مطالعہ جامع ترمذی (۶)
(جامع ترمذی کی مختلف احادیث کے حوالے سے سوالات وجوابات)

ادارہ

مطیع سید: حضرت عائشہ سے روایت آتی ہے کہ آپ ﷺ کی وفات سے پہلے تمام عورتیں آپ کے لیے حلال کر دی گئی تھیں۔ (کتاب التفسیر، ومن سورۃ الاحزاب، حدیث نمبر ۳۲۱۶) قرآنِ حکیم میں ایک مقام پر آپ ﷺ کو منع کیا گیا ہے کہ اب آپ مزید کسی سے شادی نہیں کر سکتے، چاہے کوئی عورت آپ کو کتنی ہی بھا جائے۔ کیا اس روایت میں اس پابندی کو ختم کرنے کا ذکر ہے؟

عمار ناصر: یہ کافی غور طلب روایت ہے۔ سورہ احزاب میں لا یحل لک النساء من بعد (آیت ۵۲) کے جو الفاظ ہیں، ان کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پچھلی آیت میں خواتین کی جن تین چار قسموں سے نکاح کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال ٹھہرایا گیا ہے، ان کے علاوہ آپ کسی سے نکاح نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ کسی بھی خاتون سے نکاح نہیں کر سکتے۔ اب حضرت عائشہ کا یہ کہنا کہ وفات سے پہلے آپ کے لیے خواتین حلال کر دی گئی تھیں، اگر اس آیت کے حوالے سے ہے تو مطلب یہ بنتا ہے کہ وفات سے پہلے آپ سے یہ پابندی ہٹا لی گئی تھی۔ اگر یہ مراد ہے تو اس کی تائید بظاہر کسی اور روایت سے نہیں ملتی، نہ ہی قرآن میں اس پابندی کے اٹھائے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ اور اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات کہنا چاہ رہی ہیں تو کم سے کم روایت کے الفاظ میں اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔

مطیع سید: آپﷺ کی کتنی ازواج تھیں جب یہ آیت نازل ہوئی؟

عمار ناصر: حضرت زینب بنت جحش کا نکاح پانچ ہجری کا واقعہ سمجھاجاتا ہے۔ اس وقت حضرت سودہ، حضرت عائشہ، حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ امہات المومنین میں شامل تھیں، جبکہ حضرت خدیجہ کا مکہ میں اور حضرت زینب بنت خزیمہ کا مدینہ میں انتقال ہو چکا تھا۔باقی ازواج حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت جویریہ اور حضرت میمونہ اس آیت کے بعد نکاح میں آئیں۔

مطیع سید: کیا حضرت ابن ِ عباس قائل تھے کہ آپ ﷺنے اللہ کو دیکھاہے ؟ (کتاب التفسیر، ومن سورۃ النجم، حدیث نمبر ۳۲۷۸)

عمار ناصر: روایت سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ اسی لیے حضرت عائشہ کو اس بات کی نفی کرنی پڑی اور انھوں نے بتایا کہ سورۃ النجم میں اللہ تعالیٰ کو نہیں، بلکہ حضرت جبریل کو دیکھنے کا ذکر ہے۔

مطیع سید: آپﷺ نے جب ایک ماہ کے لیے اپنی ازواج کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی تو حضرت عمر فاروق کو پتہ چلا اور وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے۔ (کتاب التفسیر، ومن سورۃ التحریم، حدیث نمبر ۳۳۱۸) یہ کب کا واقعہ ہے؟ کیاایک ماہ پوراہو چکا تھا تب حضرت عمر کو پتہ چلا ؟حالانکہ وہ اور ان کے انصاری بھائی تو ایک دن چھوڑ کر ایک دن باری باری آپ کی خدمت میں حاضری دیتے تھے۔

عمار ناصر: نہیں، ایک ماہ پورا ہونے کے بعد نہیں،بلکہ جیسےہی آپ ﷺ یہ فیصلہ کرکے ازواج سے الگ ہو گئے، اس کے متصل بعد کا واقعہ ہے۔

مطیع سید: کیا کسی دوسری جگہ جا کر رہنے سے ایک دن میں ہی لوگوں کو یہ محسوس ہو گیا کہ آپﷺ ازواج سے الگ ہو گئے ہیں ؟ اور یہ لوگوں نے کیسے اندازہ کر لیا کہ آپ نے طلاق دے دی ہے؟

عمار ناصر: ظاہر ہے، آپ کا کسی دوسری جگہ رہائش کو منتقل کر لینا ایک خلاف معمول واقعہ تھا اور آپ نے اس کا اظہار نہ بھی کیا ہو تو گھر میں آنے جانے والی خواتین کے ذریعے سے ایسی بات پھیل ہی جاتی ہے۔ البتہ بالکل صحیح صورت حال لوگوں کو معلوم نہیں تھی۔ یہ آپ ﷺکے گھر کا اندرونی معاملہ تھا۔آپ لوگوں کے سامنے صورت حال کی پوری وضاحت کر کے تو نہیں الگ ہوئے تھے۔ گھر کے ماحول میں ایک بات ہوئی،اس کے بعدآپﷺدوسری جگہ منتقل ہوگئے۔لوگوں کو سن گن ملی اور انہوں نے قیاس کر لیا کہ شاید آپ نے ازواج کو طلاق دے دی ہے۔

مطیع سید: یہ شقِ صدر کا جو واقعہ نبی ﷺ کے ساتھ پیش آیا (کتاب التفسیر، ومن سورۃ الم نشرح، حدیث نمبر ۳۳۴۶)، اس سے کیا مقصد تھا؟ کیا اس سے اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی پیغام دینا چاہ رہے تھے ؟ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنی تجلی سے ہی آپ کے دل کو نور سے بھر سکتے تھے۔

عمار ناصر: یہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان کے معاملات ہیں،وہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے، اس واقعے کی مدد سے نبوت کی ابتدائی علامات کو لوگوں پر ظاہر کرنا مقصود ہو۔

مطیع سید: نبوت سے پہلے شام کے ایک سفر میں بحیرا راہب سے ملاقات والے قصے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ درست نہیں ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ ترمذی کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ کو حضرت ابو طالب نے حضرت بلال کے ہمراہ واپس بھیج دیا۔ (کتاب المناقب، باب ما جاء فی بدء نبوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر ۳۶۲۰) اس وقت تو بلال ابھی پیدابھی نہیں ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ روایت حسن غریب ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اتنی بات راوی نے بڑھا دی ہوگی،لیکن باقی واقعہ ٹھیک ہے۔

عمار ناصر: حضرت بلال اس واقعے میں موجود تھے یا نہیں، اس کی تو تاریخی طور پر تحقیق ہو سکتی ہے۔ البتہ بحیرا راہب سے ملاقات کا واقعہ ہمارے پرانے سیرت نگاروں کے ہاں کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔ جدید سیرت نگاروں کے ہاں یہ مسئلہ بن گیا ہے، اس لیے کہ مستشرقین نے اس سے یہ اخذ کیا ہے کہ محمد ﷺ نے ان راہبوں سے دینی علم سیکھا تھا۔ اس کے رد عمل میں یہ رجحان پیدا ہوا کہ واقعے کا انکار کر کے اس دلیل کو جڑ سے ہی ختم کر دیں۔

مطیع سید: آپ ﷺنے عمر بن ہشام (ا بوجہل ) اور عمر بن خطاب کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ، ان میں سے ایک ہمیں عطا فرما۔ (کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، حدیث نمبر ۳۶۸۱) دونوں کے لیے کیوں نہیں دعا فرمائی، ایک ہی کو کیوں مانگا ؟

عمار ناصر: دیکھیں دعا کا زوایہ اگر کسی خاص فرد کی طلب ہدایت ہے توپھر یہ سوال بنتا ہے کہ آپﷺ کو دونوں کی ہی ہدایت کی دعا مانگنی چاہیے تھی۔لیکن اگر دعا کازاویہ اسلام کی ضرورت ہے کہ اسلام کو تقویت ملے اور اس کے لیے اس طرح کا ایک اثر ورسوخ والا بندہ چاہیے تو پھر بات ذرا مختلف ہو جاتی ہے۔یہاں اصل میں کسی فرد کی ہدایت کے حوالے سے دعا نہیں ہے۔ اس میں الفاظ ہیں کہ اللھم اعز الاسلام۔یا اللہ،ان دونوں میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے، اس کے ذریعے اسلام کو قوت دے۔ ظاہرہے، زاویہ بدلنے سے بات بدل جاتی ہے۔

مطیع سید: نبی ﷺکے سامنے بچیاں دف بجا کر گانا گا رہی تھیں۔حضرت عمر وہاں آئے تو اسے شیطانی عمل قرار دے کر انھیں روک دیا، اور نبی ﷺ نے بھی یہ کہہ کر اس کو تقویت دی کہ شیطان عمر سے ڈرتا ہے، حالانکہ اس سےپہلے آپﷺ نے خود ان بچیوں کو اجازت دی تھی۔ (کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، حدیث نمبر ۳۶۹۰)

عمار ناصر: حضرت عمر کے مزاج میں سختی تھی اور انھوں نے اس کو ناپسند کیا کہ لہو قسم کی کوئی چیز خاص طورپر رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں کی جا رہی ہو۔ اسی کو انھوں نے شیطانی عمل سے تعبیر کر دیا، حالانکہ فی نفسہ یہ ایک مباح امر تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اباحت کے پیش نظر گانے والیوں کو نہیں روکا تھا۔

مطیع سید: کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ ﷺنے کسی صحابی کو دعا دی اور وہ قبول نہیں ہوئی ؟ مثلاحضرت امیر معاویہ کے بارےمیں دو روایتیں امام ترمذی لائے ہیں۔ ان میں سے ایک میں ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ان کے لیے دعافرمائی کہ یا اللہ ان کو ہادی و مہدی بنا۔(کتاب المناقب، باب مناقب معاویۃ بن ابی سفیان، حدیث نمبر ۳۸۴۲) لیکن حضرت امیر معاویہ میں ہادی و مہدی ہونا ہمیں نظر نہیں آتا۔ ان کی وجہ سے امت کو کافی نقصا ن بھی ہوا (اللہ ان کو معاف فرمائے )۔تو ان کا ہادی اور مہدی ہونا کس حوالے سے تھا ؟

عمار ناصر: جو جنگیں صحابہ کی آپس میں ہوئی ہیں، ان میں دین کی جو بنیادی چیز ہدایت ہے،اس حوالے سے ان میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نہج البلاغۃ وغیرہ میں یہی اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ان سے کوئی دین کا اختلاف نہیں ہے۔ان کا رب بھی وہی ہے، ہمارا بھی وہی ہے۔ ہم ان سے ایمان کے حوالےسے کوئی تقاضا نہیں کرتے۔ ہاں، سیدنا ِ عثمان کے قتل کی ذمہ داری کے متعلق یہ جھگڑا پیداہو ا ہے۔ اس میں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم شریک ہیں، درآں حالیکہ ہم اس سےبری ہیں۔ تو مشاجرات کا معاملہ میرا خیال نہیں کہ اس روایت کے منافی ہے۔ حضرت معاویہ اس مفہوم میں ہادی ہیں کہ مسلمانوں کے بڑے پیشواوں میں سے ہیں اور اپنی شخصیت،علم اور کردار کے لحاظ سے دینی راہ نمائی کے منصب پر فائز ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے دور ِحکومت میں بھی مسلمانوں کی سربلندی کے لیے غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے ہیں۔ان کے دورمیں آپ کو کوئی چیز پھڑکتی دکھائی نہیں دیتی۔امن بھی ہے، سکو ن بھی ہے، انتظام بھی مستحکم ہے اور بہت سے علاقے بھی فتح ہوئے ہیں۔

مطیع سید: حضرت عباس نے آنحضرت ﷺ کو قریش کی شکایت کی تھی کہ یہ لوگ آپس میں تو خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن ہم سے ملتے ہوئے ان کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ آپ ﷺ بھی اس پر ناراض ہوئے۔(کتاب المناقب، باب مناقب ابی الفضل عم النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر ۳۷۵۸) کیا وجہ تھی، لوگ ایسا کیوں کرتے تھے؟

عمار ناصر: قریش کے خاندانوں میں آپس میں ایک رقابت تو موجود تھی۔ اسلام کے بعد وہ اس پہلو سے کچھ بڑھ گئی ہو تو کوئی بعید بات نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاندانی نسبت کی وجہ سے بنو ہاشم کو اب ایک امتیازی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض لوگوں کے رویے میں اس کا اظہار نمایاں تھا۔ غالبا اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف مواقع پر اور خصوصا حجۃ الوداع کے خطبے میں اپنے اہل بیت کے ساتھ اچھے برتاو اور ان کی نسبت کا لحاظ کرنے کی تلقین کرنی پڑی۔

مطیع سید: کیا حضرت عباس فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے ؟

عمار ناصر: جی، اظہار فتح مکہ کے موقع پر ہی کیا تھا، البتہ روایات میں اس کا ذکر ملتا ہےکہ وہ درون خانہ اسلام پہلے سے قبول کر چکے تھے، لیکن مصلحتا اس کا اخفاء کرتے تھے۔

مطیع سید: تو کیا یہ کفار کی طرف سے لڑنے کے لیے آتے رہے ہیں ؟

عمار ناصر: بالکل۔ جنگِ بدر میں آئے تھے اور گرفتار بھی ہوئے۔آپ ﷺ نے پہلے ہی صحابہ کو فرما دیا تھاکہ یہ لوگ اپنی قوم کے دباؤ کی وجہ سے آگئے ہیں، اس لیے دوران جنگ میں انھیں نقصان نہ پہنچایا جائے۔پھر کسی مرحلے پر وہ مسلمان بھی ہو گئے۔ فتح مکہ کے موقع پر ابو سفیان کی جان بچانے والی حضرت عباس ہی تھے۔ اگر وہ ابو سفیا ن کو حضرت عمر سے بچا کر کھینچتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ لے جاتے تو شاید حضرت عمر کے ہاتھوں ابو سفیان کا کام تمام ہو جاتا۔

مطیع سید: کیا ان لوگوں میں ابو سفیان کا نام نہیں تھا جن کو قتل کر دینے کا حکم فتح مکہ کے موقع پر دیا گیا تھا؟

عمار ناصر: نہیں، ان کا نام نہیں تھا، لیکن حضرت عمر کو خاص طور پر ائمۃ الکفر کی تلاش رہتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت ابھی حرم سے باہر ہی ٹھہرے ہوئے تھے جب حضرت عباس، ابو سفیان کو لے کر آپ کے پاس گئے۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا یا اس کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے،اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔(کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل من رای النبی صلی اللہ علیہ وسلم وصحبہ، حدیث نمبر ۳۸۵۸) یہ بڑی عجیب سی بات لگتی ہے۔

عمار ناصر: یہ بات میرے خیال میں عموم پر نہیں ہے، کچھ شرائط کے ساتھ ہو گی اور کسی خاص سیاق میں یہ بات کہی جا رہی ہوگی۔ اس طرح کی روایتیں جو اس طرح کے اشکال پیداکرتی ہیں، ان میں عموما ایسا ہی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، رسول اللہ ﷺ تو یہ ذہن میں رکھ کر گفتگو نہیں کرتے تھے کہ بعد میں لوگ جب یہ سنیں گے تو انھیں پوری بات سمجھ میں آجائے۔ یوں کسی خاص تناظر میں جو باتیں برمحل اور قابل فہم تھیں، وہ تناظر وہیں رہ گیا اور الفاظ روایت کی صو رت میں ہم تک پہنچ گئے۔

مطیع سید: یہ جو روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ لا تسبوا اصحابی (کتاب المناقب، باب فی من سب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر ۳۸۶۱) میرے اصحاب کو برا مت کہو، یہ بات آپ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید سے فرمائی تھی۔حضرت خالد خود بھی تو صحابی تھے، پھر اس کا کیا مطلب ہے؟

عمار ناصر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں اصحاب کی تعبیر کا مفہوم اس سے مختلف ہے جو بعد میں مسلمانوں کے ہاں لیا جانے لگا۔ رسول اللہ ﷺ اصحاب کا لفظ بیشتر مواقع پر اپنے دور کے سارے اہل ایمان کے لیے نہیں بولتے، بلکہ اپنے ان ساتھیوں کے لیے بولتے ہیں جو شروع سے ہر سرد و گرم میں آپ کے ساتھ رہے۔ احادیث میں خاص طورپر یہ تعبیر ان لوگوں کے تقابل میں استعمال کی گئی ہے جو بعد کے دور میں نئے نئے اسلام میں آئے تھے۔ اسی پہلو سے آپ نے ایک موقع پر خالد بن ولید کو، جو صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان کسی وقت مسلمان ہوئے تھے، اپنے پرانے ساتھیوں کے متعلق یہ بات فرمائی۔

مطیع سید: اس کا کیا پس منظر تھا ؟

عمار ناصر: خالد بن ولید اور عبد الرحمن بن عوف کے مابین کچھ کھٹ پٹ ہو گئی تھی۔ خالد بن ولید نے ان کے ساتھ کچھ سخت کلامی کی۔ اس پر آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو تنبیہ فرمائی۔

مطیع سید: امام ترمذی نے کتاب العلل میں صرف حسن اور غریب کا مفہوم واضح کیا ہے، اور کسی اصطلاح پر بحث نہیں کی۔وہ جس روایت کو منکر قرار دیتے ہیں، کیا ہم وہ لے سکتے ہیں؟

عمار ناصر: نہیں، اگر کسی اور بہتر سند سے وہ روایت نقل نہیں ہوئی تو پھر نہیں لے سکتے۔

مطیع سید: ایک روایت جو صرف ترمذی میں ہے اور یہیں سے صاحبِ مشکوۃ نے بھی لی ہے،وہ منکر روایت ہے۔ جب امام ترمذی نے اس روایت کو منکر کہہ دیا ہے تو انھوں نے اسے کیوں لیا،حالانکہ صاحبِ مشکوٰۃ تو انتخاب کر کے روایت لیتے ہیں؟

عمار ناصر: صاحب مشکوۃ نے صحت کی بنیاد پر تو انتخاب نہیں کیا۔وہ تو مضمون کے لحاظ سے انتخاب کرتے ہیں۔ان کا اپنی ایک ترتیب ہے جس کے تحت وہ ایک باب سے متعلق روایات کو تین فصول میں درج کرتے ہیں۔

(ختم شد)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(نومبر ۲۰۲۱ء)

نومبر ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۱۱

Flag Counter