجوہات طے ہیں۔ مرد کے حق طلاق کو عدالتی توثیق سے مشروط کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بنیاد کے طور پر ایک روایت عبداللہ بن عمر سے بخاری میں ہے کہ انہوں نے عہد نبوی میں صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی کو ایامِ مخصوص میں طلاق دے دی۔ اس کے متعلق حضرت عمر بن الخطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے حکم دو کہ رجوع کر لے اور رکا رہے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے۔ پھر ایام مخصوص ایام آئیں اور دوبارہ پاک ہو۔ اس کے بعد اگر چاہے تو اس کی زوجیت کو بحال رکھے اور چاہے تو ہاتھ لگانے سے پہلے اسے طلاق دے دے۔ یہاں ہم ’’کتاب الفقہ‘‘ کا ایک طویل اقتباس پیش کرنا چاہتے ہیں:

’’یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص بلا سبب اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ چاروں اماموں کا اس پر اجماع ہے کہ طلاق بنیادی طور پر ممنوع ہے۔ بنا بریں خاوند کے لیے حلال نہیں کہ اپنی بیوی کو بغیر کسی ناگزیر ضرورت کے طلاق دے دے۔ یہ اس لیے ہے کہ طلاق سے عقدِ زوجیت منقطع ہو جاتا ہے حالانکہ شریعت نے اسے بقائے نسل کے لیے رکھا ہے جس کا جاری رہنا اس مدت تک ضروری ہے جس کا ارادہ اللہ تعالی نے فرمایا اور حکم دیا ہے۔ اسی لئے اللہ نے انسان کا جوڑا بنایا اور ان میں باہم مہر ومحبت کا جذبہ رکھا۔ پس بیوی کو بلا سبب طلاق دینا حماقت اور اللہ کی نعمت سے نا شکری ہے، قطع نظر اس اذیت کے جو بیوی کو اور صاحب اولاد عورت کی اولاد کو پہنچتی ہے۔ پس بعض ہوس پرست جن میں حسِ اخلاق نہیں ہے، بلا سبب اپنی بیویوں کو طلاق دے دیتے ہیں۔ مذہب اسلام نہ اس کو مانتا ہے اور نہ اس کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی سزا ضرور دے گا اور ان کے گناہوں کو معاف نہ کرے گا جو اپنی بے قصور اور وفا دار بیویوں اور ان کی بے بس اولاد پر روا رکھتے ہیں اور نہ وہ قصور معاف ہو گا جو بعض ذلیل لوگوں نے مباح لذتوں سے بیش بیش فائدہ اٹھانے کو جائز قرار دے کر کر لوگوں کی نگاہ میں پسندیدہ بنا رکھا ہے کیونکہ با وفا بیویوں کے ساتھ بلا سبب دشمنی کرنے کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، اسے مباح نہیں رکھا لہٰذا انسان کے لیے روا نہیں کہ اپنی لذت نفس کے لیے لوگوں کو اذیت دے، ورنہ اس میں اور وحشی جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مزید براں ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ازدواجی رشتہ صرف عورت سے لطف اندوز ہونے اور متمتع ہونے کے لیے ہے، اس کے سوا کوئی اور مقصد ان کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ ان نفسانی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ بیویوں پر بے شمار مشکلات کا بار ڈال دیتے ہیں۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ در حقیقت ازدواجی رشتہ ان کے ان خیالات سے بالا تر احترام و تقدس کا متقاضی ہے اور کیوں نہ ہوتا جب کہ یہ انسانی عمرانیات کی بنیاد اور انسان کی بقائے نوعی کا سبب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالی زوجین میں باہم مہر و محبت پیدا نہ کرتا اور دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کشش اور باہمی قلبی لگاؤ نہ ہوتا اور نوع انسانی معرض وجود میں نہ آتی۔ پس مرد کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کو توہین آمیزنگاہ سے دیکھے اور یہ خیال کرنے لگے کہ بجز لذت اندوزی کے اس اور کوئی مقصد نہیں ہے اور حقیقی سبب کو نظر انداز کر دے جس کے لئے اللہ تعالی نے میاں بیوی میں اختلاط پیدا کیا ہے۔‘‘ (۵۷۳۔۵۷۴)

طلاق کے لیے قرآن حکیم نے مکمل اور واضح ضابطہ بیان کر دیا ہے۔ اسے نافذ کرنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ بلا سبب طلاق نہیں دی جا سکتی۔ اسے روکنے کے لیے موثر قانون بنایا جانا چاہیے۔ فقہا نے بلا سبب طلاق کو قابل تعزیر قرار دیا ہے۔ قرآن کی رو سے طلاق تین طہر میں ہوتی ہے۔ بیک وقت طلاق دینا قرآنی حکمت کے خلاف ہے۔ گھر میں رکھ کر طلاق دی جا سکتی ہے۔ قرآن کے اس ضابطے کو موثر طور پر قانون کی شکل دے کر نافذ کرنے سے خاندان کے یونٹ کو استحکام دینے کے بجائے مضمون ہذا کے شروع میں درج کردہ ترمیم سے تو یہ حق عورت کے ہاتھوں دے دیا گیا ہے۔ اہل علم اور خاندان کی قدر و قیمت رکھنے والے لوگوں کو اس صورت حال پر تشویش ہونا چاہیے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سب کچھ ان لوگوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے جو خاندان کے یونٹ کا ذاتی طور پر احترام کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد کی جانب سے بلا سبب طلاق کی روایت موجود تھی۔ اس روایت کو زیر بحث ترمیم کے ذریعے توسیع دے دی گئی ہے۔ اسے بیوی کا حق بنا کر عدالت کو اس نامعقولیت کا پابند بنا دیا گیا ہے۔ اہل قانون کا قانون سازی کے نام پر نامعقولیت کی ترویج اہل قانون کی جانب سے ان کے وقار سے کہیں زیادہ فرو تر ہے۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل