اقلیتوں کا بلاتحدید حق تبلیغ مذہب

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

حالیہ چند ہفتوں میں تعلیمی نصاب پر سپریم کورٹ اور یک رکنی سڈل کمیشن کی آراءاخبارات میں بڑی کثرت سے شا یع ہو چکی ہیں اس لیے تفصیلات کو نظرانداز کیا جاتا ہےکہ قارئین ان سے بخوبی باخبر ہیں۔جسٹس تصدق حسین جیلانی اپنے مذکورہ فیصلے میں اقلیتوں کی وکالت میں اتنا آگے نکل گئے کہ انھوں نے پاکستان کی بنیاد اسلام کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ فرماتے ہیں: ’’تبلیغ کا حق صرف مسلمانوں تک محدود نہیں کہ وہی اپنے مذہب کی تبلیغ کریں بلکہ یہ حق دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مذہب کے لوگوں کو اس کی تبلیغ کریں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی تبلیغ کریں‘‘۔ اپنے اس فیصلے کی تائید میں وہ اقوام متحدہ کی ۱۹۶۶ء کی ایک قرارداد لائے : " ہرکسی کو فکر، ادراک اور مذہب کی آزادی حاصل ہے۔ اسے اپنے مذہب یا عقیدے کی پیروی کرنے، مشاہدے، عمل اور فروغ دینے اور اس کی تعلیمات عام کرنے کی آزادی ہے‘‘۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سے زیادہ بہتر اور کون جانتا ہے کہ بین الاقوامی اداروں کی قراردادوں کی پیروی کسی ملک کی عدالتوں پرہرگز لازم نہیں ہوتی۔ ملکی انتظامیہ اور پارلیمان بھی ایک حد تک ہی ان کا خیال رکھتے ہیں۔ عدالتیں تو اپنے آئین اور قانون کی تعبیروتشریح اور ان پر عمل کی اسیر ہوا کرتی ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا دستور اس بارے میں کیا کہتا ہے:

Subject to Law, public order and morality every citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion (Article 20)

قانون ، امن عامہ اور اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہرشہری کو اپنے مذہب پر کاربند رہنے، عمل کرنے اور تبلیغ کا حق حاصل ہے۔

دستور سازوں نے ملکی روایات، آبادی کے تناسب اور مجموعی معاشرت کے پیش نظر تبلیغ مذہب کا یہ ایک خوبصورت گلدستہ دستور کے اندر جڑ دیا جس کا خیال محترم مذہبی اقلیتیں بخوبی رکھتی ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ۷۰ء کی دہائی تک مسیحی مشنوں کے تبلیغ مسیحیت بذریعہ خط و کتابت کے اشتہار اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔ مسیحی مبلغین کی یہ مشق تقسیم ہند کے بعد کے مجموعی ماحول کے اندر رہ کر تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد آزاد فضا میں پیدا ہونے والی مسلمان نسل کے خاموش پیغام بسلسلہ تبلیغ مذہب کا ادراک کرکے  مسیحی مشنوں نے یہ سلسلہ ختم کردیا۔لیکن قادیانی اقلیت اس تبدیلی کا ادراک نہ کرسکی۔ ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ قادیانیوں کے شہر ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو قادیانی افراد نے اپنے مبلغین کی تحریریں ان طلبہ میں تقسیم کرنا شروع کر دیں۔ طلبہ مشتعل ہوگئے، مارپیٹ ہوئی اور طلبہ آگے روانہ ہوگئے۔ واپسی پر قادیانیوں نے ’مذہبی تبلیغ‘ کے اسی تسلسل میں باقاعدہ ٹرین روک کر تمام طلبہ کو خوب مارا پیٹا۔ ردعمل میں مسلمانوں نے وہ بھرپور تحریک چلائی کہ آئینی ترمیم کے ذریعے نہ صرف قادیانی غیرمسلم قرار پائے بلکہ تبلیغ مذہب کی حدود بھی واضح ہوگئیں۔

تبلیغ مذہب، ملکی حالات اور باقی دُنیا

جسٹس جیلانی کے اس فیصلے نے جہاں ایک طرف تعلیمی نظام کی چُولیں ہلا کررکھ دی ہیں وہیں اسی فیصلے کے ذریعے انھوں نے اقلیتوں کو وہ حق دیا ہے جس کی نفی پاکستان کا آئین کرتا ہے۔ اسلام ریاست کا سرکاری مذہب ہے۔ یہ مذہب پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے۔ ہمارے علم میں دنیا کا کوئی ایک ملک نہیں ہے جو اپنی بنیاد کے خلاف تبلیغ کی اجازت دیتا ہو۔ امریکی دستور اور نظامِ حیات کا خلاصہ مطلق انسانی آزادی کی شکل میں ہے۔ اس انسانی آزادی کی حدود کیا ہیں؟ یہ بات کس کے علم میں نہیں۔ اس آزادی کی تعمیل میں امریکی معاشرت، اقدار اور خاندانی نظام کا شیرازہ بکھرنے کے قریب جاپہنچا ہےلیکن امریکی ذرائع ابلاغ میں آزادی کو محدود کرنے پر ایک سطر شائع کرنا ممکن نہیں ہے۔

اسرائیل تو اس بارے میں بے حد حساس ہے کہ اپنی بنیادوں میں سے ایک بنیاد_ یہودیوں کی مبینہ اجتماعی نسل کشی (Holocaust)_ کے اعداد و شمار کے تحقیقی انکار کی تبلیغ پر اسرائیل نے دُنیا کے ڈیڑھ درجن ممالک میں یہ قانون سازی کرا رکھی ہے کہ یہودیوں کے شائع کردہ ’مقدس‘ اعداد و شمار کے خلاف قلم کاری یا حرف زنی فوجداری جرم ہوگا۔ ۱۹۸۷ء تا ۲۰۱۵ء کے عرصے میں درجنوں پروفیسروں، سیاست دانوں اور محققین کو محض اس" جرم" میں قید اور جرمانے بھگتنے پڑے کہ ان کی تحقیق یہودیوں کے من گھڑت اعداد و شمار کا پول کھول رہی تھی۔

ملکی حالات کی طرف آئیں۔ ہر روز درجنوں فوجداری جرائم ہوتے ہیں۔ کہیں خبر کا عنصر ہو تو ذرائع ابلاغ میں ان جرائم کو معمولی جگہ مل جاتی ہے۔ لیکن جونہی کبھی کسی مسیحی، ہندو یا بالخصوص قادیانی کو کوئی مسلمان نشانہ بنائے تو بھلے وجہ نزاع مذہب کی بجائے لین دین یا زمین کے جھگڑے پر مبنی ہو، دُنیا بھر کے ذرائع ابلاغ وہ غل مچاتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ سال بھر کے ایسے ہی اعداد و شمار جمع کرکے بین الاقوامی ادارے پاکستان کی مسخ شدہ تصویر دُنیا کے سامنے رکھتے ہیں۔ حکومت اور پارلیمان کو جگہ جگہ جواب دہی کرنا پڑتی ہے۔ بعض حالات میں ہمیں اقتصادی پابندیوں کا سامنا تک کرنا پڑتا ہے۔ یورپی یونین کی حالیہ قرارداد اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی کے زیرنظر فیصلے نے تمام اقلیتوں کو ان کے اپنے ہم مذہب افراد کے ساتھ ساتھ مسلمان آبادی میں بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کا حق دےدیا ہے۔ تصور کیجیے کہ کسی یونی ورسٹی میں کسی این جی اوز کے تعاون سے قادیانی اپنے نبی یا اس کے کسی خلیفہ کی برسی، سالگرہ، یا کوئی اور دن منائیں تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔ ذرا تصور کریں کہ قادیانی معصوم مسلمان طلبہ و طالبات کو اپنے گھریا مرکز میں افطاری پر بلا کر اپنے گھاگ اور منجھے ہوئے مبلغین کے حوالے کر دیں۔ وہ لوگ ان معصوم افراد سے روابط بڑھا کر جسٹس جیلانی کا عطا کردہ یہ عدالتی حق استعمال کر انھیں اپنے مذہب کا اسیر بنا لیں تو جسٹس جیلانی کا یہ عدالتی حق ۹۶ فی صد مسلم آبادی کے سمندر میں مقیم تین چار فی صد اقلیتوں کیحفاظت کب تک کرے گا؟ کیا مسلمان افراد قادیانیوں کو یہ حق تبلیغ دینے پر راضی ہوں گے۔یہ فیصلہ ملک میں افراتفری ہی کا سبب بنے گا۔

یہی وجہ ہے کہ دستور سازوں نے ہرشہری کو تبلیغ مذہب کا جو آئینی حق دیا ہے اس میں تین عناصر ملتے ہیں: اوّلاً یہ حق قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور قانون سازی کا اختیار ہمارے پارلیمان کو ہے، نہ کہ اقوام متحدہ کو جس کی قراردادوں کے سہارے جسٹس جیلانی نے ہرشہری کو بلاتحدید تبلیغ مذہب کی اجازت دینے کی کوشش کی ہے۔ ثانیاً تبلیغ مذہب کا یہ آئینی حق امن عامہ سے بھی مشروط ہے۔ جسٹس جیلانی کے اس فیصلے کو لےکر قادیانی اور دیگر مذہبی اقلیتوں نے گھرگھر اپنی تبلیغی کتب تقسیم کرنا شروع کیاتو کیا ملک میں مزیدکسی شدت پسندی کی ضرورت رہے گی؟ قانون ساز بےحد حساس ہوتے ہیں۔ قانون معاہدہ شراکت داری ۱۹۳۲ء کے تحت کسی فرم کا ایسا نام جو متعلقہ صوبائی حکومت کی نظر میں ناپسندیدہ ہو تو وہ فرم سے نام تبدیل کرنے کو کہہ سکتی ہے، مثلاً مسلکی کشیدگی کے ماحول میں کوئی شخص اپنے کاروبار کا نام سپاہ صحابہ انٹرپرائزز یا جانثارانِ اہلِ بیت کارپوریشن رکھے تو صوبائی حکومت امن عامہ کے نقطۂ نظر سے اس کی اجازت نہیں دے گی۔

لیکن جسٹس جیلانی امتناع قادیانیت آرڈی ننس کے ملکی قانون کو نظرانداز کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے سہارے قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کا حق بھی دے گزرے۔ کہاں تو یہ ملکی قانون کہ قادیانی، مسلمانوں کی اذان نہیں دے سکتے۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے اور کہاں جسٹس جیلانی کا یہ فیصلہ کہ تمام شہریوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی دوقراردادیں یہ حق دیتی ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہمارا پارلیمان اعلیٰ عدالتوں کے منصفین کی شرائط تقرری پر نظرثانی کرے گا۔

ثالثاً تبلیغ مذہب کا آئینی حق اخلاقیات سے بھی مشروط ہے۔ آئینی تقاضوں میں سے اخلاقی قدروں کی پاسداری بھی ایک اہم شرط ہے۔

جسٹس جیلانی فیصلے کا حالیہ خطرناک موڑ

۲۰۱۴ء میں جسٹس جیلانی نے اقلیتوں کے رضاکار وکیل کے طور پر جو یک طرفہ فیصلہ سنایا تھا، اس میں منجملہ دیگر باتوں کے تعلیمی اُمور سے متعلق حکم تھا کہ اقلیتی آبادیوں سے متعلق نفرت انگیز مواد کو نصابی کتب سے نکالا جائے۔ یہ حکم غیرمتعلق ہی سہی لیکن اصولی طور پر قابلِ عمل تھا اور کسی کو اس امر میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔ تحریک پاکستان کے تسلسل میں جب نصابی کتب کے اندر ہندوئوں اور سکھوں کے بارے میں ناروا جملے پڑھنے کو ملیں تو سچ بات تو یہ ہے کہ جملوں کے عموم میں پاکستان کے اندر بسنے والے وہ معصوم ہندو سکھ بھی آجاتے ہیں، جو نہ تو سردار ولبھ بھائی پٹیل کے حامی ہیں اور نہ ماسٹر تارا سنگھ کے پیروکار ۔ یہ تو وہ مقامی پاکستانی ہیں جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد یہیں رہنا پسند کیا۔ یہ شہری حقوق کے اعتبار سے اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے دیگر مسلم غیرمسلم وغیرہ۔ لہٰذا نصابی کتب میں ان لوگوں کے بارے میں ناروا جملے مطلقاً غلط تھے۔

پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی حکومتیں گزشتہ دس سال سے یکساں تعلیمی نصاب کے لیے مسلسل کوشش کرتی رہیں۔ یہ کام ایک دن میں قابلِ عمل نہیں ہوتا۔ بالآخر چاروں صوبائی حکومتیں اور وفاق یکساں تعلیمی نصاب پر متفق ہوگئے۔ ماہرین تعلیم نے دس برسوں میں یہ نصاب اس باریک بینی سے مرتب کیا کہ الحمدللہ یہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام دیگر مذہبی اقلیتوں کو بھی قبول ہے۔ اسلامیات لازمی کی کتاب اگر مسلمان بچوں کے لیے ہے تو مسیحی، ہندو، سکھ، بُدھ، بچوں کے لیے ان کی اپنی نصابی کتب تیار ہوئیں۔ صرف چترال میں آباد کیلاش قبیلے کے لیے ان کی اپنی مذہببی تعلیمات کی روشنی میں کتب تیار ہوئیں۔ قومی سطح پر قائم سرکاری پاکستان اقلیتی کمیشن کے چیئرمین جناب چیلارام نے متفقہ تعلیمی نظام کو مستحسن قدم قرار دیا اور یک رکنی سڈل کمیشن کی تیار کردہ سفارشات کو واضح الفاظ میں مسترد کر دیا۔

یکساں نصاب کی تیاری کے کام میں جسٹس جیلانی فیصلے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ ملک بھر کے ماہرین تعلیم کی محنت اور مسلسل بحث و تمحیص کا ثمرہ یوں سامنے آیا کہ نیا متفقہ نصاب ہرکسی کو قبول تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جسٹس جیلانی فیصلے کی روشنی میں یک رکنی سڈل کمیشن اس نصاب کا جائزہ لے کر سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرادیتا کہ آپ کے احکام پر عمل درآمد کرتے ہوئے نصابی کتب سے نفرت انگیز مواد نکال دیا گیا ہے۔ یہی قانونی طریق کار ہے۔ یہی آئینی و قانونی تقاضا ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ موجودہ چیف جسٹس محترم جناب گلزار احمد کے سامنے سڈل کمیشن نے ہندوئوں اور مسیحی افراد کی مدد سے مرتب رپورٹ پیش کرتے وقت نصابی کتب سے نفرت انگیز مواد نکالنے کی رپورٹ دینے کی بجائے چند نئے سوال اُٹھا دیئے جو ۲۰۱۴ء کے جسٹس جیلانی فیصلے سے بالکل غیرمتعلق تھے۔ ایسے موقع پر عدالتیں غیرمتعلق نکات، اعتراضات، مطالبات، اور دعاوی وغیرہ پر یہی رائے دیتی آئی ہیں کہ اس کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کیا جائے۔

ان مذکورہ لوگوں نے اب سپریم کورٹ کے سامنے یہ دعویٰ رکھا کہ اسلام، اسلامیات نامی مضمون میں صرف مسلمان بچوں کو پڑھایا جائے (نئے نصاب میں ایسے ہی ہے)۔اسلام کی باقی ہرشکل، تاریخ، مطالعہ پاکستان، اُردو انگریزی وغیرہ سے مکمل طور پر نکال دی جائے کیونکہ غیرمسلم بچوں کو اللہ، رسول،حمد، نعت، سیرتِ طیبہ، خلفائے راشدین، تاریخِ اسلام جیسے موضوعات پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ دستور کا آرٹیکل ۲۲ یہی کہتا ہے۔ یہ نکتہ یا مطالبہ ۲۰۱۴ء کے جسٹس جیلانی فیصلے سے مطلقاً غیرمتعلق تھا۔ اس کے لیے الگ سے پٹیشن درکار تھی۔ لیکن فاضل چیف جسٹس گلزار  نے اس قانونی نکتے کو معلوم نہیں کیونکر نظراندازکرکے شعیب سڈل صاحب اور ان کے دیگر ہندو، مسیحی ساتھیوں کے مطالبے پر وزارتِ تعلیم افسران کو طلب کیا۔

محترم چیف جسٹس سے بہتر کون جانتا ہے کہ اگر کوئی شخص دعویٰ دائر کرے کہ فلاں شخص میری رقم واپس نہیں کر رہا تومدعا علیہ سے پوچھا جائے گا۔ مدعا علیہ کہے کہ میں نے واقعی مدعی کے دس لاکھ روپے دینے ہیں لیکن خود مدعی بھی میرےچھ لاکھ کا مقروض ہے۔یہ چھ لاکھ منہا کیے جائیں، میں باقی چار لاکھ ادا کر دیتا ہوں۔عدالت مدعا علیہ کے اقرار کو تسلیم کرتے ہوئے پورے دس لاکھ روپے ادا کرنے کا اسے حکم دے گی۔ رہے مدعا علیہ کے اپنے چھ لاکھ تو ان کے لیے عدالت اسے ہدایت کرے گی کہ اپنی اس رقم کے لیے تم الگ سے دعویٰ دائر کرو۔ یہ اصول دُنیا بھرکی اعلیٰ عدالتوں ہی میں نہیں زیریں ترین سول جج کی عدالت میں بھی خوب تسلیم شدہ ہے۔ ہمارے لیے تعجب کے اظہار کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ محترم چیف جسٹس گلزار احمد صاحب ایک غیرمتعلق مطالبے یا نکتے پر سائل کو نیا دعویٰ کرنے کی ہدایت کرنے کے بجائے جسٹس جیلانی ہی کی طرح سڈل صاحب اور ان کے ہندو اور مسیحی ہم نوائوں کے حق میں کھل کر وکیل کی طرح دلائل دینا شروع کر دیئےَ۔

 جسٹس جیلانی کے جس یک طرفہ فیصلے پر چاروں صوبے عمل کرچکے ہیں۔ اس پر یک رکنی سڈل کمیشن نے اطمینان کا سانس لینے کے بجائے نصابی کتب میں سے اسلام نکالنے کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس مطالبے کا عکس ان کی رپورٹ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ محترم چیف جسٹس صاحب نے وفاقی وزارتِ تعلیم کے افسران طلب کیے تو دیکھا گیا کہ ہندو، مسیحی اور این جی اوز کےلوگ سڈل صاحب کی قیادت میں سپریم کورٹ میں فاتحین کی طرح کھڑے ہیں اور چیف جسٹس صاحب ان ریاستی حکام کی سرزنش کر رہے ہیں جنھوں نے پوری قوم کے اتفاق رائے سے نصابی کتب تیار کرائی تھیں۔ ایسا اتفاق رائے جس میں کم و بیش تمام اقلیتی آبادیاں شامل تھیں۔

جس کا کام اسی کو ساجھے

 اگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس آپریشن کرنا پڑے تو ٹیم کی قیادت ڈی آئی جی کا ہم منصب کسی یونی ورسٹی کا ایسوسی ایٹ پروفیسر کر رہا ہوتوکیا ذرائع ابلاغ کے لیے یہ ایک اَنہونی خبر نہیں ہوگی۔ خبر توخیر تب ہوگی جب وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر یہ نازیبا ذمہ داری قبول کرے۔ وطن عزیز میں تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جسے بہتر بنانے پرکسی کی کوئی توجہ نہیںلیکن نازک، پیچیدہ اور حساس تعلیمی اُمور میں مداخلت  ہر فرد کرتا ہے۔ ایک پولیس افسر کو موقع ملا تو نہ صرف اس نے ڈٹ رائے دی بلکہ اپنی یہ راے حرفِ آخر سمجھ کر نافذ بھی کرانا چاہی۔مسئلہ ابھی سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا کہ شعیب سڈل نے پھرتیلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو اس حکم کے ساتھ رپورٹ بھیجی کہ تمام نصابی کتب سے اسلام نکال دیا جائے۔ اگر حساس تعلیمی اُمور پر جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے والا پولیس افسر ملک بھر کے درجنوں سیکڑوں مسلم و غیرمسلم ماہرین تعلیم کی متفقہ نصابی کتب کو مسترد کر سکتا ہے تو جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کے لیے یونیورسٹی پروفیسر سے بہتر کوئی شخص نہیں ہوسکتا۔ قارئین کے لیے اس نکتے میں سوچ بچار کا کچھ نہ کچھ سامان موجود ہے۔

اسلام اور عدلیہ کے بدلے ہوئے تیور

نصابی کتاب سے اسلام کو بے دخل کرنے کے لیے جسٹس جیلانی نے فیصلہ سنایا ، سو سنایا لیکن "ریاستی حکام" اس فیصلے کے بعد سو نہیں گئے۔۲۰۱۸ء میں سپریم کورٹ نے یک رکنی شعیب سڈل کمیشن قائم کیا تاکہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کا جائزہ لے۔ اس کمیشن کی معاونت کے لیے ایک ہندو، ایک مسیحی اور جسٹس جیلانی کے ایڈووکیٹ بیٹے پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی۔کمیشن کا باقاعدہ سیکرٹریٹ ہے۔ ان تمام افراد کا تعلیم یا مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقصد پاکستان کی بنیاد، اسلام کو ریاستی اُمور سے لاتعلق کرنا ہے۔ اس پر عمل درآمدکرانے کے لیے مسلمان نہیں بلکہ ہندو، مسیحی اور بے پناہ وسائل والی این جی اوز، کمیشن اور کمیٹی کے معاون ہیں۔ جسٹس جیلانی کے یک طرفہ غیرمتعلق فیصلے کو ساتواں سال ہوچکا ہے جس پر سپریم کورٹ کی اپنی نگرانی میں عمل درآمد کرایا جارہا ہے۔ حالانکہ عدالت کا کام حکم جاری کرنا ہوتا ہے۔

 کسی سرکاری ملازم کی بدعنوانی یا غفلت ثابت ہوجائے توعدالت محض یہ حکم دیا کرتی ہے کہ ملازم کے مجاز افسران اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ اس کے بعد مجاز افسران کا کام شروع اورعدالت کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ ہمارے علم میں کوئی ایک عدالتی فیصلہ ایسا نہیں ہے جس کا تعاقب سپریم کورٹ سات سال سے کررہی ہو۔ مسئلے کی نزاکت تو قارئین سمجھ چکے ہوں گے مگر باعث ِ تعجب امر یہ ہے کہ مسلمان نسل کی نوخیز کلیوں کو اسلام سے دُور رکھنےکے لیے سپریم کورٹ نے اپنی معاونت کے لیے بلایا بھی تو ہندو اور مسیحی افراد کو۔ ایک چیف جسٹس حکم دیتا ہے تو اگلا چیف جسٹس متعلقہ ریاستی حکام سے رپورٹ لینے کے بجائے اسی چیف جسٹس جیلانی کا بیٹا فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے مقرر کردیتا ہے۔ ایسا تو کبھی کسی مارشل لا دور میں بھی نہیں ہوا تھا۔

سپریم کورٹ،بھگوت گیتا، اور ہندو توا کا  فروغ

سندھ حکومت نے ۲۰۲۰ میں ہندووں کو ان کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا کے دس ہزار نسخے تحفتاًدیئے۔ اس پر ہم نے اگست ۲۰۲۰ء میں روزنامہ پاکستان کے اپنے کالم میں سوال اُٹھایا تھا کہ اگر کسی کے علم میں ہو کہ اتنی تعداد میں سندھ حکومت نے کبھی مسلمانوں کو قرآن کے نسخے دیئے ہوں تو مجھے آگاہ کرے۔ ابھی تک نہ تو سندھ حکومت اور نہ کسی قاری کی طرف سے کوئی اطلاع آئی ہے۔ سندھ کے ان علاقوں کو چھوڑ کرجہاں ہندو آباد ہیں باقی پاکستان میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ سندھ میں بہت ہندو آباد ہیں۔ مَیں نے نصابی کتب کے حوالے سے وہاں کے ’ہندو‘ ڈاکٹر سونو گھنگھرانی سے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے غلطی سے انھیںسونورام کہہ دیا تو انھوں نے فوراً ٹوک کر میری اصلاح کی کہ " میں ’رام‘ نہیں ہوں،نام کے باعث ہندو کہلانا میری مجبوری ہے لیکن میں ہندو نہیں ہوں"۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یہ موضوع میری دلچسپی رہا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ سندھ میں ہندو آبادی کے اعداد و شمار واضح کردیئے جائیں۔

 سندھ کے سو ہندوئوں میں سے واقعتاً ہندو افراد صرف پندرہ ہیں۔یہ وہ پندرہ افراد ہیں جنھیں برہمن، کھشنری اور ویش کہا جاتا ہے۔ باقی "ہندوئوں" میں ہندومنت کا آخری زمرہ شودر پانچ تا دس کی تعداد میں ہے۔ تو باقی ۷۵ ، ۸۰ کون لوگ ہوئے؟ یہ وہ ’ہندو‘  ہیں جنھیں دلت یا شیڈولڈ کاسٹ کہا جاتاہے۔ ان میںسے کچھ لوگ کم علمی، جہالت یا ماحول کے باعث خود کو ہندو سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹر سونو گھنگھرانی اور ان جیسے فہمیدہ لوگ ہندومت سے کوسوں دور ہیں۔ان کی کثیر تعداد خود کو صوفی اور نیم مسلمان سمجھتی ہے۔ یہ اپنے مُردے جلاتے نہیں ، دفناتے ہیں۔ مسلمان بزرگوں کی درگاہوں اور مزاروں کے اکثر مجاور یہی لوگ ہیں۔ رمضان میں یہ لوگ روزے رکھتے ہیں۔

 اصل ۱۵  ہندوئوں (برہمن، کھشنری، ویش جیسے اعلیٰ ذات کے ہندو) کی غالب تعداد  آسودہ حال ہے۔ ان میں بڑے کاروباری افراد، صنعت کار، ریاستی حکام اور زمیندار جیسے لوگ ہیں۔ ان ۱۵ فی صد اصل ہندوئوں کی تعداد لاکھوں میں نہیںصرف ہزاروں میں ہے اور انھیں خیرات میں بھگوت گیتا لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو سندھ حکومت نے بھگوت گیتا کے دس ہزار نسخے دیئےتو کس کو؟ یہ نسخے دراصل باقی ۸۵ فی صدغیرہندو دلت اور شیڈولڈ کاسٹ (نیم مسلمان) کوہندو بنانے کے لیے ہیں۔ اصل ہندوئوں کا ہدف دلت اور غیرہندو طبقات ہیں جن میں ہندومت کی تبلیغ کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سندھ حکومت نے ۹۶ فی صد مسلمانوں کے ٹیکسوں سے ان کی مرضی کے بغیر زرکثیر صرف کیا اور کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا۔ سپریم کورٹ کو بھی کوئی فکر نہیں ہوئی کہ اسلامی ریاست نے ہندومت کی تبلیغ کے لیے غیرآئینی حرکت کی ہے۔

ہمیں یہ ’ازخود نوٹس‘ نہ لینا پڑتا بشرطیکہ بھگوت گیتا کے اس معاملے کے آٹھ ماہ بعد اپریل ۲۰۲۱ء میں ہماری سپریم کورٹ بلوچستان حکومت سے جواب نہ طلب کرتی۔بلوچستان حکومت نے کسی دینی مدرسے کی تعمیر کے لیے کچھ رقم دی تو سپریم کورٹ نے جواب طلب کرلیا (روزنامہ جنگ ، ۱۵؍اپریل۲۰۲۱ء)۔دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے فرمایا: ’’جس طرح سے بھی مدرسے کے لیے فنڈز دیئے گئے یہ غلط طریقہ ہے‘‘۔ جسٹس قاضی امین احمد نے کہا: ’’پاکستان میں تمام لوگ مسلمان نہیں ہیں جو پیسہ مدرسے کے لیے دیا گیا وہ ریاست کے ٹیکس کا پیسہ تھا۔ پاکستان میں ہندو، عیسائی [مسیحی] اور دیگر اقلیتیں بھی ٹیکس دیتی ہیں۔ مدرسہ کھولنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن ریاست کے پیسے سے نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح تو ہندو برادری بھی مندر کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز مانگیں گے‘‘۔

یہ دونوں محترم و معزز جج اور متعلقہ بنچ کے سربراہ جسٹس مشیرعالم تب بھی سپریم کورٹ میں موجودتھے جب سندھ حکومت نے اسلامی ریاست میں ہندومت کی تبلیغ کے لیے دس ہزار نسخے تحفتاًدیئے لیکن ان میں سے کسی نے سندھ حکومت سے جواب طلب نہیں کیا۔ لیکن جب بلوچستان حکومت نے مدرسے کو کچھ رقم دی تو انھوں نے بلاتاخیر حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ یہ محترم و معزز جج اور باقی چودہ جج تب بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے جب وزیراعظم نے جولائی ۲۰۲۰ء میں اسلام آباد میں ہندومندر کی تعمیر کے لیے دس کروڑ روپے دیئے۔ اس موقع پر ملک بھر میں کھلبلی مچ گئی لیکن سپریم کورٹ نے کسی حکومت سے کوئی جواب طلب نہیں کیا ۔لیکن ادھر بلوچستان حکومت نے کسی مدرسے کو کچھ رقم دی تو اُدھر اس کی آئینی جواب طلبی۔یہ جواب طلبی بھگوت گیتا اور مندر کی تعمیر کے معاملے میں کیوں نہیں ہوئی؟

خلاصہ کلام اور چند توجہ طلب اُمور

پہلے بھی ذکر کیا جاچکا ہے کہ ہمارے علم میں سپریم کورٹ کا کوئی ایک فیصلہ نہیں ہے جس پر عمل درآمد کرانے کے لیے عدلیہ نے کمیشن مقر رکرنے کے بعد اس کاسیکرٹریٹ قائم کیا ہو اورہندو، مسیحی  اور این جی اوز کی مدد سےآٹھویں سال سے اس کی مانٹیرنگ کر رہی ہو۔ لیکن ہندواور مسیحیوں کے چند دیگر مسائل لے کر جسٹس جیلانی نے اوّلاً یہ کام کرکے پورے تعلیمی ڈھانچے کوہلاکر رکھ دیا۔ پھر عمل درآمد کرانے کے لیے مسلمانوں کے کسی نمایندے کو سنے بغیر ہندو اور مسیحی افراد کی معاونت سے نصابِ تعلیم سے ’اسلام‘ کھرچ کھرچ کرنکالنے کا اہتمام، بعد میں آنے والے جج صاحبان نے بخوبی کیا۔ اسلام کے منافی مذہب کی تبلیغ کے لیے سندھ حکومت بھگوت گیتا کے نسخے سرکاری خزانے سے خرید کر دیتی ہے تو سپریم کورٹ میں کوئی ہلچل نہیں مچتی لیکن جونہی بلوچستان حکومت ایک مدرسے کو کچھ رقم دیتی ہے تو اس سے فوری جواب طلبی اور یہ کام خلافِ آئین قرار پاتا ہے۔دلیل کے طور پر جج صاحب کا کہنا ہے کہ کل کو ہندو مندروں کے لیے رقم بھی دینا پڑے گی حالانکہ ہندو مندر کے لیے آٹھ نو ماہ قبل وزیراعظم دس کروڑ روپے دے چکے تھے۔ قانون کے اس طالب علم کے لیے ان تین چار عدالتی احکام کو دستوری تقاضوں کے حسب حال قرار دینا خاصا دشوار کام ہے۔

اگر بھگوت گیتا دینے پر آئین معاون ہے تو مدرسے کو رقم دینا غیرآئینی کیوں ہے؟ اور اگر مدرسے کو رقم دیناغیرآئینی ہے تو مندر کو رقم دینا کیسے آئینی قرار پایا؟

عدلیہ دیگر اداروں کی طرح ایک محترم اور مقدس ادارہ ہے۔ اس کے جج بھی ادارے ہی کی طرح محترم ہیں۔ سب اداروں سے اُوپر ملک کا آئین ان سب سے مقدس ہے۔ اس آئین کے ابتدائی تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ ملک اسلام کی بنیاد پر قائم ہے۔ ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ کوئی قانون اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہوسکتا۔ ریاست کی ایک آئینی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی تعلیمات کا اہتمام کرے۔ یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے وفاقی ماہرین تعلیم ،چاروں صوبوں سے مل کر متفقہ نصابِ تعلیم تیار کرتے ہیں تو ہرپیشی پر سپریم کورٹ کا ان پر اظہارِ برہمی۔جس نصاب کو سیکڑوں ماہرین تعلیم جب بڑی محنت سے اقلیتی آبادیوں کے لیے قابلِ قبول بناتے ہیں تو ایک پولیس آفیسر چند ہندو اورمسیحی افراد سے مل کر سپریم کورٹ کی سرپرستی میں اس نصاب سے اسلام کو یکسر نکال دینےکی کوشش کرتا ہے۔

اُمید کی جاتی ہے کہ فہمیدہ اور دانش مند افراد اس ساری صورتِ حال پر غور کرکے کوئی اجتماعی حل نکالیں گے۔ اس پر غور لازم ہے کہ جج صاحبان نے اس آئین کی حفاظت کا حلف اُٹھایا ہوا ہے جس کا بنیادی پتھر اسلام ہے۔ تو کیا مذکورہ بالا چند مثالوں میں حلف کا کوئی عکس دیکھنے کو ملتا ہے، اُمید ہے اہلِ نظر اس پر غور کرکے عملی قدم اُٹھائیں گے۔

(بشکریہ ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن، جون۲۰۲۱ء)

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(جولائی ۲۰۲۱ء)

Flag Counter