موجودہ تہذیبی صورتحال اور جامعات کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ تعلیم و تحقیق کے زیر اہتمام ’’ریاست مدینہ اور تعلیمی نظام‘‘  پر پہلی قومی کانفرنس میں پیش کی گئی گزارشات)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قابل صد احترام معززین و سامعین! سب سے پہلے تو شکریہ ادا کروں گا اور خوشی کا اظہار کروں گا کہ ادارہ تعلیم و تحقیق جامعہ پنجاب نے اس سیمینار کا اہتمام کیا۔

پہلی بات تو میں عمومی موضوع کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور ریاست مدینہ جسے موجودہ حکومت کا تصور بیان کیا جاتا ہے، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اور مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اس لیے پہلی گزارش یہ کروں گا کہ تحریک پاکستان اور پاکستان کی ریاست کے جو فکری رہنما ہیں، میں سر سید احمد خان سے شروع کروں گا، جسٹس سید امیر علی بھی اس کا حصہ ہیں، ان کے ساتھ علامہ اقبال اور قائد اعظم کی تعلیمات کو تعلیمی نظام میں، ملکی نظام میں، اور معاشرت میں ہمیں بنیاد کے طور پر سامنے رکھنا ہوگا تب ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک ریاست بنا سکیں گے۔

دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے یہ بات طے کر لی تھی کہ پاکستانی ریاست کی نوعیت کیا ہوگی؟ یہ سیکولر ریاست ہوگی؟ خالص جمہوری ریاست ہوگی؟ یا خلافتِ عثمانیہ طرز کی خاندانی ریاست ہو گی؟ یا خالص مذہبی ریاست ہوگی؟ یہ سوالات اور آپشنز ہمارے سامنے تھے، ہم نے اس وقت طے کر لیا تھا جس پر تمام طبقات متفق ہوگئے تھے، علماء بھی متفق تھے، سیاستدان بھی متفق تھے، پارٹیاں بھی متفق تھیں، چنانچہ علماء کرام کے بائیس نکات اور دستور اسی بنیاد پر آئے۔ اس میں تین بنیادی باتیں ہم نے طے کی تھیں جو ریکارڈ پر ہیں۔

ایک بات یہ تھی کہ حاکمیت اعلی اللہ تعالیٰ کی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ حقِ حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہے، تیسری بات یہ طے کی تھی کہ قرآن و سنت کے احکامات کی پابندی سب کے لیے ضروری ہے۔ میرے خیال میں ہمیں یہ تین باتیں ہر وقت ذہن میں رکھنی چاہئیں اور اسی پر ہماری تمام پالیسیوں کی بنیاد ہونی چاہیے۔ دستور بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے اور نظریۂ پاکستان بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔

ان دو تمہیدی باتوں کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور اس حوالہ سے دو جملے نقل کروں گا، ایک یہ کہ ’’بعثت معلمًا‘‘ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا۔ اور واقعتا دنیا کے سب سے بڑے استاذ اور معلّم اعظم حضورؐ خود تھے۔ یعنی آئیڈیل شخصیت تعلیم میں بھی اور عمل میں بھی۔ دوسری بات جناب نبی کریمؐ نے ارشاد فرمائی ’’بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘‘ مجھے اخلاقیات کا معیار اور دائرہ مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اخلاقیات کا جو دائرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اب تک وہی آئیڈیل ہے اور الحمد للّٰہ قیامت تک یہی معیار رہے گا کہ اس سے بہتر دائرہ اور اس کا عملی نمونہ نہ آج تک کوئی پیش کر سکا ہے نہ ہی قیامت تک پیش کر سکے گا۔

آج گلوبلائزیشن کا عمل بڑھ رہا ہے اور فاصلے سمٹ رہے ہیں، جناب نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا تھا آنے والے دور کے حوالہ سے کہ ’’یتقارب الزمان‘‘ فاصلے سمٹ جائیں گے۔ زبانی فاصلے بھی سمٹتے جا رہے ہیں اور ذہنی بھی، اور ایک گلوبل سوسائٹی وجود میں آرہی ہے جس کا سب سے پہلا دائرہ ہم انسانیت کے حوالہ سے بتا رہے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو پہلا خطاب ہی ’’یا ایھا الناس‘‘ کے عنوان سے تھا۔ جب آپؐ صفا پہاڑی پر کھڑے تھے تو سامنے کون تھا؟ مکی تھے، قریشی تھے، عرب تھے۔ لیکن حضورؐ نے خطاب کس کو کیا؟ اور پھر تئیس سال حضورؐ ’’ایھا الناس‘‘ کے دائرے میں خطاب کرتے رہے اور اصلاح کرتے رہے، اور جب حضور نبی کریمؐ اپنی بائیس سال کی محنت کے نتیجے میں آخری ہدایات دے رہے تھے حجۃ الوداع کے خطبہ میں، جو تین چار خطبوں کا مجموعہ ہے، ان میں ہدایات دے رہے تھے تو وہاں بھی انسانی دائرے کے اصول یا ایس او پیز بیان کر رہے تھے، انفرادی حوالے سے بھی اور اقوام و طبقات کے حوالے سے بھی۔

چنانچہ حضورؐ معلم ہیں اور صرف معلمِ اخلاقیات نہیں بلکہ متمم اخلاقیات ہیں، اخلاقیات کو اپنی انتہا تک پہچانے والی کائنات کی سب سے برتر شخصیت۔ اس کے بعد یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ سب سے پہلا دائرہ انسانی ہے، اس دائرے میں سے جناب نبی کریمؐ کے بیسیوں واقعات میں سے صرف دو واقعات پیش کروں گا کہ انسانی اخلاقیات کا دائرہ کیا ہے؟

بدر کی جنگ میں جب قیدی آئے اور قیدیوں کے بارے میں فیصلے کا موقع آیا تو نبی کریمؐ کو ایک پرانا واقعہ یاد آگیا کہ جب طائف میں پتھر پڑے تھے اور لہولہان ہو کر طائف سے مکہ پہنچے تھے تو راستے میں ایک کافر سردار مطعم ابن عدی نے پناہ دی تھی، ڈیرے کے دروازے کھولے تھے، لڑکوں کو بھگایا تھا، اندر تھوڑی دیر پناہ دی تھی، دشمن ہونے کے باوجود۔ وہ کافر ہی فوت ہوا تھا لیکن حضورؐ کو بدر میں وہ یاد تھا، ایک جملہ کہا کہ اگر وہ مطعم ابن عدی زندہ ہوتا اور ان قیدیوں کی سفارش کرتا تو اس کی خاطر میں ان قیدیوں کو ویسے ہی چھوڑ دیتا۔ انسانیت کا ایک دائرہ یہ ہے کہ کافر کا احسان ہے لیکن حضورؐ کو یاد ہے، اس احسان کی شکر گزاری بھی کر رہے ہیں۔

ایک مدینہ منورہ کا واقعہ ہے۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ سامنے گزرا۔ آپؐ احتراماً کھڑے ہو گئے، جنازہ گزر گیا، کسی ساتھی نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا، فرمایا ’’الیست نفسًا؟‘‘ کیا انسان نہیں تھا؟ یعنی احترامِ انسان، انسانیت کا دائرہ، جس پر نمونے کے طور پر دو واقعات میں نے عرض کیے ہیں۔

دوسرا دائرہ مسلم امہ کا ہے، اس پر بھی بیسیوں باتیں عرض کی جا سکتی ہیں لیکن میں حجۃ الوداع کے خطبہ میں سے حضورؐ کا وہ فرمان پیش کرنا چاہوں گا جس میں آپؐ نے خطاب کرتے ہوئے تین حرمتوں کا واسطہ دیا تھا۔ (۱) بیت اللہ کی حرمت کا واسطہ دیا (۲) شہر حرام مکہ مکرمہ کی حرمت کا واسطہ دیا (۳) اور حج کے دن کی حرمت کا واسطہ دیا۔ اور یہ جملے فرمائے تھے ’’فان دماء کم واموالکم واعراضکم وابشارکم علیکم حرام کحرمۃ یومکم ھذا فی بلدکم ھذا فی شھرکم ھذا‘‘۔ بے شک تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری آبروئیں اور تمہارے چمڑے آپس میں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس شہر اور اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ یہ مسلم امہ کے دائرے کی بات ہے جو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمائی۔

اس کے بعد اگلا دائرہ ہے بین الاقوامی۔ آج کا بین الاقوامی ماحول ایک اعتبار سے مثبت بھی ہے کہ اقوام اور تہذیبیں آپس میں گڈمڈ ہو رہی ہیں، ثقافتیں آپس میں مدغم ہو رہی ہیں، تہذیبیں ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جبکہ بین الاقوامیت کے حوالہ سے ایک جملہ نبی کریمؐ کی آخری وصیتوں میں یہ ہے کہ ’’اجیزوا الوفد کما کنت اجیزہ‘‘ دوسری قوموں کے نمائندے تمہارے پاس آیا کریں گے کافر بھی ہوں گے، ان کا ویسے ہی اکرام کرنا جیسے میں اکرام کرتا ہوں۔ تم نے مجھے دیکھ لیا ہے کہ دشمن کا نمائندہ بھی اگر آیا ہے تو میں نے کیسے اکرام کیا ہے۔ اکرام میں عزت بھی ہے، اکرام میں پاسداری بھی ہے، اکرام میں خدمت بھی ہے، ساری چیزیں شامل ہیں۔ یہ بین الاقوامی ماحول کے بارے میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ایک واضح ہدایت کا میں ذکر کیا کرتا ہوں کہ کافر قوموں کے نمائندوں کا اکرام ویسے ہی کرنا ہے جیسے میں کرتا ہوں۔ یہ تیسرا دائرہ ہے۔

اس کے بعد ایک بات اور عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی ماحول سے ہماری شکایات بھی ہیں اور میں خود شکایات کرنے والوں میں شامل ہوں۔ اگر آپ اس بات پر غور فرمائیں تو میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ دنیا پر اس وقت حکومتوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ معاہدات کی حکومت ہے۔ دنیا میں کہیں بھی حکومتوں کی حکومت نہیں، صرف یہ فرق ہے کہ جو قوم یا ملک طاقتور ہے وہ راستہ نکال لیتا ہے، کمزور پھنسا رہتا ہے۔ اس وقت دنیا پر حکومت معاہدات کی ہے جیسا کہ یورپی یونین اس وقت ہم سے کوئی ستائیس معاہدات کی پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے، مجھے بھی شکایات ہیں بین الاقوامی معاہدات سے، اسے بین الاقوامی جبر کہہ لیں، تسلط کہہ لیں، جو مرضی کہہ لیں، مگر میں تعلیمی ماحول میں اپنی یہ بات دہرانا چاہوں گا، پہلے بھی کئی بار یہ بات مختلف جامعات میں عرض کر چکا ہوں کہ آج جو یہ بین الاقوامیت کا ماحول ہے اس کا ایک مثبت پہلو ہے کہ قرب پیدا ہو رہا ہے اور ’’یا ایھا الناس‘‘ کا وہ ماحول پیدا ہو رہا ہے جو نبی کریمؐ نے صفاء پہاڑی پر کھڑے ہو کر کیا تھا اور اس کے عملی تقاضے حجۃ الوداع کے خطبہ میں بیان کیے تھے۔ جبکہ بین الاقوامی معاہدات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس نے کمزور قوموں کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ اس پر علمی رہنمائی تو جامعات کا ہی کام ہے۔ اور کیسے جکڑا ہوا ہے یہ آپ حضرات کے سامنے عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس تہذیبی کشمکش اور سولائزیشن وار میں جس طرح ویسٹرن سولائزیشن دوسری معاصر تہذیبوں کو کارنر کرتی جا رہی ہے یہ نظر انداز کرنے کا مسئلہ نہیں ہے۔

معاہدات کے زور سے، معاشی دباؤ کے زور سے، اور لابنگ کے زور سے، کس طرح طاقت اپنا راستہ نکالتی جا رہی ہے اور کس طرح تہذیبی غلبہ اور معاصر تہذیبوں کو کارنر کرنے کی باتیں آگے بڑھ رہی ہیں، میرا خیال ہے کہ ہمیں یعنی تعلیمی لوگوں کو اس پر بات کرنی چاہیے۔ رہنمائی کرنا یونیورسٹیوں اور جامعات کا ہی کام ہے، بنیادی علمی فکری رہنمائی فراہم کرنا تعلیمی اداروں کا کام ہے۔ یہ جامعات کی ذمہ داری ہے کہ صورتحال کا تجزیہ کریں البتہ سیاسی کشمکش سے ہٹ کر کریں۔ معروضی صورتحال کا تجزیہ کریں کہ ہم کہاں کہاں پھنسے ہوئے ہیں اور کیسے نکلنا ہے؟ میں ایک عرصہ سے کہہ رہا ہوں کہ عصری تعلیمی مراکز کو اور دینی تعلیمی مراکز کو آپس میں مل بیٹھنا ہوگا۔ ہمارا کام بھی آپ کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا اور آپ کا کام بھی ہمارے بغیر نہیں چل سکتا۔ ہمیں آپس میں مل بیٹھنا ہوگا، ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہو گا، اور مل جل کر قوم کی علمی فکری رہنمائی کرنا ہو گی۔ انہی دو باتوں پر میں اپنی بات مکمل کرنا چاہوں گا۔

(۱) تعلیمی اداروں کو اپنی قومی اور ملّی دونوں قسم کی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہیے اور سیاسی دائروں سے ہٹ کر خالص علمی فکری سطح پر قوم کی رہنمائی کا کچھ نہ کچھ سامان کرنا چاہیے۔ (۲) اور دینی و عصری دونوں طرف کے تعلیمی اداروں کو آپس میں مل کر کام کرنا چاہیے۔ اللہ کرے کہ ہماری زندگی میں یہ خوشی ہمیں مل جائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(نومبر ۲۰۲۱ء)

نومبر ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۱۱

Flag Counter