مطالعہ جامع ترمذی (۳)
(جامع ترمذی کی مختلف احادیث کے حوالے سے سوالات وجوابات)

ادارہ

مطیع سید: باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (کتاب الدیات، باب ما جاء فی الرجل یقتل ابنہ یقاد منہ ام لا؟، حدیث نمبر ۱۴٠٠) کیا یہ مساوات کے اصول کے خلاف نہیں؟

عمار ناصر: شریعت رشتوں میں تفاوت کی قائل ہے اور اس کی بنیاد پر بہت سے حقوق میں بھی فر ق قائم رکھتی ہے۔ یہ ہم غلط کہہ دیتے ہیں کہ شریعت مطلق  مساوات پر  مبنی ہے ۔ البتہ مالکیہ اس میں  قیاسی طور پر ایک قید شامل کرتے ہیں جو میرے خیال میں قابل غور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ  اصولا تو یہ ٹھیک ہے کہ باپ کے ہاتھ  سے بیٹا مارا گیا  تو اس پر وہ حکم  نہیں جاری کریں گے جو ایک دوسرے آدمی پر کر سکتے ہیں۔لیکن یہ اس وجہ سے ہوگا کہ باپ نے غصے میں، اشتعال کی کیفیت میں اپنا حق  تادیب استعمال کر تے ہوئے ایسی ضرب لگا دی کہ موت واقع ہو گئی۔اس پر یہ کیفیت طاری نہ ہوتی تووہ شاید یہ نہ کرتا ،اس لیے اس میں آپ اس کو رعایت دیں گے ۔لیکن اگر اس نے سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بندی  کرکے بیٹے کو قتل کیا ہو تو پھر صورتحال بدل جاتی ہے، پھر اس سے قصاص لیا جائے گا۔

مطیع سید: مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔(کتاب الدیات،  باب ما جاء لا یقتل مسلم بکافر، حدیث نمبر ۱۴۱۲) اس کے کیا معنی ہیں؟

عمار ناصر: اس کی کافی وضاحت میں نے اپنی کتاب " حدودو تعزیرات " میں کی ہے ۔ یہ بات دراصل آپ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اس تناظر میں فرمائی تھی کہ اسلام سے پہلے کے جو قصاص کے معاملات چل رہے تھے ،اب میں ان کو ختم کر رہا ہوں ۔اس تناظر میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے ۔ گویا جن کے پاس  قصاص لینے کا حق ہے  ، ان کے دل میں آپ آمادگی پیدا کر رہے ہیں کہ وہ زمانہ کفر میں تمہارے آپس کے معاملات تھے ۔ جس کو قتل کیا گیا،  وہ کافر تھا ، اور آج یہ قاتل مسلمان ہو گیا ہے اور اسلام لانے سے ویسے ہی پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو اب اس مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا ئے گا ۔یہ مطلب نہیں کہ ایک بندہ اسلام لانے کے بعد کسی کافر کو قتل کر دے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مفہوم میں  یہ نہیں  کہا،  بلکہ آپ ﷺ نے خود ایسے کئی مقدمات میں قصاص لیا ہے۔ مرفوع روایات بھی مل جاتی ہیں اور خلفائے راشدین  کا عمل  بھی مل جاتا ہے ۔

مطیع سید: احناف بھی  مسلمان سے کافر کا قصاص لینے کے قائل ہیں، لیکن غالبا وہ اس روایت کی اس طرح تشریح نہیں کرتے  جس طرح آپ کر رہے ہیں ۔

عمار ناصر: عام طور پر احناف یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں کافر سے مرا د وہ کافر ہے جس کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی معاہد ہ نہیں ہے، یعنی حربی کافر ۔ تو وہ حربی کافر میں  اور ذمی اور معاہد کافر میں فرق کرتے ہیں۔  البتہ میں نے روایت  کی جو تشریح کی ہے، وہ جصاص نے بھی ذکر کی ہے ۔

مطیع سید: حضرت ماعز اسلمی پر حد زنا جاری ہوئی، ان کو سنگسار کیا گیا، لیکن صحابہ نے جب نبی ﷺ کو بتایا کہ وہ سزا سے بھاگنا چاہ  رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا؟  (کتاب الحدود،  باب ما جاء فی درء  الحد عن المعترف اذا رجع، حدیث نمبر ۱۴۲۸) جب حد جاری کرنے کا فیصلہ ہو گیا تھا تو  پھر تو ان کو نبی ﷺ  بھی کوئی رعایت نہیں دے سکتے تھے۔ تو یہ کس مفہوم میں  فرمایا؟

عمار ناصر: نہیں، یہ بات کہ  حاکم کے پاس مقدمہ آجانے کے بعد  حد کی معافی نہیں ہو سکتی، یہ بات اپنے اطلاق پر نہیں ہے ۔اصلا آپ نے یہ بات چوری کے ایک مقدمے میں فرمائی تھی جب مال مسروقہ کا مالک سزا کا فیصلہ سننے کے بعد چورکو معاف کرنا چاہ رہا تھا۔  زنا کے متعلق  تو اللہ تعالیٰ  ویسے ہی چاہتے ہیں کہ اس کی پردہ پوشی کی جائے۔  آپ ﷺ بھی چاہ رہے تھے کہ ماعز خود کو سزا کے لیے پیش نہ کرے۔  پھر جب آدمی خود سزا پانے کے لیے آگیا ہو تو اس کا معاملہ بھی کچھ مختلف ہو جاتاہے ۔ اسی لیے احناف کا کہنا ہے کہ اگر زنا خود مجرم کے اقرار سے ثابت ہوا ہو  اور وہ بعد میں اپنے اقرار سے  منکر ہو جائے تو اس سے حد ساقط کر دی جائے گی اور امام ترمذی نے بھی اس روایت پر  اسی مضمون کا عنوان قائم کیا ہے۔

مطیع سید: ایک صحابی کو رجم کیا گیا اور آپﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی، لیکن ایک عورت کو رجم کیا گیا تو آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی ۔ (کتاب الحدود،  باب تربص الرجم بالحبلی حتی تضع، حدیث نمبر ۱۴۳۵) اس فرق کی کیا وجہ ہے؟

عمار ناصر: یہ جس کی نہیں پڑھی گئی ،وہ غالبا ماعز کے متعلق ہے ۔ماعز کے متعلق روایتیں بڑی مختلف طرح کی ہیں ۔ ان سے بڑی متضاد شکل سامنے آتی ہے ۔بعض میں آتا ہے، جیسے ابھی اوپر روایت گزری ہے کہ  آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ کیوں نہ دیا اور بعض میں ہے کہ آپ نے اس کے رجم کر دیے جانے کے بعد اس پر بڑے سخت تبصرے کیے اور کہا کہ  ایسا کوئی  شخص میرے پاس لایا گیا تو میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔  اگر ماعز کے جرم کی نوعیت ایسی تھی تو پھر  یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آپ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی ہو، جبکہ  جس خاتون کی نماز جنازہ آپ نے پڑھی، اس کے متعلق فرمایا کہ  اس کی توبہ مدینہ کے ستر افرا د کی مغفرت کے لیے کافی ہے۔

 مطیع سید: ماعز کب کے صحابی ہیں؟ کیایہ شروع کے مہاجرین میں سے ہیں ؟

عمار ناصر: نہیں ، یہ کوئی حضور ﷺ کے حاضر باش صحابہ میں سے نہیں ہیں ۔روایات سے معلوم ہوتا ہے  کہ آپ ﷺ اس واقعے سے پہلے انھیں نہیں جانتے تھے ۔اس موقع پر ہی انھیں آپ کے پاس لایا گیا یا وہ خود آئے اور پھر ان کے ساتھ یہ سارا معاملہ ہوا ۔

مطیع سید: آپﷺ کی ایک لونڈی نے زناکیا  اور اسے کوڑے لگانے کے لیے آپ نے حضرت علی کو مامور کیا۔(کتاب الحدود،  باب ما جاء فی اقامۃ الحد علی الاماء، حدیث نمبر ۱۴۴٠)  یہ کون سی باندی تھی؟ ایک اور واقعہ یہ آتا ہے کہ آپ نے  اپنی باندی ماریہ قبطیہ   کے پاس آنے جانے والے ایک غلام کو قتل کرنے کا حکم حضرت علی کو دیا، لیکن ان کو تحقیق سے پتہ چلا کہ اس آدمی کا تو عضو تناسل ہی کٹا ہوا ہے۔ کیا  یہ وہی واقعہ ہے؟

عمار ناصر: نہیں ،بظاہر تو دو الگ الگ واقعے ہیں اور دونوں کی تفصیلات بھی مختلف ہیں۔ ایک واقعے میں  آپﷺنے حضرت علی کو بھیجا تھا  کہ ایک آدمی کو  جس کے متعلق لوگ باتیں کرتے تھے کہ اس کے آپ کی ام ولد، ماریہ قبطیہ کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ، قتل کر دیں۔غالبا صحیح مسلم میں روایت ہے۔یہ واقعہ جو امام ترمذی نے نقل کیا ہے، اس سے الگ ہے ۔ اس میں  ایک باندی  پر حد جاری کرنے کی بات ہو رہی ہے جس کا جرم ثابت تھا، کیونکہ وہ حاملہ تھی۔

مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورخلافت میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے  جن کو آپ نے زندہ جلا دیا۔ (کتاب الحدود،  باب ما جاء فی المرتد، حدیث نمبر  ۱۴۵۸) یہ کون لوگ تھے اور کیوں مرتد ہوئےتھے؟

عمار ناصر: مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ کی کچھ روایات ذہن میں آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ باقاعدہ مرتد ہونے کا واقعہ نہیں تھا، یعنی ایسا نہیں کہ وہ اعلان  کر کے مرتد ہوئے  تھے۔ہوا یوں تھا کہ کچھ لوگ ایسے ملے  جو بظاہر مسلمان تھے،لیکن خفیہ طور پر انھوں نے اپنے گھروں میں بت رکھے ہوئے ہیں  جن کی پوجا کرتے تھے۔ شاید بعض روایات میں ہے کہ وہ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ تو حضرت علی نے انہیں مرتد شمار کرکے کہ یہ بظاہر اسلام کا اعلان کرتے ہیں اور اندرون خانہ  انہوں نے پرانے کام جاری رکھے ہوئے ہیں، انھیں زندہ جلا دیا جس پر عبد اللہ بن عباس نے انھیں  بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں جلا  کر کسی کو سزا دینے سے منع فرمایا ہے۔

مطیع سید: مجوسی کے کتے کا شکار منع ہے  ۔(کتاب الصید،  باب ما جاء فی صید کلب المجوس، حدیث نمبر ۱۴۶۶)  کتا تو بس شکار کا ایک آلہ ہے، جیسے بندوق ہوتی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کسی مجوسی کا ہے یا مسلمان کا؟

عمار ناصر: نہیں، مجوسی کے کتے کی مدد سے کیا گیا شکار منع نہیں ہے، اگر  شکار کسی مسلمان نے یا کسی یہودی یا مسیحی نے کیا ہو۔  مجوسی نے اپنے کتے کی مدد سے خود جو شکار کیا ہو، وہ منع ہے ، کیونکہ اس کا حکم اس کے ذبیحے کا ہے اور مجوسی کا ذبیحہ کھانا ہمارے لیے ممنوع ہے۔ اسی لیے  اس کا اپنے کتے سے کیا ہوا شکار کھانا بھی ہمارے لیے منع ہے ۔

مطیع سید: عقیقہ میں جو لڑکے لڑکی میں فرق رکھا گیا ہے  کہ لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک  ذبح کیا جائے، (کتاب الاضاحی، باب ما جاء فی العقیقۃ، حدیث نمبر ۱۵۱۳) یہ کیوں ہے؟ عقیقہ تو بچے پر آنے والی بلاؤں  سے بچا ؤ کے لیے   ایک صدقہ ہے۔اس لحاظ سے لڑکے لڑکی میں فر ق نہیں ہو نا چاہیے۔

عمار ناصر: قیاس کے لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ فرق نہیں ہونا چاہیے، لیکن حدیثوں میں ایسے ہی آیا ہے۔اگر اس کو ایک شرعی یعنی تعبدی حکم  مانا جائے جیسا کہ فقہاء عموما مانتے ہیں تو  شریعت میں جن مسائل میں  مرد اور عورت میں اس نوعیت کا فرق کیا گیا ہے، وہ اس کی نظیر بن سکتے ہیں، جیسے وراثت  کے حصوں میں فرق ہے۔   اور اگر اس زاویے سے دیکھا جائے کہ عقیقہ  اہل عرب کی مخصوص  معاشرتی رسم تھی  جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی برقرار رکھا تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کا فرق بھی  اسی رواج کا حصہ تھا۔  اس پہلو سے اس کی نظیر عورت کی دیت کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اہل عرب عورت کی دیت مرد سے آدھی  دلواتے تھے اور صحابہ کے آثار  میں  اسی کے مطابق فیصلے ملتے ہیں۔

مطیع سید: فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب قیامت تک اس پر چڑھائی نہیں کی جائے گی۔ (کتاب السیر، باب ما جاء ما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم فتح مکۃ، حدیث نمبر ۱۶۱۱) لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر نے مکہ میں اپنی حکومت کا اعلان کیا تو اس  دور میں ان کےخلاف بیت اللہ پر چڑھائی بھی  کی گئی ۔

عمار ناصر: اس پیشین گوئی کا تناظر اور ہے ۔وہ اصل میں مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کے بار ے میں نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ  ہم نے آج جس طرح  مکہ پر حملہ کر کے بیت اللہ  کو اپنے تصرف میں لے لیا ہے ،اب اس پر اہل کفر آکر اس طرح  چڑھائی نہیں کریں گے ۔ ایسا اب اسی وقت ہوگا جب قیامت کا وقت بالکل قریب آ جائے  گا ۔

مطیع سید: آپ ﷺنے ایک موقع پر فرمایا کہ میں ایک حبشی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ کعبے پر چڑھا ہو اہے ۔

عمار ناصر: وہ بھی اصل میں آخری دور میں  ہو گا۔ گویا جو چیزیں قیامت کے آنے کو طے کر دیں گی،ان میں اس طرح کے واقعات ہوں گے کہ کعبہ بھی گر گیا اور لاالہ کہنے والے بھی ختم ہوجائیں گے، یعنی اس حد تک دنیا میں فسا د عام ہو چکا ہو گا ۔

مطیع سید:  جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے  تو کیا ضرورت تھی جا کر کفار کو  چھیڑنے کی  جس کے نتیجے میں جنگ بدر ہو گئی؟ کافر تو اب مسلمانوں کو تنگ نہیں کر رہے تھے۔  

عمار ناصر: رسول  اللہ ﷺ کو بیت اللہ  کا ایک ہدف دے دیا گیا تھا کہ یہ حاصل کرنا ہے۔ ظاہر ہے اس کی ابتدا دفاع سے ہی ہونی تھی ، بلکہ ابتدا تو لڑنے کی ممانعت سے ہوئی تھی  کہ ابھی نہیں لڑنا۔پھر جہاد کا مرحلہ آیا۔ مدینہ تو  آپ اسی لیے گئے تھے  کہ اب جہاد کرنا ہے۔مدینہ  کوئی پناہ لینے تھوڑی گئے تھے۔یہاں آ کر آپ ﷺ نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ  پہلے اہل مکہ  کو اپنی قوت آزمانے کا موقع دیا جائے، اس لیے کہ آپ حرم میں جا کر لڑنے سے گریز کرنا چاہتے  تھے ۔آپ نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ پہلے ان کو میدان میں نکالو تاکہ ایک دو معرکوں میں ان کا  جو دم خم ہے، وہ نکال دیا جائے۔آخرِکار کرنا تو یہی تھا کہ مکہ فتح کرنا ہے۔چنانچہ  خندق کے بعد آپ ﷺ نے کہہ دیا کہ ان کی طاقت ختم ہوگئی ہے، اب ہماری باری ہے  کہ ہم ان کی طرف بڑھیں گے۔

مطیع سید: تو آج اقدامی جہاد یا دفاعی جہاد کی بحث پھر کس حوالے سے چھڑی ہوئی ہے ؟

عمار ناصر:  یہ اقدامی اور دفاعی کی بحث آج کے دور میں ہی اٹھائی گئی ہے ۔ انیسویں صدی سے پہلے یہ بحث نہیں تھی۔  مستشرقین نے یہ بات الزام کے انداز میں کہی کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے  تو سر سید وغیرہ نے جواب دینا شروع کر دیا کہ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تو صرف دفاع کے لیے لڑتے تھے ۔ پھر ایک بحث چل نکلی جو بالکل بے معنی ہے ۔

مطیع سید: آج کی دنیا میں تو ہر ملک کی باؤنڈریز طے ہوگئی ہیں۔ اب تو کوئی ملک نہیں کہہ سکتا کہ  ہم نے ایک ٹارگٹ حاصل کرنا ہے اور ہم پوری دنیا پر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

عمار ناصر: بہت سے لوگ  موجود ہیں  جو ایسا سمجھتے ہیں ۔

مطیع سید: کیا یہ سوچ درست ہے ؟

عمار ناصر: دیکھیں جو میں نے کتاب "جہاد:ایک مطالعہ " لکھی ہے، اس میں یہی نکتہ واضح کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں اور صحابہ کے ہاں جہاد کی کیا نوعیت تھی ۔پھر اس کے بعدحالات میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں ۔میرے خیال میں کچھ چیزیں ہیں جن پر  ہم اصرار نہیں کر سکتے ۔دیکھیں ، کچھ چیزیں فقہا نے مان لیں  کہ مشرکین کے لیے جو احکام تھے کہ ایمان لاؤ ورنہ  گردن مار دی جائے گی، یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص تھا ۔ جزیہ لینا اور ان کو محکوم بنا کر رکھنا ،اس کو  بھی ہماری فقہی روایت میں ایک تدریج سے سیاسہ کی نوعیت کا اقدام مان لیا گیا ہے۔  فقہی کتابوں میں احکام تو بیان کیے جاتے ہیں، لیکن یہ احساس بھی رہا ہے جسے اب علی العموم  قبول کرلیا گیا ہے کہ ان سے جزیہ لے کر اور تحقیر کے ساتھ مسلمانوں کا محکوم بنا کر رکھنا ، یہ لازمی طور پر مطلوب نہیں ہے۔

اس کے بعد یہ سوال کہ کیا آ پ مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت باقی قوموں پر  قائم کرنے کے لیے جہاد کر سکتے ہیں یا  نہیں تو میرے خیال میں اصل مطلوب اسلام کو   قوت کے ساتھ دنیا میں سربلند رکھنا اور مسلمانوں کو  کفار کی چیرہ دستی سے محفوظ رکھنا ہے۔  اس کی عملی شکل  کیا ہوگی،  اس کا بڑا گہرا تعلق  تاریخی حالات سے ہے ۔اس وقت جس صورتحال میں ہم کھڑے ہیں، اس میں دنیا میں بین الاقوامی معاہدات ہو چکے ہیں  اور قومی سرحدوں  کے تحفظ پر انسانیت کا ایک عمومی اتفاق ہو چکا ہے۔ اس میں آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ  سلطنت  اور بادشاہت  کے دور جیسی سیاسی حاکمیت  دوسری قوموں پر قائم کر دیں۔ اس وقت اگر امن قائم رکھنا مقصودہے تو اسی میں بہتری  ہے۔مسلمانوں کا اپنا تحفظ بھی اسی میں ہے کہ یہ اصول مانا جاتا ہے ۔ اگر آپ یہ کہیں کہ یہ کوئی اصول نہیں ہے ،ہم دوبارہ ڈیڑھ دو سو سال پیچھے چلے جاتے ہیں  جب  Might is right(جس کی لاٹھی اس کی بھینس)کااصول  مانا جاتا تھا تو نتیجے میں  مسلمانوں کا ہی  نقصان ہوگا۔البتہ  اگر حالات جوہری طور پر بدل جائیں  توپھر دیکھا جا سکتا ہے  کہ ان بدلے ہوئے حالات میں اسلام اور   مسلمانوں کی سربلندی کی عملی صورت کیا بنتی ہے۔

مطیع سید: حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے خاص طور پر اہل بیت کو تین باتوں کی تاکید فرمائی۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ گھوڑی کے ساتھ گدھے کی جفتی  نہ  کروائیں۔(کتاب الجہاد، باب ما جاء فی کراہیۃ ان تنزی الحمر علی الخیل، حدیث نمبر ۱۷٠۱) یہ ایسی کیا چیز ہے جو اہلِ بیت کے ساتھ خاص ہے ؟

عمار ناصر: ایک خاص پہلو ہے۔ دیکھیں، رسول اللہ ﷺ اپنے لیے اور اپنے خاص قریبی لوگوں کے لیے کچھ چیزوں کو  جو مروء ۃ یا  اعلی اخلاقی طرزِعمل  کے خلاف ہوں، پسندنہیں فرماتے تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ علی العموم اس سے لوگوں کو منع بھی نہیں کرنا چاہتے  تھے۔ یہ اسی نوعیت کی ایک بات ہے۔

مطیع سید: اپنے ساتھی کی اجازت کے بغیر  آدمی دو کھجوروں کو ملاکر نہ کھائے۔ (کتاب الاطعمۃ،  باب ما جاء فی کراہیۃ القران  بین التمرتین، حدیث نمبر  ۱۸۱۴) اس سے کیا مراد ہے؟ کیا دو مختلف قسم کی کھجوریں پڑی ہیں یا ایک آدمی زیادہ کھا رہا ہے ؟

عمار ناصر:ایک آدمی مشترک کھانے میں سے زیادہ کھا رہا ہے ۔ لوگ جب اکٹھے بیٹھے ہوئے ہیں اور کھانا بھی نپا تلا ہے  تو ایک آدمی ایک کھجور کھا رہا ہے اور آپ دو دو اٹھا کر  کھارہے ہیں تو دوسرا محسوس کرے گا کہ یہ آپ اس کی حق تلفی کر رہے ہیں۔

مطیع سید: یہ جلالہ کون سا جانورہے  جس کا گوشت  کھانے اور دودھ پینے سے منع کیا گیا ہے؟ (کتاب الاطعمۃ،  باب ما جاء فی اکل لحوم الجلالۃ  والبانہا،  حدیث نمبر ۱۸۲۴)

عمار ناصر: جلّالہ کا مطلب ہے گندگی کھانے والا ۔ایسا جانور جس کے چارےوغیرہ کا آپ بندوبست  نہیں کرتے  اور وہ باہر گھوم پھر کر گلیوں میں گندگی کھاتا ہے ۔اس کا گوشت کھانے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا۔

مطیع سید: حضرت سفیا ن ثوری کے بارے میں آتاہے کہ وہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کو مکروہ جانتے  تھے۔ (کتاب الاطعمۃ،  باب فی ترک الوضوء قبل الطعام، حدیث نمبر ۱۸۴۷)  ہمارے ہاں تو  کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی بڑی تاکید کی جاتی ہے ۔

عمار ناصر: حدیثوں میں کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے سے متعلق  کوئی بات نہیں آئی ۔مجھے نہیں معلوم کہ ایسی کوئی تاکید آئی ہو۔ البتہ نظافت وغیرہ کے پہلو سے  دھو لینے چاہییں۔

مطیع سید: ہو سکتا ہے کہ حضرت سفیا ن کے سامنے یہ بات آئی ہو کہ لوگ اس کی بڑی تاکید کررہے ہیں اور اہتما م کرتے ہیں ،اس لیے انہوں نے یہ رد عمل دیا ہو۔

عمار ناصر: یہ کامن سینس  کی بات ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ صاف ہیں تو کھا لیں، لیکن اگر کوئی مٹی یا گندگی لگی ہوئی ہے تو آپ کو دھو لینے  چاہییں۔

مطیع سید: رات کا کھانا کھاؤ چاہے مٹھی بھر جو  ہو، ورنہ جلدی بوڑھے  ہو  جاو گے۔ (کتاب الاطعمۃ،  باب ما جاء فی فضل العشاء، حدیث نمبر  ۱۸۵۶) امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے اور  اس کے راوی ضعیف ہیں۔

عمار ناصر: جی، سند کا حال تو امام ترمذی نے بتا دیا۔  البتہ مفہوم کے لحاظ سے  اطباء بھی یہ کہتے ہیں کہ آدمی کو بالکل بھوکا نہیں سونا چاہیے، کچھ نہ کچھ کھا کر سونا چاہیے۔               

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(جولائی ۲۰۲۱ء)

Flag Counter