اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۹)

مولانا سمیع اللہ سعدی

بحث دوم : فریقین کے علم اصولِ حدیث کا تقابلی مطالعہ

بحثِ اول میں  آٹھ اساسی اور بڑے موضوعات کے تحت ان بنیادی مفاہیم و اصطلاحات کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا  ، جن کی وجہ سے اہل تشیع  اور اہل سنت کا  حدیثی ذخیرہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہوجاتا ہے ،ان اساسی مفاہیم میں فریقین کے حدیثی ذخیرے کے  امتیازات   و خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ،تاکہ فریقین کے تراث ِ حدیث کے محاسن و مساوی کا تقابل کیا جاسکے ۔ ان موضوعات کی فہرست یہاں دی جارہی ہے ،تاکہ اقساط کی طوالت کی وجہ سے بحث کی تنقیح اور تسلسل میں جو اخفا رہ گیا ہے ،وہ  دور کیا جاسکے ،بحث اول میں ان آٹھ موضوعات میں فریقین کے علم حدیث کے مفاہیم و مصطلحات کا تقابل پیش کیا گیا :

1۔ فریقین کے حدیثی ذخیرے میں حدیث و سنت کا مفہوم و مصداق 

2۔عدالتِ صحابہ کا مسئلہ اور تراثِ حدیث پر اس کے اثرات

3۔ فریقین کا حدیثی ذخیرہ  قبل از تدوین،تحریری و تقریری سرمایہ

4۔فریقین کی کتبِ حدیث میں تعداد روایات   کا  فرق اور اس کے نتائج

5۔ فریقین کا زمانہ روایت و اسناد

6۔ فریقین کی کتبِ حدیث کے مخطوطات و نسخ

7۔ فریقین کے معیاراتِ نقد حدیث

8۔فریقین کی تراثِ حدیث میں موضوع روایات اور اس کی تنقیح

اب بحث دوم  میں فریقین کے اصول ِحدیث کا تعارف تقابلی انداز میں کرایا جائے گا ،تاکہ  ہر دو فریقوں نے حدیثی تراث کو پرکھنے کے لیے جو اصول و قواعد ترتیب دیے ہیں ، ان کی افادیت اور حدیثی ذخیرے کو پرکھنے میں اس کے اثرات و نتائج سامنے آسکے ۔ما قبل کی اقساط میں اس کا ذکر ہوچکا ہے  کہ اہل تشیع کے ہاں حدیث کو پرکھنے  کے حوالے سے اخباری و  اصولی دو مکتب پائے جاتے ہیں ،ان میں  سے اصولی مکتب نے اہلسنت کے طرز پر حدیث کو پرکھنے کا ایک فن ترتیب دیا ہے ،جو  شیعی حلقوں میں علم الدرایہ کے نام سے موسوم ہے ،جبکہ اہلسنت  کے ہاں حدیث کو پرکھنے کا فن عمومی طور پر علم مصطلح الحدیث  کے نام سے پکارا جاتاہے ، اس بحث میں شیعی علم الدرایہ اور سنی مصطلح الحدیث کا تقابلی مطالعہ پیش کیا جائے گا ۔

1۔زمانہ تدوین

شیعی علم الدرایہ  اور سنی علم مصطلح الحدیث میں بنیادی ترین فرق  زمانہ تدوین کا فرق ہے ،سنی اصول ِ حدیث اسی زمانے میں مدون ہوئے ،جس زمانے میں اہل سنت کے بنیادی مراجع صحاح ستہ لکھی گئیں ،بلکہ خود  اصحاب صحاح ستہ نے مصطلح الحدیث کے اہم مباحث کو اپنی کتب میں جگہ دی،ہم نکات کی شکل میں سنی مصطلح الحدیث کے اولین  تحریری ورثے پر ایک نظر ڈالتے ہیں :

1۔اصول ِ حدیث کے اہم مباحث کو سب سے پہلے امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الرسالہ میں تحریر فرمایا ،چنانچہ  محقق عبد الماجد غوری لکھتے ہیں :

"و یمکن  ان یقال ایضا :ان الامام الشافعی رضی اللہ عنہ (المتوفی سنہ204ھ) ھو اول من دون  بعض المباحث الحدیثیۃ فی کتابہ الرسالہ "1

ترجمہ: یہ کہنا بھی درست ہے کہ امام  شافعی رحمہ اللہ وہ ا ولین شخصیت ہیں ،جنہوں نے اصول حدیث کے بعض مباحث کو الرسالہ میں مدون کیا ۔

امام شافعی رحمہ اللہ سے پہلے بھی مصطلح الحدیث کو محدثین نے لکھا ،  مثلا علی ابن مدینی و غیرہ ، ان کی کتب چونکہ محفوظ نہیں رہ سکیں ،اس لیے  باقی رہنے ولے تحریری سرمایے میں امام شافعی رحمہ اللہ کی الرسالہ  اس موضوع پر اولین تحریر کہلا ئے گی ۔امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الرسالہ میں مصطلح الحدیث کے ان مباحث پر روشنی ڈالی:

    • روایت بالمعنی کی بحث

    • مدلس کا عنعنہ

    • مرسل روایت کی  بحث

    • شرائط حفظ الراوی

    • عدالتِ راوی کی پہچان کے طرق

    • مقبول راوی کے اوصاف

    • خبر واحد اور خبر مراۃ کی بحث2

2۔ معروف محدث امام دارمی(255ھ) نے اپنی کتاب سنن دارمی کے مقدمے  میں مصطلح الحدیث  کے اہم مباحث کو موضوع ِ بحث بنایا ،یہ مقدمہ کافی طویل ہے ، جس میں تقریبا 57 کے قریب  ابواب میں  امام دارمی نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی ،ان میں مصطلح الحدیث کے مباحث بھی شامل ہیں ۔

3۔  صحاح ستہ میں سب سے اولین کتاب لکھنے والے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں مصطلح الحدیث  کے اہم مباحث کو بیان کیا ہے ،طرق تحمل حدیث ،اخبرنا و حدثنا میں فرق ،سماع الصغیر جیسے موضوعات  پر صحیح بخاری میں   باقاعدہ ابواب باندھے ،زیادت ثقہ ،متابعات  وغیرہ جیسے مباحث  پر متعدد مقامات پر روشنی ڈالی ،اس کے علاوہ اپنی  دیگر کتب خصوصا کتب رجال میں رجال پر تبصرہ کرتے ہوئے  متنوع موضوعات پر اپنی رائے دی۔

4۔امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم کا مقدمہ خاص مصطلح الحدیث کے اہم مباحث کے لیے  تحریر کیا ،مقدمہ مسلم  میں امام مسلم نے سات بڑے اصولی مباحث پر گفتگو کی ۔

5۔امام ترمذی نے  العلل الصغیر کے نام سے ایک  مصطلح الحدیث میں ایک مستقل رسالہ لکھا ،جس میں مصطلح الحدیث کے دس بڑے موضوعات کو موضوع بحث بنایا،محقق عبد الماجد غوری ان موضوعات ِ عشرہ کے بارے میں لکھتے ہیں :

"فھذہ  جملۃ البحوث  التی اوجز الترمذی الحدیث عنھا فی ھذہ  المقدمہ القیمہ، والتی کما رایت تتناول اھم ارکان علوم الحدیث"3

ترجمہ:یہ وہ مباحث ہیں ،جن سے امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ اپنے وقیع مقدمے میں  تعرض کیا ہے ،یہ مباحث ،جیسا کہ آپ دیکھ چکے ہیں ،مصطلح الحدیث کے اہم ترین ارکان میں سے ہیں ۔

6۔ امام ابو داود نے اہل مکہ کو اپنی سنن کے تعارف پر مشتمل ایک خط لکھا ،اس میں مصطلح الحدیث کے اہم مباحث پر گفتگو کی ۔

7۔امام طحاوی نے حدثنا و اخبرنا کے تسویہ پر ایک مستقل رسالہ لکھا ۔

8۔انہی منتشر مباحث اور  متقدمین سے منقول دیگر مصطلح الحدیث  کے  اصول و ضوابط کو باقاعدہ بطورِ  فن کے چوتھی صدی ہجری کے مایہ ناز محدث قاضی عبد الرحمان الرامھرمزی  نے  اپنی کتاب " المحدث الفاصل  بین الراوی و الواعی "  میں جمع کیا ،جو مصطلح الحدیث کی پہلی باقاعدہ تصنیف شمار ہوتی ہے ۔

9۔ اس کے بعد پانچویں صدی ہجری میں امام حاکم  نے معرفۃ علوم الحدیث لکھ کر اس فن کو کمال تک پہنچایا ۔

 سنی مصطلح الحدیث  کے اولین سرمایے کا ایک خاکہ ذکر کیا جاچکا ہے ،اس خاکے سے یہ بات بخوبی ثابت ہوتی ہے کہ سنی مصطلح الحدیث اسی زمانے  اور انہی محدثین  یا ان کے اساتذہ و تلامذہ کے ہاتھوں مدون ہوا ،جنہوں نے بنیادی کتب ِ حدیث صحاح ستہ لکھیں  ،اس کے برخلاف جب ہم شیعی علم الدرایہ کو دیکھتے ہیں ،تو  اس لحاظ سے شیعی علم الدرایہ ہمیں سنی اصول ِ حدیث سے کافی فروتر نظر آتا ہے کہ شیعی علم الدرایہ   اہل تشیع کے بنیادی مراجع حدیث (کتب اربعہ ) کے تقریبا  تین صدیوں بعد مدون ہوا ، چنانچہ معروف شیعہ محقق جعفر سبحانی لکھتے ہیں :

"ان اول من الف من  اصحابنا فی علم الدرایہ کما ھو المشہور ھو جمال الدین احمد بن موسی بن جعفر بن طاووس المتوفی عام 673ھ"4

ترجمہ:ہمارے شیعہ حضرات میں سے علم الدرایہ میں سب سے اولین کتاب لکھنے والے جمال الدین احمد بن طاوس ہیں ،جیسا کہ  مشہور ہے۔

اس کے بعد اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں :

"فالقدر المتیقن  ان اول من الف ھو احمد بن طاووس الحلی"5

یعنی اتنی بات یقینی ہے کہ اس موضوع پر سب سے اولین کتاب احمد بن طاووس حلی نے لکھی ہے ۔

 شیعی علم الدرایہ اور سنی مصطلح الحدیث کے زمانہ تدوین  کے اس فرق سے( فرق سے مراد  یہ کہ سنی علم اصول حدیث خود حدیث کی تدوین  کرنے والے محدثین  کے زمانہ میں مدون ہوا جبکہ شیعی علم الدرایہ شیعی حدیث کے زمانہ تدوین کے کافی عرصہ بعد مدون ہوا) ہر دو فنون افادیت ،تطبیق اور اثرات میں ایک دوسرے سے کلی طور پر مختلف ہوجاتے ہیں ،ہم چند اہم فروق نکات کی شکل میں بیان کرتے ہیں :

1۔سنی مصطلح الحدیث چونکہ  صحاح ستہ کے زمانے میں ہی  اور کچھ صحاح ستہ کے زمانے سے پہلے مدون ہونا شروع ہوا ،بلکہ اس کے بعض اہم قواعد خود اصحاب صحاح ستہ نے ترتیب دیے ،اس لیے صحاح ستہ انہی قواعد و اصول کی بنیاد پر مدون  ہوئیں ،جس کی وجہ سے  مصطلح الحدیث کا فن بھر پور تطبیق سے گزرا ،جبکہ شیعی علم الدرایہ شیعہ علم ِ حدیث کے مدون ہونے کے کئی صدیوں بعد منظر عام پر آیا ،جس کی وجہ سے  شیعی علم الدرایہ کے قواعد و اصول کا  شیعہ علم حدیث پر  انطباق نہ ہونے کے برابر ہے ،کیونکہ ایک لاکھ سے زائد احادیث پر  قواعد کا انطباق ناممکن نہ سہی ،مشکل ترین ضرور ہے ،اسی لیے آج بھی شیعی علم الدرایہ میں  قواعد و اصول بیان کرتے ہوئے شیعہ اہل علم امثلہ شیعی ذخیرہ حدیث کی بجائے سنی  ذخیرہ حدیث سے لینے پر مجبور ہیں ،اس کی  متعدد امثلہ پچھلی  اقساط میں ہم بیان کر چکے ہیں ۔

2۔زمانہ تدوین میں فرق کا دوسرا بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ شیعی تراث میں صحیح  اور ضعیف حدیث کے معیارات کے سلسلے میں متعدد نقطہ نظر سامنے آئے ،کتب اربعہ کے محدثین کے ہاں صحیح و ضعیف روایت کا معیار الگ تھا ،اخباری گروہ کے نزدیک الگ معیار ہے،(کتب اربعہ و اخباری مکتب کا نقطہ نظر قریب قریب ہے ،لیکن کچھ وجوہ سے یہ الگ نقطہ نظر شمار ہوتے ہیں )جبکہ اصولی مکتب کے نزدیک   صحیح و ضعیف کا معیار الگ ہے ، ان   مکاتب کی تفصیل ہم  اس سلسلے  میں معیارات ِ نقد حدیث کے عنوان کے تحت دے چکے ہیں ،ان متعدد نقطہ ہائے نظر کی وجہ سے شیعہ  ذخیرہ حدیث میں سے صحیح و ضعیف  روایات کا تعین ایک ایسی گتھی بن چکا ہے ،جس کو آ ج تک نہیں سلجھایا جاسکا ،کتب اربعہ کے مصنفین نے اپنے معیارات کے مطابق  احادیث کی تدوین کیں ،اخباری مکتب    نے اپنے معیارات کے مطابق ذخیرہ حدیث پر حکم لگایا ،جبکہ  اصولی منہج کے حاملین نے احادیث کو پرکھنے کا اپنا الگ نظام بنایا ،یوں  شیعہ ذخیرہ حدیث  میں صحیح، ضعیف،  موضوع  روایات کا متفقہ معیار نہ ہونے  کی وجہ سے محققین کو متعدد الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جبکہ اس کے برخلاف اہل سنت میں حدیث کو پرکھنے کے معیارات کم و بیش ایک جیسے ہیں ،البتہ ان کی تطبیق میں اہل سنت  محدثین کے ہاں اختلافات پائے جاتے ہیں ، جو  ظاہر ہے ،ہر  تطبیقی علم و فن کا خاصہ ہے ،نیز فقہائے اہل سنت بھی حدیث کے ثبوت و عدم ثبوت میں محدثین کے معیارات کو ہی بنیاد بناتے ہیں ،البتہ فقہاء حدیث کےثبوت و عدم ثبوت کے ساتھ ایک زائد چیز یعنی  حدیث کے قابلِ عمل ہونے یا نہ ہونے کو بھی دیکھتے ہیں ،جو اصول ِ فقہ کی مبحث السنہ میں بیان ہوتا ہے ۔

3۔زمانہ تدوین میں فرق کا تیسرا  نتیجہ یہ نکلا کہ اہل سنت کا علم مصطلح الحدیث ایک فطری ارتقاء کے ساتھ تدوینِ حدیث کے مجموعوں کے ساتھ چلتا رہا ،ہر محدث جہاں حدیث مدون کرتا ،وہاں مصطلح الحدیث کے تصورات میں اضافہ  اور پچھلوں کے تصورات میں تنقیح و تہذیب  کا عمل  جاری رکھتا،یوں کسی بھی علم و فن کی طرح اہل سنت کا مصطلح الحدیث فطری  ارتقا کے عمل ِمسلسل سے گزرا ہے ،جبکہ اہل تشیع کا علم الدرایہ ساتویں صدی ہجری میں ایک ہی شخص کے ہاتھوں بیک وقت منظر عام پر آیا ،خصوصا    تدوین کرنے والا شخص  تدوینِ حدیث کے زمانے کے کئی صدیوں بعد آیا ،یوں وہ  تدوینِ حدیث کے زمانے کا بچشمِ خود مشاہدہ  اور رواۃ  ومجالسِ حدیث کے از خود تجربے  کے عمل سے نہیں گزرا تھا  اور  عملی میدان سےہٹ کر خالص نظری دنیا میں اس  فن کے اصول و قواعد لکھنے کا کام سر انجام دیا ،یہی وجہ ہے کہ اہل تشیع کے ایک بڑے حلقے (اخباری مکتب ) نے  سرے سے اس  پورے علم کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اسے اہل سنت کی نقل قرار دیا ،اگر اہل تشیع کا علم الدرایہ  اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث کی طرح تدوین ِ حدیث کے ساتھ ہی ایک فطری ترتیب کے ساتھ صدی بہ صدی ارتقائی عمل کے  نتیجے میں وجود میں آتا اور ہر محدث کے اضافہ جات و تنقیحات سےہو کر گزرتا ،تو   اس علم کو  اس طرح کے مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔

4۔زمانہ تدوین میں فرق کا ایک بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ   اہل  تشیع کا علم الدرایہ متقدمین کے استناد اور علومِ متقدمین سے اخذ و التقاط  سے  خالی ہے ،کیونکہ  یہ علم ساتویں صدی ہجری کے ایک عالم نے متقدمین  کے منہج  سے بالکل ایک الگ  منہج اختیار کرتے ہوئے   ایجاد کیا ،جبکہ اہلسنت کا علم مصطلح الحدیث  متقدمین ہی کے زمانے اور علمائے متقدمین  کے ہاتھوں  مدون ہوا ،اہل علم جانتے ہیں کہ کسی بھی علمی  روایت میں  اس روایت کے اولین علماء سے استناد روایت کے اعتبار و اعتماد کے لیے بنیادی  عامل ہے ،علمی روایت کو اعتماد بخشنے کے لیے  اس کا تسلسل  اساسی عنصر ہے،اس تسلسل اور استناد سے بلا شبہ اہل تشیع کا علم الدرایہ خالی ہے ،یہی وجہ ہے کہ اخباریوں نے اس علم  پر جو متعدد اعتراضات کئے ،ان میں یہ اعتراض سر فہرست تھا کہ یہ علم کتبِ اربعہ کے مصنفین و دیگر متقدمین علماء سے ماخوذ نہیں ہے ،چنانچہ معروف اخباری عالم  محمد بن حسن حر عاملی لکھتے ہیں :

"أن طريقۃ القدماء موجبۃ للعلم، مأخوذۃ عن أھل العصمۃ لأنھم قد أمروا باتباعھا وقرروا العمل بھا، فلم ينكروہ، وعمل بھا الإماميۃ في مدۃ تقارب سبعمائۃ سنۃ منھا في زمان ظھور الأئمۃ عليھم السلام - قريب من ثلاثمائۃ سنۃ واصطلاح الجديد ليس كذلك قطعا، فتعين العمل بطريقۃ القدماء"6

ترجمہ:متقدمین کا منہج علم کا موجب ہے ،اور ائمہ معصومین سے ماخوذ ہے ،کیونکہ ائمہ معصومین  نے ان متقدمین اہل علم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کے منہج پر عمل کی تائید کی ہے ،ان پر نکیر نہیں کی ہے ،نیز امامیہ نے انہی کے منہج پر سات سو سال تک عمل کیا ہے ،جن میں سے تین سو سال کا عرصہ ائمہ کا زمانہ ہے ،جبکہ اصطلاح جدید (یعنی علم الدرایہ )اس طرح نہیں ہے ،اس لیے قدماء کے طریقہ پر عمل واجب ہے۔

5۔کسی بھی علم کے اساسی قواعد و ضوابط  (جنہیں ہم اصول ِعلم کہتے ہیں ،جیسے کہ اصول فقہ ،اصول ِحدیث  وغیرہ)مرتب کرنے کا مقصد اس علم کی تدوین ،ترتیب اور اس کی نشو ونما میں ہونے والی بنیادی اغلاط و اخطا سے اس علم کو بچانا ہوتا ہے ،نیز  وہ علم کن بنیادوں پر مرتب ہو نا چاہئے ،اس کے خدوخال واضح کرنے کے لیے بھی پہلے اس کے قواعد و ضوابط مرتب کئے جاتے ہیں ،مثلا، شوافع و احناف کے فقہی مسالک  میں فرق دراصل ان دونوں کے  اصولِ فقہ میں فرق کی وجہ سے ہے ،اگر ہر دو مسالک کے اصولِ فقہ سامنے نہ ہوں تو محض فقہی مسائل میں فرق کی وجہ سے دونوں مسالک میں موجود اساسی فروق کا کامل علم نہیں ہوسکے گا ،اسی طرح اہلسنت میں جب علم ِحدیث کی تدوین کا عمل شروع ہوا ،تو ساتھ ہی اصولِ حدیث  کی تدوین اور اس کے خدوخال واضح کرنے کا عمل بھی شروع ہوا ،اس کی تفصیل ہم اس کے مضمون کے شروع میں نکات کی شکل میں دے چکے ہیں ،کہ کیسے حدیث کی تدوین کے ساتھ ساتھ اصول ِحدیث بھی منقح  ہوتے گئے ،یوں حدیث و اصولِ حدیث مقارن صورت میں مدون ہوئے ،یہی وجہ ہے کہ آج اہلسنت کے بنیادی مراجع حدیث خصوصا صحاح ستہ کی روایات اور اصحاب صحاح ستہ کے مناہج و شروط بآسانی معلوم کئے  جاسکتے ہیں ،جب ہم اس اصل پر اہل تشیع کا علم الدرایہ پرکھتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف بلکہ الٹ نظر آتی ہے کہ اہل تشیع کے اساسی کتب حدیث کے مصنفین (اصحاب کتب اربعہ ) نے ایک خاص منہج  اور اپنے تئیں کچھ اصول و قواعد کی بنیاد پر کتب اربعہ لکھیں ،اس کے  تین صدیوں بعد ایک عالم آکر پہلے سے مدون شدہ کتب  اور ان  کتب کے مصنفین کے طے کئے ہوئے  اصولی منہج سے بالکل الگ ،جداگانہ اور مختلف   اصولی منہج وضع کرتا ہے ،اور تقاضا کرتا ہے کہ تین صدیوں بعد وضع کئے ہوئے اصولوں کی روشنی میں  ماضی کی ان کتب کا جائزہ لیا جائے اور ان میں موجود روایات کی تصحیح و تضعیف کا تعین کیا جائے ،تو یہاں عقلی طور پر ترتیب بالکل الٹ جاتی ہے کہ علم پہلے مدون ہوا ،کتب پہلے لکھی گئیں اور  لکھنے والوں نے   اپنے تئیں ایک خاص کے تحت تدوین و تریب کا یہ عمل سر انجام دیا ،پھر کئی صدیوں بعد ان کتب کی تدوین ،ترتیب ،نشوونما اور ان میں موجود اغلاط و اخطا کی نشاندہی کے لیے  ان کتب کے مصنفین کے منہج سے بالکل ایک الگ منہج پر مبنی جداگانہ علم وضع کیا جاتا ہے ،یوں عمارت کی تکمیل کے بعد بنیادیں بنانے کا کام کیا گیا ،فصل مکمل ہونے کے بعد بیج ڈالنے کا  عمل سر انجام پایا ،کام کرلینے کے بعد اس کے اصول و ضوابط طے کیے گئے ، وضع کی اس الٹی ترتیب کی وجہ سے علم الدرایہ انطباق  اور  کتب اربعہ کی احادیث اور ان احادیث میں کار فرما اصولی منہج کے معلوم کرنے سے بالکل عاری علم ہے ، یہاں تک کہ ان قواعد کی امثلہ کے لیے بھی احادیث ِ اہلسنت سے مستعار روایات لی  جاتی ہیں ،یوں علم الدرایہ  مدون ہونے کے باوجود اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کے تدوینی عمل، نشوونما ،تدوین کے منہج  اور ترتیب و تدوین میں کار فرما اصول و قواعد معلوم کرنے کے  لیے ممد و معاون نہیں ہے، اوریہ  علم   اپنامنطقی نتیجہ نہ دینے کی بنیاد پر  اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے  بے فائدہ علم بن جاتا ہے۔


حواشی

  1. المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ۔عبد الماجد غوری ،دار ابن کثیر ،بیروت ،ص617
  2. ایضا:ص617
  3. المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ،عبد الماجد غوری ،ص 621
  4. اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ،جعفر سبحانی ،دار جواد الائمہ ،بیروت ،ص
  5. ایضا:ص11
  6. وسائل الشیعہ ،،حر عاملی ،موسسہ اہل البیت لاحیاء التراث م،ج30،ص258

حدیث و سنت / علوم الحدیث

Flag Counter