مارچ ۲۰۲۰ء

مسئلہ جنس اور ہمارا روایتی معاشرتی نظام

― محمد عمار خان ناصر

جنسی جبلت کے مسئلے کو کسی معاشرتی نظام میں کیسے حل کیا جائے، اس کے متعلق موجودہ دنیا میں دو بنیادی تہذیب موقف پائے جاتے ہیں۔ ایک موقف کی نمائندگی جدید لبرل اخلاقیات میں ہوتی ہے جس کی رو سے جنس کی تسکین فرد کا ایک ذاتی مسئلہ ہے اور اسے اس کی تکمیل کی آخری حد تک آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ دو افراد، صنف اور مذہب وغیرہ کے امتیاز سے بالکل آزاد ہو کر، باہمی رضامندی سے جیسے بھی اس کی تکمیل کرنا چاہیں، یہ ان کا حق ہے۔ جنسی جبلت کی تسکین کے علاوہ، خاندان بنانے اور بچے پیدا کرنے کی کسی بھی اضافی ذمہ داری کو اس کے ساتھ نتھی نہیں کرنا چاہیے اور اس حوالے سے کسی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۳)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۹٠) سورة الحشر کے بعض مقامات۔ (۱) لِلفُقَرَاء المُہَاجِرِینَ الَّذِینَ اخرِجُوا مِن دِیَارِہِم وَاَموَالِہِم۔(الحشر: 8)۔ اس آیت میں فقراءموصوف ہے اور مہاجرین صفت ہے، اس لحاظ سے ترجمہ ہوگا: مہاجر فقراء، نہ کہ فقیر مہاجرین۔ ایک تو یہ زبان کے قواعد کا تقاضا ہے، دوسرے معنوی لحاظ سے بھی مہاجرین کی تقسیم مقصود نہیں ہے کہ فقیر مہاجرین کو حصہ دیا جائے اور غیر فقیر مہاجرین کا حصہ نہیں لگایا جائے۔ بلکہ یہ فقر سے دوچار لوگوں کی ایک خاص قسم یعنی مہاجرین اور گویا تمام مہاجرین پر مشتمل ہے، کیوں کہ تمام ہی مہاجرین گھر اور دولت چھوڑ کر آئے تھے۔ اس کا...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۹)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

بحث دوم : فریقین کے علم اصولِ حدیث کا تقابلی مطالعہ۔ بحثِ اول میں آٹھ اساسی اور بڑے موضوعات کے تحت ان بنیادی مفاہیم و اصطلاحات کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ، جن کی وجہ سے اہل تشیع اور اہل سنت کا حدیثی ذخیرہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہوجاتا ہے ،ان اساسی مفاہیم میں فریقین کے حدیثی ذخیرے کے امتیازات و خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ،تاکہ فریقین کے تراث ِ حدیث کے محاسن و مساوی کا تقابل کیا جاسکے ۔ ان موضوعات کی فہرست یہاں دی جارہی ہے ،تاکہ اقساط کی طوالت کی وجہ سے بحث کی تنقیح اور تسلسل میں جو اخفا رہ گیا ہے ،وہ دور کیا جاسکے ،بحث اول میں ان آٹھ...

زکاۃ بمقابلہ احساس

― پروفیسر عمران احسن خان نیازی

تحریک انصاف حکومت کا احساس پروگرام یقینا قابل ستائش ہےاور اس پر یہ تنقید درست نہیں کہ پاکستانی قوم بھکاری بن رہی ہے۔ یہ پناہ گاہیں سردی کے اس موسم میں غریبوں کو راحت پہنچا رہی ہیں۔ نیز یہ پروگرام غریبوں کے لیے تقریباً ماہانہ بنیادوں پر سہولت فراہم کررہا ہے۔ اس میں ہم صحت کارڈکو بھی شامل کرسکتے ہیں جو طِبّی امداد سے محروم لوگوں کو دیے گئے ہیں۔ یہ سب اچھے اعمال ہیں لیکن جب ہم اس پروگرام کو اسلامی قانون کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو اس سے یہ قانونی الجھن سامنے آتی ہے کہ یہ پروگرام ٹیکس کے ان پیسوں سے چل رہے ہیں جو لوگوں سے زبردستی وصول کیے گئے...

عالمی عدالت انصاف کا ایک مستحسن فیصلہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ جنوری ۲۰۲۰ء کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’عالمی عدالت انصاف نے میانمار حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کا حکم دے دیا، نسل کشی کے خلاف ۱۹۴۸ء کے کنونشن کے تحت افریقی ریاست گیمبیا کی درخواست پر اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے عالمی کورٹ کے جج عبد القوی احمد یوسف نے درخواست گزار ملک کو مقدمے کی کاروائی مزید آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے، عدالت نے میانمار کی حکومت کو پابند بنایا کہ وہ مسلمان کمیونٹی کے خلاف اپنی فوج کے ظالمانہ اقدامات روکے، نیگون حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے چار ماہ کے اندر...

آنجہانی جسٹس رانا بھگوان داس کی یاد میں تقریب

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آئی پی ایس (انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد) کی طرف سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان آنجہانی رانا بھگوان داس کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات مجھے اچھی لگی کہ ہم ان شخصیات کو یاد رکھیں جنہوں نے اصول، قانون اور انسانی روایات کو زندہ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ یہ تقریب ۱۱ فروری کو منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری تھے۔ جبکہ دیگر مہمانان خصوصی میں محترم راجہ محمد ظفر الحق، جناب محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ...

قومی اور مذہبی اظہاریوں کا خلط مبحث اور سماج کی تقسیم کاری

― ڈاکٹر عرفان شہزاد

قومی ریاستوں کی تشکیل کے دور میں پاکستان ایک قومی مذہبی ریاست کی صورت میں منصہ شہود پر نمودار ہوا۔ قومی ریاستوں کی تشکیل میں جغرافیہ کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ جغرافیہ میں شامل مختلف رنگ و نسل کے لوگ نظریے اور عقیدے کے فرق کے علی الرغم قومی ریاستوں کا حصہ بنے۔ پاکستانی ریاست کی تشکیل بھی اسی اصول پر عمل میں آئی لیکن سیاسی عمل کے دوران میں مذہبیت یا اسلامیت کا عنصر بھی اس میں شامل ہو گیا جو قومی شناخت کی اظہاریوں میں غلبہ پاتا چلا گیا۔ مذہبیت کے اس عنصر نے اس نومولود ریاست کی اکثریتی مسلم کمیونٹی کے احساس میں اس کی ملکیت کا تصور پیدا کر دیا۔...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۴)

― محمد عمار خان ناصر

جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر۔ شاہ ولی اللہ پر قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے اصول فقہ کی کلاسیکی بحث ایک طرح سے اپنے منتہا کو پہنچ جاتی ہے اور ان کے بعد کلاسیکی تناظر میں اس بحث میں کوئی خاص اضافہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ تیرھویں اور چودھویں صدی ہجری میں سنت کی تشریعی حیثیت اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث ایک نئے فکری تناظر میں ازسرنو اہل علم کے غور وخوض اور مباحثہ ومناقشہ کا موضوع بنی ہے۔ اس نئے فکری تناظر کی تشکیل میں جدید سائنس اور جدید تاریخی وسماجی علوم کے پیدا کردہ سوالات نیز ذخیرۂ حدیث کے تاریخی استناد کے حوالے سے مستشرقین...