زکاۃ بمقابلہ احساس

پروفیسر عمران احسن خان نیازی

(ترجمہ: مراد علوی)

تحریک انصاف حکومت کا احساس پروگرام یقینا قابل ستائش ہےاور اس پر یہ تنقید درست نہیں کہ پاکستانی قوم بھکاری بن رہی ہے۔ یہ پناہ گاہیں سردی کے اس موسم میں غریبوں کو راحت پہنچا رہی ہیں۔ نیز یہ پروگرام غریبوں  کے لیے تقریباً ماہانہ بنیادوں پر سہولت فراہم کررہا ہے۔ اس میں ہم صحت کارڈکو بھی شامل کرسکتے ہیں جو طِبّی امداد  سے محروم لوگوں کو  دیے گئے ہیں۔ یہ سب اچھے اعمال ہیں لیکن جب ہم اس پروگرام کو اسلامی قانون کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو اس سے  یہ قانونی الجھن سامنے آتی ہے کہ یہ پروگرام ٹیکس کے ان پیسوں سے چل رہے ہیں  جو لوگوں سے زبردستی وصول کیے گئے ہیں اور  قربِ الٰہی کے حصول کا جذبہ اس انتظام میں  نظر انداز ہوجاتا  ہے۔ اگر حکومت یہ پروگرام عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے کر رہی ہے ، تو   یہ عوام کی طرف سے حکومت کے ذریعے ایک رضاکارانہ عمل ہےجو حکومت بہ طور وکیل سر انجام دیتی ہے۔ یہ استدلال ہمیں اس نتیجے تک  پہنچاتا  ہے کہ ایک رضاکارانہ عمل، جس کی حیثیت صدقات کی ہے، اسے  زکاۃ کے مقابلے میں  لوگوں پر نافذ کردیا گیا ہے جس کے نفاذ میں ہر حکومت نے محض  آنکھ مچولی سے کام لیا ہے۔  المیہ یہ ہے کہ زکاۃ کو  اس  ملک میں ایک رضاکارانہ  ادائیگی میں ، جبکہ رضاکارانہ خیرات کو  فلاحی پروگراموں کے لیے لازمی ٹیکس میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

 زکاۃ اسلام کے ارکان میں سے ہے۔ خلیفۂ اوّل ]سیدنا ابو  بکر صدیق[نے اس کے نفاذ کے لیے جہاد کیا۔ سورۃ البقرہ کے آغاز ہی میں ایمان بالغیب اور قیام صلاۃ کے بعد اس فرض کی ادائیگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت احکام القرآن کی تفسیر کرنے والے اہلِ علم نے کی ہے ۔ چنانچہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ اللہ کو جواب دہ ہوگا لیکن جو زکاۃ ادا نہیں کرتا ،  اسےحکومت  ادا کرنے پر  مجبور کرسکتی ہے۔

فقہا   نے قرار دیا  ہے کہ   چراگاہوں سے چرنے والے جانوروں کی زکاۃ حکومت کو ادا کرنا لازم ہے۔ اس کے علاوہ زکاۃ کے متعلق دیگر ادائیگیاں ہر فرد  اپنی ذمہ داری کے مطابق خود کرسکتا ہے ۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ زکاۃ کی ادائیگی اختیاری ہے۔ نماز کے برعکس، جو حق اللہ ہے، زکاۃ نہ صرف ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ اس کا تعلق غریب کے حق سے   بھی ہے۔ یہ ایسا حق ہے جس کا پورا کرنا فرض ہے اور غریب کے اس حق کی حفاظت  کی کلی ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے ۔ ہر فرد،   خواہ وہ زکاۃ سے فائدہ اٹھانے کا دعویٰ کرے یا نہ کرے،بہ طور  ِاصول اس کا پابند ہے کہ وہ  زکاۃ   ادا کرے گااور نہ دینے کی صورت میں زکاۃ اس سے زبردستی  وصول کی جاسکتی ہے۔ زکاۃکا  نظام گوشواروں  (Zakat Returns)کے ذریعے نافذ کیا جانا چاہیے ۔ چنانچہ ہر شخص  کو ، جو نصاب (دولت کی کم سے کم مقدار جس پر زکاۃ فرض ہوتی ہے ) کا مالک ہو، زکاۃ ادا کرنی  ہوگی اور   اگر اس نے گوشوارے میں کسی ادارے یا فرد کو زکاۃ دینے کا  دعویٰ کیا،تو   اسے گوشوارے کے ساتھ اس ادارے یا فرد سے لی گئی رسید لگانی ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ تعمیل نہ کرنے والوں کو سزا دینے کا قانون بنائے۔

نظامِ زکاۃ کے نفاذ سے تین چیزوں کا حصول متوقع   ہے۔  ان میں سے سب سے پہلی یہ ہے کہ زکاۃ کے گوشواروں  (Zakat Returns) سے  پوری معیشت اور نجی  اثاثوں کی  تفصیل دستاویزی صورت میں آجائے گی۔ حکومت ان معلومات کی روشنی میں پھر اپنے ٹیکس کے نظام  کو بہتر بناسکے گی۔  اس قانون کی خلاف ورزی محض ریاستی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوگی بلکہ غریبوں کے حق  کے متعلق اللہ کے حکم کی نافرمانی ہوگی ۔ ثانیاً،  جمع شدہ فنڈز کے موثر تقسیم سے کافی حد تک غربت کا خاتمہ ہوگا۔ یہ محض بڑا بول نہیں ہے۔ جو لوگ  زکاۃ  کی وصولی کو ٹیکس وصولی کے مقابلے میں حقیر کاوش سمجھتے ہیں، وہ زکاۃ کے نظام سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ہم یقین سے کَہ سکتے ہیں کہ  احساس اور صحت کارڈ کے پروگرام سے غریبوں پر سالانہ خرچ ہونے والی رقم  میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ثالثاً، جب  ایک بار غریبوں کو مناسب فنڈز  اپنے قانونی حق کے طور پر مل جائیں، تو وہ روٹی کپڑا اور مکان جیسے جھوٹے وعدوں پر مبنی سیاسی نعروں  کی طرف توجہ نہیں دیں گے۔

یہاں زکاۃ، عشر اور خمس کے ماخذ کو سمجھنا ضروری ہے۔زکاۃ ادا کرنے والا قاری جانتا ہے کہ سونے  کے لیے نصاب  ساڑھے سات تولے، جب کہ چاندی کے لیے ساڑھے باون تولے ہے۔ زکاۃ کے نصاب میں زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کےلیے کاغذی کرنسی کو  ساڑھے باون تولے چاندی   کے نصاب کے حساب میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے  کہ اشیا اور نقدی کےلیے سونے کے نصاب کو معیار بنایا جائے تاکہ مستحقین کو ، جونصاب کی حد تک ہی وصول کرسکتےہیں ، بڑی مقدار کی ادائیگی کے ذریعے زیادہ فائدہ پہنچایا جاسکے۔

بہت  ساری چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگ فکرمند نہیں ہیں۔ ان میں پہلی چیز کاروبار میں استعمال ہونے والے اثاثے ہیں۔  ان سے مراد کاروبار کی فہرست میں شامل اموال اور قابلِ عمل سرمایہ ہیں ۔ ہر کاروبار، خواہ کمپنی ہو، شراکت یا کسی کا  ذاتی  کاروبار ہو، اس کو لگائے ہوئے سرمایے کاڈھائی فیصد بہ طورِ زکاۃ ادا کرنا ہوگا۔ اس  سے کچھ ہی ساز و سامان اور مشینری مستثنا  ہوسکتے ہیں۔ اس مد سے حاصل ہونے والی رقم ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔

جائیداد سے ملنے الے کرایہ کی آمدنی کے بارے میں کچھ الجھن پائی جاتی ہے۔ ہمارے علما کا خیال یہ ہے کہ یہ بھی عام آمدنی جیسی ہے بایں طور کہ اس پر بھی سال گزر جانے کے بعد ہی زکاۃ کا اطلاق ہوگا۔ تاہم عظیم حنفی فقیہ امام سرخسی اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔  ان کا موقف یہ ہے  کہ کرایہ والی جائیداد پر  پہلے ہی سال گزر چکا ہوتا ہے؛ لہذا کرایہ جب واجب الادا ہوجائے ، یا وصول کی جائے ، تو اسی لمحے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوجاتا ہے ۔ یہ زیادہ معتبر موقف ہے۔ اگر اسےنافذ کیا جائے تو اندازہ لگائیں کہ اس کے دائرے میں کرایے کے  کتنے پلازے اور مکانات آجائیں گے۔ یہ بہت بڑی رقم ہوگی۔

زمین کی تمام پیداوار پر عشر ، یعنی دس فیصد کی ادائیگی لازمی ہے (پانچ  فیصد ، اگر زمین نہری ہو) ۔ اس میں ڈیری فارم بھی  شامل ہے،  جو کاروباری آمدنی میں شمارکیا  جائے گا۔  ملک میں باہر سے لائے جانے والے اموال پر کسٹم ڈیوٹی کی مقدار برابر کے بدلے کے اصول پر عائد کی جاتی تھی اور اسے بھی عشر کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی شرح عموماً دس فیصد ہوا کرتی تھی ۔ اس کے علاوہ دیگر چیزیں بھی ہیں، لیکن اب ہم معدنیات اور دفینوں پر بات کریں گے ۔

ہدایہ میں ، جو  کہ ہر مدرسے میں پڑھائی جاتی ہے،  تصریح  ہے کہ:" جب خراجی اور عشری  زمین  سے سونا، چاندی ، لوہا، سیسہ اور تانبہ جیسی معدنیات  نکالی جائیں تو ان پر پانچواں حصہ (خمس) ہے۔  "اس سے تمام زمینیں مراد ہیں۔  یہاں ان معدنیات کا ذکر ہوا جو اس زمانے میں معروف تھیں ۔  آج تمام معدنیات پر 20 فیصد خمس عائد ہوگا، اور اس میں تھر کا  کوئلہ یا  ریکو ڈک کی معدنیات بھی شامل ہوں گی۔  اس میں پیٹرول بھی شامل ہے، اگر چہ عرب ممالک سے اس  کے عدمِ جواز کے بارے میں فتویٰ آیا ہے۔   زکاۃ کے مصارف کی  پابندیاں خمس پر لاگو نہیں ہوتیں ۔

  مذکورہ بالا زرائع سے جمع کی جانی والی رقم چند ہی سالوں میں ملک سے  غربت کا خاتمہ کرے گی۔ اگر سونے کو آج زکاۃ کے حساب کے لیے معیار کے طور پر استعمال کیا جائے ، تو  ایک غریب مستحق کو زیادہ سے زیادہ جو رقم  ملے گی  وہ  چھے لاکھ چھیا سٹھ ہزار روپیہ ہوں گے۔  اگر چاندی کو استعمال کیا جائے تو  موجود قیمت کے مطابق زیادہ سے زیادہ  پچپن ہزار  روپے ہوں گے۔  ہمیں یقین ہے کہ ہر غریب آدمی کے لیے کافی رقم دستیاب ہوگی ۔  سینٹ آگسٹین نے ایک بار کہا تھا کہ  انصاف کے بغیر   ریاست ڈاکوؤں کے ٹولے سے بہتر نہیں ہوتی۔ اسلامی  عدل کے بغیراسلامی ریاست اس سے بھی  بدتر ہوگی۔  ہم یہ  فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔


دین اور معاشرہ