قومی اور مذہبی اظہاریوں کا خلط مبحث اور سماج کی تقسیم کاری

ڈاکٹر عرفان شہزاد

قومی ریاستوں کی تشکیل کے دور میں پاکستان ایک قومی مذہبی ریاست کی صورت میں منصہ شہود پر نمودار ہوا۔ قومی ریاستوں کی تشکیل میں جغرافیہ کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ جغرافیہ میں شامل مختلف رنگ و نسل کے لوگ نظریے اور عقیدے کے فرق کے علی الرغم قومی ریاستوں کا حصہ بنے۔ پاکستانی ریاست کی تشکیل بھی اسی اصول پر عمل میں آئی لیکن سیاسی عمل کے دوران میں مذہبیت یا اسلامیت کا عنصر بھی اس میں شامل ہو گیا جو قومی شناخت کی اظہاریوں میں غلبہ پاتا چلا گیا۔ مذہبیت کے اس عنصر نے اس نومولود ریاست کی اکثریتی مسلم کمیونٹی کے احساس میں اس کی ملکیت کا تصور پیدا کر دیا۔ یہ حقیقت لیکن نظر انداز کر دی گئی کہ یہ ریاست بادشاہتوں کے گزشتہ دور کی طرح کسی مسلم حکم ران نے فتح نہیں کی تھی کہ فاتح کا مذہب اس کا مذہب اور اس کا دیا ہوا نظام اس کا سرکاری نظام قرار پاتا۔ یہ ایک ایسی جمہوری سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا جس نے جغرافیہ کی بنیاد پر ایک قومی ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تشکیل میں یہاں کی تمام قومیتوں اور مذاھب کے پیروکاروں نے ووٹ ڈالا تھا جس میں اکثریتی ووٹ مسلم آبادی کا تھا۔ ریاست کے اس کثیر القومی تشخص کو بانی پاکستان نے 11 اگست 1947 کی اپنی سرکاری تقریر میں بالکل دو ٹوک انداز میں پیش بھی کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا:

’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘

لیکن اس ریاست کے قیام کے بعد قرون وسطی کے نمونے پر اسے مسلم قومی ریاست بنانے کا خیال یہاں کی مسلم اکثریت میں سرایت کر گیا۔ تحریک پاکستان کے دوران میں مسلم کارڈ کا استعمال اس دو شناختی قومیت کے لیے وجہِ جواز بنا۔ لیکن جغرافائی وحدت کے اساس پر حصولِ ریاست کا اصول اس ساری ہمہ ہمی میں نظر انداز ہو گیا۔ یوں دو شناختی قومیت کی حامل ریاستِ پاکستان وجود میں آئی۔ اس کی یہی آئینی حیثیت برقرار کرنے کے لیے پہلے قرار داد مقاصد اور بعد ازاں '73 کے آئین میں مسلمان کی تعریف اور دیگر اسلامی شقیں عمل میں لائی گئیں۔ چناں چہ مسلم اکثریت کو اس ملک کا حقیقی وارث باور کرا دیا گیا جس میں غیر مسلم اقلیت کو وہی حقوق ملے جنھیں مسلم اکثریت نے دینا منظورکیا۔ بلکہ مسلم بھی اسے ہی قرار دیا گیا جسے یہاں کی اکثریت نے مسلم تسلیم کیا۔ ریاست ایک مسجد کی طرح مسلم اکثریت کے زور پر ان کے مذہب کے نام پر رجسٹرڈ کرا لی گئی۔

قومی ریاستوں کے دور میں اسلام کے نام پر مذہبیت کی یہ پیوند کاری گھمبیر نتائج کی وجہ بنی۔ دین اسلام زندہ فرد سے مخاطب ہوتا ہے۔ یہ فرد اگر حاکم ہو تو اس سے بھی مخاطب کرتا ، اسے ہدایات اور ذمہ داریاں دیتا ہے، لیکن ریاست ایک غیر شخصی وجود تھا، دین کا مخاطب بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی مگر یہاں اسے بھی کلمہ پڑھوا کر مسلمان بنایا لیا گیا۔ اس کے لیے عقیدہ (نظریہ پاکستان) وضع کیا گیا جس کی تعریف پر پورا نہ اترنے والوں کو غیر مسلم اور اسے تسلیم نہ کرنے والوں کو غدار قرار دے دیا گیا۔ بلکہ اختلاف عقیدہ کی بنا پر ملک میں رہنے بسنے کے استحقاق پر ہی سوال اٹھا دیا گیا۔ صدیوں سے اس زمین پر آبائی حق سے رہنے والوں کے لیے نئے سرے سے استحقاق رہایش کی بحث پیدا ہو گئی۔ دین و ریاست کی ملکیت کا یہ تصور اس حد کو پہنچا کہ دینی شعائر پر مسلم ملکیت کا دعوی قائم ہوگیا ۔ مطالبہ کیا گیا کہ ان کی سند کے بغیر خارج از ملت فرقے انھیں اختیار نہیں کر سکتے۔

یہی معاملہ مقامی شناخت پر اصرار کرنے والوں سے بھی برتا گیا۔ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی مقامی شناخت کو قومی شناخت کے تابع کر دیں اور ریاست کے وسیع تر مفاد میں اپنے انفرادی اور مقامی اور علاقائی قومی مفادات سے دست بردار ہو جائیں۔ ایسا نہ کرنے پر ریاست نے ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا۔ ریاست کا یہ قومی مذہبی نظریہ یا عقیدہ اس قدر اہم گردانا گیا کہ ریاست نے اس کے تحفظ کو سرکاری کار منصب قرار دے دیا۔ عوام کے ایک بڑے طبقے نے اس ریاستی بیانیے کو تسلیم کرلیا ۔ جنھوں نے اس سے اختلا ف کیا ان کی وطنیت کو بھی مشکوک قرار دیتے ہوئے انھیں غدار اور منافق مشتہر کیا گیا۔ ان سے جلا وطن ہو جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ یوں زمین کے ساتھ فرد کے رشتے کی فطری اور دیرینہ وابستگی نظر انداز ہو گئی اور ریاست کے نظریے سے وابستگی اس ملک میں رہنے کے لیے واحد معیار قرار پائی۔

مقامی شناختوں کو دبانے اور غیر نمایاں کرنے کے لیے مقتدرہ نے مقامی بولیوں اور ثقافتی مظاہر اپنانے سے گریز کیا۔ مقامی شناختوں کو تحقیر اور اجنبیت کی نظر سے دیکھا گیا۔ تعلیم اور سرکاری دفتری زبان اردو اور انگریزی قرار دی گئی۔ کسی دوسری زبان کا استعمال ممنوع اور حقیر بنا دیا گیا۔ اس خطے کی تاریخ کے غیر مسلم مشاہیر کے تذکروں کو نصاب اور تاریخ سے محو کر دیا گیا۔ بلکہ مشترکہ تاریخ سے رشتہ ہی توڑ دیا گیا۔ تاریخ کی تشکیل نو کی گئی۔ تاریخ کےٹکڑے منتخب کر کے ماضی میں بھی موجودہ قومی مذہبی ریاستی بیانیے کو ثابت کر کے دکھایا گیا۔ اس سارے عمل نے نوجوان مسلم اذہان کو مصنوعی شناخت کے حوالے سے ریڈکلائز کر دیا۔

اس مصنوعی بنانیے نے ملک کے باسیوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ ریاست کے قومی مذہبی ملی شناخت پر اصرار سے قومی سطح پر فرقہ واریت پیدا ہو رہی ہے۔ افراد کو ریاستی بیانیے پر مکمل ایمان لانے اور مکمل ایمان نہ لانے کی بنیاد پر محب وطن، منافق اور غدار کے زمرہ جات میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور یہ تقسیم روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سماج میں ایک طرف مذہبی انتہا پسندی ہے جو اپنے فتوی کی قوت سےفرد کو باوجود اس کے اپنے دین اور ایمان پر اصرار کے اس سے اس کی مذہبی شناخت چھین لینا چاہتی ہے تو دوسری طرف ریاستی انتہا پسندی ہے جو ریاستی قوت کے زور پر ایسے تمام عناصر کو ریاست کا باغی قرار دے کر انھیں عاق کر رہی ہے جو فرد کے مفاد پر ریاست کے غیر محدود مفادات پر نقطہ اعتراض پیش کرتے، ریاست کی فرد کے خلاف زیادتیوں پر توجہ دلاتے، اپنی قومی شناختوں پر اصرار کرتے اور تاریخ کی مصنوعی تشکیل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ فرد اور اس کے حقوق کی بحث پس منظر میں چلی گئی ہے۔ فرد کی ریاست سے شکایت کی داد رسی سے پہلے یہ بحث جاری کر دی جاتی ہے کہ فریاد کناں غدار اور منافق ہے۔ اس صورت حال میں ریاست اور اس سے معاشی مفاد پانے والے ایک گروہ اور اس سے محروم دوسرا گروہ بن گئے ہیں۔ یوں ملک کے اندر ایک خلیج پیدا ہوتی جا رہی ہے جو اگر یوں ہی جاری رہی تو باہمی نفرت اور خانہ جنگی کی آگ کو ہوا دے گی۔ یہ صورت حال سقوطِ ڈھاکہ جیسے مزید کسی سانحہ پر بھی منتج ہو سکتی ہے۔

شناخت کے بحران کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیں

قومی مذہبی شناخت سے پیدا ہونے والے اس بحران کی جڑیں متحدہ ہندوستان کے ماضی میں پیوست ہیں۔ ان کا درست تجزیہ ضروری ہے۔ مسلمان جب ہندوستان میں وارد ہوئے تو یہاں کی مقامی آبادی نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔ علما و فقاا نے ہندو دھرم کے مذہبی رسوم و رواج سے مسلم کمیونٹی کو بچنے کی تلقین کی۔ لیکن اس تلقین میں وہ مذہب و ثقافت کے فرق کو مسلسل دھندلاتےچلے گئے۔ ثقافتی ہم آہنگی سے مذہبی ہم آہنگی کے راستے کو بند کرنے کے لیے وہ مذہب کے ثقافتی امتیازات وضع کرتے چلے گئے۔ یوں دو قومی نظریہ کے خدوخال نمایاں ہونے لگے۔ دین دعوت کی بجائے ایک پارٹی بنانے کا تاثر دینے لگا۔ اس کے لیے نو مسلموں کے "اسلامی نام' رکھنے کی اختراع وضع کی گئی۔ ہندوستانی ثقافتی مظاہر میں سے ہی کچھ کو چن کر اور کچھ ردوبدل کر کے انھیں مسلمانوں کے حلیے اور امتیازی اسلامی ثقافتی علامتوں کے طور پر جاری کر دیا گیا۔

عہد سلاطین میں محمد تغلق اور التمش جیسے متشرع سلاطین کے پاس اس وقت کے فقہا تشریف لائے تھے اور انھیں ہندوؤں کو مشرک قرار دے ان کو گردن اڑانے کے قرآنی حکم پر عمل کی تلقین کی۔ ان سلاطین نے عملی مجبوریوں کے بہانےان مطالبات کو نظر انداز کیا۔ اس پر فقہا کی طرف سے نصیحت کی گئی کہ ہندوؤں کو ذلیل کر کے رکھا جائے اور امور سلطنت میں ان کو شامل نہ کیا جائے۔ ادھر ہندوستان کے مسلم مورخین نے وسط ایشیا سے آنے والے مسلم حملہ آوروں کو محض اشتراک مذہب کی بنیاد غازی اور مجاہد بنا کر پیش کیا۔ یہ مسلم سلاطین اپنی سلطنت کی توسیع اور ترقی کا ذاتی ایجنڈا رکھتے تھے۔ اپنے مقابل مسلم بادشاہوں سے بھی وہ ایسے ہی برسر پیکار ہو جاتے جیسے غیر مسلم راجاؤں کے خلاف۔ لیکن مسلم مورخین ان کی اپنے معاصر مسلم حکم رانوں سے جنگ کو تو جنگ لکھتے لیکن یہی جب ہندو راجاؤں سے جنگ کرتے تو اسے جہاد قرار دیتے اور جنگ جوؤں کا لشکر، اسلامی لشکر قرار پاتا تھا۔ تاہم سماجی سطح پر مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان سماجی تعامل جاری رہا اور تعلیم یافتگان اور اہل مذہب کی پیدا کردہ تفریقات کو انھوں نے عملی ضرورتوں اور ایک جیسے حالات و وسائل میں حصہ دار ہونے کی وجہ سے اہمیت نہیں دی۔

مقامی قومیت کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر علیحدہ سیاسی شناخت کا یہ احساس عوام سے زیادہ اہل علم میں موجود رہا۔ عوام میں ایسے بیانیوں کو عموما عملی سطح پر پذیرائی نہ ملی۔ جب قومیت کا تصور مغرب سے درآمد ہوا تو یہاں کے تعلیم یافتہ متوسط طبقے نے ہی اسے سب سے پہلے اپنایا۔ راشٹریہ سیوک سنگ کے تعلیم یافتہ متوسط ہندؤوں نے ہندو قومیت اور آل انڈیا مسلم لیگ کے تعلیم یافتہ مسلم متوسط طبقے نے مسلم قومیت کو فروغ دیا۔ برطانوی راج کی طرف سے ہندوستان میں جداگانہ انتخابات کا انعقاد ان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے معاون ثابت ہوا۔ جمہوریت نے چوں کہ حصول اقتدار کے لیے طاقت کا منبع عوام کو منتقل کر دیا تھا اس لیے عوام کو اس فرقہ وارانہ ایجنڈے پر قائل کرنے کی سیاست کا آغاز ہوا۔ وہ عوام جو اپنے معاشی مسائل، سماجی تعامل اور معاشرتی روابط کی بنا مذہبیت کے نام پر تقسیم جیسے بیانیوں کو قومی سطح پر کبھی پذیرائی نہ دے سکے اس سیاست بازی کی راہ سے اس کا شکار ہوگئے۔ راشڑیہ سیوک سنگھ کو تو کانگریس کے متحدہ قومیت کے نعرے کے سامنے خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی، تاہم آل انڈیا مسلم لیگ اپنی الگ مسلم شناخت کو بہرحال کامیابی سے برتنے میں کامیاب ہو گئی۔ اور یوں ایک ثقافت اور ایک تاریخ کی حامل دو مختلف مذہبی شناختیں رکھنے والی دو قوموں، ہندو اور مسلم کو مشترکہ جغرافیہ کے باوجود ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ جو مسلم بھارت سے الگ نہ ہوئے، وہ بھی بہرحال مسلم شناخت کی سیاسی تقسیم کا شکار ہوئے۔

مسلم لیگ کی کامیابی نے وطن کی بنیاد پر متحدہ قومیت کو شکست دی جس سے ہندو قومیت کے احساس کو انگیخت ملی۔ یہ تاثر ہندوستان میں آنے والی دہائیوں میں بڑھتا چلا گیا۔ اس احساس نے بھارتی سماج میں بھی ہندو مسلم تقسیم کو مزید گہرا کیا۔ بھارتی مسلمانوں کا اپنے مذہبی ثقافتی اظہاریوں پر مستقل اصرار اجنبیت کو گہرا کرتا چلا گیا۔ بھارت کے مسلمانوں کا انیس کو چھیالسی کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کو ووٹ دینا بھی انھیں ہندوستان میں اجنبی بنا گیا۔ پاکستان کے درمیان جنگوں نے اس احساس کو مزید ابھارا ۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندو قومیت اور ہندوتوا پر اصرار کرنے والی جماعت، آر ایس ایس، جسے تقسیم ہند کے دوران بھی موثر پذیرائی نہ مل پائی تھی آج اسی کے ایجنڈے کی حامی جماعت بی جے پی دوسری بار انتخابات جیت کر ہندوستان پر حاکم ہے۔

مسئلے کا حل

سیاسی جھگڑوں کے جھمیلے میں اسلام کا بیانیہ بے صدا رہ گیا۔ ہم اس کو یہاں نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

مذہب و ثقافت کے جھگڑے میں دین اسلام کا بیانیہ یہ ہے کہ وہ فرد کی ثقافتی مظاہر کو موضوع نہیں بناتا، سوائے یہ کہ ان مظاہر میں شرک، فحاشی، ظلم یا عدوان جیسی کسی بد اخلاقی کا پہلو پایا جائے۔ ایک آفاقی پیغام رکھنے والے دین کو کسی مقامی ثقافت سے منسلک کرنا محض غلط ہے۔ اسلام فرد کے عقیدے اور اخلاق کو موضوع بناتا اور ان کی اصلاح کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ اسلام قبول کرنے والوں کے نام تبدیل نہیں فرمایا کرتے تھے سوائے یہ کہ نام میں کوئی شرک یا کسی اور برائی کا کوئی پہلو پایا جاتا تو تبدیل فرماتے۔ اسی طرح آپ نے پہلی مسلم کمیونٹی کے ظاہری حلیے میں کبھی کوئی ایسی امتیازی علامات قائم نہیں کیں جس سے عرب کے مشرک، یہودی اور مسلمان کے درمیان کوئی شناخت ممکن ہو سکتی۔ در حالاں کہ ایک لحاظ سے یہ ضروری بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسی علامات قائم کی جاتیں تاکہ دوست دشمن میں پہچان ہو سکے۔ یہی وجہ تھی کہ بعض صحابہ کے ہاتھوں سے دوران جنگ ایسے افراد بھی مارے گئے جن کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ مسلمان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو کہنا پڑا جو تمھیں سلام کر دے اسے مت کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ سلام کے علاوہ کسی بستی سےآذان کی آواز آنا، کلمہ شہادت، نماز اور زکوۃ ادا کرنا کسی فرد یا قبیلے کے مسلمان ہونے کی علامت قرار پایا تھا۔ لیکن کہیں یہ نہیں ملتا کہ مسلمانوں کی ظاہری شناخت کے لیے ان کے حلیے اور لباس میں کوئی امتیاز برتا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نامعلوم لاش ملتی تو یہ معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ مسلم تھا مشرک۔ مشرکین عرب اور یہودمختون بھی ہوتے تھے۔ چناں چہ حلیہ اور لباس میں کوئی علامت موجود نہ تھی جس سے مذہب کی شناخت ممکن ہو سکے۔

اسی فہم دین کے ساتھ صحابہ نے جب بیرون عرب فتوحات کیں تو لوگوں کے نام تبدیل کروائے نہ ثقافتی مظاہر میں کوئی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اس بارے میں مسلم ہیت مقتدرہ کی بے تعصبی کا یہ عالم تھا کہ خالص مذہبی رسوم و رواج مثلا صلوۃ اور صوم کے مقامی زبان کے متبادلات یعنی نماز اور روزہ کو اختیار کرنے دیا گیا۔ دور جدید میں ان کے انگریزی متبادلات Prayer اور Fast کے اپنا لینے پر بھی کوئی قابل ذکر اعتراض نہیں کیا گیا۔ عہد صحابہ میں مساجد کے لیے مینار بنانے کا خیال شام کے گرجا گھروں سے لیا گیا تھا، بلکہ مسجد کا منبر جسے منبر رسول کہا جاتا ہے، اس کی تعمیر کا خیال ایک صحابی نے پیش کیا تھا جنھوں نے شام کے گرجا گھروں میں پادریوں کو اس کا استعمال کرتے دیکھا تھا۔عربی ناموں کے ساتھ فارسی اور ترک نام جیسے شہریار، پرویز، چنگیز خان وغیرہ مسلمانوں میں عام رہے۔ برصغیر میں آکر یہ رواداری البتہ برقرار نہ رہی۔ شروع میں ہندی ناموں کو بھی گوارا کیا گیا لیکن جلد ہی یہاں عربی اور فارسی اور ترک ناموں کو اسلامی نام سمجھ کر رکھا جانے لگا۔

مذہب سے ثقافت کو تبدیل نہ کرنے کا یہ نتیجہ ہوتا تھا کہ لوگ تبدیلی مذہب کے باوجود اپنے سماج سے نہیں کٹتے تھے۔ وہ مندر کی بجائے مسجد جانے لگتے تھے مگر بولی وہی بولتے تھے جو ان کے لوگ بولتے تھے، لباس وہی پہنتے تھے جو ان کے لوگ پہنتے تھے، نام ان کے وہی رہتے تھے جو ان کا پیدایشی ہوتا تھا جس کے ساتھ ان کی ثقافتی اور نفسیاتی وابستگی ہوتی تھی۔ یوں تبدیلی مذہب کے باجود دو مختلف مذہبی گروہوں میں اجنبیت پیدا نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرنے کے باوجود وطن کی حفاظت میں ہندو راجپوتوں کے ساتھ مل کر وسط ایشائی مسلم حملہ آوروں کے خلاف لڑا کرتے تھے۔ لیکن جب ثقافتی امتیازات برتے جانے لگے، نماز کو پوجا کہنے نہ دیا گیا، روزہ کو بھرت کہنے پر آمادہ نہ ہو پائے، جب آکاش اور پرکاش کو محمد یوسف اور عبد اللہ نام اختیار کرنا پڑے، بلکہ اس کے آگے بڑھ کر ان کے لیے مخصوص لباس اور حلیہ اختیار کرنے کی شرائط بھی عائد کر دی گئیں، تو لوگوں میں باہمی طور پر اجنبیت اور پھر نفرت پھیلی۔ انیسیوں صدی عیسوی میں قومیت کا تصور برصغیر میں نو آبادیاتی دور میں متعارف ہوا۔ جس سے پہلے وطنی قومیت اور بعد ازاں وطنی مذہبی قومیت نے وجود پایا۔ سماجی اور ثقافتی سطح پر شناختی امتیازات کو نمایاں کیا جانے لگا۔

"اسلامی ثقافت"کے نام پر ہونے والی امتیازی کارروائیوں نے درحقیقت ایک سماج کے لوگوں کو علیحدہ کیا، جس نے آگے بڑھ کر سیاست کی سطح پر گروہ بندی اختیار کر لی گئی۔ برصغیر میں ثقافتی تفریق کا عمل اس وقت زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آیا جب 1905 میں بنگال کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ وہ ہندو مسلم تقسیم دکھائی دی۔ 1909 میں اس کی اساس پر جداگانہ انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔ اقتدار کی رقابت، سیاسی گروہ بندی کا لازمہ ہے۔ سیاسی رقابت کی منافرت نے مذہبی منافرت کا عنوان اختیار کر لیا۔ الزام پھر مذہب پر آیا کہ مذاہب انسانوں کو لڑاتے ہیں۔ سیاسی رقابت بنام مذہب سے پھر وہ نفرت پیدا ہوئی جس کا المناک نتیجہ تقسیمِ ہند اور اس دوران ہونے والے خون خرابے میں سامنے آیا، اور جس کے اثرات پون صدی ہونے کو آئے ،اب بھی جاری ہیں۔

ہندو اور مسلمانوں کی مذہبی ثقافتی حساسیت کے رد عمل میں یہاں کے مسیحیوں بھی یہی راہ اپنائی۔ وہ بھی الگ مذہبی قومیت کے تصور سے متاثر ہو کر اپنے مقامی ثقافتی ناموں، جیسے اقبال، اختر، مبارک، شہریار کو چھوڑ کر ڈیوڈ، مائیکل،  سائمن رکھنے لگے۔ یہ رجحان پر شہری علاقوں کے تعلیم یافتہ مسیحیوں میں زیادہ نمایاں ہے۔ دیہی علاقے کے مسیحی اب بھی زیادہ تر مقامی زبانوں کے نام ہی رکھتے ہیں، یہی نام مسلم بھی رکھتے ہیں۔ مسیحی افراد شناختی امتیاز قائم کرنے کے لیے گلے میں اور گھروں پر صلیب لٹکانے لگے۔ شناختی امتیازات قائم رکھنے کی یہ لَے اس قدر بڑھی کہ مسلم اور مسیحیوں کے درمیان "مریم" جیسے مشترکہ نام کو اردو میں ممکن نہ ہو سکا تو انگریزی کے ہجوں میں مختلف کر دیا گیا۔ مسلم اسے Maryam لکھتے ہیں اور مسیحی Marriam اور تلفظ بھی عام تلفظ سے مختلف کرتے ہیں۔

اہل تشیع اس سب سے بہت پہلے سے اپنی امتیازی شناختی علامتوں کے بارے میں حساس رہے ہیں جس سے وہ نہ صرف الگ پہچانے جاتے ہیں بلکہ اسی بنا پر ان سے الگ سے امتیازی سلوک بھی روا رکھنا بھی دوسروں کے لیے ممکن ہو جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے ریاست یہ باور کرے کہ قومی ریاستوں کے دور میں مذہبی ریاست کا تصور ایک بے جوڑ اضافہ ہے۔ یہ ملک یہاں بسنے والی تمام قوموں نے مل کر بنایا تھا۔ اکثریت کو محض عددی برتری کے زعم میں اس کو اپنے نام کے ساتھ رجسٹر کرانے کا حق نہیں ہے۔ سیاسی نمائندگان کا چناؤ سماج کا آزادانہ فیصلہ ہوتا ہے۔ مسلم اکثریت کے ملک میں کسی غیر مسلم کا ملک کی سربراہی کے لیے چنے جانا ویسے بھی حد امکان میں نہیں تو اس معاملے میں بلاوجہ قانون سازی کرکے غیر مسلموں کو دوسرے درجے کے شہری ہونے کا تاثر دینا عبث ہے۔ مسلمان حکومت میں ہوں گے تو دین کے مسلم اجتماعیت سے متعلق احکام پر عمل کرنا ان کا فرض منصبی سمجھا جائے گا۔

سماجی سطح پر یہ بات مسلم کمیونیٹی کو سمجھانے کی ہے کہ مذہب، ثقافت کو تبدیل کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ پرویز، ڈیوڈ اور آکاش جیسے نام ایسے ہی قابل قبول ہے جیسے محمد یوسف، عبد اللہ ور عبد الرحمان؛ صلوۃ کے لیے ورشپ اور پوجا کا لفظ بھی ایسے ہی درست ہے جیسے نماز؛ کرتا پائے جامہ اور پینٹ شرٹ بھی ایسے ہی درست لباس ہیں جیسے عربی چغہ؛ ثقافتی اور موسمی تہوار بھی اسلامی اور غیر اسلامی نہیں ہوتے۔ دین میں ان چیزوں کو موضوع نہیں بنایا گیا۔ دین کا موضوع فرد کے عقائد اور اخلاق کی اصلاح ہے۔ کسی مذہب کو اختیار کرنا کسی سیاسی پارٹی کو اختیار کرنے کی طرح نہیں ہے جس میں الگ بیج اور جھنڈے لگا کر اپنا امتیاز ظاہرکرنا ضروری ہو۔ مسلمان کی پہچان، سلام، نماز اور زکوۃ کی ادائیگی بتائی گئی ہے نہ کہ کوئی مخصوص حلیہ۔ ثقافتی امتیازات اختیار کرنےکا تصور تب پیدا ہوا جب اہل مذہب نے خود کو سیاسی اور سماجی گروہوں میں سے ایک گروہ سمجھنا شروع کر دیا۔ ضروری ہے کہ مذہب و ثقافت کے درمیان حد فاصل کا شعور اجاگر کیا جائے اور لوگوں میں منافرت کی خود ساختہ بنیادوں کو ختم کیا جائے۔

ریاست کے تصورمیں اصلاح کی ضرورت

ریاست کا یہ تصور تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مقدس ہے جس پر تنقید سے اس کی توہین ہو جاتی ہے۔ اور یہ کہ وہ فرد اور اس کے حقوق سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ریاست بادشاہت کی جگہ آئی اور اسی وجہ سے اسے بادشاہت والی اختیار اور تقدس دے دیا گیا۔ اسی بنا پر اس سے غیر مشروط وفاداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بنیادی حقیقت جانے کیسے نظر انداز ہو گئی کہ بادشاہتوں کی یہ مطلق العنانی اور غیر مشروط وفاداری جیسی برائیاں تھیں جن کو ختم کرنے کے لیے انسانیت نے جمہوریت کی طرف قدم اٹھایا۔ جمہوریت سے پیدا ہونے والی حریت فکر کو لیکن حکومت اور حکومتی نمائندوں تک محدود کر دیا گیا اور ریاست کے ساتھ وہی قدیم وابستگیاں برقرار رکھی گئیں جو بادشاہت کے دور کی خصوصیت تھی۔ انسانیت کو اب ایک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے کہ وہ تسلیم کرے کہ مقدس اگر ہے تو وہ فرد کا جان، مال اور آبرو ہے۔ ریاست کا وجود فرد کا مرہون منت ہے۔ ریاست اس کے ٹیکس کی محتاج ہے۔ ریاست ایک مینجر ہے، ایک انتظامی بندوبست ہے جس کو فرد کی فلاح و بہبود کے لیے وجود میں لایا گیا ہے۔ وہ اپنا وجود اسی افادیت کے ثبوت پر برقرار رکھنے کا جواز رکھتی ہے۔ اس انتظامی بندوبست میں فرد کی فلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے بشمول جغرافیہ دیگر تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ خود قومی ریاستوں کو ان سے قبل کی ریاستوں کی سرحدوں میں ردو بدل کر کے وجود دیا گیا ہے، اس بارے میں جمہور افراد کی رائے فیصلہ کن ہونی چاہیے۔ ریاست ایک ڈھانچہ ہے۔ حکومت اس میں قانون کا نفاذ کرتی ہے جس کی اطاعت کی جائے گی۔ فرد ریاست کا خیر خواہ ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے وفاداری کا تصور پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ وفاداری کا تصور ہی ریاست کو فرد کے استحصال کا لائسنس دیتا۔ ریاست کے ساتھ وفاداری کا تصور بادشاہت کے دور کی یادگار ہے۔ اسے اب جلد ختم ہو جانا چاہیے۔ فرد کی سلامتی، ریاست کی سالمیت پر مقدم ہے۔انسانی جان کو تقدس خدا نے دیا ہے، ایک شخص کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل خدا نے قرار دیا ہے۔ ریاست کا تقدس بیسویں صدی کے آذروں کا تراشا ہوا بت ہے جس پر انسان کو قربان کرنے کا خود ساختہ عقیدہ انسان نے ایجاد کیا ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

ریاست کی سرحدوں کے ابدی نہ ہونا اور ریاست کے ساتھ غیر مشروط وفاداری کی نفی ریاست کو قانون کے دائرے میں لانے اور اپنی ہیئت اور جغرافیہ کو برقرار رکھنے کی خاطر سماجی انصاف کے قیام کو یقینی بنانے کی راہ اختیار کرائے گی۔ جبر وہ قوت نہیں جو ایک ریاست میں بسنے والے مختلف قومی شناختوں اور مفادات رکھنے والے گروہوں کو جوڑ کر رکھ سکے۔ ایسے کسی بھی جبر کا نتیجہ ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ محض سماجی انصاف کا حقیقی قیام ہے جو انھیں مل کر رہنے کا محرک بنتا ہے۔ اپنے حقوق اور مفادات کی منصفانہ یقین دہانی ہی وہ اصل قوت ہے کہ عوام کی عقل عام اور عملیت پسندی کسی قوم پرستی کی آواز پر بھی کان نہیں دھر سکتی۔

وفاقی اکائیوں کو آئین میں یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اگر اپنی اکثریت کی مرضی سے ایک وفاق میں شامل ہوئیں تھیں تو اکثریت کی راے کی بنا پر اس سے علیحدہ ہونا چاہیں تو ہو سکیں۔ اس کے لیے ریفرنڈم جیسا پر امن طریقے اختیار کیا جا سکتاہے۔ کسی اکائی کے وفاق سے علیحدہ ہونے کا اندیشہ وہ قوی محرک ثابت ہو سکتا ہے جو ریاست کو یاوفاق کو جبریہ ہتھکنڈوں سے اس اکائی کو خود سے جوڑے رکھنے کی بجائے اس کی خوش نودی سے اسے وفاق ملحق رکھنے کی راہ ہم وار کر سکتی ہے۔

ہمیں اپنے ریاستی اور قومی بیانیوں کی کی تشکیل نو کی ضرورت ہے جس کے لیے سماجی علوم کے ماہرین کی خدمات کو بروئے کار لانا چاہیے۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل