مسلح تحریکات اور مولانا مودودی کا فکری منہج

محمد عمار خان ناصر

(شیبانی فاونڈیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام "مولانا مودودی کی دینی فکر اور شدت پسندی کا بیانیہ" کے زیر عنوان آن لائن ورکشاپ میں گفتگو جسے مراد علی صاحب نے مدون کیا)


اس گفتگو میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے  کی کوشش کی جائے گی کہ عصر حاضر  کے ایک معروف اور بلند پایہ مسلمان مفکر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی  نے جو مذہبی  سیاسی فکر  پیش کی اور ریاست و سیاست ، سیاسی طاقت  اور مذہب کے اجتماعی مقاصد  کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو افکار پیش کیے ہیں، اس پورے نظامِ فکر کا  آج کے دور میں ایک نمایاں  اور بہت معروف رجحان ، جس کو ہم مذہبی عسکریت پسندی کا عنوان  دیتے ہیں،  اس کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، موجودہ دور میں  پوری دنیا میں اور عالم اسلام میں  جو تشدد  اور عسکریت  پر مبنی فکر دکھائی دیتی ہے اور  غلبۂ دین کے عنوان  اور اسلام  کی بالادستی  قائم کرنے کے عنوان سے عسکری جدوجہد کا جو خاص منہج سامنے آیا ہے، کیا ہم اس کی فکری جڑیں یا اس کی فکری اساسات مولانا مودودی کی مذہبی فکر  میں تلاش کرسکتے ہیں یا اس کو فکری طور پر  کو اس کا ذمہ دار سمجھا جاسکتا ہے؟ یہ سوال اور اس کا تجزیہ  اس گفتگو کا موضوع ہے۔ اس سوال کا جائزہ اس لیے اہم ہے کہ جب بھی مسلم دنیا   یا بین الاقوامی  حلقوں میں عسکریت پسندی کی اس لہر  کا تجزیہ کیا جاتا ہے ،جس کو معروف عنوان دہشتگردی یا مذہبی انتہا پسندی کا  دیا جاتا ہے،  تو اس تجزیے میں جو اس کی فکری جڑی تلاش  کی جاتی ہیں اور  اس کی فکری اساسات متعین کی جاتی ہیں تو اس کو سیاسی اسلام (Political Islam) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔

سیاسی اسلام کی اصطلاح کا پس منظر

مغرب نے اپنی سیاسی ترجیحات کے لحاظ سے دنیا کے اور عالم اسلام کے، اپنے من پسند نقشے کے مطابق،  کچھ خاص تصورات قائم کیے ہوئے ہیں۔ وہ غیر مغربی معاشروں  کے مذہبی  اور سیاسی رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے  اپنی وضع کردہ اصطلاحات کے تحت سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مثلا عالم اسلام میں کس نوعیت کے رجحانات پائے جاتے ہیں اور کون سا رجحان  اپنی فکری غذا کہاں سے حاصل کرتا ہے۔ سیاسی اسلام (Political Islam) کی اصطلاح بھی مغربی حلقوں نے متعارف کروائی ہے۔ مغربی قوتوں اور سیاسی دانش کی  ترجیحات کے مطابق  دنیا کی فکری اور تہذیبی  تشکیل کے حوالے سے  ان کا مفروضہ یا توقع یہ ہے کہ پوری دنیا  میں  سیاسی لحاظ مغربی اقدار کو غلبہ حاصل ہوجائے  جو جدید دور میں مغرب نے متعارف کروائی ہیں اور ان میں خاص طور پر سیکولر ازم کا تصور ، مذہب کو اجتماعی معاملات سے  لاتعلق کرنے کا تصور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تصور مغرب میں وہاں  کے تاریخی تجربات کی روشنی میں متعارف ہوا ہے  اور مغربی قوموں نے  بہ تدریج  اس کو اختیار بھی کرلیا ہے، اب یہ وہاں کا سیاسی مذہب  تسلیم کیا جاتا ہے۔ دنیا میں چونکہ تہذیبی، سیاسی، معاشی اور عسکری غلبہ بھی مغربی اقوام کا ہے  تو اس لحاظ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ  جن سیاسی اقدار کو  مغرب نے  بالاتر اور بہترین سیاسی اقدار کے طور پر  قبول کیا ہے ، باقی دنیا  کی خیر اور فلاح بھی   اسی میں ہے کہ وہ بھی بہ تدریج اپنے آپ کو  اسی قالب میں ڈھال لیں۔ بالخصوص دنیا کے جن معاشروں میں  مذہب  سماجی، معاشی اور تہذیبی طور پر  بہت قوی عامل رہا ہے  ،   وہاں پر  مذہب کو بہ تدریج ان دائروں سے الگ کردیا جائے۔  

اب اس تناظر  میں جب وہ  پوری دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں  تو انھیں مذہب کے عنوان سے  سیاسی نظام کی تشکیل  اور  سیاسی ترجیحات کے تعین کی بحث میں  جو بیانیہ یا فکر سب سے زیادہ  اپنے اس narrative  کےلیے  challenging  محسوس ہوتی ہے ، یا انھیں دکھائی دیتا ہے کہ یہ بیانیہ براہ راست  سیکولر ازم کی فکری  بنیادوں کو چیلنج کررہا ہے، وہ  عالم اسلام کی وہ مختلف تحریکیں ہیں جو  سیکولر ازم کے برعکس فکر  رکھتی ہیں۔ ایسی تحریکات جنھوں نے اپنے بیانیے  تشکیل دیے ہیں اور جنھوں نے مسلمان معاشروں  میں اپنی ایک فکری تاثیر پیدا کی ہے اور جن مطالبہ اور جدوجہد کا ہدف یہ ہے  کہ مسلمان معاشرے  اپنی سیاست، معیشت اور معاشرت کو  مذہب اور شریعت سے الگ  نہیں کرسکتے۔ مسلمان معاشروں کو اپنی سیاسی ترجیحات  کی تشکیل  اور اپنی بین الاقوامی ترجیحات کی تشکیل  مذہبی اساسات پر ہی  کرنی ہو گی۔ اس فکر کا لازمی مطلب یہ ہے  کہ اس طرح کے معاشرے  اور تحریکات  مسلمان معاشروں میں سیکولر ازم  کو بہ طور قدر قبول کرنے کےلیے تیار نہیں ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ جب مسلمان معاشروں میں ایک نظام حکومت قائم  ہو تو وہ داخل میں بھی  مذہبی اقدار پر قائم ہو، مذہبی اقدار کی ترجمانی اور ان  کی حفاظت پر مبنی ہو اور جب بین الاقوامی معاملات  کے دائرے میں مسلمان حکومتیں اپنے فیصلے کریں یا  اپنی پالیسیاں طے کریں  تو ان کی اساس بھی ان مذہبی اقدار پر ہوں۔

گویا یہ  رجحان مغربی قوتوں کی تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی  ترجیحات  کا لازمی طور پر حریف  ہے۔  مغرب کے ذہن میں ایک نقشہ ہے کہ دنیا کو اس رخ پر آگے بڑھنا چاہیے، جبکہ یہ فکر اس سے متصادم ہے  تو اس کو identify  کرنے کےلیے  اور اس کو focus  میں لانے کےلیے political Islam کا عنوان دیا  جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے  کہ اسلام میں، یا اسلام کے عنوان پر   عالم اسلام میں  مسلمان معاشروں میں  بہت سے طبقے، افکار اور رجحانات موجود ہیں،  لیکن یہ رجحان جو سیاست،حکومت اور اقتدار میں اسلام  کی بالادستی کی بات کرتا ہے  اور جہاں اسلام کو اس دائرے سے ایک  طرح سے  لاتعلق کردیا  گیاہے، وہاں دوبارہ اس کی بحالی کی بات کرتا ہے، یہ ان کے نزدیک  ایک مسئلہ ہے ، کیونکہ یہ جدید دور  میں عالمی تہذیبی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ مغربی اہل دانش سمجھتے ہیں کہ اس رجحان کا تجزیہ ضروری ہے  کہ یہ رجحان کہاں سے پیدا ہورہا ہے۔ جدید دنیا کے جو عمومی رجحانات ہیں، اور خود عالم اسلام میں  خاص طور پر حکمران طبقات میں  سیکولر ازم پر ایمان رکھنے  والا بہت بڑا طبقہ موجود ہے ، تو یہ موقف جو اس سے ہم آہنگ  نہیں ہے اور ایک مسئلہ  پیدا کر رہا ہے تو اس کو ہمیں خاص طو رپر  مطالعے کا موضوع بنایا چاہیے۔

اس تناظر میں  مغربی پیراڈائم میں  سیاسی اسلام  کی فکر کو  اور اس مقصد کے لیے عسکریت  کی حکمت عملی اختیار  کرنے والی تحریکات کو  آپس میں  ملا دیا جاتا ہے  اور دونوں کا تجزیہ اس طرح کیا جاتا ہے  کہ گویا  سیاسی اسلام  وہ فکری اساسات فراہم کرتا ہے یا وہ بنیادی  ڈھانچہ فراہم کرتا ہے  جس سے  مسلمانوں میں یا  اس کے مختلف طبقات  میں یہ  جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام  کے غلبے کےلیے کوشش کی جائے  اور پھر وہاں سے عسکریت پسندی کی ایک لہر  اور رجحان پیدا ہوجاتا ہے۔ اس طرح ان دونوں فکری دھاروں کو  آپس میں ملا دیا جاتا  ہے اور یہی بیانیہ  اور یہی تجزیہ  پھر جب وہاں سے پھیلتا ہے تو خود مسلمان معاشروں  میں بھی  اس طرح کے تجزیے فروغ پانے لگتے ہیں۔

عسکری تحریکوں کا انداز فکر

یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے  کہ کیا مولانا مودودی کی  مذہبی سیاسی فکر کےلیے سیاسی اسلام کا  عنوان   مناسب ہے؟ تاہم،  ہم برائے بحث  اس کو  مان لیتے ہیں کہ اس کےلیے سیاسی اسلام کی اصطلاح یا عنوان مناسب ہے۔ ہمیں اب سمجھنا یہ ہے کہ کیا اس  فکر یا بیانیے ( narrative)  کو  کسی بھی لحاظ سے،   براہ راست یا بالواسطہ،  عسکریت پسندی کے رجحان  کا ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے  جس کے نمائندہ  گروہ  موجودہ دنیا  کے بنے ہوئے  نظام کو ، چاہے وہ بین الاقوامی نظام ہو  یا ریاستوں کے اندر بنا ہوا نظام ہو،  چیلنج کرتے ہیں یا اس کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں؟ یہ تحریکیں جو قانون شکنی اور آئین شکنی کے راستے اختیار کرتی ہیں اور بہت ہی انتہا پسندانہ قسم کے مذہبی  بیانیے پیش کرتی ہیں اور اس کےلیے فساد برپا کرنے کی کوشش کرتی ہیں، ہم کہاں تک ان کی اساس یا جڑ  سیاسی اسلام کے تصور کو  قرار دے سکتے ہیں؟ اس کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ  دیکھنا ہوگا کہ سیاسی اسلام کا  مطلب اگر یہ ہے کہ  مسلمانوں کے معاشرے میں  جو اجتماعی نظام قائم کیا جائے ، وہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر قائم ہو،  اور اسلام کی اجتماعی  مصلحتیں حاصل اور مقاصد  کو پورا کرنے کےلیے  پورے نظام کو استعمال کیا جائے ،  اگر سیاسی اسلام کا یہ مطلب ہے تو تاریخی طور پر  یہ کوئی جدید دور کا  مظہر نہیں ہے یا جدید دور میں سامنے آنے والی  کوئی فکر نہیں ہے۔ اس کو اصل میں  ہم روایتی اسلام کہتے ہیں۔ اسلام کا جو روایتی تصور ہے اور  جو تاریخی اسلام چلا آرہا ہے، یہ اس کے تعارف   یا self-statement  کا بنیادی حصہ ہے۔

مسلمانوں کے پاس اقتدار  ہونا چاہیے، ان کو نظامِ حکومت قائم کرنا چاہیے، یہ پورے روایتی اسلام کا بنیادی مقدمہ ہے۔ اسلام کی تو ابتدا ہی اسی سے ہوئی تھا۔  شروع کے بارہ تیرہ سال کو نکال کر  جو رسول اللہﷺ کی  مکی زندگی کا دور ہے، اسلام اپنے دورِ اول سے  ایک سیاسی مذہب ہے۔ وہ صرف عبادات یا رسومات کا مذہب کا نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی مذہب ہے اور سیاسی مذہب  کا مطلب یہ ہے کہ وہ  مذہبی اقدار   ،  مذہبی  اصولوں   اور  شریعت کے بتائے ہوئے ضابطوں  کے مطابق ایک  معاشرے کی تشکیل کو اپنا ہدف  قرار دیتا ہے اور اس معاشرت کی تشکیل میں  اجتماعی نظام کے تمام پہلو  شامل ہیں۔ اس میں معاشرت بھی ہے، پوری معاشی سرگرمی بھی اس کا حصہ ہے ، اس میں قانون   اور جرم و سزا کا سدّباب  اور اسی طرح بین الاقوامی تعلقات   بھی ہیں۔  غرض اسلام کی ترجیحات کے مطابق  اور دین توحید کی بالادستی اور  اس کے اہداف کے لحاظ سے  پورے نظام کو تشکیل دینا، یہ پورے روایتی اسلام کا  مانا ہوا تصور ہے۔ یہ  ایک معلوم حقیقت ہے، ایسا نہیں ہے  کہ اس کےلیے کسی تاریخی تحقیق کی ضرورت  پیش آئے۔ اسلامی تاریخ، اسلامی روایت اور  اسلامی قانون سے جو آدمی ذرا سی بھی واقفیت رکھتا  ہے، وہ جانتا ہے  کہ حکومت،  سیاست، اقتدار ، نظمِ اجتماعی ، قانون، معیشت، بین الاقوامی معاملات  کو اسلامی تہذیب میں، اسلام کے  تعارف میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

دور جدید میں   مغربی اہل دانش  جب اپنے تناظر میں  صورتِ حال کو دیکھتے ہیں تو دو چیزیں انھیں  غالبا اس پر آمادہ کرتی ہیں کہ وہ سیاسی اسلام  کے تصور کو کوئی نئی پیدا ہونے والی چیز  یا ایک غیر متوقع حادثہ باور کریں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا،  مغرب کے بڑے  مفکرین کی توقع  اور understanding  یہ رہی ہے  کہ مغربی قوموں نے جو  تہذیبی سفر کیا ہے  اور سیاست و معیشت  کی تنظیم کےلیے جو نئی قدریں  دریافت کی ہیں، اصل میں وہی فطری اور universal  قدریں ہیں۔ اہل مغرب اپنے تاریخی  حالات کے تناظر میں وہاں ذرا جلدی پہنچ گئے ہیں، لیکن وہ پوری دنیا کا  مقدر ہیں، پوری دنیا کو وہیں آنا ہے اور اہل مغرب کی یہ  تہذیبی ذمہ داری ہے  کہ باقی قوموں کو اس پر آمادہ کریں  کہ وہ اس طرف آئیں۔ جب اس مفرضے کے تحت وہ یہ  دیکھتے ہیں کہ  ہماری توقع کے برخلاف  اور ہمارے ذہن میں جو انسانیت  کے سفر کا ایک نقشہ ہے، اس کے برعکس  مسلمان معاشروں میں کچھ طبقے اور تحریکیں ہیں  جو دوبارہ معاشرت، معیشت اور سیاست  کو مذہب پر استوار کرنے کی بات کررہے ہیں،  تو یہ صورت حال ان کی توقعات  اور پیش بینی  سے چونکہ ٹکراتی ہے، اس وجہ سے ان کےلیے حیرانی کا موجب بنتی ہے۔ ان کی  توقعات اور پیشین گوئیوں کے لحاظ سے تو سفر اس طرف ہونا چاہیے تھا  کہ جمہوریت کے ساتھ تعارف  اور آزاد معیشت کے تصور کی بہ دولت  مسلمان معاشرے اس طرف تیزی سے  بڑھیں اور ان کے اوپر مذہب یا بادشاہت یا اس طرح کی دوسری پابندیاں   جو صدیوں سے عائد تھیں،ان سے چھٹکارا حاصل کرکے آگے بڑھیں، لیکن یہ کیا ہوا  کہ مسلمان معاشروں میں اب بھی  یہ جذبہ اتنا توانا ہے  کہ وہ "سیاسی اسلام "جیسے  مظاہر  کی صورت میں  نمودار ہو رہا ہے۔

اس طرزِ فکر کا ادوسرا بنیادی سبب یہ ہے کہ  گذشتہ دو صدیوں کے  عرصے میں  عالمِ اسلام کا  زیادہ تر حصہ استعماری طاقتوں کی لپیٹ میں  آچکا تھا۔   سلطنت عثمانیہ کو  اگر ہم مستثنیٰ کردیں  تو عالم اسلام کے ایک بہت بڑے  حصے میں  مسلمانوں کی حکومتوں کا خاتمہ  ہوگیا تھا۔ مختلف استعماری قوتیں یہاں پر  غالب تھیں  اور ان ہی کے ذریعے سے بنیادی طور پر سارے مسلمان معاشرے  جدید سیاسی تصورات سے  متعارف ہوئے۔  مثلا حق نمائندگی، جمہوریت، قومی ریاست  ، ان سب تصورات  سے  مسلمان استعماری طاقتوں کے ذریعے متعارف ہوئے۔ درمیان کے تعطل کے بعد  جب بیسویں صدی کے وسط میں  مسلمانوں کی قومی ریاستیں  قائم ہونا شروع ہوئیں  تو غالبا مغربی مفکرین توقع کررہے تھے  کہ وہ جو مذہبی حکومتوں کا، یا مذہب کی بنیاد پر قائم سیاسی حکومتوں کا تصور تھا، وہ  غالبا مسلمان معاشروں کے اندر سے محو ہوچکا ہے  اور وہ اپنی تاثیر اور اپیل  کھو چکا ہے۔  اس لحاظ سے یہ ان کےلیے ایک غیر متوقع  چیز تھی کہ مسلمانوں کے اندر ایسے مفکرین پیدا ہوں، ایسی تحریکیں اٹھیں  جو اس بھولے ہوئے سبق  کو دوبارہ یاد  کروائیں اور یہ  دعوت دیں کہ  جدید دور میں بھی ہمیں  اپنی معاشرت اور معیشت کو اسلام کی بنیادوں پر  قائم کرنا ہے۔   

یہ مغربی  تاریخی سیاق سے پیدا ہونے والے توقعات کا نتیجہ ہے۔ اس  وجہ سے یہ بالکل سمجھ میں آتا ہے کہ سیاسی اسلام  کا تصور اور ایک مذہبی فکر کے طور پر  سامنے آنا ان کےلیے  ایک اچنبھے کی چیز اور باعث تعجب امر ہے۔  لیکن اگر مسلمانوں کی تاریخ  ، اسلامی روایت اور اسلامی تہذیب  کے تسلسل میں کھڑے ہوکر دیکھا جائے تو یہ بات سمجھنے میں دقت پیش نہیں آتی کہ "سیاسی اسلام" کا تصور درمیان میں آنے والے ایک  تعطل اور خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوبارہ اسلامی روایت اور اسلامی تاریخ سے جڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے  کہ درمیان میں کچھ اسباب سے تعطل  آگیا تھا، مسلمانوں کی حکومتیں ختم ہوگئی تھیں، ان کا اقتدار ختم ہوگیا تھا۔اب جب ہمیں دوبارہ آزادی مل رہی ہے، سیاسی اقتدار اور حکومت مل رہی ہے، تو ہمیں پھر اپنی تہذیب اور تاریخ سے جڑنا ہے  اور ظاہر ہے کہ اس میں اسلام کا کردار  محض ایک عباداتی مذہب کے طور پر نہیں  ہے بلکہ معاشرے کو بنانے والی اور  سیاست و معیشت کے نظام کو تشکیل دینے  والی قوت کے طور پر  ہے۔

ان معروضات سے یہ امر واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ سیاسی اسلام   بنیادی طورپر اسلامی تاریخ اور روایت میں  کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ مسلمان جہاں بھی اس پوزیشن میں ہوں کہ ان کی اکثریت ہو  اور وہ اپنا ایک نظم اجتماعی قائم کریں،   وہاں  اس کی ضرورت یا اہمیت کو   پوری اسلامی فکر متفقہ طور پر  بیان کرتی ہے۔ہماری فقہ میں  یوں بیان کیا جاتا ہے کہ  خلافت کا قیام، یعنی حکومت اور اقتدار کی تشکیل  اور ایک نظام حکومت کا قیام   مسلمانوں پر لازم ہے۔ اس لیے کہ ان پر  اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں عائد کی ہیں، ان کو جن احکام شریعت کا پابند ٹھہرایا ہے، ان میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ جب تک مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں ہوگی اور ان کے پاس سیاسی طاقت نہیں ہوگی، وہ ان ذمہ داریوں کو انجام نہیں دے سکتے۔ بنیادی طور پر یہ وہ نقطۂ  نظر ہے  جس کو جدید دور میں نئی اصطلاحات   اور کچھ نئے استدالات کے ساتھ  عالم اسلام میں  مختلف اہل فکر نے  بیان کیا ہے۔ اب اس فکر کی اصطلاحات نئی ہوسکتی ہیں، تعبیرات نئی ہوسکتی ہیں، جو استدلالات پیش کیے گئے ہیں وہ ممکن ہے، روایتی  استدلالات سے مختلف اور  جدید ذہن کےلیے  زیادہ مانوس ہوں،  لیکن بنیادی تصور نیا  نہیں ہے۔

سیاسی اسلام اور عسکریت پسندی  کا اساسی فرق

اگر  مذکورہ بالا  نقطۂ نظر پوری اسلامی روایت کا  نقطہ نظر ہے  اور اسی کو جدید دور میں بعض مذہبی مفکرین، جن میں غالبا مولانا مودودی سب سے نمایاں ہیں،  پیش کررہے ہیں تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جدید دور میں ان دو مظاہر کا باہمی امتیاز کیسے سمجھیں  جن میں سے ایک کو سیاسی اسلام اور  دوسرے کو   جہادی اسلام کہا جاتا ہے۔ عسکریت پسندی کی  جو لہر اور تحریک ہے، وہ بھی ظاہر ہے کہ اسلام کے غلبے کی بات کرتی ہے۔ اس میں بھی اسلام کی حاکمیت قائم کرنے کی بات کی جاتی ہے ، اس میں بھی شریعت کی بالادستی کی بات  کی جاتی ہے، اس میں بھی بین الاقوامی نظام میں مظلوم مسلمانوں کی مدد اور نصرت  اور اسلام کا بول بالا  کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ تو مولانا مودودی کی فکر کو، چاہے  ہم اسے اسلامی روایت کا  بیانیہ قرار دے دیں یا  جدید اصطلاح میں سیاسی اسلام کا عنوان دے دیں ،  اس پوری فکر کو ہم انتہا پسندی یا  عسکریت پسندی کی اس لہر کو کیسے  ممتاز کرسکتے ہیں، ان کے باہمی  فروق کیا ہیں ؟   اس سوال کے تجزیے سے  واضح ہوگا  کہ مولانا مودودی کی فکر یا سیاسی اسلام کو کہاں رکھنا چاہیے، یعنی فکر  ی طور پر اس کا شجرہ نسب  کس سے زیادہ ملتا ہے۔ کیا  اسلامی تہذیب اور روایت  میں آنے والے بیانیے کے ساتھ اس کا تعلق زیادہ بنتا ہے یا اس کے خصائص ، ترجیحات  اور عناصر انتہا پسندی اور عسکریت پسندی  کے بیانیےکے ساتھ زیادہ  موافقت رکھتے ہیں۔

عسکری اسلام  یا عسکریت پسندی کے جو بیانیے ہیں،   ان کے فکری رجحانات  یا ان کے استدلالات کے تین چار مظاہر  یا خصوصیات کو سامنے رکھا جائے تو اس میں سب سے بنیادی خصوصیت یہ نظر آتی ہے کہ وہ اسلام کے غلبے کا جذبہ تو رکھتے ہیں اور انہی آیات   اور فقہ اسلامی اور  شریعت کے انہی اصولوں سے استدلال کرتے ہیں جن میں دین کے غلبے  اور شریعت  کی حاکمیت کی بات کی گئی ہے۔ اس بنیادی تقاضے کےلیے  تو ان کا ماخذ استدلال  اور ہماری روایت کا ماخذ استدلال  یا سیاسی اسلام کا ماخذ استدلال  زیادہ مختلف نہیں ہے۔   لیکن جو چیز ان کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے، وہ  اس سوال کا جواب ہے کہ اس مقصد کے حصول کےلیے  جدوجہد کن اساسات پر کی جائے، حکمت علمی  کیا وضع کی جائے اور   اس کےلیے line of action  کیا بنائی جائے یا جدوجہد کا رخ کیا طے کیا جائے۔  اس میں بہت بنیادی مسئلہ جدید دور میں دنیا کی سیاست اور معیشت میں واقع ہونے والی  تبدیلیوں کا  ہے۔ دنیا کی سیاسی  اور  تہذیبی فکر میں اور سیاسی اور عسکری طاقت کے  توازن میں جوہری  تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جو اب  ایک معروضی حقیقت کا درجہ  رکھتی ہیں۔ ایک ایسی دنیا وجود میں  آچکی ہے کہ نہ اس میں سیاسی توازن وہ ہے جو دو تین سو سال پہلے تھا، اور نہ اس میں اقتصادی طاقت کا توازن وہ ہے۔ سیاسی تصورات  جو دو صدیاں   پہلے دنیا میں  مسلّم   ، جائز اور اخلاقی مانے جاتے تھے ، آج دنیا میں ان کی جگہ کچھ اور تصورات نے لے لی ہے۔ معاشرت میں غیر معمولی تبدیلی آچکی ہے  اور پوری انسانیت کا طرزِ فکر  بالکل  تبدیل ہوچکا ہے  اور یہ ساری تبدیلیاں ایک معروضی حقیقت کے طور پر دنیا میں موجود ہیں۔

اب ظاہر بات ہے کہ کسی  مذہبی یا غیر مذہبی فکر نے اپنے اہداف اور  ideals  کیا طے کرنے ہیں، اس میں تو وہ اس کے پابند نہیں ہیں  کہ اپنے  ideals یا اہداف  وہ زمانے کے رجحانات سے لیں یا ان کی روشنی میں طے کریں۔ قومیں ،تہذیبیں  اور گروہ اپنے اہداف  اور اپنے ideals غیر تاریخی یا تاریخ سے ماورا مآخذ سے  بھی اخذ کرتے ہیں ، لیکن ان کے حصول کےلیے جہدوجہد کی جو حکمت عملی وضع کرنی ہے، اس میں کوئی گروہ، کوئی  بیانیہ، کوئی تحریک  اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتی کہ وہ کس ماحول میں ہے، وہاں پر زمینی حقائق کیا ہیں، پیش رفت کے امکانات کس طرح کے ہیں، کون سی حکمت عملی موثر ہوسکتی ہے اور  رکاوٹیں کس نوعیت کی ہیں۔ ان سب  چیزوں کو ملحوظ رکھے بغیر  اور ان کے ساتھ ایک طرح کی موافقت پیدا کیے بغیر  کوئی جدوجہد  میدان عمل میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔

اس مقام پر ایک بنیادی فرق نظر آتا ہے  کہ عسکریت کی راہ  اختیار کرنے والی جتنی بھی  تحریکیں اور گروہ ہیں،  وہ بنیادی طور پر تاریخ اور تہذیب  میں ان تبدیلیوں کو  جو جدید دور کی ایک حقیقت  واقعہ ہے،  جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا  اور اس سے بچ کر نہیں نکلا جاسکتا،  وہ ان کو ایک امر واقع کے طور پر  قبول کرنے کےلیے  تیار نہیں ہیں۔ پوری دنیا میں طاقت، سیاست، معیشت  اور ایک پورا  نظام بنا ہوا ہے ، تصورات کا ایک پورا مجموعہ ہے جو اس وقت دنیا میں غالب ہے اور لوگ اسی کے تحت سوچتے ہیں۔  لیکن یہ عناصر یا تو ایک جذباتی فضا میں  یا ایک غیر حقیقی انداز فکر سے یا کچھ مذہبی پیشن گوئیوں کو  سامنے رکھ کر  یہ سمجھتے ہیں کہ  ہم اس پورے نظام طاقت اور نظام فکر کو  نظر انداز کرسکتے ہیں  اور اس کو رد کرنے کے ساتھ ساتھ چیلنج کرسکتے ہیں، اس توقع پر کہ جب ہم ٹکرانے کی کوشش کریں گے تو پھر غیبی طاقتیں اور قوتیں  کام کرنا شروع کردیں گی  اور کچھ ماورائے تاریخ عوامل سامنے آجائیں گے جو حالات کا پانسہ پلٹ دیں گے۔  اس  مفروضے یا تاریخی تفہیم کے ساتھ اور تاریخی تبدیلیوں کے بارے میں  اس اندازِ نظر کے ساتھ  وہ  جب اپنا بیانیہ مرتب کرتے ہیں اور جدوجہد کا  ایک طریقہ اختیار کرتے ہیں تو وہ ان چند نکات کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے :

 سب سے پہلا نکتہ  تو مسلمان معاشروں میں اس وقت جن طبقات کے پاس حکومت اور اقتدار ہے  اور  ریاستی طاقت ہے، فکری بنیادوں پر ان کی تکفیر کرنا ہے، یعنی ان کے متعلق یہ موقف  اختیار کرنا ہے کہ یہ حکمران طبقے  اور ان کا بنایا ہوا پورا نظام کافرانہ ہے  اور اس کو ئی  مذہبی جواز یا مذہبی سند حاصل نہیں۔ اس کی  دلیل یہ ہے کہ  یہ نظام جن سیاسی تصورات پر مبنی ہے، ان میں سے ایک بنیادی تصور جمہوریت ہے اور جمہوریت ایک ایسا نظام ہے کہ کم سے کم موجودہ حالات میں  یہ عناصر جن  مقاصد  کے تحت اور  جس رفتار سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں، جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے اتنی تیزرفتاری سے اور اس درجے کی تبدیلیاں پیدا کرنابہرحال ممکن نہیں ہے۔ یوں یہ طبقے جمہوریت کی نفی کرنے، اس کوایک کافرانہ نظام قرار دینےاور شریعت سے متصادم قرار دینےمیں یک زبان ہیں۔

پھرپوری دنیا میں بین الاقوامی سیاسی نظام اس وقت قومی ریاست (Nation State) کےتصور پر قائم ہے۔ یعنی اس میں دنیا کے علاقوں کی اور حکومتوں کی مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کی گئی،  جیسا کہ ہماری کلاسیکی فکر میں کی گئی تھی کہ دنیا دارالاسلام  اور دارالکفر میں تقسیم ہے۔ آج کا سیاسی نظام اس اصول پر قائم نہیں ہے۔ اس میں قومی ریاست کا تصور ہے جس میں  خطہ(Territory)، جغرافیہ اور وہاں پر رہنے والی قوم(Population)  کو بنیاد مانا گیا ہے اور ہر قومی ریاست کو  اپنے دائرے (Jurisdiction) میں خود مختاری (Sovereignty) حاصل ہے۔ اس میں آبادی کے لحاظ سےمسلمان اور غیر مسلم  دونوں طرح کی ریاستیں ہیں،  لیکن مذہبی وابستگی کی بنیاد پر تمام مسلمان ایک سیاسی نظم کےتحت مجتمع نہیں ہیں۔ عسکریت پسند تحریکوں کے تصور خلافت کے مطابق یہ تمام عناصر خلاف اسلام  ہیں اور  وہ ریاستی حدود کی تقسیم کی بنیاد پر کیے گئے معاہدات اور  نافذ کردہ قانونی پابندیوں کی بھی نفی کرتی ہیں۔ نتیجتا  ان کے پاس جدوجہد کا جو طریقہ باقی رہ جاتا ہے، وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ان حکومتوں کے ساتھ اور ان سرحدات کی تقسیم پر مبنی بین الاقوامی نظام کے ساتھ براہ راست ٹکرائیں۔

گویا داخلی طور پر مسلمان حکومتوں کے ساتھ الجھنے کا یا تصادم کا طریقہ اختیار کرنا اور بین الاقوامی سطح پر معاہدات کی نفی کرنا، ان کو توڑنا ،اور بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے تصادم مول لینا،  ان کے ساتھ جنگ چھیڑنا، یہ ان کا طریقہ اور حکمت عملی  ہے۔ اس کے نتیجے کے حوالے سے ان حضرات  کی جو توقعات ان کی گفتگوؤں سے  اور ان کے لٹریچر سے سمجھ  میں آتی ہیں،   اس کا حاصل یہ ہے کہ  جب وہ اس بنے ہوئے نظام کو چیلنج کریں گے  اور اس نظام میں انتشار ،بدامنی  اور انارکی پیدا ہوگی تو اس سے ایک ماحول بنے گا جس میں اللہ تعالی کچھ ایسے تاریخی واقعات ظاہر کرے گاجن کا مذہبی پیشین گوئیوں میں تذکرہ ملتا ہے۔

مولانا مودودی اور دینی  سیاسی جدوجہد  کا تصور

اب اس پورے بیانیے کوسامنے رکھیں اور دیکھیں کہ مولانا مودودی نے جس دور میں غلبہ دین کی جدوجہد کا اور دین کی سیاسی حاکمیت قائم کرنے کا جو پورا لائحہ عمل  پیش کیا ہے، وہ کیاہے ؟  اس تقابل سے ہمارے سامنے بالکل دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح ہو جائےگی کہ مولانا کی  سیاسی فکر  اورعسکریت پسندی کے بیانیےمیں جوہری فرق کیا ہے۔  اسی طرح عسکریت پسندی کا بیانیہ اپنا جواز کس حد تک  مولانا کی مذہبی فکر سے اخذکرتا ہے، اس سوال کا بھی ہمیں جواب مل سکے گا۔ مولانا مودودی نے بہت تفصیل سے مختلف جگہوں پر اس موضوع پر اظہار خیال کیا ہے۔ خاص طورپر  چونکہ وہ ہندوستان کے خطے کے تھے اور یہیں انہوں نے اپنے سیاسی فکر اور جدوجہد کو منظم کیا، تو پاکستان کے تناظر میں انہوں نے سیاسی دینی جدوجہد کے کچھ اصول واضح کیے  اور بعض  غلط راستوں سے اجتناب کو اپنی حکمت عملی یا اپنی فکر کا بنیادی ستون قرار دیا۔  

سب سے پہلےمولانا مودودی یہ واضح کرتے ہیں کہ ہم آج جس صورت حال میں اسلام کی سیاسی حاکمیت قائم کرنے یا حکومت الہیہ کے قیام کےلیے کام کررہے ہیں، یہ ماحول ہماری توقعات کے مطابق بنا ہوا نہیں ہے۔ یہاں پر استعمار ڈیڑھ سو سال تک مستحکم رہا ہےاور اس دور میں مسلمان معاشرے کی جو تشکیل خاص طور پر میدان سیاست میں  ہوئی ہے اور اس میں جن تصورات کو فروغ ملا ہے، وہ سیکولر طرزِ سیاست ہے۔مسلمانوں نے پچھلے ایک سو سال  میں  اور  خاص طور پر بیسویں صدی کے پہلے نصف عشرے میں  جو سیاسی جدوجہد کی ہے، وہ برطانوی جمہوریت کے متعارف کردہ اصولوں کے تحت کی ہے۔ یہ سیکولر طرز سیاست تھی جس  میں مسلمانوں کی جدوجہد ہندوؤں کے مقابلے میں اپنے حقوق کے تحفظ پر مرکوز رہی ہے۔ اس کے تسلسل میں  جو ملک قائم ہوا ہے،  خود اس کی بانی جماعت مسلم لیگ  کے ہاں، یعنی جس طبقے نے اس سیاسی جدوجہد کی قیادت کی، خود اس طبقے کے ہاں بھی حکومت الہیہ یا  اسلامی حکومت کا وہ تصور نہیں ہے جس کی طرف  مذہبی طبقے یا مولانا مودودی دعوت دے رہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایسے ماحول میں ہیں   جس میں سیکولرازم اور سیکولر سیاسی تصورات بہت  معروف (Popular) ہوچکے ہیں  اور خود مسلمانوں کے اندرجو سیاسی جدوجہد کرنے والے طبقے ہیں، وہ اس کے ساتھ بہت مانوس ہوچکے ہیں۔ ان کو دوبارہ حکومت الہیہ کے تصور کی طرف لے کر آنا، اس تصور کو دوبارہ متعارف کروانا، اس کےلیے لوگوں کو ذہنی اور قلبی طور پر قائل کرنا، ان کے سوالات اور شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا، یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور یہ بنیادی کام ہے۔ اس بنیادی مسئلے کو نظر انداز کر کے کوئی راست اقدام یا کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا  ، جس میں کچھ لوگ  جتھہ بندی کریں ، طاقت منظم کر کے چڑھ دوڑیں اور اس کے نتیجے میں اسلامی حکومت قائم کردیں۔  سب سے پہلے تو مولانا اپنی حکمت عملی کی وضاحت میں اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ یہ معروضی صورتحال میں ممکن نہیں ہے۔1

دوسری بات وہ یہ بتاتے ہیں  کہ جب صورت حال یہ ہے تو ہماری حکمت عملی تین بنیادی  اصولوں پر قائم ہونی  چاہیے۔ جدید سیاست اور معاشرے میں  اسلام کی سیاسی بالادستی ، شریعت کی حاکمیت کے قیام  کےلیے جو حکمت عملی ہم منظم  کریں، اس کے تین  بنیادی اصول ہیں:

    1. سب سے پہلے تو یہ کہ یہ کام دفعتا  نہیں ہوسکتا ، ایک دم سے نہیں ہوگا۔ اس کےلیے ہمیں تدریج کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ، درجہ بہ درجہ اس مقصد کےلیے آگے بڑھنا ہوگا۔

    2. دوسری بات یہ کہ  ہم تمام مقاصد پر بھی  بیک وقت توجہ نہیں دے سکتے ، ہمیں الاہم فالاہم کا اصول قائم کرناہوگا۔ مطلب یہ کہ ہم تمام محاذوں پر  اور ہر ہر مسئلے پر  بہ یک وقت جدوجہد  شروع نہیں کرسکتے۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ زیادہ اہم اور بنیادی چیزیں کون سی ہیں جن کو اگر پہلے حاصل کرلیا جائے  توپھر ان کی بنیاد پر  مزید تبدیلوں کےلیے راہ ہموار ہوگی۔ ہمیں پہلے ترجیحات متعین کرنی پڑیں گی۔

    3. تیسری بڑی اہم بات جو  اپنی حکمت عملی کی بنیاد کے طور پر مولانا بیان کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس پوری جدوجہد میں ہمیں خود مسلمانوں کے اندر ان عناصر  کے ساتھ مزاحمت کی ایک کیفیت  مسلسل درپیش رہے گی جو جدید دور میں مذہب کی بنیاد پر  نظام حکومت یا نظام  ریاست قائم کرنے کو زیادہ قابل عمل  نہیں سمجھتے۔ یہ عناصر  بھی مسلمان معاشرے کا حصہ ہیں، جدید طرزِ حکومت اور نظام میں  صاحب اثر ہیں اور ان کا بڑا  اثر و رسوخ ہے  ، ان کے ساتھ ہمیں تصادم سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ مولانا کے ہاں بہت بنیادی نکتہ ہے کہ ان طبقوں کے ساتھ  ہمیں تصادم کو بہ طورِ  پالیسی اختیار نہیں کرنا، وہ ہمارے مدعو بھی ہیں اور  حکمت عملی سے ہمیں سے بات کرنی ہے۔  ان کی ترجیحات کی مزاحمت بھی کرنی ہے، لیکن ان کے ساتھ تصادم کا طریقہ اختیار نہیں کرنا۔2

مولانا کے مطابق حکمت  عملی   ان تین بنیادی اصولوں پر قائم ہوں گی۔ اس کے بعد مولانا جو ضروری اور اہم بات واضح کرتے ہیں، وہ یہ  ہے کہ جدید دور  میں آپ آئینی  طرزِ جدوجہد اور قانونی انداز  کو چھوڑ کر  خفیہ جدوجہد   کی کوشش کریں گے، خفیہ طور پر انقلاب منظم کرنے کی کوشش کریں گے  تو اس کے نقصانات  اور نتائج کیا ہوں گے۔ مولانا  نے  دو چیزیں اس میں بہت نمایاں کی ہیں :

    1. جیسے ہی آپ اس طرزِ جدوجہد کو اختیار کریں گے  تو سب سے پہلی بات یہ ہوگی کہ یہ چونکہ ایک خفیہ نظام ہوگا، عوامی نہیں ہوگا جس کا محاسبہ اور تجزیہ کیا جاسکے  تو لازما یہ ڈکٹیٹر شپ کے اصول پر مبنی ہوگا۔ اس میں آمریت ہوگی، اس میں کچھ افراد ہوں گے جو فیصلے کریں گے اور  ان کو پوچھ گچھ اور محاسبہ کرنے والا  کوئی نہیں ہوگا۔ وہ جس جتھے  کو  ایک  خواب  دکھا کر اپنے ساتھ جمع کرلیں گے، وہ ان کا اندھا مقلد ہوگا۔ وہ ان کو حکم دیں گے کہ کسی کی جان لے لو تو وہ جان لے لیں گے، کسی کا مال لوٹ لو تو وہ لوٹ لیں گے۔ یہ ڈکٹیٹر شپ کے تحت ایک جتھا سا بن جائے گا  لیکن وہ طرزِ جدوجہد دینی اور اخلاقی  و شرعی اصولوں کے مطابق ہو اور اس کا محاسبہ  کیا جا سکے، اس کا امکان نہیں ہوگا۔3

    2. دوسرا بڑا نقصان اس کا یہ ہوگا  کہ جب آپ ایک بنے ہوئے نظام میں، جس میں جمہوریت کے اصول  پر آپ  کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے، اپنی جدوجہد منظم کرنے کا اور  کو آزادی کے ساتھ کھلے ماحول میں اپنا کام کرنے کا موقع میسر ہے، اس راستے کو  چھوڑ کر نظام سے تصادم  کا راستہ اختیار کریں گے  تو آپ قانون شکنی کا ایک ایسا مزاج پیدا کریں گے  جو بعد میں خود آپ کے سنبھالنے میں نہیں آئے گا۔  مولانا ایک بات تو یہ کہتے ہیں کہ آزادی سے کھلے بندوں کام کرنے کے مواقع ہوتے ہوئے  اور جمہوری آزادی ہوتے ہوئے  غیر جمہوری طریقہ اختیار کرنا شرعا ناجائز ہے۔4 یہ  مولانا کا باقاعدہ اصولی موقف ہے۔  دوسرا پہلو  اس نتیجے میں پیدا ہونے والے قانون شکنی کے مزاج کا ہے۔ مولانا اس کےلیے تحریک آزادی کا حوالہ دیتے ہیں  کہ ہم تجربہ کرکے دیکھ چکے ہیں کہ تحریک آزادی  کے دورا ن میں بعض مراحل پر جب مسلمان قائدین  نے جدوجہد کےلیے  آئین شکنی کو بہ طور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی، حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی  تو اس سے قوم کے اندر  قانون شکنی کا  وہ مزاج پیدا ہوا   جس کو آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔5 آج بھی پُرامن اور   قاعدوں اور ضابطوں کی پابند  سیاست سے ہماری قوم مانوس نہیں ہے اور آج بھی غیر قانونی اور غیر  آئینی راستے اختیار کرنے کو سیاست کا  ایک بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔  

مولانا کے تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ ان طریقوں سے آپ نہ تو وہ اجتماعیت پیدا کرسکتے ہیں  اور نہ وہ معاشرہ  پیدا کرسکتے ہیں جس میں  خدا خوفی  اور حدودکی پابندی ہو اور خدا کی بتائی ہوئی حدود کے اندر  جدوجہد کرنے کا جذبہ راسخ ہو۔

موجودہ بین الاقوامی نظام کی شرعی حیثیت

ایک اور بڑی اہم بات   جس کو مولانا بہت زور دے کر  نمایاں کرتے ہیں ، یہ ہے کہ جدید بین الاقوامی نظام میں کیے گئے باہمی معاہدات کو اخلاقی اور  شرعی جواز اور سند حاصل ہے۔ یعنی عسکری تنظیموں کے بیانیے کے بالکل برعکس جو یہ سمجھتے ہیں کہ  یہ نظام  مغربی قوتوں نے فریب ، جبر ، طاقت کے زور پر مسلط کیا ہوا ہے  اوریہ مسلمانوں کو یا اسلام کے غلبے  کو روکنے کا ایک  طریقہ ہے  ، اس لیے اس کو نہیں ماننا چاہیے ،  مولانا مودودی کہتے ہیں کہ  موجودہ بین الاقوامی نظام، ا س میں مانا گیا  قومی ریاستوں کا تصور  اور ایک ریاست کو  دوسری ریاست  کے  معاملات میں دخل دینے سے روکنے اور اسے ناجائز قرار دینے کا جو اصول قائم کیا گیا ہے، یہ سب بین الاقوامی معاہدات ہیں اور ان معاہدات کی پابندی  مسلمانوں کےلیے صرف مصلحت کے طو رپر نہیں، یعنی صرف مفاد پرستی کے نقطۂ نظر سے نہیں  بلکہ شرعی اور اخلاقی طور پر  بھی لازم ہے۔6 اس بنیاد پر مولانا  کے موقف کے مطابق قومی ریاستیں خلافت کے تصور کے منافی نہیں ہیں۔ یہ بہت ہی اہم فرق ہے کہ عسکریت پسند عناصر اور گروہوں  کے تصور خلافت کے مطابق قومی ریاستوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جبکہ   مولانا اس کے برعکس یہ کہتے ہیں  کہ مسلمانوں کی الگ الگ ریاستیں ہوں، ان کے الگ الگ نظم اجتماعی ہوں، مختلف قومیں مختلف خطوں میں اپنے  حق خود ارادی کو استعمال کررہے ہوں تو یہ اس سے مانع نہیں ہے  کہ وہ مشترک سیاسی مفادات کی  سطح پر، بین الاقوامی  سیاسی تعلقات کی  سطح پر ، خود کو ایک ایسے مربوط سلسلے میں منظم  کرلیں  جس کو ہم خلافت کے تصور کا متبادل قرار دے سکیں۔ مولانا خلافت  کے قیام کےلیے اس  کو لازم نہیں سمجھتے  کہ قومی ریاستوں کو ختم کیا جائے، بلکہ ان کا تصور یہ ہے کہ دونوں   میں باہمی مطابقت پیدا کی جا سکتی ہے۔ قومی ریاستیں ہوتے ہوئے  خلافت کا ایک  ماڈل تشکیل دیا جاسکتا ہے۔7 مولانا  بین الاقوامی معاہدات کی نفی کرنے اور ان کی خلاف ورزی کو  درست نہیں سمجھتے بلکہ  میرے علم کی حد تک  اسلامی روایت میں شاید  وہ پہلے عالم ہیں، جنھوں نے سورۃ انفال کی درج ذیل  آیت  کی ایسی تشریح کی ہے جو  بہت ہی برمحل ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْا اُولٰٓئِكَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُھَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (الانفال ۹:۷۲)

[جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگرہجرت کر کے (دارالاسلام میں) آنہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کےمعاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُسے دیکھتا ہے۔]

اس آیت سے  جدید  بین الاقوامی  قانون اور بندوبست کی  تائید میں  مولانا یہ نکتہ اخذ کرتے ہیں کہ  اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے  کہ اسلام مسلمانوں پر  ایسی کوئی بین الاقوامی  سیاسی ذمہ داری نہیں ڈالتا  جس کے نتیجے میں وہ  دوسری قوموں یا دوسرے ممالک  میں مقیم مسلمانوں  کو تحفظ دینے یا ان کے  حقوق اور آزادیوں کو یقینی بنانے کےلیے  دخل دینے کے پابند  ہوں، کیونکہ اس سے اتنی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں  کہ بین الاقوامی  معاملات اور تعلقات کو  ایک مستحکم نہج پر استوار رکھنا  ممکن نہیں رہتا۔ مولانا اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ  قرآن نے یہ ہدایت دے کر  مسلمانوں کو بہت سی  ایسی پیچیدگیوں سے بچایا ہے  جن کا اگر لحاظ نہ رکھا جائے  تو بین الاقوامی تعلقات ہمیشہ ایک  خلفشار کا  منظر پیش کرتے رہیں گے۔8 مولانا بین الاقوامی معاہدات  کی پابندی   کی بہت اہمیت بیان کرتے ہیں، اور پاکستان کی تاریخ میں  دو مواقع  پرانہوں  نے اسی تصور کے تحت جو مذہبی موقف اختیار کیا،   وہ ہمیں ان کا نقطۂ نظر سمجھنے  میں مدد دیتا ہے۔

  1. 1948ء میں  کشمیر میں  وہاں کے مقامی مسلمانوں  نے اپنے طور پر  جہاد شروع کر دیا اور یہاں کے بعض سرحدی قبائل بھی اس میں شریک ہونے لگے ، لیکن حکومت پاکستان نے اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اس  ابہام کی کیفیت میں مولانا مودودی سے یہ سوال ہوا  کہ کیا ہم اس جہاد میں  کشمیریوں کی مدد کرسکتے ہیں، یعنی کیا وہاں لوگوں کو لڑنے کےلیے بھیج سکتے ہیں،یا ان کی مادی امداد کی جو دوسری صورتیں ہیں،  وہ اختیار کرسکتے ہیں جب کہ ہماری حکومت  نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا؟  مولانا نے اس پر جو موقف اختیار کیا ، اس پر ان کے اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے درمیان  ایک مراسلت بھی ہوئی۔ مولانا کا موقف یہ تھا کہ بین الاقوامی معاملات میں ایک ملک یا ریاست میں رہنے والے مسلمان  اپنی حکومت کے  فیصلوں اور پالیسیوں کے پابندہیں۔ اگر حکومت یہ فیصلہ کرلے کہ  اسے اس معاملے میں کشمیریوں کی مدد کرنی ہے تو  وہ حکومت کا فیصلہ ہوگا اور پھر  عام مسلمان بھی اپنی توفیق اور استطاعت کے مطابق  اس میں حصہ لے سکیں گے۔ لیکن اگر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ  ہم اس جنگ میں شریک نہیں ہیں اور حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات  بھی قائم رکھے ہوئے ہیں تو  اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ملک برسر جنگ نہیں ہیں۔ ایسی کیفیت میں حکومت  طرف سے جنگ کے  اعلان کے بغیر، ہمارے لیے اخلاقی طور پر تو کشمیریوں کی مدد  کرنا درست ہے ، لیکن اگر ہم عملا اس میں شریک ہوں گے  تو یہ معاہدات کی خلاف ورزی کے تحت  آتا ہے اور ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔9
  2. اسی طرح 1979ء میں  جب افغانستان میں روسی افواج کی آمد کا عمل شروع ہوا  تو ابتدا میں یہ واضح نہیں تھا  کہ حکومت پاکستان کا فیصلہ کیا ہے۔ تب بھی یہ سوال مولانا کے سامنے آیا اور مولانا  نے اس موقع پر یہی جواب دیا کہ  ہمارے لیے یہی بہتر ہے  کہ ہم حکومتی پالیسی کا  انتظار کریں۔ اگر حکومت ایک پالیسی طے کرلیں کہ وہ اس جہاد میں  فریق ہے اور افغان کے مسلمانوں کا ساتھ دے رہی ہے تو پھر ہمارے لیے اس میں شریک ہونا درست ہوگا ، لیکن اگر حکومت اپنا علانیہ موقف یہ طے کرے کہ ہم اس جنگ میں شریک اور فریق نہیں ہیں تو پھر ہمارے لیے حکومتی پالیسی کے علی الرغم اور اس کے خلاف کسی جہاد میں شرکت  کرنا  درست نہیں ہوگا۔10

خلاصہ کلام

ان چند نکات سے ہم دیکھ سکتے ہیں  کہ غلبہ دین کی  اور  اسلام کی سیاسی حاکمیت کے قیام کی جدوجہد  کا  جو انداز اور حکمت عملی مولانا مودودی کے ذہن میں ہے ، وہ قطعی طور پر اس بیانیے اور طرزِ جدوجہد سے  مختلف ہے جو کہ عسکریت پسندوں  کی پہچان ہے۔ اسلام کو ایک سیاسی قوت حاصل ہو ، غلبہ حاصل ہو ، شریعت کی حاکمیت قائم ہو ، مسلمان بین الاقومی سطح پر ایک  اجتماعی سیاسی کردار ادا کریں ،  یہ پوری اسلامی تاریخ کا مانا ہوا  مسلمہ ہے۔ اس میں کوئی چیز نئی نہیں ہے۔ یہ بات جو بھی کہتے ہیں، چاہے وہ عسکریت پسندی کے نمائندے ہوں یا سیاسی اسلام کے نمائندے ہوں ، وہ کوئی نئی بات نہیں کر رہے۔ یہ پوری اسلامی روایت کا ایک مانا ہوا تصور ہے۔ اصل چیز جو جدید دور کے تناظر میں فرق قائم کرتی ہے ، وہ یہ ہے کہ ہم  جدید دور میں آنے والی  تبدیلیوں کو،موجودہ بین الاقوامی  نظام کو ، قومی ریاستوں کے تصور کو اور  جمہوریت کے تصور کو  کیسے دیکھتے ہیں۔ آیا ہم ان تصورات کو اپنے نظام فکر میں قابل قبول بناتے ہیں  اور ان کی موافقت کے ساتھ ایک لائحہ عمل بناتے ہیں  یا  ان کو کلیتا رد کر دیتے ہیں، یہاں سے فرق واقع ہوتا ہے۔ مولانا مودودی اور ان سےفکری ہم آہنگی رکھنے والے دوسرے  اہل دانش  بالکل الگ کیمپ میں کھڑے ہیں جو ان تمام تبدیلیوں کو  قبول کرتے ہیں  اور ان کو ایک اخلاقی اور شرعی جواز فراہم کرتے ہیں۔ وہ ان کی پابندی کو ایک بنیادی اصول کے طور پر بیان کرتے ہیں  اور  اس کی خلاف ورزی کے نتائج پر متنبہ کرتے ہیں۔ عسکری تنظیمیں  ان تمام نکات  اور تصورات میں  مولانا کے نقطۂ نظر سے بالکل مختلف بات کہتی ہیں۔ اصل چیز جس سے ہمیں فرق کو سمجھنا چاہیے ، وہ اس حوالے سے ہے کہ جدید دور کی تبدیلیوں کے بارے میں کس کا نقطۂ نظر کیا ہے  اور کوئی گروہ  جو حکمت عملی  یا جدوجہد کا جو لائحہ عمل بناتا ہے، کیا وہ ان تبدیلیوں کو  پیش نظر رکھتا ہے یا ان  کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا کی فکر اور  ان کے بتائے ہوئے راہ نما اصول کسی  بھی لحاظ سے   اور کسی ایک نکتے پر بھی  عسکری بیانیے کی تائید نہیں کرتے بلکہ پوری قوت کے ساتھ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

یہ چند معروضات آپ کے سامنے پیش کی گئیں  جن  میں ایک تاریخی پس منظر   میں  بات کو سمجھنے کی کوشش کی  گئی ہے۔ ہم نے واضح کیا کہ سیاسی اسلام کیا ہے  اور  اس اصطلاح کے وجود میں آنے کا  پس منظر کیا ہے۔   ہم نے دیکھا کہ یہ اصطلاح مغربی تناظر میں  تو قابل فہم ہے  لیکن ہمارے اپنے تاریخی تناظر میں  اس اصطلاح کی ضرورت نہیں   ہے۔ کیونکہ تاریخ میں اسلام کا کوئی تصور  ایسا نہیں رہا جو سیاسی نہ ہو، پوری اسلامی روایت سیاسی  اسلام کے تصور  پر کھڑی ہے۔ سیاسی اسلام ہماری روایت  میں کوئی نئی چیز نہیں ہے۔فرق جہاں سے واقع ہوتا ہے ، وہ یہ سوال ہے کہ جدید دور میں اسلام کی سیاسی حاکمیت کی جدوجہد کو منظم کرنے کی اساسات اور اصول کیا ہوں گے۔ اس سوال کے تعلق سے ہمیں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ملتی  جو مولانا مودودی کی مذہبی فکر  میں اور عسکری  بیانیوں میں مشترک پائی جاتی ہو۔اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں  کہ ان دونوں بیانیوں کا  آپس میں تعلق جوڑنا اور انھیں ایک سمجھنا  ایک سطحی  تجزیہ ہے۔  گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ دو بالکل الگ بیانیے ہیں۔


حواشی

  1. ”مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کا طریق فکر“، مرتب: محمد ریاض درانی، جمعیۃ پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۱، ص ۱۰۸، ۱۰۹، و ص ۱۱۶، ۱۱۷۔
  2. ”تفہیم الاحادیث“، مرتب: وکیل احمد علوی، ادارہ معارف اسلامی، لاہور، ص  ۴۵۴، ۴۵۵۔
  3. ”تصریحات“، مرتب: سلیم منصور خالد، البدر پبلی کیشنز لاہور،  ص۲۵۷، ۲۵۸۔
  4.  ”تصریحات“،ص ۹۲۔
  5. ”تصریحات“،ص ۲۵۷، ۲۵۸۔
  6. سورۃ الانفال کی آیت ۷۲ کی تفسیر میں مولانا لکھتے ہیں: " میثاق ہر اس چیز کو کہیں گے جس کی بنا پر کوئی قوم بطریق معروف یہ اعتماد کرنے میں حق بجانب ہو کہ ہمارے اور اس کے درمیان جنگ نہیں ہے، قطع نظر اس سے کہ ہمارا اس کے ساتھ صریح طور پر عدم محاربہ کا عہد و پیمان ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔  پھر آیت میں بینکم و بینھم میثاق کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں، یعنی ”تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو“۔ اس سے یہ صاف مترشح ہوتا ہے کہ دارالاسلام کی حکومت نے جو معاہدانہ تعلقات کسی غیر مسلم حکومت سے قائم کیے ہوں وہ صرف دو حکومتوں کے تعلقات ہی نہیں ہیں بلکہ دو قوموں کے تعلقات بھی ہیں اور ان کی اخلاق ذمہ داریوں میں مسلمان حکومت کے ساتھ مسلمان قوم اور اس کے افراد بھی شریک ہیں۔ اسلامی شریعت اس بات کو قطعاً جائز نہیں رکھتی کہ مسلم حکومت جو معاملات کسی ملک یا قوم سے طے کرے ان کی اخلاقی ذمہ داریوں سے مسلمان قوم یا اس کے افراد سبک دوش رہیں۔ البتہ حکومت دارالاسلام کے معاہدات کی پابندیاں صرف ان مسلمانوں پر ہی عائد ہوں گی جو اس حکومت کے دائرہ عمل میں رہتے ہوں اس دائرے سے باہر دنیا کے باقی مسلمان کسی طرح بھی ان ذمہ داریوں میں شریک نہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیبیہ میں جو صلح نبی ﷺ نے کفار مکہ سے کی تھی اس کی بنا پر کوئی پابندی حضرت ابوبصیر اور ابوجندل اور ان دوسرے مسلمانوں پر عائد نہیں ہوئی جو دارالاسلام کی رعایا نہ تھے۔"
  7. خلافت وملوکیت، ص ۶۵
  8. تفہیم القرآن ۲/۱۶۱، ۲۶۱
  9. تصریحات، ص ۴۷٠
  10. تصریحات ص ۴۵۷، ۴۵۸

شخصیات

(نومبر ۲۰۲۱ء)

نومبر ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۱۱

Flag Counter