علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۴)
اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعی سنی رجالی تراث، چند تقابلی ملاحظات

1۔ہر دو مکاتب کے موجود رجالی تراث کی انواع و اقسام سامنے آگئیں ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کا علم رجال کتنا ایڈوانس اور کتنا جامع و وسیع ہے، اہل سنت محدثین نے علم رجال کو 32 اعتبارات و زاویوں سے مدون کیا، جبکہ اہل تشیع نے صرف 10 اعتبارات کے اعتبار سے کتب لکھیں، ان میں بھی کتب رجال پر حواشی کو مستقل صنف شمار کیا گیا ہے، جو ظاہر ہے الگ درجہ بندی میں نہیں آتیں اور مصنفین کی فہرست کو بھی رجالی کتب گنا گیا ہے، حالانکہ علم رجال حدیث اور مصنفین کی فہرست دونوں الگ الگ دائروں سے متعلق ہیں، اگر ان دو کو نکالیں تو صرف 8 انواع بچتی ہیں، یوں اہل سنت کا علم رجال 24 اعتبارا ت میں اہل تشیع کے علم رجال سے بڑھا ہو اہے۔

2۔ اہل تشیع کے علم رجال کو مقالہ نگار نے از خود کافی تلاش و جستجو کے بعد ان 8 انواع میں تقسیم کیا، شیعہ علم رجال کی تاریخ پر جتنی کتب لکھی گئی ہیں، اس میں سے کسی میں بھی درجہ بندی نہیں کی گئی، نہ ہی علم رجال پر کتب لکھنے والے اہل علم نے اپنی کتب کے مقدمات میں کسی درجہ بندی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کتاب کو کس زاویے سے لکھا جارہا ہے؟گویا رجالی تراث کی درجہ بندی کا موضوع شیعہ اہل علم کے ہاں کبھی رہا ہی نہیں ہے، اس سے علم رجال الحدیث میں اہل تشیع کے تہی دامنی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

3۔شیعہ علم رجال میں معدو م 24 انواع و اقسام میں سے تو بعض انواع، جیسے الکنی و الالقاب، یا مشتبہ اسماء جیسے موضوعات پرتو رجال شیعہ کی کتب میں کچھ نہ کچھ مواد ہے، جیسے متعدد کتب رجال کے آخر میں کنی و القاب والے رواۃ کا ذکر ہے، نیز ان انواع کا نہ ہونا علم رجال پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالتا، لیکن بعض انواع ایسے ہیں، جن کے نہ ہونے سے علم رجال کے مقاصد بجا طور پر متاثر ہوتے ہیں، جیسے :

  • وفیات پر کتب نہ ہونا علم ِرجال کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے، کیونکہ رواۃ کے سنین وفات کی مدد سے اسناد میں موجود انقطاع و ارسال کا اندازہ لگایا جاتا ہے، لیکن اہل تشیع کی بارہ سو سالہ رجالی تاریخ میں کوئی ایک ایسی کتاب نہیں ہے، جن میں مکمل طور پر رواۃ کےتواریخ وفات کو ذکر کیا گیا ہو، یوں اہل تشیع کے ہاں بظاہر کتبِ رجال موجود ہونے کے باوجود یہ کتب اسناد میں انقطاع و ارسال کے حوالے سے بے فائدہ ہیں، اہل تشیع محققین نے اس خلا کو پر کرنے کی دیگر ذرائع سے کوشش کی ہے، لیکن وہ سب طرق احتمالی ہیں، جبکہ راوی کا سن وفات ایک یقینی راستہ ہے کہ کونسا راوی کس محدث کے زمانے میں تھا، کونسا نہیں۔
  • مختلطین و مدلسین رواۃ پر الگ سے کتب نہ ہونا بھی علم رجال کے مقاصد میں ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے، کیونکہ ہر دو اقسام کا حدیث کی صحت و ضعف میں بنیادی کردار ہے۔
  • اہل سنت کے ہاں صحاح ستہ چونکہ اساسی مصادرِ حدیث ہیں، اس لئے صحاح ستہ کے رجال پر کثرت سے کتب لکھی گئی ہیں، محقق عواد نے 127 کتب نشاندہی کی ہے، جو صحاح ستہ کے سب یا بعض کتب کے رجال پر لکھی گئیں ہیں، لیکن اہل تشیع کے اولین اساسی مصادر ِ حدیث (الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب و استبصار ) اور متاخرین کے مرتب کردہ مصادرِ حدیث (بحار الانوار، وسائل الشیعہ، الوافی، مستدرک الوسائل ) کے رجال پر کسی قسم کوئی مستقل جامع کتاب نہیں ہے، ان میں سے بعض کتب کے شروح یاحواشی میں ان کے رجال پر کچھ ابحاث ملتی ہیں، لیکن ایک ایسی کتاب، جس میں ان کتب ِ ثمانیہ کے رجال کی مکمل تفصیل ہو، اہل تشیع کے ہاں موجود نہیں ہے، البتہ امام خوئی نے معجم رجال الحدیث میں کوشش کی ہے کہ اولین کتب اربعہ کے رجال کو اپنی کتاب میں جمع کیا جائے، لیکن اس کا منہج و اسلوب بھی رجال کے کوائف معلوم کرنے میں مکمل طو رپر مفید نہیں ہے، اس کو ہم ایک مستقل عنوان کے تحت ان شا اللہ بیان کریں گے۔
  • اہل تشیع کے ہاں صحابہ کے احوال و کوائف پر صرف ایک چھوٹا سا رسالہ ملتا ہے، جن میں صرف پانچ سو کے قریب صحابہ و صحابیات کا ذکر ہے، اس کے علاوہ کسی قسم کی کوئی قابلِ ذکر کاوش نہیں ملتی، جبکہ محقق عواد نے سنی رجالی تراث میں سے صحابہ کے احوال و کوائف پر مشتمل 75 کتب کا ذکر کیا ہے، ان میں سےاگر آدھی بھی مطبوع مان لیں، تو گویا 40 کے قریب مطبوع کتب ایسی ہیں، جن میں صرف صحابہ کے حالات جمع کئے گئے ہیں، کیا اس عظیم تفاوت کو دیکھتے ہوئے اس خیال کو تقویت نہیں ملتی کہ اہل تشیع کے دینی معتقدات میں صحابہ کرام کا مقام انتہائی فروتر ہے۔
  • ضعیف و ثقہ رواۃ کی الگ الگ کتب بھی اہل تشیع کے ہاں وسیع پیمانے پر نہیں ملتیں، ثقہ رواۃ پر دو جبکہ ضعیف رواۃ پر ایک مستقل کتاب اہل تشیع کے رجالی تراث میں ملتی ہے، جو ظاہر ہے کہ رجال میں سے ثقات و ضعاف رواۃ کی مکمل نشاندہی نہیں کرسکتیں، جبکہ اہل سنت کے ہاں کثرت سے ثقہ و ضعیف رواۃ پر کتب موجود ہیں، بلکہ ثقہ کی ذیلی اقسام جیسے حفاظِ حدیث، عام ثقہ رواۃ، ضعیف رواۃ کی ذیلی اقسام، جیسے متکلم فیہ، ضعیف، مختلف فیہ، مدلسین، مختلطین، مجاہیل وغیرہ تک پر الگ الگ کتب موجود ہیں۔
  • اہل سنت کے ہاں رجال کے عمومی احوال اور ان کی جرح و تعدیل پر الگ الگ کتب موجود ہیں، جبکہ اہل تشیع کے ہاں رجال کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے مستقل کتب نہ ہونے کے برابر ہیں، جو کتب جوامع کے قبیل سے ہیں، ان میں رجال کا حدیثی مقام نہایت کم زیرِ بحث لایا گیا ہے، اس پر ہر دو کتب رجال کے مناہج و اسالیب کے تحت مستقل ان شا اللہ بات ہوگی۔
  • اہل سنت کے ہاں ایسی کتب رجال کثرت سے لکھی گئیں ہیں، جن میں رواۃ کے کے ذاتی تعارف پر مکمل تفصیل موجود ہے، جیسے کتب انساب، رواۃ کے اسماء کا تلفظ، القابات و صفات کی تعیین، مشترک اسماء و صفات، اخوۃ رواۃ، وغیرہ، لیکن اہل تشیع کے ہاں ان جیسے امور پر کسی قسم کا الگ مستقل مواد نہیں ہے، کما مر۔ (کتب رجال میں ان چیزوں کی طرف کچھ اشارے ملتے ہیں، لیکن ان امور پر مستقل مواد معدوم ہے)

4۔اہل تشیع کے ہاں جو جالی تراث تیار ہوا ہے، اس کا 80 فیصد حصہ (38 کتب میں سے 31 کتب )آٹھویں صدی کے بعد لکھا گیا ہے، یعنی کتبِ حدیث کی تدوین کے ساڑھے تین سو سال بعد، جبکہ 20 فیصد یعنی صرف 7 یا 8 کتب وہ ہیں، جو آٹھویں صدی ہجری سے پہلےلکھی گئیں، جیسا کہ مصنفین کے سنین وفات سے اس بات کی تائید ہوتی ہے، جبکہ اہل سنت کے ہاں 80 فیصد رجالی تراث (90 میں سے 71 کے قریب کتب ) آٹھویں صدی ہجری سے پہلے لکھی گئیں اور صرف 20 فیصد کتب آٹھویں صدی ہجری کے بعد لکھی گئیں، یوں اہل سنت کا اکثر رجالی تراث کتبِ حدیث کے تدوین کے زمانے کے نہایت قریب ہے، جبکہ اہل تشیع کے ہاں اس کے برعکس ہے۔اس قرب و بعد کا علمائے رجال کا رجال الحدیث کی پہچان اور جر ح و تعدیل پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے، اہل علم پر یہ مخفی نہیں ہے۔

5۔اہل تشیع کے ہاں تقریبا 10 ایسی کتب لکھی گئیں، جن کو ہم جوامع رجال کہہ سکتے ہیں، جن میں ہزاروں رواۃ کا ذکر ہے اور وہ کتب کئی مجلدات میں ہیں، وہ سب کے سب کتب صفوی دور کے بعد لکھی گئیں، یعنی نویں صدی ہجری کے بعد، (ملاحظہ ہو مصنفین کے سنین وفات )صفوی دور سے پہلے جو کتب رجال ہیں وہ نہایت مختصر اور چند سو یا چند ہزار کے رواۃ کے ذکر پر مشتمل ہیں، لیکن ان جوامع رجال میں ہزارہا رواۃ کا ذکر ہے، یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ صفوی دور میں یکدم ایسی کتب کا ظہور ہوتا ہے، جو متقدمین کے برعکس لاکھوں روایات پر مشتمل ہوتی ہیں اور براہ راست ائمہ سے سند کے ساتھ منقو ل ہوتی ہیں، اسی طرح رواۃ پر بھی مشتمل جوامع دھڑا دھڑ سامنے آنے شروع ہوتے ہیں، جو متقدمین کی رجالی کتب سے کئی گنا بڑی اور کئی گنا زیادہ رواۃ کے ذکر پر مشتمل ہوتی ہیں، یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان ہزاروں رواۃ و روایات کا متقدمین کے ہاں کیوں کسی قسم کا تذکرہ نہیں ملتا؟حالانکہ وہ ائمہ کے زمانہ کے قریب تھے، ان کے پاس اصحابِ ائمہ کا لکھا گیا تراث براہ راست پہنچ گیا تھا اور سات سو سال بعد ان صفوی دور کے شیعہ علماء کے پاس کونسا ایساوسیلہ تھا کہ وہ متقدمین کے برعکس ان ہزار ہا رواۃ و روایات پر مطلع ہوگئے ؟متقدمین اور دورِ صفوی کے شیعہ اہل علم کے ہاں تراث کی کمیت میں یہ عظیم فرق اس شبہ کو بجا طور پر تقویت دیتا ہے کہ اہل تشیع کا اصلی تراث، خواہ روایات کی شکل میں ہو یا رجال و رواۃ کی شکل میں، وہ قلیل تعداد میں تھا، صفوی دور میں اس کی کمیت کو پھیلانے کے لئے باقاعدہ روایات و رواۃ تخلیق کیے گئے ؟ جبکہ اہل سنت کے ہاں حیرت انگیز طور پر اس کے برعکس ترتیب ہے، تدوینِ حدیث ہو یا رواۃ کے کوائف ہوں، اولین اہل علم کے ہاں اس کی کمیت زیادہ ملتی ہے، جبکہ ہاں جتنا زمانہ دور ہوتا گیا، تو کمیت میں کمی آتی گئی، مثلا مسند امام احمد بن حنبل حدیث کی کتب میں، اور ابن ابی حاتم رازی کی الجرح و التعدیل رجال کی کتب میں اولین تراث میں سب سے بڑی کتب ہیں، ان جیسی ضخامت کی کتب اہل سنت کے ہاں بعد کے پورے بارہ سو سالہ تاریخ میں نظر نہیں آتیں، سوائے ان کتب، جن میں متعدد کتب کو اکٹھا گیا ہو۔

6۔اہل تشیع محققین نے علم رجال کی تاریخ لکھتے ہوئے ایسی کتب بھی رجال کی کتب میں شامل کی ہیں، جو علم رجال یا جرح و تعدیل سے متعلق قواعد و اصول اور فوائد و نکات پر مشتمل ہیں، ان کتب میں ضمنا بعض رواۃ حدیث کا بھی تذکرہ ہے، لیکن اصلا وہ اصولی مباحث پر مشتمل ہیں، جیسے بحر العلوم طباطبائی کی الفوائد الرجالیہ، محقق مازندرانی کی الفوائد الرجالیہ یا شیخ جعفر سبحانی کی کلیات فی علم الرجال، کتب رجال کی فہرست میں ان کتب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ وہ تراجمِ رجال و رواۃ کی کتب نہیں ہیں، بلکہ علم رجال کے اصول و ضوابط کی کتب ہیں، نیز اہل سنت کی رجالی تراث میں بھی ایسی کتب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

7۔اہل تشیع محققین رجال کے ہاں "ترتیب الاسانید " کےنام سے کتب لکھی گئی ہیں، بالخصوص معروف شیعہ عالم سید حسین طباطبائی بروجردی کی ترتیب اسانید الکافی اور محقق میرزا جواد تبریزی کی آٹھ جلدوں پر مشتمل الموسوعۃ االرجالیہ، جس میں کتب اربعہ کی ترتیب الاسانید کو بیان کیا گیا ہے، اس فہرست میں ان جیسی کتب کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ کتب اصلا رجال کے تراجم یا ان کے حدیثی مقام (جرح و تعدیل )کی کتب نہیں ہیں، ان کتب کے لکھنے کی ضرورت اہل تشیع اہل علم کو کیوں پیش آئی، یہ ایک دلچسپ بحث ہے اور شیعہ علم رجال میں موجود بڑے خلا کی طرف مشیر ہے، اس کا ذکر ہم اگلے عنوان میں تفصیل سے کریں گےان شا اللہ

8۔اہل تشیع کا علم رجال انواع و اقسام کے اعتبار سے سنی علم رجال سے فروتر ہونے کے ساتھ ساتھ کمیت میں بھی سنی علم رجال سے کافی کم ہے، پچھلے صفحات میں سنی علم رجال کی انواع و اقسام بیان کرتے ہوئے 25 انواع کےذیل میں 90 کے قریب مطبوعہ کتب رجال کا ذکر آچکا ہے، جبکہ شیعہ علم رجال کے 10 انواع میں صرف 38 مطبوعہ کتب کا، یہ تعداد بھی کافی تلاش و جستجو کے بعد ملی، مقالہ نگار کے تتبع کو ناقص سمجھ کے بھی یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 50 بن سکتی ہے، نیز مطبوعہ مواد کے ساتھ اگر غیر مطبوعہ مواد کے اعتبار سے دیکھا جائے، تب بھی سنی رجالی تراث کمیت میں شیعی علم رجال سے کہیں گنا بڑھا ہوا ہے، چنانچہ محقق عواد نے اپنی کتاب "رواۃ الحدیث " میں 32 انواع کے ذیل میں ساڑھے سات سو کے قریب کتب رجال کا ذکر کیا ہے، جبکہ شیعہ محقق حیدر حب اللہ کی کتب میں 120 کے قریب کتب ذکر کی گئی ہیں، حالانکہ شیعہ احادیث کی تعداد سنی احادیث سے کہیں زیادہ ہیں، جس کی تفصیل ہم اس سلسلے کی اولین اقساط میں دے چکے ہیں، تو اس اعتبار سے شیعہ رجال کا حجم سنی رجال سے زیادہ بنتا ہے، تو کتب بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔

3۔ کتب رجال منہج و اسلوب

اہل سنت اور اہل تشیع کے رجالی تراث و کتب کا انواع ا قسام کے اعتبار سے ایک موازنہ سامنے آگیا، اس کے بعد یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر دو مکاتب کے پاس جو رجالی تراث موجود ہے، اس کا منہج و اسلوب کیا ہے ؟ رواۃ ِ حدیث کے احوال و کوائف اور حدیثی مقام کے جاننے کے بارے میں یہ کتب کتنی ممد و معاون ہیں ؟اہل تشیع کا رجالی تراث کم و کیف دونوں میں اہل سنت کے رجالی ذخیرے سے بہت پیچھے ہے، جیسا کہ پچھلے عنوان میں یہ بات تفصیل سے آچکی ہے، اس لئے بظاہر ہر دو مکاتب کے رجالی تراث کا منہج و اسلوب میں موازنہ نہیں بنتا، حقیقی موازنہ اس وقت بنتا، جب اہل سنت کے رجالی ذخیرے کی 32 اقسام و انواع کا اہل تشیع کے 32 اقسام سے تقابل کیا جاتا، لیکن اہل تشیع کا پورا ذخیرہ رجال آٹھ دس انوا ع سے زیادہ نہیں بنتا، عدمِ مساوات کی وجہ سے ہر دو مکاتب ِ فکر کی اہم کتب کے درمیان موازنہ نہیں ہوسکتا، لیکن نکات کی شکل میں چند امور کا ذکر کیا جاتا ہے، جن سے دونوں مکاتب کے پاس موجود رجالی تراث کی اہم خصوصیات سامنے آجائیں گی ان نکات سے منہج و اسلوب کا موازنہ کافی حد تک ہوجائے گا :

1۔علم رجال کی کتب کے اہم ترین مقاصد میں سے رواۃ کے اساتذہ و تلامذہ کی تعیین ہے، تاکہ ہر راوی کا زمانہ، شیوخ، تلامذہ، طبقہ اور معروف شیوخ حدیث سے لقاء و عدم لقاء کا پتا چل سکے، شیوخ و تلامذہ کی فہرست سے احادیث میں ارسال، انقطاع، تدلیس اور اتصال کا علم ہوتا ہے، چنانچہ اسی وجہ سےاہل سنت کے مراجع رجال میں ہر راوی کے اہم ترین اساتذہ و تلامذہ کی ایسی فہرست مذکور ہے، جن سے اس راوی کا اس جہت سے کافی تعارف ہوجاتا ہے، ذیل میں اس حوالے سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں :

  • امام مزی تہذہب الکمال فی اسماء الرجال میں ایک راوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
أحمد بن نصر بن زياد القرشي، أبو عبد اللہ النيسابوري المقرئ الفقيہ الزاہد.
روی عن: إبراہيم بن الأشعث البخاري، وإبراہيم بن حمزۃ الزبيري، وإبراہيم بن معبد بن شداد المصري، وإبراہيم بن المنذر الحزامي، وإبراہيم بن موسی الرازي الفراء، وأبي مصعب أحمد بن أبي بكر الزہري، وأحمد بن الحسين اللہبي المدني، وأحمد بن أبي الحواري، وأحمد بن محمد بن حنبل، وآدم بن أبي إياس العسقلاني، وأزہر بن سعد السمان، وإسحاق بن إبراہيم الحنينيوإسحاق بن راہويہ، وإسحاق بن محمد الفروي (تم)، وإسماعيل بن أبي أويس، وإسماعيل بن حكيم الخزاعي، وأصبغ بن الفرج المصري، وجعفر بن عون، وحبان بن موسی المروزي، وحجاج بن نصير الفساطيطي، والحسين بن زياد المروزي المتعبد نزيل طرسوس، والحسين بن علي الجعفي، والحسين بن الوليد النيسابوري (كن)، وأبي عمر حفص بن عمر الضرير، والحكم بن موسی القنطري، والحكم بن يزيد الأبلي البصري، وأبي أسامۃ حماد بن أسامۃ، وأبي زيد حماد بن دليل قاضي المدائن، وحماد بن قيراط النيسابوري، وحماد بن مالك الحرستاني، وحماد بن مسعدۃ، وخالد بن خداش، وخلف بن تميم، وخلف بن ہشام البزار، وخلاد بن يحيی، وداود بن سليمان العطار، وداود بن المحبر، وروح بن عبادۃ، وزكريا بن عطيۃ ابن يحيی البصري، وزہير بن عباد الرواسي، وزيد بن الحباب، وسريج بن النعمان الجوہري، وسريج بن يونس، وسعيد بن الحكم ابن أبي مريم المصري، وأبي سعيد بن الربيع الہروي، وسعيد بن عامر الضبعي، وسعيد بن كثير بن عفير المصري، وسعيد بن منصور، وأبي قتيبۃ سلم بن قتيبۃ، وسليمان بن حرب، وسلام بن سليمان الثقفي المدائني، وأبي بدر شجاع بن الوليد السكوني، وشيبان بن فروخ الأبلي البصري، وصالح بن حسين بن صالح الزہري المدني السواق، وصفوان بن عيسی الزہري (ت)، وأبي عاصم الضحاك بن مخلد النبيل، وطارق بن عبد العزيز المكي، وعبد اللہ بن بكر السہمي، وعبد اللہ بن جعفر الرقي، وعبد اللہ بن داود الواسطي، وعبد اللہ بن رجاء الغداني، وعبد اللہ بن السري الأنطاكي، وعبد اللہ بن صالح العجلي، وعبد اللہ بن صالح المصري، وعبد اللہ بن عاصم الحماني، وعبد اللہ بن عبد الجبار الخبائري الحمصي، وعبد اللہ بن عبد الحكم المصري، وعبد اللہ بن غالب العباداني، وأبي بكر عبداللہ بن محمد بن أبي شيبۃ، وعبد اللہ بن مسلمۃ القعنبي، وعبد اللہ بن نافع الصائغ المدني، وعبد اللہ بن نمير الہمداني الكوفي، وعبد اللہ بن الوليد العدني (س)، وعبد اللہ بن يزيد أبي عبد الرحمن المقرئ (س)، وأبي مسہر عبد الاعلی بن مسہر الغساني (ت)، وعبد الجبار بن سعيد بن نوفل بن مساحق المساحقي، وعبد الرحمن بن يحيی بن إسماعيل بن عبيد اللہ بن أبي المہاجر، وعبد الرحيم بن واقد، وعبد الصمد بن عبد الوارث (س)، وعبد العزيز بن الخطاب، وعبد العزيز بن عبد اللہ الأويسي، وعبد العزيز بن المغيرۃ المنقري، وأبي بكر عبد الكبير بن عبد المجيد الحنفي، وعبد الكريم ابن روح البصري، وعبد الملك بن إبراہيم الجدي، وعبد الملك بن عبد العزيز بن الماجشون (كن)، وأبي نصر عبد الملك بن عبد العزيز التمار، وأبي عامر عبد الملك بن عمرو العقدي، وعبد الوہاب بن عطاء الخفاف، وأبي علي عبيد اللہ بن عبد المجيد الحنفي، وعبيد اللہ بن عمر القواريري، وعبيد اللہ بن موسی (س)، وعثمان بن محمد بن أبي شيبۃ، وعثمان بن اليمان، وأبي سليمان عصمۃ بن سليمان الخزاز، وعفان بن مسلم السفار، وعلي بن الحسن بن شقيق المروزي، وعلي بن عاصم الواسطي، وعلي بن عياش الحمصي، وعلي بن معبد بن شداد المصري، وعمر بن سعد أبي داود الحفري، وعمرو بن حكام الأزدي البصري، وعمرو بن محمد الناقد (س)، والعلاء بن عبد الجبار العطار، والعلاء بن عمرو الحنفي، وأبي نعيم الفضل بن دكين، وأبي عبيد القاسم بن سلام، وقبيصۃ بن عقبۃ، وكثير ابن ہشام، ومالك بن سعير بن الخمس، ومحمد بن إسماعيل بن أبي فديك، ومحمد بن بشر العبدي، ومحمد بن حرب المكي، ومحمد ابن حميد الرازي، ومحمد بن سابق البغدادي، ومحمد بن الصباح الدولابي، وأبي جابر محمد بن عبد الملك الأزدي، وأبي ثابت محمدابن عبيد اللہ المديني، ومحمد بن عبيد الطنافسي، وأبي مروان محمد ابن عثمان بن خالد العثماني، ومحمد بن عيسی ابن الطباع، وأبي النعمان محمد بن الفضل عارم (س)، ومحمد بن كثير الصنعاني، ومحمد بن كثير العبدي، وأبي غزيۃ محمد بن موسی المدني، ومصعب بن المقدام، ومطرف بن عبد اللہ المدني، والمعلی بن الفضل الأزدي، ومكي بن إبراہيم البلخي (سي)، وأبي سلمۃ موسی بن إسماعيل التبوذكي، وأبي حذيفۃ موسی بن مسعود النہدي، ومؤمل بن إسماعيل (س)، والنضر بن شميل المروزي، وأبي الأسود النضر بن عبد الجبار المصري، ونعيم بن حماد الخزاعي، وہشام بن إسماعيل العطار الدمشقي، وأبي الوليد ہشام بن عبد الملك الطيالسي، وہشام بن عمار الدمشقي، وہوذۃ بن خليفۃ البكراوي، والہيثم بن جميل الأنطاكي، والہيثم بن خارجۃ الخراساني، والوليد بن سلمۃ الطبراني، ووہب بن جرير بن حازم، ويحيی بن آدم، ويحيی بن إسحاق السيلحيني، ويحيی بن أبي بكير الكرماني (س)، ويحيی بن أبي الحجاج البصري، ويحيی بن عبد اللہ بن بكير المصري، ويحيی بن يحيی النيسابوري، ويزيد بن ہارون، ويعلی بن عبيد الطنافسي، ويوسف بن يعقوب السدوسي، .
روی عنہ: الترمذي، والنسائي، وأحمد بن علي الأبار، وأبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي، وأبو العباس أحمد بن محمد بن الأزہر الأزہري، وجعفر بن أحمد بن نصر الحافظ، وحرب بن إسماعيل الكرماني، والحسين بن إدريس الأنصاري الہروي، وداود ابن الحسين البيہقي، وأبو يحيی زكريا بن داود بن بكر الخفاف، وزنجويہ بن محمد بن الحسن اللباد، وسلمۃ بن شبيب النيسابوري وہو من أقرانہ، وعبد اللہ بن ہاجك الہروي الأشناني، وأبو يحيی عبد الرحمن بن محمد بن سلم الرازي، وعلي بن حرب الموصلي وہو أكبر منہ، وعمار بن رجاء الجرجاني وہو من أقرانہ، وأبو عبد اللہ محمد بن أحمد الصواف، ومحمد بن إسحاق بن خزيمۃ، ومحمد بن إسماعيل البخاري في غير الجامع، وأبو سعيد محمد بن شاذان النيسابوري، ومحمد بن الضوء الكرمينی، وأبو الوليد محمد بن عبد اللہ بن أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي المكي صاحب"تاريخ مكۃ"، وأبو منصور محمد بن القاسم العتكي، ومحمد بن نعيم النيسابوري، ومسلم بن الحجاج خارج"الصحيح"، وأبو منصور يحيی بن أحمد بن زياد الشيباني الہروي، وأبو سعد يحيی بن منصور الہروي الزاہد۔ (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، جمال الدین مزی، رقم الترجمہ:117)

اس ترجمہ میں امام مزی نے احمد بن نصر راوی کے ڈیڑھ سو کے قریب اساتذہ اور تیس کے قریب تلامذہ کو بیان کیا ہے، آپ تہذیب الکمال کا کوئی بھی صفحہ کھولیں، کسی بھی راوی کا تذکرہ لیں، تو یہی لمبی فہرست نظر آئے گی، اسی فہرست میں ایک اور بات قابل غور ہے کہ تلامذہ کا ذکر کرتے ہوئے بعض مقامات پر امام مزی نے "وھو من اقرانہ" کا لفظ بڑھایا ہے کہ یہ محدث مذکورہ راوی کا شاگرد تو ہے، لیکن اس کا ہم عصر ہے، یوں ہم عصر ہونے کے باوجود انہوں نے اس سے حدیث لی ہے، اس کے علاوہ بعض مشہور محدثین جیسے امام بخاری یا امام مسلم کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تعیین بھی ہے کہ ان دو ائمہ حدیث نے مذکورہ راوی نے حدیث صحیحین کی بجائے اپنی دیگر کتب میں لی ہیں، یوں ایک مکمل انداز میں شیوخ و تلامذہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(نومبر ۲۰۲۱ء)

نومبر ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۱۱

Flag Counter