سرسید احمد خان، قائد اعظم اور مسلم اوقاف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

متنازعہ اوقاف قوانین کا نفاذ وفاق اور صوبوں میں بتدریج شروع ہوا اور انتہائی خاموشی کے ساتھ ان قوانین نے پورے ملک کا احاطہ کر لیا، حتٰی کہ نئے اوقاف قوانین کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں مساجد و مدارس کی نئی رجسٹریشن کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، مگر جوں جوں عوامی اور دینی حلقوں میں ان قوانین کی نوعیت اور ان کے اثرات سے آگاہی بڑھتی گئی اضطراب اور بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا اور حکومت کو شدید عوامی احتجاج پر یہ عملدرآمد روکنا پڑا۔ حکومت کی طرف سے ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان‘‘ کی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں ان قوانین میں ترامیم کا وعدہ کیا گیا جس پر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اسپیکر قومی اسمبلی کی فرمائش پر اوقاف ایکٹ کا متبادل مسودہ مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر دیا مگر اس کے بعد سے ’’ڈیڈلاک‘‘ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور متنازعہ قوانین میں ترامیم اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے تجویز کردہ مسودہ قانون کو اسمبلی میں پیش کر کے اسے منظو کرانے کی کوئی عملی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔

ملک کے تمام مکاتب فکر کی دینی قیادتوں نے نئے اوقاف قوانین کے بارے میں متفقہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ شرعی احکام کے خلاف ہیں اور ملکی دستور کے تقاضوں اور مسلمہ شہری و انسانی حقوق سے بھی متصادم ہیں جنہیں اس حالت میں کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ہم اس کے ساتھ ایک بات یہ بھی مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ برطانوی دور حکومت میں مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالہ سے جو حقوق تسلیم کیے گئے تھے اور ان پر عملدرآمد ہوتا رہا ان نئے قوانین کے ذریعے وہ بھی واپس لے لیے گئے ہیں، اور اب مسجد و مدرسہ اور عمومی اوقاف مکمل طور پر بیوروکریسی کے کنٹرول اور اس کے ذریعے IMF اور FATF کی نگرانی میں چلے گئے ہیں جو غیر ملکی غلامی کی ایک نئی شکل ہے جسے قبول کرنا مذہبی آزادی سے محروم ہو جانے کے مترادف ہو گا۔

اس دوران ایک اعلیٰ شخصیت نے راقم الحروف سے اس مسئلہ پر بات کی تو میں نے عرض کیا کہ جو مذہبی حقوق سر سید احمد خان مرحوم اور قائد اعظم مرحوم کی مساعی سے برطانوی حکومت نے ہمیں دیے تھے وہ تو ہمارے پاس رہنے دو، تو انہوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا جبکہ بعض دیگر شخصیات نے بھی اس کی تفصیل معلوم کرنا چاہی ہے۔ تو اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ ۱۷۵۷ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ شہیدؒ کی شہادت کے بعد سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت و عملداری کا دور شروع ہوا تھا جو ۱۸۵۷ء کی عوامی بغاوت تک جاری رہا اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے نتیجے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم ہو کر براہ راست برطانوی حکومت کی عملداری کا آغاز ہو گیا جو ۱۹۴۷ء تک نوے برس چلتی رہی۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے وقت سر سید احمد خان ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم اور اس کی حکومت کا حصہ تھے چنانچہ انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سو سالہ حکومت کے خلاف عوامی بغاوت، جسے ہمارے ہاں جہاد آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس کے اسباب کا جائزہ لیا اور ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع کیا جس کے بارے میں ہماری رائے ہے کہ اسے آج کے حالات کے تناظر میں پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے بلکہ یہ ہماری سول اور عسکری انتظامیہ کے تعلیمی و تربیتی نصاب کا حصہ بننا چاہیے تاکہ رعیت کے جذبات و احساسات تک افسران کی رسائی ہو سکے۔ اس میں سر سید احمد خان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف عوامی جذبات کی شدت کے دو بڑے سبب بیان کیے ہیں۔ (۱) ایک مذہبی معاملات میں مسلسل مداخلت (۲) دوسرا زمینوں کی ملکیت و تقسیم کے سابقہ نظام کی منسوخی اور نئے قوانین کا نفاذ ہے۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے جہاں مذہب، عبادت اور عبادت گاہوں کی آزادی اور خودمختاری کے قوانین نافذ کیے وہاں خاندانی نظام یعنی نکاح و طلاق اور وراثت وغیرہ میں بھی مذہبی احکام پر عمل کا حق تسلیم کیا، جسے مذہبی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس پر سرکار کے حمایتی حلقوں نے برٹش گورنمنٹ کا ہر سطح پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے برطانوی حکومت کا مسلمانوں پر بڑا احسان قرار دیا جو آج تک ہماری تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے خاندانی نظام اور عبادت گاہوں سمیت بہت سے معاملات نئے بین الاقوامی معاملات کی رو سے بتدریج تبدیل ہوتے جا رہے ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ ان نئے قوانین کی تشکیل اور ان کا نفاذ اب بیرونی حکومت کے ٹائٹل کے ساتھ نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے ذریعے سول و عسکری سروسز کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔

اس پس منظر میں برطانوی دور میں وقف قوانین کے حوالہ سے ’’وقف علی الاولاد‘‘ کے شرعی قوانین کے بارے میں جدوجہد کے ایک مرحلہ کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ ’’قائد اعظم کے ابتدائی تیس سال‘‘ کے مصنف رضوان احمد لکھتے ہیں کہ وقف علی الاولاد مسلمانوں کا ایک مسلّمہ قانون تھا لیکن ۱۸۷۳ء میں بمبئی ہائیکورٹ نے اس کے خلاف ایک فیصلہ صادر کیا جس کی ضرب اسلامی قوانین پر پڑی اور مسلمانوں میں شدید اضطراب برپا ہوا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد کا وہ زمانہ مسلمانوں کے لیے جس قدر ہولناک تھا اس سے ہم سب باخبر ہیں، مسلمانوں کے لیے انگریزی حکومت یا انگریزی عدالت کے خلاف آواز بلند کرنا آسان نہیں تھا۔ مسلمانوں کی حیثیت انگریزوں کی نظر میں ایک باغی قوم کی تھی اس لیے مسلمان بہت پھونک پھونک کر قدم رکھتے تھے۔ مگر انگریزوں کی حکومت یا عدالت کی طرف سے کوئی نہ کوئی کارروائی ایسی ہوتی رہتی تھی جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے تھے۔ وہ ایسی کارروائیوں کے مقاصد و عزائم کو بھی خوب سمجھتے تھے لیکن حالات ناسازگار تھے۔ آخر ۱۸۷۸ء اور ۱۸۸۲ء کے دوران سرسید احمد خان نے بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی تقریر کی، پھر جسٹس امیر علی نے خالص علمی و قانونی انداز سے اس پر تنقید کی اور مضامین لکھے مگر سب سنی ان سنی ہوتی رہی۔ ۱۸۹۴ء تک ہندوستان کی مختلف عدالتوں میں وقف علی الاولاد کے مسئلہ پر مختلف فیصلے ہوتے رہے یہاں تک کہ عدالتی فیصلوں کے تضاد کو بنیاد بنا کر اسے پریوی کونسل میں لے جایا گیا جہاں جانے کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بابت قول فیصل صادر کیا جائے۔ چنانچہ پریوی کونسل نے وقف علی الاولاد کے خلاف قول فیصل صادر کر دیا۔ پریوی کونسل کے اس فیصلے کے معنی یہ تھے کہ ہندوستان کی مختلف عدالتوں میں اس مسئلہ پر جو مختلف و متضاد فیصلے صادر ہوتے رہے صرف اس تضاد کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اصل مسئلہ یعنی وقف علی الاولاد کے مسلمہ قانون اسلامی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ یہ گویا ضرب کاری تھی جو مسلمانوں کے قلب و جگر پر لگی، ان کی نظر میں یہ مداخلت فی الدین کا برملا اقدام تھا۔ محڈن ایوسی ایشن کلکتہ نے گورنمنٹ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی، یادداشتیں بھیجیں، درخواستیں گزاریں، مسلمانوں کا نقطہ نظر واضح کیا، سبھی کچھ کیا لیکن انگریزوں کی حکومت کو بہرصورت اپنی فرماں روائی کی زمین ہموار کرنی تھی اور صرف ایک دو صوبے یا علاقے میں نہیں بلکہ سارے برعظیم میں کرنی تھی اور اپنے قوانین ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک رائج کرنے تھے جس کی کوشش وہ ایک مدت سے کر رہے تھے۔

جناب رضوان احمد نے یہ اس مرحلہ کا تذکرہ کیا ہے جب وقف علی الاولاد کے شرعی قوانین پر مسلمانوں کے مطالبات و احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے اس شرعی قانون کا خاتمہ کر دیا گیا۔ جبکہ ’’قائد اعظم اور اسلام‘‘ کے مصنف جناب محمد حنیف شاہد اس سے اگلے مرحلہ کا ذکر کرتے ہیں جس میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے ’’سپریم ایمپریل کونسل‘‘ کا ممبر منتخب ہونے کے بعد ۱۹۱۱ء میں ’’مسلم اوقاف‘‘ کو قانونی حیثیت دلوانے کے لیے کونسل میں ایک بل پیش کیا اور مسلسل محنت کے بعد ۱۹۱۳ء میں اسے کونسل سے منظور کروا لیا۔ قائد اعظمؒ نے یہ مسودہ قانون مولانا شبلی نعمانیؒ کے مشورہ سے مرتب کیا اور اپنی قابلیت و محنت کے ذریعے اسے بالآخر منظور کرا لیا۔ اس بل پر بہت اعتراضات ہوئے جن کے جوابات قائد اعظمؒ نے دلیل و منطق کے ساتھ دیے، ان میں سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

’’اس بل پر ایک اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ یہ عوامی حکمت عملی (public policy) کے خلاف ہے، اس کا جواب بہت آسان ہے، حکومت کا فرض ہے کہ مسلمانوں پر ’’شرع محمدیؐ‘‘ نافذ کرے، عوامی حکمت عملی کا تصور اسلامی فقہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، لہٰذا اس کو خارج از بحث سمجھنا چاہیے۔ جہاں تک اسلامی فقہ کا تعلق ہے کسی ایسی حکمت عملی کا تصور ممکن نہیں جس کے تقاضے اس بل کے مقاصد کے خلاف ہوں۔‘‘

اس پس منظر میں ہم اپنے موجودہ حکمرانوں سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ مسلمانوں پر ’’شرع محمدیؐ‘‘ کے نفاذ کا جو مطالبہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ۱۹۱۱ء کے دوران برطانوی ہندوستان کی سپریم ایمپیریل کونسل میں کیا تھا اور اسے اپنے پیش کردہ بل کی حد تک منوانے میں کامیاب ہوئے تھے، اس شرع محمدیؐ کا نفاذ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمانوں کا بھی حق ہے اور کسی بین الاقوامی ادارے، قانون اور معاہدے کو مسلمانوں کے اس جائز حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(جولائی ۲۰۲۱ء)

تلاش

Flag Counter