بین المسالک ہم آہنگی کے حوالے سے ایک خوشگوار تبدیلی

محمد یونس قاسمی

ماہ اپریل کے دوسرے عشرے میں امام حرم مکی الشیخ عبداللہ عواد الجہنی نے پاکستان کا دورہ کیا اور صدر ، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملاقاتوں کے علاوہ پیغام اسلام کانفرنس سمیت بعض دیگر کانفرنسوں سے خطاب کیا اورملک بھر کے مختلف علماء سے ملاقاتیں بھی کی۔ امام حرم نے۱۲   اپریل کو فیصل مسجد اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیا اور نماز جمعہ کی امامت کروائی ۔ نماز جمعہ کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام قائد اعظم آڈیٹوریم میں ’’نوجوانان امت اور عصر حاضر کے چیلنجز ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کیا۔ امام حرم نے کہا کہ’’ نوجوان کسی بھی معاشرے کی قوت ہوتے ہیں۔ معاشرے کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ نوجوان اپنی قدر ومنزلت پہچانیں۔ انہیں دین کے نام پر ورغلایا جاتا ہے۔ نوجوان گمراہ لوگوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔ دینی مسائل میں علماء حق سے رہنمائی حاصل کریں۔‘‘ اس تقریب میں امام حرم کے علاوہ وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کےریکٹر وصدراور سعودی سفیر نے شرکت کی اور موضوع پر خیالات کا اظہار کیا۔ اس کانفرنس کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں مکتب تشیع کے بڑے عالم اور امام خمینی ٹرسٹ کے چیئرمین علامہ افتخار حسین نقوی بھی موجود تھے۔

۱۳ ۔اپریل کو اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں سعودی سفارت خانے کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے پاکستان کے چند منتخب علماء کرام کی امام حرم کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔ اس تقریب میں مختلف مسالک و مکاتب فکر کے جید علماء اور مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین شریک تھے۔ علماء کرام سے امام حرم کی ساری گفتگو بھائی چارے کے قیام، امن و امان کے ساتھ رہنے، ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور فرقہ واریت سے بچنے جیسی نصیحتوں پر مشتمل تھی۔ خطبہ استقبالیہ کے طور پر سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے تقریب کے آغاز میں جو گفتگو کی، وہ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ سعودی سفیر نے اپنی گفتگو کے آغاز میں ایک روزقبل بلوچستان میں ہزارہ قبیلہ کے ساتھ ہونے والے سانحہ پر پاکستانی علماء اور عوام سے اظہار تعزیت کیا اوراس غم کو اپنا غم قرار دیا۔سعودی سفیر نے کہا کہ مملکت سعودی عرب کسی قسم کی فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتی، ہم کسی ایسی تنظیم کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے جو فرقہ واریت یا فرقہ وارانہ تشدد پر یقین رکھتی ہے۔سعودی سفیر نےسورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱٠۳ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن وسنت ہمیں تفرقہ سے بچنے کاپیغام دیتے ہیں ، بطور مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن وسنت میں وارد احکامات کی لازماً پیروی کریں۔ سعودی سفیر نے مزید کہا کہ دہشت گردی سے بچنے کے لیے ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم سب بلاتفریق مسلک ومذہب دہشت گردی کے خلاف جمع ہوجائیں۔

اسی دوران میں  ۱٠ اپریل کو او آئی سی کے زیر اہتمام سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی دہشت گردی اور دفاع سے متعلق ایک کانفرنس میں پاکستان کے معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر طاہر القادری نے شرکت کی۔ ڈاکٹر قادری نے اپنے خطاب میں قرار دیا کہ انتہاپسندی کی ابتدا اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں تنگ ذہنیت کا مظاہرہ کرنے سے ہوتی ہے۔ تنگ نظری کے خاتمے کے لیے ضروری ہےکہ نوجوان نسل کے ذہنوں کو پہلے مرحلے ہی پر آگاہی فراہم کریں اور منفی عناصر کا خیال بھی ان کے ذہن تک نہ پہنچنے دیں، بصورتِ دیگر مایوسی جب مضبوطی سے نظریاتی عوامل کے ساتھ مل جائے تو یہ کمزور دماغوں پر گہرائی تک اثر انداز ہوتی ہے۔

انسانوں کے آپس میں تعلقات ، معاہدات اور آپس میں ملنے جلنے کا نام سماج ہے، اس کی تشکیل انسانیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس میں پہلا درجہ انسانیت کو حاصل ہے جس میں انسان کی نسل ، علاقے اور زبان کو فوقیت نہیں دی جاتی بلکہ اس میں معاشرتی حقوق یکساں متعین کیے جاتے ہیں۔ دوسرا درجہ انسان کی آزادی کا ہے یعنی صالح سماج وہ ہوتا ہے جوہر انسان کو مکمل آزادی دیتا ہو، اس میں ایک معاشی نظام موجود ہو جس میں انصاف کو فوقیت حاصل اور معاشرے کے تمام افراد کی ضروریات پوری ہوتی ہوں۔ فرقہ واریت اس انسانی سماج کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔فرقہ وارانہ تصورات سے نسلی، لسانی، علاقائی ، مسلکی اور مذہبی فسادات پھوٹتے ہیں۔ اس سے نفرت کے جراثیم نشوونما پاتے ہیں جس کے نتیجے میں قتل وغارت گری کو فروغ ملتا ہے۔ پاکستان اس کی بہترین مثال ہے۔ یہاں نفرتوں کو فروغ دینے سے گذشتہ تیس سال میں جو کچھ ہوا، وہ ہمارے سامنے ہے۔ معاشرے کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جو خوف کا شکار نہ ہو، یا جسے لسانی، علاقائی، نسلی، مسلکی یا مذہبی تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔اس ماحول میں سعودی سفیر کی مذکورہ گفتگو، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں امام حرم کے اعزاز میں ہونے والے پروگرام میں شیعہ عالم کی شرکت اور سعودی عرب میں ڈاکٹر طاہر القادری کا خطاب، یہ سب واقعات میرے لیے خوشگوار حیرت کاباعث ہیں۔ میں اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نے ہمیشہ یہ دیکھاکہ یہاں سنی قتل ہوتے تو شیعہ خاموش تماشائی بنے رہتے اور شیعہ قتل ہوتے تو سنی خاموش تماشائی بنے رہتے تھے۔ بریلوی مکتب فکر کے لوگ تہہ تیغ ہوتے تو دیوبندی خاموش رہتے اور دیوبندی،اہل حدیث کسی فساد کا شکار ہوتے تو بریلویوں کو سانپ سونگھ جاتا ۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک الم ناک صورت حال تھی۔ میرے اور میرے ہم عصر نوجوانوں کے لیے یہ بڑی تبدیلی ہے کہ آج ایک ایسے سنی ملک کے سفیر نے جس پر ہمیشہ یہ الزام رہا کہ وہ شیعہ مخالف لابیوں کو تقویت بخشتا ہے، ہزارہ قبیلہ کے قتل عام کی مذمت کی اور ان کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔ علامہ افتخار حسین نقوی جیسے لوگ اب وہ ایسے پروگراموں کا باقاعدہ حصہ بنتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک بڑی اور خوشگوار تبدیلی ہے۔ 

میرے جیسے نوجوانوں نے جس ماحول میں اپنا لڑکپن(طالب علمی کا دور)گذارا ہے، وہاں ہمیشہ کافر کافر اور جہاد وقتال کی باتیں ہوتی تھیں۔ ہم نے کبھی کسی مخالف کا احترام کرنے اور کسی مخالف کی بات کو برداشت کرنے کی بات نہیں سنی بلکہ اس نوجوان کی حوصلہ افزائی اور اس کا اعزازواکرام کیاجاتا تھا جو اپنے کسی مخالف کے ساتھ گالم گلوچ کرکے یا بدتمیزی کرکے آتا تھا۔ میری اور میرے جیسے بہت سارے نوجوانوں کی خوش نصیبی کہ ہمیں کچھ اچھے اساتذہ اور کچھ ایسے مہربان دوست ملے جنہوں نے ہمیں اس معاملے میں اچھے برے کی تمیز سکھائی اور اس دنیا میں رہنے کے سنہری اصولوں سے واقفیت دلوائی۔ اللہ انہیں سلامت رکھے اور ہمیشہ خوشیوں اور عزتوں سے نوازے۔ ہماری زندگیوں میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ پاکستان کے شیعہ سنی ایک دوسرے کو کافر کہے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔ ہم نوجوانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے کو باقی رکھنے کوشش کریں اور ہر اس کوشش کاحصہ بنیں جو فرقہ واریت ، تکفیر اور من مرضی کے جہاد کو روکنے کی اور معاشرے کو پرامن بنانے، انسانی حقوق اور مساوات کو فروغ دینے کی کوشش ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ سماج اور معاشرت کے جدید تصورات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم انسانی حقوق، مساوات اور اجتماعیت کے جدید تصورات سے آگاہ نہیں ہیں، ان جدیدتصورات سے عدم واقفیت بھی ہمارے لیے مسائل پیدا کررہی ہے۔

اس وقت پاکستان میں پیغام پاکستان کا بہت چرچا ہے۔پیغام پاکستان بنیادی طور پر نجی جہاد، تکفیر اور فرقہ واریت کی روک تھام کے لیے ایک قومی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے جس پر عملدرآمد کے لیے ریاست کے عسکری ادارے کمربستہ ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوکہ اس کے نفاذ کے لیے حکومتی سطح پر کوششوں کا آغاز ہو اور اس کی بنیاد پر پرائیویٹ جہاد اور کسی بھی مسلمان یا مسلم فرقے کی تکفیر کے عمل کو روکنے کے لیے قانون سازی کا اہتمام ہو۔ اس دستاویز کی پشت پر عسکری طاقتوں کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان میں فرقہ واریت کم ضرور ہوئی ہے، تکفیر کے نعرے بظاہر بند ہوئے ہیں اور فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم علماء کی باہمی ملاقاتوں اور مل بیٹھنے کا آغاز ہوا ہے، مگر اس سلسلے کو دوام چاہیے۔ یہ سلسلہ اگر بلاتعطل چلتا رہا تو یہ فرقے ختم تو نہیں ہوں گے، لیکن ایک دوسرے کو برداشت ضرور کرنے لگیں گے۔

مذاہب عالم